حضرت مختار کی مکہ سے روانگی ، کوفہ میں رسیدگی اور گرفتاری

0 2

 

حضرت مختار ، عبداللہ ابن زبیر سے پوری طور پر بددل ہوہی چکے تھے ۔ وہ مکہ میں قیام کرنا بیکار خیال کرتے ہوئے بھی موقع کے انتطار میں وہاں ٹھہرے رہے جب انہیں معلوم ہوا کہ یزید کے بعد وہ تمام شیعیان علی جو ابن زیاد کی قید میں تھے برآمد ہوگئے ہیں اور انہوں نے کوفہ میں انتقامی مہم کی کافی چہل پہل پیدا کردی ہے تو وہ اپنی پہلی فرصت میں مکہ سے روانہ ہوگئے نہایت تیزی کے ساتھ طے منازل اور قطع مراحل کرتے ہوئے کوفہ کو جارہے تھے کہ راستے میں ہانی بن حیہ و داعی سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نے پوچھا کہ کوفہ اور اہل کوفہ کس حال میں ہیں ہانی نے کہا کہ اس وقت اہل کوفہ کی حالت پر اگندہ بھیڑوں جیسی ہے اگر کوئی ان کا گلہ بان ہوجائے تو انہیں یک جاکر نا چاہیے تو بڑی آسانی اور نہایت خوبصورتی سے یہ یکجا ہوجائیں گے ۔

حضرت مختار نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں انہیں ضرور یکجا کروں گا اور دشمنان آل محمد خصوصا قاتلان امام حسین (ع) کو چن چن کر قتل کروں گا ۔ پھر حضرت مختار نے پوچھا کہ سلیمان بن صرد کا کیا ارادہ ہے اور وہ کیا کررہے ہیں ہانی نے کہا کہ وہ خروج کیلئے بالکل تیار ہیں لیکن اب تک برآمد نہیں ہوئے اسی قسم کی گفتگو سلمہ بن کرب سے بھی ہوئی یہ سن کر حضرت مختار آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ کا ورودجمعہ کے دن نہر حیرہ پر ہوا۔ آپ نے غسل کیا لباس بدلا تلوار حمال کی اور آپ گھوڑے پر سوار ہوکر بارادہ کوفہ روانہ ہوئے۔ چلتے چلتے جب آپ کا وردوبمقام قادسیہ ہوا تو آپ نے اپنا راستہ بدل دیا اور آپ کربلا کی طرف مڑگئے کربلا پہنچ کر بروایت رو ضۃ الصفا ومناقب اخطب خوارزمی و مجالس المومنین آپ نے حضرت امام حسین (ع) کو سلام کیا اور ان کی قبر مبارک سے لپٹ کر بے پناہ گریہ کیا اور اسے بوسے دئیے اور ان کی بارگاہ میں بدل و جان قسم کھائی جس کے عیون الفاظ یہ ہیں:۔ یا سیدی البیت بجدک المصطفےٰ و ابیک المرتضیٰ وامک الزھراء واخیک الحسن المجتبیٰ ومن قتل معک من اھل بیتک وشیعتک فی کربلا لااکلت طیب الطعام ولاشربت لذید اشراب ولانمت علی ولی المھادولاخلعت ھذہ والابرار حتی انتقم محن قتل اواقتل کما قتلت قبح اللہ العبس بعدک (مناقب اخطب رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 76 مجالس لمومنین ص 358 اے سیدوسردار ! میں نے آپ کے جدا مجد حضرت محمد مصطفی (ص) اور آپ کے والد ماجد حضرت علی مرتضیٰ (ع) اور آپ کی والد ہ محترمہ حضرت فاطمہ زھراء (ع) اور آپ کے برادر مجتبیٰ حضرت حسن (ع) اور آپ کے ان اہلبیت اور شیعوں کی قسم کھائی ہے جو آپ کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں کہ میں جب تک آپ کا انتقام نہ لے لوں گا ۔ اس وقت تک نہ اچھے کھانے کھاؤں گا نہ آب خوشگوارپیئوں گا نہ نرم بستر پر سوؤں گا ۔ نہ یہ چادریں جواوڑھے ہوئے ہوں اتاروں گا اے مولا آپ کے بعد زندگی بہت بری زندگی ہے اب یا تو انتقام لوں گا ۔یا اسی طرح قتل ہوجاؤں گا جس طرح آپ شہید ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد آپ باچشم گریاں قبرامام حسین (ع) سے رخصت ہوکر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے پھر قطع مراحل کرتے ہوئے آپ ماہ رمضان 64ھء کو دن کے وقت داخل کوفہ ہوگے۔ (مجالس المومنین ص 255)

حضرت مختار جس کی طرف سے گزرتے تھے وہی آپ کا استقبال کرتا تھا اور آپ کے آنے کی مبارکباد پیش کرتا تھا آپ لوگوں سے کہتے جاتے تھے کہ گھبراؤ نہیں میں انشاء اللہ ظالموں کا عنقریب قلمع وقمع کروں ا اور واقعہ کربلا کا ایسا بدلہ لوں گا کہ دنیا انگشت بدنداں ہوگی اس کے بعد آپ جامع مسجد میں تشریف لے گئے اور آپ نے نماز ادا کی ، پھر وہاں سے روانہ ہوکر اپنے گھر پہنچے جو خانہ سالم بن مسیب کے نام سے مشہور تھا۔ حضرت مختار نے اپنے گھر میں قیام کرنے کے بعد اعیان شیعہ سے ملنا شروع کیا اور ان پریہ وضاحت کی کہ وہ محمد بن حنفیہ(ع) کا اجازت نامہ لائے ہیں کوفہ کی فضا چونکہ عبداللہ ابن زبیر کے اثرات سے متاثر تھی اس لیے شیعیان علی بن ابی طالب خاموشی کے ساتھ ہوشیاری سے اپنے منصوبہ کو کامیاب بنانے کی طرف متوجہ تھے۔ حضرت مختار کے کوفہ پہنچتے ہی دشمنان آل محمد میں ہل چل مچ گئی لوگوں پر مختار کی ہیت طاری تھی ۔ لہٰذا ان لوگوں نے جمع ہوکر ان کے معاملہ پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی تبادلہ خیال کے بعد عمر بن سعد اور شیث ابن ربعی اور ابراہیم بن محمد اور عبداللہ بن یزید نے فیصلہ کیا کہ مختار کو گرفتار کرلینا چاہے کیونکہ یہ سلیمان بن صرد سے زیادہ نقصان رساں اور خطرناک ہیں سلیمان کا مقابلہ عام لوگوں سے ہے اور مختار صرف قاتلان حسین (ع) کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جن میں تمام اعیان کوفہ و شام شامل ہیں ، رائے قائم کرنے کے بعد ہزاروں افراد کو مختار کی گرفتاری کیلئے بھیج دیا گیا۔ ان لوگوں نے پہنچ کر حضرت مختار کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور انہیں گرفتار کرکے ایک خچر پر سوار کیا اور قید خانہ بھیج دیا ۔ حضرت مختار جب قید خانہ بھیجے جارہے تھے اس وقت ابراہیم ابن محمد نے عبداللہ ابن یزید والی کوفہ سے کہا ان کے جسم کو زنجیروں سے جکڑوادے اس نے جواب دیا ۔ کہ مختار نے کوئی خطا نہیں کی ہم ان کے ساتھ سختی نہیں کرسکتے ۔ یحیٰ بن عیسیٰ کا بیان ہے کہ میں حمید بن مسلم کے ہمراہ ایک دن مختار سے ملا تو انہوں نے ایک عظیم مقفی عبارت میں کہا کہ میں عنقریب دشمنان آل رسول کے خون کا بدلالوں گا ۔ اورتمام سرکشاں کوفہ و شام کو خون آشام تلوار کا مزہ چکھاؤں گا ۔ (نورالابصار ص 62، ذوب النضار ص 405دمعۃ ساکبہ 406) موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ حضرت مختار کوفہ پہنچے کے ساتویں دن گرفتار کرلیے گئے اور یہ واقعہ 64ھ کا ہے (تاریخ طبری جلد 4 ص 650 طبع لکھنو) موٴرخ ہروی کا بیان ہے کہ مختار کی گرفتاری کے بعد شیعیان کوفہ کے چند نمایاں افراد ضمانت پر رہا کرانے کیلئے والی کوفہ کے پاس گئے اس نے صاف انکار کردیا یہ لوگ سخت رنجیدہ واپس چلے آئے۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 76)

