حضرت مختار کا نعرہ انتقام

0 0

 

حضرت مختار کا نعرہ انتقام امیر مختار کے لیے پچاس معززین کوفہ کی تصدیق حضرت محمد حنفیہ(ع) کے پاس جانا اور جناب محمد حنفیہ(ع) کی حاضری خدمت حضرت امام زین العابدین(ع) میں حضرت مختار ،عبد الملک ابن مروان کے خوانحوار جرنیل حجاج بن یوسف ثقفی کے دست تعدی سے بچ کر عراق سے کوفہ پہنچے ،یہاں پہنچ کر آپ نے اپنا نعرہ انتقام بلند فرمایا ۔اہل کوفہ چونکہ مکمل طور پر آپ کی تائید میں تھے۔ لہٰذا انہوں نے آپ کی تحریک کو کامیاب کرنے میں پور ا ساتھ دیا ۔ہر طرف سے تائیدات کی صدائیں بلند تھیں ۔ہر شخض آپ کی حمایت کے لیے بے چین تھا ۔کوفہ کی گلی کو چے میں آپ کا پروپیگنڈا جاری تھا ۔اور لوگ جوق در جوق بیعت کے لیے پھٹے پڑتے تھے ۔

آپ جس عہد کے مطابق بیعت لے رہے تھے ۔وہ یہ تھا کہ قرآن مجید اور رسول پر عمل کرنا ہوگا ۔امام حسین (ع) اور اہل بیت رسول کے خون بہا لینے میں مدد کرنی ہو گی ۔ اور ضعیف و کمزور شیعوں کی تکالیف کا مداویٰ کرنا ہوگا ۔(نور الابصار ص82) صاحب رو ضۃ الصفا کا بیا ن ہے کہ جس شخص کے دل میں محبت اہل بیت رسول ذرا سی بھی تھی اس نے مختار کی بیعت میں تاخیر نہیں کی ۔علامہ محسن الا مین کا بیان ہے کہ حضرت مختار کی آواز پر جن لوگوں نے سب سے پہلے لبیک کہا وہ اہل ہمدان تھے ۔اور اہل عجم کے وہ لوگ تھے ۔جو کوفہ میں آباد تھے جن کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی ۔(اصدق الاخبار ص 38) حضرت مختار اپنی پوری توجہ کے ساتھ فراہمی اسباب میں منہمک تھے اور لوگوں کو اپنی طرف برابر دعوت دے رہے تھے اور اسی دوران میں عبد اللہ بن زبیر نے اپنے دونوں والی عبد اللہ ابن یزید اور ابراہیم محمد بن طلحہ کو معزول کر دیا اور ان کی جگہ پر عبد اللہ ابن مطیع کو ریاست کوفہ کے لئے اور حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ کو حکومت بصرہ کے لیے بھیج دیا عبد اللہ ابن مطیع نے کوفہ میں داخل ہوتے ہی اپنا کام شروع کر دیا ۔کہ جامع مسجد میں تمام لوگ جمع ہوں جب لوگوں سے مسجد چھلکنے لگی تو اس نے منبر پر جا کر خطبہ دیا جس میں اس نے کہا مجھے حاکم وقت عبد اللہ ابن زبیر نے کوفہ کو گورنر بنا کر بھیجا ہے ۔اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں شہر کو قابو میں رکھوں اور اخذاموال کا فریضہ ادا کروں لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم پر بالکل اسی طرح حکومت کروں گا جس طرح عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان نے کی ہے اب تم تقویٰ اورپرہیز گاری اختیار کرو اور خاموشی سے زندگی بسر کرنے کی فکر کرو ۔شر اور فساد شورشرابا کا خیال بالکل ذہن سے نکال دو ۔اور تم میں جو احمق قسم کے لوگ ہیں ۔

انہیں اختلافات اور حکومت کی مخالفت سے باز رکھوں اور انہیں سمجھاؤ کہ اعمال صالحہ کریں ورنہ گرداب عمل میں گرفتار ہوں گے ۔ عبد اللہ بن مطیع ابھی منبر سے اترنے نہ پایا تھا کہ ایک دلیر شخص نے جس کا نام صائب بن مالک اشعری تھا مجمع میں کھڑا ہو گیا اور ابن مطیع کو مخاطب کرکے بولا اے امیر تو نے اپنی تقریر میں حضرت عمر اور حضرت عثمان کی سیرت پر عمل کرنے کا حوالہ دیا ہے اور تو چاہتا ہے کہ کوفہ میں ان دونوں کی سیرت کی روشنی میں حکومت کرے۔ ہم تجھ سے پوچھتے ہیں کہ تو نے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب کی سیرت عمل کا حوالہ کیوں نہیں دیا ۔اور اپنے خطبہ میں ان کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ ابن مطیع نہ ہم حضرت عمر کی سیرت چاہتے ہیں نہ حضرت عثمان کی سیرت کے خواہاں ہیں ۔ہمیں تو صرف سیرت امیر المومنین علیہ السلام چاہیئے ۔اگر تو کوفہ میں رہ کر ان کی سیرت پر عمل کرے گا تو ہم تیری رعایا اور تو ہمارا حاکم ۔اور اگر تو نے ان کی سیرت نظر انداز کر دی تو یاد رکھ کہ ہمارے درمیان ایک پل بھی حکومت نہ کر سکے گا ۔ صائب ابن مالک کا یہ کہنا تھا کہ مجمع سے صدائے تحسین و آفرین بلند ہو گئی ۔اور سب کے سب صائب کی تائید میں بول اٹھے۔مسجد میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور ہر طرف سے صائب کے لیے تائیدی آوازیں بلند ہونے لگیں ۔عبدا للہ ابن مطیع نے پکار کر خاموش رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تم لوگ گھبراؤ مت میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے درمیان اسی طرح حکومت کروں گا۔ جس طرح تم لوگ خود چاہو گے ۔ اس ہنگامہ خیزی کے بعد عبد اللہ ابن مطیع مسجد سے برآمد ہوا اور سیدھا اپنے دار الا مارہ میں جادا خل ہوا ۔اور مسجد کے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے مسجد میں جو واقعہ گزرا ،اس سے ارکان دولت میں کھلبلی مچ گئی۔ اور سب نتائج پر غور کرنے لگے ۔بالآخر کو توال کوفہ ایاس بن مضارب عجلی ، عبد اللہ بن مطیع کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے امیر تجھے معلوم ہے کہ جس شخص نے دوران خطبہ میں اعتراض کیا تھا وہ کون ہے ۔عبد اللہ نے کہا کہ مجھے علم نہیں ۔ایاس نے جواب دیا کہ یہ مختار کے لوگوں کے سر براہوں میں سے ہے اے امیر کوفہ کے حالت روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں ۔(رو ضۃ الصفا جلد 3ص77)

حضرت مختار کی گرفتاری کا مشورہ

کوتوال کوفہ ایاس بن مضارب نے عبدا للہ ابن مطیع کے سامنے حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کوفہ میں اچھا خاصاانتشار پیدا ہے اور اس انتشار کی تما م تر ذمہ داری کی مختار پر ہے اے امیر مجھے پتہ چلا ہے کہ مختار کی بیعت بڑی تیزی سے کی جارہی ہے ۔لوگ جوق در جوق بیعت کے لئے شب وروز چلے آتے ہیں ۔پتہ چلا ہے کہ ہزاروں افراد ان کے دائرہ بیعت میں داخل ہو چکے ہیں ۔اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ مختار عنقریب خروج کرنے والے ہیں ۔اے امیر یاد رکھ کہ اگر مختار میدان میں کھلم کھلا نکل آئے تو پھران کا سنبھالنا نہایت دشوار ہو گا ۔عبد اللہ ابن مطیع نے کہا کہ تمہارے نزدیک اس کا انسداد کیونکر مناسب اور ممکن ہے ایاس بن مضارب نے کہا کہ اس کی صرف ایک ہی صورت ہے اوروہ یہ مختار کو جلد سے جلد گرفتار کر لیا جائے اور اس وقت تک نہ چھوڑ ا جائے جب تک تیری حکومت مستحکم نہ ہو جائے ۔ عبد اللہ ابن مطیع نے کوتوال کوفہ کی رائے پر غور کرنے کے بعد حکم دیا کہ مختار کو بلا یا جائے۔چنانچہ اس کام کے لئے زائد ہ بن قدامہ اور حسین بن عبد اللہ صمدانی کو طلب کیا گیااو ر ان سے جملہ حالات بتا کر انہیں ہدایت کر دی گئی کہ مختار میں مدد دینے کے لئے ان کو دربار میں لانے کے ارادے سے ردا نہ ہو ئے اور مختار تک جا پہنچے۔ان دونوں نے حضرت مختار سے ملاقات کرنے کے بعد ان سے کہا کہ عبدا للہ ابن مطیع آپ کو ایک امر میں مشورہ کے لیے بلا رہا ہے۔ آپ تشریف لے چلئے ۔

حضرت مختار نے فرمایا کہ ابھی ابھی چلتا ہوں یہ کہہ کر فوراًلباس بدلا اور روانگی کے لئے تیار ہو کر وہ کھڑے ہو گئے ابھی باہر نہ نکلے تھے کہ زائدہ بن قدامہ میں جوان کو لے جانے والوں میں ایک تھا ۔یہ آیت پڑھی ۔ اذیمکر بک الذین کفر والیثبتوک ویخرجوک او یقتلوک۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار تمہارے ساتھ مکر کر رہے ہیں یا تمہیں یہاں سے نکال دیں گے ۔یا قتل کردیں گے ۔حضرت مختار نے جو نہی ا س آیت کو سنا وہ فوراً سمجھ گئے کہ میرا جانا خطرے سے خالی نہیں ۔اگر میں گیا تو یقینا گرفتار کر لیا جاؤں گا ۔ یہ خیال کرتے ہی آپ نے اپنے غلام سے کہا کہ دیکھو اس وقت جبکہ میں یہاں سے روانہ ہو رہا ہوں مجھے سردی لگنے لگی ہے ۔اور دفعتہ بخار آگیا ہے ۔طبیعت بہت بے قابو ہے تو ہماری گلیم لا دے ۔غلام نے ضروری کپڑے اور سامان حاضر کر دیا ۔حضرت مختار نے اسے اور ڑھ لیا اور عبد اللہ ابن مطیع کے دونوں آدمیوں سے کہا کہ میری حالت تم دیکھ رہے ہو، مجھے دفعتاً بخار آگیا ہے۔ اس لئے اب میں تمہارے ساتھ اس وقت نہیں چل سکتا ۔تم جا کر عبد اللہ ابن مطیع سے وہ سارا واقعہ بیان کر جو تم نے دیکھا ہے ۔ یہ سن کر ابن قدامہ نے کہا کہ میرا تنہا کہنا کافی نہ ہوگا ۔میں تو اپنی طرف سے عرض احوالی میں بالکل کو تاہی نہ کروں گا ۔لیکن ضرورت ہے کہ حسین بن عبد اللہ بھی ہم خیال وہم زبان ہوں حضرت مختار نے حسین کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے حسین (ع) سن جو میں کہتا ہوں ۔اسے کان دھر کے سن اور اس پر عمل کر ،یہ عمل تجھے ایک دن فائدہ پہنچائے گا ۔میرا کہنا یہ ہے کہ امیر کو میری جانب سے مطمئن کر دو ۔اور اسے یقین دلا دو ۔کہ میں مجبور اً اس وقت اس کی طلب پر اس کے پاس نہیں پہنچ سکا ۔ اس کے بعد حضرت مختار سے دونوں سفیر حکومت رخصت ہو کر واپس چلے گئے باہر نکلنے کے بعد حسین بن عبد اللہ ہمدانی نے اپنے ساتھی زائدہ ابن قدامہ سے کہا کہ میں سب کچھ سمجھتا ہوں کہ مختار آتے آتے کیسے رک گئے اور ان کے تمارض یعنی بیمار بننے کا سبب کیا ہے لیکن میں امیر کے سامنے اس کی وضاحت نہ کروں گا۔ کیوں کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے ۔کہ مستقبل میں کوفہ مختار کے ہاتھ ہو گا ۔میں اس وقت راز کے چھپانے میں آئندہ کا فائدہ دیکھ رہا ہوں ۔الغرض عبد اللہ ابن مطیع کے دونوں فرستادے واپس آکر اس سے ملے۔زائد بن قدامہ نے بتایا کہ وہ آرہے تھے ۔دفعتہ بیمار ہو گئے ۔اس لئے حاضر نہ ہو سکے۔ حسین بن عبد اللہ نے زائدہ کی تائید کر دی اورابن مطیع خاموش ہو گیا ۔(رو ضۃ الصفا ء جلد3ص78 و تاریخ طبری جلد 4ص653)

