حضرت مختار کی شرافت ذاتی

0 2

تاریخ الفخری ص۸۹ طبع مصر ۱۹۴۷ءء میں ہے۔ کان رجلا ً شریفاً فی نفسہ عالی الھمة کریما کہ حضرت مختار فی نفسہ شریف بلند ہمت اور کریم الطبع تھے ۔رو ضۃ جلد ۳ ص۸۴ طبع لکھنو ء میں ہے کہ حضرت مختار بے انتہا ذہانت کے مالک اور فراست کے درجہ کمال پر فائز تھے ۔ان کا یہ حال تھا کہ ہونے والے واقعات کو قبل وقوع بیان کر دیا کرتے تھے ۔اسی وجہ سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کے پاس جبرائیل آتے اور وحی لاتے تھے ۔حالانکہ ایسا نہ تھا (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۴۹ )میں ہے کہ مختار مردد لاور بود حضرت مختار نہایت ہی بہادر اور اشجاع تھے۔ اصدق الاخبار فی الاخذبالثار ص۳۶ میں ہے کہ مختار فصاحت وبلاغت میں اپنی نظر آپ تھے ۔وہ مسجع اورمقفیٰ کلام اور عبارت پر پوری قدرت رکھتے تھے اور مافی الضمیرکی ادائیگی میں درجہ کمال پر فائز تھے ۔ کتاب ذوب النضار فی شرح الثار ص۴۰۱ ضمیمہ بحار میں ہے کہ حضرت مختار نہایت زبردست بہادر تھے وہ حملہ آوروں میں کسی چیز کی پروانہ کرتے تھے اور بڑے بڑے مہالک میں کود پڑنے میں ہچکچاتے نہ تھے ۔وہ زبر دست عقل و فہم کے مالک تھے ۔ اور بے مثل حاضر جواب تھے ۔اور سخاوت میں یکتا ئے زمانہ تھے۔ اور فراست میں اپنی نظیر نہ رکھتے تھے ۔وہ ستاروں سے زیادہ ہمت میں بلند تھے اور سوجھ بوجھ میں اپنی مثال آپ تھے اور تدبر و تفکر میں ٹھیک منزل پر پہنچنے والے تھے میدانِ جنگ میں نہایت ہو شیار اور دشمنوں کے حملوں سے بے انتہا با خبر رہتے تھے ۔ہر قسم کے تجربہ میں کمال رکھتے تھے ۔اور بڑے بڑے مہلکوں میں کود کر ان پر قابو پا لیتے تھے ۔ کتاب رو ضۃ المجاہدین ص۳ میں ہے کہ حضرت مختار زبر دست مرد میدان اور دلیری میں یکتا زمانہ تھے۔امداد خداوندی اور توجہ محمدی و مرتضوی آپ کے شامل حال تھی ص۴آپ دوستداران اہلیت میں سے تھے ۔اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی بیعت کے لیے مردانہ وار تبلیع کیا کرتے تھے ۔کتاب نور الابصار فی اخذ الثار ص۲۲ میں ہے کہ حضرت مختار شجاعت وجسارت ،عقل و فہم ،ہمت و سخاوت ، حاضر خوابی و بدیہہ گوئی میں یگانہ اور امثال و اقران میں فخر زمانہ تھے ۔وہ بڑ ے بڑے امور میں جا پڑنے میں دلیر اور بہادر تھے ۔انہیں خداوند عالم نے ذہن و ذکا میں ممتاز قرار دیا تھا وہ فصاحت بیان اور طاقت زبان میں یکتائے روز گار اور دلیری و دانائی اور تدبیر واصابت رائے میں عجوبہ اعصا رتھے یعنی ان امور میں ان کے نظیر مادر گیتی کی آغوش میں نہ تھی ۔انہوں نے کسب علوم و فنون حضرت محمد حنیفہ سے کیا تھا اور علم و فضل میں درجہ کمال پر فائز تھے ۔ کتاب حدیقة الشیعہ علامہ اردبیلی میں ہے کہ حضرت مختار کے حسن عقیدہ میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں علامہ حلی نے انہیں مقبولین میں تسلیم کیا ہے ۔مختار اور ان کے جیسے لوگوں کے لیے یہ مسلم ہے ۔کہ من اہل الدرجات الرفیعة والمراتب العالیة ان کا شمار بلند درجہ کے لوگوں اور بلند مرتبہ حضرات میں ہے ۔ کتاب دمعۃ ساکبہ ص۴۰۴ میں ہے زبان میں ایسی برکت تھی کہ انکے منہ سے جو کچھ نکلتا تھا صحیح ہوتا تھا ان کے کلام میں لغزش نہیں ہوتی تھی ۔وہ سبحع میں کلام کرتے تھے ۔ان کا بیان بہت بلند ہوتا تھا دل کے اتنے مضبوط تھے ۔جس کی کوئی انتہا نہ تھی ۔وہ شجاعت میں بہت ہی بلند درجہ رکھتے تھے ۔بہادروں پر پل پڑنا ان کے لئے بالکل معمولی سی بات تھی ان کے فہم وفراست کا تیر ٹھیک نشانہ پر لگتا تھا ۔وہ سوجھ بوجھ میں کامل تھے ۔انہیں کسی اقدام میں شرمندگی نہیں ہوتی تھی ۔یہ بلندیوں پر ہمیشہ فائز رہے ۔ علامہ محمد ابراہیم تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی مختار کے حالات احادیث و سیر میں بغور ملاحظہ کرے گا ۔اسے معلوم ہو گا کہ وہ از سا بقین مجاہدین بود ان سابقین مجاہدین میں سے تھے ۔جن کا ذکر خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے ۔اور دعائے حضرت سجاد سے یہ واضح ہے کہ اواز برگزید گاں و نیکو کاراں است کہ حضرت مختار بر گزیدہ کر د گار اور نیک شعار تھے۔ (نورالا بصار ص۱۳) موٴرخ اسمعٰیل ابو الفدا لکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت امام حسین (ع) کا انتقام مختار کے ہاتھ سے لیا ۔یہ کارنیک بظاہر اس سے ظہور میں آیا ۔یہ حالت محاصرہ میں بھی لڑے یہاں تک مقتول ہو ئے ۔انہیں شہادت کا درجہ نصیب ہو ا ۔(ترجمہ تاریخ ابو الفدا جلد ۲ ص۱۴۹ ) موٴرخ ابن جریر کا بیان ہے کہ حضرت مختار جو کچھ کہتے تھے بقدرت خدائے عزوجل وہی ہوتا تھا (تاریخ طبری ج ۴ ص۶۵۹) 

 

حضرت مختار کا ولی اللہ ہونا

مثل مشہور ہے کہ ولی راولی میشناسد ولی کو ولی پہنچانتا ہے ۔حضرت مختار کو حضرت رسول کریم (ص) کا سراہنا، امیر المومنین علیہ السلام کا اپنی آغوش میں کھلانا ۔امام حسن (ع) کا آپ سے امداد حاصل کرنا امام حسین (ع) کا کربلا میں باربار یاد کرناامام زین العابدین(ع) کا آپ کو دعا دینا ،امام محمد باقر (ع)کا آپ کو کلمات خیر سے یاد کرنا۔امام جعفر صادق (ع)کا خدمات کوسراہنا یہ بتاتا ہے کہ حضرت مختار ولی اللہ تھے اوریہ حضرات ان کے مراتب جلیلہ سے واقف اور باخبر تھے ۔اس کے علاوہ روایات میں ان کو لفظ ولی اللہ سے یاد کیا گیا ہے۔حضرت شیخ مفید علیہ الرحمة نے اپنی کتاب مزار میں ان کی جو زیارت تحریر فرمائی ہے ۔اس میں ایک جملہ یہ بھی ہے۔ السلام علیک ایھا الولی الناصح۔سلام ہو تم پر اے ولی ناصح (نور الابصار ص۱۹) اسی طرح وہ مکتوب جو رسول خدا نے حضرت مختار کے نام بذریعہ امیر المومنین ارسال فرمایا ہے اور جسے ایک شخص غیبی نے حضرت مختار تک پہنچایا ۔اس سلسلہ میں بھی تواریخ میں یہ مرقوم ہے کہ اس آنے والے نے حضرت مختار کو جن لفظوں اور جملوں سے مخاطب کیا وہ یہ ہے ۔السلام علیک یا ولی اللہ اے اللہ کے ولی آپ پر میرا سلام ہو۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص۷۵) ان کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت مختار جو کچھ منہ سے کہہ دیتے تھے وہی ہوتا تھا۔ اب یہ ہونا دو حال سے خالی نہیں ۔یا یہ کہ انہیں علم غیب تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ کچھ ہونے والا ہے یا یہ کہ ان میں اثرات ولایت تھے جو ان کے منہ سے نکل جاتا تھا وہی ہوتا تھا ۔بہر دو صورت ان کی ولایت سے استدلال ہوتا ہے علامہ ہروی فرماتے ہیں کہ مختار میں یہ بات ضرور تھی کہ جو کچھ کہتے تھے ہوتا تھا انہوں نے محاربہ موصل کے موقع پر یہ کہا تھا کہ عنقریب ابراہیم ابن مالک اشتر فتح حاصل کرکے ابن زیاد اور حصین بن نمیر کا سر میرے پاس بھیجیں گے ۔چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں یہ امر ظہور پذیر ہوگیا کہ جس کی وجہ سے لوگ کہنے لگے کہ مختار پر وحی نازل ہوئی ہے ۔نزول وحی کا قائل ہونا جہلا کی خوش فہمی ہے ۔ان پر وحی نازل نہیں ہوتی تھی بلکہ ان میں قدرتی طور پر ایسی فراست موجود تھی کہ جس سے وہ آئندہ کے حالات جانتے تھے اور وہ بمفاد قول رسول کریم فراسة المومن لا تخطی مومن کی فراست خطا نہیں کرتی ۔جو کچھ کہتے تھے ٹھیک ہوتا تھا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ص۸۴) میرے نزدیک قول کا خطا نہ ہونا یہ بھی ولایت اور علم غیب کی دلیل ہے ۔مثال کے لیے ولی خدا حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کا ایک واقعہ ملاحظہ ہو کتاب چودہ ستارے ص۳۱۵ میں بحوالہ امام شبلنجی مرقوم ہے کہ جس زمانہ میں آپ ہارون رشید کی قید کی سختیاں جھیل رہے تھے ۔امام ابو حنیفہ کے شاگرد رشید ابو یوسف اور محمد بن حسن ایک شب قید خانہ میں اس لیے گئے کہ آپ کے بحر علم کی انتہا معلوم کریں اور دیکھیں کہ آپ علم کے کتنے پانی میں ہیں وہاں پہنچ کر ان لوگوں نے سلام کیا ۔امام (ع) نے جواب سلام عنایت فرمایا ۔ابھی یہ حضرات کچھ پوچھنے نہ پائے تھے کہ ایک ملازم ڈیوٹی ختم کرکے گھر جاتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض پرداز ہوا کہ کل واپس آؤں گا ۔اگر کچھ منگوانا ہو تو مجھ سے فرمادیجئے ،میں لیتا آؤں گا۔ آپ نے ارشاد فرمایا مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں جب وہ چلا گیا تو آپ نے ابو یوسف وغیرہ سے فرمایا کہ یہ بیچارہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں اس سے اپنی حاجت بیان کروں۔ تاکہ یہ کل اس کی تکمیل و تعمیل کر دے لیکن اسے خبر نہیں ہے کہ یہ آج کی رات کو وفات پا جائے گا ۔ان حضرات نے جو یہ سنا تو سوال وجواب کے بغیر ہی واپس چلے آئے اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم ان سے حلال وحرام و اجب و سنت کے متعلق سوالات کرنا چاہتے تھے۔ فاخذ یتکلم معنا علم الغیبمگر یہ تو ہم سے علم غیب کی باتیں کر رہے ہیں ۔ان کے بعد دونوں حضرات نے اس ملازم کے حالات کا پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ وہ ناگہانی طور پر رات ہی میں وفات پا گیا ۔یہ معلوم کرکے یہ حضرات سخت متعجب ہوئے۔(نورالابصارشبلنجی ) بعض روایات سے مستفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مختار جس زمانہ میں قید خانہ ابن زیاد میں تھے اسی زمانہ میں ان (۴۵۰۰)مومنین کے ساتھ جو بجرم محبت آل محمد قید کیے گئے تھے حضرت میثم تمار بھی تھے ۔حضرت میثم نے مختار سے کہا تھا کہ تم عنقریب رہا ہو جاؤ گے اور رہا ہو کر قاتلان حسین سے بدلا لو گے اور حضرت مختا رنے کہاتھا کہ تم رہا ہو جاؤ گے لیکن محبت آل محمد میں تمہارے اعضا ء و جوارج زبان سمیت قطع کیے جائیں گے ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ابن زیاد نے آپ کے ہاتھ پاؤں اور زبان قطع کرکے شہید کر دیا ۔(لواعج الاحزان جلد ۲ص۱۴۷)اسی طرح حضرت مختار نے قید خانہ میں عمر بن عامر ہمدانی معلم کو فہ سے فرمایا تھا کہ تم آج ہی قید سے رہا ہو جاؤ گے ۔چنانچہ وہ اسی وقت رہا ہو گئے ۔(قرة العین و اخذا لثار ابی مخنف ) 