حضرت سلیمان بن صرد کا خواب

اور حضرت سلیمان بن صرد محو خواب ہوگئے سونے کے حالات میں انہوں نے خواب دیکھا کہ میں ایک سبزگلستان پر بہار میں ہوں ، اس میں نہر یں جاری ہیں ۔ عمدہ عمدہ درختو ں میں پھل لگے ہو ئے ہیں اس باغ کے درمیان میں ایک قبہ طلائی بنا ہو اہے اور اس پر پردہ پڑ اہواہے میں باغ میں سیر کرتا ہو ا اس قبہ طلا ئی کے پاس گیا میں نے دیکھاکہ اس میں سے ایک حسین وجمیل مخدرہ برآمد ہو ئیں۔ ان کے چہرہ مبارک پر سندس سبنرکا مقنع پڑا ہواہے جو نہی میں نے انہیں دیکھنے سے بدن میں تھر تھر ی پڑگی قر یب تھا کہ میرادل شگا فتہ ہو ا جائے جو نہی ا نہوں نے میری یہ حالت دیکھی بے ساختہ وہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ اے سلیمان خدا تمہاری سعی کومشکور قرار دے اے سلیمان تم اور تمہارے ساتھی اور تمام وہ لوگ جو ہماری محبت میں شہید ہوں گے ہمارے ساتھ جنت میں ہوں گے۔اسی طرح وہ لوگ ہمارے ساتھ جنت میں ہوں گے جن کی آنکھیں ہمارے غم میں پر اشک ہوں گی۔میں نے یہ سن کر ان کی خدمت میں عرض کی۔بی بی آپ کو ن ہیں ارشار فرمایا کہ میں تمہارے نبی کی رفیقہٴ حیات خدیجہ(ع) ہوں اور یہ جو میرے پاس موجود ہیں ۔تمہارے نبی کی بیٹی فاطمہ(ع) الزہرا ہیں ۔اس کے بعد میں نے جو باغ کے اطراف میں نظر کی تو دیکھا کہ سارا باغ پر انوار ہے اتنے میں حضرت خدیجہ(ع) نے فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہ(ع) الزہرا تم کوسلام کہتی ہیں اورمیرے دونوں بیٹے حسن(ع) و حسین(ع) ارشاد کرتے ہیں کہ اے سلیمان !تمہیں بشارت ہو کہ تم کل بوقت زوال ہمارے پاس ہو گے ۔اس کے بعد انہوں نے پانی کا ایک جام عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ اس کا پانی اپنے زخمی جسم پر چھڑ کو سلیمان کا بیان ہے کہ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔تو میں نے دیکھا کہ میرے سرہانے پانی کا ایک کوزہ غائب رکھا ہو ا ہے ۔میں نے فوراً اس سے غسل کیا ۔اس کے بعد اس کوز ے کو ایک طرف رکھ دیا ۔کوزہ غائب ہوگیا۔یہ دیکھ کر میں سخت متعجب ہوا اور میرے منہ سے بے ساختہ لااللہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ نکل گیا ۔جو نہی میرے منہ سے کلمہ کے الفاظ نکلے میرے لشکر والے جاگ اٹھے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا واقعہ گزرا میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔(نور الابصار ص 82) بروایت سلیمان نے یہ بھی بتایا کہ جب میں نے اس پانی سے غسل کیا تو جراحت کی تکلیف مجھ سے دور ہو گئی (قرة العین ص142)اس کے بعد حضرت سلیمان اور ان کے ساتھی رکوع اور سجود میں مشغول ہی تھے کہ صبح ہو گئی ۔صبح ہوتے ہی اذان ہو گئی اور حضرت سلیمان نے نماز جماعت پڑھائی ،نماز کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے زخمی بہادروں کو حکم دیا کہ سلاخ جنگ سے آراستہ ہو کر نہر کو پار کرکے ابن زیا د کے لشکر پر حملہ آ ور ہوں ،چنانچہ یہ بہادر حملہ میں مشغول ہو گئے۔ (اخذ الثار و انتصار المختار ابی مخنف ص482)۔ علامہ ابن نما کا بیا ن ہے کہ حسینی بہادر اپنی پوری طاقت کے ساتھ نبردآزما تھے۔اور ادھر سے بھی مکمل شدت کا حملہ ہو رہا تھا۔مگر بہادروں پر قابو نہیں پایا جا رہا تھا کہ حصین بن نمیر نے حکم دیا کہ تیروں کی بارش کر دی جائے،چنانچہ تیر برسنے لگے۔ فانت السھام کا لشرار النطائرة اور تیروں کی چنگاریاں اڑنے لگیں ۔

حضرت سلیمان بن صردکی شہادت

تیروں کی بارش ہو ر ہی تھی کہ دو پہر کا وقت آ گیا چا رو ں طر ف سے تیر بر سنے لگے فقتل سلیمان بن صرد اور حضرت سلمان بن صرددر جہٴ شہادت پر فائز ہو گئے۔ حضر ت سلما ن کی شہادت کے بعد علم اسلام مسیب ابن نخبہ نے لے لیا مسیب نہایت بہا در اور بے مثل جنگجو تھے ۔ انہوں نے علم سنبھا لتے ہی حملہ آور ی میں پوری شدت پید اکر دی ۔ (ذوب النضار ص 406 و رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 73) حضرت مسیب بن نخبہ کی شہادت آپ پوری ہمت و جرات کے ساتھ جنگ کر رہے تھے آپ کے حملوں سے دشمن اس طرح بھاگ رہے تھے۔ جس طرح شیر کے حملہ سے دور بھاگتے ہیں۔ حملہ کے ساتھ ساتھ آپ رجز بھی پڑھتے تھے آپ کے حملوں میں تین حملے یاد گار ہوئے ہیں۔ موٴرخین کا بیان ہے کہ حضرت مسیب عظیم الشان حملوں میں مشغول ہی تھے کہ سارا لشکر سمٹ کر یکجا ہوگیا اور سب دشمنوں نے مل کر یکجا حملہ کردیا جس کی وجہ سے حضرت مسیب شہید ہوگئے۔ (ص 406) حضرت عبداللہ ابن سعد بن ثقیل کی شہادت مسیب کی شہادت کے بعد عبداللہ ابن سعد نے علم جنگ سنبھالا اور آپ نے رجز پڑھتے ہوئے کمال جرأت و ہمت سے حملہ کیا ۔ کافی دیر لڑنے کے بعد آپ نے بھی شہادت پائی۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کے بھائی خالد ابن سعد نے علم جنگ سنبھال لیا۔ خالد نے نہایت زبردست جنگ کی اور حیران کردینے والے حملوں سے لشکر شام کو تہ وبالا کردیا ۔ بالآخر درجہٴ شہادت پر فائز ہوئے۔ (ص 406)

حضرت عبداللہ ابن وال کی شہادت

خالد کی شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن وال نے علم جنگ سنبھال لیا۔ آپ نے کمال جرأت وبہادری سے اپنے حملوں کو فروغ دیا اور فلک ہلادینے والے حملوں سے دشمنوں کے دانت کھٹے کردئیے ۔ آپ مشغول جنگ ہی تھے ، کہ آپ کا بایاں ہاتھ کٹ گیا آپ نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی اور ایسی ہی حالت میں کہ کٹے ہوئے ہاتھ سے خون جاری تھا ایک زبردست حملہ کیا آپ اپنی پوری طاقت سے حملہ کررہے تھے کہ ناگاہ بقیادت مثنی ابن محرمہ عبدی بصرہ سے اور کثیر بن عمر الخنفی مدائن سے مختصر سی کمک پہنچ گئی ۔

اب کیا تھا سلیمانیوں کی ہمت بلند ہوگئی اور حسینی بہادر اور بے جگری سے لڑنے لگے ۔ بالآخر حضرت عبداللہ نے شہادت پائی۔ (ص 406) ان کی شہادت کے بعد علم جنگ رفاعہ ابن شداد نے سنبھالا ، اور یہ لوگ بڑی بے جگری سے جنگ میں مصروف ہوگئے اور بہت کافی دیر تک مشعول جنگ رہے یہاں تک کہ رات آگئی اب ان اسلامی بہادروں کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ ان کا سانس تک لینا دشوار ہوگیا کوئی اپنے عالم میں نہ تھا ہوش و ہواس بجانہ تھے ۔ زخموں سے چور ہوچکے تھے۔ تعداد بھی اختتام پذیر تھی۔ (ذوب النضار ص 406) موٴرخ ہروی لکھتے ہیں کہ رفاعہ ابن شداد علم جنگ لینے کے بعد چند قدم پیچھے کو سرکے یہ وہ وقت تھا آفتاب غروب ہورہا تھا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب ہم صرف چند افراد رہ گئے ہیں۔ اگر اس مقام پر رہتے اور جنگ جاری رکھتے ہیں تو اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ این مذہب ازجہاں برافتدیہ مذہب دنیا سے ناپید ہوجائے۔ اور ہماری ملت کا نام و نشا ن بھی باقی نہ رہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب ہم چند نفرجورہ گئے ہیں کوفہ کو واپس چلے جائیں اس رائے کو تقریباً سب زخمیوں نے پسند کیا۔ عبداللہ ابن عوف نے کہا کہ اگر تم اسی وقت یہاں سے روانہ ہوگئے تو دشمن تمہارا پیچھا کرکے تم سب کو قتل کردیں گے ۔ مناسب یہ ہے کہ قدرے صبر کرو کہ رات بالکل تاریک ہوجائے۔ اور پردہ شب میں خاموشی کے ساتھ یہاں سے روانہ ہو، رفاعہ نے ابن عوف کے صوابدید کے مطابق جنگ سے ہاتھ اٹھا کر اپنے لشکر گاہ میں حسب دستور سابق واپس آئے اور اہل شام اپنے لشکر گاہ میں رات گزارنے کیلئے چلے گئے۔ جب عالم پرپردہ تاریک شب چھاگئی تو رفاعہ اپنے بچے ہوئے زخمیوں کو لیے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگئے ۔ یہ لوگ جس پل سے نہرفرات پار ہوئے تھے ۔ اسے شکستہ کر دیا تاکہ دشمن اگر تعاقب کریں تو جلدی سے پار نہ ہوسکیں۔ یہ لوگ راتوں رات کافی دُور نکل گئے ، جب صبح ہوئی تو حصین ابن نمیر نے ان کا پیجھا کیا لیکن یہ لوگ دستیاب نہ ہوئے ۔(رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 73 ) علامہ ابن نما لکھتے ہیں کہ یہ بہادر لڑتے لڑتے خشکی کے ذریعہ سے قرسیسا تک پہنچ کر پردہ شب میں منتشر ہوگئے۔ (ذوب النضار ص 407) موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ جب یہ لوگ قرسیسا پہنچے تو زفربن حارث نے انہیں تین یوم مہمان رکھا۔ اس کے بعد کوفہ کو روانہ کردیا یہ لوگ بوقت شب داخل کوفہ ہوئے ۔ (تاریخ طبری جلد 4 ص 651) موٴرخ کامل لکھتے ہیں کہ جب عبداللہ ابن وال بھی قتل ہوگئے تو رفاعہ بن شداد البجلی نے علم اُٹھالیا اور خوب لڑے۔ اہل شام کا ارادہ تھا کہ ان کو رات ہونے سے پہلے ہی ہلاک کردیں لیکن اہل حق کی شدت مقابلہ کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکے ۔ عبداللہ ابن عزیز الکنانی آگے بڑھ کر اہل شام سے لڑنے لگے۔ ان کا صغیر سن بچہ مسمّی محمد ان کے ہمراہ تھا انہوں نے اہل شام میں بنوکنانہ کو آواز دی اور اپنے بیٹے کو ان کے سپرد کردیا ۔ اہل شام نے ان کو امان دینی چاہی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔ شام کے وقت کرب ابن یزید الحمیری ایک صدآدمی نے کراہل شام پر حملہ آور ہوئے اہل شام نے ان کو اور ان کے اصحاب کو امان پیش کی ، انہوں نے جواب دیا کہ دنیا میں تو ہم امان ہی میں ہیں اب تو ہم صرف آخرت کی امان کی تلاش میں ہیں۔ غرضیکہ وہ سب اہل شام سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے اس کے بعد صخربن ہلال المزنی اپنے تیس آدمی لے کر آگے بڑھے اور شامیوں سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ جب رات ہوگئی تو اہل شام اپنی چھاؤنی کی طرف چلے گئے اورفاعہ ابن شداد اپنے باقی ماندہ آدمیوں کو لے کر اسی رات وہاں سے روانہ ہوگئے۔

