حضرت علی(ع) کی نظر امامت کے

0 2

۔ امام اورحاکم کا صاحبِ حسن اخلاق ھے  ,,ولا الجافی فیقطعھم بجفائہ“( قول حضرت علی علیہ  ترجمہ :۔اور امام کو کج خلق اور تند مزاج نھیں چاھیئے کہ وہ اپنی کج خلقی اور تند مزاجی سے لوگوں کو ھمیشہ اپنے پاس سے بھگاتا رھے( کیونکہ اس طرح اسلامی احکام صحیح طریقے سے نافذ نہ گے ) “  محترم قارئین ! جیساکہ ھم نے گذشتہ فصلوں میں نقل کیا کہ ایک رھبر اور ھادیٴ امت کیلئے ضروری ھے کہ وہ نرم دل اور حسن اخلاق رکھتا تند خو اور غصہ ور شخص کیلئے منصب امامت سازگار نھیں،لیکن صحیحین کی بعض احادیث اورسنیوں کی دیگر معتبر کتابوں کے مطابق خلفائے ثلاثہ ان صفات سے بے بھرہ تھے چنانچہ اس کے دو نمونے ذیل میں نقل کرتے ھیں ۱۔ ۔عن ابی ملیکة؛ قال کاد الخیران ان تھلکا ابو بکر وعمر ،لما قدم علی النبی وفد بنی تمیم، اشار احدھما با لاقرع بن حابس الحنظلی اخی بنی مجاشع، واشارالآخر بغیرہ ،فقال ابوبکر لعمر: انما اردت خلافی؟فقال عمر:ما اردت خلافک، فارتفعت اصواتھما عند النبی(ص) ، فنزلت الآیہ:  ترجمہ :۔۔ اما م بخاری نے ابن ابی ملیکہ سے نقل کیا ھے : نزدیک تھا کہ ایک واقعہ  میںوہ دو نیک مرد (ابوبکر و عمر) ھلاک جب بنی تمیم کا ایک وفد رسول(ص) کی خدمت بابرکت میں مشرف تو ان دونوں میں سے (ابوبکر و عمر) ایک نے اقرع بن حا بس حنظلی برادر بنی مجاشع کو اس قبیلہ کا سرپرست ظاھر کر دیا، اور دوسرے نے کسی اور شخص کی سفارش کی ، اس پرابوبکر نے عمر سے کھا : تونے اس کام میں میری مخالفت کی ھے ؟ عمر نے کھا :میں اس امر میں تیری مخالفت کرنے کا قصد نھیں رکھتا تھا، بالآخر جب دونوں کے درمیان تو تو ،میں میں اور ایک شور و ہنگامہ لگا(اوررسول(ص) کی موجودگی کا کسی کو خیال نہ رھا، لہٰذاجب خداوند عالم نے اس بدتمیزی اور بدتہذیبی کو دیکھا ) تو یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ:۔اے ایماندارو !بولنے میں تم اپنی آوازیں رسول(ص) کی آواز پر بلند مت کیا کرو اور جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زور زور بولا کرتے ان (رسول(ص) ) کے روبرو زور سے نہ بولا کرو، ایسا نہ کہ تمھارے سارے اعمال حبط (ختم) اور تم کو خبر بھی نہ  ابن حجرنے فتح الباری( شرح البخاری) میں قلمبند کیا ھے : قبیلہ ٴ بنی تمیم کے وفد کا آنا اور یہ واقعہ پیش آناھجرت کے نویں سال میں تھا  
عرض