حضرت مختار کی شادی خانہ آبادی

۱۳ھء میں جناب ابو عبیدہ ثقفی کی وفات کے بعد سے حضرت مختار اپنے چچا سعد بن مسعود ثقفی کے ہمراہ رہنے لگے ۔جب آپ کی عمر ۲۵ سال کی ہوئی تو جناب سعد نے آپ کی شادی ام ثابت بنت سمرة ابن جندب الفراری سے کر دی ۔پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ کی دوسری شادی عمرة بنت نعمان بن بشیر الانصاری سے ہوئی ۔یہ بیویاں حضرت مختار کی زندگی بھر موجود رہیں ۔اور ان سے اولادیں ہوئیں ۔حضرت مختار کی شہادت کے بعد ۶۷ھء میں اول الذکربیوی تو محفوظ رہی اور آخر الذکر بیوی مصعب ابن زبیر کے لشکر کے ہاتھوں قتل کردی گئی۔ (نور المشرقین حصہ اول باب ۶ ص۱۰۹ طبع کراچی ۱۹۵۲ءء) 

حضرت مختار کا ذکر کتب آسمانی میں

علما کا بیان ہے کہ حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی اور ان کے کا رنامے کا ذکر کتب آسمانی میں ہے علامہ محمد ابراہیم مجتہد کتب سلف کا ذکر کرتے ہوئے ۔بحوالہ معید ابن خالد جدلی رقمطراز ہیں کہ کتب سابقہ میں مرقوم ہے کہ شخصے از ثقیف پیدا خواھد شد و ظالمان راخواہد کشت وبداد مظلومان خواہد رسید وانتقام ضعفا خواہد کشید کہ بنی ثقیف سے ایک زمانہ میں ایک شخص پیدا ہوگا ۔ 

وہ ظالموں کو قتل کرے گا ۔اور مظلوموں کی دادرسی اور دلجوئی کا سبب بنے گا ۔اورضعیف و کمزور لوگوں پر جو مظالم ہوئے ہیں ان کا بدلہ لے گا۔ (نورالابصار ص۲۲) علامہ محمد باقر علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں کہ قرآن مجید میں جو یہ آیت ہے ۔لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علواکبیرا۔تم لوگ روئے زمین پر ضرور دو مرتبہ فساد پھیلاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے (پ15رکوع) اس میں حضرت مختار کا ذکر ہے ۔اس آیت کی تفسیر کے دو پہلو میں ایک ظاہر ی اور دوسر ا باطنی ۔ظاہر طورپر اس کی تفسیر یہ ہے کہ پہلی دفعہ ارمیا پیغمبر کا حکم نہ ماننا اور اشعیا پیغمبر کا قتل کرنا ۔دوسری دفعہ حضرت زکریا (ع)و یحییٰ (ع) کو شہیدکرنا اور حضرت عیسیٰ(ع) کے قتل کا ارادہ کرنا ہے اور باطنی تفسیر اس کی یہ ہے۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) ارشاد فرماتے ہیں کہ دوبار فساد پھیلانے کے متعلق جو خداوندعالم نے فرمایا ہے اس میں ایک تو حضرت علی (ع) کا قتل کرنا اور حضرت امام حسن پر طعنہ زنی ہے اور دوسرے امام حسین (ع) کا قتل ہے ظہور قائم آل محمد سے قبل ان کا بدلہ لیا جائیگا اور بدلا لینے والا ایسا ہوگا کہ کسی دشمن آل رسول (ص) کو نظر اندازنہ کرے گا ۔ علامہ موصوف لکھتے ہیں کہ بدلہ لینے والا وہی بہادر ہے جس کا نام ہے مختار اور آیت کی باطنی تفسیر میں مختار ہی صرف اس لیے آتے ہیں کہ ظہور قائم آل محمد سے قبل محمد وآل محمد پر جو مظالم ہوئے ہیں دنیا میں ان کا بدلہ مختار کے سوا کسی نے نہیں لیا۔ 

(دمعۃ ساکبہ ص 412 وتفسیر صافی ص 258) حضرت آقا ئے دربندی تحریر فرماتے ہیں کہ جس طرح واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین (ع) کا ذکر کتب سماوی میں ہے ۔ فلذ الک انتقام المختار من الکفار ۔ اس طرح حضرت مختار کے انتقام لینے کا ذکر بھی کتب سماویہ میں ہے ۔ (اسرارشہادت ص 571 ) علامہ حسام ابواعظ ، عطا الدین تحریر فرماتے ہیں کہ واقعہ مختار کے سلسلہ میں نہروان کی جنگ کے موقع پر ایک راہب نے بھی اس کا اقرار کیا ہے کہ حضرت مختار کا ذکر توریت اور انجیل میں ہے۔ (رو ضۃالمجاہدین) 

جناب مختار حضرت رسول کریم (ص) کی نظر میں

یہ ظاہر ہے کہ جناب مختار نے جو کارنامہ انظار عالم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ وہ مختار کے دست و بازو کی تنہا کارکردگی نہیں تھی بلکہ ان کے ساتھ تائیدات شامل حال تھیں ۔ تواریخ و سیراور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مختار کے ساتھ خداوندعالم ، رسول کریم (ص) اور شیر خدا کی خصوصی تائید تھی رب العزت کا قرآن مجید میں ذکر فرمانا ۔ رسول کریم (ص) کا ولادت مختار سے قبل بشارت دینا حضرت علی (ع) کا آغوش میں لے کر مختار کے سر پر ہاتھ پھیرنا اور ایسے الفاظ زبان مبارک پر جاری کرنا جو ہمت افزا ہوں یہ بتاتا ہے کہ ان حضرات کی تائید شامل حال تھی اور ان لوگوں کی نگاہ میں مختار کو بلند مقام حاصل تھا۔ پھر رسول خدا (ص)کا وہ خط جو مختار کو بوقت خروج دیا گیا وہ سونے پر سہاگہ ہے اور چونکہ ان حضرات کی نظر میں مختار کو بلند مقام حاصل تھا اور ان کی تائیدات غیبی شامل حال تھیں ۔ اسی وجہ سے مختار قہر خدا بن کر دشمنان آل محمد کیلئے ابھرے اور انہیں ان کے کردار کا وہ مزہ چکھایا جس کی تلخی ان کی نسلوں کے حلقوں سے شام ابد تک نہ جائے گی۔ علامہ راشد الخیری لکھتے ہیں ، مختار کا دَور حقیقةً خدائی قہر تھا جس نے دشمنان اہل بیت (ع) کو ان کے اعمال کا مزا چکھا دیا ۔ ورنہ مختار کو حکومت یا سلطنت سے واسطہ نہ تھا۔ (سیدہ کا لال ص 224 طبع نہم محبوب المطابع دہلی 1943ء) 

 

عبداللہ ابن سبا اور مختار ثقفی

آنحضرت کے بعد حضرت عثمان غنی کے ابتدائی نصف عہد خلافت تک بظاہر ملت اسلامیہ میں امن وسکون تھا ۔اور 30 ء ہجری تک مسلمانوں نے دنیا کا اتنا بڑا رقبہ اہم فتح کرکے اپنی حکومت وسیاست میں شامل کر لیا تھا کہ باقی بچا ہوا تاریک رقبہ اس منوررقبہ کے مقابلہ میں کوئی قدر قیمت اور اہمیت نہیں رکھتا تھا اور اسلام دنیوی طاقتوں کے مجموعہ کو بآسانی کچل سکتی تھی ۔لیکن راس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بروز ثانی عبد اللہ بن سبا صنعانی یہودی نے اسلامی جامہ پہن کر اور دوسرے منافقوں سے تقویت پاکر اور بہت سے نو مسلموں کو فریب دے کر وہ سب سے پہلا فتنہ امت کے مسلمہ میں برپا کیا جس نے اسلام کو مٹائے ہوئے خاندانی امتیاز اور نسلی عصیبت کو تعلیمات اسلامیہ اور مقاصد ایمانیہ کے مقابلہ میں پھر زندہ اور بیدار کرکے مسلمانوں کو مبتلائے مصائب اور خانہ جنگی میں مصروف کر دیا ۔اور مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ خانہ کعبہ کی بے حرمتی کا انتقامی جذبہ کے مقابلہ میں گوار اکیا ۔بلکہ عبد اللہ ابن سبا کے بروز ثانی مختار ابن ابی عبیدہ بن مسعود ثقفی کی مشرکانہ تعلیم اور کفریہ دعاوی کو بھی جزوایمان سمجھ لیا سلیمان بن صردخزاعی ہاشمیوں اور شیعیان علی کو فراہم کرکے جنگ عین الوردہ میں ہزار ہا مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کراچکا تھا کہ مختار مذکور نے محمد بن حنفیہ(ع) برادرامام حسین (ع) اور عبداللہ ابن عمر کو دھوکا دے کر کوفہ میں اپنی مقبولیت و رسوخ کیلئے راہ نکالی اور حضرت امام حسین (ع) کی شہادت اور حادثہ کربلا کے دل گداز واقعات و حسرتناک تذکرہ کو آلہ کار بنا کر عبداللہ ابن سباوالے فتنہ خفتہ کوبیدار کرکے خاندانی امتیازات اور قبائلی عصبیتوں میں جان ڈال دی پھر اس کے بعد قوت ، شوکت اور کوفہ کی حکومت حاصل کرچکا تو بجائے اس کے کہ ابتدائی دعادی و اعلانات کے موافق علویوں کو حکومت دلاتا ، مسلمانوں کو مشرک و کافر بنا نا شروع کیا۔ اس نے نہایت چالاکی سے کوفہ والوں کو اپنی کرامتوں اور خوارق عادات طاقتوں کا یقین دلایا کوفیوں کی مدد سے حاکم کوفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے خود حاکم کوفہ بن گیا … 

بہرحال کو فہ والوں نے جو مختار مذکور کے فریب میں آگئے اس کا سبب سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ ان کی غالب تعداد حقائق قرانی سے غافل اور تعلیمات اسلامیہ میں ادھوری تھی ۔ الخ ص 9۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ مضمون نگار نے مذکورہ عبارت میں اپنے ان جذبات کو پیش کیا ہے جو بعض للہی کے طور پر اس کے دل میں پیدا تھے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ بنی امیہ کی پرستاری کا یہی جذبہ شاہکار ہوتا ہے انہیں حقیقت سے بحث نہیں ہوتی یہ وہ سب کچھ کہنا چاہتے ہیں جو ان کے دل میں محبت بنی امیہ کے جذبہ کے ماتحت پیدا ہو۔ اس مضمون میں انتشار اسلام کی تمام تر ذمہ دار عبداللہ ابن سبا اور حضرت مختار پر عائد کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت عثمان کی خلافت کے نصف عہد تک ملت اسلامیہ میں امن و سکون ابن سبا نے اس سکون کو برباد کیا اور اسی کی پیروی مختار ثقفی نے کی۔ میں کہتا ہوں کہ مضمون نگار نے مذکورہ بیان میں اپنی تاریخ سے مکمل ناواقفیت کا ثبوت دیا ہے اس میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا جواب ہماری کتاب مختار آل محمد کے صفحات سے حاصل ہوگا ہم اس مقام پر صرف دو باتیں بتانا چاہتے ہیں ۔ (1) حضرت عثمان کے نصف عہد خلافت سے فتنہ کی ابتداء ناقابل تسلیم ہے۔ اسلام میں فتنہ کی بنیاد اسی وقت پڑگئی تھی جس وقت حضرت رسول اکرم (ص) کو قلم و دوات دینے سے انکار کردیا گیا تھا ور نص خدا و رسول (ص) کے خلاف خلافت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی جیسا کہ علامہ شہرستانی نے کتاب ملل و نحل میں تحریر فرمایاہے ۔ (2) حضرت مختارکو جس کا بروزثانی قرار دیا گیا ہے اس کا وجود ہی نہیں ہے یعنی عبداللہ ابن سباء کے وجود سے تاریخ ورجال کا استناد قاصر ہے یہ بالکل اسی طرح کا ایک افسانوی ہیرو ہے جس طرح آج بھی ناولوں میں بنائے جاتے ہیں۔ 

یزید کی موت چار ہزار پانچ سو محبان علی کی قید سے رہائی

یزید کی موت چار ہزار پانچ سو محبان علی کی قید سے رہائی شام میں مروان کی حکومت اورحضرت مختار کی مکہ سے کوفہ کو روانگی رسیدگی و گرفتاری اور سلیمان ابن صرد وغیرہ کی انتقامی مہم و شہادت حصرت مختار ابھی مکہ ہی میں اور بروایت مدینہ میں تھے کہ یزید لعین کا انتقال ہوگیا انتقال یزید کے متعلق موٴرخ طبری کا یبان ہے کہ یزید شام کے ایک دیہات میں فوت ہوا جس کا نام حوارین تھا اس کی عمر 39 سال تھی۔ اس کی وفات بروز بدھ 10 ربیع الاول 63 ، 64 ھ ئکو ہوئی ہے مدت حکومت تین سال آٹھ مہینے تھی۔ (تاریخ طبری جلد 4 ص 644) علماء کا بیان ہے کہ واقعہ کر بلا کی وجہ سے یز ید ایسی بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ جس کی تشخیص ناممکن تھی ۔تمام اطبا نے بالاتفاق کہہ دیا۔ کہ اسے کوئی خاص بیماری معلوم نہیں ہوتی۔ 

