حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

0 0

حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت کے بارے میں وارد ہونے والی روایات مختلف احادیث کی کتابوں میں نقل ہوئیں ہیں. اب سوال یہ ہے کہ ان فضائل و جزا کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا یہ تمام اجر و ثواب بغیر کسی ہدف کے فقط ایک بار ظاہری طور پر زیارت کرنے والے کو میسر ہوجائے گا؟ در حقیقت زیارت کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات سے آخرت

حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت کے بارے میں وارد ہونے والی روایات مختلف احادیث کی کتابوں میں نقل ہوئیں ہیں.
اب سوال یہ ہے کہ ان فضائل و جزا کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا یہ تمام اجر و ثواب بغیر کسی ہدف کے فقط ایک بار ظاہری طور پر زیارت کرنے والے کو میسر ہوجائے گا؟
در حقیقت زیارت کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات سے آخرت کے لئے زاد راہ فراہم کریں اور خدا کی راہ میں اسی طرح قدم اٹھائیں جس طرح کہ ان بزرگوں نے اٹھائے. زیارت معصومین (ع) کے سلسلے میں وارد ہونے والی اکثر احادیث میں شرط یہ ہے کہ ان کے حق کی معرفت کے ساتھ ہو تو تب ہی اس کا اخروی ثمرہ ملنے کی توقع کی جاسکے گی.
یہ بزرگ ہستیاں، عالم بشریت کے لئے نمونہ اور مثال ہیں، ہمیں ان کا حق پہچان کر ان کی زیارت کے لئے سفر کی سختیان برداشت کرنی ہیں اور ساتھ ہی خدا کی راہ میں ان کی قربانیوں اور قرآن و اسلام کی حفاظت کی غرض سے ان کی محنت و مشقت سے سبق حاصل کرنا ہے اور اپنی دینی اور دنیاوی حاجات کے لئے ان سے التجا کرنی ہے کہ ہماری شفاعت فرمائیں اور اس کے لئے ان کے حق کی معرفت کی ضرورت ہے۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مأثور زیارتنامہ
 ہر بارگاہ میں ملاقات (زیارت) کا ایک خاص دستور ہوتاہے. حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی بارگاہ میں بھی مشرف ہونے کے خاص آداب ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیارت کے لئے معتبر روایتوں سے زیارت نامہ منقول ہے تا کہ مشتاقان زیارت ان نورانی جملوں کی تلاوت فرماکر رشدو کمال کی راہ میں حضرت سے الہام حاصل کرسکیں اور رحمت حق کی بی ساحل سمندر سی اپنی توانائی اور اپنے ظرف کے مطابق کچھ قطرے ہی اٹها سکیں ۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے لئے ائمہ معصومین سے مأثور زیارت نامہ وارد ہؤا ہے. سیدة العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بعد آپ سلام اللہ علیہا پہلی بی بی ہیں جن کے لئے ائمہ اطہار علیہم السلام کی طرف سے زیارت نامہ وارد ہؤا ہے. تاریخ اسلام میں رسول اللہ (ص) کی والدہ حضرت آمنہ بنت وہب، حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد، حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت ام البنین، شریکة الحسین ثانی زہراء حضرت زینب، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کی ہمشیرہ حضرت حکیمہ خاتون اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون (سلام اللہ علیہن اجمعین) جیسی عظیم عالی مرتبت خواتین ہو گذری ہیں جن کی مقام و منزلت میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مگر ان کے بارے میں معصومین سے کوئی مستند زیارتنامہ وارد نہیں ہؤا ہے. مگر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے لئے زیارتنامہ وارد ہؤا ہے اور یہ حضرت معصومہ (س) کی عظمت کی نشانی ہے؛ تا کہ شیعیان و پیروکاران اہل بیت عصمت و طہارت بالخصوص خواتین اس عظمت کا پاس رکھیں اور روئے زمین پر عفت و حیاء اور تقوی و پارسائی کے عملی نمونے پیش کرتی رہیں، کہ صرف اسی صورت میں ہے آپ سلام اللہ علیہا کی روح مطہر ہم سے خوشنود ہوگی اور ہماری شفاعت فرمائیں گی۔
حضرت کا معتبر زیارت نامہ
سند زیارت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی ایک معتبر زیارت ہے جسے علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں نقل فرمایا ہے. ہم پہلے اس کی سند پیش کرتے ہیں:
علی ابن ابراہیم اپنے پدر سے وہ سعد سے وہ امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد تمھارے نزدیک ہماری ایک قبر ہے !میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہوجاوٴں کیا آپ فاطمہ بنت موسی بن جعفر علیہم السلام کی قبر کو بیان فرمارہے ہیں؟ فرمایا :”ہاں“ جو بھی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے گا وہ مستحق بہشت ہے۔ جب بھی (تم حرم مشرف ہوتے ہو قبر کو دیکھ کر قبر شریف کے سرہانے (یعنی ضریح کے شمال میں) رو بقبلہ کهڑے ہوجاوٴ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ،۳۳ مرتبہ الحمد للہ پڑھو (بالکل تسبیحات حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی مانند) اور پھر کہو۔
