حضرت علی علیه السلام کے چند منتخب خطبے

0 0

 

 

 

 

 

 تخلیق جناب آدم  کی کیفیت

 بعثت رسول اکرم

 قرآن اور احکام شرعیہ

 ذکر حج بیت اللہ

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے منتخب خطبات (2)

صفین سے واپسی پرآپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جسمیں بعثت پیغمبر (ص) کے وقت لوگوں کے حالات‘ آل رسول کے اوصاف اور دوسرے افراد کے کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔)

 

 

خطبہ شقشقیہ

( آپ کے ایک خطبہ کا حصہ جسے شقشقیہکے نام سے یاد کیا جاتا ہے)

آگاہ ہو جاؤ کہ خدا کی قسم فلاں شخص ( ابن ابی قحافہ) نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ خلات کی چکی کے لئے میری حیثیت مرکزی کیل کی ہے۔علم کا سیلاب میری ذات سے گزر کرنیچے جاتا ہے اور میری بلندی تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا ہے۔ پھر بھی میں نے خلافت کے آگے پردہ ڈال دیا اور اس سے پہلے تہی کرلی اوریہ سوچنا شروع کردیا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کردوں یا اسی بھیانک اندھیرے پرصبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف ہو جائے اوربچہ بوڑھا ہو جائے اور مومن محنت کرتے کرتے خدا کی بارگاہ تک پہنچ جائے۔

   تو میں نے دیکھا کہ ان حالات میں صبر ہی قرین عقل ہے تو میں نے اس عالم میں صبر کرلیا کہ آنکھوں میں مصائب کی کھٹک تھی اورگلے میں رنج و غم کے پھندے تھے۔میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ پہلے خلیفہ نےاپنا راستہ لیا اور خلافت کو اپنے بعد فلاں کے حوالے کردیا۔ بقول اعشی:

”کہاں وہ دن جو گزرتا تھا میرا اونٹوں پر۔ کہاں یہدن کہ میں حیان کے جوار میں ہوں “

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں استغفار دے رہا تھا اور مرنے کے بعد کے لئے دوسرے کے لئے طے کرگیا۔ بیشک دونوں نے مل کر شدت سے اس کے تھنوں کو دوہا ہے۔اور اب ایک ایسی درشت اور سخت منزل میں رکھ دیا ہے جس کے زخم کاری ہیں اورجس کو چھونے سے بھی درشتی کا احساس ہوتا ہے۔ لغزشوں کی کثرت ہے اور معذرتوں کی بہتات!

    اس کو برداشت کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے سرکشاونٹنی کا سوار کہ مہار کھنیچ لے تو ناک زخمی ہو جائے اور ڈھیل دیدے توہلاکتوں میں کود پڑے۔ تو خدا کی قسم لوگ ایک کجروی‘ سرکشی‘ تلون مزاجی اوربے راہ روی میں مبتلا ہوگئے ہیں اور میں نے بھی سخت حالات میں طیل مدت تک صبر کیا یہاں تک کہ وہ بھی اپنے راستہ چلا گیا لیکن خلافت کو ایک جماعت میں قرار دے گیا جن میں ایک مجھے بھی شمار کرگیا جب کہ میرا اس شوریٰ سے کیاتعلق تھا؟ مجھ میں پہلے دن کون سا عیب و ریب تھا کہ آج مجھے ایسے لوگوں کےساتھ ملایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں نے انہیں کی فضا میں پرواز کی اور یہ نزدیک فضا میں اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا اور اونچے اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا مگر پھر بھی ایک شخص اپنے کینہ کی بنا پرمجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسری دامادی کی طرف جھک گیا اور کچھ اور بھی ناقابل ذکراسباب واشخاص تھے جس کے نتجیہ میں تیسرا شخص سرگین اورچارہ کے درمیان پیٹ پھلائے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے اہل خاندان بھی کھڑے ہوئے جو مال خا کو اس طرح ہضم کر رہے تھے جس طرح اونٹ بہار کی گھاس کو چرلیتا ہے یہاں تک کہ اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کے اعمال نے اس کا خاتمہ کردیا اور شکم پری نے منہ کے بل گرا دیا-

