حضرت فاطمہ زہراء(س) کی مظلومانہ شہادت کی مناسبت پر پانچ(5) پیغام

0 0

مقدمہ

قال رسول الله (ص) فاطمة بضعة منّی من آذاها فقد آذانی—(1)
ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفٰی(ص) نےفرمایا :”فاطمہ میرا پارۂ جگر ہے جو اس کو اذیت پہنچائے گا وہ میری اذیت کا باعث بنے گا۔
گزشتہ چند سالوں سے، ایام فاطمیہ خصوصا فاطمیہ دوم کے موقع پراور بالخصوص حضرت صدیقہ طاہرہ(س) کی شہادت کے روز یعنی 3/جمادی الثانیہ کے دن ہمارے ملک میں ایک خاص ماحول ہوتا ہے، دوکانیں بند ہوتی ہیں، ماتمی دستہ سڑکوں پرنوحہ خوانی و سینہ زنی کرکے ،جگر گوشہ رسول(ص)، زوجہ علی مرتضی (ع) (2) اورمادر ائمہ(ع) کا سوگ مناتے ہیں۔
وہ خاتون جس کے دروازے پر کھڑے ہو کر پیغمبر اسلام(ص) بلند ا ٓواز سے فرماتے تھے: “السلام علیکم یا اهل بیت النبوة۔۔۔” (3) اے اہل بیت نبوت تم پر سلام ہو
اس طرح، اپنےبعد ا ٓنے والوں کے لئے اتمام حجت کر رہے تھے کہ جن اہل بیت کے متعلق میں بارھا تاکید کرتا رہاھوں وہ یہی افراد ہیں کہ جن میں حضرت زہراء(س) کو مرکزیت حاصل ہے لیکن ابھی غروب خورشید نبوت کو چند روز بھی نہ ہوئے تھے کہ ایک دوسرا عظیم سانحہ عالم اسلام میں رونما ہواجس کی وجہ سے حضرت زہرا(س) جوانی کے عالم میں (4) ہی، بدطینت افراد کے مظالم کی تاب نہ لا کراس دنیا سے گزرگئیں جس کے بعد میدان جنگ کے شہسوار،حضرت علی(ع) کی کمر ٹوٹ گئی۔
جس وقت ا ٓپ(ع) نے زہراء مرضیہ کےبدن مطہر کو رات کی تاریکی میں مخفیانہ طور پر سپرد لحد کیا (5) تو غم و اندوہ سے ا ٓپ کا دل بھر ا ٓیا، مولائے متقیان،خداوند کی بارگاہ میں نماز کےلئے کھڑے ہوتے تھے تو ا ٓواز دیتےتھے: خدایا ! خاندان نبوت کی کیا یہ ا ٓخری مظلومیت تھی؟
افسوس صد افسوس ایسا نہیں تھا بلکہ جنگ صفین، جنگ نہروان اور جنگ جمل جیسے واقعات،حضرت امام حسن(ع) کی مظلومیت اور امام حسین(ع) اور ا ٓپ(ع) کے اولاد و اصحاب کی شہادت، الغرض تمام ائمہ(ع) کی مظلومیت، اسی مظلومیت کی ایک کڑی تھی۔ لیکن ظلم بالائے ظلم تو یہ ہے کہ کسی مظلوم پر ہونے والے مظالم کا انکار کیا جائے۔
ایک اور بڑاحادثہ جو رونما ہونے والا تھا،وہ یہ تھا کہ کچھ لوگ حضرت زہراء(س) کی شہادت اور مظلومیت کو مورد شک و تردید قرار دے کر ا ٓپ(س) پر ہونے والے ظلم وستم کا انکار کرنا چاہتے تھے۔
لیکن مراجع کرام منجملہ حضرت ا ٓیة اللہ العظمی فاضل لنکرانی(مد طلہ) کی بیداری نے اس خطرناک منصوبہ کو خاک میں ملا دیا، اور روز شہادت حضرت زہراء(س) کو عاشوراء قرار دے کر لوگوں کو عزاداری و مجالس عزا برپا کرنے کی دعوت دے کر اس بات کا اعلان کیا کہ اگر ہم اس زمانےمیں نہیں تھے اور اہلبیت(ع) پرہونے والے مظالم کا دفاع نہیں کر سکے تو ا ٓج عزاداری، سینہ زنی اور جلوس عزا نکال کر، حضرت زہراء(س) کی مظلومیت کو فراموش نہیں ہونےدیں گے۔
حضرت ا ٓیة اللہ العظمی فاضل لنکرانی(مد طلہ) کئی سالوں سے حضرت صدیقہ کبری فاطمہ زہرا(س) کی شہادت کی مناسبت پر،لوگوں کو اس روح فرسا مصیبت پر عزاداری و سوگواری کی ترغیب دلانے کے لئے پیغام صادر فرماتے تھے ؛جن کو ہم یکجا کرکے محبان و دوستداران عصمت و طہارت کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
امید ہے کہ ہماری یہ ناچیز کوشش درگاہ احدیت میں مقبول ہو اور مظلومہ ٔجہان اور ان کے فرزند دلبند حضرت ولی عصر(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی خوشنودی کا باعث ہو۔

 

پیغام 1

بسم الله الرحمٰن الرحیم
الحمد لله ربّ العالمین والصلاة و السلام علی سیدنا محمد و آله الطاهرین سیما الصدّیقة الشهیدة فاطمة الزهراء واللعن علٰی اعدائهم اجمعین

یہ ایام عظیم المرتبت خاتون، بانوی جہان اسلام حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شہادت کے ایام ہیں، ا ٓپ(س) کی ذات والامقام ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے وجود مبارک کے تمام ابعاد اھل فکر و بصیرت کے لئے ابھی تک روشن نہیں ہو سکے ہیں۔ اس کو فاطمہ کہا جاتا ہے؛اس لئے کہ بشر اس کی حقیقی معرفت سے محروم ہے (6)۔ وہ ذات کہ جس کی ناراضگی، خدا و پیغمبر(ص) کی ناراضگی ہے، اور جس کی خوشنودی خدا و رسول (ص) کی خوشنودی ہے۷۔ ایسی حقیقت کہ جو فقط اہل کساء کا مرکز (8) ھی نہیں بلکہ ا ٓیہ ٔتطہیر میں بھی اسی کو مرکزیت حاصل (9) ہے اوراسی مبارک وجود کو ارادہ ٔالٰہی کا واسطہ قرار دیا گیا ہے۔
ہم لوگوں کے لئے کہ جن کو بانوی اسلام اور ان کی اولاد طاہرہ کی پیروی کاشرف حاصل ہے، حالات کے مد نظر ا ٓپ(س) کے افکار و دستورات سے ا ٓشنائی بیحد ضروری ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وظائف کی انجام دھی میں ہم سے کوتاہی ہو جائے۔ ہمارے محترم علماء و خطباء مجالس عزا کو اعلٰی پیمانے پر منعقد کرنے کے علاوہ اس کے علمی و معنوی پہلوو ٔں پر خاص توجہ دیں، اوربحمد اللہ چونکہ مکتب تشیع استدلال و منطق کا مکتب ہے لہٰذا صاحبان تدبر و انصاف ا ٓسانی سے اس طرف مائل ہو جائیں گے۔
ا ٓج دشمن اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ اس قوم پر قابو پانے کے لئے اوراس پر مسلط ہونے کے لئے اس کے ایمان و اعتقادات کی لو کو کم کرنا پڑیگا لہٰذا کبھی سید الشہداء(ع) پر گریہ و عزاداری کو بیہودہ کاموں سے تعبیر کرتا ہے اور کبھی حضرت فاطمہ زہراء(س) کی شہادت پر شبہات ایجاد کرتا ہے؛ جب کہ ا ٓپ(س) کی شہادت تاریخ اسلام کے حقائق اور مسلمات میں سے ہے۔
دشمن اپنے زعم ناقص میں حضرت(س) کی شہادت میں شبہ تو پیدا کر سکتا ہے لیکن رسول خدا(ص) کے بعد ا ٓپ(س) پر ہونے والے مظالم و مصائب (10) کا ھرگز انکار نہیں کر سکتا؛ ا ٓپ کا جوانی میں دنیا سے رخصت ہونا (11)، مسجد النبی(ص) میں ا ٓپ(س) کا مستدل و شعلہ بیان خطبہ (12)، روز و شب کی ا ٓہ و بکا (13) اور حریم ولایت کا مستحکم دفاع (14)، ا ٓپ(س) کی مظلومیت کی روشن دلیلیں ہیں،لہٰذا ا ٓپ(س) کے شوہر نامدار اور جہان اسلام ا ٓج بھی ا ٓپ(س) کی مظلومیت پر عزادار وسوگوار ہیں۔
ان ایام سے والہانہ لگاو ٔ کے نتیجہ میں ایران کا اسلامی انقلاب وجود میں ا ٓیا اور ا ٓج اس کی بقاء بھی اس خاص توجہ کی مرہون ہے، لہٰذا مو ٔمنین اور محبان اہل بیت(ع) ایام فاطمیہ کو ہر سال، گزشتہ سال سے بہتر طریقہ سے منائیں اور اس ناگوار حادثہ کو دوسرے حوادث میں گم نہ ہونے دیں؛خصوصاً 3/ جمادی الثانیہ کو کہ جس دن حکومت ایران نے عمومی تعطیل کا بھی اعلان کر دیا ہے، خاص اھتمام کریں اس لئے کہ شیعیت کی اصالت ا ٓپ(س) ھی کی ذات والا صفات سے وابستہ ہے، اس مقدس راہ میں قدم اٹھائیں اور بروز قیامت ا ٓپ(س) اور ا ٓپ(س) کی اولاد طاھرہ کی شفاعت و عنایت کے مستحق قرار پائیں۔

 

پیغام 2

بسم الله الرحمٰن الرحیم
إِنَّ الَّذِینَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِی الدُّنْيَا وَ الاَْخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِینًا (15); و قال رسول الله (صلی الله علیه وآله) : فاطمة بضعة منّی من آذاها فقد آذانی (16)

ہم شیعوں کے لئے فخر کی بات ہے کہ ہمارے پاس ایسی شخصیت ہے کہ جو سید ۂ نساء العالمین اور صاحب عصمت و طہارت ہے اور ا ٓیہ ٔتطہیر (1۷) کہ جو پنج تن(ع) کے متعلق نازل ہوئی ہے (18) ، کے مطابق ،ارادہ ٔالٰہی (ارادہ تکوینی) یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی رجس و پلیدی اور گناہ و معصیت سے مبری ہوں اور طہارت مطلقہ سے ا ٓراستہ ہوں۔
وہ ذات کہ جو اس منزل پر فائز ہے کہ جہاں تک ہمارے ناقص افکار کی رسائی ممکن نہیں اور ہماری عقل اس کو درک کرنے سے قاصر ہے (19)۔
وہ راہ ولایت کی پہلی شہیدہ ہیں کہ جس کی فرزندی پر ہمارے ائمہ (ع) ناز کرتے تھے (20)۔
فاطمہ وہ خاتون ہیں کہ جس نے سخت ترین مصائب و مظلومیت خصوصاً پیغمبر(ص) جیسے باپ کے دنیا سے رخصت ہونے کی مصیبت اور دشوارترین حالات کہ جس میں عام انسان بولنے تک کی قدرت نہیں رکھتا ،حکام و بزرگان قوم کے مقابل ایسا خطبہ دیا (21) کہ عقلا جس کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایسے حالات اور ایسے مواقع پر ایک عورت کس طرح ایسا محکم و متقن خطبہ بیان کر سکتی ہے اور وہ بھی توحید،نبوت و امامت سے متعلق ایسے مطالب اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کی سر زنش جنہوں نے دنیا کی راحت اور عیش و عشرت کے الٰہی فریضہ کو ترک کر دیا اور ظالم کے ظلم کے مقابلے میں تماشائی بنے رہے ۔
بصد افسوس اس بات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ چودہ سو سالوں کے گزر جانے کے بعد ا ٓج بھی ہم اس بے مثل گوہر کو نہیں پہچان سکے ہیں اور اس سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ بعض کی جہالت اور نادانی یا نفس پرستی اس بات کا باعث بنی کہ انھوں نےا ٓپ(س) کے مقام و منزلت ہی کو مورد شک و تردید کی نگاھوں سے دیکھنا شروع کر دیا۔
یہ حقیقت ہے کہ ایک معمولی انسان کے لئے یہ سمجھنا دشوار ہے کہ ایک عورت اس مقام و منزلت کی حامل ہو کہ اس کی مرضی خدا کی مرضی کا محور بن جائے (22)۔
ایک مدت سے بہت سے تعصب ا ٓمیز مطالب حضرت زہرا(س) کے بارے میں لکھے جا رہے ہیں جن کو سن کر اور پڑھ کر ہر حقیقت پسند انسان کا دل خون ہو جاتا ہے ۔ سچ ہے کہ امام خمینی (رہ) نے وحدت اسلامی کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے ؛لیکن امام خمینی (رہ) کا مطلب یہ نہیں تھا کہ شیعہ اپنے بنیادی اعتقاد سے بھی دستبردار ہو جائیں اور حضرت زہرا(س) کے متعلق جھوٹی اور غلط باتوں کے سامنے خاموش تماشائی بنے رہیں؛ بلکہ امام خمینی (رہ) کی مراد یہ تھی مسلمان عالم استکبار کے مقابلے میں متحد رہیں تاکہ دشمن اسلام میں رخنہ ایجاد نہ کر سکے ۔
لہذا شیعوں پر فرض ہے کہ 3جمادی الثانیہ جو صحیح روایات (23) کی بنیاد پر حضرت زہرا(س) کی شہادت کی تاریخ ہےاور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے عمومی تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے ،جتنا ممکن ہو اعلی پیمانے پر مجلسیں برپا کریں اور سڑکوں پر جلوس نکالیں تاکہ ا ٓنحضرت(س) کا کچھ حق ادا ہو سکے ۔
ظاہر ہے کہ اس امر سے بے توجہی کا نتیجہ بہت برا ہوگا۔
والسلام علی جمیع عباد الله الصالحین
محمد فاضل لنکرانی
9اگست 2002 عیسوی

