حقیقت مرگ

آیا موت ختم ھوجانا ھے یا ایک جگہ سے دوسر ی جگہ منتقلی ھے؟

یہ ایک بنیادی اور اھم ترین سوال ھے جو ھمیشہ بشر کے سامنے موجود رھا ھے اور رھے گا نیز ھر انسان اس سوال کے جواب کا خواھاں ھوتا ھے۔ 

اس سوال کا حقیقی اور مطمئن کردینے والا جواب قرآن کریم ھی سے مل سکتا ھے۔ قرآن کریم نے اس سلسلہ میں لفظ ”تُوَفّیٰ“ کا استعمال کیا ھے۔ متعدد آیتوں میں موت کو ”تُوَفّی“ کے عنوان سے یاد کیا گیا ھے۔ (۱) 

لغت میںتوفّی کے معنی کسی شئے کو مکمل طو رپر اخذ کرنے کے ھیں۔ جب بھی کوئی شخص کسی شٴے کومکمل طور پر یعنی کسی کمی وزیادتی کے بغیرحاصل کرتا ھے تو عربی زبان میں اس کے لئے لفظ توفی کو استعمال کیا جاتا ھے: ”توفیت الکتاب“ یعنی میں نے کتاب کو بغیر کسی کمی وزیادتی کے حاصل کرلیا البتہ خیال رھے کہ ”توفّی“ اور اسکا مشتق ”وفات“ ، ”فوت“سے جدا ھے۔ فوت کے معنی مکمل طور پر محو اور ختم ھوجانے کے ھیں جب کہ وفات اسی معنی میں یعنی کسی شٴے کو اس کے مالک تک پھونچانے میں استعمال ھوتا ھے۔ 

جو افراد یہ سوچتے ھیں کہ انسان مرنے کے بعد زمین میں دفن ھو کر ختم ھوجاتا ھے اور اسی بنا پر قیامت کا انکار کردیتے ھیں، ان کے لئے قرآن مجید فرماتا ھے: 

(قُلْ یَتَوَفَّیٰکُمْ مَلَکُ المَوْتِ الَّذِیْ وُکَّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلَیٰ رَبِّکُمْ تُرْجَعُونَ) 

آپ کھہ دیجئے کہ تم کو وہ ملک الموت زندگی کی آخری منزل تک پھونچائے گا جو تم پر تعینات کیا گیاھے اس کے بعد تم سب پروردگار کی بارگا میں پیش کئے جاؤ گے۔ (۲) 

موت کوتوفّی کا عنوان دینے والی آیتوں سے استنباط کیا جاسکتا ھے کہ قرآنی نقطہٴ نظر سے موت، ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ھوجانے کے علاوہ کچھ اور نھیں ھے یعنی انسان موت کے ذریعہ اپنی تمام تر شخصیت اور حقیقت کومامورین خدا کے سپردکردیتا ھے۔ اس طرح کی آیتوں سے تین نکات سامنے آتے ھیں۔ 

(۱) موت ، انسان کا خاتمہ نھیں ھے بلکہ ایک دوسری دنیا میں داخل ھونا ھے اور موت کے بعد حیات انسانی ایک دوسرے انداز سے جاری رھتی ھے۔ 

(۲) جوکچھ انسانی شخصیت کوتشکیل دیتا ھے وہ اس کا حقیقی ”نفس“ ھے نہ کہ اس کا بدن یا اس کے لوازمات کیونکہ انسانی بدن اور اس کے اعضاء موت کے وقت کسی دوسری جگہ منتقل نھیںھوتے ھیںنہ ھی مامورین خداانھیںاپنے قبضے میںلیتے ھیں بلکہ یہ اعضاء تو اسی دنیا میںرہ جاتے ھیں اور بتدریج سڑ گل جاتے ہیں۔ لھٰذا انسان کی حقیقی شخصیت اس کا بدن نھیں بلکہ اس کا نفس ھوتا ھے جس کوقرآن نے کبھی روح کہا ھے اور کبھی نفس۔ 

