جھوٹ کے نقصانات

0 0

سچائي جتنى پسنديدہ چيز ھے جھوٹ اتنى ھى نا پسنديدہ چيز ھے ۔ سچائى بھترين صفت ھے اور جھوٹ بد ترين صفت ھے ۔ زبان ،احساسات باطنى کى ترجمان اور راز ھائے دل کو ظاھر کرنے والى ھے ! جھوٹ اگر عداوت و حسد کى بنا پر ھو تو خطرناک غصہ کا نتيجہ ھے اور اگر طمع، لالچ يا عادت کى بنا پر ھو تو انسان کے اندر بھڑکتے ھوئے جذبات کا نتيجہ ھوتا ھے ۔

اگر زبان جھوٹ سے آشنا ھو گئى اور گفتگو ميں جھوٹ نماياں ھو گيا تو جھوٹ بولنے والے کى عظمت اس طرح پادر ھوا ھو جاتى ھے جيسے موسم خزاں ميں درخت کے پتے ! يا شيشوں سے بنے ھوئے مکان پر برستے ھوئے پتھر ! جھوٹ انسان کى ناپاکى و خيانت کى روح کو تقويت ديتا ھے اور ايمان کے بھڑکتے ھوئے شعلوں کو خاموش کر ديتا ھے ۔ جھوٹ رشتھٴ الفت و اتحاد و وفاق کو توڑ ديتا ھے اور معاشرہ ميںعداوت و نفاق کے بيج بو ديتا ھے ۔ گمراھيوں کا زيادہ تر حصہ جھوٹے دعووں اور خلاف واقع گفتگووں کا نتيجہ ھوتا ھے ۔ برے لوگ اپنے فاسد مقاصد کى تکميل کے لئے اپنى شيريں بيانى ، کذب لسانى سے سادہ لوح حضرات کو اپنا گرويدہ بنا ليتے ھيں اور اپنى رطب اللسانى کى زنجير ميں اسير کر ليتے ھيں ۔ جھوٹا آدمى کبھى يہ سوچتا ھى نھيں ھے کہ کوئى دوسرا اس کے رازسے مطلع ھو جائے گا ۔ اسي اطمينان کى بنياد پر اپنى گفتگو ميں غلطيوں اور تناقض کا شکار ھوتا رھتا ھے اور کبھى شديد رسوائى سے دو چار ھو جاتا ھے اسى لئے يہ مثل بے بنياد نھيں ھے کہ :

دروغ گو را حافظہ نباشد !

مزید  اٹھارہ ذی الحجہ کو عید کیوں؟

اس برى عادت کے عام ھونے کى ايک وجہ جس نے پورے معاشرے کو زھر آلود کر ديا ھے وہ مشھور مقولہ ھے جو زباں زد خاص و عام ھے کھ” دروغ مصلحت آميز بھتر ازراستى فتنہ انگيز “يھى وہ خوشنما پردہ ھے جس نے اس برائى کى خباثت کو چھپا رکھا ھے اور عموما لوگ اپنے سفيد جھوٹ کے جواز کے لئے اسى مقولہ کا سھارا ليتے ھيں ۔ ليکن اس بات کى طرف توجہ نھيں ديتے کہ عقل و خرد اور شريعت مطھرہ نے مخصوص شرائط کے ساتھ اس کو جائز قرار ديا ھے چنانچہ عقل و شريعت کا يہ فيصلہ ھے کہ اگر کسى مسلمان کى جان ، آبرو يا مال کثير کو خطرہ ھو تو اس کا ھر ممکن طريقہ سے دفاع کيا جا سکتا ھے يھاں تک کہ اگر جھوٹ بول کر ان تينوںميں سے کسى ايک کى حفاظت ممکن ھو تو جھوٹ بھى بول سکتا ھے ۔ ليکن يہ صرف ضرورت ھى کے وقت ھو سکتا ھے کيونکہ ضرورت حرام کو مباح کر ديتى ھے ليکن اس کے ساتھ يہ شرط ھے کہ انسان بقدر ضرورت ھى استعمال کر سکتا ھے ۔ مقدار ضرورت سے زيادہ جھوٹ نھيں بولا جا سکتا !

