خاندانی حقوق

0 0

والدین کے حقوق

اسلام نے خاندان کوخاص اہمیت دی ہے اور چونکہ معاشرہ سازی کے سلسلہ میں اسے ایک سنگ بنیاد کی حیثیت حاصل ہے لذا اسلام نے اس کی حفاظت کے لئے تمام افرد پر ایک دوسرے کے حقوق معین کئے ہیں اور چونکہ والدین کا نقش خاندان اور نسل کی نشو ونما میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے لذا قرآن کریم نے بڑے واضح الفاظ میں ان کی عظمت کوبیان کیا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔

اس بحث میں ہم قرآن کریم، سنت نبویہ اورفرامین اہل بیت کی روشنی میں والدین کے حقوق کا جائزہ لیں گے۔

اول  :  حقوق والدین قرآن میں

اللہ تعالی نے متعدد آیات کریمہ میں اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ  حسن سلوک کا بھی حکم دیا ہے مندرجہ ذیل آیات ملاظہ فرمائیے :

وقضی ربکالاتعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا [1]۔

”تیرے پروردگار کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کےعلاوہ کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور دوسری آیت میں ارشاد رب العزت ہے :

واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اللہ وبالوالدین احسانا[2]۔

”اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا سوا اللہ کے کسی کی بندگی مت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو“۔

نیزفرمایاہے :

قل تعالوااتل ماحرم ربکم علیک الاتشرکوابہ شیئا وبالوالدین احسانا [3]۔

”اور کہدو آو میں بیان کروں جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے اوپرحرام کیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ نیکی کرو“۔

اوراس آیت میں اپنے شکرکو والدین کے شکرکے ہمراہ ذکر فرمایا ہے  :

اناشکرلی ولوالدیک الی المصیر [4]۔

”میرا اور اپنے والدین کا شکر بجالاؤ تمہاری بازگشت میری طرف ہے“۔

اسی طرح خدا تعالی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو ایک بنیادی فیصلہ قرار دیا ہے، اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم نے بہت ساری آیات میں اولاد پر زور دیا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اس کے برعکس والدین کو بہت کم غیر معمولی حالات میں اولاد کو اہمیت دینےکا حکم دیاہے جیسے بھوک کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنے کا حکم۔

اور صرف اس پر زور دیتا ہے کہ اولاد زینت، تفریح کا سامان اور والدین کے لئے آزمائش ہے اور اولاد کا ذکر مال و متاع کے ہمراہ اور تفاخر کے مقام میں کیا ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

واعلموا انما اموالکمو اولادکم  فتنة وان اللہ عندہ اجرعظیم۔

”اور جان لو تمہارے اموال اور اولاد آزمائش ہیں، اور جب بیشک اللہ کے ہاں اجر عظیم ہے“ [5]۔

نیز فرماتا ہے: …وتفاخربینکم و تکاثر فی الاموال والاولاد…”اور ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ خو اہش ہے…[6]۔

اور اس کا راز یہ ہے کہ اولاد کے ساتھ تعلق کی نسبت والدین کا اولاد کے ساتھ تعلق زیادہ شدید ہوتا ہے بالخصوص ماں جو ہمیشہ اپنی اولاد کو محبت کی رد امیں لپیٹے رکھتی ہے اور ان کی محبت میں قیمتی سے قیمتی اور نفیس سے نفیس چیز بھی قربان کر دیتی ہے اور اس کی پوری تمنا ہوتی ہے کہ اس کی اولاد سعادتمندانہ زندگی بسر کرے۔

لہذا والدین کو اس بارے میں کسی خاص تنبیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنی نسل کی صحیح تربیت کرنے کے لئے فقط ان کے ضمیر کو جگا دینا کافی ہے۔

 

اور چونکہ اولاد کی محبت والدین کے ساتھ فطری طور پر کمزور ہوتی ہے لہذا قرآن کریم نے انہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ طرفین کی محبت میں توازن آجائے اور اسی وجہ سے دیکھیں تو والدین کے ساتھ حسن سلوک، حقیقی عبادت کا اجتماعی مظہر ہے اورعبادت اور اس کے اجتماعی مظاہر کے درمیان ہر قسم کی تفکیک و جدائی بالخصوص والدین کے ساتھ بدسلوکی اگرچہ ”اف“ کے ساتھ کیوں نہ ہو عبادت کو اسی طرح خراب کر دیتی ہے جیسے سرکے کا ایک قطرہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔

اول : ماں کاعظیم حق

قرآن کریم نے ماں کے حق کو اس سے بھی زیادہ اہمیت دی ہے اس کی وجہ یہ ہے ماں کی قربانیاں بھی زیادہ ہیں یہ ماں ہی ہے جو حمل، وضع حمل اور پھر دودھ پلانے جیسی تکالیف برداشت کرتی ہے اور حمل کے مرحلے میں عام طور پر نو ماہ تک بچہ ماں کے پیٹ میں رہتا ہے، اس کی غذ۱سے غذا حاصل کرتا ہے اور ماں کی راحت و صحت کی پروا کئے بغیر مطمئن رہتا ہے۔