سوا اس کے کہ قتل فرزند رسول کا تاثرا سے ستارہا ہے اور اس کا علاج سیرو تفریح اور شکار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسی بنا پر یزید اکثر شکار کو جایا کرتا تھا ۔ ایک دن وہ دس ہزار سواروں کو ہمراہ لے کر شکار کے لیے نکلا۔ اور دمشق سے دوشبانہ روز کی دوری تک چلا گیا ناگاہ اس کو ایک خوبصورت ہرن نظر پڑا اس نے اس کے پیچھے گھوڑا ڈال دیااور اپنے لشکریوں کو حکم دیا کہ کوئی میرے ہمراہ نہ آئے وہ لوگ تو اپنے اپنے مقام پر ٹھہرگئے اور یہ اس کے پیچھے بڑھتا چلا گیا۔ ہرن جوتیزی سے ایک کے بعد دوسرے جنگل کو طے کررہا تھا وہ ایک ایسی اوجاڑ اور خوفناک وادی میں پہنچا جو دل ہلادینے والی تھی۔ جب یہ دونوں اس وادی کے درمیان میں پہنچے اور یزید نے چاہا کہ جھپٹ کر اس پر حملہ کر دے تو ناگاہ وہ نظروں سے غائب ہوگیا۔ یہ دیکھ کر یزید سخت حیران ہوا اور چونکہ اس پر پیاس کا شدید حملہ ہوچکا تھا اس لیے وہ پانی کی تلاش میں سرگرداں ہورہا تھا کہ ایک شخص مشکیزہ لیے ہوئے نظر پڑا یہ تیزی سے اس کی طرف بڑھ کر بولا خدا را مجھے ذرا سا پانی پلا دو اس نے پوچھا تو کون ہے یزید نے جواب دیا میں امیر یزید ہوں شام کا بادشاہ اس نے کہا تجھے شرم نہیں آتی ۔ فرزند رسول حضرت امام حسین (ع) کو پیاسا قتل کرکے ہم سے پانی مانگتا ہے ۔ اے ملعون ہم تجھے پانی نہیں دے سکتے اور اب ہم تجھ پر حملہ کرتے ہیں تو اس کو رد کرنے کی سعی کر۔ یہ کہہ کر اس شخص نے جودراصل ملک تھا ایک زبردست حملہ کیا ۔ یزید نے شمشیر نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کے حملہ کرتے ہی اس کا گھوڑا بھڑکا اور یہ زمین کی طرف مائل ہوا ، ناگاہ ایک آگ کا گرز اس کے چہرے پر پڑا اور اس کے ٹکڑے اڑگئے اور حکم خدا سے ایک عظیم طائر نے اسے نگل لیا اور وہ طائر قیامت تک اسے اگل کر نگلتا رہے گا اور خداوندعالم اسے زندہ کرکے طائر کی پارید گی کے ذریعہ سے اسے تاقیامت عذاب الہٰی کا مزہ چکھاتا رہے گا ۔ ایک روایت کی بنا پر جب یزید کا گھوڑا بھڑکا تھا اس کی رکاب میں اس ملعون کا ایک پیررہ گیا تھا ۔ علامہ حسام الواعظ کا بیان ہے کہ یزید کتے کی شکل میں مسخ ہوگیا تھا۔ یزید کے لشکر میں دس افراد ہم نوالہ وہم پیالہ بھی تھے جب یزید کی واپسی میں غیر معمولی تاخیر ہوئی تو یہ لوگ اس کے تفحص اور تجسس میں آگے بڑھے ایک روایت کی بنا پر وہ بھی وہاں پہنچ کر جس کا نام بروایت قرة العین وادی جہنم تھا واصل جہنم ہو گئے اور دوسری روایت کی بنا پر جب وہ لوگ وادی کی طرف بڑھ رہے تھے انہیں یزید کا گھوڑا نظر آیا انہوں نے دیکھا کہ اس کا رکاب میں یزید کا ایک پیرلٹکا ہوا ہے یہ دیکھ کر فریاد و فغاں کرتے ہوئے دمشق کی طرف واپس چلے گئے۔ 

مزید  کلینی کے بارے میں

ایک روایت میں ہے کہ جیسے ہی ان لوگوں کی نگاہ رکاب فرس پر پڑی ایک خوفناک فضای آواز نے ان کے دل ہلا دئیے ے یہ آواز ایسی تھی جس کے صدمہ سے بعض دم دے بیٹھے اور بعض بھاگ کر نیم جاں دمشق جاپہنچے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اس آواز نے جو زبانیہ جہنم کی تھی سب کو نیست و نابود کردیا ۔ اخذ الثار و انتصار المختار لابی مخنف ضمیمہ بحار جلد 10 ص 485وقرة العین ص 133 و نور الابصار ص 55) وفات یزید سے ملک میں انتشار اور شیعیان علی کی قید سے رہائی یزید کی گم گشتگی اور اس کے دس خصوصی دوستوں کی عدم واپسی اور ناپیدگی کی وجہ سے لشکر یزید سخت حیران و پریشان چکر کھاتا رہا۔ بالاخر اسے یقین ہوگیا کہ یہ لوگ کسی عذاب میں مبتلا ہوکر جان عزیز دے بیٹھے ہیں اس تیقن کے بعد یہ لشکر سرگرداں وارد دمشق ہوا ۔ 

اس کے دمشق میں پہنچتے ہی انتشار عظیم پیدا ہوگیا۔ ممالک محروسہ میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوگیا جو یہاں یزید کی طرف سے حکومت کرتا تھا۔ وہ خود مختار حاکم بن گیا دمشق میں دو قسم کے خیالات رونما ہوگئے بعض خیالات یزید کی ہمدردی سے متاثر تھے اور بعض اس کی موت سے فرحناک تھے۔ 

واستنبہ المومنون فتبادرواالی وارہ وذبحو ا اولادہ و حریمہ واخذواجمیع مالہ۔ یزید کے مرنے کی جونہی اطلاع شیعیان علی بن ابی طالب کو ہوئی وہ والئی کوفہ کی طرف دوڑ پڑے اور انہوں نے مکان کو گھیرے میں لے کر اس کے بعد اولاد اور حریم کو قتل کردیا اور مال و دولت لوٹ لیا۔ (قرة العین ص 134 ) مومنین ان لوگوں کے قتل و غارت میں مشغول ہی تھے کہ بنی امیہ کا ایک عظیم فوجی دستہ آگیا دونوں میں باہمدگرتادیر جنگ ہوئی بالآخر لوٹا ہوا مال واپس ہوگیا۔ (نورالابصار ص 56) علماء وموٴرخین کا بیان ہے کہ یزید کے مرنے کی جونہی خبر کوفہ میں پہنچی شیعیان علی بن ابی طالب (ع) جو اپنے کو شیعہ ظاہر نہ کرسکتے تھے رونما ہوگئے اور سب نے یکجا ہوکر ابن زیاد کے مکان پر حملہ کیا ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا یہ لوگ ۔ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ کے مسلسل نعرے لگارہے تھے ان لوگوں نے اس کے مکان کو گھیر لیا اور اسے اچھی طرح لوٹا انہیں جو مِلا اسے تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد یہ لوگ اس قید خانہ کی طرف چلے جس میں چار ہزار پانچ سوشیعیان علی بن ابی طالب گرفتار تھے یہ وہی قید خانہ تھا جس میں اس سے قبل حضرت مختار بھی گرفتار تھے اس قید خانہ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی اس کے قیدی عموما ً بھوکے پڑے رہتے تھے اور اکثر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ حصرت مسلم بن عقیل جب کوفہ تشریف لائے تھے تو ان کے منصوبہ میں ان لوگوں کی رہائی بھی تھی یہ قیدی کوفہ اور اطراف کو فہ کے باشندے تھے انہیں اس درجہ مجبور رکھا گیا تھا کہ یہ زندگی کی سانس لینے سے بھی عاجز تھے ان کی اسی قید نے انہیں مسلم بن عقیل اور حضرت امام حسین (ع) کی امداد سے روک رکھا تھا ۔ عالم اہل سنت امام عبداللہ ابن محمد لکھتے ہیں۔ کان یزید مولی ابن زیاد علی الکوفہ والبصرة فکان یقیم فی کلاھما ستة اشھر وکان فی ذالک الوقت فی البصرة وکان فی جسہ الذی بالکوفة اربعة الاف و خمساة فارض وھم الذین کانوا مع المختار مقیدون مظلومون لم یتمکنوامن ذالک علی نصرة الحسین فلما جاالخبربھلاک یزید فادل مافعلوااھل الکوفة نھبرادار ابن زیاد و قتلوا اصحابہ وادلاد وھتکم احریمہ واخذ واخیل رجالہ وکرواجبہ وارخرجوامن فیہ فکان فیھم سلیمان من صردالخزاعی وسعید بن صفوان ویحیی من عوف ومثلھم من الابطال واشجعان فلما خرجواتقا سمو الخیل والمال وھلکو الباقین من اھل ابن زیاد ولم یبق منھم الانفرقدھرب وسار الی البصرہواعملہ بما حصل (قرة العین ص 134 ، طبع بمبئی) یزید ابن معاویہ نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ اور بصرہ کا گورنر بنا رکھا تھا ۔ وہ دونوں مقامات پر چھ چھ ماہ قیام کیا کرتا تھا۔ 

ہلاک یزید کے وقت وہ بصرہ میں مقیم تھا اس کے اس قید خانہ میں جو کوفہ میں تھا چار ہزار پانچ سو بہادر قید تھے یہ وہی لوگ تھے جو حضرت مختار کے ساتھ گذشتہ دنوں میں وہاں موجود تھے اور مقید تھے اور سخت ظلم کی سختیاں برداشت کررہے تھے یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حضرت امام حسین (ع) کی امداد نہ کرسکے تھے جب یہ خبر پہنچی کہ یزید ہلاک ہوگیا ہے تو اہل کوفہ نے سب سے پہلَے ابن زیاد کے مکان کو لوٹا اور اس کے ہر کاروں اور اولاد کو قتل کیا اور اس کے داشتہ یا دیگر عورتوں کی بے حرمتی کی اور اس کے مال مویشی کو لوٹا اور اس کے قید خانہ کو توڑ کر اس میں سے ان سب کو رہا کردیا جو اس میں تھے … اسی قید خانہ میں سلیمان بن صرد خزاعی ، سعید ابن صفوان یحییٰ بن عوف اور انہیں کے مثل بڑے بڑے بندتھے ۔ جب یہ لوگ قید خانہ سے نکلے تو انہوں نے گھوڑے اور مال بانٹ لیا اور ابن زیاد کے جو کچھ لوگ باقی رہ گئے تھے سب کو قتل کرڈالا یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص کے علاوہ جو بھاگ کر بصرہ پہنچا اور اس نے اس واقعہ کی خبر دی اور کوئی باقی نہ بچا۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ اسی قیدخانہ میں حضرت ابراہیم بن مالک اشتر نخعی اور صعبصعة العبدی بھی تھے۔ (اخذ الثار ص 486 طبع ایران نورالابصار ص 56 طبع لکھنو) قید خانہ سے رہائی کے بعد بالاتفاق یہ فیصلہ ہوا کہ سب کو مجتمعا امام حسین کے خون کا بدلا لینا چاہیے چنانچہ جملہ سرفروشان اسلام جناب سلیمان بن صردخزاعی کے مکان پر جمع ہوگئے یہ بزرگ صحابی رسول ہونے کے علاوہ اور بہت سے صفات سے متصف تھے ۔ استیعاب میں ہے کہ یہ مرد نیک فاضل و عابد اور بڑے مجاہد تھے ، فتح مکہ جمل و صفین میں انہوں نے کارہائے نمایاں کیے تھے ان کا نام عہد جاہلیت میں”یسار “تھا لیکن سرور عالم (ص) نے سلیمان رکھ دیا تھا ۔ ابن زیاد کی قید میں ہونے کی وجہ سے یہ بھی واقعہ کربلا میں شریک نہ ہوسکے تھے وہ حضرات امام حسین (ع) کی مدد نہ کر سکے ان میں نمایاں حیثیت حضرتسلیمان بن صرد خزاعی ۱ مسیب ابن نخبہ ضراری عبدالہ ابن سعید بن نفیل ازدی عبداللہ ابن والی تمیمی رفاعہ بن شداد کو حاصل تھی ۔ یہ حضرات رسول کریم اور علی حکیم کے اصحاب کبار میں سے تھے۔ جب تمام حضرات جناب سلیمان بن صردخزاعی کے مکان پر جمع ہوگئے تو سلیمان بن صرد نے کھڑے ہوکر ایک درد بھری تقریر کی جس میں آپ نے اس وقت کے موجود حالات پر روشنی ڈالی اور اپنے ساتھیوں سے یہ کہا کہ ہمارے دلوں میں لگی ہوئی صدمہ کی آگ اس طرح بھج سکتی ہے کہ ہم میدان عمل میں نکل آئیں اور دشمنان و قاتلان حسین کو گن گن اور چن چن کر ماردیں آپ کی تقریر کے بعد رفاعہ بن شداد کھڑے ہوگئے۔ 