متن زیارت
اَلـسَّلامُ عَـلی آدَمَ صَـفْوَة اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی نوُح نَبِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی اِبْرهيمَ خَليلِ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی موُسی كَليمِ اللّهِِ، اَلسَّلامُ عَلی عيسی روُح ِاللّهِِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَيْرَ خَلْقَ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صَفِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمّدَ بْنَ عَبْد ِاللّهِ، خاتَمَ النَّبِيّينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا اَميرَالْمُؤْمِنينَ عَلی بْنَ اَبی طالِب، وَصِی رَسوُلِ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا فاطِمَة سَيِّدَة نِساءِ الْعالَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُما يا سِبْطَی نَبِی الرَّحْمَةِ، وَ سَيِّدَی شَباب اھل ِالْجَنَّةِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ الْحُسَيْنِ، سَيِّدَ الْعابِدينَ وَ قُرَّة عَيْنِ النّاظِرينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی، باقِرَ الْعِلْم ِبَعْدَ النَّبِی،اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّد الصّاد ِقَ الْبارَّ الْامينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا موُسَی بْنَ جَعْفَر الطّهرَ الطُّهرَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ موُ سَی الرِّضَا الْمُرْتَضی، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی التَّقِی، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ مُحَمَّد النَّقِی النّاصِحَ الْأَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حَسَنَ بْنَ عَلِی، اَلسَّلامُ عَلَی الْوَصِی مِنْ بَعْدِهِ. اَللّهمَّ صَلِّ عَلی نُورِكَ وَ سِراجِكَ، وَ وَلِی وَلِيِّكَ، وَ وَصِيِّ وَصِيِّكَ، وَ حُجَّتِكَ عَلی خَلْقِكَ . اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ رَسوُل ِاللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ فاطِمَة وَ خَديجَة، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ اَميرِالْمُؤْمِنينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ الْحَسَن ِوَ الْحُسَيْن ِاَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيا اُخْتَ وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيا عَمَّة وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ موُسَی بْن ِجَعْفَر، وَ رَحْمَة اللّهِ وَ بَرَكاتُه. اَلسَّلامُ عَلَيْكِ، عَرَّفَ اللّه بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمْ فِی الْجَنَّةِ، وَ حَشَرَنا فی زُمْرَتِكُمْ، وَ أَوَرَدْنا حَوْضَ نَبِيِّكُمْ، وَ سَقانا بِكَأْس ِجَدِّ كُمْ مِنْ يَد ِعَلِی ِّبْن ِاَبی طالِب، صَلَواتُ اللّه عَلَيْكُمْ، أَسْئَلُ اللّه أَنْ يُر ِيَنا فيكُمُ السُّروُرَ وَ الْفَرَجَ، وَ أَنْ يَجْمَعَنا وَ إِيّاكُمْ فی زُمْرَة ِجَدِّكُمْ مُحَمَّد، صَلَّی اللّه عَلَيْهِ وَ آلِهِ، وَ أَنْ لا يَسْلُبَنا مَعْر ِفَتَكُمْ، إِنَّه وَلِی قَديرٌ. أَتَقَرَّبُ إِلَی اللّهِ بِحُبِّكُمْ وَ الْبَرائة ِمِنْ أَعْدائِكُمْ، وَ التَّسْليم ِإِلَی اللّهِ، راضِياً بِهِ غَيْرَ مُنْكِر وَ لا مُسْتَكْبِر وَ عَلی يَقين ِما أَتی بِهِ مَحَمَّدٌ – صلی اللہ علیه و آله – وَ بِه راض، نَطْلُبُ بِذلِكَ وَجْهكَ يا سَيِّدی، اَللّهمَّ وَ رِضاكَ وَ الدّارَ الْآخِرَة . يا فاطِمَةُ اِشْفَعی لی فِی الْجَنَّة ِ، فَا ِنَّ لَكَ عِنْدَاللّْهِ شَأْناً مِنَ الشَّأْن ِ. اَللّْهمّ ا ِنی اَسْئَلُكَ أَنْ تَخْتِمَ لی بِالسَّعادَة ِ، فَلاتَسْلُبْ مِنّی ِما أَنَا فيهِ،وَ لاحُولَ وَ لا قُوَة إِلا بالّله الْعَلِی الْعَظيم ِ. اَللّهمَ اسْتَجِبْ لَنا، وَ تَقَبَّلْه بِكَرَمِكَ وَ عِزَّتِكَ، وَ بِرَحْمَتِكَ وَ عافِيَتَكَ، وَ صَلَّی الّله عَلی مُحَمَّد وَ آلِهِ أَجْمَعينَ، وَ سَلَّمَ تَسْليما يا أَرْحَمَ الرّاحِمينَ. [24]

ترجمہ :
سلام ہو آدم پر جو برگزیده هی خدا کا ۔ سلام ہو نوح پر جو نبی الله ِہیں. سلام ہو ابراہیم جو خدا کی خلیل ہیں ۔ سلام ہو موسیٰ پر جو کلیم الله ِہیں۔ سلام ہو عیسیٰ پر جو روح الله ِہیں۔
اے رسول خدا آپ پر سلام ہو، اے بہترین مخلوق خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے صفی خدا آپ پرسلام ہو ۔اے خاتم انبیاء محمد بن عبداللہ آپ پر سلام ہو ۔
اے امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب وصی رسول خدا آپ پر سلام ہو ۔
