حدیث غدیرمیں ” مولی ” کامعنی

0 0

سخن ناشر:

عظیم محقق،عاشق اہل بیت ، مدافع حریم اہل بیت علیہ م السلام  کاایک عالمی شہرت یافتہ کتاب “الغدیر”جو کہ قرآن ، حدیث اور تاریخی منابع کی روشنی میں  حق کی دفاع اور مخالفین کے شبہ ات کو ختم کرنے کیلئے لکھا۔ یہ کتابب اتنی گہری تحقیق اور وسیع مطالعہ سے مالا مال ہے کہ کچھ کا خیال ہے اتنا عظیم اور بنیادی کام کسی ایک فرد کا نہیں ہو سکتا۔ الغدیر میں  آنے والے مفید اور جدید مطالب کو عوام تک پہنچانا چاہئیےیہ کتاب اصل عربی ہے جس کا فارسی میں  ترجمہ ہوا ہے۔لیکن چند جلد کتاب کا اس پر آشوب دور میں  عاشقین ولایت و امامت کے پاس مطالعہ کرنے کی فرصت اور حوصلہ نہیں،لہذا (مؤسسہ) نے اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کے لئے کئی جلدوں پر مشتمل کتاب کو خلاصہ کرکے گویا سمندر کو کوزے میں  بند کر کے مختلف موضوعات کی شکل میں عاشقان مطالعہ حضرات کی خدمت میں  پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کار خیر میں  ترجمہ و تلخیص کے علاوہ کچھ خلاصہ کی حد پر بھی اکتفاء کیا گیا ہے تاکہ قارئین کرام کے لئے اکتاہٹ کا باعث نہ بنے خداوند متعال سے امید ہے کہ اس کتاب “الغدیر”کو جو کہ ولایت اور امامت کی پہچان ہےعلامہ امینی کی کئی سالہ زحمتوں کا نتیجہ ہے اپنی بارگاہ میں  قبول فرما کر ہمیں  بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ مدافع ولایت علوی میں  شمار فرمائے،اور مولا الموحدین یعسوب الدین  امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ  السلام کی عنایات شامل حال ہوں اور مرحوم کی زحمتوںکو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

پیشگفتار مترجم :

آج بھی غدیر کو دیکھا جا سکتا ہے جہاں پیغمبر اکرمصلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حکم خداوندی سے روشن سورج کی مانندید اللہ کو بلند کر کے تاریخ میں  ضبط کر لی ا اور نام علی علیہ السلام  کو روز روشن، طلوع خورشید و قمر کی طرحاپنے بعد حجت الہی بعنوان “مولی ” پیش کردیا تاکہ امت محمدی زندہ و جاوید رہےاور دور جاہلی ت کی طرح نہ پلٹے۔
ابھی تک “من کنت مولی  فہذاعلی  مولاہ  “کی صدائیں سنائی دیتی ہیں (من کنت مولاہ فہذاعلی  مولاہ )یعنی علی  کی ولایت میری ولایت ہے اس کے بعد رسول اکرام صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے دعا کی (اللہم وال من ولاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ)خدایا !جو علی  سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت رکھ جوان سے دشمنی کرے توبھیاس سے دشمنی رکھ پروردگارا!علی  کی نصرت و مدد کرنے والوں کی نصرت کر اور جو علی  کوذلی لکرنا چاہتا ہے تو اسےذلی ل کر۔
 رسالت صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے نکلے ہوئے یہ جملات در حقیقت ولایت اور برائت کی پہچان بن گئے یعنی معرکۂ حق و باطل میں  محب اور مبغض کی تعیین فرمائی۔
غدیر کلام و زبان رسالت  کے مطابق ایک خندق کی مانند ہے جو مختلف راستوں کو جدا کردیتی ہے سرچشمہ غدیر آج تک آب حیات سے لبریز موجزن ٹھاٹیں مارتا ہوا فضائل کا سمندر ہے جو دلوں کوسیراب،بے آب و گیاہ چٹیل اور غیرزرخیز زمینوں کی پیاس کو بجھاتا ہے، غدیر کے بغیر پوری دنیا تاریک، تعصب، حیرت اور گمراہی کا ایک گڑھ ہے ، حقیقت میں  غدیر کتاب مبین، صراط مستقیم، اور ایسا راستہ ہے جو سنت پیغمبر تک پہنچاتا ہے، غدیر بصیرتوں کا سمندر ہے جس میں  دین ی بصیرت، سیاسی بصیرت، اور بہت ساری بصیرتیں ہیں، جو نہ صرف حجاز کے بیابانوں کو سیراب کرتا ہے بلکہ ضلالت و گمراہی اور حیرت و پریشانی کے بیابانوں کو بھی سیراب کرتا ہے در اصل غدیرگوہر نایاب ہے جس نے دین  کو کامل اور تمام نعمتوں کو پورا کیا ، غدیر پیغمبر اکرم صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی 23 سالہ زحمتوں کا ماحصل،نچو ڑٰ اور خلاصہ ہے

جنگ و جدال:

امامت اور ولایت و خلافت کا مسئلہ مسلمانوں کے درمیاندراز مدت سے چلتا آرہا ہے جس میں  مختلف اعتقادی، کلامی، تاریخی حدیثی، اور ادب و لغت کا پہلو قابل غور ہیں۔

کتاب “الغدیر”:

مرحوم علامہ امینی نےاپنی اس گرانقدر سرمایہ آخرت میں  انتہائی مستدل، متقن ، اور موثق ترین منابع تاریخی اور حدیثی کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے اپنی زندگی کے پہلے اور آخری حج کے موقع پر اٹھارہ ذی الحجۃ سنہ 10 ہ کو غدیر خم کے مقام پرسوا لاکھ حاجیوں کے مجمع میں  وہ تاریخی خطبہ دیا جس میں  اپنے جانشین، وارث، خلی فہ، وصی اور خداکے محبوب ترین بندہ علی  ابن ابیطالب علیہ السلام  کو ہاتھوں پر بلند کرکے مولا اور رہنما کے طور پر متعارف کروایا ،فرمان الہی کی تعمیل کرتے ہوئے انہیں اپنے بعد حجت اور امام معرفی کیا، لی کن چند نافہم اور ناسمجھ افرادان واضح  اور روشن دلائل کے باوجود اس واقعہ کا انکار کرتے ہیں گویا سورج کے آگے آنکھیں بند کرکے دن کا انکار کرتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ منکرین ولایت لجاجت اور تعصب کی تمام حدوں کو پار کرکے مختلف اشکالات اور تاویلات کے ذریعے اس واضح  حقیقت کو چھپانے پہ تلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان اشکالات میں  سے ایک لفظ مولا میں  تشکیک کرنا ہے ۔مولا کا اصل معنی سرپرست، ولایت، اولویت، سروری، رہنما اور رہبر کے ہیں لی کن ان منکروں نے ان معانی سے ہٹ کر حد اکثر دوست، یاور، اور ناصر و مددگار مراد لی ا ہے، لی کن ان معانی کے بیان کرنے کا مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ حقیقت اور حقانیت کو حق کی راستے اور حدیث مسلم ، غیر قابل انکار حقیقت سے چشم پوشی کرے اور روز روشن کی طرح رسول اللہ کے نورانی اور صریح جملہ “من کنت مولاہ فہذاعلی مولاہ ” دلیل امامت و خلافت امیر المومنین سے انکار کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اس قسم کے جتنے بھی تاویلات اور اشکالات کرتے ہیں یہ سب ان کی کج فکری اور نا سمجھی کی واضح علامت ہے۔

“مولا”کتاب الغدیر میں :

قارئین محترم!
جو کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے وہ در اصل کتاب الغدیر سے لفظ مولا کےبارے میں  بیان شدہ حقائق  کا خلاصہ ہے۔(1)
علامہ امینی مرحوم سب سے پہلے “مولا” کے لغوی معنی کو بیان کرتے ہیں اس کے بعد ادبیات عرب، عرف زماں، احادیث میں  اس کا معنی، نیز متن خطبہ کی مختلف انداز میں  قرائت اور دیگر مختلف زاویوں سے اس لفظ کو بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کے معنی اولی  بالتصرف، صاحب اختیار، سرپرست اورسرور کےہیں، جس کا مفہوم واضح  ہے۔ البتہ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ حدیث غدیرحضرت امیر المومنین کی خلافت پر دلالت نہیں کرتی ہے جیسا کہ فخر رازی جیسے کج فکری میں  مبتلا لوگوں نے اس حقیقت سے چشم پوشی کی ناکام کوشش کی ہے۔
اس مقالے میں  اور اس سے پہلے عید غدیر در اسلام نامی مقالے میں  کوشش کی تھی کہ جتنا ہو سکے یہ مقالے عام فہم سلی س، واضح  اور عوام کے لئے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوں ساتھ ساتھاہل مطالعہ، محققین، دانشمندوں اور طلاب کے لئے بھی مفید واقع ہو ں۔
ایک ناقابل انکار حقیقت ، اور فطری چیز ہے کہ بسا اوقات زیادہ تکرار کرنا، مباحث کو طول دین ا، تفصیلات اور تاویلات میں  جانا یا بعض مشکل عمیق اور دقیق گفتگو کو پیش کرنا نا مطبوع سمجھا جاتا ہے اسی لئے اس مقالے میں  ان تمام باتوں سے پہلو تہی کرنے کی کوشش کی ہے، اور سعی کیا ہے کہ کتاب الغدیر کے متن کو اہل سنت کی معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے۔ اور ساتھ ساتھ حوالہ بھی دیا گیاہے تاکہ تحقیق کرنے والوں کو کوئی دقت پیش نہ آے، اس امید کے ساتھ اس ناچیز کار خیراور صدقہ جاریہ کو شروع کرتے ہیں کہ مولا کے عنایات اور الطاف شامل حال ہوں اور ولایت جیسی عظیم نعمت کے مقابلے میں  قلیل فریضہ دین ی قبول ہوں ۔
جواد محدثی قم بہمن 1375 ہ ش۔

حدیث غدیر میں  “مولا”کا معنی:

