حادثات زندگی میں ائمہ علیہم السلام کا بنیادی موقف

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں ۴۰ ء ہجری میں امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد سے کبھی پیغمبر اسلام (ص) کے اہل بیت علیہم السلام اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ فقط گھر میں بیٹھے اپنے ادراک کے مطابق احکامات الٰہیہ کی تشریح وتفسیر کرتے رہیں بلکہ صلح کے آغاز ہی سے تمام ائمہ طاہرین علیہم السلام کا بنیادی موقف اور منصوبہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے طرز فکر کے مطابق حکومت اسلامی کے لئے راہیں ہموار کریں چنانچہ یہ فکر خود امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زندگی اور کلام میں بطور احسن ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔

امام حسنعلیہ السلام نے معاویہ سے صلح کرلی تو بہت سے ناعاقبت اندیش کم فہم افراد نے حضرت علیہالسلام کو مختلف عنوان سے ہدف بنالیا اور اس سلسلہ میں آپ کو مورد الزام قراردینے کی کوشش کی گئی کبھی تو آپ (ع) کو مومنین کی ذلتورسوائی کا باعث گردانا گیا اور کبھی یہ کہا گیا: ”آپ نے معاویہ کے مقابلہ پر آمادہ جوش وخروش سے معمور مومنین کی جماعت کوذلیل وخوار کردیا معاویہ کے سامنے ان کا سر جھک گیا “۔بعض اوقات احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ذرا نرم وشائستہ انداز میں بھی یہی بات دہرائی گئی ۔

امام علیہالسلام ان تمام اعتراضوں اور زبان درازیوںکےجواب میں انھیں مخاطب کرکے ایک ایسا جامع و مانع جملہ ارشاد فرماتے تھے جو شاید حضرت کے کلام میں سب سے زیادہ فصیح و بلیغ اور بہتر ہو ۔ آپ (ع) کہا کرتے تھے کہ : ما تدری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الیٰ حین“ تمھیں کیا خبر شائد یہ تمھارے لئے ایک آزمائش اور معاویہ کے لئے ایک عارضی سرمایہ ہو ۔ اصل میں یہ جملہ قرآن کریم سے اقتباس کیا گیا ہے۔ 

اس جملہ سےصاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت کو مستقبل کا انتظار ہے اور وہ مستقبل اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتاکہ امام علیہ السلام کے نظر یہ کے مطابق حق سے منحرف موجودہ ناقابل قبول حکومت برطرفکی جائے اور اس جگہ آپ کی پسندیدہ حکومت قائم کی جائے جبھی توآپ ان لوگوں سے فرماتے ہیں کہ تم فلسفہ صلح سے واقفیت نہیں رکھتے تمھیں کیامعلوم کہ اسی میں مصلحت مضمر ہے ۔

آغازصلح میں ہی عمائدینشیعہ میں سے دو شخصیتیں ،مسیب بن نجیہ اور سلیمان بن صردخزاعی چند مسلمانوں کے ہمراہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئیں اور عرض کیا:ہمارے پاس خراسان وعراق وغیرہ کی خاصی طاقت موجود ہے اور ہم اسے آپ کی اختیار میں دینے کے لئے تیار ہیں اور معاویہ کا شام تک تعاقب کرنے کے لئے حاضر ہیں ۔حضرت علیہ السلام نے ان کو تنہائی میں گفتگو کے لئے طلب کیا اور کچھ بات چیت کی ،جب وہ وہاں سے باہر نکلے تو ان کے چہرے پر طمانیت کے آثار ہویدا تھے ۔انھوں نے اپنے فوجی دستوں کو رخصت کردیا حتی کہ ساتھ آنے والوں کو بھی کوئی واضح جواب نہ دیا۔

طہٰ حسین کا خیالہے” در اصل اسی ملاقات میں شیعوں کی تحریک جہاد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا تھا۔“یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ،ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھے ،مشورے ہوئے اور اسی وقت شیعوں کی ایک عظیم تنظیم کی بنا رکھ دی گئی۔