اے فاطمہ ای سیده خواتین عالمین، آپ پر سلام ہو ۔ اے علی بن حسین ای عبادت گزاروں کے سید و سردار اور ای دیکھنے والوں کی آنکه کی تهندک، آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی ای بعد از نبی علم نبی (ص) کی رازون کی تالی کهولنی والی آپ پر سلام ہو۔ اے جعفر بن محمد صادق نیک کردار، امین آپ پر سلام ہو۔ اے موسیٰ بن جعفر پاک وپاکیزہ آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن موسیٰ رضا، مرتضی آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی پرہیزگار آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن محمد نقی خیر خواہ، امین آپ پر سلام ہو۔ اے حسن بن علی آپ پر سلام ہو۔ اے ان کے بعد جو وصی ہیں ان پر سلام ہو۔خدایا تو اپنے نور اور تابناک چراغ، اپنے ولی کے نمائندے، اپنے جانشین اور بندوں پر اپنی حجت کے اوپر سلام نازل فرما ۔ اے بنت رسول خدا آپ پر سلام ہو۔ اے دختر فاطمہ و خدیجہ آپ پر سلام ہو ۔اے دختر امیر المومنین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر حسین و حسین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر ولی خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے ولی خدا کی خواہر آپ پر سلام ہو ۔اے ولی خدا کی پھوپھی آپ پر سلام ہو ۔اے دختر موسی بن جعفر آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔ سلام ہو آپ پر۔خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے در میان شناخت قائم فرمائے اور ہم کو آپ لوگوں کے گروہ میں محشور فرمائے۔ آپ کے نبی کے حوض پر وارد فرمائے نیز ہمیں آپ لوگوں پر خدا کا درود ہو۔ میں خدا سے درخواست کرتاہوں کہ وہ ہمیں آپ کے بارے میں خوشحال کرے اور فرج دکھائے۔نیز ہمیں اور آپ کو آپ کے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ میں شمار فرمائے اور ہم سے آپ کی معرفت کو سلب نہ کرے۔ کیونکہ وہی سرپرست اور قدرت والا ہے۔ میں آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے برائت کے وسیلے سے خدا کی بارگاہ میں تقرب چاہتاہوں اور اس کی بارگاہ میں سر نیاز خم کرتاہوں۔
نیز اس سے راضی ہوں۔ نہ ہی منکر ہوں نہ ہی مستکبر۔یہ تمام باتیں جو چیزیں محمد لائے ہیں اس پر یقین کے ساتھ کہہ رہاہوں نیز اس سے راضی ہوں۔اے مرے آقا اسی وسیلے سے تری توجہ کا طلبگار ہوں۔ خدایا تری خوشنودی اور خانہٴ آخرت چاہتاہوں۔
اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرمائیے کیونکہ آپ خدا کے نزدیک ایک خاص شان ومقام کی حامل ہیں ۔خدایا میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ ہمارا خاتمہ سعادت پر ہو۔پس اس ایمان کو ہم سے نہ چھین جو ہم میں موجود ہے۔تمام حرکت و جنبش خدا ہی کے وسیلے سے ہے جو بزرگ و برتر ہے ۔ خدایا ہماری حاجت کو مستجاب فرما۔ اور اپنے کرم و عزت و رحمت و عافیت سے اسے قبول فرما نیز محمد اور ان کی آل پر درود و سلام نازل فرما۔ اے سب سے زیادہ مہربان ۔
امام رضا (ع) اور لقب «معصومہ»
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہاا جنتی خاتون، عبادت اور خدا کی ساتھ راز و نیاز میں ڈوبی ہوئی، بدیوں سے پاک اور عالم خلقت کا شبنم ہیں. شاید اس بی بی کو لقب «معصومہ» اسی لئے ملا ہے کہ ماں زہراء سلام اللہ علیہا کی عصمت آپ (س) کے وجود میں جلوہ گر ہوگئی تھی. بعض روایات کی مطابق یہ لقب حضرت رضا علیہ السلام نے اپنی ہمشیرہ مطہرہ کو عطا فرمایا تھا.جیسا کہ بلند اندیش اور سفید سیرت شیعہ فقیہ علامہ محمد باقر مجلسی (رہ) روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: «مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى= جو شخص قم میں حضرت معصومہ (س) کی زیارت کرے، گویا کہ اس نے میری زیارت کی ہے»[25].
کریمة اہل بیت علیہم السلام یہ لقب امام معصوم کی جانب سے سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو عطا ہؤا ہے جو آپ (س) کی مرتبت کی بلندی پر دلالت کرتا ہے.
انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا سکتا ہے، یہ ذات اقدس الہی کی عبودیت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے :
«انا اقول للشیء کن فیکون اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول للشیء کن فیکون[26] = اے فرزند آدم میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں کہ ہوجا! پس وہ وجود میں آجا تی ہے، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل؛ میں تجھ کو ایسا بنادوں گا کہ کہے گا ہوجا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی».
امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا :
«العبودیة جوهریة کنهها الربوبیة[27] = یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے».
