خانه وحی پر آگ (تاریخ اسلام کا حیرت انگیز سوال)

0 4

افسانہ یا حقیقت؟

حال ہی میں اسلام کی صحیح تاریخ سے نابلد شخص نے سیستان اور بلوچیستان کے علاقہ میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ) کی دختر گرامی سے متعلق ایک مقالہ لکھا اور اس کا نام رکھا ”فاطمہ زہرا (علیھا السلام) کی شہادت کا افسانہ“۔ اس مقالہ میں جناب فاطمہ زہرا (س) کے فضائل و مناقب لکھنے کے بعد اس نے کوشش کی ہے کہ آپ کی شہادت اور آپ کے ساتھ جو بے حرمتی کی گئی اس سے انکار کرے اور دیگر بعض لوگ اپنی تقریروں میں اس بات کی تاکید کرتے ہیں۔

چونکہ اس مقالہ کے ایک حصہ میں تاریخ اسلام کی واضح طور سے تحریف کی گئی ہے لہذا ہم نے سوچا کہ اس تحریف کے ایک حصہ میں حقائق کو واضح طور سے بیان کیا جائے تاکہ ثابت ہوجائے کہ اسلام کی اس بزرگ شخصیت خاتون کی شہادت ایک ایسی حقیقت ہے جو انکار ناپذیر ہے اور اگر انہوں نے ایسی بحث کا آغاز نہ کیا ہوتا تو ہم ان حالات میں ایسی باتیں نہ لکھتے۔

حضرت زہرا (علیھا السلام)، رسول خدا (صلی ا للہ علیہ و آلہ وسلم ) کے کلام میں امید ہے کہ ان تین نکات کی وضاحت کے بعد مقالہ لکھنے والا حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم کرلے گا اور اپنے لکھے ہوئے سے نادم و پشیمان ہوگا اور اپنے اس کام کی اصلاح کرے گا۔

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اس مقالے کے تمام مطالب اہل سنت کے مشہور مآخذوں سے لئے گئے ہیں۔

مزید  خواتين کي مصلحت

۱۔ حضرت زہرا (علیھا السلام) کا مرتبہ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کلمات میں

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ  وسلم ) کی بیٹی کا مرتبہ بہت بلند و بالا ہے ،آپ کے متعلق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بہت ساری حدیثیں ہیں جو اس بات پر دلیل ہیں کہ آپ تمام گناہوں سے پاک و پاکیزہ اورمعصوم ہیں لہذا پیغمبر اکرم (ص)، آپ کے متعلق فرماتے ہیں : فاطمہ بضعة منی فمن اغضبھا اغضبنی (۱) فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ بغیر کہے یہ بات معلوم ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو ناراض کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اذیت دی گئی اور ایسے شخص کی سزا قرآن مجید میں یہ بیان ہوئی ہے :

والذین یوذون رسول اللہ لھم عذاب الیم (۲) جو رسول خدا کو اذیت پہنچائیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اور ان کی فضیلت اور عصمت کے اوپر اس سے بڑی دلیل کیا ہوسکتی ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے ان کی مرضی کو خدا کی مرضی اور ان کی ناراضگی کو خدا کی ناراضگی تعبیر فرمایا ہے آپ (ص) فرماتے ہیں :

یا فاطمہ ان اللہ یغضب لغضبک و یرضی لر ضاک (۳) میری بیٹی فاطمہ یہ جان لو کہ خدا تمہارے ناراض ہونے سے ناراض اور تمہارے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے۔

اتنا بڑا مرتبہ و منزلت رکھنے کی وجہ سے آپ دنیا کی عورتوں کی سردار ہیں، اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے آپ کے متعلق فرمایا:

مزید  انسان کو دنيا اور آخرت ميں کاميابي کے ليۓ اللہ تعالي کے بتاۓ ہوۓ اصولوں کے مطابق زندگي کرني ہے

یا فاطمة ! الا ترضین ان تکون سیدة نساء العالمین، و سیدة نساء ھذہ الامة و سیدة نساء المومنین(۴) ۔

میری بیٹی فاطمہ کیا تم اس کرامت سے جو خدا نے تمہیں عطا کی ہے خوش ہو کہ تم دنیا کی عورتوں،اس امت اور مومن عورتوں کی سردار ہو۔

حوالہ جات:

۱۔ فتح الباری نے صحیح بخاری کی شرح ج۷، ص ۸۴ میں لکھا ہے اور بخاری نے بھی اس حدیث کوعلامات نبوت کے حصہ میں ج۶، ص ۴۹۱ اور مغازی کے آخر میں ج ۸ ص ۱۱۰ پر اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔

۲۔ سورہ توبہ، آیت ۶۱۔

۳۔ مستدرک حاکم، ج ۳ ص۱۵۴۔ مجمع الزوائد، ج۹ ص ۲۰۳۔ اور حاکم نے مستدرک میں کچھ حدیثیں بیان کی ہیں جن میں تمام شرائط پائے جاتے ہیں اور ان کوصحیح ہونے کے اعتبار سے بخاری اور مسلم نے ضروری سمجھا ہے۔

۴۔ مستدرک حاکم، ج۳ ص۱۵۶۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.