حدیث غدیر کی سند کے بحث کےبعدشاید قارئین محترم کے اذہان عالی ہ میں  حدیث غدیر کے سند کے بارے میں  کوئی شبہ نہیں رہا ہو گا کیونکہ یہاں پرمولا کی اور کوئی معنی درست نہیں ہے۔ اگر چہ لغت کے اعتبار سے مولا کی معنی صریحا امام نہ ہو یا یہ کہ مولا کی بہت ساری معانی ہیں۔ اس لئے مجمل بن جائے گا۔ اب چاہے امامت و رہبری کو معین کرنے والے قرائن ہوں یا نہ ہوںپھر بھی حدیث میں  مولا کا معنی امام ہے۔ کیوں کہ وہاں جتنے افراد موجود تھے یا جنہوں نے بعد میں  حدیث کو سنا ہے یہ سب ایسے افراد ہَیں جن کی لغت میں  کوئی مقام حاصل ہے۔لغت میں  ان کی کوئی حیثیت ہے۔ سب نے مولا سے امامت مرادلی ا ہے کسی نے ان کو رد بھی نہیں کیا ہے۔

پہلی  دلیل:

حدیث امامت امام علی  علیہ السلام پر قطعی دلالت کرتی ہے، اگر چہ لفظ مولا کے بارے میں  لغت اور مدعی حق کہ یہ امامت کے بارے میں  نص اور صریح ہے متعدد معانی ہونے کے اعتبار سے مجمل ہے، اور یہ مجمل اور غیر واضح  ہونا چاہیئے قرائت اور پڑھنے کے حوالے سےاصل مراد امامت، رہبری اور سرپرستی ہے جو کہ ثابت شدہ شیٔ ہےیا اس کے معنی حقیقی کو مرادنہ لیں چونکہ جو حضرات اور اصحاب و حجاج کرام غدیر خم میں  موجود تھے ان سے اذہان میں  اور خارج میں  بھی اس سے مراد امامت و رہبری ہے اور بعض نے بعد میں  اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تھی اور افراد بھی لغت کے بارے میں  جانتے تھے

دوسری دلیل:

اس واقعے کے بعد شعراء کرام اور اہل ادب و فن سب نے لفظ “مولا “سے امامت و رہبری مراد لئے ہیں تو یہ بھی ایک محکم دلیل ہے۔

تیسری دلیل:

اس جمعغفیر اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئےحجاج کے سمندر سے ایک خود امیر المومنین حضرت علی  علیہ السلام  کی ذات گرامی بھی تھی حضرت نے اس سلسلے میں  اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کےلئے معاویہ کو کچھ اشعار پیش کئےجن کا مضمون یہ تھا:
“پیغمبر خدا ص نے روز غدیر خم میری ولایت و امامت کو تم پر حتمی اور قطعی قرار دیا “(2)

چوتھی دلیل:

شاعر معروف جناب حسان بن ثابت غدیر کے عینی گواہوں میں  سے ایک تھے خطبہ غدیر کے فورا بعد رسول خداصلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے اجازت مانگی اور شعر پڑھنا شروع کیا جس میں  پورے خطبے کو خلاصہ کی شکل میں  کچھ ابیات میں  پیش کیا (یعنی سمندر کو کوزے میں  بند کیا ) پیغمبر خداصلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے حضرت علی  علیہ السلام  سے فرمایا اے علی !کھڑے ہوجاؤ میں  تمہیں اپنے بعد امام ،رہنمااو رہبر قرار دیتا ہوں.(3)

پانچویں دلیل:

قیس بن سعد بن عبادہ بھی ان اصحاب اور افراد میں  سے ایک تھا جنہوں نے غدیر کو اپنے اشعار میں  دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں  امام امت حضرت علی  علیہ السلام  کی ذات گرامی ہے۔
ان کے علاوہ بہت سارے اصحاب جیسے محمد بن عبداللہ حمیری، عبدی کوفی، کمیت بن زیاد اسدی، سید اسماعیل حمیری اور ابوتمام وغیرہ نے رسول خدا کی حدیث کے مطابق حضرت علی  علیہ السلام  کی بیعت کی اور اپنی اپنی گفتگو میں  آپ علیہ السلام  کو رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے حقیقی جانشین، سرپرست، رہبراور صاحب ولایتو امارت کے عنوان سے یاد کیا۔(4)نیز صاحبان فہم و فراست، اہل قلم حضرات، ادباء،بلغاء اور شعراء نے اپنے اپنے نثری اور شعری شہ پاروں میں  مولا سے یہی مراد لئے ہیں۔(5)
قارئین محترم !
سابقہ ساری گفتگو اپنی جگہ اہل لغت یاادب کے وادی میں  استوار جن کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے، یہ حضرات ہر لحاظ سے قابل اعتماد، اور مشہور وبرجستہ ہیںاور کسی کی بس کی بات نہیں کہ ان تمام حقائق کو خطاء و غلط اور کجروی اور کج فکری سے تعبیر کر کے رد کریں، اور عام لوگوں کو دیکھیں تو وہ بھی اپنے روز مرہ باتوں میں  مولا سے یہی سرپرستی اور ولایت کا معنی ہی لیتے ہیں،جناب ابو بکر اور عمر نے اسی معنی اور مفہوم کے ساتھ علی  علیہ السلام  کی بیعت کی اور انہیں مولا بننے پر مبارک باد دی جناب عمر کا یہ جملہ تاریخ کے صفحات پر موجود ہے کہ روز غدیر حضرت علی  علیہ السلام  کی بیعت کرتے ہوئے کہا”بخ بخ لک یابن ابی طالب اصبحت مولای و مولا کل مؤمن و مؤمنۃ”

حقیقت:

سوال یہ ہے مولاکا وہ کونسا معنیرہ گیا تھا جو علی  علیہ السلام  کی شخصیت پر منطبق تھا اور غدیر تک بیان نہیں ہوا تھا اسی لئے بیان کرنے کے لئے خدا کے آخری رسول کو آخری حج کے موقع پرسخت حالات میں ڈھیر سارے اہتمام کرنےکی ضرورت پڑی تاکہ وہ معنی لوگوں کے لئے بیان کیا جائے؟! اور کس عنوان سے لوگوں نے انکی بیعت کی؟ کیا صرف دوستی اور محبت کو بتانا مقصود تھا؟
اس سوال کا جواب بہت ہی واضح  ہے، کہ مقصود دوستی کو بتانا نہیں تھا اس لئےکہ حضرت علی علیہ السلام دعوت ذوالعشیرۃ سے غدیر تک رسول خدا کا مخلص دوست، اور مددگار تھا ، بلکہ مقصود وہی عرفی معنی تھا جو غدیر میں  موجود سوا لاکھ حاجیوں نے سمجھا یعنی اولی  بالتصرف، رہنما و رہبر ، ()

حارث بن نعمان کا انکار:

غدیر کے اعلان ولایت کے بعد حارث بن نعمان اپنی جگہ سے اٹھا اور رسول خدا صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے سوا ل کرنے لگا:
اے محمد! تم اپنی رسالت اور خدا کی وحدت کی گواہی مانگی تو ہم نے قبول کیا، نماز و زکات اور حج کا حکم دیا ہم نے اسکو بھی مان لی ا ۔
لی کن تم نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا اور اپنے چچا زاد بھائی کے ہاتھ کوپکڑ کر بلند کیا اور اسکو ہم سب پر فوقیت و فضیلت دی اور کہامن کنت مولاہ  فهذاعلی  مولاه ()(6)
اس واقعہ کا اصل مطلب یہ تھا کہواقعا اس کافر حسود کے دل میں  وسوسہ و شک ہوا کہ کیا یہ حکم ولایت اور اولی  بالتصرف خدا کی طرف سے تھا یا العیاذ باللہ محمد ص نے خود اپنی طرف سے صادر کیا؟ اس ملعون کو علم تھا کہ یہ حکم خدا کی طرف سے تھا لی کن علی  علیہ السلام  کی امامت اور ولایت اس کو برداشت نہیں تھی اسی لئے عذاب کا تقاضا کیا اور اسی لحظہ سیدھا راہی جہنم ہوا ۔
قارئین کرام!
فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں کہ آپ اس ولایت سے کیا وہ مطلقمعنی مراد لیتے ہیں جس کو قریش نے دشمنی کی بنا پر قبول نہیں کیا یا نہیں؟مختلف جنگوںمیں  نصرت الہی مومنین کے شامل حال ہوتےدیکھ کر لوگوں کی کثیر تعداد گروہ گروہ کی شکل میں  دین  الہی میں  داخل ہوتی تھی ، توبعض لوگوں کو اپنی جان کی فکر ستانے گی اورانہوں نے ناچار اسلام قبول کیا ۔ان لوگوں کے لئے ولایت علی  بن ابیطالب علیہ السلام  کو قبول کرنا انتہائی دشوار تھا، فرق صرف اتنا تھاکہ حارث نے اپنے دل کی کیفیت کو بیان کیا اور عذاب کا تقاضا کیا تواسے مل گیا ، باقی منافقوں نے اپنے دل میں  رکھا۔

مزید  حضرت علي عليہ السلام نے سب سے پہلے نبوّت کي گواہي دي

ایک اور شاہد:

کوفہ میں  ایک گروہ حضرت علی  علیہ السلام  کی خدمت اقدس میں  شرفیاب ہوا اور عرض کیا السلام  علی ک یا مولانا اس موقع پر امام علیہ السلام  نے ان کو اس لفظ کا صحیح معنی بیان کرنے اور توضیح و تشریح کے لئے ان سے فرمایا کہ میں  کس طرح تم لوگوں کا مولا ہوں جبکہ تمعربکے ایک خاص گروہ سے تعلق رکھتے ہو؟ تو انہوں نے اسی حدیث غدیر کا حوالہ دیا اور کہا کہ روز غدیر حضور پاک صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے آپ کی ولایت کا اعلان فرمایا ہے()۔
قارئین کرام:
 عرب کے ہاں لفظ “مولا” کوئی عاماور معمولی  لفظ نہیں تھاجوہر کسی کو یہ لقب اور اعزاز دیں اور آسانی سے ہر کسی کو” مولا” کا تاج پہنا دیں اس لفظ سے دوستی ومددگار اور صرف محبت یا دیگر معانی مقصودنہیں تھے بلکہ یہ ایک عظیم ریاست او امامت اورسرپرستی پر واضح  اور روشن و محکم دلیل تھی اسی لئے حضرت علی  علیہ السلام کا، قبیلہ عرب کے سامنے وضاحت اور تشریح کرنے کا اصل ہدف و مقصد بھی یہی تھا کہ انہوں نے سخن پیغمبر صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  سے اس لفظ کی اصل حقیقت کو درک کیا ہے یا نہیں؟!