اولیاء خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی اس با برکت عارضی زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی کرامات و عنایات کا منشأ ہیں ۔ اور یه سب ان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے ۔
آستان قدس فاطمی قدیم الایام سے هی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے، کتنے نا امید قلوب خدا کی فضل و کرم سی پر امید هوئی، کتنے تہی داماں، رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر چکے؛ اور کتنے ٹهکرائے هوئے اس در پر آکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوئے اور خوشحال و شادماں ہوکر لوٹے ہیں اور اولیاء حق کی ولایت کے سائے میں ایمان محکم کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی بنیاد رکهی ہے ۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی روح کی عظمت اور خداوند متعال کی فیض و کرم کے منبع بے کراں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں که سیده معصومہ (س) کریمہ اہل بیت (ع)ہیں.
اب ہم دیکهتے ہیں که کریمہ اہل بیت علیہم السلام کا لقب کس طرح ظاهر ہؤا؟.
یه لقب در حقیقت ایک معاصر بزرگ مرجع تقلید کے والد بزرگوار کی رؤیائے صادقہ کے ذریعے ظاہر ہؤا ہے. خواب کچھ یوں ہے:
آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین مرعشی نجفی (رہ) کے والد ماجد مرحوم آيت اللّہ سيّد محمود مرعشى نجفى(رہ)، حضرت سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر شریف کا مقام معلوم کرنے کی سعی وافر کررہے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک مجرب ختم کا تعین کیا تا کہ اس طرح معلوم ہوجائے کہ ام ابیھا سلام اللہ علیہا کی گمشدہ قبر کہاں ہے؟ چالیس راتیں انہوں نے اپنا ذکر جاری رکھا. چالیسویں شب انہوں نے ختم مکمل کرلی اور دعا و توسل بسیار کے بعد آرام کرنے لگے تو آنکھ لگتے ہی عالم خواب میں حضرت امام محمد باقر(ع) يا حضرت امام جعفر صادق (ع) کی زیارت کا شرف حاصل کیا.
امام علیہ السلام نے انہیں فرمایا:
«عَلَيْكَ بِكَرِيمَةِ اَھل ِ الْبَْيت ِ.»
یعنی کریمہ اہل بیت کی زیارت کی پابندی کرو
انہوں نے سوچا کہ گویا امام علیہ السلام حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی زیارت کی سفارش کررہی ہیں. چنانچہ عرض کیا:«میں آپ پر قربان جاؤں میں نے ختم کا چلہ اسی لئے کاٹا ہے کہ میں حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی قبرکے صحیح مقام کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: میری مراد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی قبر شریف ہے». پھر حضرت (ع) نے مزید فرمایا:«بعض مصلحتوں کی بنا پر خداوند متعال نے ارادہ فرمایا ہے کہ حضرت زہرا(س) کی قبر شریف مخفی ہی رہے. اگر مشیت الہی یہ ہوتی کہ سیدہ فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا کی قبر ظاہر ہو، تو خدا کی طرف سے اس کے لئے جو جلال و جبروت مقدر ہوتی وہی جلال و جبروت خدا نے حضرت معصومہ کے لئے مقدر کر رکھی ہے». آیت اللہ مرعشى نجفى جاگ اٹھے تو فورا قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی غرض سے قم روانہ ہوئے اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ نجف سے قم تشریف لائے.[28]
اسی بنا پر شیعہ فقہاء، دانشور اور علماء کی زبان میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا «کریمہ اہل بیت» کے لقب سے مشہور ہیں.
دیگر القاب :
 سیدہ معصومہ (س) کے دو زیارتناموں میں جو اسماء و القاب بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:
1- طاہرہ (پاک و پاکیزہ)
2- حمیدہ (جس کی ستائش اور تعریف ہوئی ہے)
3- بِرّہ (نیکوکار)؛
4- رشیدہ (ہدایت یافتہ و عاقلہ)
5- تقَِّیہ (پرہیزگار)
6- رضّیہ (خدا سے راضی)
7- مرضیّہ ((ان سے خدا راضی و خوشنود ہے)
8- سیدہ صدیقہ (بہت زیادہ سچی خاتون)
9- سیدہ رضیّہ مرضّیہ (وہ خاتون جو خدا سے راضی ہیں اور خدا بھی ان سے راضی و خوشنود ہے)
شفاعت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا
 بی شک شفاعت کا والاترین اور بالاترین مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام قرآن مجید میں مقام محمود قراردیا گیا.[29]
اسی طرح خاندان احمد مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں دو خواتین کے لئے وسیع شفاعت مقرر ہے، جو بہت ہی وسیع اور عالمگیر ہے اور پورے اہل محشر بھی ان دو عالی مرتبت خواتین کی شفاعت کے دائرے میں داخل ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ شفاعت کے لائق ہوں.
یہ دو عالیقدر خواتین صدیقہ طاہرہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور شفیعہ روز جزا، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہاا ہیں. حضرت ام الحسنین علیہا السلام کے مقام شفاعت جاننے کے لئے یہی جاننا کافی ہے کہ شفاعت آپ (س) کا حق مھر ہے اور جب بحکم آلہی آپ (ع) کا نکاح قطب عالم امکان حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے ہورہا تھا، قاصد وحی نے خدا کا بھیجا ہؤا شادی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حوالی کیا. وہ تحفہ ایک ریشمی کپرا تھا جس پر تحریر تھا: «امت محمد (ص) کے گنہگاروں کی شفاعت خداوند عالم نے فاطمہ زہراء (س) کا حق مہر قرار دیا»، یہ حدیث اہل سنت کے منابع میں بھی نقل ہوئی ہے.
سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کی بعد کسی بھی خاتون کو شفیعہ روز محشر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مقام شفاعت حاصل نہیں ہے. اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: «جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں، میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے».
حضرت امام رضا (ع) سے حضرت معصومہ (س) کی محبت
عرصہ 25 برس تک حضرت رضا علیہ السلام حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کی اکلوتی فرزند تھی. اور 25 سال بعد نجمہ خاتون (س) کے دامن مبارک سے ایک ستارہ طلوع ہؤا جس کا نام فاطمہ رکھا گیا. امام علیہ السلام نے اپنے والاترین احساساتِ نورانی اپنی کمسن ہمشیرہ کے دل کی اتہاہ مین ودیعت رکھ لین. یہ دو بھائی بہن حیرت انگیز حد تک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا فراق ان کے لئے ناقابل برداشت تھا. زبان ان دو کے درمیان محبت کی گہرائیاں بیان کرنے سے قاصر ہے. امام موسی کاظم علیہ السلام کے ایک معجزے کے دوران – جس میں سیدہ معصومہ (س) کا بھی کردار ہے – جب نصرانی اس کم سن امامزادی سے پوچھتا ہے: «آپ کون ہیں» ؟ تو آپ (س) جواب دیتی ہیں: «میں معصومہ ہوں امام رضا (ع) کی ہمشیرہ».
سیدہ (س) کے اس بیان سے دو چیزوں کا اظہار ہوتا ہے: ایک یہ کہ آپ (ع) اپنے بھائی سے حد درجہ محبت کرتی تھیں. دوسری یہ کہ آپ (س) امام رضا (ع) کو اپنی شناخت کی علامت سمجھتی تھیں اور امام (ع) کی بہن ہونے کو اپنے لئے اعزاز اور باعث فخر سمجھتی تھیں.
خواتین کی سرور فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا
 انفرادی اور ذاتی شخصیت و روحانی کمالات کے لحاظ سے امام موسی بن جعفر (ع) کی اولاد میں علی بن موسی الرضا (ع) کے بعد دوسرے درجے پر فائز تھیں. بالفاظ دیگر اپنے بھائی بہنوں میں آپ (س) کا درجہ امام رضا (ع) کے بعد دوسرا تھا. رجالی منابع کے حوالے سے امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی 18 بیٹیاں تھیں اور حضرت معصومہ سب کی سرور تھیں یہی نہیں بلکہ بھائیوں میں بھی امام رضا کے بعد کوئی ان کا ہم پلہ نہ تھا.
محدث بزرگوار شیخ عباس قمی (رہ) امام کاظم (ع) کی بیٹیوں کے بارے میں لکھتے ہیں لکھتے ہیں: جو روایات ہم تک پھنچی ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان سب سے افضل و برتر سیدہ جلیلہ حضرت فاطمہ بنت امام موسی بن جعفر (ع) ہیں جو معصومہ کے لقب سے مشہور ہوئی ہیں.
بے مثال فضیلت
 شیخ محمد تقی تُستری، قاموس الرجال میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا ایک مثالی خاتون (اور خواتین کے لئے اسوہ کاملہ) کے عنوان سے تعارف کراتے ہیں جو امام رضا (ع) کے بعد اپنے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان بے مثال تھیں. وہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں: «امام موسی ابن جعفر علیہ السلام کی اولاد کی کثرت کے باوجود امام رضا علیہ السلام کو چھوڑ کر کوئی بھی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے ہم پلہ نہیں ہے.».
بے شک فاطمہ دختر موسی بن جعفر (ع) کے بارے میں اس طرح کے اظہارات ان روایات و احادیث پر استوار ہیں جو ائمہ معصومین علیہم السلام سے آپ (ع) کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں. یہ روایات سیدہ معصومہ (س) کے لئے ایسے مراتب و مدارج بیان کرتے ہیں جو آپ (س) کے دیگر بھائیوں اور بہنوں کے لئے بیان نہیں ہوئے ہیں. اور اس طرح فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا نام دنیا کی برتر خواتین کے زمرے میں قرار پایا ہے.
بوئے وصال
 بے شک اہل بیت رسول (ص) نے نہایت روشن چہرے عالم بشریت کے حوالے کئے ہیں جن کے نام درخشان ستاروں کی مانند فضیلتوں کے آسمان پر چمک رہے ہیں. ولایت کے ساتویں منظومے کی بزرگ خواتین کے درمیان فاطمہ بنت موسی بن جعفر (ع) درخشان ترین ستارہ ہیں؛ ایسی خاتون جن کی حریم سے علم و معرفت کے پیاسے ایمان کا آب حیات نوش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے. عرفاء آپ کی زندگی کا تجزیہ کرکے، آپ کے ان لمحوں کا سراغ لگاتے ہیں جب آپ (س) آسمانی وجود میں تبدیل ہوئی تھیں اور اس طرح وہ اپنے لئے عروج عارفانہ کی راہیں ڈھونڈتے ہیں اور کائنات کی وسعتوں میں شمیم وصال پہیلادیتے ہیں۔
پیغام کے دو نکتے
1 – اتنا بڑا مقام کیوں ؟ پوچھتے ہیں اتنا اونچا مقام کیوں؟ جبکہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی کئی بہنیں تھیں یہ سیدہ ان سے برتر و افضل کیوں تھیں؟
جواب: یہ سوال حضرت زہرا سلام علیہا کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے؛ اور جواب یہ ہے کہ: یہ دو خواتین ذاتی اور خاندانی شرافت کے ساتھ ساتھ، ایمان اور عمل کے میدان میں بھی ممتاز تھیں اور اس سلسلے میں انہوں نے اپنے انتخاب سے اعلی انسانی اقدار کے اعلی مدارج و مراتب طے کئے تھے اور اپنے عرفان و عمل کی بنا پر اس مقام و منزلت تک عروج کرچکی تھیں.
