حدیث غدیر

0 0

مومنین آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔کیا قرآن نے دوسری آیتوں میں مومنین کو ایک دوسرے کے دوست کی شکل میں نہیں پہچنوایا ہے؟ اور علی علیہ السلام بھی اسی مومن سماج کی ایک فرد تھے، لہٰذا کیا ان کی دوستی کے اعلان کی الگ سے کیا ضرورت تھی؟اور اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ اس اعلان میں دوستی ہی مد نظر تھی تو پھر اس کے لئے ناسازگار ماحول میں ان سب انتظامات کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کام تو مدینہ میں بھی کیا جا سکتا تھا۔ یقینا کوئ بہت اہم مسئلہ درکار تھا جس کے لئے ان استثنائی مقدمات کی ضرورت پیش آئی ،کیونکہ اس طرح کے انتظامات پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نہ کبھی پہلے دیکھے گئے اور نہ ہی اس واقعہ کے بعد نظر آئے ۔ اب آپ فیصلہ کریں : اگر، ان روشن قرائن کی موجودگی میں بھی کوئی شک کرے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد امامت و خلافت نہیں تھا تو کیا یہ تعجب والی بات نہیں ہے ؟وہ افراد جو اس میں شک کرتے ہیں اپنے آپ کو کس طرح مطمئن کریںگے اور روز محشر اللہ کو کیا جواب دیں گے ؟یقینا اگر تمام مسلمان تعصب کو چھوڑ کر از سر نو حدیث غدیر پر تحقیق کریں تو حقیقی و صحیح نتیجوں پر پہونچیں گے اور یہ کام مسلمانوںکے مختلف فرقوں میں آپسی اتحاد میں اضافہ کا سبب بنے گا اور اس طرح اسلامی سماج ایک نئی شکل اختیارکر لیگا۔ تین پر معنی حدیثیں : اس مقالہ کے آخر میں تین پر معنی حدیثوں پر بھی توجہ فرمائیں۔ الف: حق کس کے ساتھ ہے؟ زوجات پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ام سلمیٰ اور عائشہ کہتی ہیں کہ ہم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمایا: “علی مع الحق و الحق مع علی یفترقا حتی یردا علی الحوض ” علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع) کے ساتھ ہے ،اور یہ ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے جب تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس نہ پہونچ جائیں۔ یہ حدیث اہل سنت کی بہت سی مشہور کتابوں میںموجود ہے۔ علامہ امینیۺ نے ان کتابوں کا ذکر ا لغدیر کی تیسری جلد میں کیا ہے [27] اہل سنت کے مشہور مفسر قران، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں سورہ حمد کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ ” حضرت علی علیہ السلام بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھتے تھے ۔اور یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ جو دین میں علی علیہ السلام کی اقتدا کرتا ہے وہ ہدایت یافتہ ہے ۔اور اس کی دلیل پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا:” اللہم ادرلحق مع علی حیث دار” اے اللہ حق کو ادھر موڑ دے جدھر علی مڑے [28] قابل توجہ ہے یہ حدیث جو یہ کہہ رہی ہے کہ علی علیہ السلام کی ذات حق کا مرکز ہے ۔ پیمان برا دری : پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے ایک مشہور گروہ نے اس حدیث کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے :” آخی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بین اصحاب فاخی بین ابی بکر و عمر، وفالان و فلان ، فجاء علی رضی اللہ عنہ فقال آخیت بین اصحابک و لم تواخ بینی وبین احد؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انت اخی فی الدنیا والآخرة ” پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان صیغہ اخوت جاری کیا ،ابوبکر کو عمر کا بھائی بنایا اور اسی طرح سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔اسی وقت حضرت علی علیہ السلام ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی آپ نے سب کے درمیان بھائ کا رشتہ قائم کردیا لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا ۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” آپ دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہیں ” اسی سے ملتا جلتا مضمون اہل سنت کی کتابوں میں ۴۹ جگہوں پر ذکر ہوا ہے۔ [29] کیا حضرت علی علیہ السلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیا ن بھائ کا رشتہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ امت میں سب سے افضل و اعلیٰ ہیں؟ کیا افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کے پاس جانا چاہئے؟ نجات کا تنہا ذریعہ : ابوذر نے خانہ کعبہ کے در کو پکڑ کر کہا کہ جو مجھے جانتا ہے، وہ تو جانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں ابوذر ہوں، میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ” مثل اہلبیتی فیکم مصل سفینة نوح، من رکبہا نجیٰ ومن تخلف عنہا غرق ” تمھارے درمیان میرے اہلبیت (ع) کی مثال کشتی نوح جیسی ہے، جو اس پر سوار ہوا اس نے نجات پائ اور جس نے روگردانی کی وہ ہلاک ہوا۔ [30] جس دن توفان نوح نے زمین کو اپنی گرفت میں لیا تھا، اس دن نوح علیہ السلام کی کشتی کے علاوہ نجات کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا ۔یہاںتک کہ وہ اونچا پہاڑبھی ،جس کی چوٹی پر نوح علیہ السلام کا بیٹا بیٹھا ہواتھا نجات نہ دے سکا۔ کیا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق ،ان کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے دامن سے وابستہ ہونے کے علاوہ نجات کا کوئی دوسرا راستہ ہے؟

مزید  عدالت علوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.