پھر وضع حمل کا مرحلہ آتا ہے کہ جس کی سختی کا احساس صرف ماں ہی کو ہو سکتا ہے اور بعض اوقات تو اس مرحلے میں ماں کی زندگی بھی خطرے سے دوچار ہو جاتی ہے، اس کے بعد دودھ پلانے، پرورش کرنے، زحمتیں اٹھانے اور راتوں کو جاگنے کا مرحلہ آتا ہے اس لئے اسلام ماںکے حقوق ادا کرنے  پر بہت زیادہ زور دیتا ہے اور اس کی فضیلت کا اعتراف کرنے کے لئے اسے بہترین بدلہ دینے پر زور دیتا ہے اور ان قربانیوں کے پیش نظر قرآن کریم ماں کا خصوصیت سے تعارف کراتا ہے اور اس کے حقوق کے بارے میں خاص طور سے نصیحت کرنا ایک فطری سی بات ہے چنانچہ فرماتا ہے :

ووصینا الانسانبوالدیہ حملتہ امہ وھنا علی وھن فصالہ فی عامین…۔

”اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کی طرف کہ جس کی ماں نے دکھ پر دکھ سہہ کر اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور دو برس تک شیردھی کافریضہ انجام دیا“[7]

اسی کے ساتھ قرآن کریم نے اولاد کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑا ہے کہ وہ اپنے والدین اور بالخصوص ماں کی زحمتوں اور تکلیفوں کو فراموش یا نظرانداز کرکے اپنی پوری توجہ بیوی، بچوں پر مرکوز نہ کریں۔

دوم : والدین کے حقوق سنت نبویہہیں

مسئلہ حقوق بالعموم اورحقوق والدین بالخصوص پیغمبر اکرم کی احادیث و نصائح کے ایک بڑے حصے پر محیط ہے اس کی وجہ قرآن کی متواتر تاکیدات و تنبیہات اور اجتماعی ضرورت ہے۔

بالخصوص اس تناظر میں کہ پیغمبر نے معاشرہ سازی اور تمدن جدید کی تشکیل کے لئے ایک بڑی مہم کا آغاز کیا تھا اور چونکہ خاندان کو معاشرتی عمارت میں خشت اول کی حیثیت حاصل ہے اور والدین کی مثال خانوادے میں ایک رہبر کی سی ہوتی ہے اس لئے ان کے حقوق کی رعایت کرنا بہت ضروری ہے ورنہ اجتماعی عمارت ریت کی دیوار کی طرح متزلزل اور بے ثبات ہو جائیگی۔

اسی لئے دعوت توحید کے بعد یہ مسئلہ سب سے زیادہ پیغمبر کی توجہ کا مرکز بنا اور مسئلہ کے عبادی پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے آپ نے اللہ کی رضا اور والدین کی رضا کو ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے اور تاکید کی ہے کہ والدین کی نافرمانی سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالی کی محبت و مغفرت اور والدین کی محبت و اطاعت کے درمیان رابطہ کے بارے میں امام زین العابدین سے روایت ہے کہ ایک شخص پیغمبر کے پاس آکر کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے ہرقسم کا بر عمل کیا ہے کیا میرے لئے بھی توبہ کا موقع ہے توآپ نے پوچھا:

فھل منوالدیک احد حی ۔

”کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا میرا باپ زندہ ہے تو آپ نے فرمایا:

فاذھب فبرہ”جا اور اس کے ساتھ حسن سلوک کر“ جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا:

مزید  روزِ عاشوره

لوکانت امہ”کاش کہ اس کی ماں زندہ ہوتی“ [8]۔

اور امام صادق سے روایت ہے : جاء رجل الی النبی ،فقال : یارسول اللہ من ابر؟ قال امک قال :ثم من؟ قال امک، قال: ثم من؟قال امک،قال: ثم من؟ قال اباک۔

”ایک شخص پیغمبر کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ میں کس کے ساتھ حسن سلوم کروں تو آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ اس نے پوچھا

پھرکس کے ساتھ فرمایا ماں کے ساتھ، اس نے کہا پھرکس کے ساتھ  فرمایا ماں کے ساتھ اس نے کہا پھرکس کے ساتھ فرمایا باپ کے ساتھ“ ۔[9]

پیغمبر نے اولاد کے لئے والد کے جن حقوق کی طرف توجہ دلائی ہے ان میں سے یہ ہے کہ والد کو غیظ و غضب میں دیکھ کر اس کی ہتک حرمت سے بچنے کے لئے پسر کو خاضع و متواضع ہو جانا چاہئے۔

مزیدبرآن کسی کے باپ کوگالی دے کراپنے باپ کوگالی دئیے جانے کاسبب بننابھی ایساگناہ ہے جوعقاب اخروی کاموجب ہے اوران کے ساتھ حسن سلوک فقط ان کی زندگی میں نہیں بلکہ ان کی موت کے بعدبھی ہے مثلا ان کاقرض اداکرنااوران کے لئے دعاخیرواستغفارکرناوغیرہ وغیرہ۔

پیغمبر نے اپنی زندگی ہی میں ان سب وصیتوں کوعملی جامہ پہنا دیا تھا چنانچہ جس وقت آپ لوگوں کو ہجرت کے لئے تیار کر رہے تھے تاکہ مدینہ میں ایک جدید توحید پرست معاشرہ تشکیل دیا جا سکے اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ انگلیوں پرگنے جا سکتے تھے سیرت کی کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ ایک شخص پیغمبر کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں ہجرت کے لئے آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اپنے ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ آیا ہوں تو آپ نے فرمایا:

”ان کے پاس جلد واپس جا اور جس طرح انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنسا“ [10]۔

اس واقعہ سے بھی والدین کے حقوق کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ ایک دن پیغمبر کی ایک رضاعی بہن آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے نہایت گرمجوشی سے اس کا استقبال و احترام کیا پھر اس کا بھائی آیا تو آپ نے اس کا ویسا احترام نہ کیا جیسے اس کی بہن کا کیا تھا اس پر آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ نے اس کی بہن کا جو احترام کیا وہ اس کے بھائی کا نہیں کیا حالانکہ وہ مرد ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا اس کی بہن اپنے باپ کے ساتھ اپنے بھائی کی بہ نسبت زیادہ حسن سلوک کرتی ہے۔

تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ پیغمبر کے نزدیک قربت و دوری اور ان کے نزدیک محترم ہونے کا معیار والدین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ آخرمیں ماں کے اس منصب کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو پیغمبر نے ماں کو عطا فرمایا ہے کہ :

الجنة تحت اقدام الامھات۔

”جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے“ [11]۔

سوم  :  والدین کے حقوق مکتب آل محمدمیں

آئمہ نے قرآن کریم کی ان توجہات اور پیغمبر کے ان فکری اور تربیتی اقوال وافعال کو ایک نئی روح بخشی ہے اور انہیں ایک نیا ولولہ عطا کیا ہے کیونکہ سب میدانوں میں امت کی تعمیر و ترقی کا بوجھ انہیں کے کندھے پے رہا ہے بالخصوص ظالم و جابر حکام کے تمام مراکز پر تسلط پانے کے بعد کہ جس کی وجہ سے امت انتشار و افتراق کا شکار ہوگئی تھی۔

اورآئمہ نے پوری قوت کے ساتھ کجی کودرست کرنے اورامت کوتعمیروترقی کی راہ پرگامزن کرنے کے لئے کوشش کی چنانچہ اس سلسلے میں آپ نے والدین کے حقوق کے باب میں کئی محوروں پرکام کیاکہ جسے مندرجہ ذیل صورت میں بیان کیا جاسکتاہے۔

۱۔آیات قرانیہ کی تفسیر

واضح رہے کہ یہ اہل بیت ہی ہیں جن کے گھرقرآن نازل ہوااورانہیں کوپیغمبر نے قران کاساتھی بتایاہے اوریہی قرآن ناطق ہیں کہ جوصرف حق کہتے ہیں اورحقوق کی ادائیگی پرزوردیتے ہیں۔

امام صادق  نے اس آیت شریفہ :

وقضی ربک الاتعبدواالاایاہ وبالوالدین احسانا[12]۔

”میں لفظ احسان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایاہے احسان یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرواوراپنی ضرورت کی چیزحاصل کرنے کے لئے انہیں سوال کرنے کی زحمت نہ دواگرچہ وہ غنی ہی کیوں نہ ہو“ [13]۔

امایبلغن عندک الکبراحدھمااوکلاھماتقل لھمااف ولاتنھرھما[14]۔

کے متعلق فرمایاہے : ”اگروہ تجھ پرسختی کریں توانہیں اف تک نہ کہواورانہیں سختی سے نہ جھڑکو“ [15]۔

اوراس آیت کریمہ:

وقل لھماقولاکریما[16]۔

”اگروہ تجھے ماریں توان سے فقط یہ کہواللہ آپ کومعاف کرے“ [17]۔

نیزفرماتے ہیں : ”نافرمانی کاسب سے پہلادرجہ اف کہناہے اوراگراس سے بھی نیچے کوئی درجہ ہوتاتواللہ تعالی اس سے بھی منع فرماتا“ [18]۔

اوراللہ تعالی کے اس فرمان :

واخفض لھماجناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمھماکماربیانی صغیرا[19]۔

”ان کی طرف آنکھ بھرکے یعنی گھورکے نہ دیکھومگررحمت ورقت کے ساتھ، ان کی آوازپراپنی آوازاوران کے ہاتھ پراپنے ہاتھ کوبلندنہ کرواوراپناقدم ان کے قدم سے آگے نہ بڑھنے دو“ [20]۔

اوراس آیت شریفہ :

ان اشکرلی والوایک الی المصیر ۔کے متعلق امام رضا فرماتے ہیں :[21]

”اللہ تعالی نے انسان کواپنے اوروالدین کاشکراداکرنے کاحکم دیاہے اورجس نے والدین کاشکرادانہیں کیاگویااس نے اللہ کاشکربھی ادانہیں کیا“[22]

۲: اخلاقی فضاقائم کرنا

آئمہ کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ امت میں اخلاقی نظم وضبط زندہ وتابندہ رہے تاکہ اسلامی معاشرہ سالم رہ سکے اورلوگ پریشانی اوربے چینی کے تاریک گڑہوں میں گرنے سے محفوظ رہیں اسی لئے آپ زوردیتے تھے کہ اولاوالدین کے ساتھ اپنے معاملات میں اخلاقی پہلوکے اعتبارسے اس طرح متمسک رہے کہ یہ اس کی فطرت ثانیہ بن جائے چنانچہ امام علی فرماتے ہیں :

برالوالدین من اکرم الطباع۔

”والدین سے حسن سلوک شریف ترین طبیعتوں کاشیوہ ہے“ [23]۔

اوران کے پوتے امام ہادی فرماتے ہیں :