 

پیغام3

بسم الله الرحمٰن الرحیم
إِنَّ الَّذِینَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِی الدُّنْيَا وَ الاَْخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِینًا . (24) قال رسول الله (صلی الله علیه وآله): فاطمة بضعة منّی یؤذینی ما آذاها (25)

سال گزشتہ جو اطلاعیہ حضرت زھرا(س) کی شہادت کی مناسبت سے ا ٓپ کی خدمت میں پیش ھوا اس سے پیوستہ اس سال بھی ا ٓپ کی خدمت میں عرض کرتا ھوں کہ حضرت زھرا(س) جنہوں نے ولایت کی راہ میں سب سے پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، ان کی یاد منانا ولایت علی(ع) کی بیعت کے مترادف ہے، جس کے ذریعہ خداوندعالم نے دین کو مکمل کیا اور نعمتوں کومنزل اتمام تک پہنچایا(26)۔
وہ فاطمہ(س) کہ جس کی مرضی پیغمبراکرم(ص) کی مرضی ہے اور پیغمبر(ص) کی مرضی خدا کی رضا ہے، جس کاغضب پیغمبر(ص) کا غضب اور پیغمبر کا غضب خدا کا غضب ہے (2۷)۔
وہ فاطمہ(س) جس کی مادری پر ھمارے ائمہ(ع)،جوعالم انسانیت کے کامل ترین افراد ہیں، فخر کرتے ہیں (28)۔
وہ فاطمہ(س) جس نے اپنی مختصر سی حیات (29) میں ھی شیعیت کو ھمیشہ کے لئے بقا عطا کیا۔
وہ فاطمہ(س) جس کے روشن و جلی خطبہ (30) نے چاھنے والوں اور دشمنوں کو انکشت بدندان کر دیا۔
وہ فاطمہ جس نے اپنے پدر بزرکوار کی موت کی عظیم ترین مصیبت اور اپنے شوھر نامدار کی مظلومیت کو ،اپنے نالہ وشیون (31) سے تمام لوگوں کو ا ٓگاہ کیا،اور ا ٓج بھی وہ اندوہ ناک ا ٓواز مدینہ کی گلیوں گونج رھی ہے۔
ھمیں فخر ھے کہ دین کے حقیقی معارف ا ٓپ(س) کی اولاد طاھرہ کے ذریعہ ھی ھم تک پہونچے،ایسے معارف جو عقل سلیم کے مطابق اور ھر زمانے کے ساتھ سازگار ھیں، ایسے جامع معارف جو بشریت کی تمام حوائج کی جواب گو ھیں۔ ا ٓپ اور ا ٓپ(س) کی اولاد کے مکتب سے تمسک کے نتیجہ میں ھی ملت ایران کو عزت و استقلال نصیب ھوا۔
اسی لئے اسلام کے سخت ترین دشمن اس نتیجہ پر پہونچے کہ اگر اس قوم کو مٹاناھے تو ان سے فاطمیہ، عاشورا اور شعبان و رمضان چھین لیا جائے۔ اس وقت اپنے ناپاک ارادوں کو جامہ عمل پہنایا جا سکتا ھے۔
یہاں پر دوبارہ یادا ٓوری ضروری ہے کہ ایام عزا کا احترام اور مجالس عزا کا انعقاد امام خمینی(رہ) کا وطیرہ تھا۔اور اس عمل کا وحدت اسلامی کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جس وحدت اسلامی کی امام خمینی(رہ) اور ا ٓیة اللہ بروجردی(رہ) تاکید فرماتے تھے اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ شیعہ اپنے مسلم عقائد سے دستبردار ہو جائیں یا اس کو فراموش کردیں،بلکہ وحدت اسلامی سے مراد تمام مسلمانوں کا عالمی استعمار کے خلاف متحد رہنا ہے جس کا خیال یہ ہے کہ قدرت اور طاقت صرف اس کے پاس ہے اور صہیونیوں کے اشارے پر اسلام کی بنیادوں کو نابود کرنے کی سوچ رہے ہیں۔
لہذا تمام شیعوں پر ضروری ہے کہ 3 جمادی الثانیہ جس دن اسلامی جمہوریہ میں تعطیل کا بھی اعلان کیا گیا ہے ،مجالس منعقد کریں اور سڑکوں پر جلوس نکالیں تاکہ ا ٓنحضرت کے حقوق کا ایک تھوڑا سا حصہ ادا کر سکیں ۔
(یریدون لیطفئوا نورالله بافواہہم والله متم نوره ولو کره الکافرون) (32)نور الٰہی ہمیشہ روشن ہے اور جن کے دل تعصب سے خالی ہیں وہ ہمیشہ اس نور سے اپنے دل کو روشنی پہنچایا کرتے ہیں۔

 

پیغام4

بسم الله الرحمٰن الرحیم
إِنَّ الَّذِینَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِی الدُّنْيَا وَ الاَْخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِینًا (33). قال رسول الله(صلی الله علیه وآله): فاطمة بضعة منی یؤذینی ما آذاها (34)

یہ ایام عصمت کبری حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شہادت کےایام ہیں، وہ پاک اور مقدس ذات جوام ابیھابھی ہے اورائمہ معصومین (علیھم السلام) کی ماں بھی ہے (35)
وہ حقیقت جو پنجتن کا مرکز ہے اور خلقت کا عظیم راز ہے جس کو بشریت تو کیا ان کےچاہنے والے بھی نہیں پہچان سکے ہیں۔ وہ انسیہ (36) جس کی نورانی حقیقت جہالت اور ظلم و عناد کی تاریکیوں میں گم ھوگئی اور قیامت تک ا ٓشکار نہ ہو سکے گی۔
شیعہ ھی کیا تمام انسانیت اور ملائکہ ان کے وجود پر فخر کرتے ہیں، خداوند عالم کا یہ عظیم تحفہ،یہ کوثر (3۷) جو دین پیغمبر(ص) کی بقاء کا ذریعہ بنا اور جس کے فرزند عالم بشریت کے علوم وکمالات کا سرچشمہ قرار پائے۔
اگر حضرت زھرا(س) کا وجود نہ ھوتا اور یہ گرانمایہ گوھر عالم وجود میں ظہور پذیر نہ ھوتا تو نہ جانے کتنی تاریکی اس عالم امکان میں ھوتی؟! ا ٓیہ ٔ مودت (38) کے حکم کے مطابق تمام انسانوں پر واجب ہےکہ دین اسلام کی ھدایت کے بدلے پیغمبراسلام(ص) کے اقرباء اور ان کے اھل بیت(علیھم السلام) سے محبت ومودت رکھیں اور اقرباء میں سب سے بارز شخصیت حضرت زھرا(س) کی ہے (39)۔
اور یہ مودت کا فریضہ ھر زمانے میں ھر انسان کے لئے ہے فقط ان کے زمانے والوں سے مخصوص نہیں ہے۔
حضرت زھرا(س) کی مودت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی یاد کو زندہ رکھا جائے اور ان کے وجود نازنین پر ھونے والی مصیبتوں (40) کو بیان کیا جائے۔
ھم کبھی ان مصیبتوں کو فراموش نہیں کر سکتے،تاریخ شاھد ہے کہ مختصر سی عمر (41) میں ا ٓپ پر کتنے مصائب ڈھائے گئے کہ مولٰی الموحدین حضرت علی(ع) نے ا ٓپ کی شھادت کے بعد فرمایا: میرا غم دائمی اور ابدی ھے جو کبھی بھی ختم ھونے والا نہیں ہے (42)۔
کیا مولائے کائنات کے ان الفاظ کے بعد کوئی شیعہ، کوئی پیغمبر(ص) کاامتی اس غم کو فراموش کر سکتا ہے، اور اس سے کریز کر سکتا ہے؟
لہٰذا تمام محبان اھل بیت(ع) پرضروری ہے کہ 3/جمادی الثانیہ بروز بدھ صحیح روایات کے مطابق (43) حضرت زھرا(س) کی شھادت کی تاریخ ہےاور بحمد للہ اسلامی جمھوریہ ایران میں تعطیل بھی ہے لہٰذا بہتر سے بہتر طریقہ سے عزاداری، ماتم اور جلوس وغیرہ کے ذریعہ اس امرکو زندہ کریں اور ا ٓنحضرت سے محبت کا اظہارکریں شاید اس طرح ان کے حقوق کا ایک چھوٹا حصہ اداکرسکیں۔

 

 

پیغام 5

بسم الله الرحمٰن الرحیم
«السلام علیک یا ایتها الصّدیقة الشّهیدة (44)»

سیدہ ٔ نساءالعالمین حضرت زہرا (س)کی شہادت کے ایام قریب ہیں۔
وہ ذات جس پر خداوندعالم کو فخر ہے (45)،جو قلب رسول خدا(ص) کی ٹھنڈک (46) ،امیرالمومنین علی (ع)کی ہمسر اور معصوم اماموں کی ماں ہے (4۷)۔
وہ ذات جو عالمین کے عورتوں کی سردار ہے۔اگر چہ قرا ٓن میں خداوند عالم نےحضرت مریم(ع) کے لئے فرمایا ہے“واصطفاک علٰی نساء العالمین” (48) کہ مریم عالمین کی عورتوں میں سب سے بہتر ہیں لیکن معتبر روایات کی روشنی میں جناب مریم(ع)کے برتری کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے بغیر شوہر کے حضرت عیسی کو جنم دیا لہذا دنیا میں ان کا کوئی نظیر نہیں ہے۔لیکن حضرت زہرا علم ،عصمت ،طہارت اور عبودیت کی وجہ سے تمام عورتوں سے افضل ہیں (49)۔
ضروری ہے کہ تمام مسلمان 3جمادی الثانیہ حضرت زہرا(س) کی شہادت کی مناسبت سے مجلسیں برپا کریں جلوس نکالیں اور اس دن عاشور کی طرح عزاداری منائیں۔بحمداللہ ادھر چند سالوں سے محبان حضرت زہرا(س) اس فریضہ کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں ۔واضح رہے کہ حضرت زہرا (س) کا احترام حقیقت میں پیغمبر اسلام(ص) کی تعظیم اور ان کا احترام ہے۔
ایران کی عظیم قوم اہلبیت(ع) کے دامن سے متمسک رہ کر (50) انقلابی میدان میں ہمیشہ اسی طرح پیش پیش رہےگی ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری کامیابی کا رازیہ ہے کہ ہم معصوم اماموں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پاک اور مقدس ذوات سے وابستہ ہیں اور حقیقی شیعیت و اسلام ناب ھی ہماری شناخت ہے۔خداوند ہمیں اپنے کوثر یعنی حضرت فاطمہ زہرا(س) (51) کی عنایات سے زیادہ سے زیادہ بہرہ مند فرمائے۔

 