اور انہوں نے آپ کی تقریر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بے شمار دشمنوں سے چونکہ اس سلسلہ میں مقابلہ کرنا پڑے گا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم کسی کو اپنا (کمانڈر سردار مقرر کرلیں تاکہ منظم طور پر بدلا لینے میں کامیابی حاصل کرسکیں ۔ اور سنو میری نگاہ میں اس منصب کیلئے سلیمان بن صرد سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ رفاعہ کے بعد مسیب بن نخبہ نے کہا کہ میں رفاعہ کی پوری پوری تائید کرتا ہوں ۔ بے شک ہم سب میں ان کو مختلف حیثیتوں سے تفوق حاصل ہے مسیب کی تقریر کے بعد سب نے متفقہ طور پر جناب سلیمان بن صرد کو اپنا رئیس وسردار تسلیم کر لیا اور سب کے سب خون بہا کی خاطر جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ حضرت سلیمان بن صرد نے قوم کے ابھرتے ہوئے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنے خصوصی جذبہ انتقام کی رعایت سے پوری پوری توجہ مبذول کردی اور یہ طے کر لیا کہ یا تو قاتلان حسین (ع) کو قتل کردیا جائے گا ۔ یا ہم لوگ خود سرسے گزرجائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے دیار و امصار میں خطوط روانہ کرنا شروع کردیے اور اپنی پوری کوشش سے کیثر تعداد میں شیعیان علی بن ابی طالب کو فراہم کرلیا ۔ حضرت سلیمان نے سب سے پہلے جن لوگوں کو خطوط لکھے ان میں سعد بن خذیفہ یمانی اور مثنی بن مخزمة العبدی تھے ۔ یہ لوگ مدائن میں قیام پذیر تھے ۔ انہوں نے حضرت سلیمان کو نہایت امید افزا جواب دیا ۔ (ذوب النضار ص 403 ، نورالابصار ص 60) حضرت سلیمان تکمیل خروج کی تیار ی میں مصروف و مشغول تھے کہ حضرت مختار مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ 

ابن زیاد کی بصرہ سے روانگی اور سلیمان کی پیش قدمی

ادھر حضرت مختار قید خانہ میں داخل کردیئے گئے ادھرسلیمان بن صرد خزاعی کو اطلاع ملی کہ ابن زیاد بصرہ سے بہ ارادہ شام روانہ ہورہا ہے۔ سلیمان بن صرد نے فیصلہ کیاکہ کوفہ سے روانہ ہوکر شام کے راستے ہی میں ابن زیاد کو قتل کردیا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد حضرت سلیمان بن صرد بارادہ قتل ابن زیاد کوفہ سے سمت بصرہ روانہ ہوگئے ایک روایت کی بنا پر آپ کے ہمراہ چار ہزار پانچ سو بہادر تھے آپ نے شام اور بصرہ کے ایک درمیانی شارع پر اپنا پر اجما دیا ۔ خیال تھا کہ ابن زیاد اسی طرف سے گذرے گا ۔ اور ہم اسے پکڑ کر قتل کردیں گے تھوڑے عرصہ انتظار کے بعد بصرہ کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ ابن زیاد جو حاکم بصرہ بھی تھا کو یزید کی موت کی جونہی اطلاع ملی سخت حیران و پریشان ہوا وہ ابھی اسی تردد میں تھا کہ کوفہ کی خبریں اسے وصول ہوگئیں۔ اب تک وہ یہ رائے قائم نہ کرسکا تھا کہ مجھے کیاکرنا چاہیے کہ نگاہ بروایت رو ضۃ المجاہدین نامہ برکبوترنے مروان بن حکم کا ایک خط پہنچایا جس میں لکھا تھا کہ یزید کا انتقال ہوگیا ہے اور ہر طرف طوائف الملوکی نے زور پکڑلیا ہے دمشق پرقبضہ جمانے کے لیے عبداللہ بن عمر پورا زور لگا رہا ہے لہٰذا جس طرح ممکن ہوسکے تو جلد سے جلد دمشق پہنچ جا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ابن زیاد نے فورا منادی کے ذریعہ سے مسجد جامع میں لوگوں کو جمع کیا ۔ جب اجتماع ہوگیا تو وہ منبر پر گیا لوگوں کو اس کی اطلاع نہ تھی کہ یزید ہلاک ہوگیا ہے اور لوگ یہ بھی نہ جانتے تھے کہ کس لیے سب جمع کیے گئے ہیں ابن زیاد نے اہل بصرہ سے کہا کہ یزید کو کوئی ضرورت لاحق ہوگئی ہے اور اس نے مجھے جلد سے جلد دمشق پہنچے کا حکم دیا ہے اس لیے میں یہاں سے جارہا ہوں اور تم پر اپنا قائم مقام اپنے بھائی عثمان بن زیاد کو کیے جاتا ہوں تم لوگ اس کی اطاعت کرنا اور اس کے حکم کو ناقد سمجھنا ۔ اگر مجھے وہاں زیادہ دنوں تک رہنا پڑا ۔ تو میں تمہیں مسلسل خطوط لکھتارہوں گا ورنہ خیال ہے کہ جلد سے جلد تم تک واپس پہنچ جاؤں گا ان لوگوں نے سمعاوطاعة کہہ کر جواب دیا اور وہ منبر سے نیچے اترآیا اس کے بعد کہنے لگا کہ تم میں کون ایسا ہوشیار شخص ہے جو مجھے مناسب راستے سے شام پہنچا دے ، اور سنو جو اس خدمت کو میری مرضی کے مطابق سرانجام دے گا اسے میں اپنے دونے وزن کے برابر سونا دوں گا ۔ یہ سن کر عمر بن جارود جواپنی قوم کا سردار اور بنی امیہ تھا اٹھ کھڑا ہوا کہنے لگا۔ اے امیر یہ فریضہ میں ادا کروں گا اور تجھے اس خوبصورتی وسہولت سے دمشق پہنچا گا کہ توبھی تاقیامت یاد رکھے گا اے امیر میں تجھے اپنے بزاقہ میں سوار کرکے لے چلوں گا اور دمشق پہنچا دوں گا 

اور سن میں تیری حفاظت کے لیے اپنے جملہ فرزند اور خادم ہمراہ لے چلوں گا میرے اکیس بیٹے ہیں اور سب بڑے بہادر ہیں میرا ایک بیٹا بیس سواروں کے برابر ہے یہ سن کر ابن زیاد خوش و مسرور ہوگیا اور کہنے لگا کہ اگر تیرے یہ خیالات اور تیرا یہ عزم ہے تو سن میں تجھے دونی کے بجائے چوگنی بخشش دوں گا یعنی اپنے وزن کے چار گنا برابر تجھے سونا دوں گا اور یہی نہیں بلکہ ایسا بھی کروں گا کہ تجھے اپنا مقرب بنالوں گا اور یزید کے بھی خواص میں تجھے داخل کردوں گا بس اب تو یہ کر کہ مجھے اقرب طرق سے جس قدر جلد ممکن ہوسکے دمشق پہنچا دے اور یہ بھی سن لے کہ میں تیرے ساتھ ایک ہووج میں سوار ہوں گا اور جوکچھ تجھے دینا ہے وہ سارے کا سارا دوسرے ناقہ پر لاد کر لے چلوں گا اس کے بعد ابن زیاد نے عمر بن جارود کو حکم دیا کہ اپنے گھروالوں سے رخصت ہوکر ایسے وقت پر یہاں پہنچ جائے کہ روانگی کے بعد ظہر سے قبل بصرہ سے کئی میل دور نکل چلیں اس نے اسے قبول کرلیا اور گھروالوں سے رخصت ہونے کے لیے ابن زیاد کے پاس سے چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد تیار ہوکر حاضر ہوا۔ عمر بن جارود کے پہنچتے ہی ابن زیاد نے حکم دیا کہ سفر کے لیے میرا ناقہ لایا جائے اور اس پر عمدہ قسم کا ہووج باندھ دیا جائے ، اس کے بعد خود سامان سفر درست کرنے لگا ابن زیاد کے چار بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے کی عمر دس سال تھی سب تیار ہوکر گھر سے باہر نکل آئے اس کے بعد ابن زیاد چار سو غلاموں اور پندرہ مخصوصین سمیت سواریوں پر سوار ہوا اور ابن جارود اپنے لڑکوں سمیت ناقوں پر سوار ہوا اور سوخچروں یا ناقوں پر سامان لادا گیا اور روانگی عمل میں آئی یہ قافلہ بڑھتا چلا جارہا تھا کہ راستے میں چار ہزار پانچ سو اہل کوفہ جو قید سے رہا ہوئے تھے مسلح موجود تھے ابن جارود کے فرزندوں میں ایک ایسا فرزند بھی تھا جو ایک فرسخ سے زائد کی دوری کے آنے والے کو پہچان لیتا تھا کہ یہ کون ہے آنے والا آیا لشکر ہے یا جانور ، سواروں کا گروہ ہے یا پیادوں کا چلتے چلتے اس نے ایک مقام پر محسوس کیا کہ کوئی لشکر کوفہ کی سمیت سے اسی راستے پر آرہا ہے اس نے فوراً اپنے باپ سے کہا کہ کوفہ کی طرف سے ایک عظیم لشکر آتا ہوا نظر آتا ہے مجھے گمان ہے کہ یہ ہمارے لیے آرہا ہے اور اب یقینی طور پر خطرہ ہی خطرہ ہے یقینا ان لوگوں کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ابن زیاد ہمارے ہمراہ عازم سفر ہے۔ یہ سن کر ابن جارود ابن زیاد کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے اب صحیح واقعہ بتا اور اپنی روانگی کا سبب واضح کرورنہ ہم سب مارے جائیں گے ابن زیاد نے کہا کہ سن بات یہ ہے کہ یزید بن معاویہ ہلاک ہوگیا ہے اور مجھے اطلاع ملی ہے کہ اہل کوفہ نے میرے دارالامارة پر حملہ کرکے میرا سب کچھ لوٹ لیا ہے مال مویشی سب لے گئے ہیں خزانہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اس قید خانہ کو توڑ دیا ہے جس میں چار ہزار پانچ سو شیعیان علی گرفتار تھے مجھے گمان ہے کہ انہیں یہ اطلاع مل گئی ہے کہ میں بصرہ سے دمشق جارہا ہوں مجھے ظن غالب ہے کہ یہ لشکر ہماری ہی تلاش میں آرہا ہے اے ابن جارود اب تو میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور میرے حواس قابو میں نہیں ہیں یقینا یہ لوگ مجھے قتل کریں گے۔ عمر بن جارود نے کہا کہ اے ابن زیاد تو نے جوبات بتائی ہے اس سے تو بالکل واضح ہے کہ جان کا اب بچنا نا ممکن ہے البتہ میں ایک حیلہ تجھ سے بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تجھے ایک ناقہ کے شکم میں باندھ دیا جائے اور اس ناقہ پر مشکیزے مسدود کردئیے جائیں اور اس ناقے کو دیگر ناقوں کے درمیان کردیا جائے کیونکہ یہ لشکر ناقوں ہی کا جائزہ لے گا اور خدا کی قسم اگر انہوں نے تجھے دستیاب کرلیا تو ہرگز تیر اایک قطرہ خون بھی نہ چھوڑیں گے۔ ابن زیاد نے کہا کہ بہتر ہے ایسا ہی کرو بہرصورت جان بچانی ضروری ہے اس کے بعد ابن جارود ایک ناقہ لایا اور اس کے پیٹ میں ابن زیاد کولپیٹ کر باندھ دیا اور اس کے داہنے بائیں ہوا سے بھر کر مشکیزے باندھ دئیے اور ان پر ایک جل لٹکا دیا۔ اس کے بعد یہ لوگ آگے کو روانہ ہوگئے۔ ابھی دیرنہ گذری تھی کہ لشکر کوفہ زیر قیادت حضرت سلیمان بن صردخزاعی وہاں جاپہنچا ۔ وہ لشکر یالثارات الحسین ، کے نعرے لگا رہا تھا یہ دیکھ کر ابن جارود گھبرا گیا لیکن حوصلہ پر قابو رکھتے ہوئے بولا۔ اے لوگو! تم کس سے امام حسین (ع) کے خون کا بدلا چاہتے ہو ۔ ان لوگوں نے کہا کہ عبیداللہ ابن زیاد سے اس نے کہا کہ وہ یہاں کہاں ہے ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہمیں موثق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ تیرے ہمراہ بصرہ سے دمشق کے لیے روانہ ہورہا ہے اور یقینا تیرے ہمراہ ہے۔ عمر بن جارود نے کہاکہ اے لوگو! سنو ، نہ اس وقت ہم تاریکی میں ہیں نہ کسی دیوار کی آڑ میں ہیں نہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی پردہ حائل ہے ہم لوگ اِس بے آب و گیاہ بیابان میں ہیں کھلے ہوئے جنگل میں ہیں ہمارے ناقے تمہارے سامنے ہیں تم اچھی طرح ان کی تلاشی لے لو اگر ابن زیاد برآمد ہوجائے تو جو تمہارا جی چاہے کرنا۔ یہ سن کر ان لوگوں نے ابن زیادکی تلاشی کے لیے نا قوں کی تلاشی لینی شروع کی اور تادیر اچھی طرح تلاشی لی ۔ 

مگر وہ ملعون برآمد نہ ہو ا ۔ان لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ کسی اور راستے سے دمشق کے لیے نکل گیا ہے لیکن کوئی اس نتیجہ پر نہ پہنچا کہ وہ بطن نا قہ سے بندھا ہوا ہے حضرت سلیمان بن صرد نے ابن زیاد کی عدم برآمدگی کے بعد کہا کہ خدا کی قسم ہما را مخبربالکل سچاِہے یقنیاََ ابن زیاد بصرہ سے نکل کر دمشق کی طرف جارہاہے۔اب میری رائے یہ ہے کہ ہم لوگ اس کے پہنچنے سے پہلے اسے جس صورت سے ہو سکے۔گر فتا رکریں۔اور قتل کردیں اس کی صورت یہ ہے کہ ہم کمین گاہ میں اس کاانتظار کریں۔ اور جب وہ مل جائے تواسے اوراس کے جملہ ساتھی کوتلوار کے گھاٹ اُ تاردیں اور بنی اُ میہ اور دیگر لوگوں میں سے اسے لوگوں کو ہر گز نظر انداز نہ کر یں جو قتل حسین میں شریک تھے اہل لشکر نے سلیمان علیہ الر حمہ کی تائید کی اور سب کے سب اس مقام سے چل پڑے۔ جب حضرت سلیمان بن صرد کالشکر کافی دُور نکل گیا تو ابن جاردو نے ابن زیاد کو بطن ناقہ سے کھول کر پشت ناقہ پر ہووج میں سوار کیا اور سب تیزی کے ساتھ دمشق کیلئے روانہ ہوگئے بیس یوم راستے میں گزارنے کے بعد ابن زیادملعون دمشق پہنچ گیا وہاں پہنچ کر اس نے ابن جارود کو بیس ہزار اشرفیاں دیں اور اسے رخصت کردیا۔ (نورالابصار فی اخذ الثار ص 76 ، قرة العین ص 136 واخذ الثار و انتصار المختار از ابی مخنف ص 480 طبع ایران) 