خواتین کی فہم:

قارئین کرام!
(بلکہ ہمارا دعوی تو یہہے) کہ اس لفظ “مولا” کا معنی صرف عرب حضرات ہی نہیں جانتے تھے بلکہ عرب کی خواتین بھی اس حقیقت امر اور اولی  بالتصرف و ولایت کے معنی سے جاہل نہیں تھیںاس بات پر دلیل بھی ہے کہ وہ یہ جب معاویہ نے درامیہ حجونیہ نام کے خاتون سے پوچھا!
 اے خاتون!تم کیوں علی  سےمحبت اور مجھ سے عداوت و دشمنی رکھتی ہو؟
تو اس وقت اس خاتون نے کچھ دلائل پیش کئے ان میں  سے ایک یہ تھا:
اے معاویہ: علی علیہ السلام  سے محبت اس لئے کرتی ہوں چونکہ پیغمبر اکرم صلی  اللہ علیہ  وآوسلم نے غدیر خم کے مقام پر ان کو ولی  و سرپرست قرار دیا تھا۔اور ساتھ ہی معاویہ سے دشمنی پر بھی دلیل بیان کی اور کہا کہ: معاویہ! تم نے اس سے جنگ کی جو حکومت کا تم سے زیادہ حقدار تھا، تو اسی ریاست کا خواہاں تھاجو تیرا حق نہیں تھی۔
اس خاتون کی بات پر معاویہ کی زبان بند ہوگئی اور وہ اس کی بات کو رد بھی نہیں کرسکا!

امام علی  کا احتجاج:

شہر مقدس کو فہ کے کچھ اشخاص امام علی  علیہ السلام  کی خلافت اور جانیشینی کے بارے میں  نزاع اور جھگڑا کرنے لگےتو آپ علیہ  السلام ان کے سامنے رسول اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی مختلف روایاتکو بیان کر کے اپنی برتری و حقانیتاور خلافت حقہ کو ثابت فرمایامگر لوگوں نے پھر بھی آپ علیہ  السلام  کے کلام مبارک کو نہیں ماناتو اس وقت امام علیہ  السلام  بھیاسی حدیث غدیر کو بیان کرکے مخالفین کی زبان کو بند کردیا۔
قارئین محترم: ان تمام وضاحتوں کے باوجود بھی اس لفظ “مولا ” سےولایت و رہبری اور سرپرستی کے علاوہ کچھاور معنی ہو سکتا ہے؟!
جواب:-
 اس سؤال کا جواب بہت ہی واضح  ہےکہ جب سب سے پہلے خود حضرت امام علی  علیہ  السلام  کی ذات گرامینے اس حدیث غدیر سے وہی معنی مراد لی ا ساتھ ہی بذات خود غدیرکے گواہوں اور شاہدین  میں  سے ایک تھے اور اسی دن جنہوں نے اس اولی  بالتصرف اور ولایت سے انکار اور جان بوجھ کر حقیقت کو چھپانے کی ناکام کوشش کی تو عذاب الہی نے انہیں وہیں پررسوا کیا

اعتراض:

اگر لفظ “مولا” سے مراد اور مقصود صرف دوستی و مددگار تھا تو امام علی  علیہ  السلام  کی ذات گرامی نے کیوں کر مخالفین کے سامنے اس حدیث غدیر سےاستناد و استدلال فرمایا؟

جواب:-

(پہلی  بات تو یہ ہےکہ اس جم غفیر میں  کیا صرف علی  علیہ  السلام علاوہ رسول اکرمصلی  اللہ علیہ  وآوسلم کے کوئی اور دوست و مددگار نہیں تھے ؟! جواب مثبت ہی ہوگا ) کیوں کہ وہاں پر امام علی  علیہ  السلام  کے علاوہ بھی رسول اکرمصلی  اللہ علیہ  وآوسلم کے دوست اور مددگار موجود تھے۔
تو یہاں سے معلوم ہوا کہ اس سے مراد و مقصودوہی ولایت مطلقہ، رہبری و سرپرستی اور اولی  بالتصرف ہی تھا۔
چنانچہ گذشتہ زمانوں میں  جتنے اشخاص اس حوالے سے اپنے بحثوں اور امت محمدی کے اجتماعات میں  اعتراضات پیش کرتے تھے اور واقعہ غدیر کے بعد سے آج تک جتنے اس حوالے سے کتاب لکھنے والے ہیں سب بہتر جانتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ عوام الناس اور عام پبلک سب اس لفظ “مولا” سے امامت مطلقہ ، ولایت و امامت ، رہبر اور پیشوا سمجھتے ہیں نیز یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ ولایت وہی ولایت ہے جو رسول اللہ صلی  اللہ علیہ  وآوسلم کو حاصل تھی ، محقق کے سامنے انموارد کو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

ایک ادبی بحث:

لفظ ” مولا ” سے لغت عرب میں  سرپرستی اور اولی  بالتصرف کے معانی مراد لی ا جاتا ہے()
اگریہ اولی  بالتصرف مراد نہ لے تو کم از کم ایک معنی “اولی ” تو ہو سکتا ہےجس کی دلیل مفسرین اور محدثین کی اس آیت﴿فَالی وْمَ لا یؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیةٌ وَ لا مِنَ الَّذینَ كَفَرُوا مَأْواكُمُ النَّارُه یمَوْلاكُمْ وَ بِئْسَ الْمَصیرُ﴾() میں  لفظ “مولا” سے “اولی ” کا معنی مراد لی نا ہے، اس آیت مجیدہ میں  لفظ مولا سے مراد واضح  طور پر اولی  ہے()۔ (6)
کچھ مفسرین نے کچھ اور معانی بھی بیان کئے ہیں لی کن پھر بھی ان کے ذیلی  معانی میں  ایک “اولی ” کو قرار دیا ہے(7)
تو یہ حضرات جہاں مفسر تھے وہاں ادیب، اور اہل لغت بھی تھےانہوں نے اس لفظ کی یہی تفسیر کی ہے اس کے علاوہ بھی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں  لفظ” مولا” آیا ہے جیسے﴿أَنْتَ مَوْلاَنَا﴾ ()﴿بَلِ اللَّهُ مَوْلاَكُمْ﴾()﴿ما کتب اللہ لنا ہو مولانا و علی اللہ فلیتوکل المؤ منون﴾ ()یہ اور ان جیسے دوسری آیتوں میں  خداوند عالم کی ولایت کا تذکرہ ہو رہا ہے اور یہ بیان ہو رہا ہے کہاطاعت اور بندگی سمیت تمام امور میں  خدا کی ذات اولی  بالتصرف ہے۔

فخر رازی کا اعتراض:

فخر رازی پہلا انسان نہیں ہے جس نے اس لفظ کے بارے میں  شبہ ات اور اعتراضات کیئےہوں بلکہ اس سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے اس پر شبہ ات کئے ہیں اور انہوں نے آیہ مجیدہ میں  لفظ “ولی ” سے مراد ناصر و مددگار اور نزدیک و سرانجام و غیرہ سمجھا ہےاور اس کے بعد اس طرح اشکال وارد کرنے کی کوشش کی ہے :
اگر لفظ “مولا” کا معنی “اولی ” ہوں تو دونوں کا ایک دوسرے کی جگہ پراستعمالصحیح ہونا چاہیے حالانکہ ایسا نہیں ہے ، انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس حوالے سے قابل توجہ اور دقت طلب بات یہ ہے کہ چونکہ سید مرتضی نے امام علی  علیہ السلام  کی امامت کو ثابت کرنے کے لئے حدیث من کنتسے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ اہل لغت نے “مولی ” کے معانی میں  سے ایک”اولی ” کوقرار دیا ہے جبکہ اس لفظ میں  یہ صلاحیت بھی پائی جاتی ہے کہ کچھ دیگر مثلاً چچا زاد بھائی،یار و مددگار، آزاد کرنے والااور آزاد شدہ جیسے معانی میں  بھی استعمال ہو ۔
لی کن یہیا توبہت ہی واضح  اور روشن ہے اصلاً پیغمبر اکرم نے یہ مراد ہی نہیں لی ا ہے بلکہاس سے اولویت مراد لی ا ہے۔
اس کے بعد فخر رازی نے کہا ہے کہ یہاں پر لفظ مولا سے اہل لغت اور مفسرین کا مقصد صرف اور صرف اسی آیت میں لفظ کو بیان کرنا تھا نہ کہ اس کےاصلی  معنی، پس ہم اس مطلب سے استدلال کرکے امام علی  علیہ السلام کی امامت کو ثابت نہیں کرسکتے ہیں!! ()(8)
“کتاب نہآیۃ العقول”میں لکھا ہے: اگر اس لفظ”مولی  ” سے مراد “اولی  ” ہو تو لازم ہےکہ یہبات درست ہوکہجو لفظ ایک کلمہ سےلگایا جا سکتا ہےاسے دوسرے کلمہ سے لگایا جا سکتا ہے حالانکہ ایسا نہیں( 9)
مثلاً:جہاں کلمہ “اولی  ” استعمال ہو تو وہاںپر لفظ(من)کا آنا لازمیہے (فلاناولی من فلان) یعنی فلان، فلان سے سزاوارتر ہے لی کن اس کے مقابلے میں  یہنہیںکہہ سکتے کہ (مولی  من فلان) تو اس کا معنی غلط ہوگا۔
اور اگر اصطلاح میں  دیکھا جائے تو اس کا استعمال اس طرح ہوگا( ہو مولی  الرجل) وہ اس مرد کا”مولی “ہے۔ لی کن اس کے مقابلے میں  یہنہیںکہہ سکتے کہ( ہواولی الرجل) اس طرح کے دیگر نمونوں سے معلوم ہوتاہےکہ لفظ(“مولی ” ) کو (اولی )کی جگہ پر استعمال نہیں کرسکتے چونکہ یہدونوں ہم معنی نہیں لہذایہ غلط ہے۔