حضرت مختار نے سعی خروج تیز کردی

عبد اللہ ابن مطیع کے دونوں سفیر تو واپس چلے گئے لیکن حضرت مختار کو یہ خیال پیدا ہو گیا کہ وہ اب ہماری گرفتاری میں کوشاں ہے لہٰذا انہوں نے سعی خروج تیز کردی موٴرخ ہروی کا بیا ن ہے کہ حضرت مختار نے یہ یقین کرنے کے بعد کہ ابن مطیع مجھے گرفتار کرے گا ۔اپنے اہل بیت کو جمع فرمایا اور ان سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں خروج کروں ۔لہٰذا تم لوگ تیار ہو جاؤ اورمیدان کے لائق اسلحے وغیرہ فراہم کر لو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ آپ کے حکم پر مر مٹنے کے لئے تیار ہیں ۔جب حکم ہو میدان میں نکل آئیں گے ۔ اور بروایت سعید ابن الجعفی لوگوں نے کہاکہ ہم اسباب خروج کی تیاری میں ہیں ہمیں اور چند دن کی مہلت ملنی چاہیے تاکہ مکمل تیاری کرلیں۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 78) جناب مختار کی تقریر چند یوم مہلت دینے کے بعد حضرت امیرمختار نے ایک جلسہ طلب کیا جب کثیر اصحاب جمع ہوگئے تو آپ نے ایک زبردست تقریر فرمائی جس میں آپ نے اپنے منصوبہ انتقام پر روشنی ڈالی اور کہا کہ واقعہ کربلا کا بدلہ لینے کیلئے اب ہمیں خروج کرنا ضروی ہے آپ کی تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے آپ سے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ کوفہ کے کافی افراد عبداللہ ابن مطیع سے ملے ہوئے ہیں اور وہ سب آپ سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم جناب ابراہیم ابن مالک اشتر کو بھی ہمنوابنالیں۔ حئی جاء معنا ابراہیم ابن ال اشتر خرجنا باذن اللّٰہ تعالیٰ القوة علی عدونا فلہ ا لعشیرة الخ۔ اگر ہمارے ساتھ مالک اشتر کے چشم و چراغ حضرت ابراہیم بھی ہوجائیں تو بڑی قوت پیدا ہوجائے گی اور ہم دشمنوں پر آسانی سے قابو حاصل کرسکیں گے کیونکہ وہ اپنی قوم کے سردار ہیں اور ان کے ساتھ بہت بڑا گروہ ہے حضرت مختار نے فرمایا کہ اچھا انہیں ہمنوابنانے کی سعی کرو اور اب ان تک میری آواز پہنچاؤ ۔ انہیں بتادوکہ ہم ذمہ داران اسلام سے اجازت نامہ لے کر آئے ہیں اور واقعہ کربلا کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اگر وہ تمہارے کہنے سے ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ تو فھو المراد اور اگر انہوں نے کچھ بھی تردد کیا تو میں خود ان کے مکان پر جاکر ان سے مدد کی درخواست کروں گا۔ حضرت مختار کے کہنے کے مطابق کچھ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فلم یجب فانصرفوا۔ اور ان لوگوں نے حضرت مختار کا پیغام ان تک پہنچایا ۔

ابراہیم بن مالک اشتر نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور یہ لوگ واپس پلٹ آئے۔ (دمعۃ ساکبہ ص 408 )

حضرت مختار جناب ابراہیم کے مکان پر

موٴرخ ہروی رقم طراز ہیں کہ حضرت مختا رکی خواہش کے مطابق عقلا کا ایک گروہ جن میں ابوعثمان المہندی اور عامر الشعبی بھی تھے۔ حضرت ابراہیم کی خدمت میں حاضرہوا۔ ابراہیم نے ان لوگوں کی بڑی عزت و توقیر کی اور فرمایا کہ اپنے آنے کا سبب بیان کرو ۔ تاکہ میں ان کی تعمیل وتکمیل پر غور کرسکوں۔ ان لوگوں میں سے یزید ابن انس نخعی جو فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھے اور تیز زبان کے مالک تھے بولے کہ اے ابونعمان اہم اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ آپ کی خدمت میں ایک خاص بات اور ایک اہم امر کی د رخواست کریں ابراہیم نے فرمایا کہ مقصد بتاؤ تاکہ میں غور کرسکوں یزید ابن انس نے کہا کہ ہم لوگ کتاب خدا اور سنت رسول کی اتباع اور طلب خون حسین (ع) کے لیے کھڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اسی امر کی دعوت دے رہے ہیں ۔

خدا کا شکر ہے کہ کوفہ کا بہت بڑا گروہ ہمارے ساتھ ہوگیا ہے اسی قسم کی بات احمد بن شمیط بجلی نے بھی کہی حضرت ابراہیم نے ان کے کہنے پر غور و فکر کیا اور سرداری کا حوالہ دیا ان لوگوں نے حضرت مختار کی بیعت کرلینے کا تذکرہ کرکے ان سے حمایت کی درخواست کی حضرت ابراہیم خاموش ہوگئے اور یہ لوگ وہاں سے واپس چلے آئے۔ ان لوگوں میں حضرت مختار کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا حضرت مختار نے تین دن خاموش رہنے کے بعد اپنے معتمد لوگوں کو طلب کیا اور انہیں ہمراہ لے کر حضرت ابراہیم کے مکان پر پہنچنا ضروری سمجھا۔ معززین کوفہ کاگروہ حضرت مختار کے ہمراہ حضرت ابراہیم کے مکان پر جاپہنچا ان لوگوں نے دربانوں سے اجازت دخول حاصل کی ۔ اور یہ لوگ اندر داخل ہوگے ۔ حضرت ابراہیم نے حضرت مختار کا بڑا احترام کیا ، اور تشریف آوری کا سبب پوچھا ۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ میں نے واقعہ کربلا کے بدلا لینے کا فیصلہ کیا ہے اور شاید آپ کو علم ہوگا کہ میں اس سلسلہ میں کسی کے مکان پر آپ کے مکان کے سوا نہیں گیا آپ سید و سردار ہیں مجھے آپ کی امداد کی اس سلسلے میں شدید ضرورت ہے میں آپ کیلئے حضرت محمد حنیفہ کا ایک خط بھی لایا ہوں اس کے رو سے آپ کی امداد کا خواہش مند ہوں، حضرت ابراہیم نے خط طلب کیا حضرت مختار نے حضرت محمد حنفیہ(ع) کا خط ان کے حوالہ کیا انہوں نے جب اس خط کو کھولا تو اس میں یہ لکھا دیکھا کہ میں نے مختار کو واقعہ کربلا کا بدلہ لینے کیلئے اپنا مختار اور ولی منتخب و مقرر کیا ہے، آپ ان کی مدد کریں اور ان کی اطاعت قبول کرلیں ۔ میں اس امر کا وعدہ کرتا ہوں کہ کوفہ سے اقصاء شام تک جتنے علاقے اس مہم کے سلسلہ میں زیر نگیں ہوں گے ان کی حکومت آپ کے حوالے کی جائے گی میں تمہاری اس عنایت کا شکر گزاررہوں گا اور دیکھو اگر تم نے اس امر میں کوتاہی کی تویاد رکھو کہ دنیا و آخر ت میں تمہیں گھاٹا ہوگا۔ حضرت ابراہیم نے خط پڑھنے کے بعد فرمایا کہ اے ابو اسحاق حضرت محمد حنیفہ کے خط کا جو انداز ہوتا تھا وہ اس خط میں نہیں ہے میں کیوں کر یقین کرلوں کہ یہ خط انہیں کا ہے حضرت مختار نے فرمایا کہ وہ زمانہ اور تھا اور یہ زمانہ اور ہے ۔ اصل خط انہیں کا ہے انداز چاہیے جو ہو اگر آپ اس امر کی تصدیق کے لیے گواہ چاہتے ہوں کہ یہ خط انہیں کا ہے تو میں گواہ پیش کرسکتا ہوں۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 79) موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ اس خط میں صاف صاف لکھا تھا کہ مختار رابکوفہ فرستادم باادبیعت کیند و پدرت اوراز شیعیان مابودوتونیز ہمچناں باش میں نے مختار کو کوفہ بھیجا ہے ۔ تم ان کی بیعت کرو تمہارے والد مالک اشتر ہمارے مخلص اور شیعہ تھے تم ان کی پیروی کرو ۔ (تاریخ طبری جلد 4 ص 654) حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ جو اس کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ خط حضرت محمد حنفیہ(ع) ہی کا ہے یہ سن کردہ پندرہ آدمی جو حضرت مختار کے ہمراہ تھے جن میں یزید بن انس احمر بن سعید اور عبداللہ ابن کامل تھے گواہی دی اور کہا ۔ نحن نعلم و نشھدانہ کتاب محمد الیک ۔ کہ ہم جانتے ہیں اور اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ خط حضرت محمد بن الخیفہ ہی کا ہے ۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم اپنے مقام سے اٹھے اور انہوں نے حضرت مختار کی بیعت کی اور انہیں اپنے مقام پر بٹھایا اور خود نیچے اترکر بیٹھ گئے۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص۴۵۶ و ذوب النضار ص 108 اخذ الثار ابی مخنف ص 488 ، دمعۃ ساکبہ ص 408)

معززین کوفہ کے پچاس افراد محمد حنیفہ(ع) کی خدمت میں

حضرت مختار کی واپسی کے بعد بقول امام اہلسنت علامہ عبداللہ ابن محمد حضرت ابراہیم نے یہ ضروری سمجھا کہ مزید اطمینان کے واسطے آپس میں تبادلہ خیالات کرلیا جائے چنانچہ انہوں نے دوسرے دن نماز صبح کے بعد اپنے اعزہ و اقربا سے واقعہ مختار پر تبصرہ کیا اور ان لوگوں سے بیعت کی خواہش کی ان لوگوں نے جواب دیاکہ معاملہ بہت اہم ہے۔ اس لیے ہمارے واسطے یہ امر ضروری ہے کہ ہم مختار کے متعلق حضرت محمد حنیفہ سے مزید اطمینان حاصل کریں اور اس کی صورت یہ ہے کہ ہمارے پچاس آدمی تصدیق امر مختار کے لیے حضرت محمد حنیفہ کی خدمت میں جائیں اور تصدیق کرکے واپس آئیں اگر انہوں نے تصدیق کردی تو ہم دل و جان سے لڑیں گے اور اپنی جائیں دیں گے اور اپنے جسم کا آخری قطرہ خون بہادیں گے اور اگر انہوں نے تصدیق نہ کی تو ہم خاموش ہوکر اپنے گھروں میں بیٹھ رہیں گے ۔ (قرة العین فی اخذالثارالحسین ص 143 طبع بمئبی ) علامہ ہروی کا بیان ہے کہ حضرت محمد بن حنیفہ کے پاس پچاس افراد کے جانے کا فیصلہ سراے عبدالرحمن بن شریح ہمدانی میں ہوا تھا … اس فیصلہ کے بعد پچاس افراد حضرت محمد بن حنیفہ سے تصدیق امر مختار کے لیے روانہ ہوگئے۔ منزلیں طے کرنے کے بعد جب ان کی خدمت میں پہنچے اور آستان بوس ہوئے اور ان کی خدمت میں پیش ہوئے تو انہوں نے پوچھا کہ آج کل تو حج کا زمانہ بھی نہیں ہے ۔ آخر تم لوگ کس لیے یہاں آئے ہو عبداللہ ابن شریح ہمدانی نے کہا کہ خداوندعالم نے آپ کو خاندانی عزت و بزرگی سے سرفراز فرمایا ہے۔ جو شخص آپ کی اطاعت نہ کرے وہ دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔ اس زمانہ میں خاندان رسالت بلکہ تمام اہل عرفان و معرفت غم امام حسین (ع) سے رنجیدہ ہیں حضرت مختار ہمارے وطن کوفہ میں آئے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم حضرت محمد حنیفہ کی طرف سے یہاں آئے ہیں اور ان کے خطوط کے حوالہ سے تم لوگوں سے بیعت چاہتے ہیں اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم حضرت امام حسین (ع) کے خون کا بدلہ لیں حضور ہم لوگوں نے کافی تعداد میں اس بنا پر ان کی بیعت کرلی ہے کہ وہ آپ کے خطوط دکھلا رہے ہیں تو عرض یہ ہے کہ اگر وہ آپ کی طرف مامور ہوں تو ہم تکمیل بیعت کریں اور ان کی پوری پوری امداد سے سرخرد ہوں ورنہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں۔

حضرت محمد حنیفہ نے فرمایا کہ جہاں تک ہماری عزت و حرمت کا تعلق ہے یہ خدا کا عطیہ ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عزت عنایت فرماتا ہے اور حضرت امام حسین (ع) کا قتل دلدوز اور دلسوز ہے مختار کے بدلہ لینے کے متعلق یہ ہے کہ باللہ الذی لاالہ الا ہو کہ من دوست می دارم کہ حضرت ذوالجلال بسعی ہر کس از بندگان کہ خواہدمارا بدشمنان ظفر و نصرت وہدتابانتقام ظلمی کہ برقبیلہ وعشیرت مارفتہ ازایشان کشیدہ شود ۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص78 ) اس خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اس چیز کو دوست رکھتا ہوں کہ وہ جس کسی کو بھی اپنے بندوں میں سے طاقت دے دے اوردشمنوں پر فتح نصیب کردے۔ کہ وہ اس واقعہ کا بدلہ لے جو ہم پر گزرا ہے تو یہی ہمارا عین مقصود ہے۔ موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ خون حسین (ع) برہمہ واجب است ۔ امام حسین کے خون کا بدلہ لینا تمام اہل عرفان پر واجب ہے۔