مزید  جوانوں کی فکری تشویش

صبح کو حصین بن نمیر ان کے مقابلہ کو نکلا لیکن میدان خالی دیکھ کر وا پس ہوگیا۔ اہل کوفہ قرسیسا آئے زفر نے ان کو تین دن مہمان ٹھہرایا اور انہیں زادِراہ بھی دیا۔ پھر وہ لوگ کوفہ کو روانہ ہوگئے۔ سعد بن حذیہ یمان اپنے سو سواروں کے ساتھ اور مثنیٰ اہل بصرہ کے ساتھ آئے لیکن یہاں پر آکر ان کو اہل کوفہ کی شکست کی خبر معلوم ہوئی۔ رفاعہ کے آنے تک وہیں ٹھہرے رہے جب وہ آئے تو ان کا استقبال کیا۔ ایک دن ایک رات وہاں رہے اور پھر اپنے اپنے مقام کو چلے۔ یہ بھی جنگ عین الورد جو 26 جمادی الاولیٰ سے شروع ہوکر آخر مہینہ تک رہی ۔ سلیمان بن صرد اور ان کے اصحاب کی سیاسی دانش مندی اور خلوص نیت کا ثبوت ان کے اس انکار سے ملتا ہے جو انہوں نے عبداللہ بن یزید والی کوفہ اور زفربن الحارث والی قرسیسا کو ان دونوں کو درخواست امداد پر دیا ۔ یہ دونوں عبداللہ ابن زبیر کے آدمی تھے اور سلیمان بن صرد سے مل کر اپنا مطلب نکالنا جاہتے تھے ان کو مطقاً سلیمان کے مقصد سے کام نہ تھا اور نہ یہ خون حسین (ع) کی طلب میں اٹھے تھے۔ یہ تو عبیداللہ ابن زیاد کو واحد دشمن خیال کرکے سلیمان سے ملنا چاہتے تھے ۔ اگر فتح ہوتی تو عبداللہ ابن زبیر کی ہوتی اگر شکست ہوتی تو یہ عبیداللہ ابن زبیر کے پاس چلے جاتے اور وہاں سے کمک لاتے اور پھر لڑتے لیکن اتنے عرصہ میں شیعیان کوفہ مع مختار ابن ابی عبیدہ کے مارے جاتے نزلہ برعضو ضعیف می ریزد۔ ان ہی سے دل کھول کر بدلہ لیا جاتا اور پھر مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کی بھی تحریک مرجاتی ۔ عبداللہ ابن زبیر دشمن علی تھا۔ سلیمان بن صرد ایک دشمن علی (ع) کو کیوں مدد پہنچاتے علاوہ اس کے ان سے ملنے سے یہ خالص مذہبی جنگ نہ رہتی بلکہ سیاسی جنگ ہوجاتی اور پھر خلوص نہ رہتا ۔ سلیمان اور ان کے اصحاب کا جومدعا تھا وہ فوت ہوجاتا۔ دونوں جگہوں کی مدد کو قبول نہ کرنا ان کی سیاسی ذکاوت اور مذہبی خلوص کا ثبوت ہے ۔ (تاریخ کامل جلد 1 ص296 ، نورالمشرقین ص 91) شہدائے عین الورد کے سرکاٹ لیے گئے مقام عین الورد میں قیام خیر جنگ کے سلسلہ میں حسینی خون بہالینے والے جتنے بہادر شہید ہوئے تھے ان کے سرکاٹ لیے گئے اور ان سروں کو مروان بن حکم کے پاس عبیداللہ ابن زیاد نے نیزوں پر بلند کرکے بھیج دیا ۔ (قرة العین ص 142) اس کے بعد عبیداللہ ابن زیاد بقیہ لشکر سمیت واردشام ہوا۔ (تاریخ طبری جلد 4 ص 651) اس وقت شام میں عبدالملک بن مروان کی حکومت قائم ہوچکی تھی اور مروان بن حکم صرف 9 ماہ حکومت کرکے اپنی بیوی یعنی خالد بن یزید کی ماں کے ہاتھوں مر چکا تھا اس نے اسے تکیے سے دبا کر قتل کردیا تھا۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 73) شہادت سلیمان بن صرد پر شام میں مسرت حضرت سلیمان بن صرد اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی جب اطلاع شام میں پہنچی تو شامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور عبدالملک ابن مروان نے مسجد جامع میں ایک عظیم اجتماع طلب کر کے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ خداوندعالم نے بہت بڑے فتنے کے سرداروں کو قتل کردیا ہے۔ سلیمان بن صرد مسیب بن نخبہ ،عبداللہ ابن سعد ، عبداللہ ا بن وال وغیر ہم یہ عظیم فتنے تھے ۔ شکر ہے کہ خدا نے انہیں تباہ و برباد کردیا ۔ (تاریخ خضری جلد 2 ص 213 طبع مصر)

حضرت مختار کی قید سے رہائی

حضرت مختار کی قید سے رہائی عبدالملک ابن مروان کی حکومت اور قتل مختار ثقفی سے حجاج ثقفی کی عاجزی موٴرخین کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن صردخزاعی اور ان کے ساتھیوں کا حشر انگیر قتل اور ان کی شاندار قربانی اختتام پذیر ہوگئی اور سب کے سب کمال جرأت و ہمت اور عظیم بہادری کے ساتھ حضرت امام حسین (ع) پر نثار ہوگئے اور حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی بدستور جیل خانہ کی شدت سے دوچار رہے ۔(تاریخ طبری جلد 4 ص 651)

حضرت مختار کی یہ دلی خواہش تھی کہ ہم سلیمان بن صرد کے ساتھ مل جل کر میدان مقاتلہ میں کام کریں اور واقعہ کربلا کا اس طرح بدلا لیں کہ دنیا انگشت بدنداں ہوجائے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کوفہ پہنچنے کے بعد حضرت سلیمان سے ملاقات بھی کی تھی لیکن پہلی ملاقات میں باہمی سمجھوتہ نہیں ہوسکاتھا کیونکہ سلیمان اپنے خروج کی تاریخ مقرر کرچکے تھے ۔ وہ اس کا انتظار کررہے تھے اور تیاری میں مشغول تھے اور حضرت مختار کا یہ کہنا تھا کہ تاریخ کا انتظار نہ کیجئے بلکہ موقع کا لحاظ کیجئے ، اس وقت یزید کی موت سے ملک میں انتشار ہے ۔ خروج کا بہترین موقع ہے ابھی اسی قسم کی گفتگو جاری تھی اور یہ لوگ آخری فیصلہ پر نہیں پہنچے تھے کہ حضرت مختار گرفتار کرلیے گئے ان کی گرفتاری کے بعد زعماء شیعہ نے بڑی کوشش کی کہ ان کی ضمانت پر رہائی ہوجائے۔ لیکن اس کا امکان نہ پیدا ہوسکا ۔ بالاخر ابن زیاد کی حکومت شام کی طرف سے پیش قدمی کے سبب سلیمان کو اپنی معینہ تاریخ سے قبل ہی خروج کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں یہ سب کے سب قتل کردئیے گئے یقین ہے کہ اگر مختار قید نہ ہوتے اور دونوں مل جل کر ایک ساتھ میدان میں آجاتے تو سلیمان وغیرہ کی شہادت جلدی عمل میں نہ آسکتی۔