حیرت انگیزبات

قارئین کرام!
فخررازی جیسے عظیم مفسر کی حیرت انگیز بات یہہےکہ جناب موصوف الفاظ مشتق کے حالات سے بھی ناواقف ہیںاور اس طرح یہ بھی نہیں جانتے کہ افعال لازم و متعدی کے مختلف صیغوں کے معنیبھی بدل جاتے ہیں۔دو الفاظ کے مترادف یا ہم معنی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی اصلی  معنی ایک ہے؛ یہ لازمی نہیں ہے کہ مختلف حالات میں  تراکیب میں  بھی ایک جیسے ہوں۔ جیسا کہ “مولا” اور”اولی “ترکیب اور حالت میں  مختلف ہیں لی کن ان کی اصلی  معنی ایک ہےاس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ ان میں  سے ایک “ب” کے ساتھ آتاہے “من ” کے ساتھ نہیں جبکہ دوسرا “من” کے ساتھ آتا ہے”ب” کے ساتھ نہیں۔
دوسرا ، رخ اس لفظ کے ساختار ترکیبی کے بارے میں  ہے)۔
 تو ان دونوں الفاظ میں  سے لفظ “اولی  “ترکیب تفضیلہے جبکہ دوسرا ا یسانہیںاس لئے جملے کےاستعمال میں  مختلف و متفاوت ہوتے ہیں او ر یہاس کے ساختار لفظی سےمربوط ہےجب کہ اس کامعنی ومفہوم سے بھی کوئی ربط نہیںہے جیساکہ جناب ازہری کے قول کے مطابق (10)
اگر دو لفظ مترادف ہوں تو ان کا ایک دوسرے کی جگہپر استعمال کرنا اس وقت صحیح ہوگا جب اس کے استعمال میں  کوئی مانع نہہو جبکہ یہ اں پرمانع موجود ہے کیونکہ لفظ”اولی  “اسم تفضیل ہے اور اس کے ساتھ لفظ(مِن) استعمال ہوا ہے اور کبھی کبھار حرف( مِن) اور جس کو جر و کسرہ دیاگیاہے(مجرور) دونوںکو حذف کیا جا سکتاہےیہاس وقت جب معلوم ہو مثال کے طورپر اس آیت مجیدہ میں  (وَ الْآخِرَةُ خَیرٌ وَ أَبْقی )(11)
اس کے علاوہ جناب فخررازی نے ایک او رنکتہ سے تمسک اور سہارا لی نے کی(بےجا) کوشش کیہے جوکہ “مولی ” کے دیگر بہتسارے معانی کے ساتھ بھی درست نہیںہوتا۔
جیسے کہ (“مولی ” ) کا ایکمعنیناصر و مدگار ہے جسکوخودموصوف صاحب نے حدیث غدیر سےمراد لی اہے! جبکہ بہتسارے مقامات پراس لفظ سے ناصر و مدگار مراد نہیں لے سکتے جیساکہ حضرت عیسی مسیح علیہ السلام  نے اپنی امت سے  کہاتھا ]مَنْ أَنْصارِی إِلَی اللَّه( )
یہاں پر یہکہہ سکتاتھاکہ (من مالی  الی  اللہ؟)اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام  کے جواب میں  حواریوں نے یوں جواب دیا:]نَحْنُ أَنْصارُ اللَّه یہاں پر یہنہیںکہہ سکتے تھے کہ ( نحن موالی  اللہ)
نیز ایک اورمعنی “مولی “کے جس پر سب متفق ہیں وہ “منعم علیہ “کا معنیہےیعنی وہ شخص جس کو نعمت عطا ہوئیہو فرق صرف اتنا ہےکہ منعم لفظ “علی ٰ”کے ساتھ ہے جبکہ “مولی “لفظ”علی ٰ”کے بغیر استعمال ہوتا ہے۔
جبکہ خود فخررازی صاحب کا کہ نا ہےکہ “مولی ” کےمعنینعمت پانے والا نہیںہو سکتا چونکہ یہدونوں ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال نہیںہوسکتے مگر ایک صورت میں  صحیح ہوسکتاہے جب کچھ حروف اور الفاظ اس کے ساتھ ہوں جو سب مل کر”مولی “کامعنیدیں۔
لی کن فخررازی اسی بات کو نہ جانے کن مخفی دلائل کی وجہ سے “اولی ٰ” میں  قبول نہیں کرتے!!

قابل توجہ نکتہ

یہبحث جس پر تمام بزرگ علماء لغتو ادب او راہل قلم حضرات متفق ہیں وہ سارے موارد میں  دو الفاظ آپس میں  مشترک اور مترادف ہیں لی کن ان کا لفظی استعمال آپس میں  متفاوت اور مختلف ہے مثلا کلام عرب میں  لفظ ” ام “او ر” او”حروف ترید ہیں اور دونوں کامعنی”یا “ہوتاہے لی کن ترکیب کے اعتبار سے چار قسم کے مفروضے بن سکتےہے۔
اس طرح لفظ”ہ”اور”ا” ہم زہ یہدونوں حروف سوالی ہہیں جن کے معنی”آیا” کے ہیں لی کن آپس میں  دس فرق رکھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح “ایان “او ر”حتی “کے تین معانیہیں”کم” اور “کاین”کے درمیان پانچ اختلافات ہیں نیز”ای”اور”من” کے درمیان چھجبکہ “عند”و “لدن” اور “لدی”( نزدیک) کے درمیان آپس میں  چھجہتوں سے اختلاف پایاجاتاہے اور ان میں  سے ہر ایک، دوسرے سے مختلف ہے۔
اسی لی ےیہاں جناب فخررازی کی متضاد بحث کے بارے میں  بعض حضرات متوجہ ہوکر اشار ےبھی کیا ہے۔(12)
اصل کے اذہان میں  بھییہبات آئی لی کن وہ لوگ اس بات کا غلط اور نادرست ہونا جانتے تھے۔(13)
 اس لئے انہوں نے اعتراض نہیں کیا کہ اگر ان کی معنی ایک ہے تو ایک دوسرے کی جگہ پراستعمال کیوں نہیں ہو سکتے؟

اعتراف

قارئین کرام !
 کچھ علماء اہل سنت سے نہچاہتے ہوئے بھی حقیقت ظاہر ہوئیہے مثلا جناب تفتازانی اور قوشجی اپنی کتابوں میں  رقمطراز ہیںکہ لغت اور عربی گفتگو میں “مولی “کے مختلف معانی ذکر ہوئے ہیں۔
انہی میں  سے ایک “مولی “کام کا مالک اور”اولی  بالتصرف” ہے لی کن یہحضرات بھی جب لفظ”مولی “سے امامت علی  ابن ابیطالب علیہ السلام  کو ثابت کرنے کے مرحلے میں  پہنچے تووہاںپر مفہوم “مولی ” کے بارے میں  مختلف بہانے اور غیر منطقی استدلال کے ذریعے حدیث غدیر کورد کرنے کی(بے جا) کوشش کرنے لگے۔
مگر پھر بھی جب لفظ”مولی ” اور”اولی  ” کےمعنیبیان کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک معانی میں  استعمال ہونے کو قبول کرتے ہیں۔
جناب جرجانی نے تو نہصرف ان دنوں کی طرح رد کرنے کی کوشش کیہے بلکہ مزید  کہاہے: کہ جناب قاضی عضد کایہ کہ نا :کہ ” مفعل” کبھی بھی” افعل” کےمعنیمیں  نہیں آیا ہےجبکہ یہبات غلط ہے۔
چونکہ عربی گرامر اور اہل زبان کے استعمال اور جوکچھ لغت کے علماء سے نقل ہواہے  وہ یہ کہ  لفظ “مولی “”متولی ” کام کے عہدہ دار، اور “اولی بالتصرف” کے معنوں میں  بہتزیادہ استعمال ہوتاہے۔(14)
 اورنیز ابن حجر جوکہ حدیث غدیر کو رد کرنے والوں میں  (سر سخت ترین) سرفہرست ہیں وہ بھی لفظ”مولی “کے استعمال کے بارے میں  معترف ہےکہ اس کامعنی”اولی  بالتصرف”بہتہیمناسب ہے۔لی کن اس کا اعتراض صرف “اولی  ” کے متعلق میں  ہےیعنی تمام امور میں  مناسب تر، یا  کچھ جہتوں میں  زیادہ سزاوار ؛ پھر خود دوسری معنی کو قبول کرتا ہے اور اسی کی فخر رازی اپنی کتاب نہایۃ العقول میں  مولا کی آٹھ معنی کو ذکر کرتے ہیں جن میں  سے ایک “اولی  بالشیئ   ” کسی چیز میں  دوسرے سے زیادہ حقدار ہوتا ہے؛ آگے لکھتے ہیں کہ لازمی نہیں ہے جو بھی لفظ مولا میں  “اولی ” کا احتمال دیں وہ یہ قبول کرلیں کہ حدیث غدیر امام علی  علیہ  السلام  کی امامت پر دلالت کرتی ہے۔ کیا ابو عبیدہ اور ابن انباری نے نہیں کہا کہ مولی  کی معنی “اولی ” ہے لی کن پھر بھی وابوبکر اور عمر کیامامت کے قائل تھے۔(15)

قابل غوربات

ہمیں  ان کے عقیدے اور اعتقاد سے کوئی سروکارنہیں بلکہ اہماور قابل توجہ  بات یہہےکہ ان دونوں نے بھی بلکل وضاحت کے ساتھ لفظ”مولی “کے معنی “اولی  ” کا اعتراف کیا ہے ! جس طرح بہتسارےدیگر عربی ادب کے محققین، دانشمندوں نے بھی لفظ”مولی ” سے “اولی ” کا معنیمرا د لی ا ہے۔(16)

مزید  امام خمینی معاصر تاریخ کا مردِ مجاہد

عجیب اورجاہلانہ دعویٰ

قارئین کرام! ابھی  آپ کے سامنے صاحب “تحفہ اثنا عشریہ ” کےمیزان اعتبار، فیصلے اور دعوے کو نقل کرتے ہیں موصوف لکھتے ہیں :کہ کسی بھی عربی ادب اور قواعد وگرامر جاننے والے نے لفظ”مولی ” سے”اولی  “مراد نہیں لی ا ہے اور نہ ہی استعمال کیا ہے! !(16)
( کیا دعوی ہےسبحان اللہ!!)