مزید  غدیر کا تاریخی واقعہ اور اس کی اہمیت

آغا سلطان مرزا لکھتے ہیں کہ یزید کے واصل جہنم ہونے کے چھ مہینے کے بعد نصف ماہ رمضان میں مختار ابن ابی عبیدہ کوفہ میں آئے رمضان کے ختم ہونے کے آٹھ دن قبل ابن زبیر کی طرف سے عبداللہ ابن یزید الانصاری کوفہ کے والی مقرر ہوکرآئے۔ ان چھ سات مہینوں میں حکومت کوفہ و بصرہ میں تغیر و تبدل ہوئے وہ یہ تھے ۔ یزید کی موت کی خبر عبیداللہ ابن زیاد والی بصرہ کو اس کے غلام حمران نے پہنچائی ۔ عبیداللہ ابن زیاد نے ایک صلوٰة جامعہ کی منادی کرائی اور لوگوں کو یزید کے مرنے کی خبر دی ان لوگوں نے عبیداللہ ابن زیاد کی بیعت کرلی لیکن باہر نکل کر اپنے ہاتھوں کو دیوار سے رگڑا گویا عبیداللہ ابن زیاد کی بیعت کو ہاتھوں سے چھٹا دیا اور کہا کہ ابن مرجانہ یہ جانتا ے کہ ہم اجتماع وافتراق میں اس کے مطیع رہیں گے ، ادھر عبیداللہ بن زیاد نے اہل کوفہ کو مطلع کیا کہ اہل بصرہ نے میری بیعت خلافت پر کرلی ۔ تم بھی کرلو اس وقت کوفہ کا والی عمروبن حریث تھا ۔ اہل کوفہ نے انکار کیا اور اس انکار کا اثر اہل بصرہ پر بھی پڑا ۔ اور وہ ابن زیاد کی نافرمانی کرنے لگے اتنے میں مسلمہ بن ذویب الحنظلی بصرہ میں آیا اور لوگوں کو عبیداللہ ابن زیاد کی طرف دعوت دی ۔ عبیداللہ ابن زیاد بھاگ گیا اور عبیداللہ ابن حارث بن نوفل ابن عبدالمطلب کو اپنا ولی بنا لیا یہ واقعہ یکم جمادی الآخر 64ھ مطابق 26دسمبر 683 ء کا ہے عبداللہ ابن زیاد کچھ دنوں مسعود بن عمر و کی حمایت میں رہا مسعود بن عمرو نے دارالامارہ بصرہ پر قبضہ کرانے کی کوشش کی لیکن یکم شوال 64 ھ مطابق 22 مئی 684 ھ کو مارا گیا اور عبیداللہ ابن زیاد شام کی طرف بھاگ گیا ادھر لوگوں نے عبداللہ ابن ہارث ابن نوفل کو حکومت سے معزول کردیا ۔ اور پھر عبداللہ ابن زبیر نے اپنی طرف سے عمروبن عبداللہ ابن معمر کو بصرہ کا والی مقرر کرکے بھیج دیا۔ اس طرح بصرہ ابن زبیر کی سلطنت میں چلاگیا۔ کوفہ کی یہ حالت ہوئی کہ اہل کوفہ نے عبیداللہ ابن زیاد کے نائب عمرو بن حریث کو اس کے عہدہ سے برطرف کردیا اور اپنی طرف سے عامر بن مسعود بن امیہ ابن خلف ابن وہب کو والی مقرر کرکے ابن زبیر کو اس کی اطلاع دی۔ اس وقت تو ابن زبیر نے اس کو منظور کرلیا لیکن پھر اپنی طرف سے عبداللہ ابن یزید والی کوفہ مقرر کردیا۔ یزید کے واصل جہنم ہونے کے تین مہینے کے بعد تک عامر بن مسعود حاکم رہا۔ پھر عبداللہ ابن یزید الانصاری 22 رمضان 64ھ مطابق 14مئی 684 ء کو ابن زبیر کی طرف سے آگیا۔ اس کے آنے سے آٹھ دن پہلے مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کوفہ میں آچکے تھے۔ (نورالمشرقین ص 86طبع کراچی) ابن زیاد کی دمشق میں رسیدگی اور مروان کی حکومت کا استقرار ابن جارود کی پوری پوری حمایت کے سبب عبیداللہ ابن زیاد دمشق پہنچ گیا، دمشق پہنچنے کے بعد ابن زیاد نے حالات کا جائز ہ لیا اور چونکہ بہت زیادہ انتشار تھا۔ 

لہٰذا دوڑا ہوا مروان کے پاس پہنچا اور اس سے کہنے لگا کہ تیرے ہوتے ہوئے لوگ متحیر ہیں کہ کس کی بیعت کریں اور کس کے تابع فرمان ہوں تم ایک خاندانی آدمی ہواور دنیا کے نشیب و فراز سے بہت اچھی طرح واقف ہوسنو میں بڑی مشکل سے جان بچا کر بصرہ سے یہاں تک پہنچا ہوں اور مجھے تم سے جو عقیدت ہے اس کا تقاضا ہے کہ میں تم سے اس باب میں گفتگو کروں اور اس کی طرف تمہیں متوجہ کروں۔ اس لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں اور تم سے درخواست کرتا ہوں کہ اس اہم مسئلے پر ٹھنڈے دل سے اپنی پہلے فرصت میں غور کرو۔ 

بصرہ سے کوفہ پہنچنے کے بعد مجھے پتہ چلا ہے کہ لوگ عبداللہ ابن عمر کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ اے مروان ! مجھے اندیشہ ہے کہ کسی ایرے غیر ے کی لوگ بیعت کرلیں گے اور سلطنت امیہ خراب ہوجائے گی ۔ مروان نے کہا کہ اس کے بارے میں تمہاری اپنی رائے کیا ہے ۔ ابن زیاد نے جواب دیا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنے مقام پر جمع کرو اور اپنے ابن عم یزید بن معاویہ کے خزانے کا دہانہ لشکروں اور فوجیوں کے لیے کھول دو اور ان پر پورا پورا انعام کرو میں تمہارے لیے سب سے پہلے بیعت لوں گا اور تم اپنے ابن عم کے قائم مقام ہوجاؤ گے اور سنو میں تمہارے لیے سواونٹوں میں لادکر سونا اور چاندی بصرہ سے لایا ہوں ۔ انہیں لے لو اور فوجیوں میں تقسیم کردو تاکہ یہ لوگ بآسانی تمہاری بیعت کرلیں اور جب اہل شام تمہاری بیعت کرلیں تو تم عراق کی طرف نکل چلو میں بصرہ اور کوفہ کی مہم خود سنبھال لوں گا اور دونوں مقامات پر تمہارے نام کا خطبہ جاری کرادوں گا اور خراسان واصفہان اور مکہ و مدینہ نیز دیگر شہروں کی طرف نامے لکھ دوں گا کہ لوگ مروان کی بیعت کرچکے ہیں لہٰذا تم لوگ بھی بیعت مروان کرلو۔ مروان نے کہا اے ابن زیاد اگر تم ایسا کرسکو تو پھر کیا کہنا میں تمہیں اپنی جان عزیز کے برابر سمجھوں گا ۔ یہ سن کر ابن زیاد نے حکم دیاکہ فرش بچھا کر اس پر درہم و دینار انڈیل دئیے جائیں چنانچہ فرش پر روپے اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ گئے اس نے یزید کے مخصوص لوگوں اور سرداروں اور لشکریوں کو اس رقم سے زیادہ دے دیا جویزید دیا کرتا تھا ۔ اس کے بعد سب نے مروان کی بیعت کرلی اور عہد و پیمان سے انہیں اچھی طرح جکڑدیاپھر یزید کے جملہ خزائن پر قبضہ کر لیا اور مروان کو دارالامارة یزید میں لاکر بٹھا دیا ۔ (نورالابصار ص 78) موٴرخ ہروی کا ارشاد ہے کہ ابن زیاد بصرہ سے رات کے وقت چھپ کر نکلا تھا اور اس کے نکلتے ہی لوگوں نے دارالامارة لوٹ لیا۔ اور قید خانہ توڑ کر سب کو نکال دیا۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 69) موٴرخ طبری وموٴرخ ہروی کا بیان ہے کہ جب عبداللہ بن زبیر کی مدینہ ، مکہ ، حجاز اور عراق میں بیعت کرلی گئی تو اہل شام نے ابن زبیر کو لکھا کہ ہم لوگ بھی تمہاری بیعت کرنا چاہتے ہیں لہٰذا تم اپنی پہلی فرصت میں شام آجاؤ عبداللہ ابن زبیر نے انہیں جواب دیا کہ میں شام آنے کے لیے تیار نہیں ہوں جو میری بیعت کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ میرے پاس آکر بیعت کرے اہل عراق نے بیعت کرلی عبدالرحمن بن محمد النہری کو مصر بھیج دیا اور ابن زبیر نے اپنے بھائی عبیدہ کو مدینہ بھیج دیا۔ اور وہاں کا گورنر کردیا اور اسے حکم دے دیا کہ مدینہ میں جو اموی شخص ہو اسے وہاں سے نکال باہر کرو اور انہیں شام کے اس طرف کہیں ٹھہرنے نہ دو اس مقام پر بنی امیہ کا سربراہ اور دبیر مملکت مروان بن حکم تھا۔ عبیدہ نے سب کو مدینہ سے نکال دیا اور سب کے سب شام جاپہنچے ۔ یزید کے مرنے کے بعد اس کے وہ گورنر جو ممالک محروسہ میں مقرر تھے پانچ تھے حمص کا امیربشیر بن نغمان بن بشیر الانصاری تھا اور دمشق کا امیرضحاک بن قیس فہری تھا اور قیسرین کا امیر حارث کلابی تھا اور فلسطین کا امیرنائل ابن قیس تھا اور حسان بن مالک کی طرفداری میں خالد تھا حسان نے اسے مقرر کیا تھا کہ تمام اہل شام سے بیعت لے لے ابھی دمشق میں ہل چل مچی ہوئی تھی ۔ کہ حصین بن نمیر مکہ سے شام پہنچ گیا اور اس نے کہا کہ حسان سے بیعت کرلو۔ 