    اس وقت مجھے جس چیزنے دہشت زدہ کردیا یہ تھی کہ لوگ بجو  کی گردن کے بال کی طرح میرے گرد جمع ہوگئے اور چاروں طرف سے میرے اوپر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ حسن و حسین  کچل گئے اور میری ردا کے کنارے پھٹ گئے ۔ یہ سب میرے گرد بکریوں کے گلہ کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔ لیکن جب میں نے ذمہ داری سنبھالی اوراٹھ کھڑے ہوا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ دی اوردوسرا دین سے باہرنکل گیا اور تیسرے نے فسق اختیار کرلیا جیسے کہ ان لوگوں نے یہ ارشاد الٰہی سنا ہی نہیں ہے کہ” یہ دارآخرت ہم صرف ان لوگوں کے لئے قراردیتے ہیں جو دنیا میں بلندی اور فساد نہیں چاہتے ہیں اور عاقبت صرف اہل تقوی کے لئے ہیں “۔ ہاں ہاں خدا کی قسم ان لوگوں نے یہ ارشاد سنا بھی ہے اور سمجھے بھی ہیں لیکن دنیا ان کی نگاہوںمیں آراستہ ہوگئی اور اس کی چمک دمک نے انہیں لبھا لیا۔

آگاہ ہو جاؤ وہ خدا گواہ ہے جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے اورذی روح کو پیدا کیا ہے کہ اگر حاضرین کی موجودگی اور انصار کے وجود سے حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اوراللہ کا اہل علم سے یہ عہد نہ ہوتا کہ خبردار ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پرچین سے نہ بیٹھنا تو میں آج بھی اس خلافت کی رسی کو اسی کیگردن پر ڈال کر ہنکا دیتا اور اس کی آخر کواول ہی کے کاسہ سے سیراب کرتا اور تم دیکھ لیتے کہ تمہاری دنیا میری نظرمیں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔

مزید  مقام و منزلت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا

    کہا جاتا ہے کہ اس موقع پرایک عراقی باشندہاٹھ کھڑا ہوا اوراس نے آپ کو ایک خط دیا جس ک بارے میں خیال ہے کہ اس میںکچھ فوری جواب طلب مسائل تھے۔چنانچہ آپ نے اس خط کو پڑھنا شروع کردیا اور جب فارغ ہوئے تو ابن عباس نے عرض کی کہ حضوربیان جاری رہے؟ فرمایا کہ افسوس ابن عباس یہ توایک شقشقہ تھا جو ابھر کر دب گیا۔

(شقشقہ اونٹ کے منہ میں وہ گوشت کا لوتھڑا ہے جو غصہ اور ہیجان کے وقت باہر نکل آتا ہے )

ابن عباس کہتے ہیں کہ بخدا قسم مجھے کسی کلام کے ناتمام رہ جانے کا اس قدرافسوس نہیں ہوا جتنا افسوس اس امر پرہوا کہ امیر المومنین اپنی بات پوری نہفرما سکے اور آپ کا کلام نا تمام رہ گیا۔

سید شریف رضی فرماتے ہیں کہ امیر المومنین  کے ارشاد”ان اشنقلھا……کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ناقہ پر مہارکھینچنے میں سختی کی جائے گی اور وہ سر کشی پرآمادہ ہو جائے گا تو اس کی ناک زخمی ہو جائے گی اوراگر ڈھیلا چھوڑ دیا جائے تو اختیار سے باہر نکل جائے گا۔عرب ”اشنق الناقہ“ اس موقع پر استعمال کرتے ہیں جب اس کے سر کو مہار کے ذریعہ کھینچا جاتا ہے اور وہ سر اٹھا لیتا ہے۔اس کیفیت کو” شنقہا“سے بھی تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ ابن السکیت نے ” اصلاح المنطق“ میں بیان کیا ہے۔لیکن امیرالمومنین  نے اس میں ایک لام کا اضافہ کردیا ہے ”اشنق لھا“ تاکہ بعد کے جملہ ” اسلس لھا “ سے ہم آہنگ ہو جائے اورفصاحت کا نظام درہم برہم نہ ہونے پائے۔