اور اگر اس مصلحت کے دائرے کو اپنے شخصى منافع اور نفسانى خواھشات تک کے لئے وسيع کر ديا جائے اور ھم يہ سمجھ ليں کہ اپني ذاتى مصلحت و منفعت اور شھوت و خواھش کےلئے بھى اسى قاعدہ پر عمل کيا جا سکتا تو پھر بلا مصلحت والے جھوٹ کے لئے کوئى جگہ باقى نھيں رھے گى ۔ جيسا کہ اڑہ ڑھعظيم رائٹر نے لکھا ھے : ” ويسے تو ھر چيز کے لئے ايک سبب ھوتا ھے ( اور نہ بھى ھو تو ) ھم اپنے عمل کے لئے بھت سے عوامل اور بھت سي علتيں تخليق کر سکتے ھيں اور يھى وجہ ھے کہ مجرم سے جب مواخذہ کيا جاتا ھے تو وہ اپنے جرم کے لئے پچاسوں عذر ، دليل اور علت تلاش کر ليتا ھے اور اسى لئے پورى دنيا ميں جو جھوٹ بولا جاتا ھے اس ميں کوئى نہ کوئى نفع و خير کا پھلو بھرحال ھو تا ھے ۔ اور اگر ايسا نہ ھو تو وہ جھوٹ لغو اور عبث ھو جائے گا اور پھر اس ميں کوئى زيادہ ضرر و نقصان بھى نہ رھے گا ۔

مزید  خیانت

جس چيز ميں بھى انسان کا ذاتى فائدہ ھوتا ھے اس کو وہ فطرى طور سے خير سمجھتا ھے اور پھر جب وہ اپنے شخصى منافع کو سچ بولنے کى وجہ سے خطرہ ميں ديکھتا ھے يا وہ جھوٹ بولنے ميں اپنا فائدہ ديکھتا ھے تو دھڑلے سے جھوٹ بولتا ھے اور دور دور تک اس کى برائى کا تصور بھى نھيں کرتا کيونکہ سچائى ميں شر و فتنہ ديکھتا ھے اور جھوٹ بھرحال ايک شر ھے اگر حصول شرائط کے ساتھ جھوٹ بول کر شر کو دفع کيا گيا تو ( يہ مطلب نھيں ھے کہ وہ جھوٹ نيک ھو گيا بلکہ ) اس کا مطلب يہ ھے کہ ايک زيادہ فاسد چيز کو کم فساد والى چيزکے ذريعہ دور کيا گيا ھے ۔

آزادي بيان کى اھميت آزادى فکر سے بھت زيادہ ھے ۔ کيونکہ اگر افکار ميں کسى قسم کى لغزش يا انحراف ھو گيا تو اس کا نقصان صرف فکر کرنے والے کو پھونچے گا ليکن اگر گفتار ميں لغزش يا انحراف ھو گيا تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑے گا ۔

امام غزالى کھتے ھيں : زبان ايک بھت بڑى نعمت ھے اور پروردگار عالم کا ايک نھايت ھى لطيف و دقيق عطيہ ھے ۔يہ عضو ( زبان ) اگر چہ حجم و جسم کے اعتبار سے بھت ھى چھوٹا ھے ليکن اطاعت و معصيت کے اعتبار سے بھت ھى سنگين و بڑا ھے ۔ کفر يا ايمان کا اظھار زبان ھى سے ھوا کرتا ھے اور يھى دونوں چيزيں بندگى و سر کشى کي معراج ھيں ۔ اس کے بعد اضافہ کرتے ھوئے فرماتے ھيں ؛ وھي شخص زبان کى برائيوں سے نجات حاصل کر سکتا ھے جو اس کو دين کى لگام ميں اسير کر دے اور سوائے ان مقامات کے کہ جھاں دنيا و آخرت کا نفع ھو کسى بھى جگہ آزاد نہ کرے !

مزید  نوروز کی اسلام میں حیثیت پر سیر حاصل گفتگو

بچوں کے باطن ميں جھوٹ جڑ نہ پکڑنے پائے اس کے لئے بچوں سے کبھى بھي جھوٹ اور خلاف واقع بات نھيں کرنى چاھئے کيونکہ بچے جن لوگوں کے ساتھ ھمہ وقت رھتے ھيں فطرى طور سے انھيں کى گفتار و رفتار کو اپنے اندر جذب کرنے کى کوشش کرتے ھيں۔ گھر بچوں کے لئے سب سے اھم تربيت گاہ ھے “۔

جھوٹ اور خلاف واقع کا دور دورہ ھو گيا اور والدين کے اعمال خلاف واقع ھونے لگے تو کسى بھى قيمت پر اچھے و سچے بچے تربيت پا کر نھيں نکل سکتے ۔ بقول موريش ۔ ٹى ۔يش : حقيقت کے مطابق سوچنے کى عادت، حقيقت کے مطابق بات کرنے کى سيرت ،ھر سچ و حقيقت کو قبول کرنے کى فطرت صرف انھيں لوگوں کا شيوہ ھوتا ھے جن کى تربيت طفوليت ھى سے اسى ماحول ميں ھوئى ھو ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.