جہان میں اسلامی بیداری مسلمانوں کی بلند فکری کی علامت ہے

0 2

 

مسلمانوں نے علاقے اور دنیا کی سطح پر ثابت کر دیا ہے کہ وه علمی ترقی اور پیشرفت کے لیے بہترین صلاحیت ، استعداد اور بلند فکری کے مالک ہیں اور اسلامی معاشروں کو دینی اور اسلامی بنیادوں پر اچھے طریقے سے گامزن رکھ سکتے ہیں ۔

آستان قدس رضوی کے قائم مقام متولی جناب سید احمد علوی نے جمہوری اسلامی افغانستان کے وزیر ارشاد حج و اوقاف اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات کے دوران اظہار کیا:مسلمانوں نے علاقے اور دنیا کی سطح پر ثابت کر دکھایا ہے کہ علمی ترقی و پیشرفت کے لیے بہترین صلاحیت و استعداد اور بلند فکری کے مالک ہیں اور اسلامی معاشروں کو دینی و اسلامی بنیادوں پر اچھے طریقے سے گامزن رکھ سکتے ہیں ۔

انہوں نے یہ مطلب بیان کرتے ہوئے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہرگز اسبااسری قوتوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں کہ وہ اس علاقے میں قیام کرنے والی عوامی و اسلامی تحریکوں کو ختم کرسکیں؛اظہار کیا:ماضی قریب کی مسلمانوں کی تحریکوں اور اسلامی بیداری نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ مسلمان استکباری قوتوں کے زیر نگر اور ان سے وابستہ رہنے کے بغیر اپنے معاشروں کو عمدہ اور بہترین طور پر مطلوبہ حد تک مدیریت و سرپرستی کرسکتے ہیں اور اس طرح سے سعادت و کامرانی کی مزہل پر فائز ہوسکتے ہیں ۔

آقائ علوی نے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آستان قدس رضوی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آیت اللہ واعظ طبسی کی مدیریت و سرپرستی میں اسلامی کامیاب مدیریت کا ایک نمونہ ہے؛مزید کہا:ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے موقوفات کی درآمدات و ثمرات وقف کرنے والے حضرات کی نیتوں اور ارادوں کے مطابق خرچ نہیں ہوتے تھے اور یہ حقیقت اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اور بعد کے مراحل کی اسلامی و غیر اسلامی مدیریت میں فرق پائے جانے کے سبب مقایسہ کرتے ہوئے اچھی طرح سے دیکھا جاسکتا ہے ۔

مزید  انتظار كے اثرات

انہوں نے یہ مطلب بیان کرتے ہوئے کہ پہلوی نے ایران میں اراضی کی اصلاحات کے ساتھ موقوفات کی بہت زیادہ اراضی(زمینیں)برباد کردیں؛یاد دھانی کروائی:جو زمین وقف ہو جاتی ہے وہ ہرگز کسی صورت میں بھی فروخت کرنے ۔منتقل کرنے یا اہداء کرنے کے قابل نہیں رہتی لیکن افسوس کہ اُس دور میں وقف کے شرعی مسائل پر عمل درآمد کی رعایت نہیں ہوتی تھی اور موقوفات کی درآمدات اپنی مقررہ جگہوں پر خرچ نہیں ہوتی تھیں ۔

آستان قدس رضوی کے قائم مقام متولی نے بیان کیا:اس وقت آستان قدس رضوی کے مجموعے میں سرچ،تحقیقات،علم،تعلیم اور انتشارات کے میدانوں میں ۱۵ مراکز ایجاد ہوچکے ہیں کہ یونیورسٹیوں اور دینی علمی حوزہ جات کے پانچ ہزار محققین علوم اسلامی کے مختلف ابواب میں ان مراکز میں فعالیت میں مصروف ہیں ۔

انہوں نے دو یونیورسٹیوں کے فعال ہونے اور اسلامی علوم کے بارے میں بہت ساری علمی و تحقیقی کتابوں کے انتشار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا:نرسری سے لے کر ڈاکٹریٹ کے مختلف علمی مراحل میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور اسٹوڈنٹس تعلیمی مراکز میں حصول علم میں مشغول ہیں اور واضح ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے آستان قدس رضوی کے ادارے میں حتی کہ ایک تعلیمی کلاس اور ایک طالب علم بھی موجود نہ تھے ۔

