حضرت  عبد العظیم حسنی کون تھے؟

حضرت  عبد العظیم حسنی کون تھے؟

*ترجمہ وپیشکش:مجمع طلاب شگر*

حضرت عبد العظیم حسنی، امام حسن مجتبی علیہ السلام کے پوتوں اور امام جوادوامام ہادی علیہما السلام کے اصحاب میں سے تھے۔انہوں نے اپنے عقائد امام ہادی علیہ السلام کے سامنے پیش کئے اورامام نےان کی تائید کی۔

حضرت عبد العظم بن عبد اللہ بن علی ابن الحسن بن زید ابن الحسن ابن علی ابن ابی طالب، بزرگ راویوں،علما ،صاحب تقوی اور پرہیز گاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

عبد العظیم حسنی کے مقام ومنزلت

ان کے مقام ومنزلت کے بارے میں نقل ہواہے کہ ری کا ایک شخص امام علی النقی الہادی کی خدمت میں گیا۔امام نے پوچھا کہ کہاں تھے؟اس نے جواب دیا:امام حسین کی زیارت کو گیا تھا۔امام نے فرمایا:ا گر عبدالعظیم کی قبر جو تمہارے قریب ہے۔اس کی زیارت کرتے تو گویا ایساتھا کہ امام حسین کی زیارت کر لی ہو۔(1)

احمد بن خالد برقی کہتے ہیں:
عبد العظیم حسنی اپنے زمانے کے حاکم اورخلیفہ کے پاس سے فرار ہوئے اور ایک شیعہ کے گھر مخفی ہوئے۔ اس گھر میں عبادت کرتے،دن کو روزہ رکھتے،راتوں کوعبادت میں گزارتے ۔۔رات کو اس گھر سے مخفیانہ قریب ایک قبر کی زیارت کوجاتے۔اور کہاجاتا ہے ۔یہ قبر،امام موسی کاظم کے اولادوں میں سے ایک کا تھا۔آہستہ آہستہ ان کی خبر شیعوں میں پھیل گئی۔اور لوگ گروہ گروہ کی شکل میں ان سے ملاقات کو آتے۔ایک شخص نے پیغمبر کو خواب میں دیکھا کہ فرمایا:میری اولاد میں سے ایک عبد الجبار بن عبد الوہاب کے باغ میں سیب کے درخت کےپاس دفن ہوگا۔

حضرت عبد العظیم بیمار ہوئے،اورکچھ مدت بعد انتقال ہوئے۔ان کے لباس کے جیب سے ایک تحریر نکلی جس پر لکھا تھاکہ:میں ابوالقاسم عبد العظیم ابن عبد اللہ ابن علی ابن لحسن ابن زید ابن الحسن ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔(2)

شیخ صدوق اور دیگر نے عبد العظیم سے روایت کی کہ

شیخ صدوق اور دیگر نے عبد العظیم سے روایت کی ہیں۔کہ آپ (سید عبد العظیم )نے فرمایا:
میں امام ہادی کی خدمت میں حاضر ہوا۔امام نے مجھے دیکھا تو فرمایا:مرحبا تم پر،اے ابو القاسم!تو ہمارا دوست ہے۔میں نے عرض کیا:اے فرزند رسول خدا!میں چاہتاہوں۔اپنے دین کو تمہارے سامنے پیش کروں۔اگر آپ راضی ہیں تو تائید کریں۔اگر راضی نہیں تو مجھے ہدایت کریں

عقیدہ

میرا عقیدہ ہے کہ اللہ ایک اور یگانہ ہے۔اس کے مثل نہیں،جسم،صورت،جوہر نہیں،بلکہ اجسام وصورتوں کو وجود بخشنے والاہے۔

وہ ہر چیز کا پروردگار اور مالک ہے۔ میراعقیدہ ہے محمد پیغمبر اور رسول اور سب سے آخری رسول وپیغمبر ہے۔اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ اور قیامت تک آپ کا دین اسلام ہی ہوگا اور کوئی شریعت نہیں آئے گی۔
میرا عقیدہ ہے پیغمبر کے بعد امیر المومنین علی امام،خلیفہ و ولی امر،اس کے بعد حسن پھر حسین،ان کے بعد علی ابن حسین،محمد بن علی،جعفر ابن محمد،موسی ابن جعفر،علی ابن موسی،اس کے بعد محمد بن علی اور اس کے بعد آپ کو امام سمجھتاہوں۔
امام ہادی نے فرمایا:میرے بعد میرا بیٹا حسن اوراس کے بعد مہدی ہوگا۔کوئی اسے نہ دیکھے گا۔لوگوں کی نظر سے غائب ہوگا۔اور زمین کو عدل وانصاف سے پر کرے گا۔جب زمین ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔۔

اس کے بعد میں نے کہا:
ان کا دوست خدا کادوست اور ان کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ان کی اطاعت واجب اور ان کی نافرمانی گناہ ہے۔
میرا عقیدہ ہے معراج،سوال قبر،بہشت ،جہنم ،صراط،میزان سب حق ہیں ۔قیامت آئے گی اور سب زندہ ہوں گے۔
اس کے بعد امام ہادی نے فرمایا:اے ابوالقاسم !!خدا کی قسم یہی پسندیدہ ومحکم دین ہے۔اس اعتقاد پر ثابت قدم رہو۔خدا تمہارے اس عقیدے کی حفاظت کرے۔(3)

حضرت عبد العظیم تقریبا سال 250 یا 252میں انتقال کر گئے۔(4)

حوالہ جات

1۔شیخ عباس قمی،منتہی الامال ،ج 1ص246
2۔الخوئی،معجم رجال الحدیث،ج 10،ص 46
3۔منتہی الآمال ج2،ص392
4۔محمد جواد ،نجفی،ستارگان درخشاں ،ج 2194

*منبع:*
مرکز ملی پاسخگویی بہ سوالات دینی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

5 × چهار =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More