حدیث ثقلین شیعوں کی نظر میں

0 0

جو  چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شیعہ ہی نبی(ص) کی صحیح سنت کا اتباع کرتے ہیں وہ رسول(ص) کی حدیث ہے جس کو حدیث ثقلین کہتے  ہیں ارشاد رسول(ص) ہے:
” میں تمھارے درمیان دو ۲گران قدر چیزیں چھوڑ نے والا ہوں ، کتاب خدا اور میرے اہل بیت(ع) عترت ، اگر تم ان سے متمسک رہوگے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ان پر سبقت لے جانے کی کوشش نہ کرنا، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور ان سے الگ نہ ہوجانا ورنہ برباد ہوجاؤ گے اور (دیکھو) انھیں سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیوں کہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔” ( صحیح ترمذی، صحیح مسلم، مستدرک حاکم، مسند احمد بن حنل، کنز العمال، خصائص نسائی ، طبقات ابن سعد طبرانی ، سیوطی ، ابن حجر ،ابن اثیر مزید تفصیل کے لئے المراجعات کا صفحہ ۸۲۰ سے مطالعہ فرمائیں)
بعض روایات میں ہے مجھے لطیف و خبیر نے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس وارد ہوں گے۔
حدیث ثقلین کو اہلِ سنت والجماعت نے اپنی بیسیوں صحاح و مسانید میں نقل کیا ہے جبکہ شیعوں نے اپنی ہر حدیث کی  کتاب میں نقل کیا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ اہلِ سنت والجماعت گمراہ ہو گئے ہیں کیوں کہ انھوں نے دونوں (قرآن و عترت) سے ایک ساتھ تمسک اختیار نہیں کیا اور اس لئے ہلاک ہوگئے کہ انھوں اہلِ بیت(ع) پر ابوحنیفہ ، مالک ، شافعی، حنبل، کو مقدم کیا ان کی تقلید کی اور عترتِ طاہرہ(ع)  کو چھوڑ دیا۔
ان میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ : ہم نے قرآن سے تمسک رکھا ہے ، تو اس پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لئے کہ قرآن میں تمام چیزیں پر کلی طور پر بیان ہوئی ہیں اس میں احکام کی تفصیل کا تذکرہ نہیں ہے اس میں بہت سے احتمالات ہیں ۔ اس کے لئے مفسر  و بیان کرنے والے کا ہونا ضروری ہے اور بالکل یہی کیفیت سنتِ رسول(ص) کی بھی ہے اس کے لئے بھی ثقہ راویوں ، مفسرین اور عالموں کی ضرورت ہے۔
اس مشکل کو کوئی حل نہیں ہے مگر یہ کہ ائمہ اطہار(ع) کی طرف رجوع کیا جائے کہ جن کے بارے میں رسول(ص) نے وصیت فرمائی ہے۔
اور جب حدیثِ ثقلین کے ساتھ ان احادیث کا اضافہ کرتے ہیں کہ جن کا وہی مفہوم ہے جو حدیث ثقلین ، مثلا
” علی(ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی(ع) کےساتھ ہے یہ دونوں کبھی جدا یہ ہوں گے ۔ یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے۔” ( مستدرک حاکم جلد۳ ص۱۲۴)
نیز فرمایا :
علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کےساتھ ہے اور یہ ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ روزِ قیامت حوض پر میرے پاس وارد ہوںگے”۔
( منتخب کنز العمال جلد۵ ص ۳۰ تاریخ ابنِ عساکر جلد۳ ص۱۱۹ تاریخ بغداد ج۱۴ ص۱۲۱ تاریخ الخلفا ابن قتیبہ جلد۱ ص۷۳)
ان تمام چیزوں سے ہماری اور تمام محققین  کی سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ جس نے علی(ع)  کو چھوڑ دیا اس نے قرآنِ کریم  کی حقیقی تفسیر کو چھوڑدیا اور جس نے علی(ع) سے بے اعتنائی کی اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور باطل کو اختیار کرلیا کیونکہ حق کے بعد صرف باطل ہی رہ جاتا ہے۔
ہمارے نزدیک یہ بات بھی ثابت ہے کہ اہلِ سنت والجماعت نے قرآن اور سنت نبوی(ص) دونوں کو چھوڑ دیا کیوں کہ انھوں نے حق یعنی علی ابن ابی طالب (ع) کو چھوڑ دیا۔
چنانچہ نبی(ص) کی حدیث ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی اور ان میں سے صرف ایک فرقہ باجی ہوگا۔ اور یہ فرقہ وہی ہے جو امام علی(ع) کا اتباع کر کے حق و ہدایت پر گامزن ہوتا ہے۔ علی(ع) کے دشمن سے جنگ اور آپ(ص) کی صلح کے تحت صلح کرتا ہے آپ کے علم میں آپ(ص) کی اقتداء کرتا ہے اور آپ(ص) کی اولاد میں ائمہ میامین پر ایمان رکھتا ہے۔
یہی لوگ تمام مخلوقات سے بہترین ہیں ان کی جزاء ان کے پروردگار کے  پاس ہمیشہ رہنے کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے خدا ان سے راضٰ اور وہ اس سے خوش۔

مزید  نتن یاہو استعفیٰ دو!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.