حدیث ثقلین :

0 0

انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی ان تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی ابدا …… 

اس حدیث شریف سے بھی آیت تطھیر کی طرح استدلال ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام ، معصوم ہیں ، اور گذشتہ دلائل کی روشنی میں یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت زھراء سلام اللہ علیہا بھی اھل بیت میں شامل ہیں ۔ 

اس حدیث شریف میں اہل بیت علیھم السلام کو قرآن کا ہم پلہ قرار دیا گیا ہے اور وحی کی زبان سے بولنے والی ذات نے گواہی دی کہ جو شخص ان سے تمسک کرے وہ کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگا ، اور مطلق تمسک کا حکم عصمت کے بغیر ایک نا ممکن امر ہے ۔ 

اہل حق کے لئے یہ حدیث اور اس کے مفاہیم روز روشن کی طرح واضح ہیں ، دشمنی اور عناد کا علاج کسی حکیم کے پاس بھی نہیں پیغمبر گرامی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انّ اللہ یغضب لغضبک و یرضی لرضاک (٣) 

اے فاطمہ اللہ آپ کی ناراضگی اور غضب سے غضب ناک اور آپ کی خوشنودی سے خوشحال ہوتا ہے ۔ 

——-

(١) مسند ابی دائود ج٨ ص ٢٧٤ ۔ اسد الغابہ ج٥ ص ٥٢١ و طبقات ابن سعد ج٧ ص ٢٠٦ والبدایة والنھایہ ابن کثیر ج٨ ص ٢٠٥ والمنتخب طریحی ص ١٨٦ ۔ طبع نجف (٢) الصواعق المحرقة ، ١٤٣ (٣) الشافی السید مرتضی ، ٢٣٥ الطبعة الحجر یة اور تلخیص الشافی الشیخ الطوسی ج٣ ص ١٢٣ طبع نجف و امالی شیخ صدوق ، ص ٢٣٠ ۔ معانی الاخبار باب معنی الشحنة باسنادہ عن ابن عباس ، مجالس شیخ مفید شیخ مفید باسنادہ عن الامام الباقر گیارہویں مجلس از ابن حمزہ ثمالی ۔ مستدرک الحاکم نیشاپوری ج ٣ ص ١٥٤ باب مناقب فاطمہ ۖ مجمع الزوائد ج٩ ص ٢٠٣ باب مناقب فاطمہ ۖ الذخائر المحب الطبری فی ترجمہ فاطمہ ۔ اسد الغابہ ابن اثیر در ترجمہ فاطمہ ۔ مجمع البیان ج٢ ص ٤٥٣ ( اس میں روایت یوں ہے ۔ انّ اللہ لیغضب لغضب فاطمہ و یرضی لرضا ھا ) 

مزید  حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

من اذی فاطمة فقد اذانی و من اذانی فقد اذی اللہ (١) 

پیغمبر ۖ نے فرمایا : جس نے حضرت زھراء ۖ کو رنجیدہ خاطر کیا گویا اس نے مجھے رنجیدہ کیا اور جس نے مجھے رنجیدہ کیا بتحقیق اس نے خدا کی ناراضگی اور غضب کو مول لیا ۔ حضر ت زھراء سلام اللہ علیہا کی ناراضگی اور غضب کو غضب خدا کے ساتھ پیوستہ کرنا ، اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ حضرت زھرا ۖ کا غضب اور ناراضگی ہمیشہ حق اور صداقت پر مبنی ہے، اور یہ عظیم مقام انسان کو عصمت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ، اور یہی کیفیت ان کی خوشنودی کی بھی ہے ۔ 

ہم اپنی گفتگو کا خاتمہ اس بات پر کرتے ہیں کہ حضرت زھرا ۖ کی عصمت پر مفصّل دلائل موجود ہیں جن سے چشم پوشی کرنا ممکن نہیں ، ہاں اگر کو ئی غیر معتبر روایات کے پیش نظر کتاب و سنت اور عقل کی مخالفت پر اتر آئے یا اپنی ناقص عقل سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ دے کہ حضرت زھرا ۖ کا معصوم ہونا مشکل نظر آتا ہے تو اس کے ساتھ بحث کرنا غیر مفید ہے ۔ ناقص اور قاصر عقل ہر حقیقت کو اپنی معلومات کی روشنی میں پرکھتی ہے اور انہیں معلومات کی بنا پر حکم صادر کرتی ہے ۔ 

یہ بعید و غیرہ کہنا ظن پر مبنی ہے اور ظن کبھی بھی حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی حق سے بے نیاز کر سکتا ہے اور علم و یقین جب اپنی تمام تر قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہو تو ظن دم نہیں مار سکتا ۔ 

مزید  امام رضا علیہ السلام اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ظاہری کلمات سے دستبردار ہو جائیں اور اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ بعض افراد پر خدا وند کریم خصوصی فضل و کرم کرتا ہے ۔

این سعادت بزور بازو نیست 

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ 

والحمد للہ الذی ھدانا لھذا وما کنا لنھتدی لو لا ان ھدانا اللہ وآخر دعوانا ، ان الحمد للہ رب العلمین ۔ 

 

——-

(١) صحیح البخاری کتاب ابتدائے خلقت ، باب مناقب فاطمہ ، بخاری نے اسے دو مقامات پر ذکر کیا ہے ۔ کتاب نکاح ، اور باب ذب الرجل عن ابنتہ ، اور صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ ، باب فضائل فاطمہ، مسند احمد ج٤ ص ٣٢٨ ۔ اور کتاب ترمذی الجامع الصحیح ج٥ ص ٦٩٨ کتاب مناقب فضائل فاطمہ بنت محمد ۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.