حواشی

ا۔ یہ روایت مختلف عبارات میں نقل ہوئی ہےکہ جن میں سےبعض کےمصادر کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:
1 _ «فاطمة بضعة منّی، من آذاها فقد آذانی»: فضائل اهل البیت ( علیهم السلام ): 240 ح 375، المستدرک علی الصحیحین 3:173 ح 4750، السنن الکبری بیہقی 15:276 ح 21460 ، کنزالعمال 12: 111 ح 34241،کتاب سلیم بن قیس 2:869 ح 48، شرح الاخبار 3:30 ح 970، امالی صدوق: 165 ح 163 با اضافہ ای، کفایة الاثر: 65، دلائل الامامة: 135 ح 43، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 4:318، مناقب ابن شہرآشوب 3:332، کشف الغمة 2:92 ـ 93، بحارالانوار 43:39 ح 40 و ص 54 ح 48 و ص 76 ح 63 و ص 80 ح 68، احقاق الحق 10:209ـ211 و ج 19:77، عوالم العلوم فاطمة الزهراء ( علیها السلام )1:150 و ج 2:1050 .
2 _ «فاطمة بضعة منّی، یؤذینی ما آذاها»، فضائل اهل البیت ( علیہم السلام ): 241 ح 378، صحیح مسلم 4: 1512 ح 94/2449، سنن ترمذی 5:698 ح 3878، اور اس کےبعد یہ جملہ نقل ہوا ہے «وینصبنی ما انصبها»، المستدرک علی الصحیحین 3:173 ح 4751، اور اسی طرح اس کے ضمن میں یہ جملہ بھی منقول ہے «وینصبنی ما انصبها»، التفسیر الکبیر فخر رازی 9:595، تفسیر غرائب القرآن 6:74، کنز العمال 12: 107 ح 34215، اور اسی طرح اس کے ضمن میں یہ جملہ بھی منقول ہے «وینصبنی ما انصبها »، معانی الاخبار : 303 ح 1 و2. اعلام الوری 1:294، بحارالانوار 43: 26 ح 26 اور اس کے بعد یہ جملہ منقول ہے « ویسرّنی ما سرّها و…»، احقاق الحق 10: 209 ـ 210، و ج 19:78، عوالم العلوم فاطمة الزهراء ( علیها السلام )1: 145 ح 8 ـ 11، مسند فاطمة (علیها السلام ) عطاردی: 336 ح 7 .
3 ـ « فاطمة بضعة منّی، یربینی ما رابہا (ارابہا) ویؤذینی ما آذاها»: فضائل
اہل البیت ( علیہم السلام ): 242 ح 379، صحیح بخاری 6: 193 ح 5230، صحیح مسلم 4:1512 ح 93/2449، سنن ترمذی 5:698 ح 3876، حلیة الاولیاء 2:40، اسد الغابة 6:225 رقم 7175، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1 : 53 ، ذخائر العقبی: 37 ـ 38، تہذیب الکمال 22: 388 رقم 8488، سیر اعلام النبلاء 3 : 425 رقم 114، البدایة والنہایة 6: 326،کنزالعمال12:112ح34243، شرح الاخبار 3:60 ح 981، مناقب ابن شہرآشوب 3:332، بحارالانوار 43:39 ح 40 ، احقاق الحق 10: 190 ـ 199، و ج 19: 83ـ84، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1:145 و 150، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی: 336 ح 8 .
4 ـ «فاطمة بضعة منّی، فمن اغضبها اغضبنی»: صحیح بخاری 4:252 ح 3714 و ص 264 ح 3767، کنز العمال 12: 108 ح 34222 ، جامع الاحادیث 6:258 ح 14724،
شرح الاخبار 3:31 ح 972 و ص 61 ح 983، مناقب ابن شہرآشوب 3:332، بحارالانوار 43: 39 ح 40، احقاق الحق 10:206 ـ 208، و ج 19: 87 ـ 90، عوالم العلوم فاطمة الزہراء (علیہا السلام )1:150 ، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی: 334 ح 3 و ص 335 ح 6

مزید  شیعہ ہی وحدت اسلامی کے داعی

البتہ یہ روایت اور بہت سی تعبرات میں وارد ہوئی ہے کہ تقریبا 3 ۰ موارد کو ملاحظہ کیا گیا کہ جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اختصار کی وجہ سے تمام کو ذکر کرنے سے قاصر ہیں، محقق کی سہولت کے لئے ذیل میں فقط کتابوں کے نام کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

صحیح مسلم 4:1512 ـ 1513 ح 94 ـ 96/2449، صحیح بخاری 4:255 ح 3729، فضائل اہل البیت ( علیہم السلام ): 240 ـ 249 ح 374 ـ 378، الجامع الکبیر ترمذی 6:173 ح 3868، المستدرک علی الصحیحین 3:172 ـ 173 ح 4747 و 4749، حلیة الاولیاء 2:40 ـ 41 ، و ج 3: 206، السنن الکبری بیہقی 10:206 ح 13680، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 53 ـ 54، 60، 62، مناقب خوارزمی: 353 ح 364 ، ذخائر العقبی: 37 ـ 38، سیر اعلام النبلاء 3: 428، 433 رقم 114، مجمع الزوائد 9: 203 ، کنز العمال 12: 106 ـ 114، و ج 13: 674 ح 27726 و ص 678 ح 37735، 37736 و 37737 ، جامع الاحادیث 6: 258ح14724و14725، قرب الاسناد: 112 ح 389، شرح الاخبار 3:64 ح 987، علل الشرائع 1:220 ب 149 ح 2، امالی صدوق: 165 ح 163 و ص 175 ح 178 و ص 575 ح 787، کفایة الاثر: 64، امالی مفید: 260، امالی طوسی: 24 ح 30، تلخیص الشافی 3:122، روضة الواعظین: 150، مناقب ابن شہرآشوب 3:332 ، کشف الغمة 2:92ـ93، بحارالانوار 43:23ـ80، اثبات الہداة 1:538 ح 166، احقاق الحق 10:187ـ228 و ج 19:76ـ93، عوالم العلوم فاطمة الزہراء (علیہا السلام )1:143 ـ152، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی : 136 ح 67 و 68 و ص 145 ح 1 و ص 147 ح 4 و ص 163 ح 27 و ص 333 ـ 337 ح 1، 2، 4، 5، 9 ـ 11 و ص 357 ـ 358 ح 1 ـ 4 .

2۔ اس کے منابع حاشیہ 3۵ میں مذکور ہیں

3۔ یہ روایت بھی مختلف عبارات میں وارد ہوئی ہے، چزئی اختلافات سے صرف نظر اس روایت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، پہلا حصہ اس طرح ہے:

کان رسول الله ( صلی الله علیه وآله ) یمرّ بباب فاطمة (علی)… ویقول: الصلاة... (إِنَّمَا يُرِیدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیرًا ).

اور دوسرا حصہ اس طرح:

کان النبی ( صلی الله علیه وآله ) یجیء الی باب فاطمة (علی)… ویقول: السلام علیکم… (إِنَّمَا يُرِیدُ اللَّهُ…). لیکن ھم ان تعبیرات کے اختلافات سے صرف نظر،دونوں حصوں کے منابع کو ذکر کریں گے۔

پہلے حصہ کے منابع: فضائل اہل البیت ( علیہم السلام ): 250 ح 390 و 391، مسند احمد 4:516 ح 13730 و ص 568 ح 14042، سنن ترمذی 5:352 ح 3219، جامع البیان 12: 11 ح 28492 و 28494، مشکل الآثار 1: 331 ح 784، المستدرک علی الصحیحین 3: 172 ح 474 8 ، شواہد التنزیل 2: 18 ـ 138 ح 637 ـ 644، 665، 667، 695، 772 و 773، مناقب خوارزمی: 60 ح 29، اسد الغابة 6:226 رقم 7175، ذخائر العقبی: 24 ـ 25، تہذیب الکمال 21:187 ـ 188 رقم 7921 و ج 22: 389 رقم 8488، سیر اعلام النبلاء 3:434 رقم 114، البدایة والنہایة 8:194، مجمع الزوائد 9:168 169 ، الدر المنثور 5:538 و ج 6:533 ـ 535، کنزالعمال 13:646 ح 632 ح 37632، فتح القدیر 4:396 و ج 4:280 .
امالی صدوق 208 ح 230، عیون اخبار الرضا ( علیہ السلام )1:240 ، امالی مفید: 318 ح 4، الشافی فی الامامة 3:136، امالی طوسی: 89 ح 138 و ص 565 ح 1174، تلخیص الشافی 2:253 ، مجمع البیان 7:59، جوامع الجامع 2:444، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 15:419 ـ420، متشابہ القرآن ومختلفہ 2:63، تفسیر البرہان 3:790 ح 7083، بحارالانوار 10:142 ح 5، و ج 16: 203، و ج 25 ـ 212 و ص 237 ح 21، و ج 35:207 ح 3 و ص 223 ح 30 و ص 227، و ج 37:36 ح 3، و ج 43: 53 ح 48، و ج 72: 154، و ج 82: 191 ـ 192، و ج 86 : 246 ح 6، تفسیر نور الثقلین 3:408 ـ 410 ح 186، 191، تفسیر کنز الدقائق 6:343.
احقاق الحق 2:502 ـ 503، 515، 518، 526، 529، 531 ، 533 ، 536 ، و ج 3: 529 ـ 530، و ج 9: 47 ـ 48، 50 ـ 51، 55، 61 ـ 62، و ج 14 : 49 ، 57 ـ 59، 67 ـ 68، 79 ـ 81، 103، 105، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )1:112 ، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 140 ح 76 و ص 275 ح 59 و ص 277 ح 62 .
دوسرے حصے کے منابع: مشکل الآثار 1:231 ح 785، شواہد التنزیل 2: 46 ـ 83 ح 666 ، 694 ، 696 و 703، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 67، مناقب خوارزمی: 60 ح 28، مجمع الزوائد 9: 168 ـ 169، الدر المنثور 6: 534 ـ 535.
تفسیر فرات کوفی: 338 ـ 339 ح 461 ـ 463، تفسیر قمی 2:67، امالی طوسی: 251 ح 447، کشف الغمة 2:83، تفسیر البرہان 3:790 ـ 791 ح 7084 و 7086، تفسیر نور الثقلین 3:408 ـ 410 ح 188 و 192، بحارالانوار 43: 53، و ج 25: 220 ح 19، و ج 35: 207 ح 2 و ص 209 ح 8 و ص 213 ح 16 و ص 214 ح 18 و ص 216 ح 20 ، تفسیر کنز الدقائق 6: 342 ـ 343 .
احقاق الحق 2 : 520 ، 526 ، 548 ، و ج 3: 529، و ج 9: 48 ـ 51، 54، 62 و 64، و ج 14: 51 ـ 52، 67 و 79 ـ 82، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1: 112 ، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی، 268 ح 43 و ص 273 ح 53 .
۴ . تاریخ طبری 3:240، المستدرک علی الصحیحین 3:176 ح 4761، الاستیعاب: 928 رقم 3411، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1 : 83 ، اسد الغابة 6:228 رقم 7175، کامل ابن اثیر 2: 200، سیر اعلام النبلاء 3:430 ـ 431 رقم 114، البدایة والنہایة 6:327 .
اصول کافی 1 : 458 ، مصباح المتہجد: 793، دلائل الامامة: 79 ح 18 و ص 134 ح 43، کشف الغمة 2: 75 و 129 ، مصباح کفعمی: 522، بحارالانوار
43: 6 ـ 10 ح 16، احقاق الحق 10: 11 ـ 12، و ج 19: 175، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1: 45 ـ 52 ح 1 ـ 24، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی: 7 ـ 13 ح 1 ـ 12.

۵. صحیح بخاری 5: 98 ح 4241، تاریخ طبری 3:240، المستدرک علی الصحیحین 3:177 ـ 179 ح 4763، 4764 و 4769، حلیة الاولیاء 2:43، السنن الکبری بیہقی 5: 256 ح 6759 ـ 6761 و ص 359 ح 7030، الاستیعاب: 927 ـ 928 رقم 3411، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1:82 ـ 83 و 86، کامل ابن اثیر 2: 200 ، ذخائر العقبی: 53 ـ 54، تہذیب الکمال 23: 39 رقم 8488، الجواہر النقی ـ در حاشیہ سنن الکبری بیہقی (ط ق) 3: 396 چاپ شدہ، اسد الغابة 6:229 رقم 7175، شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدید 6: 46، سیر اعلام النبلاء 3:430 رقم 114، البدایة والنہایة 6:327 ، مجمع الزوائد 9:211، کنز العمال 13:686 ح 37756 و 37757 .

کتاب سلیم بن قیس 2: 870 ح 48، اصول کافی 1:458 ح 3 و 4، شرح الاخبار 3 : 31 ـ32 ح 971 و 972، امالی صدوق: 580 ح 797 و ص 755 ح 1018، علل الشرائع 1: 218 ـ 223 ح 1 و 2، الخصال: 360 ح 50، امالی مفید: 281 ح 7، الاختصاص: 5، امالی طوسی 109 ح 166 و ص 155 ح 258، رجال کشّی: 6 رقم 13، دلائل الامامة: 133 ح 42 و ص 136 ذیل ح 43 و ص 137 ح 46، روضة الواعظین: 151ـ153، اعلام الوری 1:300، مناقب ابن شہرآشوب 3:362 ـ 364، اقبال الاعمال 3: 161، کشف الغمّة 2:100، 126 و 130، بحار الانوار 43:159 ح 8 و ص 171 ح 11 و ص 182 ـ 218 ح 16، 18 ـ 21، 29 ـ 31، 34 ـ 37، 39 ـ 41، 44 و 49، احقاق الحق 10: 454 ـ 458، 463 ـ 464، 474، 478 ـ 481، و ج 19: 170، 175 ـ 178.

عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )2: 782 ح 1 و 2 و ص 1057 ح 2، 3، 7 و 8 و ص 1060 ح 2 و ص 1066 ح 13 و ص 1068 ح 3 و ص 1072 ـ 1083 ح 7 ـ 14 و ص 1083 ـ 1104 ح 1، 4 ـ 21، 24، 27، 29 ـ 34 ، 36 ، 38 و 40 و ص 1106 ح 1 و 2 و ص 1109 ح 1 ـ 3، 5 و 6 و ص 1112 ح 3 ـ 6، 8، 11 و 12 و ص 1119 ح 1 و 2 و ص 1121 ح 1 و 2 و ص 1125 ح 1، مسند فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) عطاردی: 298 ح 1 و ص 393 ـ 401 ح 3، 6، 7، 10 ـ 13 و ص 402 ـ 433 ح 2، 3، 5 ـ 7، 11، 13، 16، 17 ـ 22، 30، 32، 33، 39 ـ 41، 46، 49، 50، 52 ، 56 ، 57 ، 61 ـ 63 .

۶۔ تفسیر فرات کوفی 1: 581 ح 747، بحارالانوار 43: 65 ح 58، عوالم العلوم فاطمة الزهراء ( علیہا السلام ) 1: 72 ح 11 و ص 99 ح 7، معجم احادیث الامام المهدی ـ عجّل الله تعالی فرجه الشریف ـ 5: 502 .

۷۔ المستدرک علی الصحیحین 3: 167 ح 4730، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 52، 60، اسد الغابة 6: 227، ذخائر العقبی : 39 ، تہذیب الکمال 22: 389 رقم 8488، مجمع الزوائد 9: 203، کنز العمال 12: 111 ح 34237 و ج 13: 674 ح 37725 .
شرح الاخبار 3: 29، عیون اخبار الرضا ( علیہ السلام ) 2: 42 ح 176، امالی صدوق: 427 ح 622 ، امالی مفید: 95 ح 4، امالی طوسی: 427 ح 954، دلائل الامامة: 146، روضة الواعظین 1: 149، اعلام الوری 1: 294، مناقب ابن شہرآشوب 3: 325، الاحتجاج 2: 103، کشف الغمة 2: 84، 93، بحارالانوار 37: 70 ح 38، و ج 43: 19 ـ 51 ح 2، 4، 8، 12، 26، 43 ، 44 ، 46 و 48، احقاق الحق 10: 116 ـ 122 و 166، و ج 19: 54، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )1: 151 ح 26 و ص 152 ـ 157 ح 31 ـ 34 و 37 و ص 171 ـ 172 ح 1، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 353 ـ 356 ح 1 ـ 9 و ص 432 ح 63 .
۸ و۹ . فضائل اہل البیت ( علیہم السلام ): 79 ح 102 و ص 89 ـ 90 ح 119 ـ 121 و ص 137 ح 201 و ص 183 ح 273 و ص 195 ح 293 و ص 197 ح 295 و ص 250 ح 390 و 391 و ص 286 ح 454، مسند احمد 1: 709 ح 3062، و ج 4: 516 ح 13730 و ص 568 ح 14042، و ج 6: 45 ح 16985، و ج 10: 177 ح 26570 و ص 187 ح 26612، سنن ترمذی 5: 351 ـ 352 ح 3218 و 3219 و ص 663 ح 3796، جامع البیان 12: 10ـ14 ح 28488 ـ 28506، مشکل الآثار 1: 227 ـ 231 ح 770 ـ 785، مقاتل الطالبیین: 52، المعجم الکبیر 3: 52 ـ 57 ح 2662 ـ 2675، و ج 22: 66 ح 159 و 160، المستدرک علی الصحیحین 3: 158 ـ 160 ح 4705 ـ 4709 و ص 172 ح 4748، شواہد التنزیل 2: 18 ـ 140 ح 637 ـ 774، مناقب خوارزمی: 60ـ63 ح 28 ـ 32، اسد الغابة 6: 226 رقم 7175، ذخائر العقبی: 21 ـ 25، تہذیب الکمال: 21: 187 ـ 188 رقم 7921 و ج 22: 389 رقم 8488، سیر اعلام النبلاء 3: 427، 434 رقم 114، مجمع الزوائد 9: 166 ـ 169، الدر المنثور 5 : 538 و ج 6: 531 ـ 535، کنز العمال 13: 644 ـ 646 ح 37628، 37629، 37632، فتح القدیر 3: 396 و ج 4: 278 ـ 280 .

مقتل الحسین ( علیہ السلام ) ابن اعثم کوفی: 168، تفسیر فرات کوفی: 332 ـ
342 ح 451 ـ 466، تفسیر القمّی 2: 67، 193 ـ 194، امالی صدوق :
208 ح 230 و ص 230 ح 242 و ص 559 ح 746 و 747 و ص 616
ح 843، عیون اخبار الرضا ( علیہ السلام )1: 229 و 240، الشافی فی الامامة 3 :
133 ـ 136، تلخیص الشافی : 241 ، 250 ـ 253، امالی طوسی: 89 ح
138 و ص 248 ح 438 و ص 251 ح 447 و ص 263 ح 482 و ص
368 ح 783 و ص 549 ح 1168 و ص 565 ح 1174 و ص 599 ح 1243
و ص 608 ح 1254 ، جوامع الجامع 2: 444، مجمع البیان 7: 59 و ج
8: 137 ـ 138، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 22: 417 ـ 420، متشابہ القرآن ومختلفہ 2: 62 ـ 63، تاویل الآیات: 448 ـ 451، تفسیر البرہان
3: 790 ـ 791 ح 7083، 7084، 7086، و ج 4: 442 ـ 470 ح 8583 ـ
8644 ، بحارالانوار 25: 212 ـ 249، و ج 35: 206 ـ 236، تفسیر نور
الثقلین 3: 408 ـ 410 ح 186، 188، 191 و 192، و ج 4: 270 ـ 277 ح 84 ـ 109، تفسیر کنز الدقائق 6: 341 ـ 343، و ج 8: 155 ـ 162، احقاق الحق 2: 502 ـ 558 .
1۰۔ ا ٓ پ(س) پر ہونے والے بعض مظالم یہ ہیں،شہزادی کے گھر پر حملہ کرکے اس کو نذر ا ٓ تش کرنا، ا ٓ پ کو مولائے متقیان کو گھر سےباہر نکالنے پر مجبور کرنا اور ا ٓ پ کے ساتھ زد خورد سے پیش ا ٓ نا، ا ٓ پ کو ا ٓ پ کی میراث سے محروم کرنا و۔۔۔۔ کہ جن میں سے بعض کے منابع کو بیان کیا جا رہا ہے۔

مسند احمد 1: 19 ح 9 و ص 20 ح 14، صحیح بخاری 4: 252 ح 3711 و 3712، سنن ابی داوود 3: 245 ـ 255 ح 2963 ـ 2977، تاریخ طبری 3 : 207 ـ 208، السنن الکبری بیہقی 9:428 ـ 441 ح 12998 ـ 13015، تاریخ یعقوبی 2: 126، شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدید 2: 21 ـ 61، و ج 6: 5 ـ 12 و ص 46 ـ 52، و ج 16 : 274 ، و ج 17: 168، لسان المیزان 4: 707 رقم 5752، کنز العمال 5: 585 ـ 637 ح 14040، 14045 ، 14069 ، 14070 ، 14071 ، 14097 ، 14101 ، 14108 ، 14113 ، 14120 ، 14121.
کتاب سلیم بن قیس 2: 583 ـ 588 ح 4 و ص 672 ـ 695 ح 13 و 14 و ص 862 ـ 873 ح 48 و ص 905 ـ 908 ح 61، تفسیر عیاشی 2:66 ح 76، الکافی 8: 237 ـ 238 ح 320، الاختصاص: 183 ـ 187، امالی مفید: 40 ح 8 و ص 49 ح 9 و ص 95 ح 5 و ص 125 ح 3 ، دلائل الامامة: 109 ـ 129، الاحتجاج 1: 105 ـ 149، کشف الغمة 2: 100 ـ 122، بحار الانوار 28: 37 ـ 412، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 545 ـ 697، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی: 358 ـ 389 ح 1 ـ 19 و 1 ـ 24 .

11۔ اس کے منابع حاشیہ ۴ میں مذکور ہیں۔

12۔ مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 77 ـ 78، شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدید 16: 211 ـ 213 .

شرح الاخبار 3: 34 ـ 40 ح 974، الشافی فی الامامة 4: 69 ـ 77، دلائل الامامة: 109 ـ 119 ، الاحتجاج 1: 131 ـ 141، کشف الغمة 2: 105 ـ 118، بحارالانوار 29: 215 بہ بعد، احقاق الحق 10: 296 ـ 305، و ج 19: 163 ـ 167، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )2: 652 ـ 692، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 557 ـ 575 ح 6 و7
13۔ المستدرک علی الصحیحین 3: 177 ـ 178 ح 4763، حلیة الاولیاء 2 : 43 ، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 80 و 82، اسد الغابة 6: 228 رقم 7175، ذخائر العقبی: 53، تہذیب الکمال 22: 389 رقم 8488، البدایة والنہایة 6: 327، مجمع الزوائد 9: 212 .

الکافی 4: 561 ح 4، الخصال 1: 27 2 ح 15، روضة الواعظین 1: 150، مناقب ابن شہرآشوب 3: 322، 341 و 362 ، کشف الغمة 2: 124، بحارالانوار 43: 35 ح 39 و ص 155 ح 1 و ص 173 ـ 200 ح 13، 15 ، 16 ، 24 ، 30 ، احقاق الحق 10: 438، 459 ـ 462 و 474، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 783 ح 7 و ص 788 ـ 790 ح 18، 19، 23 ، 25 و 26 و ص 800 ح 3 و ص 1080 ح 13 و ص 1106 ح 1 و 2، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 50 ح 18 و ص 342 ح 1 و ص 404 ـ 429 ح 4، 16، 31 ، 53 و 55 .
1۴۔ دفاع کے مواقع میں سے ایک موقع، مسجد النبی(ص) میں ا ٓ پ کا خطبہ دینا ہے،اور دفاع کا دوسرا موقع وہ ہے کہ جب ا ٓ پ کے گھر پر حملہ کیا گیا اور ا ٓ گ لگائی گئی اور ا ٓ پ کے ساتھ زد و خورد کیا گیا اور حضرت علی(ع) کو بیعت کے لئے مجبور کیا گیا و۔۔۔ کہ جن میں سے بعض کے منابع کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں:
تاریخ طبری 3: 202، تاریخ یعقوبی 2: 126، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید 2: 21، 45، 50، 56 ـ 57، و ج 6: 46 ـ 52، لسان المیزان 4: 707 رقم 5752، کنز العمال 5: 632 ح 14113 .

کتاب سلیم بن قیس 2: 583 ـ 588 ح 4 و ص 672 ـ 674 ح 13 و ص 862 ـ 865 ح 48، تفسیر عیاشی 2: 66 ح 76، الکافی 8: 237 ـ 238 ح 320، الاختصاص: 185 ـ 187، الاحتجاج 1: 105 ـ 114 ، 413 ـ 414، نہج الحق وکشف الصدق: 271، بحارالانوار 28: 204 ح 3 و ص 227 ح 14 و ص 322 ح 52 و ص 339 ح 59، و ج 43: 170 ح 11 و ص 197 ح 28 و 29، احقاق الحق 10: 295، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 555 ـ 610، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 359 ـ 371 ح 1 ـ 19 .

1۵۔ سورہ احزاب 33 : 57 .

1۶۔ منابع حاشیہ 1 میں گزر چکے ہیں 1۷۔ المستدرک علی الصحیحین 3:170 ح 4740، حلیة الاولیاء 2: 40 و 42 الاستیعاب: 926 و 927 رقم 3411، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1:54، 67 و 79، ذخائر العقبی: 43، کنز العمال 12: 110 ح 34232 و 34233

تفسیر عیاشی 1 : 173 ـ 174، امالی صدوق: 78، ح 45 و ص 187 ح 196 و ص 374 ح 471 و ص 574 ح 787، معانی الاخبار: 107 ح 1، علل الشرائع 1: 216، الاختصاص: 37، تفسیر التبیان 2: 456، دلائل الامامة: 81 ح 20 و ص 149 ح 58 و ص 152 ح 66، روضة الواعظین 1: 149، مجمع البیان 2 : 289 ، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 4: 318، مناقب ابن شہرآشوب 3: 322 ـ 324، الاحتجاج 1: 195، تفسیر البرہان 1: 618، بحارالانوار 37: 36ـ 85 ح 4، 10، 13، 27، 37 ، 38 ، 48 و 52، و ج 43: 21 ـ 78 ح 10، 13، 19، 20، 25، 39، 40، 42، 46، 48، 60، 63 و 65، تفسیر نور الثقلین 1: 336 ـ 338 ح 127 ـ 136، تفسیر کنز الدقائق 2: 83 ـ 85 ، احقاق الحق 10: 27 ـ 51 و ج 19: 18 ـ 20 و 35 ـ 36، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1: 120 ـ 133 ح 6 ـ 38، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی: 323 ـ 329 ح 1 ـ 14 .