العقوق ثکل من لم یثکل۔

”والدین کی نافرمانی ایک ایسابوجھ ہے کہ جسے انسان اٹھانے سے قاصر ہے“[24]

۳:حکم شرعی کابیان کرنا

اہل بیت نے حقوق والدین کے سلسلے میں فقط قرآنی ارشادات اوراخلاقی اقدار کو اجاگرکرنے پراکتفانہیں کی بلکہ اس دائمی مسئلے کاحکم شرعی بھی بیان کیاہے چنانچہ امام علی فرماتے ہیں :

برالوالدین اکبرفریضة[25]۔

اورامام باقرفرماتے ہیں :

ثلاث لم یجعل اللہ عزوجل لاحدفیھن رخصة اداء الامانة الی البروالفاجر، والوفاء بالعھد للبروالفاجر،وبرالوالدین برین کانااوفاجرین۔

”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے سلسلے میں اللہ تعالی نے کسی کورخصت نہیں دی ہرنیک وبدکوامانت کاواپس کرنا،ہرصالح وفاجرکے عہدکوپوراکرنااوروالدین سے حسن سلوک کرناہے وہ نیک ہوں یابرے“[26]۔

یہ بات قابل ذکرہے کہ اسلام نے حقوق والدین کودین واسلام کے ساتھ مربوط نہیں کیابلہ ہرحال میں حقوق والدین کی رعایت لازم قراردی ہے امام رضا  فرماتے ہیں :

برالوالدین واجب وان کانامشرکین، ولاطاعة لھمافی معصیة الخالق۔

”والدین کے ساتھ نیکی کرناواجب ہے اگرچہ وہ مشرک ہوں البتہ خالق کی مصیت میں ان کی اطاعت واجب نہیں ہے ۔[27]

اورآپ نے صرف حکم شرعی کوبیان نہیں کیابلکہ اس کے فلسفے کوبھی بیان کیاہے فرماتے ہیں :

حرم اللہ عقوق الوالدین لمافیہ من الخروج من التوفیق لطاعة اللہ عزوجل والتوقیر للوالدین وتجنب النعمة وابطال الشکر،ومایدعومن ذلک الی قلة النسل وانقطاعہ، لمافی العقوق من قلة توقیرالوالدین، والعرفان بحقھما، وقطع الارحام والزھد من الوالدین فی الوالد، وترک التربیة بعلة ترک الوالدبرھما۔

”خداتعالی نے والدین کی نافرمانی کواس لئے حرام کیاہے کہ اس کے ذریعہ سے اطاعت خداوندی اوراحترام والدین کی توفیق انسان سے سلب ہوجاتی ہے انسان شکرکوباطل کردیتاہے اورکفران نعمت کاارتکاب کربیٹھتاہے اورنسل کے کوتاہ یااس کے سلسلہ کے منقطع ہوجانے کے خطرے سے دوچارہوجاتاہے کیونکہ نافرمانی کے نتیجے میں والدین کااحترام اوران کے حق کی معرفت کم ہوجاتی ہے اورصلہ رحمی کاسلسلہ بھی منقطع ہوجاتاہے والدین کواولاد سے نفرت ہوجاتی ہے اوراولادکے عدم حسن سلوک کی وجہ سے والدین بھی تربیت کرناچھوڑدیتے ہیں [28]۔

مزید  آخرت میں ثواب اور عذاب

اس حدیث میں غورکرنے سے حقوق والدین کے سلسلے میں اس سے زیادہ عمیق اورباریک ترفلسفہ نظرآتاہے وہ یہ کہ یہ مسئلہ صرف معنوی پہلوکاحامل نہیں ہے بلکہ اجتماعی اعتبارسے اس کے بڑے گہرے اثرات ہیں بالخصوص نسل انسانی کوختم ہونے سے بچانے کاذریعہ اس سے وابستہ ہے۔

اوراس مسئلہ کے دیگرمنفی اثرات بھی ہیں جب والدین یہ سمجھ رہے ہوں کہ اولاد ان کی عزت خاک میں ملاتی جارہی ہے، اولاد ان کے حقوق کی پروانہیں کررہی تومعاشرے کی یہ اجتماعی سوچ بن جائیگی کہ باپ بننایاکم ازاکم ان کی تربیت کے لئے کوشش کرنایک گھاٹے کاسوداہے۔ اوراس کے ناپسندیدہ نتائج ابھرکرسامنے آئیں گے اوریہ چیزقلت یاانقطاع نسل کاسبب بنے گی جیساکہ امام نے اس کی طرف اشارہ کیاہے جس کامعمولی اثریہ ہوگاکہ لوگ اولاد کی تربیت کواہمیت نہیں دیں گے اوردونوں صورتوں میں معاشرے کانقصان ایک امرلازم ہے۔اوراس کے برعکس اگروالدین یہ سمجھیں کہ اولاد کی طرف سے ان کی عزت وتوقیرکی جارہی ہے تووہ بھی اولاد کی تربیت پرزیادہ سے زیادہ توجہ دیں گے۔

