حجاب کا مناسب اور صحیح استعمال

0 3

پہلے تو یہ ہے کہ مردوں پر یہ فرض ہوتا کہ وہ عورتوں کی عزّت واحترام میں پہل کریں وہ کوئی ایسا فعل نہ کریں یا کسی ایسے عمل کی اجازت نہ دیں جس سے عورت کی 

عزّتِ نفس یا اس کی ناموس پر اثر ہو اور اس کی عزّت کسی طرح سے بھی کم ہو۔ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی نظریں انکساری اور عاجزی میں نیچے رکھیں دل 

سے۔ وہ پُروقار کپڑے پہنیں اور ایسے کوئی فعل کے مرتکب نہ ہو اور نہ ہی ایسی جگہوں پر جائیں جس سے سبکی محسوس ہو۔

حجاب مردوں اور عورتوں کے آپس میں ملنے سے منع نہیں کرتا دور نہ ہی رکاوٹ پیدا کرتا ہے ساتھ میں تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے،اچھے اعمال کرنے اور اسی طرح سے 

دوسرے نیک کام۔ بلکہ حجاب کے ساتھ ملنے اور دونوں طرف سے حجاب کا احترام کرتے ہوئے ملنا۔ خلوص اور صاف دل سے ملنا ہوگا بغیر دل میں کوئی بُرا خیال لائے ہوئے۔

عورتوں کو خود کو ایک پُر وقار اور عزّت والی مخلوق تصوّر کرنا چاہیۓ اور مردوں سے پاکیزگی کے ساتھ ملنا چاہئیے۔ اور ان کو مردوں کے ساتھ ایسا کو ئی برتاؤ نہیں 

کرنا چاہئیے۔ جس سے کوئی کشش یا دعوت یا اشارہ ملے اور نہ ہی کوئی بے تکلفی دکھانا چاہئے۔ جس سے مردوں کے جذبات ابھریں۔

جب وہ عورتیں ایسے مردوں میں ہوں ۔ جس سے نزدیکی رشتہ داری نہیں ہے تو ان کو حجاب کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ تاکہ ان کے حُسن اور جسم کی بے جا نمائش نہ ہو سکے۔ 

مزید  حج کے ایام میں لبیک اللھم لبیک کی دلنشین آواز ساری دنیا میں گونجتی ہے

اس کی پردہ پوشی ہو۔ تمام مُسلم عُلماء کو اس پر پورا اتفاق ہے کہ مُسلم عورتوں کو اپنے جسم کی پردہ پوشی پوری طرح کرنا چاہئے۔ سوائے ان کے ہاتھ (ہتھیلیاں) اور چہرہ۔ 

مسلم عورتوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس اصول پر پوری طرح کاربند رہیں۔ اس طرح کہ وہ ڈھیلا ڈھالہ کپڑا پہنیں تاکہ جسم کے نشیب و فراز کو چھپا سکیں۔ اوراپنے بالوں کو 

خاص طور پر اسکارف سے چھپائے رہیں۔

عورتوں اور مردوں کے سادہ اور عام پوشاک میں فرق ہوتا ہے۔ ان کے جسموں کی بناوٹ اور فطری تقاضوں کی بنا پر اور خاص کر کشش کو چھپانے کے لئے ۔ اس امتیازی پوشاک یا 

حجاب کو مغربی ممالک میں جہاں کی عورتوں کی ایک قلیل تعداد عریانی لئے ہوئے رسالے اور میگزین پڑھتیں ہیں۔ اس کے مقابلے میں مرد حضرات جو ایسے رسالے زیادہ پڑھتے ہیں 

یا فاحشہ عورتوں سے زیادہ تعلقات رکھتے ہیں۔

کچھ لوگوں کے خیالات کے برخلاف۔ حجابنہ تو کمتری کی نشانی ہے اور نہ ہی عورتوں پر مردوں نے لادا ہے یا زبردستی کی ہے۔ اللہ متعال کے نزدیک عورتوں اور مردوں میں 

درجات کی صرف زہد و تقویٰ سے پہچان ہوتی ہے وہ بھی انفرادی طور پر۔ جب پردہ کی بات ہوتی ہے تو ان کی پہچان غیر مادّی کردار جسے ایمانداری اور عقل و دانش سے ہوتی 

ہے۔

اسلامی سادہ لباس ’حجاب‘ عورتوں کا نہ تو سماجی طور پر گلا گھونٹتا ہے کہ زندگی کی روز مرذہ کی حرکات و سکنات پر پابندی ہوجائے اور نہ ہی ان کے اظہار خیال، تعلیم، 

صحت یا حفظان صحت اور دوسری آزادئ نسواں یا شخصی آزادی پر پابندی ہوتی ہے۔ بلکہ ان معاملوں میں آزاد رہتی ہیں۔ بلکہ حجاب ایک ٹھوس سماجی ماحول پیدا کرتا ہے۔ اور 

مزید  امام خمینی کے اصولوں کا جائزہ

سماجی بُرائیوں جیسے کہ عصمت درسی اور چھڑ چھاڑ کی روک تھام کرتا ہے۔ اس لئے کہ حجاب جب درمیان ہو تو ایسے مواقع نہیں آتے یا کم ملتے ہیں۔ حجاب کی پابندی اور عمل 

اسلام کے ایک وسیع نظام کا حصّہ ہے۔ اور جب اس پر صحیح اور مناسب طور پر عمل ہوتا ہے تو عورتوں اور مردوں دونوں کی عزّت اور پاکیزگی قائم رہتی ہے۔ اور پورا سماج صاف 

ستھرا رہتا ہے۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.