کیونکہ ابن زبیر نے نہایت سخت جواب اس چیز کا دیا ہے جب میں نے اس سے کہا کہ شام چلو تمہاری بیعت کرلی جائے اس نے کہا مجھے تمہاری بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی دمشق میں بیعت کی ہلچل مچی ہی ہوئی تھی کہ مروان بن حکم مدینہ سے دمشق پہنچ گیا ۔ اس نے وہاں کے حالت کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا کہ بشیربن نعمان بن بشیر الانصاری کی بیعت کرنی چاہیے کیونکہ یہ سب سے زیادہ کبیر السن ہے حصین جو خالد کی تائید میں تھا مروان نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ خالد بن یزید بہت کم سن ہے اس سے حکومت کا بارنہ اٹھایا جاسکے گا ۔ مروان کا یہ خیال بھی تھا کہ اگر کسی موزوں شخص پر رائے قائم نہ ہو تو پھر ابن زبیر کی بیعت کرنی چاہیے غرضیکہ یہی الجھن پڑی ہوئی تھی کہ عبیداللہ ابن زیاد بصرہ سے بھاگ کر دمشق پہنچا اور اس نے مروان کو اونچا نیچا سمھجا کر کہا کہ خالد تو کسی صورت سے حکومت کرنے کے قابل نہیں ہے اگر یہ کم سن نہ بھی ہوتا تو بے وفا اور دروغ گوہوتا کیونکہ یہ یزید ہی کا بیٹا ہے یزید نے مجھے پچاس خطوط لکھے تھے کہ امام حسین (ع) سے جلد بیعت لے لے اور اگر وہ بیعت سے انکار کریں تو ان کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دے اور جب میں نے اس کے حکم کی تعمیل کردی تو لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے حکم قتل نہیں دیا تھا ۔ (تاریخ کے عیون الفاظ یہ ہیں:۔ عبداللہ گفت راست گفتی کہ خرداست واگر بزرگ باشد بے وفا بودودروغ زن یزید رانز ومن پنجاہ نامہ است کہ حسین بن علی رابگیر واگر بامن بیعت نہ کند سر اورابمن فرست اوبیعت نہ کرد ومن سرش رابد و فرستادم (تاریخ طبری جلد 4 ص 647، رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 69) عبیداللہ ابن زیاد نے مروان سے کہا کہ تو نے یہ درست کہا ہے کہ خالد بن یزید کمسن ہے اور اگر کم سن نہ ہوتا تو بے وفا اور جھوٹا ہوتا کیونکہ اس کا باپ بھی ایسا ہی تھا یزید نے مجھے پچاس خطوط لکھتے تھے کہ امام حسین (ع) سے میری بیعت لے لے اور اگر وہ بیعت نہ کریں تو ان کا سرکاٹ کر بھیج دے ۔چنانچہ انہوں نے بیعت نہ کی اور میں نے ان کا سرکاٹ کر اس کے پاس بھیج دیا۔ جب لوگوں نے اس کی ملامت شروع کردی تو سب سے کہنے لگا کہ میں نے ابن زیاد کو قتل کا حکم نہیں دیا تھا اس نے از طرف خود قتل کردیا ہے۔ (الخ) یہ سن کر مروان نے کہا کہ آخر پھر کسے خلیفہ بنایا جائے۔ عبیداللہ ابن زیاد نے کہا کہ اے مروان تیرے سوا کوئی اس کا اہل نہیں ہے۔ مروان کے ذہن میں بھی چونکہ خلافت کا خیال نہ تھا لہٰذا اس نے ابن زیاد کی اس رائے کو مذاق سے تعبیر کیا اور کہنے لگا کہ مجھے بوڑھے شخص سے مذاق کررہے ہو ابن زیاد نے کہا خدا کی قسم مذاق نہیں کررہا۔ بلکہ صحیح جذبات پیش کررہا ہوں لاؤ ہاتھ نکالو میں بیعت کروں ، چنانچہ مروان نے ہاتھ نکال دیا اور ابن زیاد نے بیعت مروان کی بنیاد ڈال دی۔ ابن زیاد کے بیعت کرلینے کے بعد مروان پر طمع ولالچ چھاگئی اور وہ کہنے لگا کہ پھر اب لوگوں کو اس پر آمادہ کرو چنانچہ ابن زیاد نے سعی شروع کردی اور سارے دمشق کو مروان کے زیرنگین کردیا ضحاک بن قیس جو ابن زبیر کا حمایتی تھا اس نے مروان کی مخالفت کی اور اسی مخالفت کے سلسلہ میں اس نے بیرون دمشق خلق کثیر جمع کرکے مروان سے خلع خلافت کا پروگرام بنایا مروان کو جب اس کی اطلاع ملی تو اس نے ایک گراں لشکر بھیج کر اس کو قتل کرادیا اس کے بعد جو بھی اس کے راہ میں آیا اسے فنا کر ڈالا ضحاک کے قتل ہونے کے بعد زفرابن حارث جو اس کا طرفدار تھا۔ مفرور ہوگیا بالاخراس نے مقام قرسسیا میں حکومت قائم کرکے وہاں کے قلعہ میں سکونت اخیتار کرلی اور مروان کی دسترس سے باہر ہوگیا۔ مروان کو ابن زیاد نے رائے دی کہ یزید کی بیوی یعنی خالد کی ماں سے عقد کرلے تاکہ کسی قسم کا خطرہ نہ رہے چنانچہ مروان نے اس سے عقد کرلیا اور اس کی حکومت ہر طرف سے مضبوط ہوگئی۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 70 تاریخ طبری جلد ص 648 ) ۔ شیخ محمد الخضری کا بیان ہے کہ مروان کی بیعت 3 ذی قعدہ 64 کو ہوئی ہے۔ (تاریخ خضری جلد 2 ص 209 طبع مصر) 

ابن زیاد کی شام سے کوفہ کیلئے اور حضرت سلیمان کی کوفہ سے شام کیلئے روانگی

عبیداللہ ابن زیاد جب مروان کی حکومت مستحکم کر چکا تو مروان سے کہنے لگا کہ اب میں چاہتا ہوں کہ ایک عظیم لشکر سمیت کوفہ اور عراق کا عزم کروں ۔اور ان پرتیرا قبضہ جمادوں اور جو شیعیانِ علی(ع) نے سر اُٹھایا ہے انہیں نیست ونابود کر ڈالوں مروان نے اجازت دے دی اور ابن زیاد نے بروایت قرة العین ایک لاکھ کا لشکر بروایت ابو مخنف تین لاکھ افراد پر لشکر مرتب کرکے بارادہ کوفہ روانہ کر دیا ۔اپنی روانگی سے قبل اس نے ایک لشکر کے ذریعہ کھانے پینے کا سامان روانہ کیا جب شام سے دو دن کے راستے تک چل کر ایک قریہ میں لشکرنے قیام کیا تو ابن زیا د نے وہاں پہنچ کر ایک لاکھ کا لشکر آگے کو روانہ کر دیا ۔اور کمانڈر سے کہا کہ تم چلو ہم تمہارے پیچھے آتے ہیں اس نے حکم بھی اسے دے دیا کہ اس سلسلہ میں جو بھی ملے قتل کرنا اور دیکھو چار ہزار پانچ سو وہ لوگ جنہیں میں نے مختار والے قید خانہ میں قید کر دیا تھا۔ وہ یزید کی موت کے بعد قید خانہ سے نکل آئے ہیں۔ انہیں ضرور قتل کرنا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو امام حسین (ع) کے خون کا بدلہ لینے کے لیے سرسے کفن باندھ کر نکلے ہیں ۔ ادھر ابن زیاد عازم کوفہ ہوا ادھر حضرت سلیمان بن صرد نے اپنی پوری توجہ کے ساتھ شام کی تیاری شروع کردی چاروں طرف سے ہمدردوں کو فراہم کیا اور کمال جوش و خروش سے عزم شام کرلیا جہاں جہاں سے بہادروں کی فراہمی کا امکان تھا بذریعہ خطوط لوگوں کو بلا بھیجا اور مصارف جنگ کیلئے عبداللہ تمیمی کو فراہمی زکواة پر مامور کیا۔ غرضیکہ بروایت علامہ ہروی یکم محرم الحرام 65ھ کو حضرت سلیمان بن صرد نے کوفہ سے باہر مقام نخیلہ میں چھاؤنی قرار دی اور سب کو اسی مقام پر طلب کرلیا علامہ ابن نما لکھتے ہیں کہ سلیمان نے بمقام نخیلہ یہ محسوس کیا کہ ان کا لشکر کم ہے تو انہوں نے حکیم ابن منتذالکندی اور ولید بن عضین الکنانی کو حکم دیا کہ کوفہ میں جاکر لوگوں کو دعوت حمایت دیں وہ کوفہ گئے اور انہوں نے یالثارات الحسین کا نعرہ لگا کر لوگوں کو نخیلہ پہنچنے کی دعوت دی ان کی اس آواز پر بہت سے جانبار نخیلہ پہنچ گئے ۔ تاریخ میں سے کہ عبداللہ ابن ہازم کے کانوں میں جو یہ آواز پہنچی تو وہ اسلحہ جنگ سے آرستہ ہوکر نخیلہ کی طرف بھاگنے لگے بیوی نے کہا کیا پاگل ہوگئے ہو انہوں نے جواب دیا نہیں امام حسین (ع)کے نام پر جان دینے جارہا ہوں اس نے کہا مجھے اور اپنی لڑکی کو کس پر چھوڑے جاتے ہو ، کہا خدا پر یہ کہہ کر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ اللھم انی استود عک ولدی واھلی ۔ خدا یا اپنی بچوں اور بیوی کو تیرے سپرد کرتا ہوں تو ان کی حفاظت فرما (ذوب النضار۔ ص 405) پھر بروایت شہید ثالث دس ہزار اور بروایت ابومخنف چار ہزار پانچ سو سواروں کا اجتماع بمقام نخیلہ ہوگیا حضرت سلیمان بن صرد نے کمال نیک نیتی کے ساتھ انہتائی جذبہ خلوص کے ساتھ بروایت ابن نما بتاریخ 5 ربیع الاخر 65ھ بوقت سہ پہر یوم جمعہ شام کی طرف کوچ کا حکم دیا روانگی سے قبل انہوں نے ایک شاندار خطبہ پڑھا جس میں خون حسین کے بدلا لینے کی تحریص تھی ابھی یہ لوگ روانہ ہونے ہی والے تھے کہ و الی کوفہ کا بروایت رو ضۃ الصفا پیغام پہنچا کہ شام جانا درست نہیں ہے کیونکہ وہاں لشکر بہت زیادہ ہے تم لوگ نقصان اٹھاؤ گے بہتر یہ ہے کہ کوفہ واپس آجا وہم ابن زبیر سے تمہارے لیے لشکر منگوادیں گے ۔پھر تم قا تلان حسین سے بدلہ لینا۔ اس خط کے پہنچنے پر حضرت سلیمان نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ 

بالاخر طے یہ ہوا کہ ہمیں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے اور اپنی پیش قدمی کو نہیں روکنا چاہیئے ۔ کیونکہ والی کوفہ ہمیں دھوکا دے رہا ہے۔ 

اس کے بعد نخیلہ سے روانگی عمل میں آئی طے مراحل وقطع منازل کرتے جارہے تھے کہ بروایت ابن نمادیر آعور میں جاپہنچے وہاں رات گزاری پھر روانہ ہوکر سرائے بنی مالک میں قیام کیا جو فرات کے کنارے واقع ہے پھر صبح کو وہاں سے روانہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ حسب فیصلہ وارد کربلا ہوئے کربلا پہنچ کر حضرت امام حسین (ع) کی زیارت کی موٴرخین کا بیان ہے کہ جو نہی ان لوگوں کے سامنے تربت حسینی آئی ۔ یہ لوگ اپنے اپنے گھوڑوں سے فوراً اتر پڑے اور دوڑے ہوئے قبر مطہر کے پاس پہنچے۔ جس وقت یہ لوگ اپنے اپنے گھوڑوں سے اترے ان کی آنکھوں سے لگاتار آنسو جاری تھے اور یہ سب چیخ مار کررورہے تھے انہیں سب سے بڑا جو صدمہ تھا وہ یہ تھا کہ قید میں ہونے کی وجہ سے یہ لوگ امام حسین (ع) کی مدد نہ کرسکتے تھے۔ (قرة العین ونور الابصار) علما کا کہنا ہے کہ وہ لوگ اس بے قراری سے رو رہے تھے اور اس اضطراب سے چیخ رہے تھے کہ ایسا رونا کسی عہد میں نہیں ملتا یہ لوگ وہاں ایک شبانہ روز محو گریہ رہے ۔ حضرت امام حسین (ع) کی قبر مبارک سے رخصت ہوکر یہ مجاہد آگے بڑھے نہایت تیزی کے ساتھ قطع منازل و طے مراحل کرتے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ مقام قرسیسا میں جاپہنچے۔ طبری کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن صرد نے قرسیسا کے والی زفربن حارث کے پاس جناب مسیب کو بھیجا اور کہہ دیا کہ ہمیں شام جانے کا راستہ دے دے ، زفر نے جونہی یہ پیغام سنا حکم دیا کہ قعلہ کا دروازہ بند کردیا جائے چنانچہ دروازہ بند کردیا گیا ۔ جناب مسیب نے تقاضہ کیا کہ دروازہ کھول دیا جائے اور بتایا کہ ہم تم سے لڑنے نہیں آئے بلکہ ہمارے آنے کی غرض صرف راستہ حاصل کرنا ہے ہم ابن زیاد سے مقابلہ کیلئے شام جانا چاہتے ہیں۔ زفر نے اپنے لڑکے کو بھیج کر صحیح حالات معلوم کیے اس کے بعد دروازہ کھولنے کا حکم دیا اور یہ بھی حکم دیا کہ بازار ان لوگوں کیلئے عام کر دیا جائے اور جو خرچہ اور صرفہ ان لوگوں کا ہو اس کو میں ادا کروں گا یعنی اشیا کی قیمت میرے ذمہ ہوگی۔ ایک شبانہ روز قیام کے بعد جب لشکر سلیمان فرسیسا سے جانے لگا تو زفر بن حارث نے سلیمان سے کہلا بھیجا کہ تم سے ملنے کیلئے آرہا ہوں چنانچہ اس نے ملاقات کی اور کہا کہ میری چند باتیں یاد رکھنا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا پہلی بات تو یہ ہے کہ شام کا لشکر بے پناہ ہے تم اسی مقام پر قیام کرو تاکہ میں بھی تمہاری مدد کرسکوں ، سلیمان نے کہا کہ ہمیں صرف خدا کی پشت پناہی درگار ہے تم اس پر پورا پورا بھروسہ رکھتے ہیں ۔ پھر اس نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں سے روانہ ہوکر عین الورد میں قیام کرنا وہاں سے آگے نہ بڑھنا کیونکہ وہ وسیع جگہ ہے اور وہاں گھاس چارہ فراواں ہے ۔ بروایت رو ضۃ الصفا اس نے ایک بات یہ بھی کہی کہ میدان میں جنگ کی کوشش نہ کرنا بلکہ فلاں طرف جو آبادی ہے اسے آڑبنا کر لڑنا اور ایک بار گی جنگ نہ کرنا بلکہ فوج کے ٹکڑے کرکے لڑنا۔ جب فوج کا ایک دستہ تھک جائے تو دوسرا دستہ بھیجنا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان زفربن حارث سے رخصت ہوکر بمقام عین الورد جاپہنچے وہاں پہنچ کر حضرت سلیمان نے پانچ یوم ابن زیاد کے لشکر کا انتظار کیا بالآخر پانچویں دن یہ پتہ چلا کہ ابن زیاد کا لشکر آرہا ہے یہ معلوم کرکے حضرت سلیمان نے ایک شاندار لیکچر دیا۔ آپ نے اپنی تقریر میں اپنے اور اپنے لشکر کے فرائض اور بلند ہمتی پر روشنی ڈالی اور اس سے کہا کہ ہم جس مقصد کیلئے نکلے ہیں۔ وہ حضرت امام حسین (ع) کا خون بہا لینا اور ان کی بارگاہ میں اپنی قربانی پیش کرنا ہے اگر دشمن زائد ہوں تو اس زیادتی سے ہمیں مرعوب نہ ہونا چاہیے اور یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارا مقصد پاکیزہ ہے اور ہم خوشنودی خدا حاصل کرنے کیلئے نکلے اور خدا کی سب سے بڑی خوشنودی راہ میں شہید ہونا ہے ہماری اُخروی زندگی کا راز شہادت میں مضمر ہے۔ تقریر کے بعد آپ نے فرمایا کہ اے میرے بہادرو۔ کان دھرکے سن لو کہ شہادت ہمارا مطمع نظر ہے اور ہم اس کیلئے یہ اصول معین کرتے ہیں کہ جب لشکر مخالف سے مقابلہ ہوگیا تو سب سے پہلے علم جنگ میرے ہاتھ میں ہوگا اور جب میں شہید ہوجاؤں گا تو امیر لشکر تمہارے دلیر اور بہادر جرنیل مسیب ہوں گے اور جب یہ شہید ہوجائیں گے تو تمہارے امیر عبدللہ ابن سعید ہوں گے اور جب انہیں درجہ شہادت نصیب ہوجائے گا تو عبداللہ ابن دال امیر ہوں گے پھر ان کے بعد رفاعہ ابن شداد امیر لشکر ہوں گے ۔ 