پ کے خطبہ کا ایک حصہ جو فصیح ترین کلمات میں شمار ہوتا ہے اور جس میں لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستہ پرلایا گیاہے۔

(طلحہ و زبیر کی بغاوت اورقتل عثمان کے پس منظر میں فرمایا) تم لوگوں نے ہماری ہی وجہ سے تاریکیوں میں ہدایت کا راستہ پایا ہے اوربلندی کے کوہان پر قدم جمائے ہیں اور ہماری ہی وجہ سے اندھیری راتوں سے اجالے کی طرف باہرآئے ہو۔

وہ کان بہرے ہو جائیں جو پکارنے والے کی آواز نہ سن سکیں اور وہ لوگ بھلادھیمی آواز کو کیا سن سکیں گے جن کے کان بلند ترین آوازوں کے سامنے بھیبہرے ہی رہے ہوں۔ مطمئن دل وہی ہوتا ہے جویاد الٰہی اورخوف خدا میں مسلسلدھڑکتا رہتا ہے۔ میں روزاول سے تمہاری غداری کے انجام کا انتظار کر رہا ہوںاور تمہیں فریب خوردہ لوگوں کے انداز سے پہچان رہا ہوں۔ مجھے تم سے دینداری کی چادر   نے پوشیدہ کردیا ہے لیکن صدق نیت نے میرے لئے تمہارے حالات کو آئینہ کردیا ہے۔ میں نے تمہارے لئے گمرایہ کی منزلوں میں حق کے راستوں پر قیام کیا ہے جہاں تم ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن کوئی راہنما نہ تھا اور کنواں کھودتے تھے لیکن پانی نصیب نہ ہوتا تھا۔

آج میں تمہارے لئے اپنی اس زبان خاموش کو گویا بنا رہا ہوں جس میں بڑی قوت بیان ہے۔ یاد رکھو کہ اس شخص کی رائے گم ہوگئی ہے جس نے مجھ سے رو گردانی کی ہے۔ میں نے روز اول سے آج تک حق کے بارے میں کبھی شک نہیں کیا۔(میرا سکوت مثل موسی  ہے ۔ موسی کو اپنے نفس کے بارے میں خوف نہیں تھا۔ انہیں دربار فرعون میں صرفیہ خوف تھا کہ کہیں جاہل جادوگر اور گمراہ حکام عوام کی عقلوں پر غالب نہ آجائیں۔آج ہم سے حق و باطل کے راستہ پر آمنے سامنے ہیں اوریاد رکھو جسے پانی پر اعتماد ہوتا ہے وہ پیاسا نہیں رہتا ہے۔

جب رسول اللہ نے دنیا سے رحلت فرمائی توعباس اور ابو سفیان ابن حرب نے آپ سے عرض کیا کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتےہیں جس پر حضرت نے فرمایا:

اے لوگو ! فتنہ و فساد کی موجوں کو نجاتکی کشتیوں سے چیر کر اپنے کو نکال لے جاؤ. تفرقہ و انتشار کی راہوں سے اپنارخ موڑ لو, فخر و مباہات کے تاج اتار ڈالو. صحیح طریقہ عمل اختیار کرنے میں . کامیاب وہ ہے جو اٹھے تو پر وبال کے ساتھ اٹھے اور نہیں تو (اقتدار کی کرسی ) دوسروں کے لئے چھوڑ بیٹھے اور اس طرح خلق خدا کو بد امنی سے راحت میں رکھے. (اس وقت طلبِ خلافت کے لئے کھڑا ہونا ) یہ ایک گندلا پانی اور ایسا لقمہ ہے جو کھانے والے کے گلو گیر ہو کر رہے گا. پھلوں کو ان کے پکنے سے پہلے چننے ولا ایسا ہے جیسے دوسروں کی زمین میں کاشت کرنے والا. اگر بولتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیوی سلطنت پر مٹے ہوئے ہیں اور چپ رہتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے. افسوس اب یہ بات جب کہ میں ہر طرح کے نشیب و فراز دیکھے بیٹھا ہوں. خدا کی قسم ابو طالب کا بیٹا موت سے اتنا مانوس ہے کہ بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے اتنا مانوس نہیں ہوتا. البتہ ایک علم پوشیدہ میرے سینے کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے کہ اسے ظاہر کر دوں تو تم اسی طرح پیچ و تاب کھانے لگو جس طرح گہرے کنوؤں میں رسیاں لرزتی اور تھرتھراتی ہیں-

مزید  عظمت حضرت زہرا غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں

انہوں نے اپنے ہر کام کا کرتا دھرتا شیطان کو بنا رکھا ہے اور اس نے ان کو اپنا آلہ کار بنا لیا ہے ۔ اس نے ان کے سینوں میں انڈے دیئے ہیں اور بچے نکالے ہیں اور انہیں کی گود میں وہ بچے رینگتے اور اچھلتے کودتے ہیں ۔ وہ دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں سے  اور بولتا ہے تو ان کی زبانوں سے ۔ اس نے انہیں خطاؤں کی راہ پر لگایا ہے اور بُری باتیں سجا کر ان کے سامنے رکھی ہیں جیسے اس نے انہیں اپنے تسلط میں شریک بنا لیا ہو اور انہیں کی زبانوں سے اپنے کلام باطل کے ساتھ بولتا ہو۔

 

جب جنگ جمل میں عَلَم اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کو دیا , تو ان سے فرمایا: پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں مگر تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا. اپنے دانتوں کو بھینچ لینا . اپنا کاسیہ سر اللہ کو عاریت دے دینا. اپنے قدم زمین میں گاڑ دینا. لشکر کی آخری صفوں پر اپنی نظر رکھنا اور (دشمن کی کثرت و طاقت سے ) آنکھوں کو بند کر لینا اور یقین رکھنا کہ مدد خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے.

جب خدا وند ِ عالم نے آپ کو جمل والوں پر غلبہ عطا کیا تو اس موقعہ پر آپ کے ایک صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ میرا فلاں بھائی بھی یہاں موجود ہوتا تو وہ بھی دیکھتا کہ اللہ نے کیسی آپ کو دشمنوں پر فتح و کامرانی عطا فرمائی ہے تو حضرت نے فرمایا کہ کیا تمہارا بھائی ہمیں دوست رکھتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ، تو آپ نے فرمایا کہ وہ ہمارے پاس موجود تھا بلکہ ہمارے اس لشکر میں وہ اشخاص بھی موجود تھے جو ابھی مردوں کی صلب اور عورتوں کے شکم میں ہیں ۔ عنقریب زمانہ انہیں ظاہر کرے گا اور ان سے ایمان کو تقویت پہنچے گی۔

جس میں جنگ جمل کے بعد  اہل بصرہ  کی مذمت فرمائی ہے

(ایک اور روایت میں یوں ہے ) خدا کی قسم تمہارا شہر غرق ہو کر رہے گا۔ اس حد تک کہ اس کی مسجد کشتی کے اگلے حصے یا سینے کے بل بیٹھے ہوئے شتر مرغ کی طرح گویا مجھے نظر آ رہی ہے ۔ ) ایک اور روایت میں اس طرح ہے جیسے پانی کے گہراؤ میں پرندے کا سینہ۔