شہادت حضرت سلیمان کا اثر

حضرت مختار قید کی سختیاں جھیل رہے تھے کہ انہیں حضرت سلیمان اور ان کے جملہ ساتھیوں کے قتل و شہید ہونے کی اطلاع ملی وہ قید خانے میں بے چین ہوگئے اور انہیں اس واقعہ عظیم سے نہایت ہی صدمہ پہنچا۔ انہوں نے اپنے کمال تاثر کی وجہ سے حضرت سلیمان بن صرد کے باقی ماندہ لوگوں کو قید خانہ سے ایک خط لکھا۔ (دمعۃ ساکبہ ص 407)

حضرت مختار کا خط اہل کوفہ کے نام

علماء کا بیان ہے کہ حضرت مختار نے قید خانہ سے حضرت سلیمان کے باقی ماندہ لوگوں کے نام ایک خط تحریر کیا اس خط میں لکھا کہ خداوندعالم تمہیں اس مصیبت عظمیٰ پر صبر عطا کرے اور اجر عظیم عنایت فرمائے اور اپنے نامحدود رحمت و برکت سے محضور کرے اور تم نے جو تکالیف برداشت کی ہیں اور ظالموں سے جو صدمات اٹھائے ہیں اس کے عوض میں تم پر اپنی کرامت انگیز نظر فرمائے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ راہ خدا میں تم نے جتنے قدم اٹھائے ہیں ۔ خداوندعالم ان کے عوض حسنات بے شمار عطا فرمائے گا ۔ میرے دوستو ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ جس وقت میں قید سے رہا ہوکر باہر نکلوں گا حکم خدا سے تمام دشمنان محمد وآل محمد(ع)سے ایسا بدلا لوں گا کہ دنیا حیران رہے گی میں ان کے چھوٹے بڑے ایک کو بھی تہ تیغ کیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ یاد رہے !کہ خدا کی جس کو ہدایت ہوگی وہ میرے عمل و کردار اور میری سعی و کوشش سے بہرہ مند ہوگا اور جو انکار کرے گا وہ لعنت ابدی میں گرفتار ہوگا تم گھبراؤ نہیں وقت رہائی قریب ہے۔ فقط والسلام علی اہل الہُدیٰ حضرت مختار کے اس خط کے پہنچتے ہی کوفہ کے اہل ایمان خوش ہوگئے اور انہوں نے حضرت مختار کو جواباً لکھا کہ ہم نے تمہارا خط بڑے غور سے پڑھا ۔ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری مدد کے اوقات کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں اگر آپ ہمیں کہیں تو ہم اکر آپ کو قید خانہ سے رہا کرانے کی کوشش کریں۔ حضرت مختار کو جونہی روٴسائے کوفہ کا خط ملا بے حد مسرور ہوئے اور وہ اس امر سے مطمئن ہوگئے کہ شیعیان کوفہ میرے ساتھ ہیں انہوں نے قید خانہ سے کہا بھیجا کہ میری رہائی کی سعی تم لوگ نہ کرو ، میں نے اس کے راستے نکال لئے ہیں اور عنقریب میں رہا ہوجاؤں گا اور رہائی کے بعد اپنے مقصد کے انصرام و انتظام میں پوری پوری سعی کروں گا۔ (نورالابصار ص 78) حضرت مختار کی قید خانہ میں بیعت موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ حضرت مختار نے قید خانہ سے یہ بھی لکھا تھا کہ میں انشاء اللہ رہا ہونے کے بعد شرکائے کربلا کو اس انداز سے قتل کروں گا کہ لوگوں کو بخت نصر کا قتل یاد آجائے گا یعنی جس طرح بخت نصر نے قتل یحییٰ بن زکریا کی وجہ سے بے شمار قتل کیا اسی طرح میں قتل حسین(ع) کی وجہ سے لاتعداد قتل کروں گا یہ معلوم کر کے روٴسائے کوفہ بہت خوش ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ شکر ہے ابھی ہمارا ایک مدد گار باقی ہے ، اس کے بعد رفاعہ چارنمایاں افراد کو ہمراہ لے کر قید خانہ میں گئے اور مختار سے مل کر ان کی بیعت کرلی اور انہیں بالمواجہ اپنی حمایت کا یقین دلایا اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم کافی افراد سمیت قید خانہ پر دھاوابول کر آپ کو رہا کرالیں ، حضرت مختار نے فرمایا کہ ایسا مت کرو میں نے رہائی کی سبیل خود پیدا کرلی ہے۔ (تاریخ طبری جلد 4 ص 653)

حضرت مختار کا خط عبداللہ بن عمر کے نام

علماء موٴرخین کا بیان ہے کہ حضرت مختار نے عبداللہ بن عمر کو جوان کے بہنوئی تھے اور پہلے بھی انہیں قید ابن زیاد سے رہا کراچکے تھے قید خانہ سے ایک خط لکھا جس کے عیون الفاظ یہ ہیں۔ امابعد فی حبست مظلوماً وظن بی الولاہ ظنونا کاذبة فاکتب فی رحمک اللہ الی ھذین الظالمین وھما عبداللہ بن یزید وابراھیم ابن محمد کتاباعیسیٰ اللّٰہ ان یخلصنی من ایدیھما الطفک ومنک والسلام علیک۔(ذوب النضار ابن نماص 407 طبع ایران) (ترجمہ)حمد و صلوٰة کے بعد اے عبداللہ ابن عمر آپ کو معلوم ہو کہ میں بے جرم و خطا محض ظلم کی وجہ سے قید کرلیا گیا ہوں میری قید کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے والیوں کو میرے متعلق کچھ شبہ ہوگیا ہے آپ برائے مہربانی میری شفارش میں ان دونوں ظالموں کے پاس جن کے نام عبداللہ ابن یزید اور ابراہیم بن محمد ہیں ایک خط لکھ بھیجئے شاید خداوندعالم آپ کی مہربانی سے مجھے رہائی عطا کردے۔ یہ خط لکھنے کے بعد حضرت مختار نے اسے اپنے غلام خیر نامی کے ذریعہ سے جو بروایت یہ خبر لے کر مختار کے پاس گیا تھا۔ کہ والی کوفہ نے تمہارا سارا مال واسباب لٹوالیا ہے مدینہ بھجوادیا ، عبداللہ ابن عمر بن خطاب کو جو نہی یہ خط ملا ، وہ سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے فوراً ایک خط عبداللہ بن یزید اور ابراہیم بن محمد کے نام اس مضمون کا ارسال کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ مختار میرا سالا ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں تم لوگوں کو کس قدر عزیز رکھتا ہوں ۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ جونہی میرا یہ خط تم لوگوں کو ملے فوراً مختار کو رہا کردو۔ ورنہ مجھے سخت رنج ہوگا۔ والسلام (دمعۃ ساکبہ ص 407) موٴرخین کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر کا جونہی یہ خط ان دونوں کو ملا ۔ انہوں نے حضرت مختار کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ لیکن وہ اس تردد میں رہے کہ اگر رہائی کے بعد مختار نے ہمارے ہی خلاف خروج کیا پھر کیا بنے گا۔ بالآخر وہ لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ مختار سے اس امر کی ضمانت لینی چاہیے کہ وہ ہم پر خروج نہ کریں ۔ اس کے لیے انہوں نے مختار سے گفتگو کی اور ان کی صوابدید کے مطابق کوفہ کو ضمانت کیلئے طلب کیا اور ان سے یہ خواہش کی کہ وہ ان کے عدم خروج کی ضمانت دیں۔ (دمعۃ ساکبہ ص 407)

حضرت مختار کی رہائی

حضرت مختار کی ضمانت کا سوال پیدا ہونا تھا کہ تمام روٴسائے کوفہ اس کے لیے تیار ہو گئے بالاخر دس معززین ضمانت کیلئے حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے جب دس معززین دربار میں داخل ہوئے۔ تو حضرت مختار قید خانے سے دربار میں لائے گئے اور ان سے کہا گیا کہ تم اس بات کی قسم کھاؤ کہ رہائی کے بعد خروج نہ کرو گے اور اگر تم نے ایسا کیا تو ایک ہزار اونٹ یا گائے خانہ کعبہ میں قربانی دو گے اور تمہارے پاس جتنے غلام ہوں گے ۔ سب راہ خدا میں آزاد ہوجائیں گے۔ حضرت مختار نے وعدہ کیا اور دس معززین نے بطور ضمانت اس کی تصدیق کی ، آخر کار حضرت مختار رہا کردئیے ے گئے اور وہاں سے روانہ ہوکر اپنے ماننے والوں کے جھرمٹ میں اپنے گھر پہنچے حمید بن مسلم کہتے ہیں کہ رہائی کے بعد حضرت مختار نے کہا کہ یہ لوگ کتنے احمق ہیں جو مجھ سے ہدی اور بدنہ کی قربانی اور آزادی غلام کی قسم لیتے ہیں۔ بھلا خانہ کعبہ میں قربانی میرے لیے کیا مشکل ہے ۔ اب رہ گیا آزادی غلام کاسوال تو میں حضرت امام حسین (ع) کے خون بہا کے بعد خود ہی سب کو آزاد کردوں گا۔ میرا مقصد قاتلان حسین (ع) کو ان کے کیے کا بدلا دینا ہے اور بس اس کے بعد تو میں اپنی زندگی کا بھی خواہش مند نہیں ہوں۔ (نورالابصار ص 88 ، ذوب النضار ابن نما ص 407، ضمیمہ بحار جلد 10 ، دمعۃ ساکبہ ص 407) موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ والی کوفہ نے اس کی بھی قسم دے دی تھی کہ تم اپنے گھر سے باہر نہ نکلنا چنانچہ حضرت مختار اپنے گھر میں مقیم رہ کر اپنے مقصد کی تکمیل و تعمیل میں سرگرم رہے ۔ (تاریخ طبری جلد 4 ص 653) حضرت مختار قاتلان امام حسین (ع) کے قتل کا منصوبہ بنائے ہوئے اس کے اسباب کی فراہمی میں لگے ہوئے تھے۔ لیکن وہ لوگ جو اس منصوبہ سے متفق نہ تھے ان کی سعی پیہم یہ تھی کہ مختار اپنے ارادے سے باز آئیں۔ اس سلسلہ میں لوگوں نے حتی المقدور کا میابی کی سعی کی حجاج بن یوسف جو عبدالملک بن مروان کا منہ چڑھا جرنیل تھا۔ اسے یہ ہر وقت فکر تھی کہ کسی طرح مختار کے وجود سے زمین خالی کردی جائے۔ قتل حضرت مختار کیلئے حجاج بن یوسف ثقفی کی سعی بلیغ موٴرخین کا بیان ہے کہ مروان بن حکم 3 رمضان المبارک 65ھ میں فوت ہوا اور اس کی جگہ پر اسی تاریخ عبدالملک بن مروان خلیفہٴ وقت بنایا گیا ۔ اس کی حکومت شام اور مصر میں قائم ہوئی۔ (تاریخ ابوالفدا جلد 2 ص 148) یہ کوفہ پر حکومت کرنے کیلئے بے چین تھا۔ اس نے جس وقت خلافت سنبھالی ہے۔ اس وقت ممالک اسلامیہ میں بڑا انتشار تھا، عبداللہ ابن زبیر حجاز پر حکومت کرتا تھا۔ عراق میں بھی اس کی بیعت کرلی گئی تھی ۔

