حجة الاسلام دلیر: لقمہ حلال رجبیون کے طرززندگی کی بنیاد ہے

0 0

کی رپورٹ کے مطابق حجة الاسلام بہرام دلیر نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگار سے گفتگو کے دوران اس سوال کہ ماہ رجب میں کس قسم کے طرززندگی کو اپنانا چاہیے تاکہ رجبیون کے زمرے میں آجائیں؟ کے جواب میں کہا ہے کہ جوچیز رجبیون کی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے وہ لقمہ حلال اورحرام پرتوجہ ہے

کی رپورٹ کے مطابق حجة الاسلام بہرام دلیر نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگار سے گفتگو کے دوران اس سوال کہ ماہ رجب میں کس قسم کے طرززندگی کو اپنانا چاہیے تاکہ رجبیون کے زمرے میں آجائیں؟ کے جواب میں کہا ہے کہ جوچیز رجبیون کی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے وہ لقمہ حلال اورحرام پرتوجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ البتہ اس سے مراد اخلاقی رذائل پرتوجہ دینا ہے اوراگراخلاقی فضائل اور رذائل کی مراعات نہ کی جائے تو اس مہینے میں رجبیون کے دائرے میں شامل ہونا شک وتردید سے دوچارہوجائے گا۔
حوزہ کے اس استاد نےکہا ہے بنابریں رجبیون کے زمرے میں داخل ہونے کے لیے حلال اورحرام مسائل پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔
حجة الاسلام دلیر نےمزید کہا ہےکہ الہی طرززندگی اس طرح ہے کہ فقہ کے میدان میں حلال وحرام، مکروہات اورمستحبات کی رعایت کرنی چاہیے اوراخلاقی میدان میں بھی اپنے آپ کو اخلاقی فضائل سے آراستہ اوراخلاقی رذائل سے پیراستہ کرنا چاہیے۔
انہوں نےکہا ہے کہ بنابریں واجبات پرعمل،محرمات سے اجتناب،جہاں تک ہوسکتا ہے مستحبات پرعمل،نماز تہجد کا قیام،بزرگان دین کی زیارت جیسے اعمال انجام دینے کے ذریعے ایک شخص کورجبیون کےطرززندگی کے نزدیک کیا جاسکتا ہے اوراس مسئلے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ نماز کے قضا ہونے کے ساتھ عاقبت بخیرہونا بہت مشکل ہے

مزید  امام سجاد (ع) کو حضرت زينب کبري (س) کي تسلي

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.