( ایک اور روایت میں اس طرح ہے ) تمہارا شہر اللہ کے سب شہروں سے مٹی کے لحاظ سے گندا اور بدبو دار ہے یہ (سمندر کے ) پانی سے قریب اور آسمان سے دور ہے ۔ برائی کے دس حصوں میں سے نو حصے اس میں پائے جاتے ہیں جو اس میں آ پہنچا وہ اپنے گناہوں میں اسیر ہے اور جو اس سے چل دیا؟ عضو الٰہی! اس کے شریک ِ حال رہا۔ گویا میں اپنی آنکھوں سے اس بستی کو دیکھ رہا ہوں کہ سیلاب سے اسے اس حد تک ڈھانپ لیا ہے کہ مسجد کے کنگروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے سمندر کے گہراؤ میں پرندے کا سینہ۔

یہ بھی اہلِ بصرہ کی مذمت میں ہے۔  تمہاری زمین (سمندر کے) پانی سے قریباور آسمان سے دور ہے۔ تمہاری عقلیں سبک اور دانائیاں خام ہیں تم ہر تیرانداز کا نشانہ۔ ہر کھانے والے کا لقمہ اور ہر شکاری کی صید افگنیوں کاشکار ہو۔

حضرت عثمان کی عطا کردہ جاگیریں جب مسلمانوں کو پلٹا دیں، تو فرمایا۔ خدا کی قسم! اگر مجھے ایسا مال بھی کہیں نطر آتا جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صرف کیا جا چکا ہوتا تو اسے بھی واپس پلٹا لیتا۔ چونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو  اُسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ہو گی۔

امام کے خطبے کا ایک حصہ یہ ہے۔

فتاویٰ میں علماء کے مختلف الآرا ہونے کی مذمت میں فرمایا :

جس میں غفلت سے بیدار کیا گیا ہے اورخدا کی طرف دوڑ کر آنے کی دعوت دی گئی ہے

مزید  مصائب امام حسن مجتبی علیہ السلام

جو ایک کلمہ ہے لیکن تمام موعظت و حکمت> کو اپنے اندر سمیٹے ہوۓ ہے>

جب آپ کو خبر دی گئی کہ کچھ لوگوں نے آپ کی بیعت توڑ دی ہے

جس میں فقراء کو زہد اور سرمایہ داروں کو> شفقت کی ہدایت دی گئی ہے

اسی خطبہ کا ایک جزیہ ہے ۔

مجھے اپنی زندگی کی قسم! میں حق کے خلاف چلنے والوں اور گمراہی میں بھٹکنے والوں سے جنگ میں کسی قسم کی رُو رعایت اور سستی نہیں کروں گا۔ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اس کے غضب سے بھاگ کر اس کے دامنِ رحمت میں پناہ لو، اللہ کی دکھائی ہوئی راہ پر چلو اور اسکے عائد کردہ احکام بجالاؤ (اگرایسا ہو تو ) علی تمہاری نجات اُخروی کا ضامن ہے ۔ اگرچہ دنیوی کامرانی تمہیں حاصل نہ ہو۔

جس میں بعثت سے پہلے عرب کی حالت کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اپنی بیعت سے پہلے کے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے

اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے(بیعت کے ہنگام)

(

(

قتلِ عثمان کی حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے فرمایا:

 

(الف) 

(ب)   مفضل کا قول ہے کہ راس (سَر) ایک شخص کا نام تھا اور شام کا ایک گاؤں ” بیت الراس”  اسی کے نام پر ہے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا. اور پھر پلٹ کر اپنے گاؤں میں نہ آیا. جس سے یہ کہاوت چل نکلی, کہ تم تو یوں گئے جس طرح راس گیا تھا.

(ج)  ایک معنی یہ ہیں کہ جس طرح سر کی ہڈیوں کے جوڑ الگ الگہو جائیں تو پھر آپس میں جڑا نہیں کرتے, یُونہی تم مجھ سے کٹ کر پھر نہ جڑسکو گے .