(تاریخ طبری جلد 4 ص 654) موٴرخ ابن ایثر جزری کا بیان ہے کہ حضرت محمد بن حنیفہ نے خدائے تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد کہا کہ تم لوگ جس شخص کا ذکر کرتے ہو وہ تم کو ہم لوگوں کے خونوں کا بدلا لینے کے یے دعوت دیتا ہے اس کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ میں خود یہ چاہتا ہوں کہ اگر خدا کو منظور ہو تو وہ اپنی مخلوق میں جس شخص کے ذریعہ چاہے ہم کو ہمارے عدو کے خلاف مدد دے اور اگر میں نہ چاہتا تو کہہ دیتا کہ ایسا نہ کرو۔ (ترجمہ تاریخ کامل جلد 1 ص 360) اس کے بعد آپ نے فرمایا۔ قوموابنا الی امامی وامامکم علی بن الحسینی۔ کہ اٹھو ہم لوگ اپنے اور تمہارے امام زمانہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس چلیں۔ جب یہ لوگ روانہ ہوکر ان کی خدمت بابرکت میں پہنچے اور ان کی خدمت میں عرضداشت پیش کی تو انہوں نے فرمایا:۔ یاعم لوان عبدازنجیا تعصب لنااھل اھلبیت لوجب علی الناس موازرقہ ولقد ولیتک ھذا الامرفاصنع ما شِئت (ذوب النضار فی شرح الثار ص 401 ، ودمعۃ ساکبہ ص 408 ، نورالابصار ص 92 و اصدق الاخبار ص 39) (ترجمہ)اے چچا جان اگر غلام حبشی ہم اہل بیت (ع) کی مدد گاری اور جانبداری کیلئے کھڑا ہوجائے تو اس کی سنو رفاقت اور اس کی شراکت ہر مسلمان پر واجب ہے میں نے اس امر میں آپ کو اپنا وکیل بنا دیا ہے اب آپ جو مناسب سمجھیں کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ نہایت خوش و مسرور حضرت محمد حنیفہ سمیت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس سے واپس آئے اور حضرت محمد بن الحنیفہ سے درخواست کی کہ ہمیں اپنا نوشتہ دے دیجئے چنانچہ انہوں نے خط لکھ دئیے اور یہ لوگ ان سے رخصت ہوکر روانہ کوفہ ہوگئے ۔ (نورالابصار ص 91) وہاں سے نکلنے کے بعد جب یہ لوگ اپنوں سے ملے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت امام زین العابدین (ع) اور حضرت محمد بن الحنیفہ نے اجازت دے دی ہے ۔ (دمعۃ ساکبہ ص 408 ، و ذوب النضار ابن نما ص 407) حجۃ الاسلام علامہ محمد ابراہیم لکھتے ہیں کہ حضرت مختار کو ان لوگوں کے جانے کی خبر نہ تھی جب انہیں معلوم ہواکہ پچاس آدمی حضرت محمد حنیفہ کے پاس گئے تھے اور وہ واپس آکر قادسیہ میں مقیم ہیں تو اپنے غلام سیطح کو طلب فرمایا اور اس سے کہا کہ تو قادسیہ جاکر حالات معلوم کراور سن اگر تو یہ خبر لایا کہ ان لوگوں کو میری بیعت کی اجازت لی گئی ہے تو میں تجھے آزاد کردوں گا۔ غلام دوڑا ہوا قادسیہ پہنچا اور اس نے وہاں دیکھا کہ لوگ حضرت مختار کے نام کی بیعت لے رہے ہیں ۔ وہ یہ دیکھ کر بھاگا ہوا حضرت مختار کے پا س پہنچا اور اس نے انہیں خبر مسرت سنائی ۔ حضرت مختار نے حسب گفتہ خود اپنے غلام کو آزاد کردیا۔ (نورالابصار ص 91 و اخذالثار ابی مخنف ص 489) موٴرخ ہروی کا بیان ہے کہ اہل کوفہ جب وہاں سے لوٹ کر کوفہ پہنچے اور ان لوگوں کی حضرت مختار سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کیا جواب لائے ۔ لوگوں نے کہا کہ حضرت نے آپ کی بیعت اور آپ کی امداد کا حکم دے دیا ہے حضرت مختار نے کمال مسرت کی حالت میں فرمایاکہ میں انشاء اللہ دشمنوں کو تہ تیغ کردوں گا ۔ چوں خبردر کوفہ شائع شد ہر کس کہ محبت اہل بیت (ع) نصیبے داشت بخدمت مختار مبادرت نمودہ بااوبیعت کردند، جب یہ خبراجازت کوفہ میں مشہور ہو گئی تو وہ تمام لوگ جنہیں خدا کی طرف سے محبت اہل بیت(ع) کا کچھ حصہ بھی نصیب ہوا تھا بیعت مختار کیلئے دوڑ پڑے۔ اورسب نے بیعت کرلی ۔ (رو ضۃ الصفا جلد 3 ص 78)

مزید  اسباب جاویدانی عاشورا

حضرت مختار کی بیعت بصرہ میں

موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ جب حضرت مختار کی بیعت کوفہ میں عام طور سے ہونے لگی ۔ تو اسی دوران میں بنی مثنیٰ نامی ایک شخص بصرہ سے کوفہ آیا اوراس نے بھی حضرت مختار کی بیعت کی حضرت مختار نے مثنیٰ سے فرمایا کہ تم ابھی بصرہ میں مقیم ہو اور پوشیدہ طریقے سے میری بیعت لیتے رہو ۔اور اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رکھو۔ جب تک میں خروج نہ کروں جب میں کوفہ میں خروج کروں ۔تو تم بصرہ میں ہنگامہ برپا کر دو۔اگر خد ا نے چاہا اور اس نے میری مدد کی اور میں کامیاب ہو گیا تو بصرہ کی حکومت تمہارے سپرد کردوں گا ۔مثنیٰ نے کہا کہ بہت خوب آپ کا جو حکم ہو میں اس کی تعمیل کروں گا ۔چنانچہ مثنیٰ بصرہ واپس آگئے اور انہوں نے سرائے ازارقہ میں قیام کرکے کام شروع کر دیا ۔یہ سرائے بہت سے دیہاتوں کا مجوعہ تھی اور اب بھی محلول کی صورت میں موجود ہے اس سرائے کا ایک بہت بڑا دروازہ آہنی تھا۔ جب رات ہوتی تھی تو اس کا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا مثنیٰ نے اسی سرائے میں پوشیدہ کا م جاری رکھا ۔ یہاں تک کہ حضرت مختا ر نے کوفہ میں خروج کر دیا ۔خروج کرنے کے بعد حضرت مختار نے مثنیٰ کو بصرہ میں ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ تم بصرہ سے کوفہ آجاؤ ۔مثنیٰ نے بصرہ سے روانگی کی تیاری شروع کر دی ۔ابھی روانہ نہ ہونے پائے کہ والی بصرہ قعقاع کو ان کے ارادے کی خبر ہو گئی۔ اس نے فوراً کوتوال شہر کو حکم دیا کہ مثنیٰ کو گرفتار کر لاؤ ۔کوتوال پولیس کا ایک دستہ لے کر اس کے مقام پر پہنچ گیا اور اس نے سارے محلہ کو گھیرے میں لے لیا ۔اس ہنگامی حالت کے رونما ہونے کے بعد اہل محلہ میں جوش وخروش پیدا ہوگیا اور پولیس و اہل محلہ میں سخت جھڑپ ہو گئی ۔چالیس افراد اہل محلہ کی قتل ہوگئے ۔مگر ان لوگوں نے اتنی دلیری کی کہ پولیس کہ محلہ کے اندر گھسنے نہیں دیا ۔اسی دوران میں مثنیٰ کو پیغام پہنچا کہ کوفہ کے لیے روانہ ہو جاؤ ۔چنانچہ مثنیٰ اپنے ہمدردوں کو لے کر کوفہ کے لئے روانہ ہو گئے ۔اور وہاں پہنچ کر حضرت مختار کے ساتھ ہو گئے ۔(تاریخ طبری جلد 4ص654طبع لکھنوء ) حضرت محمد حنفیہ(ع) کا خط اہل کوفہ کے نام اور حمایت مختار کے لئے اعلان عام ابو مخنف کا بیان ہے کہ اہل کوفہ کی واپسی کے تین دن بعد مشائخ کوفہ حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور انہوں نے حضرت محمد بن حنفیہ(ع) کا خط جو اہل کوفہ کے نام تھا ۔حضرت مختار کو دیا ۔اس کے بعد ایک منادی کے ذریعہ سے اعلان عام کرادیا گیا ۔کہ سب لوگ حضرت مختار کی بیعت کرنے میں عجلت سے کام لیں اور کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو بیعت نہ کرے ۔اس اعلان کے بعد تقریباً تما م اہل معرفت نے حضرت مختار کی بیعت کر لی اور ان کی نصرت و حمایت پر کمر عزم و استقلال باندھ لیا ۔ (اخذ الثار د انتصار المختار علی الطغا ة الفجار ص489،نور الابصار ص92طبع لکھنوء ) موٴرخ ابو الفداء لکھتا ہے کہ حضرت مختار نے تمام لوگوں سے کتاب خدا سنت رسول اور طلب انتقام خون اہلیت (ع) پر بیعت لی۔مختار کی جنگ صرف قاتلان حسینی(ع) سے تھی ، اس جنگ میں مختار نے پوری پوری کا میابی حاصل کی اور تقریباً سب ہی کو قتل کر ڈالا ۔(تاریخ الفدا ء جلد 2ص 148) ابو مخنف کا بیان ہے کہ واقعہ کربلا میں چار اشخاص نمایاں حیثیت رکھتے تھے ۔(1)ابن زیاد (2)عمرسعد (3)سنان بن انس (4)شیث ابن ربعی ۔یہ لوگ گمراہوں کے لشکر کے سربراہ تھے ۔ (کنز الانساب ص14طبع بمبئی )

حضرت مختار کا خروج

فانتقمنا من الذین اجر موا وکان حقاً علینا نصر المومنین (پ ۲۲ ع۸) ناصر اہل بیت (ع) حضرت مختار کا خروج حضرت ابراہیم بن مالک کا عظیم الشان حمایتی کردار اور حصولِ مقصد میں شاندار کامیابی کارنامہ مختار کا آغاز صفِ جنگاہ میں مردان خدا کی تکبیر جوش کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز (اقبال) حضرت مختار متعد دقید و بند کی سختیاں برداشت کرنے اور حجاج بن یوسف جیسے خونخوار سے محفوظ رہنے کے بعد عزم وخروج کو فروغ دینے پر آمادہ ہو گئے ۔حضرت مختار سے پہلے اگرچہ جناب علقمہ سلیمان اور مسیب وغیرہ نے جوش انتقام کا مظاہر ہ کیا لیکن انہیں درجہ شہادت پر فائز ہو نے کے علاوہ کوئی نمایا ں کامیابی نہ ہوئی۔(کنزالانساب ابو مخنف ص14) حضرت مختار نے کمال عزم و استقلال کے ساتھ خروج کا فیصلہ فرمایا اور اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے جرنیل حضرت ابراہیم ابن مالک اشتر سے مشورہ کرکے تاریخ خروج مقرر کر دی ، حضرت مختار اور تاجدار شجاعت حضرت ابراہیم اور ان کی جمعیت نے فیصلہ کیا کہ ہمیں 14ربیع الثانی 66ھء یوم پنج شنبہ کو خروج کر دینا چاہیئے ۔(دمعۃ ساکبہ ص 408و تاریخ طبری ص654جلد 4)حضرت مختار نے تاریخ خروج کے فیصلہ کے بعد جناب ابراہیم کو علمدار اور کمانڈو انچیف مقرر کرد یا ۔و عقد رایة دفعھا الی ابراہیم اور ایک جھنڈا یعنی علم لشکر مرتب کرکے جناب ابراہیم کے سپرد فرما دیا ۔(قرة العین ص144) موٴرخین کا بیان ہے کہ بیعت کرنے اور کمانڈر انچیف مقرر ہو نے کے بعد حضرت ابراہیم حضرت مختار کے مکان پر برابر آتے جاتے تھے اور فتح و کامرانی کے حصول پر تبادلہ خیالات فرماتے تھے ۔حضرت ابراہیم جب بھی حضرت مختار کے مکان پر جاتے تھے ۔آپ کے ہمراہ آپ کے ہوا خواہان اور افراد قبیلہ ہوا کرتے تھے۔عموماً آپ کا آنا جانا شب کے وقت ہوا کرتا تھا

کوتوال کوقہ ایاس بن مضارب کی گھبراہٹ

حضرت ابراہیم کی نقل و حرکت سے کوفہ کے ایوان حکومت میں شدید قسم کی ہلچل مچ گئی۔ اور تمام ارکان دولت میں اضطراب پیدا ہو گیا ۔حالات کی روشنی میں ایاس بن مضارب عجلی جو کہ عبدا للہ بن مطیع والی کوفہ کی طرف سے کوتوال شہر مقرر تھا ۔عبدا للہ کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میں آج کل کوفہ میں جس فضاء کا میں اندازہ لگا رہا ہوں ۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عنقریب کوفہ میں فتنہ عظیم برپا ہو گا ۔اس نے کہا کہ میں برابر دیکھ رہا ہوں ۔کہ ابراہیم بن مالک اشتر ایک جمعیت کثیر سمیت رات کے وقت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کے پاس جاتے ہیں اور بڑی رات تک ان سے گفتگو کیا کرتے ہیں ۔اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ لوگ عنقریب کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے ۔اس نے کہا کہ میں حالات حاضرہ سے امیر کو مطلع کرکے درخواست کرتا ہوں ۔کہ اس کی طرف خصوصی توجہ مبذول فرمائیں ۔عبدا للہ ابن مطیع نے ایاس کی باتوں کو کان دھر کے سنا اور حفظ ما تقدم کے لئے اس نے یہ بندوبست کرنا ضروری سمجھا کہ کوفہ کی ناکہ بندی کردے چنانچہ ابن مطیع نے بمشورہ ایاس بروایت طبری کوفہ کے ساتوں محلوں پر پانچ سو سواروں کے دستوں کے ساتھ ایک ایک افسر مقرر کر دیا اور ان لوگوں کو حکم دیا کہ تم لوگ اپنے اپنے محلوں پر پورا پورا قابو رکھو اور جن کو دیکھو کہ وہ بارادہ فتنہ برآمد ہو اہے اس کا سر تن سے بے دریغ جدا کر دو۔ اور ایاس بن مضارب کو حکم دیا کہ تو اپنے محلہ کی حفاظت کے علاوہ سو سواروں کو ہمراہ لے کر کوفہ کے شہر اور اس جملہ بازاروں اور گلیوں کا رات میں چکر لگایا کر چنانچہ اس نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت ابراہیم جو برابر حضرت مختار کے پاس جایا کرتے تھے ۔جب حسب اصول ایک رات کو سوسواروں سمیت نکلے تو راستے میں ایاس ابن مضارب جو کئی سو سواروں سمیت اس مقام پر موجود مل گیا ۔اس نے ابراہیم بن اشتر کو روکتے ہوئے کہا کہ تم کون لوگ ہو اور کس کے پاس رات کو مسلح ہو کر جا رہے ہو ۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ میں نے ابن مالک اشتر ہیں اور میری ہمراہ جو لوگ ہیں یہ میرے قوم و قبیلہ والے ہیں ہم لوگ ایک اہم مہم کے سلسلہ میں نکلے ہیں ۔اور اپنی راہ جا رہے ہیں ایاس نے کہا کہ وہ مہم کیا ہے جس کے لیے تم لوگ آدھی رات کو مسلح ہو کرنکلے ہو۔ ابراہیم نے کہا ہے جو مہم بھی ہم سر کرنا چاہتے ہیں ۔اس کے متعلق تو گفت و شنید نہ کر ہمیں اپنے راستے پر جانے دے اور تو خود اپنے راستے پر لگ جا ۔

