جسماني سزا

0 0

بہت سے والدين بچوں کى تربيت کے ليے جسمانى سزا ضرورى سمجھتے ہيں اور اکثر اساتذہ کے ذہن ميں بھى يہ سودا سمايا ہوتا ہے لوگوں ميں مشہور ہے کہ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہيں مانتے گزشتہ زمانے ميں اس طرز عمل کے حامى بہت افراد تھے اور يہ طريقہ کا رائج بھى تھا سکول کى ضروريات ميں سے ڈنڈا، زنحير اور کوڑا و غيرہ بھى تھا جو والدين اپنى اولاد کى تربيت کے خو اہشمند ہوتے وہانہيں مارنے سے دريغ نہ کرتے ليکن بہت سے دانشور بالعوم اور ماہرين نفسيات بالخصوص اس طرز عمل کو بچے کے ليے نقصان وہ سمجھتے ہيں اور اس سے منع کرتے ہيں دنيا کے ترقى يافتہ ممالک ميں جسمانى سزا پر تقريباً تقريباً پابندى ہے اور اس سلسلے ميں کئي قوانين منظور اور نافذ ہوچکے ہيں دانشور کہتے ہيں جسمانى سزا سے بچے کى اصلاح نہيں کى جا سکتى ممکن ہے ظاہرى طور پر اسکا تھوڑا بہت اثر ہوليکن يہ ناقابل تلافى نقصان کى حامل بھى ہوتى ہيں مثلاً
مار کھا کھا کر بچہ اسبات کا عادى ہوجاتا ہے کہ وہ زور اور طاقت کے سامنے بلا چون و چرا سر جھکالے اور ہو سکتا ہے اس طريقے سے وہ يہ سمجھے لگے کہ طاقت ہى کاميابى کى کليد ہے اور جب بھى غصّہ آئے مارنا چاہيے اور اس سلسلے ميں کھ لحاظ نہيں رکھنا چاہيے مارپيٹ کے ذريعے ماں باپ جنگل کے وحشيانہ قوانين اپنے بچے پر لاگو کرديتے ہيں مار کھانے والے بچے کے دل ميں والدين کے بارے ميں کينہ و نفرت پيدا ہو جاتى ہے اورزيادہ تريہى ہوتا ہے کہ وہ آخر تک اسے فراموش نہيں کرتا ہوسکتا ہے وہ کسى رد عمل کا مظاہرہ کرے اور سرکش ہوجائے

مزید  امام سجاد علیہ السلام اور لوگوں پر احسانات

مارپٹائي بچے کو بزدل بناديتى ہے اس کے ذريعے سے بچے کى شخصيت بھى کچلى جاتى ہے اور اس کا روحانى توازن بگڑجاتا ہے اور وہ غصّے اور دوسرى نفسياتى بيماريوں ميں مبتلا ہوجاتا ہے

جسمانى مارپيٹ زيادہ تر بچے کى اصلاح نہيں کرتى اور اسکے اندر اصلاح کا جذبہ نہيں ابھارتى ممکن ہے مارپيٹ اور ڈنڈے کے خوف سے ظاہراً وہ برا کام نہ کرے اور دوسروں کى موجودگى ميں وہ کچھ نہ کرے ليکن اس کى حقيقى برائي اس طرح سے دور نہيں ہوتى اور باطن موجود رہتى ہے اور بعد ازاں کسى دوسرى صورت ميں آشکار ہوتى ہے ايک صاحب کہتے ہيں:

ميرے بارہ سال بيٹے نے المارى سے ماں کے پيسے اٹھاليے اسکام پر ميں نے اس کى ڈنڈے سے پٹائي کى اس کے بعد وہ خوف کے مارے المارى کے قريب نہيں جاتا تھا اور يہ درست ہے کہ بچے نے اس کے بعد المارى سے پيسے نہيں اٹھائے اور اس لحاظ سے باپ نے اپنا مقصد پاليا ہے ليکن معاملہ اتنا سادہ نہ تھا يہ قصہ آگے بڑھا بعد ازاں وہ بس کا کرايہ ادا نہ کرتا ماں سوداسلف کے ليے پيسے ديتى تو اسى ميں چراليتا بعد ميں معلوم ہو اکہ اس نے اپنے دوستوں کے بھى پيسے چرائے ہيں گويا مارنے بچے کو مجبور کيا وہ ايک کام کا تکرار نہ کرے ليکن اس کام کى اصل حقيقت تو ختم نہ ہوئي

ايک دانشور لکھتے ہيں :

جن بچوں کى مارپٹائي ہوتى رہتى ہے وہ بعد از ان ڈھيلے ڈھالے اور بيکارسے شخص بن سکتے ہيں يا پھر دھونسڈ عاندلى جماتے ہيں گويا پورى زندگى اپنے افسردہ بچپن کا انتقام ليتے ہيں

مزید  حدیث "ثقلین"اور حدیث"سفینہ"

مسٹر رسل لکھتے ہيں:

ميرے نظرليے کے مطابق بدنى سزا کسى لحاظ سے بھى درست نہيں ہے اسلام نے بھى جسمانى سزا کو نقصان وہ قرار ديا ہے اور اس سے روکا ہے

حضرت على عليہ اسلام فرماتے ہيں:

عقل مند ادب کے ذريعے نصيحت حامل کرتا ہے يہ تو صرف حيوانات ہيں جو مارکے بغير ٹھيک نہيں ہوتے

حضرت صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

جو شخص بھى دوسرے کو ايک تازيانہ مارے گا الله تعالى اس پر آگ کا تازيانہ برسائے گا

رسول اکرم صلى الله عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

ايک شخص کہتا ہے کہ ميں نے امام موسى بن جعفر عليہ السلام سے اپنے بيٹے کى شکايت کى تو آپ نے فرمايا:

اسے مارنا نہ البتہ اس سے کچھ دور رہو ليکن تمہارى يہ دورى اور ناراضى زيادہ ( ديرے کے ليے نہ ہو

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.