ہماراسوال

ہماراان سے سوال ہےکہ جناب والا! کیا جتنے مشہور عربی ادب کے ماہرین کا ذکر اوپرگزراہے کیا یہسارے فارسی ؛اردویا انگلشادیب تھے؟ یا یہحضرات عربی ادباور گرامرکے استعمال سے جاہل تھے؟! یا واقعاً صرف موصوف جناب شاہ صاحب ہندی نے ہیاصل عربی قواعد اور گرامرکوسمجھاہے؟ قارئین محترم !فیصلہ آپ پراور آپ کے عقل و وجدان پر چھوڑتے ہیں۔( )

ہماراموقف

جوکچھ حدیث شریف غدیرخم کے بارے میں  ہمنے سمجھے ہیں اس کو ہمامام علی  علیہ السلام  کی امامت پر دلیل قرار دیتے ہیں اور اس کے لئے حدیث غدیر کے علاوہ مزید دو اور احادیث پیغمبراکرمصلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی نقل کرتے ہیں پیغمبرصادق و امینصلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: روے زمین پر کوئی بھی مؤمن نہیں مگر یہ کہ میں (پیغمبراکرمصلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم ) دین  و دنیا کی ہرچیز میں  خود ان سے “اولی  “ہوں اگر کوئی اس آیت کی تلاوت کرے جس میں  خداوند عالم نے فرمایا:]النَّبِی أَوْلی بِالْمُؤْمِنینَ مِنْ أَنْفُسِہم[پس ہرمؤمن کے اس دنیا سے جانے کے بعد اس کے متروکہ اموال کو رشتہ دار ارث میں  لے لتے ہیں اور اگر مرنے والے پر کوئی قرض یا ملکیت میں  کوئی چیز چھوڑیہو تو بھیوہ (رسول اکرم صلی  اللہ علیہ  و آلہ و سلم) دوسرو ں پر مقدم ہے کیونکہ وہ “مولی “اور”ولی “ہے()
نیز کسی اور حدیث میں  بھی آیا ہے جس میں  فرماتے ہیں:
اس روے زمین پر پیغمبراکرمصلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر حقدار کوئینہیںہے اور اگر تم میں  سے کوئی مقروض ہویا کوئی ملکیت میں  چھوڑے تو سب سے زیادہ حقدار ہوں۔()(17)

جاہلانہ دعوی

 جناب فخررازی نے اپنی کتاب نہ ایة العقول میں  کسیجگہپر یہدعوی کیا ہےکہ کسی بھیاہل نحو ؛قواعد عربی، اوراہل لغت( ادیب عرب) نےبھی یہ ذکر نہیں کیا کہ لفظ”مولی ” کو”مفعل”بمعنی” افعل کہ جس کی معنی میں  زمان اور مکان کی معنی پائی جاتی ہے وہ افعل کی معنا میں  استعمال ہو سکے تفضیل کی معنی پائی جائے۔
قارئین کرام!
 سابقہ گفتگو اور بحث کی روشنی میں  واضح  ہوجاتی ہے کہ ان کے دعوی کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ بہتہیکمزور دعویہے۔جناب قاضی عضد ایجی نے کتاب( مواقف) میں ، شاہ صاحب ہندی نے کتاب( تحفہ اثناعشریہ)میں ، کابلی  نے کتاب(صواقع)، میں  عبدالحق دہلوی نے کتاب( لمعات) میں اورقاضی ثنااللہ پانی پتی نے اپنی کتاب (سیف مسلول) میں  واضح  طور پر دعوی کیا ہےکہ کسی بھی عرب کے ادیب نے”مولی ” کامعنی “اولی ” بیان نہیں کیاہے؟!!۔
جبکہ حقیقت میں  اصل بات فخررازی کی تھی۔ ان کے پیروکار آندھے ہونے کی وجہ سے حقیقت چھپانے اور حدیث غدیر پر عقیدہ تشیع کے برخلاف فقط شہبات وارد کرنے پر تلے ہوئے تھے!!۔
(قارئین کرام!فیصلہآپ پر۔۔۔۔۔۔۔۔)
ہمان کی ملامت نہیں کرتے کہ انہوں نےگرامر، قواعد عربیاورعربی ادب کو کیوں نہیں
سمجھا؟
اور کیوں یہلوگ ادبیات عربکے ہنراور اس فن سے دور ہیں؟
حقیقت جانیئے؟!
قارئیں محترم!
( ان حضرات کا دعوی کسی حدتک ان کےاور ان جیسے عقل رکھنے والے کے لئے مناسب اور قابل عفو بھیہوسکتاہے!)
مگر اصل حقیقت یہہےکہ ان حضرات کا تعلق عرب عربی رسوم ورواج اور عربی ثقافت سے کوسوںدور ہے۔
قاضی کا تعلق ایجی سے ہے دوسرا ہندوستانیہے تو تیسراکابلی ( افغانی) ہے تو چوتھا اور پانچوان دہلی  اور پانی پتی( ہندوستانی) تو ہمارادعویہے افغانی اور ہندوستانیکہ اں اور خالص عربیوقواعد عرب کہاں؟!!

بازار سخن

خیر بازار سخن آزاد ہےانہوں نے الفاظ عرب ادبیات عرب میں  اپنے اپنے نظریات پیش کردئیے ہیں۔ جبکہ اصل حقیقت سے بیگانہتھے۔جبکہ دیگر تمام مشہورو معروف اور قابل ذکر عرب ادیب نے اپنے اپنے سخن اور گفتگو میں  لفظ “مولی ” سے” اولی ” مراد لی ا ہے۔
اس معیار اور میزان کے علاوہان حضرات اور خصوصاً فخررازی( جوکہ اس وادی میں  اولی ن بدعت گزار اور سفسطہ ایجاد کرنے والاہے) کے لئے جناب ابو الولی د بن سحنہحنفی کییہگفتگو کافیہے جس میں  انہوں نے  کہاہے :جناب فخررازی صاحب تمام علوم سے آگاہیو آشناتھے سوائے ادبیات عرب کے(18)
ابوحیان نے بھی اپنی تفسیر میں  لکھا ہے: فخررازی صاحب کی تفسیر مکمل طور پر سخن عرب اور عربی رنگ ڈھنگ اور مقاصد سخن عرب سے خارج ہے، ان کی اکثر گفتگو سے پتہ چلتاہےکہ وہ خود اپنے آپ کو ایک حکیم سمجھتے ہیں؟!!(19)

فیصلہ کون کرے؟!

قارئین کرام!
جب تمام بزرگان عرب،ادیب اورلغت دان حضرات سب نےکہا ہے کہ”مولی “اولی  کی معنی میں  بھی آتا ہے ۔تو یہ اں پر کوئی شک و ترید کی گنجایش نہیں رہتی اگرچہ فخررازی نے بہتسارے موارد میں  بزرگان ادبیات عرب کے سخن کو شاہد اور دلیل کے طور پر پیش کیاہے لی کن حدیث غدیر کے بارے میں  خصوصی طور پر اشکال کی ناکام کوشش کیہے گویا ایسا لگتا ہےکہ صاحب کو خاص کر کلمہ”مولی ” سے چڑ،انرجی یا حسادت ہے؟!!
حیرت انگیز بات یہہےکہ شاہ ولی  اللہ ہندی صاحب نے کتاب “تحفة اثنا عشریہ”میں  لکھا ہے۔(20)
کہ امامت امام علی  علیہ السلام  کو حدیث غدیر سے ثابت نہیں کرسکتے تو بس اسحدیث غدیر کی ردّ کے لئے یہبات کافیہےکہ کلمہ “مولی ” “ولی ” کےمعنیمیں  نہیں آیاہے”مولی “” مفعل” فعیل کے وزن پر نہیں آتا ۔اس بات سے انہوں نے نظر اہل لغت کو ردّ کرنے کی کوشش کیہے جو اہل لغت نے  کہاتھا کہ : “ولی  “سے مراد عہدہ دارد ،متصدی امراورکسی کام کو چلانے والے کے ہیں نیز ولی  زن، ولی  یتیم،ولی  عبد( غلام) بادشاہ کی ولایت اور ولی  عہدہ وغیرہ ان سب کامعنیسرپرست اور عہددار کے ہیں اور ان کے علاوہ مولا” ولی “کےمعنیمیں  بھی استعمال ہواہے۔
موصوف صاحب کییہگفتگو عرب کے مشہور معروف ادیب فراء اور مبرد و غیرہ سے کیونکر پنہان اور مخفی  رہی کہ  انہوں نے کہا کہ” ولی ” اور”مولی ” کےایک ہیمعنیہے!!۔(21)
مزید اہل لغت عرب کا اتفاق ہےکہ ” ولی ” کا ایک معنی “مولی ” کے بھیہے۔(22)
یہاں تک کہ بعض نے تو قرآنی آیات کو دلیل اور استناد کے طور پر پیش کیاہے جیسےآیت مجیدہ] ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَ أَنَّ الْکافِرِینَ لا مَوْلی لَهم ( [(

لغت میں  “مولی “کامعنی

عرب لغت دان حضرات نے لفظ”مولی ” کے معنیآزاد کرنے والا، آزاد شدہ کے علاوہ آقا و مالک اور سرور مراد لی اہے نیز “ولی ” اور سلطان و امیر بھی مراد لی اہے اور دوسری طرف سے سبکا اس بات پر اتفاق ہےکہ لفظ”مولی “اور “ولی ” دونوں کامعنیایک ہے جس سے مراد اولویت ہے۔

