خطبہ 12 نہج البلاغہ :عمل کا دارومدار نیت پر ہے

0 0

 

جب خدا وند ُ عالم نے آپ کو جمل والوں پر غلبہ عطا کیا تو اس موقعہ پر آپ کے ایک صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ میرا فلاں بھائی بھی یہاں موجود ہوتا تو وہ بھی دیکھتا کہ اللہ نے کیسی آپ کو دشمنوں پر فتح و کامرانی عطا فرمائی ہے تو حضرت نے فرمایا کہ کیا تمہارا بھائی ہمیں دوست رکھتا ہے ? اس نے کہا کہ ہاں , تو آپ نے فرمایا کہ وہ ہمارے پاس موجود تھا بلکہ ہمارے اس لشکر میں وہ اشخاص بھی موجود تھے جو ابھی مردوں کی صلب اور عورتوں کے شکم میں ہیں . عنقریب زمانہ انہیں ظاہر کرے گا اور ان سے ایمان کو تقویت پہنچے گی.

اگر کوئی شخص اسباب و ذرائع کے ہوتے ہوئے کسی عملِ خیر میں کوتاہی کر جائے, تویہ کوتاہی و بے التفاقی اس کی نیت کی کمزوری کی آئینہ دار ہو گی. اگر عمل میں کوئی مانع سد راہ ہو جائے یا زندگی وفا نہ کرے جس کی وجہ سے عمل تشنہ تکمیل رہ جائے تو اس صورت میں انما الا عمال بالنیات کی بنائ پر اللہ اسے اجرو ثواب سے محروم نہ کرے گا. کیونکہ اس کی نیت تو بہر حال عمل کے بجالانے کی تھی , لہذا کسی حد تک وہ ثواب کا مستحق بھی ہو گا.

عمل میں تو ممکن ہے کہ ثواب سے محرومی ہو جائے اس لئے کہ عمل میں ظاہر داری و ریا کاری ہو سکتی ہے . مگر نیت تو دل کی گہرائیوں میں مخفی ہوتی ہے . اس میں نہ دکھا وا ہو سکتا ہے نہ اس میں ریاکا شائبہ آ سکتا ہے . وہ خلوص و صداقت اور کمال صحت کی جس حد پر ہو گی اسی حد پر رہے گی خواہ عمل کسی مانع کی وجہ سے نہ ہو سکے بلکہ اگر موقع و محل کے گزر جانے کی وجہ سے نیت و ارادہ کی گنجائش نہ بھی ہو . لیکن دل میں ایک تڑپ اور ولولہ ہو تو انسان اپنے قلبی کیفیات کی بنائ پر اجرو ثواب کا مستحق ٹھہرے گا اور اسی چیز کی طرف امیر المومنین نے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا ہے . اگر تمہارے بھائی کو ہم سے محبت تھی , تو وہ ان لوگوں کے ثواب میں شریک ہو گا. جنہوں نے ہماری معیت میں جامِ شہادت پیا ہے .

مزید  مکتب اہل بیت میںاجماع کی شرعی حیثیت

 

تبصرے
Loading...