مزید  محافظ کربلا امام سجاد عليہ السلام

لیکن اس میں اس کو پورا اقتدار حاصل نہیں ہواتھا ایک گروہ شیعوں کا آل محمد کیلئے پرچار کرتا تھا۔ مروان نے زیر قیادت عبیداللہ ابن زیاد ایک لشکر زفربن حارث سے مقابلہ کیلئے بھیج دیا تھا جس کے سپرد سلیمان بن صرد سے مقابلہ بھی تھا ۔ عبدالملک نے عنان خلافت سنبھالنے کے بعد ابن زیاد کو لکھ دیا تھا کہ تو بدستور کام کرتا رہے۔ (تاریخ الخضری جلد 2 ص 213 طبع مصر) چنانچہ حضرت سلیمان بن صرد کی مہم کے بعد جب ابن زیاد شام واپس پہنچا تو مروان مرچکا تھا اور عبدالملک ابن مروان تخت نشین خلافت تھا۔ (تاریخ طبری جلد 4، ص 652) عبدالملک ابن مروان نہایت سفاک اور خونریز بادشاہ گزرا ہے۔ اس کے پاس چند ایسے جرنیل تھے جو خونریزی میں اپنے بادشاہ کی مثال تھے جن میں حجاج بن یوسف ثقفی کو بڑا مقام حاصل تھا ، اس نے اپنے عہد حیات میں اس کثرت سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ موٴرخین لکھتے ہیں کہ جب عبدالملک ابن مروان بادشاہ ہوا تو اس نے قرآن کریم کو جو اس کی گود میں تھا بند کرکے کہا۔ ھذاخیرالعھدبک۔یہ تجھ سے آخری ملاقات ہے یا بقول ندوی ، اب تجھ میں اور مجھ میں جدائی پڑگئی۔ (تہذیب وتمدن اسلامی ص 63 ، 65) یہ پہلا شخص ہے جس نے اسلام میں غدر کیا۔ خلفاء کے سامنے لوگوں کو بات کرنے سے روکا، نیکیوں کا حکم دینے سے باز رہا۔

اللہ کی کتاب سے کھیلا۔ اسی کے حکم سے حجاج مدینہ گیا اور باقی ماندہ اصحابِ رسول کو ذلیل کیا اور نشان ذلت کے طور پر حضرت انس بن مالک ، جابر بن عبداللہ انصاری اور سھل بن سعد ساعدی جیسے عظیم الشان اصحاب کی گردنوں اور ان کے ہاتھوں پر نشان لگائے ۔(تاریخ الخلفاء ص 146` 148)۔ اسی نے عبداللہ ابن زبیر کی سرکوبی کے لیے حجاج کو مکہ بھیجا جہاں بہت سے حاجی حج کیلئے جمع تھے اور چونکہ یہ خود فتنہ و فساد کا خوگر تھا اسی لیے بروایت طبری جب کہ مکہ جاکر کوئی بھی خونریزی کیلئے تیار نہ تھا ۔ حجاج تیار ہوکر رہ گیااس نے مکہ کا محاصرہ کیا ، آٹھ ماہ جنگ کرتا رہا۔ ہر روز کعبہ پر منجنیق سے پتھر پھنیکتا رہا ، لوگ حج سے بھی محروم رہے خوراک نہ پانے کی وجہ سے بہت سے لوگ ابن زبیر سے پھر کر اس کی پناہ میں چلے گئے اور یہ حالت ہوگئی کہ ابن زبیر کے پاس دو آدمیوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ (طبری تاریخ جلد 4 ، ص 666) اور حد ہوگئی کہ خود اس کے بیٹے حمزہ اور حبیب حجاج کی پناہ میں جاپہنچے ۔ آخر کار ابن زبیر اپنی ماں اسما بنت ابی بکر کے مشورے سے تنہا باہر نکل آئے اور قتل ہوگئے اور حجاج نے اس کا سر کاٹ کر مدینہ بھجوادیا اور جسم کو دار پر لٹکوادیا پھر حجاج نے تعریضا ابن زبیر کی ماں کے ساتھ نکاح کا پیغام بھیجا۔ (تاریخ طبری جلد 4 ص 666 ) حجاج بن یوسف ،عبداللہ ابن زبیر کا کام تمام کرنے کے بعد مدینہ پہنچا اور اس نے وہاں ان اصحاب کو ستانا شروع کیا جو بلند حیثیت کے مالک تھے اس نے ان پر الزام یہ لگایا کہ وہ سب قتل عثمان میں شریک تھے۔ (تاریخ اسلام ص 307) ایک دفعہ انس بن مالک صحابی رسول سے کہا کہ بوڑھے تو نے گمراہیوں میں عمر کاٹی ۔ کبھی تو نے ابوتراب کی پیروی کی کبھی ابن زبیر کے ساتھ لگا۔ انس نے عبدالملک کو سارا واقعہ لکھا تو اس نے حجاج کو تہدیدی خط لکھا جس کے بعد اس نے ان سے معافی مانگ لی۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 98) ایک دن اس نے گیارہ ہزار مسلمانوں کو قتل کرادیا اسی نے کمیل ابن زیاد کو قتل کرایا۔ بطام اور ان کے چار ہزار ساتھی تہ تیغ ہوئے۔ (تاریخ الخلفا ء ص 150) کوفہ کے دوران قیام حجاج کا لشکر لوگوں کے گھروں میں رہتا تھا بصرہ میں اس نے جاکر کشت و خون کیا ، جب بصرہ کے لوگ اسے مبارکباد دے کر باہر آئے تو حضرت خواجہ حسن بصری نے لوگوں سے کہا کہ آج میں نے ایسے سب سے بڑے فاسق و فاجر کو دیکھا ہے جسے اہل آسمان دشمن رکھتے ہیں ۔ حجاج کو جب اس کی خبر ملی تو اس نے خواجہ کو قتل کرانے کیلئے جلاد کو اپنے پاس بلا کر خواجہ صاحب کو بلا بھیجا۔ جب وہ آئے تو ان کی ظاہری تعظیم کی اور ان سے پوجھا کہ آپ عثمان  اور علی (ع)کے حق میں کیا کہتے ہیں حسن بصری نے کہا کہ میں وہی کہتا ہوں جومجھ سے اور تجھ سے بہتر شخصیت کہتی تھی اس کے بعد جب آپ باہر برآمد ہوئے تو دربان نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ حضرت علی (ع)کو دشمن سمجھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی (ع) ایک تیر تھے جو اللہ کی کمان سے دشمنان اسلام کی طرف چلتا تھا وہ رسول کریم (ص) کے چچا کے بھائی اور اس امت میں سب سے زیادہ بزرگ تھے۔ انہوں نے نہ خدائی عبادت میں کمی کی اور نہ اس کے مال میں تصرف بیجا کیا ،

تواریخ شاہد ہیں کہ حجاج کو سادات سے خصوصی دشمنی تھی ۔ ایک زمانہ میں محمد بن الحنفیہ(ع) کے تدبر کی وجہ سے اس نے ذرا سکوت اختیار کر لیا تھا۔ (تاریخ اسلام جلد 1 ص 41 ) ابن خلکان کہتا ہے کہ عبدالملک بن مروان بڑا ظالم اور سفاک تھا اور ایسے ہی اس کے گورنر حجاج عراق میں ، مہلب خراسان میں ، حسام بن اسمعیل حجاز اور مغربی عرب میں اور اس کا بیٹا عبداللہ مصر میں حسان بن نعمان مغرب میں حجاج کا بھائی محمد بن یوسف یمن میں ، محمد بن مروان جزیرہ میں ، یہ سب کے سب بڑے ظالم اور جبار تھے ۔