لفظ”مولی “کا استعمال

قارئین کرام!
تو اس کی کچھ تفصیل بھی بیان کرتے چلیں کہ لفظ امیر کا مقصدیہہےکہ امیر، جامعہ اور معاشرے کی دیکھ بال اور معاشرے کی نظم و نسق کو چلانے والا اور انکی تربیت و رہن سہن کے بارے میں  پروگرامز ترتیب دین ے والا اورملک و معاشرے کو دشمنوں کے خطرات کو رفع ، دفع کرنے والا ، یہاس کیاصل ذمہ داریہے اور یہامور عام آدمی کے بس کی بات بھینہیں اور نہہیکوئی اس کاحقدار اور اہل بن سکتاہے۔
اسی طرح آقا اور سرور کہ جس کے تحت تکفل یا ماتحت جوبھیہو ان پر تصرف اور حکم کرنے کاوہدوسروں سے سزاوارتر ہے کیونکہ وہ “مولی “اور آقا ہے البتہ حق تصرف اور اختیارات مختلف ہوتے ہیں۔
اور یہدلالت و تصرف ایک صوبے کے گورنر، وزیراعلی ٰ ،ایک مرکزی وزیراعظم اور صدر مملکت کے اختیارات سے جدا و مختلف اور زیادہ و سیع ہواکرتاہے۔
اور ان تمام سے بڑھ کر اختیارات ایک بادشاہ اور مطلق العنان حاکم کا ہواکرتا ہے اوراس سے بھیاہمترین اور وسیع ترین اختیارات کی  مالک شخصیت ہرامت کے لئے اس کا مبعوث شدہ پیغمبر ہواکرتاہے جو بندگان اور انسانوں کو خدا اور حق کیطرف راہنمائی کرتا ہے اس کے بعد یہاختیارات اسی نبییا پیغمبر کے وصی اور جانشین کو منتقل ہوتے ہیں۔
اگر ہملفظ”مولی ” کے حقیقیمعنی”اولی ” سے چشم پوشی اور صرف نظر بھی کریں تو اس کےمعنیسرور، امیر اور سلطان سے آنکھ بند نہیں کرسکتے اور لفظ”مولی ” کا وسیع ترینمعنیجو اس حدیث غدیر سے واضح  ہوتاہے اس کے علاوہکسیپرمنطبق نہیںہوسکتا۔
ان دونوں معنوں کےعلاوہ حدیث غدیرسے دوسرےمعنیہر گز مراد نہیں لی ا جاسکتاہے

“مولی “کے 30 معانی

 تقریبا ان تین معنوں کے علاوہ اہل لغت نے مزید اس لفظ “مولی “کے27 معانی بیان کیے ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔پروردگار 2- چچا 3- ابن عم 4- فرزند 5- خواہرزادہ 6- آزاد کرنے والا 7- آزاد ہونے والا 8- غلام اور عبد 9- مالک و آقا 10- پیروکار 11-وہ جس کو نعمت سے نوازاگیا 12- شریک 13- ہمپیمان اور شریک 14- ہم راہ و ساتھی 15- ہم سایہ16- مہم ان اور گھروالے 17- داماد 18- رشتہ دارد 19- نعمت دین ے والا 20- ہمعہد اور ہم وعدہ21- و لی  22- کسی چیز میں اولی با لتصرف 23- سرور 24- سرور جو کہ مالک اور آزاد کرنے والا نہ ہو 25- دوستدار، محبت کرنے والا 26 یاور و مدگار 27- کسی کام ،امر میں  تصرف کرنے والا 28 – کسی کام کا عہدہ دار اور ذمہ دار۔
پہلامعنیکفر آمیز ہے چونکہ خداوند عالم کے علاوہ ساری کائنات کا کوئی اور پروردگار نہیںہے اور اسی طرح دو سے لی کر چودہ تک کامعنیبہتدرست اور مراد نہیںہوسکتا بلکہ یہایک جھوٹ او ردورغ ہوگا چونکہ ۔۔۔اسی طرح آزادہ کرنے والا اور آزاد شدہ بھینہیںہوسکتا چونکہ پیغمبر خدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت علی  علیہ السلام  کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ تمام آزادشدگان کے سرور و آقا تھے ممکن نہیںکہ انہیں کسی نے آزاد کیاہو اور ہر گز کسی کے بندے اور غلام بھینہیں تھے اور علی  علیہ السلام  کی ذات گرامی پیغمبرخدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غلاموں کا مالک بھینہیں تھے اور نہہیپیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم خداوندعالم کے علاوہ کسی کے تابع تھے اور اس جمع غفیر،لوگوں کے ٹھا ٹھیں مارتےہوئےسمندر میں  یہاعلان کریں کہ میں  جس کا تابع ہوں علی  علیہ السلام  اس کا تابع ہے!۔
تو یہمعنیپیروبھی مراد اور معقول نہیںہوسکتا۔
 نعمت یافتہ بھی درست نہیںہو سکتاکیونکہ پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کسی کی منت اور نعمت نہیں بلکہ یہاسی ذات تھی جو تمام عالمین کو نعمت دین ے والی  تھی اور ساری کائنات پر رسول کی منت ہے۔
شریک کامعنیبھی درست نہیں چونکہ پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی بھی کسی تجارت و غیرہ میں  کسی کے بھی شریک نہیں رہےہیں تو علی  علیہ السلام  کو اپنے کس کام میں  شریک قرار دے رہے تھے؟!
جب آپ صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم نےحضرت خدیجہ علیہ  ا السلام  کے مال سے تجارت شروع کی تو وہ بعنوان شریک نہیں تھے بلکہ آنحضرت صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تجارت حضرت خدیجہ علیہ  ا السلام  کےلئے ہیکی تھی اگر فرض کریں اور اس بات کو قبول بھی کریں( جو اصل میں  غیر معقول ہے) تو حضرت علی  علیہ السلام  کی ذات تو اس سفر تجارت میں  شریک اور ہمراہ ہینہیں تھی شریک تجارت تو دورکی بات ہے حضرت علی  علیہ السلام  کی تجارت میں  حتی کوئی معمولی دخالت تک بھینہیں تھے۔
ہمپیمان کامعنیبھینہیںہوسکتا کیونکہ رسول خدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  اس کے ہم پیمان تھے ہی نہیں کہاس پر جمیعت میں  یہاعلان اور افتخار کریں کہ علی  علیہ السلام  میرا ہمپیمان ہے!
رشتہ داری، داماد، ہمخانہ ، ومہم ان، ہم سایہاور ہم راہیکامعنیبھی درست نہیںہے اس کی وجہیہہے رسول خدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم کااپنے اس اہماور تاریخی حج میں  ان تمام حجاج کرام کو اس گرمی کی شدت میں ، اس بیابان میں  حجاج کرام کے ٹھاٹٍیں مارتے ہوئے سمندر میں  اپنی موت کاخبردین ا ،فرمان آلہی اور پیغام آلہی کا ابلاغ اور مخصوص منبر بنواکر لوگوں کو دین  و دنیا کی خوشخبری سنانا اور مہمترین پیغام کو پہنچانا اورارشاد فرمانا کہ : جس کا بھی میں ہم خانہ ، ہم راہ، و مہمان، داماد اور میرے رشتہ دار ہے علی  علیہ السلام  بھی اس کے ہم راہ ، ہم سایہ ، ہم ہانہو مہم ان، داماد اور رشتہ دار ہے!
خدا کی قسم !
خدا کی قسم ہر گز ایسا مقصد نہیںہوسکتا اور نہہیعقل قبول کرتیہےکہ وہ عقل کل، ختم الرسلصلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حکمت کے مجسمہ اور خطیب بلاغت سے ایسی باتوں کی نسبت دی جائے!
یہہر گز ممکن نہیںکہ انتی مختصر معمولی وہ بھی لوگوں کو معلوم شدہ بات کے اعلان اور اطلاع کےلئے اس جلتیہوئی گرمی میں  صحراءغدیر میں  روکا جائے۔مزید اگرکوئی اس کو قبول بھی کرے جو کہ غلط ہے تو اس میں  حضرت علی  علیہ السلام  کی ذات گرامی کے لئے کونسا امتیاز اور کونسی فضلی ت تھیکہ حجاج کرام گروہدر گروہ آئے اور ان کی بیعت کے ساتھ مبارکبادی و تبریک اور شاباس دیں۔!!
 لفظ”مولی “کا ایک اورمعنینعمت دہندہ تھا تو اس سےمراد یہہوگا کہ پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرکسی کو نعمت دین ے والاہو اور علی  علیہ السلام  بھی نعمت دین ے والا ہو جبکہ ان دونوں کے درمیان بھی کوئی ملازمہ نہیں پایاجاتا۔ ہاں اس سے مراد نعمت دین  و ہدایت اور نجات آخرت و عزت دنیا کی طرف ہدایت ہو تو یہہم ارے دعوی کے عین مطابق ہوگا چونکہ ہمارامقصودومراد ہدایت سے امامت ہے۔
اس کے بعد ایکمعنیپیمان کا تھا تو اسمعنیمیں  کچھ احتمالات ممکن ہیں۔
نمبر ایک: یہپیمان عرب قاعدے کے مطابق جنگ بندی او رآپس کی ہمکارییا ایک ساتھ مل جل کر کام کرنا۔ایسی بات علی  علیہ السلام  کی ذات کے لئے مناسب نہیں مگر ایک صورت میں  ممکن ہےکہ جب ہمعلی  علیہ السلام  کو رسول خدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا پیروکار مانیں نیز اس مسئلہ میں  تمام مسلمان برابر ہیں اور علی  علیہ السلام  کو جدا بھینہیں کیا جا سکتا۔
ہاں یہایک صورت میں  ممکن ہے جب کوئی کہےکہ علی  علیہ السلام  نے رسول صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے مقابلے میں  خداسے پیمان اور وعدہ کیا تھا کہ دشمنان اسلام، فتنہگر اور تمام سازشوںکے مقابلے میں  حکومت اسلامی کی حمایتاوراس کی تقویت کرے گا۔
یا یہممکن ہےکہ اگر اس ہمپیمانی سے منظور اور مراد: اوصاف حسنہاور فضیلت ہو جیسےاگر کوئی کہےکہ فلانیہمپیمان فضیلت و کرم اور جود و سخا ہےیعنی کریم و فاضل ہے تو اس سے یہبات واضح  ہوگئیکہ اس سے مراد یہہو گا جوکوئی مجھ (پیغمبر صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  )سے جتنا عقیدہ رکھتاہے علی  علیہ السلام  کے ساتھ بھی ایسا عقیدہ رکھے۔اگر چہ اہل عرب اور عربی سے شغف رکھنے والے حضرات اس چیز کو پسند نہیں کرتے اس کے باوجود ہم ارے اصل مراد سے قریب المعنیہے۔
دوستدار اور مدگارکے معنی میں  چند وجوہات قابل تصور ہیں:
1- کیا اس دوستی و مد دسے مراد لوگوں کو علی  علیہ السلام  کی محبت اور نصرت کے لئے تیار کرنا یاان کے جذبات کو ابارناتھا؟۔
2- یاخبری ہویا انشائی ہو۔