ایاس اور ابراہیم میں مڈبھیڑ

ایاس نے کہا کہ میں کوتوال شہر ہوں اور میں اب تمہیں حرکت کرنے نہ دوں گا ۔اور تم سے کہتا ہوں کہ تم لوگ چپکے سے میرے ہمراہ والی کوفہ عبدا للہ ابن مطیع کے پاس چلے چلو ۔

ابراہیم نے کہا کہ میں تجھ سے پھر کہتا ہوں کہ ہم لوگوں کو نہ چھیڑ اور اپنی راہ لگ اس نے کہا کہ یہ ناممکن ہے اب تو دو ہی صورتیں ہیں یا یہ کہ تم میرے ہمراہ چلو یا دو دوہاتھ مجھ سے کر لو ۔میں جب تک زندہ ہوں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا ۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ خدا تجھے سمجھے کیا کر رہا ہے ۔میں تجھ سے پھر کہتا ہوں کہ مجھ سے مزاحمت نہ کر اور جدھر جانا ہے چلا جا ۔ایاس نے کہا کہ خدا کی قسم میں تم لوگوں کو عبداللہ بن مطیع کے پاس پہنچا ہی کے دم لوں گا ۔حضرت ابراہیم کے باربار سمجھانے کے باوجود وہ راہ راست پر نہ آیا تو ابراہیم نے ایک شخص ابو قطن ہمدانی کے ہاتھ سے نیزہ لے کر ایاس کے سینے پر مارا۔ وہ زمین پر گر پڑا آپ نے حکم دیا کہ اس کا سرکاٹ لیا جائے ۔ایاس کے گرتے ہی اس کے سارے ساتھی بھاگ گئے ۔حضرت ابراہیم ایاس کا سر لئے ہوئے حضرت مختار کے پاس پہنچے اور ان کے قدموں میں ایاس کا سر ڈال کرکہا کہ جس تاریخ کو خروج کا فیصلہ ہو اتھا۔اس سے قبل ہی یہ واقعہ پیش آگیا ۔حضرت مختار نے بڑی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ قتل ایاس ہمارے لئے فال نیک ہے ۔انشاء اللہ ہم اپنے مقصد میں پورے طور پر کامیاب ہوں گے ۔اس کے بعد حضرت مختار نے اپنے سردار ان لشکر مثل رفاعہ بن شداد وقدامہ ابن مالک و سعید بن منقد سے کہا کہ اب پوری طاقت سے میدان میں آجانے کی ضرورت ہے۔ تم لوگ کوفہ کے محلوں میں جا کر نعرہ انتقام بلند کرو۔ اورلوگوں کو دعوت دو کہ فوراً یہاں آجائیں ان لوگوں نے کوفہ کے بازاروں اور گلیوں میں یاالثارات الحسین کی آواز دی ۔اس آواز کا اثر یہ ہوا کہ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر خانہ مختار پر جا پہنچے ۔جب کافی جمعیت ہو گئی تو حضرت مختار نے سلاح جنگ پہنا اور آلات حرب سے اپنے کو آراستہ کیا اور اپنے جرنیل جناب ابراہیم سے کہا کہ بس اب نکل چلنا چاہیئے ۔چنانچہ یہ حضرات لشکر سمیت برآمد ہو گئے ۔ علامہ حسام الواعظ رقمطراز ہیں کہ جب ایاس ابن مضاب قتل کر دیا گیا اور اس کی اطلاع عبداللہ ابن مطیع کو پہنچی اور اسی دوران میں اس نے حضرت مختار کی طبل خروج کو سنا تو لرزا اٹھا اور اس نے فورا ً راشد ابن ایاس کو بلا کر کہا کہ ابراہیم ابن مالک اشتر نے تمہارے باپ کو قتل کر دیا ہے اور اس کا سر مختار کے پاس بھیج دیا ہے ۔یہ سن کر ابن ایاس نے اپنے سر سے پگڑی پھینک دی اور اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور سرد پا برہنہ ہو کر سخت گریہ کرنے لگا ۔یہ دیکھ کر ابن مطیع نے اس سے کہا کہ تو عورتوں کی طرح روتا ہے ۔یہ رونا پیٹنا احمقوں کا کام ہے اب تو تیار ہو جا اور ابراہیم سے اپنے باپ کو بدلہ لے ۔اور انہیں قتل کرکے ان کا سر میرے پاس لا حاضر کر ابن ایاس چونکہ بڑا بہادر تھا ۔ لہٰذا وہ ابراہیم سے مقابلہ کے لیے تیار ہو گیا ۔ اب یہ اپنے باپ کی طرح قاتلان امام حسین (ع) سے بھی تھا۔ابن مطیع کی بات سن کر ابن ایاس 22آدمیوں کو لے کر جن میں سوار وپیادے تھے بازار میں آیا۔ ادھر حضرت مختار نے کوٹھوں پر آگ روشن کر دی تھی اور طبل خروج بجوا دیا تھا تاکہ لوگوں کو خروج کی اطلاع مل جائے لیکن اس کے باوجود لوگ حضرت مختار کے پاس جمع نہ ہو ئے ۔یعنی وہ اٹھارہ ہزار افراد جو بیعت کر چکے تھے وہ مختار کے پاس نہ پہنچے۔اگرچہ کوفیوں کی بے وفائی مشہور ہے ۔لیکن اس موقع پر ان کے نہ پہنچنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مختار نے شب پنجشنبہ کی تاریخ مقرر کر دی تھی اور یہ ساتھ ساتھ کہہ دیا تھا ۔کہ اس سے قبل پنجشنبہ آگ وغیرہ دیکھی تو یہ سمجھے کہ یہ سب کچھ ابن مطیع کی حرکت ہے ۔

اسی بناپر کوئی نہ آیا اور سب کے سب اپنے اپنے گھروں کے کوٹھوں پر چلے گئے اور وہاں سے حالات کا تفحص کرتے رہے ۔اورا سکی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت ابراہیم سے دفعتہ جنگ چھڑجانے کی وجہ سے پنجشنبہ کے بجائے چہار شنبہ ہی کو خروج کر دیا گیا ۔ حضرت مختار نے حالات کی روشنی میں حضرت ابراہیم سے کہا کہ شاید کوفی ہمارے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو وہ حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ کر چکے ہیں ۔حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اے امیر ایسا نہیں ہے ۔بات یہ ہے کہ اولا ً سارے راستے بند ہیں ثانیا ً ہم لوگوں نے سب کو اچھی طرح سمجھادیا ہے کہ پنجشنبہ سے قبل کے کسی اعلان کو باور نہ کرنا ۔اب مناسب یہ ہے کہ آپ اپنی جگہ پر مقیم رہئے ہیں جاتا ہوں اورسب کو باخبر کرتا ہوں حضرت مختار نے حضرت ابراہیم کو دعا دی اور وہ سو سوار لے کر مسجد فاطمی کے در وازے پر جا پہنچے اور وہاں سے چل کر مسجد بازار کے کوچہ میں داخل ہو ئے جہاں بیعت کرنے والوں کے چار سو افراد رہتے تھے حضرت ابراہیم جو نہی اس کو چہ میں پہنچے ۔آپ نے دیکھا کہ سوا فراد دشمنوں کے وہاں موجود ہیں ۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ میں ابراہیم بن مالک اشتر ہوں ،اس نے جواب دیا کہ میں عمر بن عفیف ہوں اور تمہیں اور حسین کو قتل کرنے والا ہوں ۔یہ سن کر حضرت ابراہیم نے ایک زبردست نعرہ لگایا جس کی وجہ سے وہ کانپ گیا اور اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے بھاگ نکلا ۔یہ دیکھ کر ابراہیم کے ساتھی ان کی پیچھے دوڑے اور انہیں جا گھیرا بالآخران کے چالیس افراد قتل کر دئیے اور سینکڑوں کو مجروح کر دیا ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے مومنوں کو اپنے خروج کی اطلاع دی پھر وہاں سے چل کر مجلہ بنی کندہ میں پہنچے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص ایک سرائے کے دروازے پر بیٹھا ہوا ہے آپ نے اس سے پوچھا کہ اس محلہ کا محافظ کون ہے اس نے کہا کہ زبیر ہشمی ،ابراہیم نے فرمایا کہ خداوند عالم اس پر بے شمار لعنت کرے کہ وہ امیر المومنین کے ساتھ جنگ صفین میں لڑا ۔پھرامام حسین (ع) کے قتل میں کربلا میں شریک ہوا۔خدا مجھے تو فیق و تسلط عطا کرے کہ میں اس کا سر تن سے جد ا کروں اس کے بعد اس محلہ کے گرد چکر لگاکہ اہل ایمان کو خروج مختارسے باخبر کرنے لگے ۔اسی دوران میں حضرت ابراہیم کے ساتھیوں نے ایک شخص کو مسلح دیکھ کر پوچھا۔ کہ تو کون ہے اس نے کہا کہ میں سنان بن انس کا آدمی ہوں ۔بازار کی نگرانی میرے سپرد ہے ۔لوگوں نے اسے گرفتار کر کے حضرت ابراہیم کے سامنے پیش کیا ۔حضرت ابراہیم نے حکم دیا کہ اس کی گردن مار دی جائے چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا ۔

حضرت مختار کے مکان پر حملہ کرنے کے لئے شیث ابن ربعی کی روانگی

حضرت ابراہیم ادھر چکر لگا رہے تھے ادھر عبداللہ ابن مطیع نے شیث ابن ربعی کو بلا کر کہا کہ صبح ہونے سے پہلے پہلے مختار کے مکان کو گھیر کو انہیں تباہ کر دے۔ شیث نے کہا کہ اے امیر یہ رات کا وقت ہے۔ اس وقت کیونکہ حملہ کرنا مناسب ہو گا۔ ابن مطیع نے کہا کہ بہانے نہ کر اور چل پڑ۔

یہ سُن کر شیث ایک ہزار سوار لے کر نکل پڑا۔ اس کے ساتھ مشعلیں تھیں۔ اور سیاہ عَلم تھا۔ وہ اپنے مقام سے چل کر جونہی محلہ بنی سالم سے گزرا اِس نے دیکھا کہ ایک وہ آ رہا ہے۔ وہ گروہ تھا حجاز ابن جر کا اسی محلہ کا محافظ تھا۔ یہ گر وہ باہم یہ فیصلہ کر کے اپنے تھا کہ چل کردارالامارہ کو دیکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ مختار نے اس پر حملہ کر دیا ہو۔ یہ لشکر جا ہی رہا تھا کہ اس کی نگاہ شیث کے لشکر پر پڑی، وہ یہ سمجھا کہ مختار کا لشکر آ رہا ہے اور حجاز کا لشکر بھی یہی سمجھا۔ کہ مختار کا لشکر آ رہا ہے۔ غرضیکہ دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو مختار کا لشکر سمجھا اور یہی سمجھ کر دونوں گتھ گئے اور دونوں میں باہمی قتال ہونے لگا۔ بالآخر حجاز کا لشکر جو کہ پانچ سو پر مشتمل تھا۔

شیث کے لشکر پر جو کہ ایک ہزار پر مشتمل تھا غالب آیا۔ شیث ابن ربعی کا لشکر ہزیمت کھا کر بھاگا۔ اور شیث کے لشکر کے تین سو ساٹھ سوار مارے گئے اور تقریباً کُل کے کُل زخمی ہو گئے۔ ہمیشہ باد عداوت میان گبرد یہود زہر طرف کہ شودکشتہ سود اسلام است شیث ابن ربعی بھاگا ہوا عبداللہ ابن مطیع کے پاس پہنچا۔ اب اسے معلوم ہو چکا تھا کہ کشت و خون آپس ہی میں ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نہ کہتا تھا کہ شب کے وقت حملہ کرنا قرین مصلحت نہیں ہے۔ تو نہ مانا آخر نتیجہ یہ نکلا۔ کہ اپنے ہی بہت سے سوار مارے گئے۔ ابن مطیع نے کہا کہ تو مختار سے ڈر گیا۔ حضرت مختار کو جب شیث اور حجاز کے باہمی قتال کی خبر ہوئی تو وہ سجدہ شکر میں گِر پڑے۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ بھائی دشمن کو یہ معلوم ہے کہ ہمارے پاس لشکر بہت ہے اگر اُسے یہ پتہ چل گیا کہ ہمارے معاون فی الحال بہت کم ہیں وہ حملہ کر دیں گے اور ہمیں سخت نقصان پہنچ جائے گا۔ ابراہیم نے کہا کہ چاروں طرف راستے بند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی آمد کم ہے۔ بمقام “شاکریہ” شیعیان علی بن ابی طالب علیہ السلام کافی تعداد میں موجود ہے ۔ اگر انہیں خروج کی صحیح اطلاع مل جائے تو یقینا وہ لوگ ہم تک پہنچ جائیں گے اور اب اس کی صورت صرف یہی ہے کہ کسی کو اس مقام پر بھیج دیا جائے۔ یہ سن کر بشیر ابن قان جو اسی مقام پر بیٹھا ہوا تھا۔ بولا کہ یہ فریضہ میں ادا کروں گا۔