مسعودی لکھتا ہے کہ بے پروائی سے خون بہانے میں عبدالملک کے عامل اس کے نقش قدم پر چلتے تھے۔ موٴرخ ذاکر حسین (ع) لکھتے ہیں کہ حجاج نے اپنی گورنر ی کے زمانہ میں مدینہ کے لوگوں میں جن میں اصحاب رسول بھی تھے ۔ بڑے بڑے ظلم کیے عراق میں اپنی بیس برس کی طوفانی گورنری کے دوران میں اس نے تقریبا ڈیڑھ لاکھ بندگان خدا کا خون بہا یا جن میں سے بہتوں پر جھوٹے الزام اور بہتان لگائے گئے اس کی وفات کے وقت پچاس ہزار مردوزن زنداں میں پڑے ہوئے اس کی جان کو رو رہے تھے مہمل اور بے سقف قید خانہ اسی کی ایجاد ہے ۔ (تاریخ اسلام جلد 1 ص 41) ان ڈیڑھ لاکھ مرنے والوں میں ایک لاکھ بیس ہزار صرف وہ تھے جو کسی لڑائی کے بغیر مارے گئے تھے۔ (مشکوة شریف ص 543) علامہ جلال الدین سیوطی بحوالہ ذہبی لکھتے ہیں کہ ماہ صفر 64ھ میں یزید کی طرف سے جولشکر واقعہ حرہ میں مدینہ کو تباہ کرچکا تھا۔ وہی مکہ میں جاپہنچا اور اس نے ابن زبیر کا محاصرہ کرکے منجنیق سے خانہ کعبہ پر گولہ باری کی ۔ ربیع الاول 64ھ میں یزید کا انتقال ہوگیا اور ابن زبیر حجاز کا خلیفہ بن گیااور شام کا بادشاہ مروان قرار پایا۔ 65ھ میں مروان کے بعد عبدالملک ابن مروان بادشاہ ہوا۔ (تاریخ الخلفا ص 146 ، 148 ) عبدالملک شام اور مصر کا بادشاہ تھا ہی کہ اس نے ابن زبیر کو بیدخل کرکے 65ھ ہی میں عراق پر بھی قبضہ کرلیا۔ اخذہ من ابن الزبیر اور عراق کو ابن زبیر سے چھین لیا۔ (تاریخ الخلفاء ص 150 و تاریخ خضری جلد 2 ص 213 طبع مصر) علما کا بیان ہے کہ اسی 65ھ میں جب حجاج بن یوسف ثقفی کو بحوالہ حضرت امام زین العابدین (ع) یہ خبر پہنچی کہ حضرت امیرالمومنین (ع) نے یہ روایت فرمائی ہے کہ رسول خدا (ص) نے ارشاد فرمایا ہے کہ امام حسن و امام حسین شہید کردئیے جائیں گے ۔ اور ان کے ساتھ جو واقعہ گزرے گا اس کے عوض خداوندعالم بدست مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی دنیا میں عذاب نازل کرے گا اور وہ ظالموں کو قتل کریں گے تو کہنے لگا کہ رسول اللہ (ص) نے تو کہا ہی نہیں اور ابن ابی طالب (ع)نے جو خبریں رسول (ص) کی طرف سے بیان کی ہیں۔ مجھے ان میں شک ہے اور علی (ع) بن الحسین (ع) ایک مغرور لڑکا ہے وہ جھوٹی باتیں بنایا کرتا ہے ۔ اور اس کے پیروان باتوں پر فریفة ہوجاتے ہیں۔ تم جاکر مختا رکو میرے پاس لاؤ۔ جب وہ حسب الطلب گرفتار ہوکر سامنے آیا تو حکم دیا کہ اس کو فرش چرمی (نطع) پر لے جاکر قتل کرڈالو آخر کار اس ملعون کے حکم سے فرش قتل بچھا کر مختار کو اس پر بٹھایا گیا ۔ مگر غلام ادھر ادھر پھرتے تھے اور تلوار نہیں لاتے تھے ، حجاج نے پوچھا کہ تاخیر کیوں ہورہی ہے جواب دیا کہ کنجی گم ہوگئی ہے ۔ بالاخر حضرت مختار کو حجاج قتل نہ کرسکا ۔ اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ علامہ مجلسی نے جلا ء العیون کے 247پراور بحارالانوار جلد 1 کے ص ۳۹۸ پر اور آقائے دربندی نے اسرار الشہادة ص ۵۲۹ پر حجۃ الاسلام محمد ابراہیم نے نورالابصار کے ص ۱۴،۱۷ پر اور علامہ محمد باقر نے دمعۃ ساکبہ کے ص 403 پر حضرت امام حسن عسکری (ع) کی تفسیر کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے میں ان حضرات کی عبارات کے ترجمے سے قطع نظر کرکے خود اصل تفسیر کے ترجمے سے اس کی تفصیل تحریر کرتا ہوں۔ حضرت امام حسن عسکری (ع) (المتوفی 232 ) بذیل آیہ فانزلنا علی الذین ظلموا رجزا من السماء بما کانوایفسقون (بقرہ ) ہم نے ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا تھا ان کی حرکتوں کی وجہ سے عذاب نازل کردیا 

نزول عذاب کی وجہ سے ایک لاکھ بیس ہزار افراد ہلاک ہوگئے پھر دوبارہ ان کو اس عذاب طاعون نے آگھیرا تو پھر ایک لاکھ بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے انہوں نے یہ خلاف ورزی کی تھی کہ جب وہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ بہت بلند ہے تب وہ کہنے لگے کہ ہم کو اس میں داخل ہوتے وقت رکوع کی ضرورت نہیں ہے یعنی ہم سے جو یہ کہا گیاتھا کہ جب دروازے کے اندر سے داخل ہوتو کہو(حطة ) ہم تو یہ سمجھے تھے کہ دروازہ بہت چھوٹا ہوگا ۔ اس لیے ہم کو وہاں رکوع کرنا ضروری ہوگا یہ دروازہ تو بہت بلند ہے اور حضرت موسیٰ اوریوشع بن نون کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ لوگ ہم سے کب تک مسخراپن کرتے رہیں گے اور مہمل باتوں پر ہم سے سجدہ کراتے رہیں گے ۔ یہ کہہ کر اپنی پیٹھ سب نے دروازہ کی طرف کرلی اور حطة کہنے کی بجائے جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔ حطا سمقانا کہا جس کے معنی گندم سرخ کے ہیں۔ امیرالمومنین (ع) نے فرمایا ہے کہ ان بنی اسرائیل کیلئے باب حطہ نصب کیا گیا تھا اے امت محمدی تمہارا باب حطہ اہلبیت محمد ہیں اور تم کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کی ہدایت کی متابعت کرو اور ان کے طریق کو اپنے اوپر لازم کرلو ۔ تاکہ اس عمل سے تمہاری خطائیں اور گناہ معاف کیے جائیں اور نیکوں کی نیکی میں زیادتی ہواور تمہارا باب حطہ بنی اسرائیل کے باب حطہ سے افضل ہے کیونکہ وہ لکڑی کا دروازہ تھا اور ہم ناطق اور صادق اور قائم ہونے والے اور ہدایت کرنے والے اور صاحبان فضیلت ہیں چنانچہ رسول خدا نے ارشا دفرمایا ہے کہ آسمان کے ستارے غرق ہونے سے نجات پانے کا ذریعہ ہیں اور میرے اہلبیت (ع) میری امت کیلئے دین کی گمراہ ہونے سے بچنے کا باعث ہیں وہ زمین میں کبھی ہلاک نہ ہوں گے ۔