آج کے دورمیں اس کی بدترین مثال مغربی معاشروں میں رونماہونے والی صورت حال ہے کہ جہاں پرخاندانی جدائیوں کی وجہ سے پیداہونے والی بے راہ روی کے بھیانک نتائج ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ بیٹا والدین کی سرپرستی قبول نہیں کرتااوران کے حقوق اداکرنے سے گریزکرتاہے اورہمہ وقت لذات کے پرموج سمندرمیں غرق رہتاہے اوراسی کانتیجہ ہے جائزنسل کاکم ہونا بچوں کی تربیت کافقدان اوربچوں کوتربیت کے لئے آموزش وپرورش کے مراکزکے حوالے کرنااوریہ معاشرتی مرض اس قدر بڑھتاجارہاہے کہ اولادکی بہ نسبت جانوروں بالخصوص کتوں کی تربیت پرزیادہ زوردیا جارہاہے اگراولادکی سرکشی اوروالدین سے بے توجہی کایہ سلسلہ جاری رہاتواس کانتیجہ انقطاع نسل یاکم ازکم قلت نسل تک جاپہنچے گاجومغربی معاشروں کوجہنم کے کنارے پر لاکھڑا کرے گا۔

۴:والدین کے حقوقکی حدبندی

حقوق کے بارے میں مکتب اہل بیت  کی نظردیگرقانونی اورتمدنی مکاتب فکرسے زیادہ وسیع ہے اوراس کی توجہ معنوی اورروحانی حقوق پرزیادہ ہے کیونکہ اسے دوسرے ابعادپرترجیح حاصل ہے۔

لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مادی حقوق کونظرانداز کردیاجائے بلکہ ان کے بارے میں بھی مکتب اہل بیت کی نظر بڑی گہری اوروسیع ہے اسلام معنوی پہلو کومادی پہلوپرترجیح دیتاہے اس لئے آئمہ کی اکثراحادیث اوروصیتیں معنوی حقوق کی رعایت کرنے پرزیادہ زوردیتی ہیں جیسے والدین کی اطاعت کرنا،ان کاشکرادا کرنا اوران کے ساتھ اخلاص سے پیش آنا۔ امیرالمومنین نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں :

ان للولد علی الوالد حقا… ان یطیعہ فی کل شیء الافی معصیة اللہ سبحانہ[29]۔

”بیٹے کے ذمے باپ کاحق یہ ہے کہ ہرکام میں اس کی اطاعت کرے سوائے اللہ کی معصیت کے۔

اورآپ ہی کے لخت جگرامام صادق فرماتے ہیں :

یجب للوالدین علی الوالد ثلاثة اشیاء : شکرھما علی کل حال، وطاعتھما فیمایامرانہ وینھیانہ عنہ فی غیرمعصیة اللہ، ونصیحتھما فی السر والعلانیة[30]۔

”بیٹے پروالدین کے تین حقوق ہیں ہرحال میں ان کاشکراداکرے امرونہی میں انکی اطاعت کرے سوائے اللہ کی معصیت کے اورظاہروباطن میں ان کے لئے اخلاص کااظہارکرے“۔

امام زین العابدین اپنے رسالہ حقوق میں فرماتے ہیں :

احق ابیک فان تعلم انہ اصلک، وانہ لولاہ لم تکن، فمھما رایت فی نفسک ممایعجبک، فاعلم ان اباک اصل النعمة علیک فیہ، فاحمد اللہ واشکرہ علی قدرذلک، ولاقوة الاباللہ[31]۔

”بہرحال تیرے باپ کاحق یہ ہے کہ تجھے معلوم ہوناچاہئے کہ تیری اصل وہی ہے اگروہ نہ ہوتاتوتیرا وجود نہ ہوتاجب بھی تجھے کوئی چیزبھی معلوم ہو، تویہ بات یاد رہے کہ اس نعمت میں بھی اصل تیرا باپ ہے پس اللہ کی حمدوثناء کر اوراس کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے“۔

اورماں کے حق کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :

اماامک فان تعلم انھا حملتک حیث لایحتمل احد احدا، واعطتک من ثمرة قلبھا مالایعطی احد احدا، ووقتک بجمیع جوارحھا،ولم تبال ان تجوع و تطعمک، وتعطش وتسقیک، وتعری وتکسوک، وتضحی وتظلک وتھجرالنوم لاجلک، ووقتک الحر والبرد، لتکون لھا، فانک لاتطیق شکرھا الا بعون اللہ وتوفیقہ [32]۔

”اورتیری ماں کاحق یہ ہے کہ تجھے کبھی نہیں بھولناچاہئے کہ اس نے تجھے اس وقت اٹھایاہے جب کوئی کسی کونہیں اٹھاتا اوراس نے اپنے دل کاایساپھل کھلایا جوکوئی نہیں کھلاتا اوراس نے سارے اعضاکے ساتھ تیری حفاظت کی وہ خود بھوکی رہی لیکن تجھے کھلایا، خود پیاسی رہی لیکن تجھے پلایا، خود عریاں رہی لیکن تجھے پہنایاخود دھوپ میں رہی لیکن تجھے سائے میں بٹھایا، تیرے آرام کی خاطراپنی پسند کی پروا کئے بغیراس نے تجھے سردی اورگرمی سے بچایایہ سب کس لئے کیا تاکہ تواس کابن جائے پس تواللہ کی مدد اورتوفیق کے بغیراس کاشکربھی ادانہیں کرسکتا۔

یوں صاف وشستہ اورالہامی زبان کے ساتھ امام نے حقوق والدین کومختلف ابواب میں بیان کیاہے۔ اورامام موسی کاظم  اپنے جدامجد پیغمبر  سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے بیٹے پرباپ کے حق کے بارے میں سوال کیاتوآپ نے فرمایا:

لایسمیہ باسمہ، ولایمش بین یدیہ، ولایجلس قبلہ، ولایستسب لہ[33]۔

”یہ کہ اسے نام کے ساتھ نہ پکاے۔ اس سے آگے نہ چلے، کسی بھی نشست میں اس پرسبقت نہ کرے اوراسے گالیاں دینے کاسبب نہ بنے“۔

اگرآپ اس مذکورہ عبارت میں غورکریں توآپ کوحقوق والدین کے بارے میں ایک انتہائی عمیق فکردیکھنے کوملے گی اورشایداس کارازیہ ہے کہ ان قانونی حقوق کے بارے میں فکری اورروحانی تربیت ہی اولادکوان معاشرتی امراض سے بچاسکتی ہے یہ جن کے نتیجے میں ایک چھوٹے سے خاندان کاشیرازہ بکھرجاتاہے اوراس کے مہلک اثرات کاعکس بڑے معاشرے پربھی پڑتاہے۔

اس بات کی طرف بھی اشارہ کرناضروری ہے کہ حقوق معنویہ پرتوجہ مرکوز کرنے کامطلب یہ نہیں ہے کہ والدین کے مادی حقوق کوبالکل نظرانداز کردیاجائے مثلاتنگدستی اوربڑھاپے کے عالم میں ان کے اخراجات پورے نہ کئے جائیں بلکہ ہرچیز اپنے قواعد وضوابط اورحدود وقیود کے مطابق لازم ہے، لگتاہے اس وقت کے عام لوگوں کی رائے یہ تھی کہ باپ کوبیٹے کے اموال میں پوراپورا اختیارہوتاہے اوراس کے لئے پیغمبر کی اس حدیث ”تواورتیرا مال تیرے باپ کے لئے ہے اس شخص کی شکایت کے جواب میں کہ جس نے پیغمبر کے پاس آکرکہا تھا کہ میرے باپ نے میری اس میراث پربھی قبضہ کرلیاہے جومجھے میری ماں کی طرف سے ملی تھی“ کے اسباب وعلل بیان کرکے بہت سارے اذہان سے اس غلط فکرکونکال دیاہے اورآپ نے واضح کردیاکہ نبی کایہ قول اس وقت کے لئے تھا جب باپ تنگ دست تھا اورضرورت کے ہاتھوں مجبورہوچکاتھا لہذا یہ حکم اسی واقعہ کے ساتھ مخصوص ہے چنانچہ ملاحظہ ہو حسین ابن ابوالعلاکی یہ روایت ابوالعلاکہتے ہیں میں نے امام صادق سے عرض کیاباپ کے لئے اپنے بیٹے کے مال میںسے کس حد تک جائزہے؟ توآپ نے فرمایا جب مجبور ہوتواپنی خوراک کے مطابق استفادہ کرے اورفضول خرچی نہ کرے ابوالعلا کہتے ہیں میں نے امام سے کہا پیغمبر نے توایک شخص کے لئے یہ ارشاد فرمایاہے کہ تواورتیرا مال تیرے باپ کے لئے ہے اورباپ کوترجیح دی ہے؟ توامام نے واقعہ نقل کیاکہ ایک شخص اپنے باپ کے ہمراہ پیغمبر کی خدمت میں حاضرہوا اوریہ شکایت کی کہ میرے باپ نے مجھ سے میری ماں کی طرف سے ملنے والی میراث چھین لی ہے اورباپ نے پیغمبر  کوبتایا کہ میں نے اس مال کواپنی اوراس کی ذات پرصرف کیاہے اس وقت پیغمبر نے یہ ارشاد فرمایاتھا کہ اے شخص تواورتیرامال تیرے باپ کے لئے ہیں اورظاہرہے جب باپ کے پاس کچھ تھا نہیں توکیا پیغمبر  بیٹے کی خاطرباپ کوقید کردیتے [34]۔

دوسری بحث

والدین کی نافرمانی کےدنیامیں منفی اثرات

گذشتہ سطروں میں ہم نے والدین کی نافرمانی کے بعض اخروی اثرات ذکر کئے ہیں اورشایدان میں سے خاص خاص یہ تھے خدا تعالی کی ناراضگی،طاعات وعبادات کاقبول نہ ہوناوغیرہ اوراس بارے میں میں اہلبیت کی کثیر احادیث موجودہیں۔ اب اس کے دنیاوی منفی اثرات ذکرکرتے ہیں انہیں مندرجہ ذیل صورت میں بیان کیاجاسکتاہے ۔

مزید  علامہ طبرسي کي ثمر بخش ھجرت

اول : فقروفاقہ کاشکارہوجانا

امام صادق فرماتے ہیں :

ایما رجلدعاعلی ولدہ اورثہ الفقر

والدین کی بددعا اولاد کوفقروفاقے سے دوچار کردیتی ہے [35]۔

دوم  :  برائی کابدلہ برائی سے ملنا

جوبچہ اپنے ماں باپ کے ساتھ براسلوک کرتاہے اس کی اولاد اس کے ساتھ بھی ویساہی سلوک کرتی ہے اوراس کے بڑھاپے میں اسے اہمیت نہیں دیتی ۔

