حرص جيسي بيماري کا قناعت سے علاج ممکن ہے

0 0

لالچ بري بلا ہے اور يہ انسان کے ايمان کو بہت برے طريقے سے نقصان پہنچاتي ہے   ليکن اس کا علاج ممکن ہے – اس کے علاج کے ليۓ  ضروري ہے کہ انسان قناعت اختيار کرے – قناعت کا حصول يہ ہے کہ مال کي جمع آوري ميں آنے والي تکاليف ، پريشانيوں ، مال کے باعث دنياوي آفات اور پيش آنے والے  واقعات کے  متعلق شروع ميں سوچ بچار کرے –

اس راستے کا محافظ غارت گر کي مانند ہے –  

شان و شوکت سے مفلسي بھتر ہے –  

اور اس بات کو مدنظر رکھنا چاہيۓ کہ ضرورت سے زيادہ اس دنيا  کے مال و اموال کا کيا فائدہ ہے ؟ اگر اپني اولاد کے ليۓ ذخيرہ کر رہے ہو تو يہ جان لو کہ تمہارا اور تمہاري اولاد کا خدا ايک ہے –  جس نے تمہيں روزي دي ہے وہ ذات تمہاري اولاد کو بھي روزي دے گي – تمہيں تمہاري اولاد کا غم اس ليۓ ہے کہ وہ تمہارے نطفے سے وجود ميں آئي ہے اور جس نے اسے  تخليق کيا ہے يہ کيسے ممکن ہے کہ وہ  ذات اس کي غمخوار نہ ہو ؟ وہ تم سے زيادہ مھربان ہے ، تم سے زيادہ طاقت ور ہے – اگر تمہارے بيٹے پر مشکل وقت آ گيا اور تم نے اس کے ليۓ چاہے پوري دنيا کے ذخيرے جمع کر رکھے ہوں تو وہ اس کے کام نہيں آئيں گے اور وہ ان سے کسي بھي وقت ہاتھ دھو بيٹھے گا – ميري جان ! تمہارے بيٹے کو مال کي ضرورت اس کي اپني زندگي ميں ہے – تم تو اس کے ليۓ چارہ عمر نہيں کر سکے اور زندگاني کي قدر اس پر واضح نہيں کر سکے تو پھر کيوں اس کي روزي کے بارے ميں اس قدر مشکلات اٹھا رہے ہو ؟

مزید  رہبر آزادی 

پيٹ ميں بچے کا محافظ

خداوندگاري که عبدي خريد

بدارد فکيف آنکه عبد آفريد

ترا نيست آن تکيه بر کردگار

که مملوک را بر خداوندگار

کچھ دير کے ليۓ اس بات  پر غور کريں اور سوچيں کہ آپ اپنے اطراف ميں بہت سے افراد ايسے پائيں گے جو بہت زيادہ ثروت مند ہيں اور بےحد زيادہ جاہ و جلال کے مالک ہيں مگر انہيں يہ دولت و عزت ان کے والدين يا اجداد کي طرف سے ورثہ ميں نہيں ملي – ان کے والدين يا اجداد نے ان کے ليۓ کچھ بھي نہيں چھوڑا تھا مگر انہوں نے اپني محنت اور لگن سے يہ عزت اور دولت کمائي – اس کے برعکس بہت سے ايسے افراد بھي معاشرے ميں ہوتے ہيں جن کے والدين نے بہت زيادہ مال و اموال ان کے ليۓ جمع کيا ہوتا ہے جو انہيں ورثہ ميں ملتا ہے مگر چونکہ ايسے افراد کے اندر وہ اہليت اور قابليت ہي نہيں ہوتي ہے کہ وہ اس سرمايہ کي حفاظت کر سکيں يا اسي سرمايہ سے اپنے ليۓ کوئي اچھا ذريعہ معاش پيدا کر سکيں – ايسے افراد بہت جلد والدين کي طرف سے  ملنے والے سرمايہ سے ہاتھ دھو بيٹھتے ہيں اور فاقہ کشي اور مفلسي کي زندگي بسر کرنے پر مجبور نظر آتے ہيں – کبھي کبھار ايسا بھي ہوتا ہے کہ والدين اپنے شہر ميں اپنے بچوں کے ليۓ بہترين گھر بناتے ہيں جبکہ ان کے بچے کسي اور ملک ميں مفلسي کي موت مر جاتے ہيں – بعض لوگ کمائي کرنے کے ليۓ اپني زندگيوں کو دوسرے ملکوں ميں بسر کر ديتے ہيں –

مزید  بہشت کی نعمات کی خصوصیات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.