مزید  اسلام اور عدالت اجتماعی

بروایت قرة العین حضرت سلیمان نے حکم دیا کہ بنی امیہ سے جو بھی یہاں کے دوران قیام میں دستیاب ہوتا جائے اسے قتل کرتے جاؤ ۔ 

چنانچہ جو ملتا گیا اسے تیغ کی نذر کیا جاتا رہا۔ اس کے بعد سلیمان نے مسیب سے فرمایا کہ تم چار سو سواروں کولے کر آگے بڑھ جاؤ اور جو ملے اسے آب تیغ سے سیراب کرو اور اگر ضرورت سمجھو تو بلا تامل شبخون مارو ۔ مسیب مختصر سالشکر لے کر روانہ ہوگئے ، چلتے چلتے صبح کے قریب ایک شخص کو اشعار پڑھتے سنا ، آپ نے اسے طلب فرمایا اور اس سے پوچھا کہ یہ بتا کہ تیرا نام کیا ہے اس نے کہا کہ مجھے حمید کہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ہماری عاقبت انشاء اللہ محمود ہوگی پھر پوچھا کہ تو کس قبیلہ سے ہے اس نے کہا کہ قبیلہ بنی تغلب سے آپ نے فرمایا کہ ہم انشاء اللہ غالب آئیں گے پھر پوچھا کہ شام کے لشکر کی تجھے کچھ خبر ہے ۔ اس نے کہا کہ تم سے مقابلہ کیلئے بہت بڑا لشکر آرہا ہے اس لشکر کے پانچ سردار ہیں اور سب سے جو قریب ہے وہ شر جلیل بن ذوالکلاع ہے وہ تم سے صرف ایک میل کے فاصلہ پر ہے اس کے بعد مسیب نے اس اعرابی سے فرمایا کہ تو اپنی راہ لگ وہ چلا گیا ، آپ نے اپنے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کیا اورشرجلیل کے لشکر کو بوقت صبح گھیرا اور مقابلہ شروع ہوگیا۔ جناب مسیب کے لشکر نے ایسی جرات و ہمت سے کام لیا کہ دم زدن میں دشمن کے ٹکڑے اڑا دئیے ۔ اور بڑی تیزی سے انہیں فنا کرکے ان کا سب کچھ لوٹ لیا ان کی کثیر تعداد فنا کے گھاٹ اترگئی اور ان کے بہت سے سپاہی کام آگئے آخر کار یہ لوگ اپنی جانیں بچا کر جو بچ رہے تھے۔ ابن زیاد کی جانب بھاگے اور حضرت مسیب بڑے اطمینان سے حضرت سلیمان کے پاس آپہنچے ۔ اور انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 73 و تاریخ طبری جلد 4 ص 651) پھر اس کے بعد بروایت قرة العین ص 138 ایک عظیم لشکر ابن زیاد نے روانہ کیا اس لشکر کو دیکھ کرسلیمان بن صرد خزاعی اور ان کے لشکر نے اپنے کو گھوڑوں کی پشتوں پر پہنچا دیا اور تکبیر و تہلیل کی آواز بلند کرتے اور یالثارات الحسین کا نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھے دیکھا کہ بے شمار لشکر بڑھا چلاآرہا ہے اور اس کے جھنڈے پر مروان کا نام لکھا ہوا ہے یہ لوگ سمجھ گئے کہ شاید ابن زیاد نے مروان کو حاکم بنالیا ہے اور اسی کی مدد سے ہمارا مقابلہ کررہا ہے یہ دیکھ کر کہ لشکر کافی ہے اور ابن زیاد کی پشت پر مروان کی حکومت کام کررہی ہے جناب سلیمان نے اپنے لشکریوں کو آواز دی اے بہادرو! دشمن سے خوف نہ کھانا۔ 

خدا تمہاری مدد کرے گا ۔ یہ سن کر نیزے تن گئے اور تلواریں چل پڑیں پھر کیا تھا۔ تکبیر کہتے ہوئے یالثارات الحسین(ع) کے نعرے لگاتے ہوئے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا وظیفہ کرتے ہوئے بہادر آگے بڑھے ۔ اور دونوں میں مقابلہ ہوگیا اور اتنا سخت مقاتلہ ہوا کہ فضاء عالم تھرا اٹھی اور یہ سلسلہ تاشام جاری رہا۔ یہاں تک کہ رات آگئی اور جنگ رُک گئی۔ جنگ کے رُک جانے کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے مقتولین کا شمار کیا تو وہ ایک ہزار پانچ سو تھے اور جب دشمن کے مقتولین کا شمار کیا گیا تو ان کی تعداد پانچ ہزار تھی دشمنوں کا حال یہ تھا کہ ان کے زخمی سوار بدحواس تھے اور کثرت جراحت سے بے قابو تھے۔ رات گزری صبح کا تڑکا ہوا جناب سلیمان کے لشکر میں اذان دی گئی آپ نے نماز صبح پڑھائی نماز کے فوراً بعد جنگ کے لئے حسینی(ع) بہادر پھر نکل پڑے اور دل ہلا دینے والے حملوں سے دشمنوں کو عاجز اور پریشان کردیا اور کمال بے جگری سے سارا دن جنگ میں گزار دیا ۔ یہاں تک پھر رات آگئی اور جنگ روک دی گی اس روز کی جنگ میں ابن زیاد کے دس ہزار آدمی کٹ گئے اور سلیمان کے لشکر والے مطلقاً محفوظ رہے اس جنگ کے بعد دشمن بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور اپنا مستقر چھوڑ کر ابن زیاد کی طرف بھاگے جناب سلیمان کے لشکر والوں نے ان کے قیام گاہ پر قبضہ کرلیا اور ان کا سب کچھ لوٹ لیا ۔ ابن زیاد کے سوار اس مقام پر جاپہنچے ۔ جس مقام پر ابن زیاد ٹھہرا ہوا تھا اس کی قیام گاہ مقام جنگ یعنی عین الورد سے دو دن کی راہ پر تھی۔ 

بروایت ابی مخنف ان دو تین حملوں اور مقابلوں میں ابن زیاد کے چالیس ہزار افراد قتل ہوگئے اور باقی ماندہ اس کے پاس بھاگ کر جاپہنچے ابن زیاد نے جب اپنے شکست خوردہ لشکر کو دیکھا تو سخت ناراض ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک لاکھ کا لشکر چند ہزار کے مقابلہ کے لیے بھیجا تھا افسوس تم ان سے شکست کھا گئے اور تمہارے چالیس ہزار ساتھی قتل ہوکر جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ اس کے بعد ابن زیاد نے حکم دیا کہ 60 ہزار پلٹے ہوئے سوار اور دو لاکھ تازہ دم سوار عین الورد کو روانہ ہوں اور وہاں پہنچ کر سلیمان اور ان کے سارے لشکر کا کام تمام کریں ابن زیاد کا حکم پاتے ہی دو لاکھ ساٹھ ہزار کا لشکر عین الورد کیلئے روانہ ہوگیا ،اور ابن زیاد بھی ہمراہ چل پڑا یہاں تک کہ عین الورد پر وارد ہوگیا۔ حضرت سلیمان کے پاس اب صرف تین ہزار بہادر رہ گئے سلیمان نے جب اتنا بڑا لشکر دیکھا فوراً اپنے بہادروں کو مخاطب کرکے ایک تقریر کی اور کہا کہ ہمارا مقصد خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ میرے بہادرو لشکر کی کثرت سے خوف زدہ نہ ہونا موت ہماری زندگی کا سرمایہ ہے، شہید ہونا ہماری زندگی کا پیغام ہے ، بہادر و خدا کا نام لے کر آگے بڑھو اور ایسی دلیرانہ جنگ کرو کہ دشمنوں کے دل دہل جائیں ابھی یہ تقریر کرہی رہے تھے کہ ٹڈی دل فوج نے حملہ کردیا، یہ حسینی(ع) بہادر بھی محو کارزار ہوگئے اور گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اور اس جنگ نے اتنا طول پکڑا کہ رات آگئی اور معرکہ قتال تھم گیا لوگ اپنے اپنے خیام کی طرف چلے گئے ۔ 

شمار سے معلوم ہوا کہ جناب سلیمان اپنے بہادروں میں بظلمت لیل بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے سواروں نے کہا کہ اے امیر تجھے معلوم ہے کہ ہماری تعداد کیا تھی اور اب کیا ہے ابن زیاد کے پاس اب بھی دو لاکھ چالیس ہزار سوار ہیں اور ہم سب کے سب صرف ایک ہزار رہ گے ہیں اب یہ طے ہے کہ اگر صبح کو ہم لوگ پردہ شب میں پل کے ذریعہ سے فرات کو پار کرکے کوفہ کو نکل چلیں اور لشکر فراہم کرنے کے بعد پھر واپس آئیں اور دشمن سے جنگ آزما ہوں۔ یہ سن کر جناب سلیمان بن صرد نے فرمایا کہ سنو جو موت سے ڈرتا ہو اور زندگی کو چاہتا ہو اس کا جدھر جی چاہے چلا جائے ۔ ہماری غرض نہ تو زندگی ہے نہ دنیا واہل دنیا کی محبت ، ہماری بس ایک ہی غرض اور ایک ہی خواہش ہے اور وہ امام حسین (ع) کی ملاقات ہے۔ یہ سننا تھا کہ سلیمان کے بہادروں نے بڑی دلیری سے کہا کہ اے سلیمان سچ کہتے ہیں سنو ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہماری غرض اور خواہش دنیا نہیں ہے ۔ ہم زندگانی دنیا کی پرواہ نہیں کرتے ہم خداورسول اور اہل بیت (ع)کی خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اے سلیمان نحن بین یدیک۔یہ لو ہم تمہارے سامنے حاضر ہیں پھر ان بہادروں نے اس حالت میں رات گزاری کہ شوق شہادت میں بے چین تھے۔ جب صبح ہوئی تو حسینی بہادر اپنے گھوڑوں کی پشتوں پر جم گئے اور پے درپے حملے کرنے لگے۔ یہاں تک کہ جنگ کو سات دن پورے ہوگئے اور بہادروں کی ہمتیں پوری جوانی کے ساتھ کام کرتی رہیں ۔ (اخذ الثار و انتصار المختار لابی مخنف ص 488) حجۃ الاسلام محمد ابراہیم لکھتے ہیں کہ سات دن کے بعد آٹھواں دن بھی کمال مردانگی کے ساتھ جنگ میں گذرا ۔ جب نویں کی صبح ہوئی تو سلیمان کے لشکر میں صرف 75 افراد باقی رہ گئے اور ان کی حالت بھی بڑی ناگفتہ بہ ہوگئی زخموں سے چورتلوار اور تیر کے زخموں سے اس حالت کو پہنچ گئے کہ سانس لینے کی تاب نہ تھی یہ وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کا شمار روٴسا اور سرداروں میں تھا یہ بہادر فرات سے عبور کرکے اپنے گھوڑوں سے اُترے ۔ اب ان کی حالت ایسی ہوچکی تھی کہ شدت جراحت سے تاب کلام نہ تھی اور ان کے گھوڑے شدت اعطش سے بے تاب اور قریب بہ ہلاکت ہوگئے تھے ان بہادروں کا ایسی حالت میں صرف یہ شغل تھا کہ قران مجید کی تلاوت کرتے تھے پیغمبر اسلام پر درود بھیجتے تھے اور زبان پر بار بار کلمہ شہادت جاری کر رہے تھے اور بڑے حوصلے کے ساتھ دعا کررہے تھے کہ خدایا ہمیں حضرت امام حسین (ع) کی خدمت میں جلد پہنچا دے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان بن صرد سے کہنے لگے کہ اے امیر تم جانتے ہو کہ ہم کتنے تھے اور اب کتنے رہ گئے ہیں اگر اجازت ہو تو اب یہاں سے جاکر لشکر کی فراہمی کی کوشش کریں ۔ حضرت سلیمان نے کامل جرأت و ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے بہادرو! میری یہی درخواست ہے کہ اب ہمت نہ ہارو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم دشمنانِ آل محمد سے ہاتھ اُٹھالیں ۔ سنواب تو صرف اسی کا موقع ہے کہ ہم میدان میں جان دے کر خداورسول کی بارگاہ میں جاپہنچیں ۔ اصحاب سلیمان بن صرد نے جب اپنے امیر سے یہ کلمات سنے خاموش ہورہے یہاں تک کہ آخری شب حیات آگئی۔ (نورالابصار ص 81) 

