خاندان بنی ہاشم کا ایمان ومذہب

0 0

۱)۔ وہ جو خدا سے شروع ہو کر قوانین امن عامہ پر ختم ہوتی ہے ۔

۲)۔ وہ جو قوانین و عامہ پر بولا جاتا ہے ۔

پہلی قسم دین کامل ہے اور دوسری قسم اس کے مقابلہ میں ناقص ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نسب نامے پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے پہلی قسم کا دین فطرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم ﷼ نے ایجاد کیا تھا اور ایجاد نہیں بھی کیا تو شد و مد کے ساتھ اس کو رواج دیا کہ ایسا رواج دنیا بھی ایجاد کا ہم پلہ ہے یوں تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہایت سلجھی ہوئی طبیعت خدسا کے یہاں سے لے کر آئے تھے جتنے تلے خیالات خود ان کے دل سے پیدا ہوتے تھے مگر خاندانی اثرنے بھی سونے پر سہاگے کا کام دیا تھا اور اگر چہ حضرت ابراہیم ﷼ مدتوں بعد دین میں بڑے بڑے رخنے بڑ گئے تھے یہاں تک کہ قریش نے خدا کے گھر کو بت خانہ بنا دیا تھا اور کھلم کھلا بتوں کو پوجنے اور پجوانے لگے تھے جو کہتے ہیں اور بہ آخر نسبتی دارد فطرت کی چنگاری جو بت پرستی کی راکھ میں دبی ہوئی تھی عبد المطلب اور ابو طالب میں از سر نو چمکی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگوں میں یہی دو بزرگ ایسے قریب کے بزرگ تھے کہ خارج سے کسی کے خیالات کا اثر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر بڑتا تو ان دو بزرگوں کا بڑتاپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے والد انتقال کر گئے آٹھ برس کی عمرتک دادا عبدالمطلب نے پرورش کی ان کی وفات کے بعد آٹھ برس کی عمر سے لے کرپچیس برس کی عمر تک چچابو طالب نے ،عبدالمطلب اور ابوطالب کے حالات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہی دونوں دین فطرت گو ناقص ہی سہی بڑی مضبو طی سے پکڑے ہوئے تھے اور چو نکہ ان کا زمانہ فطرت کا زمانہ تھا دین فطرت کے وہ مکلف بھی تھے۔ ۱#

علما ئے اہل سنت کے ایک جلیل القدر بزرگ علامہ سیوطی نے نو کتا بیں صرف اسی موضوع پر تصنیف کی ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔امہاةالامہ،ص/۴۷

آباواجداد، ذکور و اناث سب کے سب با ایمان اور دین حنیف دین ابراہیمی پر تھے اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ:” ان اباء النبی لم یکن فیھم مشرک“ پیغمبر کے آباو اجداد میں کوئی مشرک نہ تھا ۔کبھی کفراختیارنہیں کیا بلکہ برابر دین ابراہیمی کے پیرو رہے ۔حضرت کے آباو اجداد میں ایک شخص بھی مشرک نہ تھا ۔ ۱#

 

اور جناب شاہ عبدالحق صاحب نے جو دہلی کے رہنے والے تھے انھوں نے اشعة اللمعات جلد چہارم ص/۲۵۲میں لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آباو واجداد کرام حضرت آدم سے حضرت عبداللہ تک سب کے سب کفرو شرک کی نجاست سے پاک و پاکیزہ تھے اور علماء متاخرین نے اس کی دلیلوں کو تحریر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت کے کل آباو اجداد دین اسلام پر تھے غرض یہ ممکن نہیں کہ خدا اس نور پاک کو تاریک اور گندی جگہ کافروں کے صلب اور رحم میں رکھے اورآخرت میں ان کے کافر آباو اجداد میں پر عذاب نازل کرکے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو رسوا کرے ۔علامہ فخر الدین رازی نے اپنی کتاب اسرارالتنزیل میں لکھا ہے کہ ”ان آباء الانبیاء ما کانوا کفارا“انبیاء کے آباو اجداد کافرنہیں تھے ”وبھذاالتقدیر الایةدالة علیٰان جمیع آباء محمد کانومسلمین “