چنانچہ خودامام (ع) کے حالات زندگی اور مقدس ارشادات سے بھی واضح طور پر یہی مفہومنکلتا ہے ۔اگر چہ یہ زمانہ اس قسم کی تحریک اور سیاسی جدوجہد کے لئے سازگار نہ تھا ۔لوگوں میں سیاسی شعور بے حد کم اور دشمن کے پروپیگنڈوں نیز مالی دادووہش کا بازار گرم تھا ۔دشمن جن طریقوں سے فائدہ اٹھا رہاتھا ،امام علیہ السلام اختیار نہیں کرسکتے تھے۔مثال کے طور پر بے حساب پیسہ خرچ کرنا اور معاشرہ کے چھٹے ہوئے بد قماش افراد کو اپنے گرد اکٹھا کرلینا امام علیہ السلام کے لئے ممکن نہ تھا۔ظاہر ہے دشمن کا ہاتھ کھلا ہوا تھا اور امام کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔آپ اخلاق وشریعت کے خلاف کوئی کام انجام نہ دے سکے تھے ۔

یہیوجہ ہے کہ امام حسن علیہ الصلوٰۃو السلام کا کام نہایت ہی عمیق ،دیر پا اور بنیادی قسم کا تھا ۔دس برس تک حضرت (ع) اسی ماحول میں زندگی بسر کرتے رہے ۔ لوگوں کو اپنے قرب کیا اور انھیں تربیت دی ۔کچھ لوگوں نے مختلف گوشہ و کنار میں جام شہادت نوش کرکے معاویہ کی حکومت سے کھل کر مقابلہ کیا اور نتیجہ کے طور پر اس کی مشینری کو کافی کمزور بنایا ۔

اس کے بعدامام حسین علیہ السلام کا زمانہ آیا تو آپ (ع) نے بھی اسی روش پر کام کرتے ہوئے مدینہ ،مکہ نیز دیگر مقامات پر اس تحریک کو آگے بڑھایا ۔ یہاں تک کہ معاویہ دنیا سے چلا گیا ،اور کربلا کا حادثہ رو نما ہو ا ۔اگر چہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کربلا کا حادثہ اسلام کے مستقبل کے لئے نہایت ہی مفید اور ثمر آور ثابت ہوا لیکن وقتی طور پر وہ مقصد جس کے لئے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو شاں تھے کچھ دنوں کے لئے اس میں تاخیر ہو گئی کیوں کہ اس حادثہ نے دنیائے اسلام کو رعب و حشت میں مبتلا کر دیا تھا ۔امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے قریبی رفقاء کو تہ تیغ کر دیا گیا او ر دشمن کو تسلط و غلبہ حاصل ہو گیا ۔ اگر اقدام امام حسین علیہ السلام اس شکل میں نہ ہوتا اور یہ تحریک طبیعی طور پر جاری رہتی تو یہ بات بعید از امکان نہیں کہ مستقبل قریب میں جد و جہد کچھ ایسا رخ اختیار کر لیتی کہ حکومت کی باگ ڈور شیعوں کے ہاتھ میں آجاتی ۔البتہ یہاں اس گفتگو کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ معاذ اللہ ،امام حسین علیہ السلام کو انقلاب برپا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔بلکہ اس وقت حالات نے کروٹ ہی کچھ ایسی بدلی تھی کہ حسینی(ع) انقلاب ناگزیر ہو گیا تھا ،اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اسلام کی بقا کے لئے حسینی(ع) انقلاب بے حد ضروری تھا ، لیکن اگر یکا یک حالات یہ رخ اختیار نہ کر لئے ہوتے اور امام حسین علیہ السلام اس حادثہ میں شہید نہ ہوئے ہوتے تو شاید جلد ہی مستقبل سے متعلق امام حسن علیہ السلام کا منصوبہ بار آور ہو جاتا ۔

چنانچہیہاں میںایک روایت نقل کر رہا ہوں جس سے اس بیان کی واضح تائید ہو تی ہے ۔اصول کافی میں ابو حمزہ ثمالی کی ایک روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے یوں نقل کی گئی ہے :

” سمعت اباجعفر علیہ السلام یقول : یا ثابت ،ان اللّٰہ تبارک و تعالیٰ قد کان وقت ھٰذا الامر فی السبعین “