آقائ علوی نے کہا:اس وقت آستان قدس رضوی میں قرآن کریم اور اسلامی علوم کے بارے میں لاکھوں کتابیں منتشر ہونے کو ہیں جن میں سے مثلاً کتاب‘‘المعجم فی فقہ لغۃ القرآن و سر بلاغتہ’’کو ایک تحقیقی اثر کے طور پر ذکر کیا جاسکتا ہے ۔

مزید  عیب تلاش کرنے والا گروہ

انہوں نے مزید کہا:آج آستان قدس رضوی کا جامع کتابخانہ ملکی سطح پر اپنے ۴۱ عدد وابستہ و مربوطہ کتابخانوں کے ساتھ فعال اور رواں دواں ہے جو کہ وقف اور کامیاب مدیریت پر دلالت کرتا ہے ۔

انہوں نے یہ مطلب بیان کرتے ہوئے کہ موقوفاتی بجٹ منجملہ ان بڑے کاموں میں سے ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اور آستان قدس رضوی کے متولی اور خراسان میں ولی فقیہ کے نمائندے آیت اللہ واعظ طبسی کے حکم و دستور سے آستان قدس رضوی میں انجام پذیر ہوا؛اظہار کیا:اس مقدس آستان کے ادارے میں ہزار وقف ناموں کی اسناد موجود ہیں جن میں سے ہر ایک میں متعدد موقوفات شامل ہیں،یہ تمام وقف نامے بہت دقت اور غور سے پڑھے گئے اور وقف کرنے والوں کے مقاصد و نیات کو واضح طور پر نوٹ کرلیا گیا اور اس ترتیب سے ہر ایک موقوفہ کیلیے متعلقہ خاص بجٹ قرار پایا۔

آستان قدس رضوی کے قائم مقام متولی نے یہ بات بتاتے ہوئے کہ چند وقف ناموں کی درآمدات حرم مطہر کی لائٹنگ،قالینوں کے انتظامات،مہمانسرا اور دارالشفاء کے لیے خرچ کی جاتی ہیں؛کہا:وقف کرنے والے حضرات کے اداروں اور نیتوں کے بارے میں ۲۵ موضوعات موجود ہیں اور آستان مقدس میں واقفین کی نیات کے عین مطابق عمل درآمد ہورہا ہے ۔

انہوں نے موقوفہ زرعی زمینوں کے ماڈرن اور خودکار انداز سے احیاء کے پروگرام کے بارے میں بتاتے ہوئے وضاحت کی:آستان قدس رضوی میں تقریباً ۱۵ زرعی،کھیتی باڑی اور صنعت و کارخانجات کے ادارے موجود ہیں جن میں سے آستان قدس رضوی کے مزرعۂ نمونہ ‘‘مثالی اور انعام یافتہ کھیت’’کے بارے میں اشارہ کیا جاسکتا ہے جو سات ہزار ہیکٹر کی فضاء پر مشتمل ہے 

مزید  شادى كا مقصد

آقائ علوی نے بیان کیا:آستان قدس رضوی میں صنعتی،پروڈکشن سے مربوط اور خدماتی تقریباً ۱۰۲ ادارے اور کمپنیاں موجود ہیں جو فوڈ پروڈکشن،قند،دودھ سے بنی ہوئی غذائی اشیاء،لباس بننے سے متعلقہ اشیاء اور میڈیسن پروڈکٹس کے میدانوں میں سرگرم عمل اور مصروف کار ہیں ۔

آستان قدس رضوی کے قائم مقام متولی نے کہا:حضرت امام رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء کی شہادت کے دور سے اسلامی انقلاب کی شروعات تک کہ ایک ہزار اور چند سال گذر رہے ہیں،حرم مطہر رضوی کی پیمائش تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار مربع میٹر ہوا کرتی تھی جبکہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے ان تیس سالوں کے عرصے میں حرم مطہر کی یہ فضا دس لاکھ مربع میٹر تک وسعت اختیار کرچکی ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سال بھر میں اندرون ملک سے تقریباً اڑھائی کروڑ جبکہ بیرون ممالک سے تقریباً تیس لاکھ زائرین حرم مطہر رضوی میں مشرف ہوتے ہیں؛کہا:وہ سہولیات و خدمات جو دن رات زائرین کو فراہم کی جاتی ہیں دیگر مذہبی مراکز کے لیے بہترین نمونہ و آئیڈیل ہے ۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.