مزید  کرونا وباء اور مقدس مقامات کی بندش

اس تقدیر پر یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کل آباو اجداد

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔مسالک الحنفاء ،ص/۱۹

مسلمان تھے ”ومما یدل علی ان آباء محمد ما کانو مشرکین “  اس امر کی دلیل کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آباو اجداد مشرک نہیں تھے ،حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ ” لم ازل انقل من اصلاب الطاہرین الیٰ ارحام الطاہرات“جس میں فرمایا ہے کہ میں ہمیشہ پاکیزہ لوگوں کے صلبوں سے پاکیزہ ہی بیبیوں کے رحموں میں منتقل ہوتا آیا ہوں۔ ۱#

علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار اور حیات القلوب جلد دوم میں تحریر فرمایا ہے :علماء امامیہ اثنا عشری کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد و والدہ بلکہ کل اجداد و جدات کا صحیح مذہب یعنی اسلام پر تھے اور آپ کا نور مبارک نہ تو کسی مشرک مرد کے صلب میں داخل ہوا اور نہ کسی کافرہ عورت کے رحم میں بلکہ متواتر حدیثوں سے یہ بات اچھی طرح سے ثابت ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے باپ دادا سب کے سب انبیا ،اوصیا اور دین خدا کے حامل تھے اور حضرت اسماعیل ﷼ کے فرزند جو آنحضرت  کے اجداد کرام تھے حضرت ابراہیم ﷼ کے اوصیا اور خلائق کے مرجع تھے اور ملت ابراہیمی ان کے درمیان باقی تھی اور حضرت موسیٰ ﷼ کی وجہ سے ملت ابراہیمی منسوخ نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ حضرات اس کے محافظ تھے اور ایک دوسرے کو حفاظت کی وصیت کرتے تھے اوربہ سند معتبر حضرت امیر المومنین ﷼سے

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔ مسالک الخفا ،ص/ ۸۰۔اور حیات القلوب ،ج/۲باب اول فصل/ ۳ موٴلفہ علامہ مجلسی

منقول ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم نہ میرے والدنے بتوں کی پرستش کی نہ میرے جد عبد المطلب نے نہ ان کے پدربزرگوار ہاشم نے نہ ان کے والد عبد مناف نے بلکہ یہ کل حضرات خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھتے تھے اور دین ابراہیمی پر قائم تھے ۔۱#

جناب فاطمہ بنت اسد کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاندان کی عورتیں بھی کافرہ یا مشرکہ نہیں تھیں بلکہ دین ابراہیمی پر تھیں ۔ چنانچہ جناب امیر کی ولادت کا وقت قریب پہنچا اور فاطمہ بنت اسد کو وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے تو آپ خانہ کعبہ کے پاس آئیں اور کہا کہ پرور دگار میں تجھ پر اور جو پیغمبر تیرے پاس سے آئے ہیں اور جو کتابیں تیرے یہاں سے نازل ہوئی ہیں ان سب پر ایمان رکتی ہوں اور اپنے جد ابراہیم ﷼ کے کلام کی تصدیق کرتی ہوں پس جس بزرگ نے اس خانہ کعبہ کو بنایا ہے میں تجھ کو اسی کے حق کا واسطہ دیتی ہوں اور اس کا کہ جو مولود میرے بطن میں ہے اور میں اسی کے حق کا واسطہ دیتی ہوں کہ تومیرے لئے وضع حمل آسان فرمادے۔۲#

مزید  ماہ رمضان کے دنوں کی دعائیں

اسی خاندان کے ایک بڑے رکن جناب ابو طالب بھی تھے آپ بھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت تک دین ابراہیمی پر تھے اور جب آنحضرت نے لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا تو اس وقت آپ بھی دین ابراہیمی سے دین محمدی میں داخل ہو گئے۔

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔ حیات القلوب جلد دوم باب اول فصل /۳