دو احتمال
پہلا احتمال:

 اگر خبر یہو تو اس سے مراد  یہ ہے حضرت علی  علیہ السلام  کی محبت تمام لوگوں پر واجب ۔ہے تو یہکوئی نئی بات نہیں تھی جس کے لئے  اس حسایت اور سختی کے ساتھ دستور اور پیغام آلہی آئے اور اس تبلی غ کو ان دشوار شرائط میں  لوگوں تک پہنچادیں اور لوگ بھی فوراً مبارکبادی پیش کریں جبکہ یہتمام جانتے تھے کہ مختلف آیات آلہی حضرت علی  علیہ السلام  کے بارے میں  نازل ہوچکیہیں اور ان میں  ان کی اخوت ،ولایت اور مؤمنین کے ساتھ آپس میں  دوستی کاحکم دیا گیا  تھا جن کی وہ لوگ تلاوت کیاکرتے تھے اور ایک دوسرے کو بتایابھی  کرتے تھے۔(23)
دوسرا احتمال:
 اگر اس سےمراد انشاء ہو تو پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے لوگوں کا حضرت علی  علیہ السلام  کی مدد کرنا اور اس سے محبت رکھنے کو بیان کیا ہے جبکہ محبت و دوستی صرف علی  علیہ السلام  سے مخصوص نہیں چونکہ دوستی و محبت تمام مسلمان ایک دوسرے سے رکھتے ہیں۔
اور اگر اس دوستی اور محبت سے کوئی مخصوص اور خاص مقصد ہوجو تمام احکامات ودستورات اور فرامین کے آگے  سرتسلی م خم کرنا ہے جوخود”اولی  بالتصرف”مقام خلی فۃ اللہ اور جانیشینی پیغمبراسلام صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  ہے۔یہ ی تو ہمارادعویہےاور عین امامت کے مطابق ہے جس کو ہمثابت کرناچاہتے تھے۔اگر یہ جملہ خبری ہو یعنی مقصد علی  کو بتانا تھا کہ لوگوں کا دوست اورمددگاربنے  تو اس بات کوجدا، اکیلے میں  بھی بیان کرسکتے تھے نہاس طرح کے جمع غفیر اور لوگوں کےٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر اور ان مخصوص شرائط میں  دستور دیتے؟!

مزید  کائنات کی سب سے برتر خاتون

اصل حقیقت

قارئین کرام!
 آپ خود ان 30 معانی کے بارے میں  غور فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ اس لفظ “مولی ” سے کوئی بھیمعنیمکمل طور پر صحیح،درست اورقابل قبول نہیںہے اور نہہیحقیقت کےمطابقت ہے چونکہ ہر کسی میں  کوئینہکوئی نقص اور شرائط کی کمی پائی جاتیہے۔لہذاصرف اور صرف اس سے مراد “اولی بالتصرف، سرور و سرپرست اور تمام امور دین ی و دنیاوی کا متولی ہوسکتاہے اور یہتمام رسول اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی ذات گرامی کے لئے بھی ثابت تھے جیسے سرپرستی امت، سرور ورہنما،اولی  بالتصرف اور ولایت وغیرہ اور یہ ی حضرت علی  علیہ السلام  کےلئے بھی ثابت ہےیعنی جسمعنیکو اکثر علماء لغت عربی اور ادیب عرب نے قبول کیا ہےیعنی لفظ”مولی “کو جوبھی انسان پہلی  بار سنے تو اس کے ذہنمیں “اولی  بالتصرف “ہیآتاہے۔

حدیث غدیر میں  چھقرینے

قارئین محترم !
یہ اں تک آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ ہمنے لفظ”مولی “سے”اولی  بالتصرف”کےمعنیکو ثابت کئے لی کن ممکن ہے کوئی اشکال کرے  اور کہے جناب محترم لفظ “مولی ” مشترک لفظیہے جس کے بہتسارے معانیہیں۔ تو یہ اں پر ہماس اشکال کوخود اسی حدیث شریف سے ہیردّ کرسکتے ہیں۔چونکہ اس حدیث میں  چھقرینہ(متصل یا منفصل) پائے جاتے ہیں جن سے دیگر معانی کی نفیہوتیہے۔

1- مقدمہ حدیث:

 صدر حدیث میں  موجود قرینہپیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حدیث غدیر کے جملہ “من کنت مولاہ  فعلی  مولاہ ” سے پہلے فرمایا:” الست اولی بکم من انفسکم”کیا میں  تم لوگوں پر خود تم سے زیادہ حقدار نہیںہوں؟
تو سب نے یک زبان ہوکر جواب میں   کہا:”جی ہاں”۔
 تو اس کے فوراً بعد نبی اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا”من کنت مولاہ  فہذاعلی  مولا” پس یہ اں سے معلوم ہوتا ہےکہ”مولی “سےمراد وہیاولی  بالتصرفاور اولویت ہے جو رسول اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کو حاصل تھی جس کا اس اجتماع میں  تمام لوگوں سے اقرار لی اتھا اور خود لوگوں نے بھی اعتراف کیا تھا۔ اس جملہ ” الستاولی بکم” کو شیعہ سنی دونوں کے بہتسارے علماء و محققین  ،مورخین اور راویوں نے بھی نقل کیا ہےاہل سنت کے علماء میں  سے احمدبن حنبل، ابن ماجہ، نسائی، شیبائی، طبری، طبرانی اور ذہبیوغیرہ قابل ذکر ہیں(24) ۔
نیز ان سب نے صرف نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیہیں بلکہ صحیح السند قرار دین ے کےساتھ ثابت کیا ہےکہ”مولی “سے وہی اولی بالتصرف ،ولایت اور اولویت مراد ہے جو پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے لئے امت پر ثابت تھی ۔وہیاولویت اور ولایت حضرت علی  علیہ السلام  کے لئے بھی ثابت ہے(25)۔

2- ذیل حدیث

حضرت رسول خدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے اسی حدیث شریف کےذیل میں  متعد دجگہوںپر یہجملہارشاد فرمایاتھا( اللہم وَالِ مَنْ وَالاه وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَ اخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ۔)()
قارئین کرام:
 سابقہ گفتگو کی طرح اس جملے سے بھییہبات واضح  ہوتیہےکہ حضرت رسول خدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حضرت علی  علیہ السلام  کو منصب وصایت وولایت اور پوری امت اسلامیہ کی سربراہیدین ے کے بعد امت پر اس صاحب منصب کی اطاعت و مدد اور ان سے محبت کو بھی واجب کردیا۔ چونکہ پیغمبرخدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  جانتے تھے کہ کچھ لوگ حضرت علی  علیہ السلام  سے حسد کرینگے اور بعضدشمنان اسلام منافق بھی علی  علیہ السلام  کے درپے ہیں نیز یہبھی معلوم تھا کہ اس منصب کو دین ے کے بعد کچھ حاسدین ، منافقین اور ریاست طلب افراد ان کی مخالفت کرینگے لی کن ساتھ میں  آفرین اور خوش آمد بھیکہیں گے۔ پس اس لئے پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے لوگوں کو بتانے اور سمجانے کےلئے کہ ولایت و رہبری کے لئے موزون فرد یہہے اور خدا کی دوستی اوربندوں کی دوستی میں  بھی فرق ہے علی علیہ السلام  کی مدد کرنے والوں کے لئے دعا اور دشمنی رکھنے والوں کے لئے نفرین کی، ان کی دوستی کو خدا کی دوستی قرار دیااور ان کے ساتھ دشمنی کو خداسے دشمنی قراردیا۔ اس حدیث شریف میں  عمومی اور کلی  دعا سے عصمت علی  علیہ السلام  کو بھی ثابت کیاجاسکتاہے؛ چونکہ رسول اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے لئے ہر حالت اور ہرزمان میں  عصمت ثابت ہے۔ تمام گناہوں، خطاؤں اور لغزشوں سے منزہ تھے اور لوگوں کی رہبری و سرپرستی کے لئے عصمت کاہونا لازمیہے اور ان تمام مراحل میں  آنحضرت صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حضرت علی علیہ السلام  کو خود سے جدا نہیں فرمایا اور آپ صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  سے پہلے ہیتمام لوگوں کو علی  علیہ السلام  کی اطاعت کو تسلی م کرنے کا دستور دے چکے تھے اور ان کے حکم کی مخالفتت اور سرپیچی کو حرام اور منع فرمایا تھا پس ان احکامات کا صادر کرنادلیل ہےکہحضرت علی  علیہ السلام  کی ذات گرامی اس منصب مقدس کے لئے اولویت رکھتی تھی۔

3-پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی گواہی

اس حدیث شریف میں  ایک جملہگواہیکا بھیہےکہ آنحضرت صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نےلوگوں سے پوچھا۔
 اے لوگو! کس کی شہادت دیتے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا: ہمگواہیدیتے ہیں جزء خداکے کوئی معبود نہیںہے۔
پھر پوچھااس کےبعد کس کی شہادت دیتے ہو؟
لوگوں نے جواب دیا: محمد صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  اللہ کا بھیجا ہوابندہ ہے۔
 پھرآپ صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے پوچھا : تم لوگوں کا ولی  کون ہے؟
سب نے جواب دیا: ہم ار ولی  خدا اور پیغمبر صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے تو اس کے بعد فوراًآنحضرت صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حضرت علی  علیہ السلام  کے دست مبارک کو تھامااور بلند فرماکر ارشاد فرمایا:
( مَنْ كُنْتُ مولاه  فَعَلی  [فهذاعَلی ] مولاه ) جس جس کا خدا اور رسول خدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  ولی ہےیہعلی  ان کامولی ہے۔
اس جملہکو بہتسارے علماء و مورخین نے نقل کیا ہے مانند جریر، زیدبن ارقم، عامربن ابی لی لی  اور حذیفہ ابن اسید وغیرہ ۔ اس سے واضح ہوتاہےکہ جو منصب امامت و ولایتمطلقہخدا اور آنحضرت صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے لئے ثابت تھا وہیولایت مطلقہ علی  علیہ السلام  کےلئے بھی ثابت ہے۔