اور اے امیر میں اس امر میں کامیاب بھی ہو جاؤں گا کیونکہ میں باہر کارہنے والا ہوں۔ یہاں کے لوگ مجھے پہچانتے نہیں ہیں ۔ میں یہ بہانہ کر کے جاؤں گا کہ شاکر یہ میں میرا ایک دوست ہے، مجھے اس سے ملنا ہے۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اگر کہیں کعب ابن ابی کعب مل گیا تو ہو سکتا ہے کہ تمہیں قتل کر ڈالے۔ تب کیا بنے گا۔ اس نے کہا کہ “زہے سعادت” اگر میں راہِ حسین(ع) میں قتل ہو گیا تو اس سے بہتر اور کیا ہے؟ یہ سُن کر مختار نے اُس کو دُعا دی اور اجازت مرحمت فرمائی۔ بشیر حضرت مختار سے رخصت ہو کر بلباس کہنہ و بدست عصا شاکریہ کے دروازہ پر پہنچا۔ وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ اہل شاکریہ دروازہ بند کیے بیٹھے ہیں۔ جب اس نے دروازہ کے شگاف و دراز سے نگا ہ کی تو دیکھا کہ وہ شمعیں روشن کیے سلاح جنگ سے آراستہ بیٹھے ہیں۔ بشیر نے آواز دی کہ “معشر المسلمین” میرے قریب آؤ کہ میں ایک ضروری بات کہنی چاہتا ہوں۔ یہ سن کر ایک شخص مسلح اپنے مقام سے اُٹھا اور پھاٹک کے قریب آیا۔ اور آ کر کہنے لگا کہ تو کون ہے۔ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔ بشیر نے کہا کہ میں حضرت مختار کے پاس سے آیا ہوں مجھے حکم دیا گیا ہے۔ کہ میں آپ کو حضرت مختار کے خروج کی اطلاع دے دوں اور یہ بتا دوں کہ حضرت مختار کے مکان پر جو آگ روشن کی گئی ہے۔ وہ اعلان خروج کیلئے ہے اور دھوکہ نہیں ہے۔ اور جو نقارہ بجایا جا رہا ہے۔ درست ہے۔ سنو! میں تمہیں خاص طور سے اطلاع دینے کے لئے رات کے وقت آیا ہوں۔ یہ سُننا تھا کہ ایک ہزار چار سو سوار بیک وقت دروازہ کھول کر باہر نکل آئے۔

مزید  مکتب خمینی رہبر کے زبانی

اہل شاکریہ کی سیاست

باہر نکلنے کے بعد ان لوگوں نے باہمی مشورہ کیا کہ ہمیں اب کدھر چلنا چاہئے۔ بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو سیدھے حضرت مختار کے پاس نہیں جانا چاہئے۔ کیونکہ اگر ہم براہ راست چلے گئے تو کعب ہمارے مکانات کھدوا ڈالے گا۔ ہمارے بچوں کو قتل اور اسیر کرے گا اور ہماری املاک کو تباہ کر دے گا۔ بہتر یہ ہے۔کہ ہم سب ابن مطیع کے طرف دار بن کر کعب کے پاس چلیں اور اسے یہ یقین دلائیں کہ ہم اس کے مددگار ہیں جب وہ مطمئن ہو جائے تو تو پھر موقع سے حضرت مختار کے پاس پہنچ جائیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب موقع نصیب ہوا تو باہر نکل کر آواز لگانے لگے۔ “یالثارات الحسین “اس آواز کا بلند ہو نا تھا کہ لشکر کعب یہ سمجھا کہ مختار آ گئے اور اس تصور کے قائم ہوتے ہی سب کے سب بھاگ نکلے اور یہ ایک ہزار چار سو افراد حضرت مختار کی خدمت میں جا پہنچے۔

مجاہدوں کی فراہمی کے لئے حضرت ابراہیم کی روانگی

اس کے بعد حضرت مختار نے حضرت ابراہیم سے فرمایا کہ اب کوئی ایسی صورت ہونی چاہیئے کہ تمام مومنین یہاں پہنچ جائیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ آپ اپنے مقام پہ رہئے۔ میں خود جا کر لوگوں کو فراہم کرتا ہوں۔ چنانچہ ایک سو سوار لے کر باہر نکل پڑے۔ اور وہاں سے روانہ ہو کر بازار میں پہنچے۔ وہاں پہنچ کر ایک لشکر کو دیکھا کہ بڑھتا چلا آ رہا ہے حضرت ابراہیم نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا اور فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ تم کو ن لوگ ہو اور کہاں سے آئے ہو۔ اور تمہارا نشان کیا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہمارا نشان “المنصورا المنتقم یا لثارات الحسین” ہے یہ سن کر حضرت ابراہیم شاد ہو گئے اور عبداللہ ابن عروہ اس لشکر سے برآمد ہو کر حضرت ابراہیم سے بولے کہ اے امیر وعدہ خروج توکل پنج شنبہ کی رات کے لئے تھا آج ہی خروج کی کیا وجہ ہو گئی۔ حضرت ابراہیم نے واقعہ بتایا اور انہیں حضرت مختار کے پاس بھیج دیا۔ حضرت ابراہیم وہاں سے دوسری طرف روانہ ہو گئے۔ یہ رات تاریکی میں ایک طرف کو جا رہے تھے کہ ناگاہ ان کی نظر اپنے لشکر کے ایک دستہ پر پڑی، دیکھا کہ وہ ایک شخص کو پکڑے ہوئے لا رہا ہے۔

جب وہ لوگ اسے حضرت ابراہیم کے پاس لائے تو حضرت ابراہیم نے اس پوچھا کہ تو کون ہے ؟ کہاں سے آتا ہے۔ اس نے سوا اس کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ کہ حذ رکن ہر دو قوم حرب می کنند “حضرت ابراہیم نے اُسے حضرت مختار کے پاس بھیج دیا، پھر آپ اور آگے بڑھے دیکھا کہ ایک لشکر جرار چلا آتا ہے حضرت ابراہیم نے آگے بڑھ کر پوچھا تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو اور تمہارا نشان کیا ہے؟ انہوں نے سب باتوں کا جواب یہ دیا۔ کہ ہمارا نشان “المنصور المنتقم یا لثارات الحسین” ہے اس کے بعد ایک شخص جارث بن اثاث ہمدانی اپنے لشکر سے آگے بڑھا جونہی حضرت ابراہیم کی نگاہ اس کی پیشانی پر پڑی۔ پوچھا برادرم! تمہاری پیشانی کیوں زخمی ہے۔ اس نے کہا کہ جب خانہ امیر مختار پر آگ روشن ہو ئی اور نقارہ بجایا گیا تو ہم لوگوں نے سمجھا کہ ابن مطیع نے مکروفریب کیا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک مرد پیر نے مجھ سے کہا کہ حضرت مختار نے خروج کر دیا ہے۔ اور شاکریہ کے ایک ہزار چار سو بہاردر حضرت مختار کے پاس پہنچ گئے ہیں۔

یہ سننا تھا کہ تابِ تاخیر باقی نہ رہی۔ ہم لوگ آپ کی خدمت میں پہنچنے کے لئے بے چین ہو گئے۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک گروہ سامنے سے چلا آتا ہے۔ یہ دیکھ کر میں آگے بڑھا اور میں نے اس سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو۔ اور کس سے تعلق رکھتے ہو۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم شمر بن ذی الجوشن کے آدمی ہیں۔ اور وہ خود ہمارے لشکر میں بحیثیت امیر موجود ہے۔میں نے یہ سُن کر ان لوگوں پر حملہ کر دیا۔ اور جنگ ہونے لگی۔ یہاں تک کہ خود شمر میرے مقابلے میں آ گیا۔ میں نے اس پر ایک زبردست حملہ کیا ۔ اور اسے زخمی کر دیا اُس نے اُس کے جواب میں مجھ پر حملہ کیا اور میری پیشانی مجروح ہو گئی لیکن خدا کا فضل ہے کہ میں نے اُس گروہ کو شکست دے دی اور وہ سب مفرور ہو گئے معلوم نہیں اب وہ سب کدھر نکل گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کو دعا اور حضرت مختار کے پاس انہیں بھیج دیا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم ایک دوسری جانب کو چل پڑے۔ راستے میں دیکھا کہ ایک گروہ آ رہا ہے۔ آپ نے اسے روک کر پوچھا کہ تم کون لوگ ہو۔ اس نے جواب دیا کہ ہم المنصور المنتقم یا لثارات الحسین ہیں۔ حضرت ابراہیم خوش ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ تمہارا سردار کون ہے انہوں نے قاسم ابن قیس کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ ہے قاسم ایک نوجوان شخص تھا جس کی عمر ۲۰ سال تھی۔

لیکن یہ شجاعت میں اپنا جواب نہ رکھتا تھا۔ اسی کے والد قیس حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔ حضرت نے انہیں اپنا خط دے کر کوفہ بھیجا تھا۔ جب ابن زیاد کے سپاہیوں نے انہیں دیکھا گرفتار کر لیا۔ اور ابن زیاد کے سامنے انہیں پیش کیا۔ ابن زیاد نے کہا کہ اے قیس حسین کے ایلچی ہو تمہیں قتل ضرور کیا جائے گا۔ لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ قتل سے بچ جاؤ تو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ تم دارالامارہ کے کوٹھے پر جا کر میری اور یزید کی تعریف کرو اور علی و حسین کو مذمت میں ناسزا الفاظ کہو۔ قیس نے کہا بہتر ہے مجھے کوٹھے پر بھیج دے۔ جب وہ کوٹھے پر پہنچے تو بآوازِ بلند بولے۔ اے لوگو! میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا قاصد ہوں۔ انہوں نے مجھے تم لوگوں کے پاس بھیجا ہے کہ میں تمہیں بتا دوں کہ وہ حسین جو فرزند پیغمبر ہیں کربلا میں آ چکے ہیں اور دشمن انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے وہ تم سے مدد کے خواہاں ہیں۔ خوشانصیب ان لوگوں کا جو اپنی دولت اور اپنے مال و منال کی پرواہ کیے بغیر ان کی خدمت میں پہنچ سعادت ابدی حاصل کریں گے۔ سُنو !ان کی امداد ! تم پر فرض ہے یہ کہہ کر انہوں نے یزید، معاویہ اور ابن زیاد پر لعنت شروع کی۔ اور ان لوگوں کی سخت مذمت کی۔ ابن زیاد کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی ابن زیاد نے حکم دیا کہ قیس کو کوٹھے سے زمین پر گرا کر قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ درجہ شہادت پر فائز ہو گئے، غرضیکہ حضرت ابراہیم قاسم بن قیس کو ہمراہ لئے ہوئے حضرت مختار کی خدمت میں جا پہنچے۔ حضرت ابراہیم کی کدوکاوش اور محنت مشقت سے خانہ مختار پر مجاہدوں کا کافی اجتماع ہو گیا اس اجتماع کی جب ابن مطیع کو اطلاع ملی، تو وہ گھبرا گیا۔ اور وہ یہ فکر کرنے لگا۔ کہ مختار کی جمعیت کو کسی نہ کسی صورت سے منتشر کرے۔ اس کی تمامتر کوشش یہ تھی کہ مختار کو تباہ و برباد کر ڈالے۔

ابن مطیع کا لشکر حضرت مختار کے مکان پر

چنانچہ اس نے اپنے چچازاد بھائی عبداللہ ابن حرب کو طلب کیا اور اُسے حکم دیا کہ تو ایک ہزار کا لشکر لے کر مختار کے مکان پر جا۔ اور اُن کی ساری جمعیت کو تہس نہس کر دے۔ عبداللہ اپنے زعم شجاعت میں لشکر لئے ہوئے۔ نکلا اور حضرت مختار کے مکان کے قریب جا پہنچا۔ حضرت ابراہیم کو جونہی اطلاع ملی۔ انہوں نے حضرت مختار سے فرمایا کہ آپ اپنی جگہ پر قیام کریں۔ میں ان دشمنوں کو ابھی دم کے دم تہ تیغ کر دیتا ہوں حضرت ابراہیم ابھی پیش قدمی نہ کرنے پائے تھے کہ ایک بہت بڑا گروہ آ گیا اور اس نے ایسا نعرہ لگایا کہ تمام شیعوں کے دل ہل گئے اور سب گھبرا اُٹھے ان لوگوں نے سمجھا کہ یہ لشکر بھی ابن مطیع کے لشکر کی مدد میں آ گیا ہے حضرت مختار نے حضرت ابراہیم سے فرمایا کہ آپ اس آنے والے لشکر کا مقابلہ کریں اور میں ابن مطیع کے آئے ہوئے لشکر کا مقابلہ کے لئے نکلتا ہوں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم آگے بڑھے۔ جونہی اس بعد والے لشکر نے حضرت ابراہیم کو دیکھا نعرہ یا لثارات الحسین لگایا۔ حضرت ابراہیم خوش ہو گئے اور انہوں نے فرمایا کہ لشکر کا سردار کون ہے یہ سُن کر ورقاء بن غارب سامنے آئے، حضرت ابراہیم نے ان سے ملاقات کی۔ اور واپس آ کر حضرت مختار کو خوشخبری دی۔ کہ وہ لشکر جس نے نعرہ بلند لگایا تھا وہ ورقاء کا لشکر ہے۔ آپ کی مدد کے لئے آیا ہے۔ یہ سن کر حضرت مختار اور ان کے سب ساتھی خوش و مسرور ہو گئے اس کے بعد حضرت ابراہیم نے ابن مطیع کے لشکر پر حملہ کیا اور زبردست جنگ کے بعد ان کو شکست دی۔ اس کے بیس سوار قتل ہوئے اور وہ سب کے سب مفرور ہو گئے لیکن اس جنگ میں قاسم ابن قیس شہید ہو گئے ان کی شہادت سے حضرت مختار اور حضرت ابراہیم سخت غمگین ہو ئے اور ان دونوں نے تادیر گریہ کیا۔

حضرت مختار کاایک جاسوس جامع مسجد میں

رات گذرنے کے بعد صبح ہوئی تو حضرت مختار نے ایک شخص مسمی سعید کو حکم دیا کہ پرانا کپڑا پہن کر مسجد جامع میں جاؤ اور ابن مطیع کے پیچھے نماز ادا کرو اور دیکھو کہ وہاں کیا کیا امور رونما ہوتے ہیں، اور سنو! کہ لوگ نماز کے بعد ہمارے متعلق کیا گفتگو کرتے ہیں۔ سعید حسب الحکم نماز میں شریک ہوا۔ اور اس نے وہاں کے تمام حالات کا معائنہ کیا اس نے واپس آ کر حضرت مختار سے بیان کیا کہ ابن مطیع جب نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اس کے پیچھے پچاس مسلح مرد کھڑے ہوگئے اور اس نے ان کی حفاظت میں نماز ادا کی۔ اور دروازہ مسجد پر بارہ ہزار افراد تدبیر جنگ کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔ حضرت مختار نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ ابن مطیع نے رکعت اول میں بعد سورہ حمد کون سا سورہ پڑھا تھا۔ سعید نے کہا کہ اس نے رکعت اوّل میں سورہ عبس کی تلاوت کی تھی۔ حضرت مختار نے بطور تفاؤل کہا تھا کہ انشاء اللہ اس کا چہرہ ترش ہی رہے گا پھر پوچھا کہ اس نے رکعت دوم میں کون سا سورہ پڑھا تھا۔ اس نے کہا کہ رکعت دوم میں اذازلزلة الارض حضرت مختار نے فرمایا ۔ کہ اس نے وہی سورہ پڑھا ہے جس کا نتیجہ میرے ہاتھوں سے برآمد ہو گا ان شاء اللہ میں ان کے بدنوں میں زلزلہ ڈال دوں گا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے سعید میں نے آج کی نماز کی رکعت اوّل میں سورہ نازعات اور رکعت دوم میں اذجاء نصراللہ کی تلاوت کی ہے۔ میں ان شاء اللہ نصرت خدا سے کامیاب ہو کے رہوں گا۔