۲۔ مناقب ابن شہر آشوب ،ص/۱۳۳

خاندان جناب ابوطالب 

جناب ابوطالب نے ایسے گھر میں آنکھ کھولی جس کی سرپرستی پیغمبراکرم کے جد امجد دین ابراہیمی کے پیرو جناب عبدالمطلب کے ہاتھوں میں تھی جزیرہٴ عرب کی تاریخ میں معمولی غور و فکر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جناب عبدالمطلب اپنی زندگی کے سخت ترین حالات اور پر خطر مراحل کے دوران بھی خدا پرستی اور آئین توحید کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے تھے․

جس وقت ابرہہ کا لشکر ہاتھیوں پر بیٹھ کر خانہ کعبہ کو ویران کرنے کے قصد سے مکہ کی طرف آرہا تھا تو اس نے راستے میں جناب عبدالمطلب کے اونٹوں کو پکڑلیا تھا ، اور جس وقت جناب عبدالمطلب اپنے اونٹوں کے مطالبے کے لئے ابرھہ کے پاس پہنچے تو اس نے بڑے ہی تعجب کے ساتھ ان سے پوچھا کہ آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کا مطالبہ تو کیا لیکن مجھ سے یہاں سے واپس جانے اور خانہ کعبہ کو ویران نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ؟ اس وقت جناب عبدالمطلب نے اپنے ایمان و اعتقاد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے یہ جواب دیا تھا :اٴنا ربّ الاِبل وللبیت ربّ یمنعہ (یحمیہ)․ ۱#

میں اونٹوں کا مالک ہوںاور اس گھر (خانہ کعبہ) کا بھی مالک موجود ہے جو خود اس کی حفاظت و حمایت کرے گا ․

اس کے بعدجناب عبدالمطلب مکہ کی طرف روانہ ہوگئے ․ پھر مکہ میں خانہ کعبہ کے دروازے کی کنڈی پکڑ کر یوں کہا :

یا ربّ لااٴرجو لھم سواکا            یاربّ فامنع منھم حماکا

اِن عدوالبیت مَن عاداکا           امنعھم اٴن یُخرّبوا فناکا۲#

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔کامل ابن اثیر جلد ۱ ص ۲۶۱ طبع مصر ، ۱۳۴۸ئھ․

۲۔ گزشتہ حوالہ․

اے پروردگارمیں تیرے سوا کسی سے امید نہیں رکھتا ․ پروردگارا!تو خود ان دشمنوں کے مقابلے میں اپنے حرم کی حفاظت فرما․

اس گھرکے دشمن تجھ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں انھیں روک دے تاکہ تیرے گھر کو ویران نہ کرسکیں ․

اس قسم کے بلند پایہ اشعار جناب عبدالمطلب کے مومن اور خدا پرست ہونے کے واضح گواہ ہیں اسی وجہ سے یعقوبی نے اپنی تاریخ کی کتاب میں جناب عبدالمطلب کے متعلق یوں تحریر کیا ہے:

رفض عبادة الاٴصنام و وحّد اللّہ عزّ وجلّ․۱#

عبدالمطلب نے بتوں کی پوجا سے انکار کیا تھا اور آپ خدا کے موحد بندے تھے ․

آئیے اب یہ دیکھا جائے کہ اس مومن اور خدا پرست شخصیت کی نگاہ میں ان کے بیٹے ابوطالب کی کیا منزلت تھی؟

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔تاریخ یعقوبی جلد۲ ص ۷ طبع مصر․

عبدالمطلب کی نظر میں ابوطالب

تاریخ شاہد ہے کہ بعض روشن ضمیر نجومیوں نے جناب عبدالمطلب کو پیغمبراکرم کے روشن مستقبل اور ان کی نبوت سے باخبر کردیا تھا جس وقت ”سیف بن ذی یزان“ نے حکومت حبشہ کی باگ ڈور سنبھالی تو جناب عبدالمطلب ایک وفد کے ہمراہ حبشہ تشریف لے گئے اس وقت ”سیف بن ذی یزان“ نے ایک اہم خطاب کے بعد جناب عبدالمطلب کو یہ خوشخبری دی ”آپ کے خاندان میں ایک عظیم القدر  نبی  تشریف لاچکے ہیں“ اس کے بعد اس نے پیغمبراکرم کے خصوصیات یوں بیان کئے:

مزید  مصحف امام علی علیہ السلام کی حقیقت کیا ہے؟

اسمہ محمد  موت اٴبوہ و اٴمہ و یکفلہ جدّہ و عمّہ․(۱)

انکا نام محمد ہے ان کے ماں باپ کا (جلد ہی) انتقال ہوجائے گااور ان کی سرپرستی ان کے دادا اور چچا کریں گے ․

اس وقت اس نے پیغمبراکرم کے صفات  بیان کرتے ہوئے یہ جملے بھی کہے تھے :

یعبد الرّحمٰن و یدحض الشیطان و یخمدالنیران و یُکسّر الاٴوثان قولہ فصل و حکمہ عدل و یاٴمر بالمعروف و یفعلہ و ینھیٰ عن المنکر و یبطلہ․(۲)

وہ خدائے رحمن کی عبادت کریں گے، شیطان کے دام میں نہیں آئیں گے، جہنم کی آگ کو بجھائیں گے اور بتوں کو توڑیں گے ․ان کا قول حق و باطل میں جدائی کا میزان ہوگا وہ دوسروں کو نیکی کا حکم دیں گے اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں گے وہ دوسروں کو برائی سے روکیں گے اور اسے باطل قرار دیں گے ․

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔سیرہ حلبی جلد۱طبع مصر ص ۱۳۶، ۱۳۷ ،اور طبع بیروت ص ۱۱۴۔۱۱۵․

۲۔گزشتہ حوالہ․

اور پھر اس نے جناب عبدالمطلب سے کہا :

” اِنک لجدہ یا عبدالمطلب غیر کذب“ ۱#

اے عبدالمطلب اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ آپ ان کے دادا ہیں ․

جناب عبدالمطلب نے جب یہ خوشخبری سنی تو سجدہ شکر بجالائے اور پھر اس بابرکت مولود کے احوال کو یوں بیان کیا:

اِنّہ کان لي ابن و کنت بہ معجبًا وعلیہ رقیقاً و إِنّي زوجتہ کریمة من کرائم قومي آمنة بنت وھب بن عبدمناف ابن زھرہ فجاء ت بغلام فسمّیتہ محمدًا مات اٴبوہ و اٴمہ و کفلتہ اٴنا و عمّہ (یعنی اٴباطالب)․۲#

میرا ایک بیٹا تھا جس سے مجھے بہت زیادہ محبت تھی میں نے اس کی شادی اپنے شرافتمند رشتہ داروں میں سے ایک نیک سیرت خاتون ”آمنہ“ بنت وہب بن عبدمناف سے کی تھی ،اس خاتون کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اس کے ماں اور باپ دونوں کا انتقال ہوچکا ہے اس کی سرپرستی میں نے اور اس کے چچا ابوطالب نے اپنی ذمہ لی ہے ․

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱۔گزشتہ حوالہ․

۲۔سیرہ حلبی جلد۱ ص ۱۳۷ طبع مصر․

جناب عبدالمطلب کے اس کلام سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اس یتیم بچے  کے روشن مستقبل سے اچھی طرح باخبر تھے اس لئے انھوں نے اس بچے کو اپنے سب سے عزیز بیٹے جناب ابوطالب کی سرپرستی میں دیا تھا اور اس عظیم سعادت کو کسی اور کے نصیب میں نہیں آنے دیا تھا اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جناب ابوطالب اپنے مومن اور موحد والد کی نگاہ میں ایمان کے اس درجہ پر فائز تھے کہ صرف وہی پیغمبراکرم کی سرپرستی کی لیاقت رکھتے تھے․۱#

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱زیادہ وضاحت کے لئے ان کتابوں ”سیرہ حلبی“ جلد۱ ص ۱۳۴ طبع مصر اور ”سیرہ ابن ہشام“جلد۱ ص۱۸۹ ،طبع بیروت اور ”ابوطالب مومن قریش“ ص ۱۰۹ طبع بیروت اور” طبقات کبریٰ“جلد ۱ ص۱۱۷ طبع بیروت کا مطالعہ مفید ہوگا․

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.