امام صادق اس حقیقت پرزوردیتے ہوئے فرماتے ہیں :

برواآبائکم ،یبرکم ابناؤکم[36]۔

”اپنے والدین کے ساتھ نیکی کروتاکہ تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرے“۔

اورعملی تجربات بھی اس حقیقت کوثابت کرتے ہیں اوراس بارے میں گذشتہ نسلوں کے کئی ایک عبرت ناک واقعات بھی نگاہوں سے گذرے ہیں۔

سوم  :  نافرمانی ذلت اورپستی کاسببہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جوشخص والدین کانافرمان ہوتاہے اسے معاشرہ ناپسندیدگی اورذلت کی نگاہ سے دیکھتاہے اوراس طرح وہ معاشرتی سطح پرقابل تنفر اورمزموم خیال کیاجاتاہے جس قدروہ عذرخواہی کے ذریعے سے اپنے عیوب پرپردہ ڈالنے کی کوشش کرتاہے لوگ اس کی بدبختی کواورزیادہ اچھالتے ہیں۔

امام ہادی فرماتے ہیں :

العقوق یعقب القلة ویودی الی الذلة۔

”والدین کی نافرمانی انسان کوقلت اورذلت میں مبتلاکردیتی ہے“۔

ہوسکتاہے قلت سے مراد فقط مالی قلت نہ ہوبلکہ معنوی اورمعاشرتی قلت بھی ہویعنی دوستوں کاکم ہوجاناکیونکہ جوشخص اپنے قریب ترین یعنی والدین کانافرمان ہوناہے تولوگ اس پراعتماد نہیں کرتے اوردوست اس سے محبت کرناچھوڑدیتے ہیں۔

تیسری بحث: بہترین نمونہ

لوگوں کے قلوب میں جگہ بنانا اوران کے دلوں میں گھرکرناتنگ سوراخ میں داخل ہونے سے کہیں زیادہ مشکل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ فکری،مزاجی اورثقافتی لحاظ سے بہت زیادہ مختلف ہیں لہذا ان پرمؤثرہونابہت دشوارہے اوراس کے لئے ان خاص عنایات کی ضرورت ہے جوصبرکے ساتھ متمسک اورحقائق سے آگاہ لوگوں کوحاصل ہوتی ہیں

اہل بیت اپنے بہترین کردارکی وجہ سے لوگوں کوجذب کرنے اوران پرحکمرانی کرنے میں سب سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں اوران کی عقول کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں ہیں کیونکہ عام طورپرلوگ زبان کی بجائے کردارسے زیادہ متاثرہوتے ہیں اورحقوق والدین کے سلسلے میں آئمہ کے عمدہ کردار اورلوگوں کے اس سے متاثرہونے کی دلیل کے طورپریہی کافی ہے کہ امام سجاد اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کرکھانانہیں کھاتے تھے اوراس چیزنے آپ کے اصحاب کی نظروں کوخاص طورسے اپنی طرف متوجہ کرلیا اورانہوں نے بڑے تعجب سے پوچھاکہ باوجود اس کے کہ آپ سب سے زیادہ صلہ رحمی اورحسن سلوک کرنے والے ہیں آپ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کرکھانے نہیں کھاتے؟ توآپ نے فرمایا:

انی اکرہان تسبق یدی الی ماسبقت الیہ عینھا فاکون قد عققتھا۔

”مجھے پسند نہیں ہے کہ جس چیزکی طرف میری ماں کی نظرسبقت کرچکی ہواس کی طرف میراہاتھ بڑھ جائے اوریوں میں اپنی ماں کانافرمان بن جاؤں [37]۔

واقعایہ بات قابل قدر ہے اورمکتب اہل بیت کے پیروکاروں کے لئے بہت ہی دقیق اورناقابل فراموش درس ہے اورآپ والدین کی عظمت کوبیان کرتے ہوئے ان کے حق میں دعافرمایاکرتے تھے :

یاالھی این طول شغلھما بتربیتی؟ واین شدة تعبھافی حراستی؟ واین اقتارھما علی انفسھماللتوسعة علی؟ ھیھات مایستوفیان منی حقھما ولاادرک مایجب علی لھما، ولا انا بقاض وظیفتہ خدمتھما[38]۔

”خدایاانہوں نے کتنے لمبے عرصے تک میری تربیت کی ہے اورمیری حفاظت کے لئے کس قدر سختیاں برداشت کی ہیں اورمیرے آرام کے لئے کس قدر تکلیفیں جھیلیں ہیں میں میں زندگی بھران کا حق ادانہیں کرسکتا اوران کے حقوق کاتصوربھی نہیں کرسکتا اورنہ ان کی خدمت کرنے کی ذمہ داری سے عہدہ برآہوسکتاہوں“۔

صحیفہ سجادیہ کی ایک اوردعامیں فرمایاہے :

اللھم اجعلنی اھابھما ھیبة السلطان العسوف وابرھما برالام الرؤوف، اجعل طاعتی لوالدی وبری بھما اقرلعینی من رقدة الوسنان، واثلج لصدری من شربة الظمآن حتی اوثرعلی ھوای ھواھما۔