(۳) مقام ومرتبہٴ وجودی کے لحاظ سے روح انسان، مادہ اور مادیات سے بالاتر ھے، یعنی مجر د ھے۔ موت کے ساتھ ھی انسان کی روح ایک دوسری دنیا میںمنتقل ھوجاتی ھے جسے عالم روح کہا جاتاھے۔ دوسرے الفاظ میں موت کے وقت اس غیر مادی حقیقت یعنی روح کو واپس بلا لیا جاتا ھے ۔ 

موت کا خواب سے تعلق

قرآن کریم نے خواب کو بھی لفظ ”توفّی“ سے تعبیر کیا ھے: 

(وَھوَ الَّذِی یَتَوَفّیٰکُمْ بِاللَّیلِ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّھارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضَیٰ اَجَلٌ مُسَمیً ثُمَّ اِلَیہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 

اور وھی خدا ھے جوتمھیں رات میںگویا ایک طرح کی موت دے دیتا ھے اور دن میں تمھارے اعمال سے باخبر ھے اور پھر دن میں تمھیں اٹھا دیتا ھے تاکہ مقررہ مدت حیات پوری کی جاسکے۔ اس کے بعد تم سب کی بازگشت اسی کی بارگاہ میں ھے اور پھروہ تمھیںتمھارے اعمال کے بارے میں باخبرکرے گا۔ (۳) 

تعبیر ”توفّی“ کا استعمال ھونا موت سے نیند کی شباھت نسبی کو بیان کررھا ھے۔ مندرجہ ذیل آیت واضح طور پر ان دونوں حالتوں کے تشابہ اور سنخیت کوبیان کررھی ھے: 

(اللهُ یَتَوَفَّیٰ الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوتِھا وَالَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِھا فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضَیٰ عَلَیْھا الْمَوتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرَیٰ اِلَیٰ اَجَلٍ مُسَمّیً اِنَّ فِی ذَلِکَ لَاَیَاتٍ لِقَومٍ یَتَفَکَّرُونَ) 

الله ھی ھے جو روحوں کوموت کے وقت اپنی طرف بلاتا ھے اور جو نھیں مرتے ھیں ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ھے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ھے اس کی روح کوروک لیتا ھے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدت کے لئے آزاد کردیتا ھے۔ اس بات میںصاحبان فکر ونظر کے لئے بھت سی نشانیاں پائی جاتی ھیں۔ (۴)

ایک روایت کے مطابق امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ھوا کہ موت کیا ھے؟ آپ نے فرمایا: 

”ھو النوم الذی یاٴتیکم فی کل لیلة الا انہ طویل مدتہ “ 

موت وھی نیند ھے جو روزانہ رات میں طاری ھوتی ھے بس اس فرق کے ساتھ کہ اسکی مدت طولانی ھوتی ھے۔ (۵) 

مذکورہ آیات وروایت سے مجموعی طور پر سمجھا جاسکتا ھے کہ موت ، نیند کے جیسی ایک حالت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ھونا، بیداری کی حالت جیسا ھے۔ نیند ، موت کے ادنیٰ درجہ کا نام اور موت، نیند کے اعلیٰ درجہ کا نام ھے اور ان دونوں مرحلوں میں روح انسان ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل ھو جاتی ھے صرف اس فرق کے ساتھ کہ نیند کی حالت میں انسان معمولاً متوجہ نھیں ھوتا اور جب بیدا ر ہوتا ھے تونھیں جانتا کہ درحقیقت ایک دوسری دنیا کا سفر کرکے آیا ھے جب کہ حالت موت میں وہ تمام رونما ھونے والی حالتوں سے آگاہ رھتا ھے۔ 

 

حوالہ جات

۱۔نساء: ۹۷،۱۵، انعام: ۶۱، محمد: ۲۷، مائدہ:۱۱۷، نحل:۷۰،۳۲،۲۸، یونس: ۱۰۴،۴۶، رعد:۴۰، غافر:۷۷، انفال: ۵۰،زمر:۴۲،سجدہ:۱۱،اعراف:۳۷ 

۲۔سجدہ:۱۱ 

۳۔انعام:۶۰ 

۴۔زمر: ۴۲ 

۵۔ صدوق ، معانی الاخبار: ص/۲۸۹، فیض کاشانی، المحجة البیضاء، ج/۸،ص/۲۵۵

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.