(د)  یہ بھی کہا گیا ہے کہ جُملہ “الفرجتم عنی راسا” (یعنی تم پورے طور پر مجھے سے الگ ہو جاؤ گے ) کے معنی میں ہے. شارح معتزلی نے یہ معنی قطب الدین راوندی کی شرح سے نقل کرنے کے بعد تحریر کیا ہے کہ یہ معنی درست نہیں ہیں. کیونکہ راس جب کلیتہً کے معنی میں آتا ہے, تو اس پر الف لام داخل نہیں ہوا کرتا.

(ڈ)  اس کے یہ معنی بھی کئے جاتے ہیں کہ تم مجھ سے اس طرح دامن چھڑا کر چلتے بنو گے, جس طرح کوئی سر بچا رک بھاگ کھڑا ہوتا ہے. اس کے علاوہ ایک آدھ معنی اور بھی کہے گئے ہیں مگر بعید ہونے کی وجہ سے انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے.

(تمہیںمعلوم ہونا چاہیئے کہ ) مہربان, باخبر اور تجربہ کار ناصح کی مخالفت کا ثمرہ, حسرت و ندامت ہوتا ہے میں نے اس تحکیم کے متعلق اپنا فرمان سُنا دیا تھا, اور اپنی قیمتی رائے کا نچوڑ تمہارے سامنے رکھ دیا تھا. کاش کہ “قصیر ” کا حکم مان لیا جاتا. لیکن تُم تو تُند خو مخالفین اور عہد شکن نافرمانوں کی طرح انکار پر تُل گئے. یہاں تک کہ ناصح خود اپنی نصیحت کے متعلق سوچ میں پڑ گیا, اور طبیعت اس چقماق کی طرح بجھ گئی کہ جس نے شعلے بھڑکانا بند کر دیا ہو میرے اور تمہاری حالت شاعر بنی ہو از ان کے اس قول کے مطابق ہے.

 

 

 

 

میں نے اس وقت اپنے فرائض انجام دیئے جبکہ اور سب اس راہ میں قدم بڑھانے کی جرات نہ رکھتے تھے. اور اُس وقت سر اٹھا کر سامنے آیا. جب کہ دوسرے گوشوں میں چھپے ہوئے تھے اور اس وقت زبان کھولی جبکہ دوسرے گنگ نظر آتے تھے اوراس وقت نورِ خدا (کی روشنی) میں آگے بڑھا, جبکہ دوسرے زمین گیر ہو چکے تھے, گو میری آواز ان سب سے دھیمی تھی. مگر سبقت و پیش قدمی میں میں سب سے آگے تھا. میرا اس تحریک کی باگ تھامنا تھا, کہ وہ اڑ سی گئی. اور میں صاف تھا جو اس میدان میں بازی لے گیا. معلوم ہوتا تھا جیسے پہاڑ جسے نہ تند ہوائیں جنبش دے سکتی ہیں, اور نہ تیز جھکڑ اپنی جگہ سے ہلا سکتے ہیں. کسی کے لیے بھی مجھ میں عیب گیری کا موقع اور حرف گیری کی گنجائش نہ تھی. دبا ہوا میرینظروں میں طاقتور ہے. جب تک کہ میں اس کا حق دلوا نہ دوں اور طاقت ور میرے یہاں کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق دلوا نہ لوں. ہم قضائے الہی پر راضی ہو جکے ہیں اور اُسی کو سارے امور سونپ دیئے جائیں. کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں رسول اللہ پر جھوٹ باندھتا ہوں. خدا کی قسم میں وہ ہوں جس نے سب سے پہلے آپ کی تصدیق کی, تو اب آپ پر کذب تراشی میں کس طرح پہل کروں گا. میں نے اپنے حالات پر نظر کی, تو دیکھا کہ میرے لیے ہر قسم کی بیعت سے اطاعت رسول مقدم تھی اور ان سے کیے ہوئے عہد و پیمان کا جو میری گردن میں تھا.

تبصرے
Loading...