حواری قرآن اور انجیل کی نظر میں

0 0

قرآن نے سورہ صف آیہ ۱۴ میں حواریوں کے بارے میں گفتگو کی ہے اور ان کے ایمان کا تذکرہ کیا ہے لیکن انجیل میں حواریوں کے بارے میں جو جملے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے بارے میں لغزش کرتے تھے ۔ 

انجیل متی اور لوقا کے باب ۶ میں حواریوں کے نام اس طرح بیان کئے ہیں ۔ 

۱۔ پطرس ۔ ۲۔ اندر یاس ۔ ۳۔ یعقوب۔ ۴۔ یوحنا ۔ ۵۔ فیلوپس ۔ ۶۔ بر تو لوطا ۔ ۷۔ توما ۔ ۸۔ متی ۔ ۹۔ یعقوب ابن حلفا ۔ ۱۰۔ شمعون ۔ ( جن کا لقب غیور تھا ) ۱۱۔ یہودا  ( جو یعقوب کے بھائی تھے ) ۔ ۱۲۔ یہودائے اسخر یوطی ( جس نے حضرت عیسیٰ سے خیانت کی )

مشہور مفسر طبرسی جمع البیان میں لکھتے ہیں : 

حواری حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے ساتھ سفر کرتے تھے ۔ جب ابھی انہیں بھوک کیا پیاس لگتی ، حکم خدا سے آب و غذا ان کے لئے مہیا ہوجاتا ۔ وہ اسے اپنے لئے عظیم افتخار اور بڑا اعزاز سمجھتے ۔ اور وہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) سے پوچھتے : کیا ہم سے بڑ ھ کر بھی کوئی افضل و بالاترہے ۔ تو کہتے : ہاں ، افضل منکم من یعمل بیدہ ویاٴکل من کسبہ۔ ( یعنی وہ شخص تم سے افضل ہے جو اپنے ہاتھ سے کماتا ہے اور اپنی کمائی کھا تا ہے ، اس کے بعد وہ لوگوں کے کپڑے دھوتے تھے ( یو ںعملاً انہوں نے سب لوگوں کو درس دیا کہ کام اور کوشش کرنا ننگ و عار نہیں ہے ) ۔ 

مزید  حق وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے

۵۳۔ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا اٴَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ“۔

ترجمہ 

۵۳۔ پروردگار ! جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے ( تیرے) رسول کی پیروی کی ہے ۔ ہمیں گواہوں کے زمرے میں لکھ لے ۔

 تفسیر :

حضرت مسیح (علیه السلام) کی دعوت قبول کرنے کے بعد حواریوں نے ان کا ساتھ دیا ، ان کی مدد کی اور انہیں اپنے ایمان پر گواہ بنایا پھر بار گاہ الہٰی کی طر ف متوجہ ہوئے اور اپنا ایمان پیش کیا اور کہنے لگے: پروردگار ! جو کچھ تو نے بھیجا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں

(”رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا اٴَنْزَلْتَ“)

لیکن ایمان کا چونکہ دعویٰ ہی کافی نہیں تھا ، اس لئے ساتھ ہی آسمانی احکام پر عمل کرنے اور پیغمبر خدا ( حضرت عیسیٰ (علیه السلام)) کی پیروی کا ذکر کرنے لگے او رکہنے لگے: ہم نے تیرے بھیجے ہوئے مسیح کی پیروی کی ( وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ“)

اور یہ ہمارے ایمان راسخ کا زندہ زندہ ثبوت ہے ۔ یہ اس لئے کہ جب ایمان و روح انسانی میں اتر جاتا ہے تو اس کے عمل میں منعکس ہوتا ہے اور عمل کے بغیر ممکن ہے دعویٰ صرف خیالی ایمان ہو اور حقیقی و واقعی ایمان نہ ہو ۔ 

اس کے بعد انہوں نے تقاضا کیا کہ خدا ان کے نام اور شہادت دینے والوں اور گواہوں کے زمرے میں شمار کرے (” فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ“) ۔ یہ گواہ وہی لوگ ہیں جو ان دینا میں امتوں کی رہبری کرتے ہیں اور قیامت میں لوگوں کے نیک و بد اعمال کے گواہ ہوں گے ۔

مزید  حضرت زہرا(س) کے معجزات

 ۵۴۔وَمَکَرُوا وَمَکَرَ اللهُ وَاللهُ خَیْرُ الْمَاکِرِینَ“۔

ترجمہ

۵۴۔ اور یہود اور مسیح کے دشمنوں نے ان کی اور ان کے دین کی بر بادی و نابودی کے لئے ) سازش کی اور خدا نے ( ان کی اور انبکے دین کی حفاظت کے لئے) چارہ جوئی کی اور خدا بہترین چارہ جوئی کرنے والا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.