”میرے اللہ میرے دل میں والدین کی ایسی ہیبت پیداکردے جیسی ظالم بادشاہ کی ہوتی ہے، ان سے نرم دل ماں جیسا حسن سلوک کروں اور ان کی اطاعت اوران کے ساتھ حسن سلوک کومیری آنکھ کے لئے نیندسے زیادہ شیرین اورسوزش جگرکے لئے شربت سے زیادہ ٹھنڈاقراردے تاکہ میں اپنی خواہشات پران کی خواہشات کی ترجیح دوں“ [39]۔

اوردوسرے اماموں نے بھی یہی روش اپنائی اورہراس کام سے پرہیز کیاجس میں والدین کی ہتک حرمت کاپہلونکلتاہو۔

ابراہیم بن مہزم سے روایت ہے وہ کہے ہیں ”امام صادق سے ملنے کے بعد میں شام کومدینہ میں اپنے گھرآیااورمیری ماں بھی میرے ساتھ تھی میرے اوراس کے درمیان توتومیں میں شروع ہوگئی اورمیرے لہجے میں سختی آگئی اگلی صبح نمازادا کرنے کے بعد جب میں امام کی خدمت میں پہنچاتوآپ نے فورا کہا:

یاابامھزم، مالک ولخالدة اغلظت فی کلامھا البارحة؟اما علمت ان بطنھامنزل قدسکنتہ، وان حجرھا مھدقدغمزتہ، ثدیھا وعاو قدشربتہ؟ قال: قلت: بلی قال: فلاتغلظ لھا۔

”ابومہزم تمہارے اوروالدہ کے مابین کیاہواتھا کہ گذشتہ شب تواس سے سخت لہجے میں گفتگوکررہاتھا کیاتجھے نہیں معلوم کہ اس کاشکم تیراگھررہاہے، اس کی آغوش تیرے لئے گہوراہ رہ چکی ہے اوراس کاپستان تیرے پینے کابرتن رہاہے۔ ابن مہزم کہتے ہیں میں نے عرض کیاہاں مولاایساہی ہے توامام نے فرمایا پِ اس کے ساتھ سخت لہجہ میں باتیں مت کرو“ [40]۔

ان کلمات نے بیٹے پرجادوکاسااثرکیا اوراس نے فورا جاکرماں سے معافی مانگی لیکن افسوس کہ آج کے جوان غلط تربیت، منحرف روش یانام نہاد ترقی یافتہ ثقافت کی وجہ سے والدین کوگندی ترین گالیاں دیتے ہیں، ان پرلعن طعن کرتے ہیں اوران پراپنا جام غضب انڈیلتے ہیں جب کہ والدین انہیں مخلصانہ نصیحت کرتے ہیں اس چیزکاوالدین پربہت برااثرہوتاہے اوروہ تلخ ناکامی کاشکارہوجاتے ہیں لیکن آئمہ والدین کے ساتھ ان کے مقام ومرتبہ کے مطابق شیرین اورمہذہب عبارات کے ساتھ بات کرنے کاحکم دیتے ہیں اوریہ کہ ان کے سامنے آوازبلند نہ کی جائے۔

حکم سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق  سے عرض کیامیرے والدنے مجھے ایک گھرصدقہ میں دیاتھا پھراس کی رای تبدیل ہوگئی اوراس نے وہ گھرمجھ سے واپس لے لیا، اب قاضی میرے حق میں فیصلہ دیتے ہیں توآپ نے فرمایا:

نعم ما قضت بہ قضاتکم، وبئس ماصنع والدک انماالصدقة للہ عزوجل فماجعل للہ عزوجل فلارجعة لہ فیہ، فان انت خاصمتہ فلاترفع علیہ صوتک، وان رفع صوتہ فاخفض انت صوتک۔

”قاضیوں کافیصلہ صحیح ہے اورتیراباپ اس معاملے میں غلطی پرہے کیونکہ صدقہ اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے اورجوچیزاللہ کے لئے مخصوص ہوجائے وہ واپس نہیں ہوتی لیکن تجھے چاہئے کہ اس معاملے میں اپنے باپ کی آوازپراپنی آوازبلندنہ کرے اوراگروہ اپنی آوازبلندبھی کرے تب بھی تواس سے نرم وآہستہ لہجے میں گفتگوکر“ [41]۔

خلاصہ یہ کہ والدین کے حقوق بہت عظیم اوربلندہیں اوراللہ تعالی نے ان کے حق کواپنے حق کے ساتھ ذکرکیاہے اگرچہ دونوں کے مرتبے مختلف وجداگانہ ہیں حق خدااس کی عبادت ہے حق والدین ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اورقرآن کریم نے ماں کی بیشتر قربانیوں کی وجہ سے اسے اوربڑاحق دیاہے اورسیرت نبویہ میں اس مسئلے کوخاص اہمیت حاصل ہے اوروالدین کی نافرمانی کوایک عظیم گناہ تصورکیاگیاہے اورآئمہ نے امت کی رہبری کرتے ہوئے والدین کے مقام کومحفوظ کرنے کے لئے کئی ایک نہج سے کام کیاہے چنانچہ اس سلسلے میں وارد ہونے والی آیات کی تفسیرکی، اخلاقی اوروجدانی ماحول میں اس کوپرکھا اس کے لئے حکم شرعی کومعین کیاپھروالدین کے حقوق کوتفصیل کے ساتھ بیان کیااوران کی نافرمانی کے اثرات کودنیوی واخروی لحاظ سے پیش کیااوروالدین کے ساتھ اپنی روش کوآئندہ نسلوں کے لئے بہترین نمونے کی حیثیت دی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.