قتل کا منصوبہ اور جاسوس مختار کی خبر رسانی

مسجد سے نکلے کے بعد ابن مطیع نے حکم دیا کہ جتنے افراد محلوں میں تعینات میں انہیں دارالامارہ میں بُلایا جائے۔ ابن ایاس نے کہا کہ ان لوگوں کا بلانا مناسب نہیں کیوں کہ وہ لوگ ناکہ بندی کیے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں بلا لیا گیا تو مختار کے آدمیوں کو مختار تک پہنچنے کا راستہ مل جائے گا۔ اب ہونا یہ چاہیئے کہ مختار پر دو طرف سے حملہ کیا جائے۔ ایک طرف سے میں حملہ کروں اور دوسری طرف سے آپ حملہ کریں۔ اور بہتر یہ ہے کہ کچھ اور لوگوں کو بھی ہمراہ بھیج دیں تاکہ میں مختار اور ابراہیم کا سرکاٹ کر لاؤں۔ ابن مطیع نے ابن ایاس کی رائے پسند کی۔ اور کہا کہ بس اُٹھ کھڑے ہو۔ اس کے بعد شیث ابن ربعی کو دو ہزار سوار دے کر کہا کہ تو مختار پر داہنی جانب سے حملہ کر۔ اور ابن ایاس سے کہا تو بائیں جانب سے حملہ کر ابن ایاس کے ہمراہ بھی دو ہزار کا لشکر کر دیا۔ اس کے بعد حکم دیا۔ کہ تم لوگوں کا فرض ہے کہ مختار کو گھیر کر میرے پاس لے آؤ اور اگر گرفتار کرنا ممکن نہ ہو تو ان کا سر کاٹ کر لے آؤ۔ ادھر ابن مطیع نے ان لوگوں کو حکم دیا ادھر حضرت کے جاسوس نے حضرت مختار کو فوراً اس مشورے اور تیاری کی خبر کر دی۔ حضرت مختار نے حضرت ابراہیم کو داہنی جانب اور جناب یزید ابن انس کو بائیں جانب حملہ کی ہدایت کی۔ اور فرمایا کہ پوری طاقت سے حملہ کرنا چاہیئے حضرت مختار کی ہدایت کے مطابق حضرت ابراہیم اور یزید بن انس لشکر لیے تیار کھڑے تھے۔ جونہی شیث ابن ربعی وہاں پہنچا۔ حضرت ابراہیم نے پوری طاقت سے حملہ کیا اور بہت دیر تک شدید جنگ جاری رہی حضرت ابراہیم کا لشکر چونکہ کم سواروں پر مشتمل تھا اس لئے حالات ایسے پیدا ہوئے کہ قریب تھا کہ ان کے لشکر کو شکست ہو جائے۔ حضرت مختار کو جب اس کی طلاع ملی۔ کہ ابراہیم کا لشکر قریب بہ ہزیمت ہے تو انہوں نے پانچ سو سوار ان کی امدا د کے لئے بھیج دئیے۔ امدادی لشکر کا پہنچنا تھا۔ کہ حضرت ابراہیم کے حملوں میں جان پڑ گئی اور انہوں نے ایک ایسا زبردست حملہ کیا۔ کہ دشمن کے پاؤں اُکھڑ گئے۔

جب دشمن محو فرار ہوئے تو ابراہیم کے لشکر نے اُن کا پیچھا کیا اور انہیں ابن مطیع تک جا پہنچایا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم مظفر و منصور حضرت مختار کی خدمت میں آ موجود ہوئے۔ حضرت مختار نے اس کامیابی پر خدا کا شکر کیا۔ اب صبح ہو چکی تھی۔بائیں جانب حملہ کیلئے یزید ابن انس جب پہنچے تو دیکھا کہ راشد ابن ایاس میمنہ اور میسرہ درست کر رہا ہے آپ نے فرمایا اے ملعون لشکر کیوں ترتیب دے رہا ہے، موت تو تیرے سر پر منڈلا رہی ہے۔ میں یزید ابن انس ہوں، اور تجھے واصل جہنم کرنے کے لئے آیا ہوں۔ راشد کو چونکہ اپنی شجاعت پر غرور تھا، لہٰذا اس نے کہا کہ اے یزید! تم اپنے کو سمجھتے ہو کہ مرد ہو۔ اور مجھے عورت جانتے ہو۔ تمہیں اگر مقابلہ کا حوصلہ ہے تو آ جاؤ۔ یہ سُن کر جناب یزید ابن انس اُٹھ کھڑے ہوئے اور مقابلہ کیلئے آگے بڑھے۔ یہ دیکھ کر ابراہیم ان کی مدد کے لئے ہمراہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور راشد کے مقابل جا کر بولے کہ اے راشد میں نے تیرے باپ ایاس کو واصل جہنم کیا ہے اب اگر خدا نے چاہا تو میں تجھے بھی تیرے باپ کے پاس بھیج دوں گا۔ یہ کہہ کر حضرت ابراہیم نے گھوڑے کو مہمیز کیا اور راشد پر نیزے کا وار فرمایا۔ راشد نے ان کے وار کو رد کر کے ان کے ان کے سر پر تلوار کا وار چلایا، مگر وہ خالی گیا۔ حضرت ابراہیم نے خدا کو یاد کیا۔ رسول پر صلوٰة بھیجی اور حضرت مشکل کشاء سے مدد مانگی اور دانتوں کو چابھ کر اس کے سر پر ایسی تلوار لگائی کہ دو نیم ہو کر گھوڑے کی زین سے سطح زمین پر آ گیا۔ اس کے گرتے ہی فوج میں ہل چل مچ گئی۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم اور جناب یزید ابن انس نے مل کر دشمنوں پر حملے شروع کر دیئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ دشمنوں کے دانت کھٹے ہو گئے اور وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے۔ یہ دونوں میدان شجاعت کے شہسوار مظفر و منصور حضرت مختار کی خدمت میں واپس آئے۔ حضرت مختار نے انہیں دعا دی اور خدا کا شکر ادا کیا۔ اُدھر ہزیمت خوردہ لشکر ابن مطیع کے پاس پہنچا۔

ابن مطیع نے محلوں کے محافظوں کو بلا کر حملہ کا حکم دے دیا

ابن مطیع نے حکم دیا کہ وہ تمام سوار جو محلوں کی حفاظت کر رہے ہیں حاضر دارلامارہ کیے جائیں۔ چنانچہ سب اپنے محلوں کو چھوڑ کر اُس کے پاس حاضر ہوئے، ادھر وہ لوگ محلوں سے نکلے اُدھر مجاہدوں نے راستہ پا کر اپنے کو حضرت مختار کی خدمت میں پہنچا دیا۔ انہیں دیکھ کر حضرت مختار بہت خوش ہوئے اور اُن سے پوچھا کہ تم لوگ اب تک کہاں تھے۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ حضور ہمارے راستے مسدود تھے اس لئے ہم نکل نہ سکتے تھے اب موقع ملا ہے تو حاضر ہوئے۔ اب دن چڑھ چکا تھا ابن مطیع نے محلوں کے محافظوں کو جمع کر کے مکمل حملے کا بندوبست کیا۔

حضرت مختار کا عظیم الشان خطبہ

عمرو بن احمد کوفی کا بیان ہے کہ جب چاروں طرف سے حضرت مختار کے پاس مجاہدوں کا اجتماع ہو گیا تو حضرت مختار نے حکم دیا کہ جملہ سرداروں کو میرے پاس لایا جائے۔ چنانچہ ورقہ ابن غارب، شعر بن ابی شعر ، عبداللہ بن صخر مذحجی، ربان ابن ہمدانی، قرہ ابن قدامہ ثقفی، زبیر ابن عبداللہ کوفی، احمد نخعی، عبداللہ کامل ساعد بن مالک اور ابراہیم ابن مالک نخعی نیز دیگر بزرگان کو حاضر کر دیا گیا۔ جب یہ لوگ جمع ہو گئے تو حضرت مختار نے ایک عظیم الشان نہایت فصیح و بلیغ خطبہ دیا اور فرمایا کہ : اے بہادرو! اپنے کاموں میں خدا پر بھروسہ کرو اور دشمنان آل محمد سے جنگ آزمائی کے لئے پوری ہمت کے ساتھ تیار ہو جاؤ۔ میرے عزیزو! یہ جان لو کہ خدا کی رحمت تم پر نثار ہے اور اس کی مدد تمہارے سروں پر ہے۔ سنو! اگر تم دشمنوں کو قتل کرو گے۔ مجاہد قرار پاؤ گے۔ اور اگر شہید ہو جاؤ گے۔ خدا کے نزدیک بڑے عظیم درجات کے مالک ہو گے۔ کیونکہ تم صحیح ارادے اور پاک نیت سے کھڑے ہوئے ہو اور تمہارا مقصد صرف خونِ امام حسین(ع) کا بدلہ لینا ہے۔ یقین رکھو کہ قیامت کے دن حضرت رسول کریم ، حضرت علی (ع) حضرت فاطمہ زہرا (ع) حضرت خدیجة الکبریٰ (ع)تمہاری شفاعت کریں گے۔ اور تمہارا حشر حضرات شہداء کربلا کے ساتھ ہو گا۔ “یہ سُن کر بہادر مجاہدوں نے کہا اے امیر ہم تمہارے دل وجان سے فرمانبردار ہیں اور ہم اس وقت تک دشمنوں سے لڑنے میں کوتاہی نہ کریں گے۔ جب تک جان میں جان رہے گی۔ اے امیر! ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم لوگ راہ خدا میں قتل ہونے کا دل سے تہیہ کر چکے ہیں۔ ہم غسل کر چکے ہیں، کفن پہن چکے ہیں، اہل و عیال کو رخصت کر آئے ہیں ، دُنیا و مافیہا سے منہ موڑ چکے ہیں۔ ہم بالکل آپ کے ساتھ ہیں اور تابمرگ آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور ان شاء اللہ تکمیل مقصد میں آپ کی پوری پوری مدد کریں گے یہاں تک کہ راہِ خدا درجہ شہادت حاصل کر لیں۔ اس کے بعد حضرت مختار نے اپنے سرداروں کو سفید علم حوالے کر دیا۔

ابن مطیع کے لشکر کی تیاری

ادھر عبداللہ ابن مطیع نے اپنے لوگوں کو جمع کر کے حضرت مختار سے جنگ کے لئے آمادہ کیا اور ہدایت کی کہ پوری طاقت سے حملہ کرنا اور کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنا۔ ابن مطیع نے اپنے لشکر کا شمار کیا تو اٹھارہ ہزار پایا۔ یہ وہ لوگ تھے جن میں اکثر ایسے تھے جو واقعہ کربلا میں شریک تھے۔ حضرت مختار اور ابن مطیع کے لشکروں میں زبردست مڈبھیڑ خدائی مجاہدوں کا گروہ اور شیطان ابن زیادہ کا وہ گروہ جس کا سربراہ عبداللہ ابن مطیع حاکم کوفہ تھا اپنے اپنے مقام پر تیار ہو کر ایک مقام پر جمع ہو گیا۔ حضرت مختار کے گروہ نے طبل جنگ بجایا اور دونوں لشکر مقابل ہوگئے اس آواز طبل سے کوفہ کے تمام کوٹھوں پر عورتیں اور بچے پہنچ گئے مجاہدوں نے یا امیر المومنین یا لثارات الحسین کی آواز بلند کی اور یزیدیوں نے “الامام یزید بن معاویہ” کی صدا دی۔ اب سب انتظار میں تھے کہ دیکھیں آغازِ جنگ کدھر سے ہوتی ہے، اور اس عظیم لڑائی میں کیا بنتا ہے۔ اتنے میں عبدالرحمن ، سعد قیس، حاکم کوفہ عبداللہ ابن مطیع کے پاس آیا اور آ کر اجازت جنگ طلب کرنے لگا۔ اس نے ایک ہزار سپاہ کے ساتھ اسے جنگ کی اجازت دی۔

وہ میدان میں آ کر مبازر طلبی کرنے لگا۔ یہ سن کر احمد بن شمیط نے حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہو کر مقابلہ کیلئے برآمد ہونے کی اجازت چاہی۔حضرت مختار نے اجازت دی۔