1۸۔ سورہ احزاب 33 : 33

1۹۔ اس کے منابع حاشیہ ۸ و ۹ میں گزر چکے۔

2۰۔ اس کے منابع حاشیہ ۶ میں گزر چکے۔

21۔ بہت سی روایات میں اس مطلب کو بیان کیا گیا ہے، ہم ان میں فقط بعض کو ذکر کریں گے:

مقتل الحسین ( علیہ السلام ) ابی مخنف: 117، مقاتل الطالبیین: 70، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی: 59 و 71، شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدید 6: 49 ـ 50 .

مزید  کلام نور۔ 14 (سورۂ بقرہ 23 ۔ 22 )(قرآنی پیغام)

تفسیر فرات کوفی: 246 ح 331 ـ 333، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) ابن اعثم کوفی: 172، تفسیر عیاشی 2: 303 ح 120، عیون اخبار الرضا ( علیہ السلام )1: 42 ح 2، امالی مفید: 116 ح 9، ارشاد مفید 2: 15، 97 ـ 98، مناقب ابن شہرآشوب 4: 36 و 51، الاحتجاج 1: 417، 419 ـ 420 و ج 2: 23، بحارالانوار 8: 13 ح 12، و ج 27: 204 ح 7 و ص 207 ح 15 و 16، و ج 44: 49 ح 5 و ص 90 ح 4 و ص 206 ح 2، و ج 45: 6 و 139، احقاق الحق 4: 288، و ج 9: 124 و 199 .

22۔ اس کےمنابع حاشیہ 12 میں درج ہیں ۔

23۔ المستدرک علی الصحیحین 3:167 ح 4730، اعلام الوری 1:294، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 52 و 60، اسد الغابة 6:227، ذخائر العقبی: 39، تہذیب الکمال 22:389 رقم 8488، مجمع الزوائد 9:203، کنز العمال 12:111 ح 34237، و ج 13: 674 ح 37725 .

شرح الاخبار 3 : 29 ، امالی صدوق: 427 ح 622، عیون اخبار الرضا ( علیہ السلام )2:42 ح 176، امالی مفید: 95 ح 4، امالی طوسی: 427 ح 954، دلائل الامامة: 146، روضة الواعظین 1:149، مناقب ابن شہرآشوب 3:325، الاحتجاج 2:103، کشف الغمة 2:84، 93، بحارالانوار 37: 70 ح 38، و ج 43: 19 ـ 51 ح 2، 4، 8، 12، 26، 43، 44 ، 46 ، 48 ، احقاق الحق 10: 116 ـ 122، و ج 19: 54 ، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )1:151 ح 26 و ص 152 ـ 157 ح 31 ـ 34 و 37 ، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی: 353 ـ 356 ح 1 ـ 9 و ص 432 ح 63 .

2۴۔ حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شہادت کی تاریخ کے سلسلہ میں مختلف نظریات ہیں کہ جن میں سے بعض کے منابع کو بیان کیا جا رہا ہے:

1۔وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی تاریخ شہادت 3 جمادی الثانیہ، یا پیغمبر(ص) کی رحلت کے تین ماہ یا ۹۵ روزبعد، بیان کیا جاتا ہے:

تاریخ طبری 3: 240، مقاتل الطالبیین: 49، المستدرک علی الصحیحین
3: 177 ح 4761، دلائل النبوة بیہقی 6: 365، الاستیعاب: 926 و 928
رقم 3411، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 83، اسد الغابة 6: 228 رقم 7175، کامل ابن اثیر 2: 200، تہذیب الکمال 22: 389 ـ 390 رقم 8488 ، سیر اعلام النبلاء 3: 430 رقم 114، البدایة والنہایة 6: 327، مجمع الزوائد 9 : 212.
مصباح المتہجد: 793، دلائل الامامة: 79 ح 18 و ص 134 ح 43، اعلام الوری 1: 300، اقبال الاعمال 3: 161، کشف الغمة 2: 128، مصباح کفعمی: 522، بحارالانوار 43: 9 ح 16 و ص 170 ح 11 و ص 188 ح 19 و ص 196 ح 26 و ص 213 ح 44 ـ 46، احقاق الحق 10: 460 ـ 462، و ج 19: 176، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 784 ح 8 و ص 787 ـ 799 ح 17، 19، 21 ، 27 ، 31 ـ 33، 35، 36، 39، 40 و ص 1089 ح 5، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی 415 ح 24 و ص 419 ح 34 و ص 424 ح 45، و ص 427 ح 51 و ص 428 ح 54 و ص 431 ح 61 و ص 432 ح 63 .

2۔وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے ۷ ۰، ۷ 2، ۷۵ روز بعد، بتایا گیا ہے:

مروج الذہب 2: 282، الاستیعاب: 926 و 928 رقم 3411، اسد الغابة 6: 228 رقم 7175، ذخائر العقبی: 52، تہذیب الکمال 22: 390 رقم 8488، البدایة والنہایة 6: 327، مجمع الزوائد 9: 165 ـ 166.

کافی 1: 241 ح 5 و ص 458 ح 1، و ج 4: 561 ح 4، شرح الاخبار 3 :
33 ح 973، کفایة الاثر: 65، دلائل الامامة: 79 ح 18 و ص 134 ح
43 ، روضة الواعظین 1: 143، مناقب ابن شہرآشوب 3: 357، کشف
الغمة 2: 129، بحار الانوار 43: 7 ح 8 ـ 10 و ص 9 ح 16 و ص 79 ح
67 و ص 156 ح 3 و ص 180 ح 16 و ص 195 ح 22 و 24 و ص 212 ح
41 ، احقاق الحق 10: 461 ـ 462، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1:
514 ح 3، و ج 2: 548 ح 4 و ص 788 ـ 797 ح 22، 24، 27، 29 و ص
1115 ح 12، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 133 ح 59 و ص 401 ـ 418 ح 1، 4، 15 و 33 .

3۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے ۴ ۰ روز بعد، بتایا گیا ہے:

مروج الذہب 2 : 282 ، مقاتل الطالبیین: 49، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 85 ، ذخائر العقبی: 52 .

کتاب سلیم بن قیس 2: 870 ح 48 ، مناقب ابن شہرآشوب 3: 357 و 362، کشف الغمة 2: 126، بحارالانوار 43: 7 ح 8 و ص 180 ح 16 و ص 191 ح 20 و ص 199 ح 29 و ص 212 ح 41 و ص 215 ح 45، عوالم العلوم فاطمہ الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 548 ح 5 و ص 783 ح 6 و ص 786 ح 12 و ص 798 ح 32 و ص 1080 ح 13 و 14 و ص 1091 ح 6 و ص 1094 ح 10 و ص 1105 ح 5، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 400 ـ 427 ح 11، 15، 39 و 51.

۴۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے 1۰۰روز بعد، بتایا گیا ہے:

الاستیعاب: 928 الرقم 3411، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1:83، ذخائر العقبی: 52، تہذیب الکمال 22: 390 رقم 8488.
کشف الغمة 2: 129، بحار الانوار 43: 213 ح 44، احقاق الحق 10: 461، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 796 و 797 ح 27 و 31، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 419 ح 34 و ص 433 ح 63 .

۵۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے دو ماہ بعد،بتایا گیا ہے:

المستدرک علی الصحیحین 3 : 178 ح 4766 و 4767، دلائل النبوة
بیہقی 6: 365، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 83، تہذیب الکمال
22: 390 رقم 8488، سیر اعلام النبلاء 3: 430 رقم 114، البدایة والنہایة
6: 327.

مصباح الانوار: 259، بحارالانوار 43: 213 ح 44 و ص 217 ح 49 و ج 81: 233 ح 8، احقاق الحق 19: 176، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 782 ح 4 و ص 785 ح 9 و ص 797 ح 31، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 419 ح 34 و ص 430 ح 59 و 60 .

۶۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے ۴ ماہ بعد، بتایا گیا ہے:

اعلام الوری 1: 300، مناقب ابن شہرآشوب 3: 357، بحارالانوار 43: 180 ح 16 ، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 788 ح 20، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی 411 ح 14 و 15 .

۷۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے ۶ ماہ بعد، یا 3 رمضان المبارک بتایا جاتا ہے:

صحیح بخاری 5: 98 ح 4241، تاریخ طبری 3: 240، مقاتل الطالبیین: 49، المستدرک علی الصحیحین 3: 177 ح 4761، حلیة الاولیاء 2 :

43 ، دلائل النبوة بیہقی 6: 365، الاستیعاب: 926، 928 رقم 3411،
مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 80 و 83، اسد الغابة 6: 228، 229 رقم 7175، کامل ابن اثیر 2: 200، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید 6: 46،
ذخائر العقبی: 52، تہذیب الکمال 22: 389 ـ 390 رقم 8488، سیر
اعلام النبلاء 3: 430 رقم 114، البدایة والنہایة 6: 325، 327، مجمع
الزوائد 9: 211 .

مناقب ابن شہرآشوب 3: 363، کشف الغمة 2: 100، 128 ـ 129، بحارالانوار 43: 183 ح 16 و ص 189 ح 19 و ص 200 ح 30 و ص 214
ح 44، احقاق الحق 10: 455 ـ 459 و 461، و ج 19: 175 ـ 178، عوالم
العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 782 ح 1 ـ 3 و ص 785 ح 10 و ص 787 ـ
799 ح 14، 15، 18، 27، 28 ، 30 ، 32 ، 37 ، 39 و 40 و ص 1062 ح 5 و
ص 1083 ح 1 و ص 1091 ح 6، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 397 ح 8
و ص 412 ح 19 و ص 415 ح 23 و 24 و ص 416 ـ 431 ح 28، 31، 37،
39 ، 46 ، 51 ـ 55 و 61 .

۸۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے ۸ ماہ بعد، بتایا گیا ہے:

مقاتل الطالبیین: 49، المستدرک علی الصحیحین 3: 177 ح 4761، دلائل النبوة بیہقی 6: 365، الاستیعاب: 926، 928 رقم 3411، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 83، ذخائر العقبی: 52، تہذیب الکمال 22: 390 رقم 8488، البدایة والنہایة، 6: 327 .

بحارالانوار 43: 213 ـ 215 ح 44 و 45، احقاق الحق 10: 461 ـ 462،
و ج 19: 175، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 783 ح 5 و ص 798
ح 31، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 419 ح 34 و ص 428 ح 54 و ص 433
ح 63 .

۹۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو ا 3 ربیع الثانی بتایا گیا ہے:
مناقب ابن شہرآشوب 3: 357، بحارالانوار 43: 180 ح 16، عوالم
العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 2: 797 ح 30، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 411ح 15 .

1۰۔ وہ منابع کہ جن میں ا ٓ پ کی شہادت کو پیغمبر(ص) کی رحلت کے ۵ ماہ بعد، یا 21 رجب المرجب بیان کیا جاتا ہے:

سیر اعلام النبلاء 3: 427 رقم 114، مصباح المتہجد: 812، بحارالانوار 43: 215 ح 47، عوالم العلوم فاطمة الزهراء ( علیہا السلام ): 2: 798 ح 34، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 406 ح 8 .

2۵۔ سورہ احزاب 33 : 57 .

2۶۔ اس کے منابع حاشیہ 1 میں بیان ہو چکے۔

2۷۔ ا ٓ یہ ٔ اکمال کی طرف اشارہ ہے: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِینَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ الاِْسْلَـمَ دِینًا) سورہ مائدہ 5: 3 .

2۸۔ مائة منقبة: 126 منقبة 61، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 60، فرائد السمطین 2: 607 ح 391، بحار الانوار 27: 116 ح 94 ، احقاق الحق 10: 166، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1: 171 ـ 172 ح 1 .

2۹۔ اس کے منابع حاشیہ 21 میں بیان ہو چکے۔

3۰۔ اس کے منابع حاشیہ ۴ میں بیان ہو چکے۔

31۔ اس کے منابع حاشیہ 12 میں بیان ہو چکے

32۔ اس کے منابع حاشیہ 1 3 میں بیان ہو چکے۔

33۔ سورہ صفّ 61: 8

3۴۔ سورہ احزاب 33 : 57 .

3۵۔ اس کے منابع مقدمہ میں بیان ہوچکے ہیں۔

3۶۔ مقاتل الطالبیین: 46، الاستیعاب: 928 رقم 3411، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1 : 51 و 59، اسد الغابة 6: 223 رقم 7175، شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدید 6: 49 ـ 50، تہذیب الکمال 22: 386 رقم 8488، سیر اعلام النبلاء 3: 425 رقم 114، البدایة والنہایة 6: 325، کنز العمال 12: 105 ح 34208 .
تفسیر فرات کوفی: 246 ح 331 ـ 333، تفسیر عیاشی 2: 303 ح 120، عیون اخبار الرضا ( علیہ السلام ) 1: 42 ح 2، کفایة الاثر: تقریباً ہمہ آن، امالی مفید : 116 ح 9، مناقب ابن شہرآشوب 3: 357، کشف الغمة 2: 76، بحار الانوار 8: 13 ح 12، و ج 22: 152 ح 4، و ج 27: 204 ح 7 و ص 207 ح 15 و 16، و ج 43: 16 ح 15 و ص 19 ح 19، و ج 102: 180 ، 200 ـ 201 و 220، احقاق الحق 4: 288، و ج 9: 124، 199 و 209، و ج 10: 12، 16 و 113، و ج 13: 77 و 79، و ج 19: 4 و 13، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )1: 89 ح 2 و ص 125 ح 16 و ص 156 ـ 158 ح 1 و 2، و ج 2: 783 ح 7 و ص 900 ـ 902 و ص 1029 ـ 1030، مسند فاطمة ( علیہا السلام ) عطاردی: 28 ـ 29 ح 28 و ص 431 ح 63 و ص 473 ـ 478 ح 1 ـ 6 .