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا عمل، عرفان، ایمان، سیاست، اور مقام امامت کی حمایت کے سلسلے میں ممتاز تھیں اور آخرکار اسی راستے میں مرتبت شہادت حاصل کرگئیں.
سیدہ معصومہ نے قم میں اپنی سترہ دن عبادت اور خداوند قدوس کے ساتھ راز و نیاز میں گذاردئے؛ یہاں تک کہ آپ کی قیامگاہ کو «بیت النور»، کا نام دیا گیاہے اور یہ عبادتگاہ اس وقت قم کے میدان میر کے محلے اور مدرسہ ستّیہ میں واقع ہے اور آج بھی یہ مقام آپ (س) کی نورانیت اور اپنے خالق یکتا کے ساتھ آپ(س) کی قربت کے خلوص کی گواہی دے رہا ہے.
«حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی اٹھائیس سالہ پر برکت زندگی کی ثمر بخشی کے اثبات کے لئے یہی جاننا کافی ہے کہ قم میں آپ(س) کے سترہ روزہ قیام نے قم کے حوزہ علمیہ کو بقائے جاودانہ بخشی اور قم نے آپ ہی کی برکت سے دسیوں ہزار محقق، عالم، دانشور، مراجع اور مجتہدین عالم تشیع کی حوالے کردیئے. اکابر علماء جیسے امام رضا (ع) کے صحابی زکریّا بن آدم اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل حسن بن اسحاق سے لے کر علمائے مفکر اور مراجع تقلید – جیسے میرزائے قمی، آیت اللہ شیخ ابوالقاسم قمی، آیة اللہ حائری، آیة اللہ صدر، آیة اللہ سید محمد تقی خوانساری، آیة اللہ حجّت، آیة اللہ بروجردی، آیة اللہ سید احمد خوانساری، آیة اللہ گلپایگانی، آیة اللہ مرعشی نجفی، آیة اللہ اراکی، علامہ طباطبایی، استاد شہید مرتضی مطہری و حضرت امام خمینی (اعلی اللہ مقامہم الشّریف) – تک سب کے سب عالم عالمۂ آل عبا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے وجود کی برکت سے اس سرزمین پر نشو و نما پاچکے ہیں اور بی بی ہی کے وجود نے حوزہ علمیہ کو مرکزیت و محوریت عطا فرمائی ہے اور قم نے آپ ہی کی برکت سے مدینہ فاضلہ کی حیثیت اختیار کی ہوئی ہے … اسلامی انقلاب در حقیقت اسی سرزمین کا فرزند مطہر ہے وہی جو فیضیہ کی آغوش میں پلا اور بڑھا وہی فیضیہ جس کو مجاورت معصومہ نے فیض بخشا. بت شکن دوران امام خمینی نے اسی مدرسے میں بیٹھ کر عالمی استکبار و استعمار کو للکارا اور یہیں سے اسلامی انقلاب کی شمع جلائی جس نے آج دنیا کے گوشے گوشے میں روشنی کے چرا‌غ جلائے ہیں اور قوموں کو آج ان دشمنوں کے چہرے نظر آنے لگے ہیں جو ہمیشہ اقوام کو اندہیرے میں بلاکر ان کا استحصال کرتے ہیں. آج انقلاب اسلامی کے چراغ ان کی رسوائی کا سبب بنے ہوئے ہیں اور اسی بنا پر استکبار عالمی کو یہ چراغ ایک آنکھ بھی نہیں بھاتے اور وہ اس کا منبع خشک کرنے کے درپے ہیں. ان کا خیال تھا کہ امام خمینی کی رحلت کے بعد یہ انسانیت ک آفاق پر روشن ہونے والا اسلامی انقلاب کا یہ چراغ بجھ جائے گا مگر پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا([30]) چنانچہ سفینہ انقلاب کو نئے امیر کے حوالے کیا گیا اور استکبار کی نیندیں حرام ہوگئیں کیونکہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای مدّظلہ العالی سفینہ انقلاب کو دنیا کی وسعتوں میں آگے کی طرف ہدایت کررہے ہیں اور استکباری منصوبے اب اس کا راستہ روکنے سے عاجز آگئے ہیں. آیة اللہ العظمی خامنہ ای، بھی اسی حوزہ قم کے شاگرد ہیں جو اس انقلاب مبارک کی حفاظت فرمارہے ہیں اور ہزاروں رکاوتوں، سازشوں، عداوتوں، دوستوں کی حماقتوں اور دشمنوں کی شرارتوں کے بیچ سے ہوتے ہوئے اس کاروان کی ہدایت فرما رہے ہیں.