 مذکورہ حدیث مسند احمد ابن حنبل میں بھی دیکھی جاسکتی ھے۔ مذکورہ حدیث کے مضمون اور بنی تمیم کے وفد کے مدینہ آمد کی تاریخ میں غور کرنے سے ایک سوال جو ابھر تا ھے وہ یہ ھے کہ جو افراد آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیس سال سے زندگی گزار رھے تھے، وہ نبی کے ساتھ رہ کر تہذیب یا فتہ کیوںنہ ؟!آخر ان کو احترام رسالت کا خیال کیوں نہ تھا؟!یہ لوگ کیوں نبی (ص) کے سامنے اس قدر ھلڑ ہنگامہ کرتے تھے کہ خدا کو ان کی تھدید اور تنبیہ کے لئے آیت نازل کرنا پڑی؟! ایسے افراد کیا جانشین نبی ،قائد عظیم الشان، اسلامی رھبر اور مقام خلافت کے حقدار ھیں ؟ !!ھرگز ۲۔ ۔سعد بن ابی وقاص؛ قال: استاٴذن عمرعلی رسول(ص) الله،وعندہ نسآء من قریش،یُکَلِّمْنَہُ و یَسْتَکْثِرْنَہُ عالیة اصواتھن، فلما استاٴذن عمر، قمن یبتدرن الحجاب، فاٴذ ن لہ رسول(ص) الله،ورسول(ص) اللهیضحک، فقال عمر: اضحک الله سنک یا رسول(ص) الله!قال: عجبت من ھٰولاء الّاتی کن عندی، فلما سمعن صوتک، ابتدرن الحجاب، قال عمر: فانت یا رسول(ص) الله!کنت احق ان یھبن، ثم قال: ای عد وات انفسھن! اتھبنی ولا تھبن رسول(ص) الله؟قلن انت افظ واغلظ من رسول(ص) الله۔  ترجمہ:۔۔سعد بن ابی وقاص سے بخاری نے نقل کیا ھے: ایک مرتبہ عمر نے رسول کی خدمت میں شرفیاب کی درخواست کی اس وقت بعض زنان قریش رسول(ص) کی خدمت میں باتیں کررھی تھیں، اور زیادہ تیز آواز میں رسول(ص) سے سوال و جواب کر رھی تھیں، لیکن جب عمر نے چاھا کہ خدمت رسول(ص) میں حاضر توقریش کی یہ سب عورتیں گھر کے ایک گوشے میں پوشیدہ رسول(ص) اس ماجرہ کو دیکھ کر مسکرانے لگے، اور تبسم کی حالت میں عمر کو گھر میں وارد کا اذن دیا، عمر نے کھا: یا رسول اللہ! ھمیشہ اللہ آپ کو خوشحال رکھے یہ مسکرانے کا کیا مطلب رسول(ص) نے فرمایا: مجھے تعجب میں اس امر نے ڈال دیا ھے کہ جب ان قریش کی عورتوں نے تیری آواز سنی تو سب متفرق اور گوشہ میں پوشیدہ عمر نے کھا :یا رسول اللہ!ان کو آپ سے ڈرنا چاھیئے نہ کہ مجھ سے، اس وقت ان عورتوں سے مخاطب بولے :اے اپنے وجود کی دشمنو !تم مجھ سے ڈرتی اور رسول(ص) سے عورتوں نے اس کے جواب میں کھا: ھاں ھم لوگ آپ سے ڈرتے ھیں لیکن رسول(ص) سے نھیں، کیونکہ آپ رسول (ص) کی بنسبت بڑے بدمزاج ،غصہ ور اور تند خو آدمی ھیں”قلن انت افظ واغلظ من رسول  عرض موٴلف:خلیفہ ٴ دوم کی سخت مزاجی اور بد اخلاقی کے بارے میں کتب احادیث میں بہت سارے واقعات قلمبند کئے گئے ھیں بعض کتابوں میں آیا ھے :جب حضرت عمر غصہ تھے تو بعض اوقات ان کا غصہ اس وقت تک ختم نہ تا جب تک کہ اپنے ھی دانتوں سے اپنا ھاتھ چبا کر زخمی نہ کرلیا کرتے تھے!( یہ حالت میرے خیال سے اس وقت جب انھیں غصہ اتارنے کے لئے کوئی ملتا نہ زبیر بن بکار اس مطلب کو نقل کرنے کے بعد کہتے ھیں : ھاتھ کو دانتوں سے چبا نے والا واقعہ اس وقت بھی پیش آیا جب آپ کے کسی فرزند کی شکایت کوئی کنیز آپ کے پاس لائی ،اس وقت بھی خلیفہ صاحب نے اپنا ھاتھ چبا لیا تھا!!  