حضرت مختار ،ابن مطیع کے مقابلہ میں

سردارانِ لشکر نے ہر چند حضرت مختار کو روکامگر آپ نہ رُکے۔ آپ نے کہا کہ ہمارے لئے بڑے شرم کی بات ہے کہ حریف آواز دے رہا ہے۔ اور ہم مقابلہ کے لئے نہ نکلیں۔ بالآخر آپ تیار ہو کر میدان میں جا پہنچے۔ اور ابن مطیع کے مقابل میں آ گئے۔ آپ نے میدان میں پہنچ کر ابن مطیع سے پوچھا کہ مجھے کیوں طلب کیا ہے۔ اور مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ ابھی وہ جواب نہ دینے پایا تھا کہ آپ نے اس کے سینے پر ایک نیزہ کا وار کیا۔ یہ دیکھ کر عبداللہ ابن مطیع نے کہا کہ اے مختار وہ دوستی کہاں گئی جو ہمارے اور تمہارے درمیان تھی۔ اور وہ دن تم کیوں بھول گئے جس دن میں نے تمہیں عبداللہ بن زبیر کے ہاتھوں سے آزاد کرایا تھا۔ اے مختار مجھے اس کی امید نہ تھی۔ کہ تم میرے مقابلہ کے لئے آؤ گے۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ میں دشمنانِ محمد و آل محمد سے دوستی نہیں کرتا۔ تو مجھے دوست نہ سمجھ اور اور سن میں اس وقت مناظرہ کے لئے نہیں آیا۔ مجھے تو نے جنگ کے لئے بلایا ہے۔ اب اگر حوصلہ ہے تو آ۔ دو دو ہاتھ ہو جائیں یہ سن کر ابن مطیع کو غصہ آ گیا۔ اور آپس میں جنگ شروع ہو گئی۔ کافی دیر ردو بدل ہوتی رہی ناگاہ حضرت مختار لشکر کی طرف پلٹ آئے لوگوں نے پوچھا کہ اے امیر کیا بات ہے۔ حضرت مختار نے کوئی جواب نہ دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت ابراہیم نے آ کر سوال کیا۔ تو فرمایا کہ میں جنگ میں مشغول تھا کہ ایک پتھر میرے سینے پر اس زور سے لگا۔ کہ میں سمجھا کہ میں اس سے ہلاک ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد آپ نے فرّہ ابن عبداللہ کو طلب فرما کر حکم دیا کہ جنگاہ میں جا کر عبداللہ ابن مطیع سے جنگ کریں۔ چنانچہ وہ میدان میں تشریف لے گئے۔ ابن مطیع نے پوچھا کہ مختار مجھ سے بھاگ گئے۔ فرّہ نے کہا اے سگ دُنیا وہ تم جیسے کتوں سے بھاگ نہیں سکتے۔ لیکن چونکہ تم نے مکر کیا تھا اس لئے وہ چلے گئے۔ اب آ اور مجھ سے مقابلہ کر۔ ابن مطیع نے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے۔ جناب قرہ نے فرمایا کہ میں خدا کو واحد جانتا ہوں۔ اور اسے علیم و قدیر سمجھتا ہوں۔ 

یہ سُن کر ابن مطیع نے حملہ کیا اور کافی دیر تک دونوں میں نیزے اور تلوار کی ردوبدل ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ جناب قرہ کا ایک ہاتھ سخت زخمی ہو گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم آ پہنچے، ابن مطیع نے جونہی ابراہیم کو دیکھا خوف سے کانپنے لگا۔ بالآخر مقابلہ مقابلہ ہو اور ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ ابن مطیع کو بھاگے بغیر کوئی چارہ نہ آیا۔ جیسے ہی ابن مطیع بھاگا ویسے ہی حضرت ابراہیم نے اس کا پیچھا کیا۔ اور اپنے لشکر کو حکم دیا کہ یکبارگی سب مِل کر حملہ کر دیں۔ چنانچہ ابراہیم کے ساتھ ہی حضرت یزید بن انس اُن کے پیچھے حارث ان کے پیچھے حضرت مختار حملہ آور ہوئے۔ اور سب نے مل کر لشکر ابن مطیع کو پسپا کر دیا۔ اور بے شمار دشمنوں کو تہ تیغ کر ڈالا۔ اب لشکر ابن مطیع کے لئے زمین کوفتہ تنگ ہو گئی۔ اب مطیع نے چاہا کہ بھاگ کر کوفہ سے باہر چلا جائے مگر چونکہ حضرت ابراہیم نے تمام کوفہ کے دروازوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ لہٰذا وہ کوفہ سے باہر نہ جا سکا۔ بالآخر اس نے دارالامارہ میں گھس کر دروازہ بند کر کے اپنی جان بچائی۔ بعض موٴرخین کا بیان ہے کہ جب حضرت مختار اور حضرت ابراہیم ایاز ابن مضارب کو قتل کر میدان سے نکل آئے اور اس کی اطلاع عبداللہ بن حر کو ہوئی تو اُن کے حوصلے بھی بلند ہو گئے۔ وہ چونکہ جری اور بہادر تھے۔ لہٰذا انہوں نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اور وہ بھی اپنے اعزاو اقربا سمیت ان کے ساتھ آ لئے۔ اس کے بعد آپس میں طے ہونے لگا کہ حملے کی ابتداء کہاں سے کی جائے۔ بالآخر طے پایا کہ اس مقام چل کر سب سے پہلے حملہ کرنا چاہیئے جس جگہ دشمنوں کی بڑی جمعیت ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اسی مقام کی طرف بڑھے۔ اب رات ہو چکی تھی اور مقابلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔جنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ بالآخر دشمنوں کا یہ گروہ جو مقابل میں تھا شکست کھا کر بھاگا۔ اس لشکر کے فرار کرتے ہی سوید ابن عبدالرحمن ایک لشکر لئے ہوئے آ مقابل ہوا۔ حضرت ابراہیم نے آگے بڑھ کر اس سے کہا کہ تم مقابلہ نہ کرو۔ 

اور واپس جاؤ مگر وہ جنگ پر مصر رہا۔حضرت ابراہیم نے حضرت مختار سے کہا کہ آپ اس کے مقابلہ کے لئے نہ جائیں اور اس کے معاملہ کو مجھ پر چھوڑ دیں۔ حضرت مختار نے اُن کی بات مان لی، حضرت ابراہیم نے اپنے عزیزوں کو ہمراہ لے کر سوید بن عبدالرحمن اور اس کے لشکر پر زبردست حملہ کیا۔ سوید کا لشکر شکست کھا کر کناسہ میں پناہ گیر ہوا۔ حضرت ابراہیم سوید کو شکست دے کر حضرت مختار کے پاس چلے گئے۔ اس کے بعد شیث بن ربعی اور حجار ابن حر نے ایک لشکر لئے ہوئے حضرت مختار کے لشکر پر حملہ کیا، ابراہیم نے فوراً تکبیر کہی اور اپنے لشکر سمیت اُن کا شاندار مقابلہ کیا اور اپنے عظیم حملوں سے انہیں پسپا کر دیا۔ 

وہ لوگ جان بچا کر محلوں میں جا چھپے۔ اس کے فوراً بعد عبداللہ ابن مطیع کی ایک اور فوج آ پہنچی۔ حمایت مختار میں ابو عثمان ہندی کا حملہ شیث بن ربعی کے شکست کھانے کے بعد اُبو عثمان ہندی نے میدان میں نکل کر ہوا خواہانِ حسین کو آواز دی۔ اور پکار کر کہا کہ اہلبیت(ع) کے مددگارو! جلدی پہنچو۔ ان کی آواز کا بلند ہونا تھا کہ شیعیان علی بن ابی طالب جوق در جوق ان کے علم کے نیچے آ پہنچے، عبداللہ ابن مطیع کی فوج جو آ پہنچی اب عثمان ہندی نے اس پر کمال بے جگری سے حملہ کر دیا۔ دونوں لشکروں میں شدید ترین جنگ ہوئی۔ یہ جنگ ساری رات جاری رہی ۔صبح کو ابو عثمان نے اختتام جنگ پر بمقام “دیرہند” جو کوفہ کے باہر ہے قیام کیا اس کے بعد کوفہ کے محلوں میں جنگ شروع ہو گئی محلہ زجر ابن قیس میں جونہی ابراہیم کا لشکر پہنچا۔ اُس نے سو سواروں سمیت ابراہیم اور ان کے لشکر پر حملہ کیا اور دونوں لشکروں میں تا دیر جنگ جاری رہی۔ یہاں تک کہ زجر کا لشکر شکست کھا کر بھاگا۔ ابراہیم نے اپنے لشکر والوں کو آواز دی کہ ہزیمت خوردہ لوگوں کا پیچھا نہ کرے۔ کیونکہ رات کا وقت ہے۔ تعاقب مناسب نہیں۔ سلسلہ محاربہ جاری ہی تھا کہ حضرت ابراہیم کے لشکر والوں نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو ہم لوگ چل کر دارلامارہ پر حملہ کر دیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا سب سے پہلے ہمیں چل کر یہ دیکھنا چاہیئے کہ مختار کس حال میں ہیں۔ عبداللہ ابن مطیع نے بیس ہزار کا جو لشکر مختار کے مقابلہ کے لئے بھیجا تھا وہ محو پیکار تھا ابراہیم نے جب یہ حال دیکھا تو اس لشکر پر عقب سے حملہ کر دیا۔ اور اس بے جگری سے لڑے کہ دشمنوں کی ہمتیں پست ہو گئیں۔ اور وہ اپنی جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ رات کے بعد جب صبح ہوئی تو حضرت مختار نے نماز جماعت پڑھائی نماز کی رکعت اولیٰ میں والنازعات اور رکعت ثانیہ میں سورہ عبّس پڑھا۔ موٴرخ ہری کا بیان ہے کہ مختار نے جس شان سے قرأت کی تھی۔ ویسی قرأت سنی نہیں۔ اس کے بعد بروایت طبری حضرت مختار نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو آپ کے کل لشکریوں کی تعداد صرف ایک ہزار چھ سو نکلی، حضرت ابراہیم نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بیعت کنندگان کی تعداد سے یہ تعداد بہت کم ہے۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں لشکر کی یہ تعداد میری نگاہ میں پسندیدہ ہے، اور سنو! ایسا لشکر جس میں پست ہمت زیادہ ہوں بے سود ہے۔ ہمیں تو ایسے لوگ چاہئیں۔ جو اچھے لڑنے والے ہوں۔ گھبراؤ مت ، خدا ہمارے ساتھ ہے۔ 

حضرت مختار دارالامارہ میں

ابن مطیع کے بھاگ جانے کے دوسرے دن اس کے ساتھیوں نے حضرت مختار سے امان مانگی۔ آپ نے انہیں امان دے دی۔ ان لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔ اور وہ سب کے سب دارالامارہ سے باہر نکل آئے۔ حضرت مختار نے دارالامارہ میں نزول اجلال فرمایا سکنة المختار اور وہاں سکونت اختیار کر لی۔ 

نظامِ حکومت کا انصرام اور گورنروں کا تقرر

اس کے بعد حضرت مختار نے ممالک محروسہ کے لئے گورنروں کا تقرر فرمایا۔ آپ نے عبدالرحمن بن قیس ہمدانی کو موصل کے لئے سعید ابن حذیفہ بن یمان کو مدائن کے لئے، سعید ابن حذیفہ یمان کو حلوان کے لئے۔ عمر بن سائب کو رے اور ہمدان کے لئے گورنر مقرر کر دیا۔ اور نظام کوفہ کے لئے عبداللہ ابن کامل کو کوتوا ل اور ابو عمرہ کیسائی کو نگا ہ بیانان مملکت کا حاکم بنا دیا۔ اُن کے علاوہ جن لوگوں کو جس مقام کے لئے اہل سمجھا۔ ان لوگوں کو وہ مقامات سپرد کردئیے۔ پہاڑوں اور جنگلوں پر بھی والی مقرر کردیا۔ شہید ثالث کا بیان ہے کہ تمام ملک میں آپ کے نام کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔ حضرت مختار نے جوڈیشنل کیس کے لئے قاضی شریح کو عہدہ قضا عطا کر دیا۔ لیکن اس تقرر کے فوراً بعد انہیں معلوم ہوا کہ علی علیہ السلام اپنے عہدہ خلافت میں اسے معزول کر چکے تھے۔ انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ جس کو حضرت علی نے معزول کیا ہو اُسے اسی منصب پر فائز کر دیں انہوں نے اس کی معزولی کا خیال ظاہر فرمایا اس خیال کی اطلاع قاضی شریح کو ہو گئی اور اس نے اپنی بیماری کے حوالہ سے استعفیٰ پیش کر دیا۔ قاضی شریح کے بعد آپ نے اس منصب پر عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود کو فائز فرما دیا۔ لیکن اس کے بیمار ہو جانے کی وجہ سے اس کی جگہ پر عبداللہ ابن مالک الطانی کو مقرر کو مقرر فرمادیا۔ موٴرخین کا بیان ہے۔ کہ حضرت مختار کے مقرر کردہ کارکنوں نے نہایت داری، ایمانداری اور تندہی سے کام شروع کر دیا۔ اور کارکنوں نے باہر جا کر اس تیزی سے پروپیگینڈا کیا کہ ان کے ممالک محروسہ نے بہت سے ممالک کو گھیر لیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.