خداوند عالم، انبیاء عظام، ائمہ طاہرین، اولیاء الہی، حقیقی مجاہدین اور سُکّان ارض و سماء کا سلام و درود ہو اس سیدہ کریمہ اہل بیت (ع) پر اس بزرگ خاتون پر، جس کاچشمہ فیض دائما جاری ہے اور جس کا سرچشمہ نور ہر وقت دنیا کی تاریکیوں میں امید ہدایت کی روشن نقاط اجاگر کرتا ہے. درود و سلام ہو اس کوثرِ ولایت پر.
مختصر یہ کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایمان اور عمل انسان کو مقامات عالیہ اور مراتب و مدارج رفیعہ کے معراج تک پھنچاتا ہے امام (ع) فرماتے ہیں:«فو اللہ ماشیعتنا الاّ من اتّقی اللہ و اطاعہ؛ خدا کی قسم وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جو متقی و پرہیزگار نہ ہو اور جو خدا کی اطاعت نہ کرتا ہو.
نیز امام پنجم (ع) نے فرمایا: لا تنال ولایتنا الا بالعمل و والورع؛ ہماری دوستی اور ولایت تک پھنچنا نیک عملی اور پرہیزگاری کے سوا ممکن نہیں ہے.
حضرت معصومہ علیہا السلام سے منقول روایتیں
 1- عَنْ فَاطِمَةُ بِنْتَ موسَى بْن جَعْفَر (ع) عن فاطمة بنت جعفر الصادق(ع) عن فاطمة بنت محمد الباقر (ع) عن فاطمة بنت علی زین العابدین (ع) عن فاطمة بنت الحسین (ع) عن زینب بنت امیرالمؤمنین (ع) عَنْ فَاطِمَةَ بِنْت ِرَسُول ِاللّهِ صَلَّى اللّه علیہ ِوَ آلہ وِ سَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهِ علیه ِوَ آله ِوَ سَلَّمَ : «ألا مَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آل ِمُحَمَّد ماتَ شَهِیداً.
حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام فاطمہ بنت امام جعفر صادق علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام باقر علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام سجاد علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے وہ زینب بنت امیر الموٴمنین علیہ السلام وہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہاسے نقل فرماتی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فر مایا : آگاہ ہو جاوٴ کہ جو آل محمد کی محبت پر مرے گا وہ شہید مرا ہے۔([31])

مزید  متقین کے حساب و کتاب کی خصوصیات

2- حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی قدر و منزلت فاطمہ معصومہ علیہا السلام (اسی مذکورہ سند سے ) فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے نقل فرماتی ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : جب شب معراج، میں بہشت میں داخل ہوا تو ایک قصر دیکھا جس کا ایک دروازہ یاقوت اور موتیوں سے آراستہ تھا اس کے دروازے پر ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: «لا اله الا الله محمد رسول الله علی ولی القوم =خدا کے علاوہ کوئی لائق پرستش نہیں محمد اللہ کے رسول اور علی لوگوں کے رہبر ہیں». اور اس کے پردے پر لکھا تھا بخ بخ من مثل شیعۃ علی خوشابحال خاشابحال علی علیہ السلام کے شیعوں جیسا کون ہے؟ میں اس قصر میں داخل ہو وہاں ایک عمارت دیکھی جو عقیق سرخ سے بنی ہوئی تھی اس کا دروازہ چاندی کا تھا جو زبرجد سے مرصع تھا اس در پر بھی ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: «محمد رسول الله علی وصی المصطفیٰ = محمد خدا کے رسول اور علی مصطفیٰ کے وصی ہیں». اس کے پردے پر مرقوم تھا: «بشر بشیعة علی بطیب المولد = علی شیعوں کو حلال زادہ ہونے کی مبارک باد دیدو». میں داخل ہوا تو وہاں زبرجد سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس سے بہتر میں نے نہیں دیکھا تھا اس محل کا دروازہ سرخ یاقوت کا تھا جو موتیوں سے مزین تھا اس پر ایک پردہ لٹکا تھا میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ پردے پر لکھا ہے: «شیعة علی هم الفائزون = علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں». میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ یہ محل کس کا ہے جبرئیل نے کہا آپ کے چچا زاد بھائی، وصی و جانشین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کا ہے قیامت کے دن سب بجز علی کے شیعوں کے ننگے پاوٴں وارد ہونگے۔[32]

مزید  ﺑﻘﯿﻊ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺱ ﭘﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ کیوں؟

3- من اصعد الی الله خالص عبادته اهبط الله عزوجل الیه افضل مصلحته
حضرت معصومہ (س) روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جو شخص اپنی خالص عبادت اللہ تعالی کی بارگاہ میں بھیجے گا خدا اپنی بہترین مصلحتیں اس کی جانب اتارے گا. ([33])
حدیث غدیر و منزلت
 4- عن فاطمة بنت علی بن موسی الرضا حدثتنی فاطمة و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر علیه السلام قلن حدثتنا فاطمة بنت جعفر بن محمد الصادق ، حدثتنی فاطمة بنت محمد بن علی ، حدثتنی فاطمة بنت علی بن الحسین ، حدثتنی فاطمة و سکینة ابنتا الحسین بن علی عن ام کلثوم بنت فاطمة بنت النبی صلی الله علیه و اله و سلم عن فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه وآله قالت : «انسیتم قول رسول الله صلی الله علیه وآله و سلم یوم غدیر خم : من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قوله صلی الله علیه و آله و سلم : انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ».[34]
ترجمہ : فاطمہ بنت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام،امام موسی کاظم علیہ السلام کی بیٹیوں فاطمہ زینب اور ام کلثوم (سلام اللہ علیہن) سے نقل فرماتی ہیں کہ انہوں نے فاطمہ بنت جعفر صادق (ع) سے اور انہوں نے فاطمہ بنت محمد بن علی(ع) سے، انہوں نے فاطمہ بنت علی بن الحسین(ع)، فاطمه بنت زین العابدین (ع) نے فاطمه اور سکینه بنت الحسین (ع) سے انہوں نے ام کلثوم دختر فاطمہ بنت رسول الله (ص) سے نقل فرمایا ہے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ان لوگون سے دریافت کیا: کیا تم غدیر خم کے دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ” من کنت مولاہ فعلی مولاہ (=جس کا میں مولا ہوں پس اس کے علی مولا ہیں،) اور آپ (ص) کا قول انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ (=اے علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسیٰ سے تھی) بهول گئے؟
…………………………………
[1] – دلائل الامامہ ص/ ۳۰۹ ۔
[3] – وسیلہ المعصومہ بنقل نزھۃ الابرار ۔
[4] – مستدرک سفینۃ البحار ج/ ۸ ص/ ۲۵۷ ۔
[5] – سفينه البحار 2/376؛ تاريخ قم /7.