3۷۔ تاریخ بغداد 14: 288 رقم 6725 و ذخائر العقبی: 26 و 36 و میزان الاعتدال 1: 81 رقم 291 و لسان المیزان 1: 199 رقم 424 میں رجوع فرمائیں۔
تفسیر فرات کوفی: 76 ح 49 و ص 211 ح 286 و ص 216 ح 290 و ص 321 ح 435، امالی صدوق: 175 ح 178 و ص 546 ح 728، التوحید: 118 ح 21، علل الشرائع 1: 218 ح 2، عیون اخبار الرضا ( علیہ السلام ) 1: 116 ح 3، معانی الاخبار: 396 ح 53، دلائل الامامة: 146 ح 52 و ص 148 ح 55، مناقب ابن شہرآشوب 3 : 335 ، کشف الغمة 2: 85، تفسیر البرہان 4: 337 ح 8319، بحار الانوار 4: 4 ح 4، و ج 8 : 119 ح 6 و ص 151 ح 89 و ص 189 ح 160، و ج 18: 351 ح 61، و ج 36: 361 ح 232، و ج 37 : 82 ح 49، و ج 43: 4 ـ 7 ح 2، 3 ، 5 ، 8 ، و ص 18 ح 17 و ص 43 ح 42، و ج 44: 241 ح 33، و ج 81: 112 ح 37، احقاق الحق 4: 475، و ج 10: 6، 7، 11، 16 ـ 18، 222 و 312، و ج 19: 5 ، 7 و 8، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )1: 34 ـ 43 ح 1، 2، 5، 6، 9 ـ 11، 15، 17، 19 و 22، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 321 ـ 323 .

3۸۔ التفسیر الکبیر فخر الرازی 11: 313، تفسیر غرائب القرآن 6 : 576.
جوامع الجامع 4: 547، مجمع البیان 10: 412ـ414، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 20: 427 ـ 430، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )1: 92 ، المیزان فی تفسیر القرآن 20: 370 ـ 371.

3۹۔ سورہ شوری 42: 23 .

۴۰۔ فضائل اہل البیت ( علیہم السلام ): 179 ح 265 ، صحیح بخاری 6:44 ح 4818، جامع البیان 13: 32 ح 30680، مقاتل الطالبیین: 52، المعجم الکبیر 3: 47 ح 2641، المستدرک علی الصحیحین 3:189 ح 4802، الکشف والبیان 8 : 310 ـ 314، شواہد التنزیل 2: 189 ـ 196 ح 822 ـ 828، الکشّاف 4: 220، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 1، التفسیر الکبیر فخر رازی 9 : 595 ، تفسیر بیضاوی 5: 80، ذخائر العقبی: 25، تفسیر غرائب القرآن 6: 74، مجمع الزوائد 9: 168، الفصول المہمّة 1: 155، الدر المنثور 7: 300، فتح القدیر 4: 537، روح المعانی 25: 44 ـ 46 .

المحاسن: 144 ـ 145 ح 45 ـ 48 ، تفسیر فرات کوفی: 387 ـ 399،
مقتل الحسین ( علیہ السلام ) ابن اعثم کوفی: 167، قرب الاسناد: 128 ح 450، تفسیر قمّی 2: 275 ـ 276، کافی 1: 413 ح 7، و ج 8: 93 ح 66، جوامع الجامع 4: 48، مجمع البیان 9: 42 ـ 43، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 17: 122 ـ 127، متشابہات القرآن ومختلفہ 2: 59 ـ 60، عمدة عیون صحاح الاخبار: 91 ـ 94 ح 38، 39، 44، 47، 59 و 66 و ص 417 ح 614، تاویل الآیات: 530 و 533، تفسیر البرہان 4: 815 ـ 824، بحار الانوار 23 ـ 228 ـ 253، و ج 26: 252 ح 22، و ج 37: 65 ح 36 و ص 100 ح 2، و ج 43: 361 ـ 362 ح 3 و 4، تفسیر نور الثقلین 4: 571 ـ 577، تفسیر کنز الدقائق 9: 255 ـ 273، احقاق الحق 3: 2 ـ 23، و ج 9: 92 ـ 101، و ج 14: 106 ـ 115، و ج 18: 336 ـ 338، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1: 113 ، و ج 2: 572، 632، 705، المیزان فی تفسیر القرآن 18: 51 ـ 53، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 229 ح 1 .

۴1۔ اس کے منابع حاشیہ 2 ۴ میں بیان ہو چکے۔

۴2۔ اس کے منابع حاشیہ ۴ میں بیان ہو چکے۔

۴3۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید 10: 265 .

اصول کافی 1: 459 ح 3، شرح الاخبار 3: 70، امالی مفید: 282 ح 7، نہج البلاغة صبحی صالح: 319 ـ 320 خطبہ 202، امالی طوسی: 109 ح 166، دلائل الامامة: 138 ح 46، روضة الواعظین 1 : 152 ، مناقب ابن شہرآشوب 3: 364، کشف الغمة 2: 131، 132، بحارالانوار 43: 193 ح 21 و ص 211 ح 40، الغدیر 9: 509، احقاق الحق 10: 481، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )2: 1121 ـ 1124 ح 1 ـ 3، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 394 ح 3 و ص 402 ح 2 .

۴۴۔ اس کے منابع حاشیہ ۴/1 میں بیان ہو چکے۔

۴۵۔ کافی 1:458 ح 2، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1:91 ح 5، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 293 ح 1 .

۴۶۔ امالی صدوق: 176 ح 178، دلائل الامامة: 75 ح 13، بشارةالمصطفی: 182 و 307، مناقب ابن شہرآشوب 3:199 ، عمدة عیون صحاح الاخبار 1:254 ح 319، الفضائل ابن شاذان: 524 ح 221، کشف الغمة 1:93، 107، و ج 2: 77، فرائد السمطین 2: 34 ح 371،ارشاد القلوب دیلمی 2 : 142 ، المحتضر: 109، بحار الانوار 27: 74 ح 1 و
ص 104 ح 74، و ج 28: 38 ح 1، و ج 39: 284 ح 69، و ج 43: 172 ح 13، احقاق الحق 9: 201 و 267، و ج 16: 476، عوالم العلوم فاطمہ الزہراء ( علیہا السلام )2: 546 ، بیت الاحزان: 47، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 500 ـ 501 ح
23 و 24 .

۴۷۔ مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 59 اور اس میں یہ جملہ بھی ہے «بہجة قلبی ».

امالی صدوق: 175 ح 178 و ص 575 ح 787، روضة الواعظین 1: 150، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 4: 318، بحار الانوار 37: 85 ح 52، و ج 43: 24 ح 20 و ص 172 ح 13، احقاق الحق 4: 288، و ج 9 : 199 ، و ج 13: 77 و 79، و ج 19: 76، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) ، 1: 129 ح 23 و ص 148 ح 18، و ج 2: 542 ح 2، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 147 ح 4 و ص 334 ح 2 .

۴۸۔ اس کے منابع حاشیہ 3۶ میں بیان ہو چکے۔

۴۹۔ سورہ آل عمران 3: 43 .

۵۰۔ جامع البیان 3:339 ح 7031، حلیة الاولیاء 2: 42، الاستیعاب : 926 ، الکشّاف 1:362، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 79، التفسیر الکبیر فخر رازی 3: 218، الجامع لاحکام القرآن 4: 82، ذخائر العقبی: 44، الدرّ المنثور 2: 188، کنز العمّال 12: 145 ح 34411، فتح القدیر 1: 338 ـ 340.

امالی صدوق: 187 ح 196 و ص 575 ح 787، علل الشرائع 1: 216، معانی الاخبار: 107 ح 1، تفسیر القمی 1: 102، تفسیر عیاشی 1:173 ـ 174 ، تفسیر التبیان 2: 456، دلائل الامامة: 81 ح 20 و ص 149 ح 58 و ص 152 ح 66، روضة الواعظین 1: 149، مجمع البیان 2: 289، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 4 : 318 ، بشارة المصطفی: 274 ح 89، مناقب ابن شہرآشوب 3: 322 و 359، تفسیر البرہان 1 : 618 ، بحارالانوار 37: 85 ح 52، و ج 43: 21 ـ 78 ح 10، 20، 25، 40، 46، 65، تفسیر نور الثقلین 1:336 ـ 338 ح 127 ـ 136، تفسیر کنز الدقائق 2: 83 ـ 85، احقاق الحق 10: 34 ـ 35، 38 ـ 39، 49 ـ 50، و ج 19، 18، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام ) 1: 88 ح 1 و ص 128 ح 23 و ص 130 ح 28 و ص 133 ح 38 و ص 140 ح 60، مسند فاطمہ ( علیہا السلام ) عطاردی: 23 ح 12 و ص 147 ح 4 و ص 150 ح 10، و ص 323 ح 1 و ص 324 ح 2 .

۵1۔ سورہ آل عمران 3:103، شواہد التنزیل 1: 168 ـ 169 ح 177 ـ 180 ، مقتل الحسین ( علیہ السلام ) خوارزمی 1: 59 .

تفسیر فرات کوفی: 90ـ92 ح 70ـ76، تفسیر قمی 1: 108، تفسیر عیاشی 1: 194 ح 122 و 123، معانی الاخبار: 90 ح 1 و 2 و ص 132 ح 1، امالی طوسی : 272 ح 510، جوامع الجامع 1: 194، مجمع البیان 2: 355، تفسیر روض الجِنان و روح الجَنان 4: 464، مناقب ابن شہرآشوب 2: 118 و ج 3: 75 ـ 76، عمدة عیون صحاح الاخبار 1: 116 ح 95 و ص 350 ح 490، کشف الغمّة 1: 311، تاویل الآیات الظاہرة: 122 ـ 123، تفسیر البرہان 1: 668 ـ 672 ح 1861 ـ 1870، بحارالانوار 24: 52 ح 5 و ص 82 ـ 85 ح 1 ـ 9، و ج 36: 15 ـ 21 ح 1 ـ 16 و ص 112 ـ 114 ح 60 و ص 258 ح 76 و ص 312 ح 157 و ص 317 ح 166 و ص 330 ح 188، تفسیر نور الثقلین 1: 377 ـ 378 ح 303 ـ 308، تفسیر کنز الدقائق 2: 184 ـ 185، احقاق الحق 3: 539 ـ 540، و ج 4: 285 و 288، و ج 5: 113 و 115، و ج 7: 159 ـ 160، و ج 9: 199 و 208، و ج 13: 77، 79 و 84، و ج 14 : 384 ـ 386 و 521 ـ 522، و ج 18: 228 ـ 229 و 473، و ج 20: 204 ـ 205، عوالم العلوم فاطمة الزہراء ( علیہا السلام )1: 116 ح 2 .