اور وہ عمدہ قسم کے لباسِ جنگ سے آراستہ ہو کر میدان میں آئے۔ میدان میں پہنچ کر جناب احمد بن شمیط نے عبدالرحمن سے کہا کہ تجھے کیا ہو گیا کہ تو اپنے باپ کے جادہ سے ہٹ کر ادھر آ گیا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ تیرا باپ حضرت علی (ع) کے اصحاب خاص میں سے تھا۔ اور تیرا یہ حال ہے کہ تو ان کے فرزند کے دشمنوں کی طرف سے لڑنے کے لئے نکلا ہے۔ یہ سن کر اس نے ناسزا الفاظ میں ان کا جواب دیا جناب احمد بن شمیط نے غصہ میں آ کر گھوڑے کو ایڑ دی اور آگے بڑھ کر اس پر شیرانہ حملہ کیا اور اسے پہلے ہی حملہ میں مجروح کر دیا۔ احمد کی تلوار اس کے کندھے پر پڑی۔ اور اس نے شانہ کاٹ کر اُسے سخت زخمی کیا۔ اس کے ایک آہ نکلی اور وہ درک اسفل میں پہنچ گیا۔ یہ دیکھ کر اس کا ایک ہزارہا کا لشکر بھاگ نکلا۔ ابن مطیع نے فوراً عبدالصمد صخرہ کو حکم جنگ دیا۔ یہ ملعون حضرت امام حسن(ع) کے فرزند جناب عبداللہ کا قاتل تھا اس کے برآمد ہوتے ہی جناب ورقاء بن عازب، حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے درخواست کی کہ اس سے مقابلہ کے لئے مجھے اجازت دی جائے حضرت مختار نے انہیں دعا دی اور میدان میں جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ جناب ورقاء سلاحِ جنگ سے آراستہ ہو کر میدان میں تشریف لائے۔ اور اس ملعون کے مقابل میں پہنچ کر حملہ آور ہوئے آپ نے ایک ایسا نیزہ اس کے سینے پر مارا۔ کہ وہ ایک بالشت پشت سے باہر جا نکلا۔ وہ ملعون اس کے صدمہ سے زمین پر آ گرا۔ جناب ورقاء نے اس کا سر کاٹ لیا اور وہاں سے واپس آ کر آپ نے اسے حضرت مختار کے قدموں میں ڈال دیا۔ حضرت مختار نے جناب ورقاء کو دعا دی۔ اور فرمایا کہ خدا تمہیں اس کے صلہ میں اپنی رحمت سے نوازے۔ تم نے میرا اور میرے مولا حضرت امام حسین علیہ السلام کا دل خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد جناب یزید ابن انس جو کہ بزرگان شیعہ کوفہ میں سے تھے۔ پچاسی سواروں سمیت حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہوئے کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں میدان میں جا کر نبرد آزمائی کروں۔ حضرت مختار نے اجازت مرحمت فرمائی اور آپ میدانِ کارزار میں پہنچے۔ ابن مطیع نے یزید کو میدان میں دیکھ کر حکم دیا کہ ان کے مقابلہ کے لئے حجاج بن حُر باہر نکلے۔ چنانچہ وہ سو سواروں کو ہمراہ لے کر میدان میں آیا۔ حجاج نے میدان میں پہنچ کر جناب یزید ابن انس سے کہا کہ میں تیرا سر کاٹنے کے لئے آیا ہوں اور تجھے ہر گز زندہ نہ چھوڑوں گا۔ اس کے بعد اس نے اپنے سواروں سے کہا کہ جب میں یزید پر حملہ کروں تو تم لوگ بھی یکبارگی میرے ہمراہ ان پر حملہ کر دینا۔ چنانچہ اس نے حملہ کر دیا اور اس کے ہمراہ سارے لشکر نے حملہ کیا۔ یزید بن انس اس خیال میں تھے۔ کہ اس کے علم کو سر نگوں کروں کیونکہ وہ علم کو ہلا کر “الامام یزید بن معاویہ” کا نعرہ لگا رہا تھا۔ اب تیزی سے تلوار چلنے لگی۔ اتنے میں جناب یزید بن انس نے دیگر لوگوں پر حملہ شروع کیا۔ اور اس بے جگری سے اُن پر حملہ کیا کہ چالیس سواروں کو تنہا قتل کر ڈالا۔ جس کے نتیجے میں آپ کو شاندار کامیابی نصیب ہوئی اور لشکر مخالف بھاگ کر ابن مطیع کے پاس جا پہنچا۔

مزید  فخر مریمّ سیدہ النسا العالمین دختر رسول ص اللہ سیدہ فاطمہ الزھرا الصلوۃ و السلام علیہا

ابن مطیع کی گھبراہٹ اور اُس کا خود میدان میں آنا ابن مطیع نے اس ہزیمت خوردہ گروہ سے کہا کہ تم لوگ کیا کرتے ہو جو جاتا ہے شکست کھاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر لشکر مختار یکبارگی حملہ کر دے تو تم میں سے ایک بھی میرا ساتھ دینے والا نہ رہے گا۔ یہ کہہ کر نہایت غصہ کی حالت میں اس نے اپنے کو لوہے سے آراستہ کیا اور ایک گرانمایہ گھوڑے پرسوار ہو کر میدان میں نکل آیا۔ اور آ کر کہنے لگا جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا وہ جان لے میں عبداللہ ابن مطیع حاکم کوفہ ہوں۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ اے حسینیو! کہا ں ہے تمہارا مختار میرے مقابلے کے لئے بھیجو۔ یہ سننا تھا کہ حضرت مختار بے چین ہو گئے اور حکم دیا کہ میری سواری کا جانور لایا جائے۔ میں خود اس کے مقابلہ کے لئے جاؤں گا۔

حضرت مختار کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے لشکر کے سرداروں نے کہا اے امیر یہ ناممکن ہے کہ ہماری موجودگی میں آپ سرِمیدان جائیں۔

عبداللہ ابن مطیع کا پوری تیار ی کے ساتھ حضرت مختار پر حملہ

حضرت مختار اور ابراہیم نے فیصلہ کیا کہ شہر سے باہرچل کر کچھ دیر سکون حاصل کرنا چاہئے۔ چنانچہ بروایت طبری یہ لوگ شہر سے باہر چلے گئے۔ عبداللہ بن مطیع والیٴ کوفہ کو جب معلوم ہوا کہ مختار شہر سے باہر مقیم ہیں تو اس نے اُن کے مقابلہ کے لئے بروایت موٴرخ ہر وی شیث بن ربعی کو چار ہزار اور راشد ابن ایاس بن مضارب کو تین ہزار اور حجاز ابن حر کو تین ہزار اور غضاب بن قعشری کو تین ہزار اور شمر بن ذی الجوشن کو تین ہزار اور عکرمہ ابن ربعی کو تین ہزار فوج سمیت بھیج دیا۔

یہ انیس ہزار کا لشکر جب حضرت مختار سے مقابلہ کرنے کے لئے روانہ ہوا۔

تو ایک شخص بنی حلیفہ مختار کی خدمت میں عرض پرداز ہوا کہ عظیم لشکر آپ سے مقابلہ کرنے سے مقابلہ کرنے آ رہا ہے اس لشکر والوں نے مرنے پر کمر باندھ لی ہے یہ لوگ آپ سے سخت ترین جنگ کریں گے

حضرت مختار نے فرمایا کہ اے بھائی غم نہ کرو اور فکر مند مت ہو ان شاء اللہ ان کا جاہ و حشم خاک میں مل جائے گا۔ وہ لشکر عبداللہ بن مطیع نے حضرت مختار سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا تھا۔ جونہی سامنے آیا۔ جنگ شروع ہو گئی اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ اس جنگ میں حضر ت مختار، حضرت ابراہیم اور جناب عبداللہ ابن حُر نے اس بے جگری سے جنگ کی دشمن کے دل دہل گئے، یہ جنگ تا بہ ہنگام چاشت جاری رہی بالآخر عبداللہ ابن مطیع کا لشکر جان بچا کر بھاگا ، یہ ہزیمت نصیب لوگ شہر کوفہ کی طرف جب بھاگنے لگے تو مختار یوں نے اُن کا پیچھا کیا اور اس دوران میں جو ہاتھ آتا گیا اُسے قتل کرتے گئے یہاں تک کہ یہ لوگ شہر میں داخل ہو کر محلوں میں چلے گئے اور وہاں پہنچ کر ان لوگوں نے قدرے سستانے کے بعد پھر حملے کا ارادہ کیا اور ان لوگوں پر حملہ کر دیا۔ حضرت ابراہیم کے بھائی سائب بن مالک اشتر نے جب یہ رنگ دیکھا تو اپنے لشکر والوں سے پکار کر کہا کہ تم لوگ گھوڑوں سے اُتر پڑو اور پا پیادہ مشغول بہ جنگ ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ لوگ گھوڑوں سے اُتر کر مصروف بہ جنگ ہو گئے اور اس کثرت سے دشمنوں کو قتل کیا کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے اور اتنی لاشیں کوچہ و بازار میں جمع ہو گئیں کہ راستہ چلنا نا ممکن ہو گیا۔ قہر قہار نے گھیرا تھا ستمگاروں کو لاشوں سے پاٹ دیا کوفہ کے بازاروں کو اسی دوران میں کوٹھوں پر سے بوڑھے مردوں اور عورتوں کے فریاد کی آوازیں بلند ہوئیں وہ کہہ رہے تھے کہ اے ابو اسحاق خدارا رحم کرو۔ حضرت مختار نے اُن سے فرمایا کہ کوٹھوں سے اُتر کر ہمارے پاس آ جاؤ تاکہ تمہاری جانیں محفوظ کر دی جائیں ورنہ میں ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑوں گا۔ آپ نے کہا کہ خداوند عالم نے مجھے دشمنانِ آل محمد کو قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے اور میں اس میں کوتاہی نہ کروں گا۔

حضرت ابراہیم کی حوصلہ افزا پکار

جنگ جاری ہی تھی کہ دشمنوں کے غول پر غول پھر آنے شروع ہو گئے۔ حضرت ابراہیم نے اپنے مجاہدوں کو آواز دی کہ اے بہادر و دشمنوں کی کثرت سے خوفزدہ نہ ہونا۔ اور دامن صبر اپنے ہاتھ سے نہ جانے دینا، دیکھو، صبر و استقلال، خلیف فتح و ظفر ہو گا۔ تم گھبراؤ نہیں اور ہمت نہ ہارو۔ خداوند عالم ہمیں ضرور فتح نصیب کرے گا۔ اس کے بعد جنگ نے پوری شدت حاصل کر لی۔ اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ اس جنگ میں چونکہ حضرت مختار اور حضرت ابراہیم دونوں مل جُل کر برسرِ بیکار تھے۔ لہٰذا کشتوں کے بِشتے لگ گئے۔ ابن مطیع دارالامارة میں اور یہ عالم رونما ہو گیا کہ دشمن جو قتل سے بچے، سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے ابن مطیع نے جب یہ دیکھا کہ اس کے سرداران قتل ہو گئے تو اس نے بھی اپنا تحفظ ضروری سمجھا اور اس مقصد کے لئے ابن مطیع نے رؤساء کوفہ، ارکانِ دولت اور علماء کو جمع کیا اور جلد سے جلد دارالامارہ میں جا کر اس کے دروازے بند کرا دئیے۔

حضرت مختار نے دارالامارہ کا محاصرہ کر لیا

حضرت مختار نے جب یہ دیکھا کہ ابن مطیع نے دارالامارہ میں پناہ لے لی ہے تو فوراً اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دارالامارہ کا محاصرہ کر لو۔ چنانچہ ہمارے لشکر نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ اس محاصرہ سے آمد ورفت بھی بند ہو گئی اور طعام و خوراک کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ محاصرہ سے مختار کے لشکر میں اضافہ ہونے لگا۔ اور اس اضافہ کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی۔ یہ محاصرہ تین شبانہ روز جاری رہا بالآخر جب دارالامارہ میں محصور لوگوں پر بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا ہوا تو سب نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ طے پایا کہ ہمیں مختار سے امان مانگ لینی چاہئے۔ اس فیصلہ سے چونکہ ابن مطیع کو اختلاف تھا۔ لہٰذا اس نے بروایت طبری فرار اختیار کیا اور بروایت موٴرخ ہروی اُسے کوٹھے سے نیچے پھینک دیا گیا

اور روایت کی بنا پر وہ عورت کے لباس میں دارالامارہ سے نکل کر ابوموسیٰ اشعری کے مکان میں پناہ گیر ہوا۔ علامہ محمد باقر صاحب دمعۃ ساکبہ کی تحریر سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس جنگ میں حضرت ابراہیم کے ہمراہ ۹ سو سوار اور ۶ سو پیادہ اور نعیم ابن ہبیرہ کے ہمراہ ۳ سو سوار اور ۶ سو پیادہ تھے۔ اور حضرت مختار نے یزید بن انس کے ہمراہ ۹ سو سواروں کو بھیج دیا تھا جو مقام “مسجد شیث” میں نبرد آزما تھے۔ وقاتلوھم حتی ادخلو ھم البیوت و قتل من الفریقین جمع کثیر حضرت مختار کے سواروں اور پیادوں نے اتنی شدید جنگ کی کہ دشمن بھاگنے پر مجبور ہو گئے اور عالم یہ ہو گیا کہ ان بہادروں نے انہیں گھروں میں گھسیڑ دیا۔ اس جنگ میں فریقین کے کثیر جنگجو کام آ گئے اسی دھما چوکڑی میں حضرت مختار کے ایک جرنیل نعیم ابن ہبیرہ بھی شہید ہو ئے وہ لکھتے ہیں کہ اس جنگ میں ابن مطیع کے کثیر جرنیل قتل ہو گئے۔ اسی شدت قتال میں خزیمہ بن نصر عیسیٰ نے راشد بن نصر عیسیٰ نے راشد ابن ایاس کو قتل کر دیا۔ اور قتل کے بعد انہوں نے آواز دی کہ خدا کی قسم میں راشد کو واصل جہنم کر دیا ہے۔ اس آواز کے بلند ہوتے ہی دشمن پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ اپنی جانیں بچا کر گلیوں اور کوچوں میں چھپنے لگے۔ ابن مطیع نے جب یہ حال دیکھا تو وہ بھی بھاگ کردار الامارہ میں پناہ گزیں ہو گیا۔ حضرت مختار نے دارالامارہ کا محاصرہ کر لیا تین روز کے بعد ابن مطیع عورت کا لباس پہن کردار الامارہ سے نکل بھاگا اور اس نے ابوموسیٰ اشعری کے مکان میں پناہ لی۔

دارالامارہ سے ابن مطیع کا خط حضرت مختار کے نام

علامہ حسام الواعظ رقمطراز ہیں کہ جب ابن مطیع دارالامارہ میں محصور ہو گیا اور چار دن اس نے اس میں بدقت دو شواری گزارے تو پانچویں روز اس نے ایک خط لکھ کر حضرت مختار کے نام دارالامارہ کے کوٹھے سے لشکر میں پھینکا۔ اس خط میں حضرت مختار کے لئے لکھا تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم “اے براد رعزیز مختار! آگاہ ہو کہ کوئی شخص بھی دنیا میں ایسا نہیں ہے جو اپنی بُرائی چاہتا ہو۔ لیکن جب قضا آجاتی ہے۔ تو آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔

تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ میں بہت زیادہ دل شکستہ ہو چکا ہوں۔ تم کو معلوم ہے کہ میرا تم پر حق ہے۔ وہ وقت تمہیں یاد ہو گا جب کہ مکہ میں ابن زبیر تمہیں قتل کرنا چاہتا تھا اور میں تمہیں مکروحیلہ سے اس کے چنگل سے نکالا تھا۔ اے مختار کیا اس کا بدلہ یہی ہے جو تم کر رہے ہو۔ پہلے تو تم نے میری حکومت تباہ کی اور اب تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔ مختصر یہ کہ میں تم سے مہلت چاہتا ہوں اور تم سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے یہاں سے نکل چلے جانے کا موقع دو۔” حضرت مختار نے جونہی اس کا خط پڑھا۔ اُسے اپنے لشکر سے چھپا کر جواب لکھا کہ میں نے تمہیں مہلت دے دی ہے اور تم کو اجازت دیتا ہوں کہ رات کے وقت فلاں دروازہ سے خفیہ طور پر نکل کر جہاں چاہو چلے جاؤ تمہیں کوئی گزند نہ پہنچا ئے گا۔ پھر جب رات آئی تو حضرت مختار اس دروازے پر خُود پہنچ گئے۔ جس کا خط میں حوالہ دیا تھا۔

ابن مطیع نے جونہی حضرت مختار کو دیکھا ان کے پیروں میں گِر پڑا اور بہت زیادہ رویا اور معذرت و معافی کے بعد اس جگہ سے روانہ ہو گیا۔ ابن مطیع کے چلے جانے کے بعد جب شیعیان علی بن ابی طال(ع)ب کو معلوم ہوا کہ حضرت مختار نے ابن مطیع کو امن وامان کے ساتھ دارالامارہ سے رخصت کر دیا ہے تو رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے آ کر حضرت مختار سے کہا کہ اے امیر آپ نے اتنے خطرناک دشمن کو آزاد کر دیا۔ ایسا نہیں چاہیئے تھا۔ یہ بڑا کمینہ ہے یہاں نکلنے کے بعد پھر کسی موقع سے فتنہ برپا کرے گا حضرت مختار نے فرمایا کہ اس نے ایک موقع پر میرے ساتھ بھلائی کی تھی۔ اس لئے میں نے بھی اُس کے ساتھ نیکی کی ہے۔ اب اگر کبھی مقابلہ میں آئے گا اس کو ویسا بدلا دوں گا۔ سوئے شیر آمد روبہ دلیر میشود اوکشتہ درچنگال شیر

مسجد جامعہ میں آپ کا پہلا خطبہ

دارالامارہ میں سکونت اور حصول امارت کے بعد سب سے پہلے حضرت مختار نے منادی کرا دی کہ سب لوگ جامع مسجد میں جمع ہو جائیں اور حکم دیا کہ گلدستہ اذان سے الصلوٰة الجامعة کا اعلان کر دیا جائے۔ چنانچہ مکمل اعلان ہو گیا۔ حضرت مختار کی طرف سے حکم اجتماع پاتے ہی خلق کثیر مسجد جامع میں مجتمع ہو گئی۔ اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لے گئے اور آپ نے ایک فصیح و بلیغ اور مجمع و مقفٰی خطبہ پڑھا۔ جس کے عیون الفاظ یہ ہیں۔

الحمدللّٰہ الذی وعدولیہ النصر وعدوہ الخسرو عداً ایتاً وامراً مفعولاً وقدخاب من انتری ایھاالناس مدت لناغایة و رفعت لنارایت نقیل فی الرایة ارفعوھا ولاتضعوھا و فی الغایة خذوھا ولاتدعوھا، فسمعنا دعوة الداعی و قبلنا قول الراعی فکم من باغ و باغیة و قتلی فی الراعیة الافبعداً لمن طغی و بغی و حجد ولغی کذب وتولی الافھلموا عباداللہ الی بیعة الھدیٰ و مجاھدة الاعداء والاذب عن الضعفاء من ال محمد مصطفےٰ و انا المسلط علی المخلین الطالب بدم ابن بنت نبی رب العالمین اماوسنشی السحارب الشدید العقاب لا بنش قبر ابن شہاب المفتری الکذاب، المجرم المرتاب ولانفین الاحزاب الی بلاد الاعراب، ثم ورب العالمین لاقتلن اعوان الظالمین و بقایا القاسطین ثم قعد علی المنبر و تٰب قائما و قال اما و الذی جعلنی بصیرا و نور قلبی تنویر الاحرض بالمصر دوراً ولابنش بھا قبورا ولاشفین بھا صدوراً و لاقتلن بھا جباراً کفوراً، ملعونا غدوراً و عن قلیل و رب الحرم المحرم و حق النون والقلم لیرفعن لی علم من الکوفة الی اضم الی اکتاف ذی سلم من العرب والعجم ثم لا تخذن من بنی تمیم اکثرالخدم (ترجمہ)تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے اپنے اولیاء کو مدد دینے اور ان کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا ہے اپنے دشمنوں کو ذلت و رسوائی سے ڈرایا دھمکایا ہے خدا کا وعدہ لازماً پورا ہونے والا اور اس کا حکم حتماً نافذ ہونے والا ہے

یاد رکھو جو افتریٰ کرے گا بے بہرہ بے نصیب ہے اے لوگو! اچھی طرح جان لو۔ میرے (کاموں کے لئے) زمانے میں وسعت ہے

اور میرے لئے رایت کی سربلندی مقرر اور مقدر ہے مجھے حکم ملا ہے کہ میں بغایت و نہایت اس وقت اور اس زمانہ کو حاصل کروں۔ اور نشان (فتح و ظفر) کو بلند کروں اور اُسے اپنے ہاتھ سے نہ جانے دوں (غور سے سنو) کہ میں نے خدائی دعوت دینے والے کی بات کو کان دھر کے سن لیا ہے۔ اور خصوصی توجہ کرنے والے کے قول کو مان لیا ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہر صنف میں بہت سے گمراہ قتل کیے جائیں گے یا د رکھو کہ سرکش باغی منکر جھوٹے لوگوں کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ یہ سب رحمت الہٰی سے دور ہیں ۔ اے خدا کے بندو! ہوش میں آؤ اور راہ راست اختیار کرو۔ ہدایت کے راستے پر چلو اور دشمنان محمد و آل محمد سے جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ اور اس امر کا پورا پورا عزم کر لو کہ اب آل محمد کے کمزور لوگوں سے دشمنوں کو دور کرو گے اور اور ان کی مدد کرو گے اے لوگو! تم کان دھر کے سن لو کہ میں مقہور اور سرکشوں پر مسلط کیا گیا ہوں ۔ میں اس لئے میدان میں آیا ہوں کہ فاطمہ بن رسول کے فرزند امام حسین (ع) کے خون کا بدلہ لوں لوگو! اس خدا کی قسم جو دوش ہوا پر ابر کو پیدا کرتا ہے اور جو گنہگاروں اور سرکشوں کو سخت سزا دینے والا ہے کہ وہ دن قریب ہے کہ جس میں “ابن شہاب” جیسے مفتری، کذاب، مجرم اور مرتاب کی قبر کھود کر پھینک دوں گااور منافقوں کے گروہوں کے شہر سے باہر نکال دوں گا، اور ضرور ضرور ظالموں کے مددگاروں اور قاسطین کے باقی لوگوں کو قتل کروں گا۔

(اس کے بعد آپ ایک لحظہ کے لئے منبر پر بیٹھے پھر کھڑے ہو کر بولے) قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے بصیرت عطا کی ہے۔

اور میرے دل میں پورا نُور بھرا ہے۔ میں لوگوں کے گھروں کو مصر میں جلا ڈالوں گا اور قبروں سے مردوں کو اکھاڑ پھینکوں گا۔

اور مومنوں کے دلوں کو خوش وخرم کر دوں گا۔ اور جہاد و کفار کو تہ تیغ کروں گا پھر فرمایا اے مسلمانو! یہ بھی سُن لو کہ میں خانہ کعبہ اور نون و قلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے علم کامرانی اور کوفہ سے زخم اور اطراف ذی سلم حتیٰ کہ عرب و عجم تک پہنچا دوں گا۔ اور بنی تمیم کے اکثر لوگوں کو غلام بناؤں گا۔ اس خطبے کے بعد آپ منبر سے اُتر کر دارالامارہ میں تشریف لائے۔ یہاں پہنچنے کے بعد لوگ بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے۔

اور یہ عالم ہو گیا کہ خلق کثیر حلقہ بیعت میں آ گئی جس میں عالم عرب لوگوں کے علاوہ سادات و سردار بھی تھے۔ بیت المال کا جائزہ حضرت مختار نے سر یر حکومت پر قبضہٴ مجاہدانہ کرنے کے بعد اس کے بیت المال کا جائزہ لیا۔ اس میں بروایت طبری ۹ ہزار اور بروایت موٴرخ ہروی ۱۲ ہزار اور برایت علامہ جعفر ابن نما ۹ لاکھ درہم تھے۔ آپ نے اس میں سے تین ہزار آٹھ سو افراد کو جو کہ محاصرہ قصر پہلے سے ہمراہ تھے، پانچ پانچ سو درہم اور چھ ہزار افراد کو محاصرہ قصر کے بعد ساتھ ہوئے تھے۔ دو دو سو درہم دے دئیے۔

حضرت مختار اور ابن مطیع کی مالی امداد

حضرت مختار نے جائزہ بیت المال کے بعد اس امر کا تفحص کیا کہ عبداللہ ابن مطیع کہاں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ ابو موسیٰ اشعری کے مکان میں روپوش ہے۔ اور یہ بھی پتہ چلا کہ جب وہ دارالامارہ سے نکل کر پناہ تلاش کر رہا تھا تو اسے کوئی پناہ دینے پر آمادہ نہ تھا۔ حضرت مختار نے اسے کہلا بھیجا کہ مجھے تمہاری روپوشی کا پورا علم ہے، چونکہ لوگ تمہارے دشمن ہیں اس لئے میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ تم کوفہ سے کہیں اور چلے جاؤ۔

ورنہ یہ لوگ اگر تمہارے وجود سے آگاہ ہو گئے تو تمہیں قتل کر دیں گے۔

عبداللہ ابن مطیع نے کہلا بھیجا کہ میں زادِ راہ کا بندوبست کر رہا ہوں۔ مجھے تین دن کی مہلت دی جائے۔

زادِ راہ کے انصرام و انتظام کے فوراً بعد یہاں سے روانہ ہو جاؤں گا حضرت مختار کو جب یہ معلوم ہوا۔ کہ عبداللہ ابن مطیع زادِ راہ اور آزوقہ سفر کی کشمکش میں مبتلا ہے تو آپ نے ہمدردی کے طور پر اس خیال سے بھی کہ وہ کوفہ کے واقعہ سے قبل بروایت طبری ان کا دوست تھا۔ عبداللہ ابن کامل الشاکری کے ذریعہ سے مبلغ ایک لاکھ درہم بھیج کر کہلا بھیجا کہ تم اسے لے لو اور اپنے کام میں لاؤ۔ عبداللہ ابن مطیع نے ان درہموں کو لے لیا۔

اور وہ کوفہ سے روانہ ہو کر بصرہ چلا گیا۔ یہاں سے جانے وہ عبداللہ ابن زبیر کے پاس حیا و شرم کی وجہ سے نہیں گیا۔ ایک روایت کی بنا پر وہ کوفہ سے روانہ ہو کر مکہ پہنچا اور وہاں ابن زبیر سے ملا۔ ابن زبیر نے اُسے سخت بُرا بھلا کہا۔ وہ وہاں سے رنجیدہ اور غمگین روانہ ہو کر بصرہ میں مقیم ہو گیا۔

حضرت مختار کا تجدیدِ بیعت کیلئے فرمان واجب الاذعان

سریر حکومت پر تمکن کے بعد حضرت مختار نے بیعت کنندگان کے جمع ہونے کا حکم دیا۔ اور جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے حکم دیا کہ سب کے سب اس امر پر تجدید بیعت کریں کہ وہ کتابِ خدا کے احکام اور سنتِ رسول کریم پر عمل کریں گے۔ اور خونِ حسین(ع) کے عوض میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں گے۔ چنانچہ سب نے تجدید بیعت کر لی۔

حضرت مختار کا عہد عدالت مہدی

علماء اور موٴرخین فریقین کا اتفاق ہے کہ حضرت مختار نے کمال انصاف اور عدالت کے ساتھ خود کام کرنا شروع کر دیا۔ موٴرخ طبری کا بیان ہے کہ حضرت مختار کوفہ میں ہر روز صبح سے نماز ظہر کے وقت تک دارالعدل میں بیٹھتے اور نہایت انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔ موٴرخ ہروی یعنی صاحب رو ضۃ الصفا لکھتے ہیں کہ “مختار نیز وارد کوفہ بتاسیس قواعد عدل و داد پر داختہ رسوم ظلم و بیداد براند اخت” (مختار نے کوفہ میں قواعد عدل کی بنیاد ڈال دی اور ظلم و بیداد کے رسوم پارینہ کو فنا کر دیا) وہ ہر روز ایوان میں خود بیٹھتے تھے اور فیصلے فرماتے تھے اور جو ظلم کرتا تھا۔ اس کی مکمل گوشمالی فرماتے اور اُسے پوری سزا دیتے تھے۔ نجذاہ اللہ خیرا۔ خدا ان کی کو اس کی بہترین جزا دے۔

علّامہ مجلسی کا ارشاد ہے کہ حضرت مختار محرم ۹۷ھ ئتک کوفہ میں حکومت کرتے رہے۔

اس کے بعد انہوں نے قاتلانِ حسین کو قتل کرنے کی طرف قدم بڑھایا اور ۷ محرم ۶۷ھء کو ہفتہ کے دن حضرت ابراہیم ابن مالک اشتر کو ارض جزیرہ کی طرف ابن زیاد کے قتل کی خاطر بھیج دیا۔ جہاں وہ قیام پذیر تھا۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.