[6] – بحارالانوار ج ٦٠ صفحه ٢١٦
[7] – زندگانی حضرت معصومہ / آقائے منصوری : ص/ ۱۴، بنقل از ریاض الانساب تالیف ملک الکتاب شیرازی ۔
[8] – وسیلۃ المعصومیہ : میرزا ابو طالب بیوک ص/ ۶۸، الحیا ة السیاسبۃ للامام الرضا علیہ السلام: جعفر مرتضیٰ عاملی ص/ ۴۲۸، قیام سادات علوی : علی اکبر تشید ص / ۱۶۸۔
[9] – دریائے سخن تاٴلیف سقازادہ تبریزی : ص/۱۲، بنقل از ودیعہ آل محمد صل اللہ علیہ و آلہ/ آقائے انصاری ۔
[10] – تاریخ قدیم قم ص/ ۲۱۳ ۔
[11] – خطبہ حضرت در شام
[12] – تاریخ قدیم قم ص / ۲۱۴ ۔
[13] – سفینۃ البحار ج/ ۲، ص / ۳۷۶ ۔
[14] – ثواب الأعمال و عيون اخبار الرضا(ع). عوالم العلوم، ج ٢١، ص ٣٥٣ بحوالۂ اسنى المطالب ص ٤٩ تا ص ٥١.
[15] – بحار ج ٤٨ صفحه ٣٠٧.
[16] – عیون اخبارالرضا (ع).
[17] – كامل الزيارة
[18] – زبدة التصانيف، ج ٦، ص ١٥٩، بحوالۂ كريمۂ اہل بيت، ص ٣.
[19] – کامل الزیارات ص۱۱.
[20] – بحار الانوار ج ۱۰۱، ص ۴۲.
[21] – بحار الانوار ج ۱۰۱، ص ۴۳۔
[22] – بحار الانوار ج ۱۰۲، ص۳۳.
[23] – بحار الانوار ج ۱۰۲، ص۲۶۵.
[24] – بحار الانوار ج /۱۰۲، ص ۲۶۶.
[25] – ناسخ التواريخ، ج ٣، ص ٦٨، بحوالۂ کتاب ” كريمۂ اہل بيت”، ص ٣٢.
[26] – مستدرک الوسائل ج/ ۲، ص / ۲۹۸ ۶
[27] – مصباح الشریعۃ باب ۱۰۰
[28] – كريمه اهل بيت، ص٤٣، با تلخيص و تصرّف
[29] – وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا = اور رات کے ایک حصے میں نیند سے اٹهیں اور قرآن (اور نماز) پڑهیں. یہ آپ کے لئے ایک اضافی فریضہ ہے؛ امید رکهیں کہ خدا آپ کو مقام محمود (قابل ستائش و قابل تعریف مقام) عطا فرماکر محشور و مبعوث کرے.(سوره اسراء آیت 79)
[30] – خداوند متعال کا ارشاد گرامی ہے : یُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ = وہ اپنے منہ سے خدا کا نور بجھانا چاہتے ہیں لیکن خداوند متعال اپنا نور مکمل کرنے کے سوا کچھ نہیں چاہتا خواہ کفار اکمال و اتمام نور کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں!۔ (سوره توبہ آیت 32)
يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ = وہ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ سے خاموش کرنا چاہتے ہیں مگر خداوند اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے خواہ کافرین کے لئے ناپسند ہی کیوں نہ ہو!. (سورہ صف آیت 8)
[31] – ۔آثار الحجۃ محمد رازی ص / ۹ ، نقل از اللولؤ الثمینہ ص / ۲۱۷۔
[32] – بحار ج / ۶۸ ، ص / ۷۶ ۔
[33] – بحار الانوار، ج 70، ص 249. ( عدّة الدّاعی ( ص 218 ) ؛ بحارالانوار (ج 67 ، ص 249 ) ؛
میزان الحکمة ( ج 2 ، ص 882 )؛ تفسیر الامام العسکری ( ص 327 ) .
[34] – الغدیر ج / ۱ ، ص ۱۹۶ ۔

مزید  حضرت نوح عليہ السلام

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.