مزید  حکمت الٰہی

۵2۔ اس کے منابع حاشیہ 3۸ میں بیان ہو چکے۔

 

فہرست منابع ـ

اثبات الہداة ، للشیخ محمّد بن الحسن بن علی بن محمّد بن الحسین ، المعروف بالحرّ العاملی (1033ـ 1104) المطبعة العلمیة ، قم ، 1404ہـ .
ـ الاحتجاج ، لابی منصور احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسی (من اعلام القرن السادس) دار الاُسوة ، قم ، الطبعة الثالثة ، 1422ہـ .
ـ احقاق الحقّ وازہاق الباطل ، للسید الشہید ضیاء الدِّین القاضی نور اللہ بن شریف الدِّین بن ضیاء الدِّین نور اللہ بن محمّد شاہ الحسینی المرعشی التستری (956 ـ 1019) منشورات مکتبة آیة اللہ المرعشی النجفی ، قم .
ـ الاختصاص ، لابی عبداللہ محمّد بن محمّد بن النعمان العُکبری البغدادی، المعروف بالشیخ المفید (336 ـ 412) دار المفید ، بیروت ، الطبعة الثانیة، 1414ہـ .
ـ اختیار معرفة الرجال ، المعروف بـ «رجال الکشّی» لشیخ الطائفة ابی جعفر محمّد بن الحسن بن علی الطوسی (385 ـ 460) جامعة مشہد ، 1348ش .
ـ الارشاد فی معرفة حجج اللہ علی العباد ، لابی عبداللہ محمّد بن
محمّد بن النعمان العُکبری البغدادی ، المعروف بالشیخ المفید (336 ـ 412) مؤسّسة آل البیت(علیہم السلام) ، بیروت ، الطبعة الثانیة، 1414ہـ .
ـ ارشاد القلوب ، المُنجی من عمل بہ من الیم العقاب ، لابی محمّد الحسن بن ابی الحسن علی بن محمّد الدیلمی (من اعلام القرن الثامن) دار الاُسوة للطباعة والنشر، قم ، الطبعة الثانیة ، 1424ہـ .
ـ الاستیعاب فی معرفة الاصحاب ، لابی عمر یوسف بن عبداللہ ابن محمّد بن عبد البرّ بن عاصم النمری (368 ـ 463) دار الاعلام ، الاُردن ـ عمّان ، الطبعة الاُولی ، 1423ہـ .
ـ اُسد الغابة فی معرفة الصحابة ، لعزّ الدِّین ابی الحسن علی بن ابی الکرم محمّد بن محمّد بن عبد الکریم الشیبانی ، المعروف بابن الاثیر الجزری (555 ـ 630) دار الفکر ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1419ہـ .
ـ اقبال الاعمال ، للسید رضی الدِّین علی بن موسی بن جعفر بن طاووس (589 ـ 664) ، نشر مکتبة الاعلام الاسلامی ، قم ، الطبعة الثانیة ، 1419ہـ .
ـ الامالی ، لشیخ الطائفة ابی جعفر محمّد بن الحسن بن علی بن الحسن الطوسی (385 ـ 460) مؤسّسة البعثة ، قم ، الطبعة الاُولی ، 1414ہـ .
ـ الامالی ، لابی جعفر محمّد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ القمّی ، المعروف بالشیخ الصدوق (م381) مؤسّسة البعثة ، قم ، الطبعة الاُولی ، 1417ہـ .
ـ الامالی ، لابی عبداللہ محمّد بن محمّد بن النعمان العکبری البغدادی ، الملقّب بالشیخ المفید (338 ـ 413) منشورات جماعة المدرّسین،
قم المقدّسة ، بالاُفست عن المطبعة الاسلامیة ، طہران ، 1403ہـ .
ـ انوار التنزیل واسرار التاویل ، المعروف بـ «تفسیر البیضاوی» لناصر الدِّین ابی سعید عبداللہ بن عمر بن محمّد بن علی البیضاوی الشافعی (م685) شرکة مکتبة ومطبعة مصطفی البابی الحلبی واولادہ ، مصر ، الطبعة الثانیة ، 1388ہـ .
ـ بحار الانوار الجامعة لدرر اخبار الائمّة الاطہار(علیہم السلام) ، للعلاّمة المولی محمّد باقر بن محمّد تقی المجلسی (1037ـ 1110، 1111) دار الکتب الاسلامیة ، طہران .
ـ البدایة والنہایة ، لابی الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر بن ضوء ابن کثیر بن زرع ، المعروف بابن کثیر (700 ـ 774) دار الحدیث ، القاہرة ، الطبعة الاُولی، 1413ہـ .
ـ البرہان فی تفسیر القرآن، للسید ہاشم بن سلیمان بن اسماعیل ابن عبد الجواد بن علی بن سلیمان بن السید ناصر الحسینی البحرانی التوبلی الکتکتانی (م1107) مؤسّسة البعثة ، قم ، الطبعة الاُولی ، 1415ہـ .
ـ بشارة المصطفی(صلی اللہ علیہ وآلہ) لشیعة المرتضی(علیہ السلام) ، لابی جعفر عماد الدِّین محمّد بن ابی القاسم علی بن محمّد بن علی بن رستم بن یزدبان الطبری الآملی الکجّی (کان حیاً 553) مؤسّسة النشر الاسلامی ، قم ، الطبعة الثالثة ، 1425ہـ .
ـ بیت الاحزان فی ذکر احوالات سیدة نساء العالمین فاطمة الزہراء(علیہا السلام) ، للشیخ عبّاس بن محمّد رضا بن ابی القاسم القمّی (1294ـ 1359) دار الحکمة ، قم، الطبعة الاُولی ، 1412ہـ .
ـ تاریخ الاُمم والملوک (تاریخ الطبری) لابی جعفر محمّد بن جریر الطبری (224 ـ 310) ، بیروت بالاُفست عن الطبعة بالقاہرة ، 1387ہـ .
ـ تاریخ بغداد (تاریخ مدینة السلام) ، لابی بکر احمد بن علی بن ثابت ، المشہور بالخطیب البغدادی (392ـ 463) دار الغرب الاسلامی ، بیروت، الطبعة الاُولی، 1422ہـ .
ـ تاریخ الیعقوبی ، لاحمد بن ابی یعقوب بن جعفر بن وہب بن واضح الکاتب ، المعروف بالیعقوبی ، دار صادر ، بیروت .
ـ تاویل الآیات الظاہرة فی فضائل العترة الطاہرة ، للسید شرف الدِّین علی الحسینی الاسترابادی النجفی (من مفاخر اعلام القرن العاشر) مؤسّسة النشر الاسلامی، قم ، الطبعة الاُولی ، 1409ہـ .
ـ التبیان فی تفسیر القرآن ، لشیخ الطائفة ابی جعفر محمّد بن الحسن بن علی بن الحسن الطوسی (385 ـ 460) مؤسّسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، بالاُفست عن مکتبة الامین فی النجف الاشرف .
ـ تفسیر جوامع الجامع ، لابی علی الفضل بن الحسن بن الفضل الطبرسی (469 ـ 548) مؤسّسة انتشارات جامعة تہران ، الطبعة الثالثة، 1377 ش .
ـ تفسیر العیاشی ، لابی النضر محمّد بن مسعود بن محمّد بن عیاش السلمی السمرقندی ، المعروف بالعیاشی (من اعلام القرن الثالث الہجری) المکتبة العلمیة الاسلامیة ، طہران ، الطبعة الاُولی ، 1380ـ 1381ہـ .
ـ تفسیر غرائب القرآن ورغائب الفرقان ، لنظام الدِّین الحسن بن محمّد بن حسین القمّی النیسابوری (کان حیاً 828) دار الکتب العلمیة، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1416ہـ .
ـ تفسیر فرات ، لابی القاسم فرات بن ابراہیم الکوفی . (من اعلام الغیبة الصغری) مؤسّسة الطباعة والنشر لوزارة الثقافة والارشاد الاسلامی ، طہران ، الطبعة الاُولی ، 1410ہـ .
ـ تفسیر القمّی ، لابی الحسن علی بن ابراہیم بن ہاشم القمّی (من اعلام قرنی 3 و 4) مطبعة النجف ، النجف ، الطبعة الثانیة ، 1387ہـ .
ـ التفسیر الکبیر ، لابی عبداللہ محمّد بن عمر بن الحسن بن الحسین بن علی التیمی البکری الطبرستانی ، المعروف بالفخر الرازی (543 ـ 606) دار احیاء التراث العربی، بیروت ، الطبعة الثالثة ، 1420ہـ .
ـ تفسیر کنز الدقائق وبحر الرغائب ، لمیرزا محمّد المشہدی ابن محمّد رضا بن اسماعیل بن جمال الدِّین القمّی (م حدود 1125) مؤسّسة النشر الاسلامی ، قم ، الطبعة الاُولی ، 1407ـ 1413ہـ .
ـ تلخیص الشافی ، لشیخ الطائفة ابی جعفر محمّد بن الحسن بن علی الطوسی (385 ـ 460) مؤسّسة انتشارات المحبّین ، الطبعة الاُولی ، 1382 ش .
ـ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال ، لجمال الدِّین ابی الحجّاج یوسف بن عبد الرحمن بن یوسف بن عبد الملک بن یوسف بن علی ابن ابی الزہر القضاعی ، المعروف بالمزّی (654 ـ 742) ، دار الفکر ، بیروت ، 1414ہـ .
ـ التوحید ، لابی جعفر محمّد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ القمّی، المعروف بالشیخ الصدوق (م 381) منشورات جماعة المدرّسین ، قم .
ـ جامع الاحادیث ، لجلال الدِّین عبد الرحمن بن ابی بکر بن محمّد بن سابق الدِّین الخضیری الاسیوطی ، المعروف بالسیوطی (849ـ 911) دار الفکر ، بیروت، 1414ہـ .
ـ جامع البیان عن تاویل آی القرآن (تفسیر الطبری) لابی جعفر محمّد بن جریر الطبری (224ـ 310) دار ابن حزم ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1423ہـ .
ـ الجامع الکبیر ، لابی عیسی محمّد بن عیسی بن سورة بن موسی ابن الضحّاک السلمی (209 ـ 279) دار الغرب الاسلامی ، بیروت ، الطبعة الثانیة ، 1998ہـ .
ـ الجامع لاحکام القرآن ، لابی عبداللہ محمّد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاری الخزرجی الاندلسی القرطبی (م 671) دار احیاء التراث العربی ، بیروت، 1405ہـ .
ـ الجواہر النقی ، المطبوع ضمن السنن الکبری للبیہقی (ط ہـ) لعلاء الدِّین بن علی بن عثمان الماردینی ، الشہیر بابن الترکمانی (م745) مطبعة مجلس دائرة المعارف النظامیة ، حیدر آباد الدکن ، الطبعة الاُولی ، 1344ہـ .
ـ حلیة الاولیاء ، لابی نعیم احمد بن عبداللہ بن احمد بن اسحاق ابن موسی بن مہران الاصبہانی (336 ـ 430) دار الکتب العلمیة ، بیروت .
ـ الخصال ، لابی جعفر محمّد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ القمّی، المعروف بالشیخ الصدوق (م 381) مؤسّسة النشر الاسلامی ، قم ، الطبعة الخامسة، 1416ہـ .
ـ الدرّ المنثور فی التفسیر بالماثور ، لجلال الدِّین عبد الرحمن ابن
ابی بکر بن محمّد بن ابی بکر بن عثمان بن محمّد بن خضر بن ایوب بن محمّد ہمام الدِّین الحضیری، المعروف بالسیوطی (849 ـ 911) دار احیاء التراث العربی، بیروت، الطبعة الاُولی 1421ہـ .
ـ دلائل الامامة ، لابی جعفر محمّد بن جریر بن رستم الطبری (من اعلام القرن الخامس) مؤسّسة البعثة ، قم ، الطبعة الاُولی ، 1413ہـ .
ـ دلائل النبوّة ومعرفة احوال صاحب الشریعة ، لابی بکر احمد ابن الحسین بن علی بن موسی البیہقی الخسروجردی (384 ـ 458) دار الکتب العلمیة ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1405ہـ .
ـ ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی ، للعلاّمة الحافظ محبّ الدِّین ابی العبّاس احمد بن عبداللہ بن ابی بکر بن محمّد الطبری (615 ـ 794) ، مکتبة القدسی، القاہرة، 1356 ہـ .
ـ روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی ، لشہاب الدِّین ابی الفضائل محمّد بن عبداللہ الحسینی الآلوسی (1217ـ 1270) دار احیاء التراث العربی، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1420ہـ .
ـ روضة الواعظین ، لابی علی محمّد بن الحسن بن علی بن احمد بن علی الفتّال النیسابوری الفارسی (م 508) المطبعة امیر ـ قم ، الطبعة الاُولی ، 1368 ش .
ـ روضُ الجِنان وروحُ الجَنان فی تفسیر القرآن ، المشہور بـ «تفسیر الشیخ ابو الفتوح الرازی» ، لجمال الدِّین ابی الفتوح الحسین بن علی بن محمّد بن احمد بن الحسین بن احمد الخزاعی الرازی النیسابوری (م حدود 554) بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی (مؤسّسة الدراسات الاسلامیة التابعة للروضة الرضویة) مشہد ، 1371ش .
ـ سنن ابی داود ، لسلیمان بن الاشعث بن عمرو بن عامر السجستانی (202 ـ 275) دار ابن حزم ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1418ہـ .
ـ سنن الترمذی (الجامع الصحیح) لابی عیسی محمّد بن عیسی ابن سورة بن موسی بن الضحاک السلمی (209 ـ 279) دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، 1415ہـ .
ـ السنن الکبری ، لابی بکر احمد بن الحسین بن علی بن موسی البیہقی الخسروجردی (384 ـ 458) دار الفکر ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1419ہـ .
ـ سیر اعلام النبلاء ، لابی عبداللہ شمس الدِّین محمّد بن احمد ابن عثمان بن قایماز الترکمانی الفارقی ، المشتہر بالذہبی (673 ـ 748) ، دار الفکر ، بیروت، الطبعة الاُولی ، 1417ہـ .
ـ الشافی فی الامامة ، للشریف المرتضی علی بن الحسین بن موسی بن محمّد بن موسی بن ابراہیم بن موسی الکاظم بن جعفر الصادق(علیہم السلام)(355 ـ 436ہـ) مؤسّسة الصادق ، طہران ، الطبعة الثانیة ، 1410ہـ .
ـ شرح الاخبار فی فضائل الائمّة الاطہار(علیہم السلام) ، للقاضی النعمان ابن محمّد التمیمی المغربی (م 363) ، مؤسّسة النشر الاسلامی، الطبعة الاُولی ، 1409ہـ .
ـ شرح نہج البلاغة ، لعبد الحمید بن ہبة اللہ بن محمّد بن محمّد ابن الحسین المدائنی ، المعروف بابن ابی الحدید (586 ـ 655) مؤسّسة اسماعیلیان، قم .
ـ شواہد التنزیل لقواعد التفضیل فی الآیات النازلة فی اہل البیت صلوات اللہ وسلامہ علیہم ، لابی القاسم عبید اللہ بن عبداللہ بن احمد بن محمّد بن حسکان، المعروف بالحاکم الحسکانی (من اعلام القرن الخامس الہجری) مؤسّسة الطبع والنشر التابعة لوزارة الثقافة والارشاد الاسلامی ، الطبعة الاُولی ، 1411ہـ .
ـ صحیح البخاری ، لابی عبداللہ محمّد بن اسماعیل بن ابراہیم ابن المغیرة بن بَردزبَة البخاری الجعفی (194 ـ 256) دار الفکر للطباعة والنشر ، 1419ہـ .
ـ صحیح مسلم ، لابی الحسین مسلم بن الحجّاج بن مسلم القشیری النیسابوری (206ـ 261) دار ابن حزم ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1416ہـ .
ـ علل الشرائع ، لابی جعفر محمّد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ القمّی، المعروف بالشیخ الصدوق (م381) المکتبة الحیدریة ومطبعتہا ، النجف الاشرف ، 1385ہـ .
ـ عمدة عیون صحاح الاخبار فی مناقب امام الابرار ، لابی الحسین یحیی بن الحسن بن الحسین بن علی بن محمّد بن البطریق الاسدی الحلّی ، المعروف بابن البطریق (533 ـ 600) مؤسّسة النشر الاسلامی ، قم المشرّفة ، 1407ہـ .
ـ عوالم العلوم والمعارف والاحوال من الآیات والاخبار والاقوال ، للشیخ عبداللہ بن نور اللہ البحرانی الاصفہانی (من اعلام تلامذة المجلسی) مؤسّسة الامام المہدی(علیہ السلام) ، قم المقدّسة ، الطبعة الاُولی ، 1405ـ 1416ہـ .
ـ عیون اخبار الرضا(علیہ السلام) ، لابی جعفر محمّد بن علی بن الحسین ابن
موسی بن بابویہ القمّی ، المعروف بالشیخ الصدوق (م381) دار العلم ، قم ، 1377ہـ .
ـ الغدیر فی الکتاب والسنّة والادب ، للشیخ عبد الحسین احمد الامینی النجفی (1320ـ 1390) ، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیة ، قم ، الطبعة الاُولی، 1416ہـ .
ـ فتح القدیر الجامع بین فنّی الروایة والدرایة من علم التفسیر ، لمحمّد بن علی بن محمّد بن عبداللہ بن الحسن بن محمّد بن صلاح بن علی بن عبداللہ الشوکانی (1173ـ 1250) دار الفکر ، بیروت ، الطبعة الثالثة ، 1393ہـ .
ـ فرائد السمطین فی فضائل المرتضی والبتول والسبطین والائمّة من ذریتہم(علیہم السلام) ، للشیخ ابراہیم بن محمّد بن المؤید ابو بکر بن محمّد بن حمّویہ الجوینی الخراسانی ، المعروف بالحموی وابن حمّویہ (644 ـ 722) مؤسّسة المحمودی للطباعة والنشر ، الطبعة الاُولی ، 1398ہـ .
ـ الفضائل ، للشیخ سدید الدین ابی الفضل شاذان بن جبرئیل بن ابی طالب القمّی (من اعلام القرن السادس) مؤسّسة ولی عصر ، قم ، الطبعة الاُولی ، 1422ہـ .
ـ فضائل اہل البیت(علیہم السلام) من کتاب فضائل الصحابة، لابی عبداللہ احمد بن محمّد بن حنبل (164 ـ 241) و استدراک عبداللہ بن احمد بن محمّد بن حنبل (290) وابی بکر احمد بن جعفر بن حمدان القطیعی (368) المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیة ، الطبعة الاُولی ـ 1425 ہـ .
ـ قرب الاسناد ، لابی العبّاس عبداللہ بن جعفر بن الحسین بن مالک
بن جامع الحمیری القمّی (من اعلام القرن الثالث) مؤسّسة آل البیت(علیہم السلام)لاحیاء التراث ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1413ہـ .
ـ الکافی ، لثقة الاسلام ابی جعفر محمّد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی الرازی (م 329) دار الکتب الاسلامیة ، طہران ، الطبعة الثالثة ، 1388 ـ 1389ہـ .
ـ الکامل فی التاریخ ، لعزّ الدِّین ابی الحسن علی بن محمّد بن محمّد بن عبد الکریم بن عبد الواحد الشیبانی ، المعروف بابن الاثیر (555 ـ 630) دار الکتاب العربی ، بیروت ، الطبعة الثالثة ، 1422ہـ .