اس کے بعد ابن بکار کہتے ھیںٍ : خلیفہ کی اسی تند مزاجی کی وجہ سے ابن عباس مسئلہ ٴ عول کی مخالفت میں حق بات کے اظھار سے خاموش رھے ،اور جب خلیفہ ٴ دوم کی موت واقع تب آپ نے اس حقیقت کا اظھار کیا، لوگوں نے ابن عباس سے کھا: آپ نے اس حقیقت کو خلیفہ ٴ دوم کے سامنے کیوں نہ ظاھر کیا ؟ آپ نے فرمایا :میں اس سے ڈرتا تھا ،کیونکہ وہ ایک خوف ناک اور رعب آور حاکم تھا۔  ۲۔ امام کا احکام الہٰیّہ سے آگاہ ,,وَلَا اْلجَاہِلُ فَیُضِلُّہُمْ بِجَہْلِہ“((فرمان امام علی علیہ  ترجمہ:۔ حاکم اور امام کو جاھل نھیں چاھیئے ،کیونکہ اگر جاھل تو وہ اپنے جھل کی بنا پر لوگوں کو گمراہ کردے گا۔“  حاکم اوراما م کے لئے جھاں اوردیگر شرائط ضروری ھیں، ان میں سے اےک شرط یہ بھی لازم ھے کہ وہ احکام اور قوانین الٰھیہ سے آگاہ اور آشنا اگر حاکم اسلامی قوانین اور احکام کے تمام جزئیات و جوانب سے واقف نہ ، اور ضرورت کے وقت ا یرے غیرے سے دریا فت کرنے کا محتاج ،اور اسلامی احکام کو فلاں ڈھکاں سے معلو م کرے ، توایسا شخص منصب ِ خلافت کے لائق نھیں سکتاکیونکہ یہ متناقض اورخلاف واقع احکام کو صادر کرکے لوگوں کو گمراھی و ضلالت میں مبتلا کردے گا یا پھر لوگوں کو شک وتردید میں ڈال دے گا ۔ لیکن کتب تواریخ و احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ھے : خلفائے ثلاثہ جو اسلامی حاکم تھے، یہ لوگ اسلامی احکام کی کچھ اطلاع نھیں رکھتے تھے! اور اسلامی احکام اور دینی مسائل دریا فت کرنے کی غرض سے دوسروں کے دروازوں پر دستک دیتے تھے،اور اسی وجہ سے بسااوقات یہ حضرات متناقض اور عجیب و غریب ،خلاف ِ واقع فتاویٰ صادر کردیتے تھے۔  (یھاں تک کہ مدینہ کی عورتیں تک ان پر اعتراض کردیتی تھیں!)چنانچہ حضرت امیرالمو ٴمنین علیہ السلام نے جب یہ دیکھاتو ایک خطبہ ارشادفرمایا ،جس میں آپ نے ان حکام کی تصویر کشی کی جو بغیر علم کے حکومت کرتے ھیں ۔ ,,ترد علی احدھم القضیةُ فی حکم من الاحکام فیحکم فیھا برایہ، ثم ترد تلک القضیةبعینھا علی غیرہ فیحکم فیھا بخلاف قولہ، ثم یجتمع القضاة بذالک عند الامام الذی استقضاھم، فیصُوّب آرائھم جمیعاً، و اِلٰہُہُمْ واحدٌ !و نبیھم واحد !وکتابھم واحدٌا فامر ھم اللّٰہ تعالی بالاختلاف فاطاعوہ! ام نھاھم عنہ فعَصَوْہ! ام انزل اللّٰہ تعالی دیناً ناقصاً فاستعان بھم علی اتمامہ !ام کانوا شرکاء لہ ،فلھم ان یقولوا ،و علیہ ان یرضیٰ؟ ام انزل اللّٰہ تعالی دیناً تاماً فقصَّر الرسول(ص) عن تبلیغہ و ادائہ!؟ واللّٰہ سبحانہ یقول: وفیہ تبیان کل شیء.  ترجمہ :۔ جب ان میں کسی ایک کے سامنے کوئی معاملہ فیصلے کے لئے پیش ھے تو وہ اپنی رائے سے اس کا حکم لگا دیتا ھے، پھر وھی مسئلہ بعینہ دوسرے کے سامنے پیش ھے تو وہ اس پھلے حکم کے خلاف حکم دیتا ھے، پھر یہ تمام کے تمام قاضی اپنے اس خلیفہ(حاکم) کے پاس جمع ھیں جس نے انھیں قاضی بنا رکھا ھے، تو وہ سب کی رائے کو صحیح قرار دید یتا ھے! حالانکہ ان کا اللہ ایک، نبی ایک، اور کتاب ایک ھے ،انھیں غور تو کرنا چاھیئے!کیا اللہ نے انھیں اختلاف کا حکم دیا تھا،اور یہ اختلاف کر کے اس کا حکم بجا لاتے ھیں؟یا اس نے تو حقیقتاً اختلاف سے منع کیا ھے، اور یہ اختلاف کر کے عمداً اس کی نافرمانی کرنا چاہتے ھیں؟یا یہ کہ الله نے دین کو ادھورا چھوڑا تھا، اور ان سے تکمیل کے لئے ھاتھ بٹانے کا خواھش مند ؟یا یہ اللہ کے شریک تھے کہ انھیں اس کے احکام میں دخل دینے کا حق اور اس پر لازم کہ وہ اس پر رضامند رھے؟ یا یہ کہ اللہ نے تو دین کو مکمل اتارا تھا،مگر اس کے رسول (ص) نے اس کے اور ادا کرنے میںکوتاھی کی تھی،حالا نکہ اللہ نے قرآن میں یہ فرمایا ھے : اور اس میں ھر چیز کا واضح بیان ھے۔ صحیح بخاری: جلد۹،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب(۴)” ما یکرہ من التعمق والتنازع والغلو فی الدین والبدع“حدیث ۶۸۷۲۔   جلد۵، کتاب ا لمغازی، باب وفد بنی تمیم حدیث ۴۱۰۹۔   جلد ۴، کتاب سورہٴ حجرات ،باب” آیہ ٴ ” لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی۔ ۶) حدیث ۴۵۶۵ ، حجرات، آیت۲ ، پ فتح الباری ج۱۰، ص مسند ج ۴  نوٹ:یہ تمام باتیں اس بات کا اشارہ کرتی ھیںکہ حقیقتاً یہ ان افراد میں سے تھے جن کے لئے قرآن نے سورہٴ منافقون میں ارشادفرمایا: (سورہ حجرات آیت ۱۴)یعنی ظاھری طور پر ان کے چھروں پر اسلامی نقاب تھی ورنہ اسلام تو ان کے دلوں میں داخل بھی نہ تھا۔مترجم۔  صحیح بخاری: جلد۴، کتاب بدء الخلق، باب(۱۱)” صفة ابلیس وجنودہ“ حدیث۳۱۲۰۔  جلد ۵، کتاب فضایل الصحابة، باب ”مناقب عمربن الخطاب“ حدیث۳۴۳۸۔ جلد۸،کتاب الادب،باب” التبسم والضحک“ حدیث شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد۶، صفحہ شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱،ص۲۸۸،خطبہ یہ جملہ قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ کرتا ھے:و نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیٴسورہ ٴ النحل

مزید  امام مجتبي کو زہر دينے کا جرم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.