جب تک ان کے درمیان میرے اہل بیت میں سے کوئی شخص موجود رہے گا ۔ جس کی ہدایت اور طریقوں کی وہ لوگ پیروی کریں گے اور سنو ، آنحضرت نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص چاہے کہ اس کی زندگی میری دنیاوی زندگی کی مانند ہو اور اس کی موت مثل میری موت کے ہوا اور جنت میں ساکن ہو جس کا پروردگار نے وعدہ فرمایا ہے اس درخت سے فائدہ اٹھائے جس کو حق تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے لگایا ہے اور لفظ کن سے اسے پیدا کیا ہے اس کو چاہیے کہ علی بن ابی طالب (ع) کی ولایت کو اختیار کرے اور اس کی امامت کا اقرار کرے اور اس کے دوست کو دوست رکھے اور اس کے دشمن کو دشمن رکھے۔ اور اس کے بعد اس کے فرزندوں (ذرّیت) کی جو صاحبان فضیلت اور مطیعان پردردگار ہیں۔ ولایت کو اختیار کرے کیوں کہ وہ میری طینت سے پیداہوئے ہیں۔ اور خدا نے میرا علم و فہم ان کو عطا کیا ہے۔ وائے ہو میری امت کے ان لوگوں پر جوان کی فضیلت کی تکذیب کریں اور میرے پیوند کو ان سے قطع کریں اور ان کی نافرمانی کریں ۔ خدا میری شفاعت ان کو نصیب نہ کرے۔ اور جناب امیرعلیہ السلام نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح بعض بنی اسرائیل اطاعت کرنے کے سبب سے معزز و مکرم ہوئے اور بعض نافرمانی کرنے کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوئے ۔اسی طرح تمہارا حال بھی ہو گا ۔اصحاب نے عرض کی کہ یا امیر المومنین علیہ السلام نافرما نبردار کون لوگ ہیں ۔آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم اہلبیت(ع) کی تعظیم کرنے اور ہمارے حقو ق کو بزرگ جاننے کا حکم ہو ا۔اور انہوں نے اس کے خلاف کیا ۔اور نافرمانی کی اور ہمارے حق کا انکار کیا اور اس کو خفیف او ر سبک سمجھا ۔اور اولاد رسول کی جن کی تعظیم کرنے اور ان سے محبت کرنے کا حکم دیا گیا تھا قتل کیا ہو گا صحابہ نے عرض کیا یا امیرالمومنین ! کیا ایسا بھی عالم و قوع میں آئے گا ؟فرمایاہاں یہ خبر بالکل سچ اور صحیح ہے ۔عنقریب یہ لوگ میرے فرزندوں حسن اور حسین کو قتل کریں گے ۔بعد ازاں فرمایا کہ ان ظالموں میں سے اکثروں کو بہت جلد دنیا ہی میں اس شخص کی تلواروں کا عذاب لاحق ہو گا ۔جس کو اللہ تعالیٰ ان کے فسق و فجور کا انتقام لینے کے لئے ان پر مسلط کرے گا ۔جیسا کہ بنی اسرائیل پر دنیا میں عذاب نازل ہوا تھا ۔اصحاب نے عرض کی کہ مولا ! وہ کون شخص ہوگا ۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ بنی ثقیف کا چشم و چراغ (مختار ابن ابی عبیدہ )ہو گا ۔ حضرت اما م زین العابدین علیہ السلام کا ارشا د ہے کہ یہ واقعہ جناب امیر کی خبر دینے کے کچھ عرصہ کے بعد وقوع میں آیا ۔کسی شخص نے جناب امام زین العابدین علیہ السلام کی زبانی حجاج بن یوسف ثقفی کو یہ خبر پہنچائی تو وہ بولا کہ رسول خدا نے تو یہ کہا ہی نہیں اور علی ابن ابی طالب نے جو خبریں رسول کی طرف سے بیان کی ہیں۔ مجھے ان میں شک ہے اور علی بن الحسین ایک مغرور لڑکا ہے وہ جھوٹی باتیں بنایا کرتا ہے ۔

مزید  محرم الحرام اور وحدت مسلمین

اور اس کے پیروان باتوں پر فریفة ہو جاتے ہیں ۔یہ کہہ کر انہوں نے سپاہوں کو حکم دیا کہ تم جا کر مختار کو میرے پاس پکڑ کر لاؤ۔ (میں ابھی اسے قتل کیے دیتا ہوں اور اس کے قتل ہو جانے سے علی (ع) کے بیان کی حقیقت وا ضح ہو جائے گی جب حضرت مختار حسب الطلب گرفتار کرکے سامنے پیش کیے گئے تو حجاج نے حکم دیا کہ انہیں (نطع )فرش چرمی پر بیٹھا کر قتل کر دو ، اس کے حکم کے مطابق جلاد اور غلام نے حضرت مختارکو اس چمڑے پر کردیا جس پر بٹھا کر لوگ قتل کیے جاتے تھے ۔بٹھانے کے بعد جلاد ادھر ادھر گھومنے لگے اور کوئی تلوار لے کر نہ آیا ۔حجاج نے ان سے کہا کہ تم کو کیا ہوگیا ہے قتل کیوں نہیں کرتے ۔وہ بولے خزانہ کی کنجی گم ہو گئی ہے ۔اور تلوار خزانہ میں رکھی ہے ۔مختار نے آواز دی ۔اے حجاج تو مجھے قتل نہیں کر سکتا اور رسول خدا کا قول ہر گزجھوٹا نہ ہوگا اور سن اگر تو مجھے قتل بھی کر دے گا تو خداوند عالم مجھے پھر زندہ کرے گا تاکہ میں تم سے تین لاکھ تراسی ہزار آدمیوں کو قتل کروں تب حجاج نے اپنے ایک دربان کو حکم دیا کہ اپنی تلوار جلاد کو دے دے ۔تاکہ وہ اس سے مختار کو قتل کرے۔ الغرض جلاد اس دربان کی تلوار لے کر مختار کو قتل کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا ۔حجاج اس دوران میں باربار پکار کہ کہہ رہا تھا تا خیرمت کر فوراً قتل کردے ۔وہ مختار کو قتل کرنا ہی چاہتا تھااور اس کے قریب پہنچا ہی تھا کہ خدا نے اس پر نیند مسلط کر دی اور اونگھ کر زمین پر گر پڑا اور اس کی تلوار اس کے اپنے شکم میں در آئی ۔ خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا تلوار کے لگتے ہی وہ ہلاک ہو گیا ۔اس کے بعد حجاج نے ایک دوسرے جلاد کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ بلاتا خیر مختار کو قتل کر دے وہ حکم سے تلوار لیے ہوئے آگے بڑھا اور تلوار علم کرکے چاہا کہ مختار کی زندگی کا فیصلہ کر دے۔ابھی تلوار کا وار سر نہ ہونے پایا تھا کہ ایک بچھو نے اسے ڈنگ مار دیا وہ زمین پر گر کر لوٹنے لگا اور چند منٹوں میں ہلاک ہو گیا ۔حضرت مختار نے پھر پکار کر کہا کہ اے حجاج تو مجھے قتل نہیں کر سکتا ارے تیرے پیش نظر کیا نزاربن سعد بن عدنان کا قول نہیں ہے اور تو اس سے عبرت حاصل کرنا نہیں چاہتا ۔جو اس نے اس وقت جبکہ شاہ پور ذوالاکتاف عرب کو قتل کرتا تھا اور ان کی بیخ کنی کرتا تھا تجھے یا د ہو گا کہ نزار نے جب عرب کی حد سے زیادہ خونریزی دیکھی تو اس سے برداشت نہ ہو سکا ۔اور اس نے اپنے لوگوں سے کہا کہ مجھے ایک زنبیل میں ڈال کر شاہ پور کے راستے میں رکھ دو ۔چنانچہ لوگوں نے اسے اٹھا کر اس راستے میں رکھ دیا ۔جس سے شاہ پور بادشاہ گزرنے والا تھا ۔جب شاہ پور ادھر سے گزرا اور اس کی نظر نزاربن سعد پر پڑی تو پوچھا کہ تو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے تو نزارنے نے جواب دیا کہ میں ایک مرد عرب ہوں تجھ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ تو عرب کو بے قصور کیوں قتل کر رہا ہے ۔

جو لوگ سرکش تھے اور تیری سلطنت میں فساد برپا کرتے تھے ان کو تو تو پہلے ہی قتل کر چکا ہے ۔اب اس ناحق خونریزی کا کیا باعث ہے ۔شاہ پور نے جواب دیا کہ میں گزشتہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ عرب میں ایک شخص محمد نامی پیدا ہو گا جو نبوت کا دعویٰ کرے گا اور سلاطین عجم کی سلطنت اس کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گی اس لئے میں ان کو قتل کرتا ہوں تاکہ وہ شخص پیدا ہی نہ ہونے پائے۔ نزار نے کہا کہ اگر یہ بات تو نے جھوٹوں کی کتاب میں پڑھی ہے اور اس میں لکھی ہوئی دیکھی ہے تو جھوٹے لوگوں کے کہنے اور لکھنے سے بے خطا لوگوں کو کیوں قتل کرتا ہے اور اگر یہ سچی لوگوں کا قول ہے تو اللہ تعالیٰ ضروراس اصل کی حفاظت کرے گا جس سے وہ شخص پیدا ہوگا ۔اور تو ہرگز اس کے باطل ہونے پر قادر نہیں ہو سکے گا اور اس کا حکم ضرو ر جاری ہوگا ۔اور وہی ہو کر رہے گا اگرچہ عرب میں ایک شخص باقی رہ جائے نزار کی یہ لاجواب تقریر سن کر شاہ پور نے کہا کہ اے نزار (بمعنی لاغر )تو نے سچ کہا ۔اس کے بعد اس نے اپنے لشکر والوں سے کہا کہ عرب کے قتل سے ہاتھ اٹھالو ۔جو ہونے والا ہے ہوکے رہے گا ۔ہماری کوشش سے کچھ نہیں ہوتا ۔یہ سن کر عرب کے قتل سے شاہ پور باز رہا ۔ اس کے بعد حضرت مختار نے کہاکہ اے حجاج اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے کہ میں تم میں سے تین لاکھ تراسی ہزار آدمی قتل کروں۔اب تیر ا جی چاہے میری قتل کا ارادہ کراور چاہے نہ کر ۔میں کہتا ہوں کہ یا تو اللہ تعالیٰ تجھے میرے قتل سے باز رکھے گا ۔ یا مجھے قتل کے بعد پھر زندہ کرے گا۔کیونکہ رسول خدا کا قول سچا ہے ،اس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ سننے کے بعد حجاج کو اور زیادہ غصہ آگیا ۔اور جھنجلا کر کہنے لگا کہ میں تجھے اسی وقت قتل کروں گا اور زندہ نہ چھوڑوں گا۔چاہے کچھ ہو جائے ۔یہ کہہ کر اس نے پھر جلاد کو حکم دیا کہ مختار کو فوراً قتل کر دے ۔

 

