جھوٹ ذاتی و معاشرہ کا وقار ختم کر دیتا ہے!

0 2

سچ بولنا ہی پڑتا ہے۔سچ نہ بولا جائے تو فرد کا اعتبار اور معاشرہ کا وقار دونوں ختم ہوجاتے ہیں۔فرد کا کیا ہے،عام آدمی ویسے بھی ایک محدود حلقہ کو متاثر کرتا ہے اوراس کے ناسچ کا اثر بھی محدود رہ جاتا ہے۔ابو جہل بھی کیا کرسکا تھا۔ہاں معاشرہ سچ بولنا چھوڑ دے تو پوری پوری قومیں، تمام کی تمام تہذیبیں مٹ جاتی ہیں، یوں کہ تاریخ میں بس ان لوگوں کے لئے باقی رہ جاتی ہیں جن کے چہروں پر ابھی عبرت حاصل کرنے والی آنکھیں باقی رہ گئی ہوں۔

درست ہے کہ کتابیں یورپ کے روشن خیالی کے قصیدوں سے بھری پڑی ہیں جن کی حقیقت بھی ہالی ووڈ کی فلموں سے زیادہ بہتر نہیں ہے، لیکن اتنا کہہ ڈالنا بھی غنیمت ہے کہ انیسویں صدی میں جب ایشیا، افریقہ، جنوبی اور شمالی امریکہ،آسٹریلیا اور نیوزیلینڈ پر یورپ کے صنعت کار استعماری تسلط حاصل کرچکے تھے،جھوٹ کی طرح سفید براعظم زیر سطح عالم میں بحران کا شکار ہوچکا تھا۔اس بحران کے بہت واضح اسباب تھے جن پر سے اس وقت تک پردہ نہ اٹھ سکے گا جب تک ذہنوں پر طاری بحران کسی مثبت تبدیلی کو قبول کرنے کے قابل نہیں ہوجاتا۔ ایک بہت تفصیل طلب قصہ کا اجمال یہ ہے کہ صنعتی انقلاب نے یورپ کی وہ تہذیبی بنیادیں ہلا ڈالی تھیں جن پر دو ہزار سال کی مدت میں یونانی، رومی ، بیزنطینی اور عثمانی ترک تہذیبوں نے مدنیت اور سیاست کی مستحکم عمارتیں اٹھائی تھیں۔وہ کوئی عوامی انقلاب نہیں تھا: وہ نتیجہ تھا فقط سود پر چلنے وا لے سر مایہ کے ایسے استعمال کا راز افشا ہوجانے کا جس میں کم ہاتھوں سے کم وقت میں دولت اچانک ہزاروں گنا بڑھ جاتی تھی۔اس مہم میں یورپ کاعام آدمی ایک دیوپیکر مشین کا محض ایک چھوٹا سا پرزہ تھا. اس کا وجود بے حقیقت تھا. یا شائد زیادہ بے حقیقت ہوگیا تھا.اس انقلاب نے عام آدمی میں بے چینی پیدا کی تھی جس کے علاج کے طور پر فلاحی معاشی نظام، تعلیمی نفسیاتی نظام، عام ابلاغیہ کا نظام اورظاہری عمومیت کا سیاسی نظام بتدریج وضع کیا گیا۔مگر ان میں سے کوئی بھی نظام دو سطحوں پراثر پذیر نہیں تھا:

مزید  ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز جانسن

ایک معاشرہ کی اس بالائی سطح پر جہاں یہ سارے نظام مرتب کئے جارہے تھے اور ایک معاشرہ کی ان زیر سطح لہروں میں جو اس بالا طبقہ میں خود اس طبقہ کی اجتماعیت سے خارج مگر معاشرہ پر اصلاً موثر افراد کی سرگوشیوں پر۔دو سو سالبیتگئے! مگریہ دونوں کیفیات بدستور باقی ہیں۔یعنی معقول تصورات سے لبریزمغربی معاشرہ آج بھی مقاصدپرشدید ذہنی انتشار کا شکار ہے اور نیتوں پر شبہات اب پھیل کر سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں؛ اگرچہ ان شبہات کا اثر مٹانے یا کم کرنے کی انتھک تدبیریں بھی کی جارہی ہیں۔دوسری طرف،اکیسویں صدی کے مبصرین کا ایک گروہ کھلی آنکھوں ماحول میں مایوس کن ابتری دیکھ رہا ہے اور دوسرا گروہ حالات میں تبدیلی سے پیدا ہونے والے بحران سے خائف ہے۔وہ لامتناہی بحران جس کا اندیشہ انیسویں صدی میں نیندیں اڑائے ہوئے تھا اب دوسوسال بعد زیادہ تکلیف دہ ہوگیا ہے۔اس بحران کی کوکھ سے 1914 کی پہلی عالمی جنگ نے جنم لیا تھا۔وہ جنگ اسی لئے کرائی گئی تھی کہ شائد اسی تلوار سے بحران کے عفریت کو قتل کیا جاسکے. وہ نہ ہوا بلکہ جنگ ختم ہونے کے دس برس بعد اس قدر بڑا اقتصادی بحران پیدا ہوا کہ ہزاروں سال پر محیط سرمایہ کی تاریخ میں یادگار بن گیا۔اس نئے اقتصادی اور معاشرتی بحران سے نپٹنے کے لئے دوسری عالمی جنگ کا فلیتہ بھڑک اٹھا۔مگر وہ لڑائی بھی سو سال پہلے دیکھے جانے والے بحران کا استیصال نہ کر سکی، بلکہ اس جنگ کے نتیجہ میں وہ بحران شمالی امریکہ تک پھیل گیا۔اس جنگ کو ختم ہوئے ابھی دو عشرے بھی نہ گذرے تھے کہ کساد بازاری کا پہلا زبردست حملہ ہوا جس نے ساری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔تب سے اب تک کساد بازاری تیسری بارعالمی معیشت کو متزلزل کر چکی ہے؛ تیسرا دور ہنوز جاری ہے۔ ان حالات میں اطمینان کی واحد دلیل بس یہ ہے کہ دوسو سال سے جاری اور طاری یہ بحران مظلوم اکثریت اور بدمست وعیاش حکمراں طبقہ کے مابین کسی بھی آویزش کا سبب نہیں ہے۔سی قسم کے چھوٹے چھوٹے سچ ابھی مغربی معاشرہ کا عمرانی اعتبار قائم رکھے ہوئے ہیں۔اس بحران کا علاج تو ہے مگر معالج باقی نہیں رہے۔جو معالج تھے وہ خود اسی بحران کے مریض ہیں۔فاعتبروا یا اولی الابصار!

مزید  عظمت کعبہ قرآن کے آئینہ میں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.