حضرت مسلم ابن عقيل

پندرہ رمضان المبارک کو حضرت مسلم بن عقیل (ع) کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔

سن 60 ھ ق حضرت مسلم بن عقیل (ع) کوفہ کی طرف روانہ ہوے ۔

 جب کوفہ کے لوگوں نے خاص کر وہاں کے شیعوں نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں سنا کہ انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کیا ہے اور اس وقت مکہ معظمہ میں ہیں ان کے درمیاں ایک عظیم لہر دوڑی کہ امام حسین (ع) کی حمایت کریں اور اس طرح انہوں نے امام کو خطوط لکھ لکھ کر آنحضرت کو کوفہ آنے کی دعوت دی ۔ امام نے کوفیوں کی دعوت قبول کرتے ہوے اپنے سفیر حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ بنی امیوں کے خلاف کوفیوں کی بغاوت کی قیادت سنبھالے اور اسکے بعد یزیدی حکومت کا تختہ پلٹ دے۔

  آنحضرت نے وضو کیا اور مسجد الحرام میں رکن و مقام کے درمیان دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ کے ساتھ راز و نیاز کرنے کے بعد اپنے چچازاد مسلم بن عقیل کو بھلایااور اسے کوفہ کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنا نمایندہ بنا کر وہاں روانہ کروں تاکہ وہاں کے لوگوں کی بغاوت کی رھبری کر سکو ۔(1)

مسلم بن عقیل (ع) نے کمال افتخار کے ساتھ یہ خطرناک زمہ داری نبھانے کے لۓ اپنی رضایت کا اعلان کیا۔

 اس وقت امام حسین علیہ السلام نے کوفیوں کے نام خط لکھا اور مسلم بن عقیل (ع) کودیا تاکہ اسے وہاں لوگوں کے لۓ پڑھے۔ خط کی عبارت یوں تھی:

خدا کے نام سے جو بخشنے والا مھربان ہے ،

حسین بن علی (ع) کی طرف سے مؤمنین اور مسلمین کے نام ۔

اما بعد ، ھانی اور سعید تمہارے آخری ایلچیوں نے آپلوگوں کے خطوط مجھ تک پہنچاۓ ۔ اور میں خطوط کے متون سے آگاہ ہوا ہوں ۔ تم لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم بے امام ہیں ہمارے پاس آجاۓ شاید خدا تمہارے ذریعے ہماری ھدایت فرمائے گا ۔

میں نے اپنے بھائی اور چچازاد کہ جسے میں اپنےخاندان میں اپنا معتمد اور موثق جانتا ہوں یعنی مسلم بن عقیل کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں اگر وہ مجھے لکھے کہ وہاں کے اکثر لوگوں خاص کر وہ  شایستہ اور بڑی شخصتیں جنہوں نے مجھےخطوط لکھے ہیں کی بھی رائے یہی ہے انشااللہ میں آپ کے پاس آؤں گا ۔ میں اپنی قسم کھاتا ہوں امام حق وہی ہے جو کتاب خدا کے مطابق حکومت قائم کرے اور عوام کے ساتھ عدل و انصاف کرے اور حق کو قبول کرتا ہو اور اپنے آپ کو احکامات دین کاپائبند جانتا ہو۔ والسلام ۔(2)

امام حسین علیہ السلام نے مسلم بن عقیل ( ع) کو لازم سفارشات کرکے اسے آخری نامہ رساں؛ یعنی قیس بن مسھو صیدوی ، عمارہ بن عبداللہ سلولی، عبداللہ بن شداد اور عبد الرحمن شداد کے ہمراہ پندرہ رمضان سن ساٹھ ہجری کو کوفہ روانہ کیا ۔(3)

شایان ذکر ہے کہ مسلم بن عقیل امیر المؤمنین علی بن  ابیطالب کا بھتیجا اور داماد تھا اور رقیہ بنت علی (ع) انکی زوجہ تھی ۔آپ بنی ھاشم میں سے نہایت بہادر ، اھل علم ، صاحب سیاسی مذھبی بصیرت اور ولات و امامت کے مخلص پیروکار تھے ۔

 مسلم بن عقیل (ع) مکہ سے مدینہ منورہ چلے گۓ اور وہاں اپنے اھل و عیال سے رخصتی حاصل کرکے اپنے دو بیٹوں اور بنی قیس قبیلے کے  دو رھنما کے ھمراہ بیراہے  سفر آغاز کیا تاکہ جلدی مقصد کو پہنچ جائیں اور حکومتی کاروندوں کی نظروں سے اوجھل رہیں ۔(4)

مدارک اور مآخذ:

1- وقايع عاشورا (سيد محمد تقي مقدم)، ص 199

2- الارشاد (شيخ مفيد)، ص 380؛ منتہي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 303

3- الارشاد، ص 381؛ منتہي الآمال، ج1، ص 303 و ص 306؛ وقايع الايام (شيخ عباس قمي)، ص 35؛ وقايع عاشوار، ص 201

4- الارشاد، ص 381؛ منتہي الآمال، ج1، ص 306؛ وقايع عاشوار، ص 201

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.