مختار نے پکار کر کہا کہ اے حجاج ہوش کی کر میں پھر تجھ سے کہتا ہوں کہ تو مجھے ہر گز قتل نہ کر سکے گا ۔اے حجاج بہتر یہ ہو گا کہ تو جلاد کو حکم دینے کی بجائے خود مجھے قتل کرتا کہ خداوند عالم جس طرح تیرے ایک جلاد پر بچھو مسلط کر چکا ہے تجھ پر سانپ مسلط کرے اور وہ تجھے ڈس لے حجاج کو غصہ اور تیز ہوگیا ۔اس نے جلاد کو ڈانٹ کر کہا کہ کیا دیکھتا ہے فوراً مختار کا کام تمام کر دے اور اب میں ایک منٹ بھی اس کا زندہ رکھنا نہیں چاہتا ۔یہ سن کر جلاد نے تلوار اٹھائی اور چاہتا ہی تھا کہ گردن پر لگائے کہ اتنے میں عبد الملک بن مروان کا ایک خاص نامہ بر داخل دربار ہو کر جلاد کو چیخ کر پکارا ۔ٹھہرنا مختار کی گردن پر تلوار نہ لگنے پائے ۔یہ کہہ کر اس نے حجاج کے ہاتھ میں ایک خصوصی خط دیا جو عبد الملک بن مروان کا لکھا ہوا تھا اس میں مرقو م تھا ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اما بعد اے حجاج بن یوسف میرے پاس ایک نامہ برپرندہ ایک چٹھی لایا ہے اس میں لکھا ہے تو نے مختار کو گرفتار کیا ہے اور اس خیال سے تو اس کو قتل کرنا چاہتا ہے کہ تو نے سنا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے وہ بنی امیہ کے اعوان و انصار میں تین لاکھ تراسی ہزار آدمیوں کو قتل کرے گا ۔جب میری چٹھی تیرے پاس پہنچے اسی وقت اس کو چھوڑ دے اور نیکی کے سوا اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کر کیونکہ وہ میرے بیٹے ولید کی دایہ کا شوہر ہے اور جو روایت کہ تو نے سنی ہے اگرچہ وہ جھوٹی ہے تو جھوٹی خبر سے ایک مسلمان کا قتل کرنا کیا معنی اور اگر سچ ہے تو رسول خدا کا قول کو ہر گز نہ جھٹلا سکے گا ۔والسلام اس خط کو پاتے ہی حجاج کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور سر بگر یباں ہو کر سوچنے لگا ۔کہ اب میں کیا کروں اور کس طرح مختار کو تلوار کے گھاٹ اتاروں ۔بالآخر حجاج نے حضرت مختار کو چھوڑ دیا اور ان کے قتل سے باز آیا ۔حضرت مختار جب وہاں سے باہر نکلے تو کہنے لگے کہ حجاج میرے قتل کو غلط ارادہ کرتا تھا میں تو ابھی اس وقت تک زندہ رہوں گا ۔جب تک بنی امیہ کا خاتمہ نہ کروں۔میرے خروج کا زمانہ قریب ہے اور انشاء اللہ خروج کرتے ہی بنی امیہ کے لیے زمین خدا تنگ کردوں گا ۔اور ان کے خون سے چہرہ ارضی کو لالہ زار بنا دوں گا۔ جب حجاج کو حضرت مختار کے ارشاد کی خبر پہنچی تو اس نے پھر انہیں گرفتار کر الیا اور اپنے دربار میں بلا کر کہا کہ تم اپنے دعویٰ سے باز آجاؤ ۔ورنہ میں تمہیں ضرور قتل کردوں گا ۔

حضرت مختار نے فرمایا کہ اے حجاج میں پہلے بھی تجھ سے کہہ چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ تو میرے قتل کا حوصلہ نہ کر تو مجھے ہر گز قتل نہیں کر سکتا ۔دیکھ خداوندعالم کے حکم میں مداخلت نہ کر اس کی مشیت میں گذر چکا ہے ۔کہ میں قاتلان حسین کو ضرور قتل کروں گا۔ خدا کے منشاء میں فرق نہیں آسکتا ۔تو اس کی ترد یدمت کر یہ سن کر حجاج کو پھر غصہ آگیا ۔اور اس نے حضرت مختار کے قتل کا سامان فراہم کیا۔ ابھی حضرت مختار کو جلاد قتل کے لیے نہ لے جا سکے تھے کہ ناگاہ ایک نامہ بر ۱ کبوتر نے عبد الملک ابن مروان کا خط حجاج تک پہنچایا ،اس میں مثل سابق لکھا تھا :۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اما بعد اے حجاج مختار سے کچھ تعرض نہ کر کیونکہ و ہ میر ے بیٹے ولید کی انّا کا شوہر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو اس کے قتل کرنے سے روکا جائے گا ۔جیسے دانیال کو بخت نصر کے قتل سے روکا گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے قتل کرنے کے مقرر کیا تھا۔والسلام الغرض حجاج نے بادل نخواستہ حضرت مختار کو چھوڑ دیا ۔اور چھوڑتے وقت ان کو بہت ڈرایا دھمکایا اور ہدایت کی کہ اب میں کبھی تمہاری زبان سے ایسی بات نہ سنو ں ۔حضرت مختار اس کے پاس سے نکل کر اسی قسم کی باتیں پھر کرنے لگے ۔اور ان کی گفتگو نے کافی شہرت حاصل کرلی حجاج کو جب اس کی پھر اطلاع ملی تو اس نے سپاہی بھیج کر حضرت مختار کو گرفتار کرانا چاہا مگر حضرت مختار اس مرتبہ دستیاب نہ ہو سکے ۔ایک مدت تک سپاہی محو تلاش رہے ۔بالآخر ایک دن وہ گرفتار ہو ہی گئے ۔اب کی مرتبہ حجاج نے عزم با بحزم کر لیا تھا اور طے کر چکا تھا کہ اس دفعہ ضرور قتل کروں گا حضرت مختار کی گرفتاری کے فوراً بعد اس نے جلاد کو حکم دیا کہ انہیں جلد از جلد قتل کر دے جلاد حضرت مختار کو قتل کرنے کے لئے جا رہاتھا کہ ناگاہ مثل سابق پھر عبد الملک بن مروان کی چٹھی پہنچی۔تب اس نے مختار کو قید کر دیا اور عبدا لملک کو ایک عرضی لکھی جس کا مضمون یہ تھا کہ تو ایسے کھلم کھلا دشمن کو کیونکر اپنا سمجھتا ہے جو یہ خیال رکھتا ہے کہ میں بنی امیہ کے اعوان و انصار میں سے اس قدر آدمیوں کو قتل کروں گا جس کی کوئی انتہا نہ ہو گی ۔ عبد الملک بن مروان نے اس جواب میں کہلا بھیجا کہ اے حجاج تو کیسا جاہل ہے اگریہ خبر جھوٹی ہے تو ہم اس کی زوجہ کے حق کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔جس نے ہماری بڑی خدمت کی ہے۔ اس کی رعایت ضروری ہے اور اگریہ بات سچ ہے تو ہم عنقریب دیکھیں گے کہ وہ ہم پر مسلط ہو گا۔ جس طرح فرعون نے موسیٰ کی پرورش کی اور وہی اس پر مسلط ہوا ۔ اس پیغام کے سننے کے بعد حجاج نے مختار کو قتل تو نہ کیا لیکن انہیں عبد الملک ابن مروان کے پاس بھیج دیا عبدالملک نے انہیں آزاد کر دیا ۔اور مختار خدا کے منشا کے مطابق وقت مقررہ پر میدان میں آکر اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوئے ۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی ۔اے مولا ! حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے مختار کے معاملہ کا ذکر تو فرمایا کہ یہ واقعہ کب ظہور میں آئے گا ۔اور مختار کس کس کو قتل کریں گے ۔حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت امیر المومنین نے سچ فرمایا ہے اور کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اس واقعہ کے وقت وقوع سے مطلع کروں ۔اصحاب نے عرض کی مولا ضرور ارشاد فرمائیے ۔

آپ نے فرمایا کہ یہ واقعہ تیسرے سال ہوگا ۔اور اس کے اختتام تک عبید اللہ ابن زیاد وغیرہ کے سر ہمارے پاس پہنچیں گے اور جس وقت یہ سر پہنچیں گے ہم ناشتہ کرتے ہوں گے اور ان کے سروں کو خوشی کے ساتھ دیکھیں گے ……..اس کے بعد حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے قول کی طرف رجوع کی کہ آپ نے فرمایا کہ جو عذاب کا فروں اور فاسقوں کے لیے مہیا کیا گیا ہے وہ بہت بڑا اور زیادہ دیر پا ہے ۔اس کے بعد جناب امیر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ہم اپنے فرمانبرداروں کے لئے خدا سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور وہ ان کی نیکیوں کو زیادہ کرتا ہے ۔اصحاب نے عرض کی کہ یا امیر المومنین علیہ السلام آپ کے مطیع اور فرمانبردا ر کون لوگ ہیں ،فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنے پروردگار کو واحد جانتے ہیں اور ان صفات سے اس کو موصوف کرتے ہیں ۔جو اس کے لائق ہیں اور اس کے پیغمبر حضرت محمد مصطفے ٰ (ص) پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے فرائض کے ادا کرنے اور محرمات کے ترک میں خدا کی اطاعت کرتے ہیں ۔اور اپنے وقتوں کو ذکر خدا کرنے اور محمد وآل محمد پر درود میں صرف کرتے ہیں اورا پنے نفسوں سے حرص و بخل کو دور رکھتے ہیں اور زکوٰة جو ان پر فرض کی گئی ہے۔ اسے ادا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ (آثار حیدری ترجمہ تفسیر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ص480تا486طبع لاہور)

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.