”ھٰذاالامر“سے مراد حکومت و ولایت اہلیت علیہم السلام ہے کیوں کہ روایت میںہے ، اگرتمام مقامات پر نہ کہا جائے تو اکثر و بیشتر مقامات پر جہاں جہاں بھی ھٰذا الامر کیتعبیر استعمال ہوئی ہے اس سے مقصود اہلبیت علیہم السلام کی حکومت و ولایت ہیہے اگر چہ بعض موارد میں یہ کلمہ ،تحریک اور اقدام کے معنوں میںبھی استعمال ہوا ہے اور وہاں حکومت مراد نہیں ہے ۔ بہر حال ھٰذ الامر ، یہ موضوع ۔ کو ن سا موضوع ؟وہی جو شیعیان آل محمد (ص) کے درمیان رائج و مرسوم رہا ہے اور جس کے بارہ میں برسوں گفتگو ہوتی رہی ہے جس کی تکمیل کی آرزو اور منصوبہ سازی کی جاتی رہی ہے ۔

امام محمدباقر علیہ السلام اس روایت میں فرماتے ہیں : خدا وند عالم اس امر ( یعنی حکومتاہلبیت(ع) ) کے لئے ۷۰ ئہجری معین کرچکاتھا ،اوریہ شہادت امام حسین علیہ السلام کے دس سال بعد کی تاریخ ہے ۔

امام اس کے بعد فرماتے ہیں :

”فلما ان قتلالحسین صلوات اللّٰہ علیہ اشتد غضب اللّٰہ تعالیٰعلیٰ اہل الارض فاخرہ الیٰ اربعین ومائۃ“

جب امامحسین علیہ السلام کو شہیدکر دیا گیا ، اہل زمین پر خدا وند عالم کے غضب میں شدت پیدا ہو گئی اور وہ ( تاسیس حکومت کا ) وقت ۴۰ ۱ ئہجری تک کے لئے آگے بڑھادیا گیا ۔

یہتاریخ ( ۱۴۰ ئہجری ) امام جعفرصادق علیہ السلام کی شہادت سے آٹھ سال قبل کی ہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی سوانح حیات کی ذیل میں ہم ۱۴۰ ئہجری کی اہمیت کے بارہ میں تفصیلی بحث کریں گے ،اس سلسلہ میں میرا خیال یہی ہے کہ وہ ولی امر جس کے ذریعہ ایک انقلابی اقدام کے تحت اہلبیت (ع) کا حق واپس ملنا تھا امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہی ذات مبارک ہونی چاہئے تھی مگر اس وقت بنو عباس نے خود خواہی عجلت پسندی ،دنیا پرستی اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہوئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا اور فرصت بھی اہلبیت (ع) کے ہاتھ سے چھین لی گئی اور وعدہ الٰہی پھر کسی اور وقت کے لئے ٹل گیا۔

روایتکے آخری فقرے یہ ہیں :

”فحدثناکمفاضعتم الحدیث و کشفتم حجاب الستر( ایک دوسرے نسخہ میں قناع الستر ہے ) ولم یجعل اللّٰہ لہ بعد ذالک وقتا عندنا ، و یمحوا اللّٰہ مایشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب “

یعنیہم نے تم لوگوں کواس واقعہ سے مطلع کیا اور تم نے اس کو نشر کر دیا بات پردہٴ راز میں نہ رکھ سکے ،عوام میں نہ کہا جانے والاراز افشا کر دیا ۔ لہٰذا اب خدا وند عالم نے اس امر کے لئے کوئی دوسرا وقت معین طور پر قرار نہیں دیا ہے خدا وند عالم اوقات کو محو کر دیا کرتا ہے جس چیز کی چاہتا ہے نفی کر دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت کر دکھاتا ہے ۔ اور یہ بات نا قابل تردید مسلمات اسلام میں سے ہے کہ مستقبل کے سلسلہ میں جو بات خدا کی جانب سے حتمی قرار دی جا چکی ہے وہ نظر و قدرت الٰہی میں تغیر پذیر نہیں ہے ۔

ابو حمزہثمالی کہتے ہیں :

”حدثت بذالکابا عبداللہ (ع) فقال کان کذالک “ (۱)

میں نےروایت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیان کی جس کو سن کر امام (ع) نے فرمایا: ہاں واقعا اسی طرح ہے ۔

اس قسمکی روایتیں بہت ہیںلیکن مذکورہ روایت ان سب میں واضح اور روشن ہے ۔

(۱)۔ اصول کافی کتاب الحجہ باب کراہیۃ التوقیت ۔روایت اول ج/۳ص/۱۹۰طبع بنیاد رسالت ،تہران

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

20 − 8 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More