4- تکمیل دین  اور شکر پیغمبرصلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم

مختلف طریقوں سے نقل ہواہےکہ پیغمبرخدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حدیث غدیر کے بعد دین  مبین کے اکمال اور نعمتوں کے تمام ہونے ، رسالت پیغمبری اور ولایت علی  ابی طالب علیہ السلام  پر خوشحالی  و خشنودی پروردگار کے اظہار پر نعرہ تکبیر بلند فرمایا (26)
پس قارئین کرام!
ہماراسوال ہے وہ کونسی چیز تھی جس کے تمام اور اکمال  و اتمام پر یہتکبیر بلند فرمائی؟
پس یہاکمال دین  و تمام نعمت اور حضرت علی  علیہ السلام  کی امامت و رہبری کےعلاوہ وہ کونسی چیز ہو سکتی جوخشنودی پروردگارو رسالت  کا باعث بنی؟۔

5- پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا اپنی رحلت کی خبردین

پیغمبراکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے امامت وو لایت علی  علیہ السلام  کو بیان کرنے سے پہلے اپنیشہادت کے نزدیک ہونے کی خبر دی تھی اور یہبھی فرمایاتھا میں  عنقریب دعوت خدا کو لبیک کہہ کر تم لوگوں کےدرمیان سے کوچ کررہا ہوں۔(27)
قارئین محترم!
 پیغمبرخدا صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  کایہخبردین ا بتارہاہےکہ تبلی غ رسالت  میں  کوئیاہماور قابل ذکر حکم باقینہیں  رہا جس کا ابلاغ نہکیاہو اور لوگوں تک نہپہنچانے کا خوف و خطرہو ؟ مگر اس کے بعد وہ کونسی چیز ہوسکتیہے جس کی اتنی اہمیتاور ابھی  تک نہپہچانے کا خوف ہو؟
 جواب واضح  ہےکہ جس بات کےابلا غ نہکرنے کا خوف اور آفسوس تھا وہ ولایت و امامت حضرت علی  علیہ السلام  اور عترت پاک کے علاوہ کیا ہوسکتیہے؟
نیز کیا اتنا مہماور اہمیت والاامر و مسؤلی ت ابلاغ ولایت و امامت کےعلاوہ کسی اور چیز پر منطبق، اور برابر فٹ آسکتیہے؟۔

6- مبارک بادی دین

حضرت رسول اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حضرت علی  علیہ السلام  کی ولایت کو پہنچانے کے بعد لوگوں سے فرمایا
لوگو! مجھے مبارکباد دو کیونکہ خدا نے مجھے نبوت اور میری اہل بیت کو امامت کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔(28)
قارئین کرام!
 آ پ نے ملاحظہ فرمایااس جملے میں  رسول اکرم صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے لفظ امامت کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے دوسری بات تین دنوں تک تبریک و مبارکبادی دین ا، علی  علیہ السلام  کے دست مبارک پر بیعت کرنا جشن منانا، اور ان کو زیادہ اہمیت دین ا ولایت و امامت خلافت اور اولویت کےعلاوہ کیا ہوسکتاہے۔
نیزخود ابوبکر اور عمر کاحضرت علی  علیہ السلام  کا دیدار کرنا اور ولایت و رہبری کی مبارکبادی دین ا دلیل ہےکہ اصل مراد رہبری و سرپرستیامت محمدی اورخلافت و امامت تھا۔

منابع و حوالہ جات:

1-ج 1 ص 340 تا 400 (چاپ جدید «مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ»، ص 609 تا 677).
2- و اوجب لی ولایتہ علیکم / رسول اللہ یوم غدیر خم
3- فقال لہ : قم یا علی فاننی / رضیتک من بعدی اماما و ہادیا
4- کسانی ہمچون : دعبل خزاعی ، حمانی کوفی ، ابوفراس ، سید مرتضی ، سید رضی ، حسین بن حجاج ، ابن رومی ، کشاجم ، صنوبری ، مفجع ، صاحب بن عباد، ناشی صغیر، تنوخی ، زاہی ، ابوالعلاء، سروی ، جوہری ، ابن علویہ ، ابن حماد، ابن طباطبا، ابوالفرج ، مہیار، صولی نیلی ، فنجکردی و….
5- اسی طرح ابن عباس ، کلبی ، فراء، ابوعبیدہ بصری ، اخفش ، سعید بن اوس بصری ، بخاری ، ابن قتیبہ ، احمد بن یحیی شیبانی ، طبری ، انباری ، رمانی ، واحدی ، ابن جوزی ، محمد بن طلحہ شافعی ، محمد بن ابوبکر رازی ، تفتازانی ، ابن صباغ ، خجندی ، قوشجی ، خفاجی ، صنعانی ، عثمان حنفی ، عدوی ، شبلنجی (ان تمام مذکور موءلفین کا مکمل حوالہ کتاب«الغدیر» بیانمیں  مذکور ہے).
6- اسی طرح : ثعلبی ، شنتمری ، حسین بن مسعود بغوی ، زمخشری ، عکبری ، بیضاوی ، نسفی ، خازن بغدادی ، حلبی ، نیشابوری ، شربینی ، سلیمان جمل ، جاراللہ اللہ آبادی ، محب الدین افندی .
7- تفسیر کبیر، ج 29 ص 227.
8- التصریح ، خالد بن عبداللہ ازہری ، باب تفضیل .
9- اسی طرح نظام الدین نیشابوری اپنی تفسیر (غرائب القرآن ، ج 27، ص 133).
10- مثل تفتازانی درشرح المقاصد (5/273) و قوشجی در شرح التجرید (ص 477).
11- شرح مواقف (حاشیہ سیالکوتی بر شرح مواقف ، ج 8 ص 361).
12- صواعق محرقہ ، ص 44.
13- اسی طرح : جوہری در صحاح اللغہ (6/2529)، خطیب تبریزی در شرح دیوان الحماسہ (1/9)، سبط بن جوزی در تذکرہ (ص 31)، شبلنجی در نور الابصار (ص 160) و شرح معلقات سبع (ص 54) و…
14- از شاہ صاحب ہندی ، ص 209.
15- صحیح بخاری ، ج 4 ص 1795.
16- صحیح مسلم ، ج 3 ص 430.
17- روض المناظر، ج 2، ص 199.
18- فتح القدیر، ج 4 ص 168.
19-  ایضا ص 209.
20-معانی القرآن ، ج 2 ص 161.
21- از جملہ : مشکل القرآن انباری ، الکشف و البیان ثعلبی ، صحاح جوہری ، غریب القرآن سجستانی ، قاموس فیروزآبادی ، وسیط واحدی ، نہایہ ابن اثیر، تاج العروس و….
22-  جناب مولفنے ، 63 نفر کے نام  وہ بہی بزرگان حدیث اہل سنت کو اپنی کتابمیں  ذکر کیا ہے۔.
23- مثل ابن جوزی درتذکرة الخواص ، ص 32 و ابن طلحہ شافعی در مطالب السوول ، ص 16.
24- الصواعق المحرقہ ، ص 73 (الغدیر، ج 1 ص 300)
25- شواہد التنزیل ، حسکانی ، ج 1 ص 201.
26- مطالب السوول ، ابن طلحہ ، ص 163.
27- شرف المصطفی ، ابوسعید خرگوشی .
28- الغدیر، ج 1 ص 33 بہ نقل از مطالب السئول .
29- سنن ترمذی ، ج 5، ص 590، مسند احمد، ج 6 ص 489، سنن کبری ، ج 5 ص 45، مصنف ، ابن ابی شیبہ ، ج 12 ص 79، المستدرک علی الصحیحین ، ج 3 ص 139.
30- ر.ک . «الغدیر»، ج 1 ص 57، 165، 199، 219 و 213.
31- ر.ک : الغدیر، ج 1 ص 273.
32- انساب الاشراف ، بلاذری ، ج 1 ص 361.
33- مسند شمس الاخبار، علی بن حمید قرشی ، ج 1 ص 102.
34- الغدیر، ج 1 ص 200 بہ نقل از «کتاب سلیم».
35- الغدیر، ج 1 ص 165 (بہ نقل از فرائد السمطین حموئی ، باب 58 سمط اول).
36- مودة القربی ، سید ہمدانی ، (مودت پنجم).
37- فرائد السمطین ، ج 1 ص 79، نظم دررالسمطین ، ص 109، صواعق محرقہ ، ص 149.
38- فرائد السمطین ، ج 1 ص 79.
39- مناقب خوارزمی ، ص 97، صواعق محرقہ ، ص 107.
40- روح المعانی ، ج 23 ص 80.
41- محاضرات الادباء، راغب اصفہانی ، ج 2 جزء 4 ص 478.
42- شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید، ج 6 ص 50.
54-  گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول خدا صلی  اللہ علیہ  و آلہ وسلم  نے حضرت علی  علیہ  السلام  کو منصب وصایت و ولایت اور پوری امت اسلامیہ کی سربراہی دین ے کے بعد امت پر اس صاحب منصب کی اطاعت و مدد اور ان سے محبت کو بھی واجب کردیا۔
اور مولف بزرگوارنےحدیث غدیر کے لفظ مولی سے «اولی» مراد لی ا ہے جو خلافت امیرالمؤ منین (ع) پر ایک بہترین دلیل ہے. مزید تفصل کے لئے  مراجعہ کیجئے،حسن بن ابراہیم در تاریخ مصر، ابوحامد غزالی در سر العالمین ، سبط بن جوزی در تذکرة خواص ‍ الامہ ، ثعلبی در تفسیر خود الکشف و البیان ، کمال الدین بن شافعی در مطالب السوول ، ابوعبداللہ کنجی در کفایة الطالب ، فرغانی در شرح تاثیہ ابن فارض ، ابوالمکارم سمنانی در العروة الوثقی ، شہاب الدین دولت آبادی در ہدایة السعداء، کشی حنفی در التمہید فی بیان التوحید، سید امیرمحمد یمنی در الروضة الندیہ ، شیخ احمد عجیلی شافعی در ذخیرة المآل و دیگران . کہ جہت اختصار، الغدیر، ج 1 ص 391  پر مراجعہ کیجئے (مترجم).

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.