ـ کتاب سلیم بن قیس الہلالی ، لابی صادق سلیم بن قیس الہلالی العامری الکوفی (م76 ) مطبعة نگارش ، الطبعة الثالثة ، 1423ہـ .
ـ الکشّاف عن حقائق غوامض التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل ، لابی القاسم جار اللہ محمود بن عمر بن محمّد الخوارزمی الزمخشری (467 ـ 538) دار الکتاب العربی ، بیروت ، 1366ہـ .
ـ کشف الغمّة فی معرفة الائمّة(علیہم السلام) ، لبہاء الدِّین علی بن عیسی ابن ابی الفتح الاربلی (م693) المطبعة العلمیة ، قم، بالاُفست عن مکتبة بنی ہاشم ، تبریز ، 1381ہـ .
ـ الکشف والبیان ، المعروف تفسیر الثعلبی ، لابی اسحاق احمد ابن محمّد بن ابراہیم الثعلبی النیسابوری (م 427) دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1422ہـ .
ـ کفایة الاثر فی النصّ علی الائمّة الاثنی عشر ، لابی القاسم علی ابن محمّد بن علی الخزّاز القمّی الرازی (من اعلام القرن الرابع) انتشارات بیدار،
مطبعة الخیام ، قم ، 1410ہـ .
ـ کنز العمّال فی سنن الاقوال والافعال ، لعلی بن حسام الدین بن عبد الملک الجونبوری ، المشہور بالمتّقی الہندی (885 ـ 975) مؤسّسة الرسالة ، بیروت ، 1409ہـ .
ـ لسان المیزان ، لشہاب الدِّین احمد بن علی بن محمّد بن محمّد بن علی بن احمد، الشہیر بابن حجر العسقلانی (773 ـ 852) دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1416ہـ .
ـ مائة منقبة من مناقب امیر المؤمنین علی بن ابی طالب والائمّة من ولدہ(علیہم السلام)من طریق العامّة ، لابی الحسن محمّد بن احمد بن علی بن الحسن بن شاذان القمّی (کان حیاً 412) مدرسة الامام المہدی(علیہ السلام) ، قم المقدّسة ، الطبعة الاُولی ، 1407ہـ .
ـ متشابہ القرآن ومختلفہ ، لابی جعفر محمّد بن علی بن شہرآشوب السروی المازندرانی (م 588) انتشارات بیدار .
ـ مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، لابی علی الفضل بن الحسن بن الفضل الطبرسی (469 ـ 548) دار الفکر ، بیروت ، 1414ہـ .
ـ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، لنور الدِّین علی بن ابی بکر بن سلیمان الہیثمی الشافعی (735 ـ 807) دار الکتب العلمیة ، بیروت ، 1408ہـ .
ـ المحاسن ، لاحمد بن ابی عبداللہ محمّد بن خالد بن عبد الرحمن بن محمّد بن علی البرقی الکوفی (م274 او 280) دار الکتب الاسلامیة ، قم .
ـ مروج الذہب ومعادن الجوہر ، لابی الحسن علی بن حسین ابن علی المسعودی (م 645) منشورات دار الہجرة ، قم ، الطبعة الثانیة ، 1404ہـ .
ـ المستدرک علی الصحیحین ، لابی عبداللہ محمّد بن عبداللہ بن حمدویہ بن نعیم بن الحکیم الضبّی الطہمانی النیسابوری الشافعی ، المعروف بابن البیع (321 ـ 405) دار الکتب العلمیة ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1411ہـ .
ـ المسند ، لابی عبداللہ احمد بن محمّد بن حنبل بن ہلال الشیبانی (164ـ 241) دار الفکر ، بیروت ، الطبعة الثانیة ، 1414ہـ .
ـ مسند فاطمة الزہراء(علیہا السلام)، للشیخ عزیز اللہ العطاردی ، انتشارات عطارد ، الطبعة الاُولی ، 1412ہـ .
ـ مشکل الآثار ، لابی جعفر احمد بن محمّد بن سلامة بن سلمة الازدی الطحاوی المصری الحنفی (229 ـ 321) دار الکتب العلمیة ، بیروت ، الطبعة الاُولی، 1415ہـ .
ـ مصباح الانوار فی فضائل امام الابرار ، للشیخ ہاشم بن محمّد ، من مخطوطات مکتبة العمومی آیة اللہ المرعشی النجفی ، الرقم 5195 .
مصباح الکفعمی ، او جنّة الامان الواقیة وجنّة الایمان الباقیة، لتقی الدِّین ابراہیم بن علی بن الحسن بن محمّد بن صالح بن اسماعیل الحارثی الکفعمی العاملی (840 ـ 905) منشورات الرضی، زاہدی .
ـ مصباح المتہجّد ، لابی جعفر محمّد بن الحسن بن علی بن الحسن الطوسی ، المشتہر بشیخ الطائفة والشیخ الطوسی (385 ـ 460) مؤسّسة فقہ الشیعة ، بیروت ، الطبعة الاُولی ، 1411ہـ .
ـ معانی الاخبار ، لابی جعفر محمّد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ القمّی ، المعروف بالشیخ الصدوق (م381) مؤسّسة النشر الاسلامی ،
قم ، الطبعة الثالثة ، 1416ہـ .
ـ معجم احادیث الامام المہدی(علیہ السلام) ، للہیئة العلمیة فی مؤسّسة المعارف الاسلامیة ، الطبعة الاُولی ، 1411ہـ .
ـ المعجم الکبیر ، لابی القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب اللّخمی الطبرانی (260 ـ 360) دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، الطبعة الثانیة ، 1404ہـ .
ـ مقاتل الطالبیین ، لعلی بن الحسین بن محمّد بن احمد بن الہیثم بن عبد الرحمان ، المعروف بابی الفرج الاصبہانی (284 ـ 356) دار المعرفة ، بیروت .
ـ مقتل الحسین(علیہ السلام) ، لابی المؤید اخطب خوارزم الموفّق بن احمد بن محمّد المكّی الخوارزمی (م 568) مکتبة المفید ، قم، بالاُفست، عن الطبعة فی النجف الاشرف 1367 ہـ .
ـ مقتل الحسین(علیہ السلام)(وقعة الطف) للمؤرّخ لوط بن یحیی بن سعید بن مخنف بن سلیم الازدی (م 158) المطبعة العلمیة ، قم ، الطبعة الثانیة ، 1364ش .
ـ مقتل الحسین(علیہ السلام)وقیام المختار ، لابی محمّد احمد بن اعثم الکوفی ، انتشارات انوار الہدی ، قم ، الطبعة الثانیة ، 1424ہـ .
ـ المناقب ، لابی المؤید اخطب خوارزم الموفّق بن احمد بن محمّد المكّی الخوارزمی (م568) ، مؤسّسة النشر الاسلامی ، قم ، الطبعة الثالثة ، 1417ہـ .
ـ مناقب آل ابی طالب(علیہم السلام) ، لابی جعفر محمّد بن علی بن شہرآشوب
السروی المازندرانی (م588) منشورات علاّمة ، المطبعة العلمیة ، قم .
ـ میزان الاعتدال فی نقد الرِّجال ، لابی عبداللہ شمس الدِّین محمّد بن احمد بن عثمان بن قایماز الترکمانی الفارقی ، المشتہر بالذہبی (673ـ 748) ، دار الفکر، بیروت .
ـ المیزان فی تفسیر القرآن ، للعلاّمة السید محمّد حسین الطباطبائی (1321ـ 1403) مؤسّسة مطبوعاتی اسماعیلیان ، قم ، الطبعة الثالثة ، 1393ہـ .
ـ نہج البلاغة ، وہو مجموع ما اختارہ ابو الحسن محمّد بن الحسین بن موسی بن محمّد بن موسی بن ابراہیم بن الامام موسی بن جعفر(علیہم السلام) ، المعروف بـ «الشریف الرضی» (359 ـ 406) من کلام امیر المؤمنین علی بن ابی طالب(علیہ السلام) ، تحقیق الدکتور صبحی الصالح، دار الہجرة ، قم .
ـ نہج الحقّ وکشف الصدق ، لجمال الدِّین ابی منصور الحسن ابن یوسف بن علی بن محمّد بن المطهّر الاسدی ، المعروف بالعلاّمة الحلّی (648ـ 726) مؤسّسة دار الہجرة ، قم ، الطبعة الاُولی ، 1407ہـ

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.