حسنِ خْلق

انسان جب پیدا ہوتاہے تووہ فطرتاً پاک ومعصوم ہوتاہے لیکن جوں جوں وہ بچپن اور لڑکپن سے گزر بلوغ کی عمر تک پہنچتاہے اسے گھریلو اور اجتماعی حالات وواقعات کا سامنا ہوتاہے۔ یہ حالات اس کی پاکیزگی اور معصومیت کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں ، وہ یا تو اپنی فطرت کا تحفظ کرتاہے ،یا حالات کے جبر کا شکار ہوجاتاہے اور طرح طرح کی برائیوں کا ارتکاب کرتاہے۔ اس کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ حسنِ خلق سے محروم ہوجاتاہے۔

حسنِ خلق سے محروم ہونا اس کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے ، وہ یہ بھول جاتاہے کہ اس کی فطرت کیاہے اور اسے اپنے ہم جنسوں سے کیا سلوک کرنا چاہئے۔ وہ تکبر ،حرص ، خیانت ،حسد اور نفرت کے منفی جذبات سے کام لیتاہے اور اس طرح مختلف اخلاقی برائیوں کا شکار ہوجاتاہے۔

حسنِ خلق پر تمام مذاہب نے زور دیا ہے۔ یہ دراصل اپنی فطرت کو پہنچاننے کا عمل ہے۔ انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کے نائب کی حیثیت رکھتاہے ، ظاہر ہے انسان کو معاشرے میں حسن وخوبی سے زندہ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

” بلاشبہ ہم نے انسان کو حسین ترین ظاہری وباطنی شکل وصورت میں پیدا کیاہے ”۔

حسنِ خلق کے درخشندہ نمائندے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اس کا عملی مظاہرہ ان کے اس مشفقانہ اور ہمدردانہ روّیے سے ہوتاہے جو انہوں نے دورِ جاہلیت میں لوگوں سے روا رکھا ، کسی شخص نے ان سے پوچھا ”ماالدین؟” یعنی دین کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا ” حسن الخلق” اس شخص نے دائیں بائیں او رآگے پیچھے سے یہی سوال کیا اور آپ نے ہر بار یہی جواب دیا۔ کسی اور شخص نے پوچھا کہ کفر کیاہے ، تو آپ نے جواب دیا ” سورہالخلق” یعنی بدخلقی۔

قرآن حکیم میں حسن خلق کی اہمیت کاباربار ذکرملتاہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوسکتاہے۔ ان کا ارشاد ہے : ”میں تو اسی لئے بھیجا گیا کہ اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کروں ”۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم کرہ ارض کو جنت بنائیں اور یہ اْسی وقت ممکن ہے جب ہم آپس میں محبت ، عزت اور بھائی چارے سے رہیں۔ اخلاق کے تقاضے اْس وقت پورے ہوجاتے ہیں ، جب ہم دوسروں کا احترام کریں۔ علامہ اقبال ? نے کہاہے:

آدمیت احترام آدمی

باخبر شو از مقام آدمی

لوگوں سے مسکراکے ملنا ، کھلے دل سے ان کی مزاج پرسی کرنا ،ان کے دکھ درد میں شامل ہونا اور ان سے عملی ہمدردی کرنا ، حسن اخلاق کی پہچان ہے ،مسکینوں اور پسماندہ طبقوں کے لوگوں سے مروّت اور دلجویانہ طریقے سے ملنے سے خلق حسن خلق میں بدل جاتاہے۔

دوسرے انسانوں سے خوش خلقی سے ملنے کا سب سے بڑا جواز یہ ہے کہ دینوی حال واحوال سے قطع نظر ، انسان کی پیدائش ، بوڑھاپے کی طرف سفر کرنا اور موت ہر فردِ بشر کا مقسوم ہے ، اور اس میں کسی سے رو رعایت یا فرق روا نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لئے بنی آدم ”اعضائے یک دیگر ند” ہیں او ر ایک دوسرے کے غمی یا خوشی میں شریک ہیں او ریہ شرکت حسن خلق سے بامعنی ہوجاتی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

هفت + 14 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More