جدیدسائنس اور خدا کا وجود

0 0

موجودہ دور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔اس ترقی یا فتہ دور میں  ہر نظرئیے کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھا جارہا ہے اور جو نظریہ اس معیار پر پورا نہیں  اْترتا اسے رد کیا جا رہا ہے۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ خدا کے وجود کی سب سے مستحکم اور ناقابل تردید شہادت سائنس ہے۔جو مطالعہ قانون قدرت ہی مہیا کرتی ہے ۔کیونکہ انصاف پسند سائنس دانوں  کا نظریہ تقوی ” انصاف پر مبنی ہے کہ ” نظام عالم کی محکم ابلغ ترکیب بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی موجود ہے۔ یعنی کوئی ایسی صاحب حکمت ہستی موجود ہے جس نے ہمارے لئے کر? ارض پر زندگی قائم رکھنے کے لئے سورج کو پیدا کیا اوراس میں  اتنی حرارت رکھ دی جو زمین پر زندگی کی نشونما کے لئے ضروری تھی۔ ہماری زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ جب زمین سورج کے قریب سے ہو کر گزرتی ہے تو اس کی حرارت کی وجہ سے ہمارے کر? ارض پر گرمی کا موسم آجاتا ہے اور جب زمین گردش کرتی ہوئی اس سے دور چلی جاتی ہے تو سردیوں  کا موسم آجاتا ہے۔اس طرح موسم کی تبدیلی ہماری زندگی اور اس کے تمام اسباب کے قیام اور بقائ  صحت کا باعث بنتی ہے زمین سورج گرد بیضوی مدار میں  گردش کرتی ہے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گول مدار میں  گردش کیوں  نہیں  کرتی ‘ یہ اپنے دائرے سے باہر کیوں  نہیں  نکل آتی۔ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ایک ایسی صاحب ارادہ اور مدبر ہستی مو جو د ہے جس نے زمین کو ایسے مدار میں  گردش دی جس کے نتیجے میں  موسموں  کا تغیر وتبدل قائم رہتا ہے اورزمین اپنے مدار سے ایک انچ ادھر اْدھر نہیں  ہوتی۔۔

سائنس دان جن کا نظریہ تقویٰ انصاف پر مبنی تھا وہ تو تخلیق کا ئنات کو خدا تعالیٰ کا فعل قرار دیتے ہیں  یعنی وہ ہستی باری تعالیٰ کے اقراری ہیں ۔مگر ایسے سائنسدان جو ہستی باری تعالیٰ کے منکر ہیں ۔جن کے خیالات تقویٰ انصاف فطرت کے قوانین سے ہٹ کر ہیں  وہ اپنی انا کے ہاتھوں  مجبور ہیں  کہ اپنے خالق مالک کی قدرتوں  کو تسلیم کرنے کی بجائے ‘ انہوں  نے بے بنیاد گمراہ کْن خیالات کو تقویت دی کہ یہ کائنات خود بخود وجود میں  آگئی۔۔قران کریم جدید سائنس کی تائید کرتا ہے۔کیونکہ مذہب خدا کا قول ہے تو قانون قدرت خدا کا فعل ہے۔سائنس خدا کے فعل یعنی قانون قدرت کی سٹٹدی ہے جب خدا کے قول اور فعل میں  کوئی تضاد نہیں  تو پھر مذہب اور سائنس میں  بھی کوئی تضاد نہیں  قرآن تو جدید علوم کی سائنسی تحقیق کی تائید کرتا ہے۔مگر جو اسلام کو تعصب کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں  ان کو اسلام کی تعلیم اور اس کے احکام میں  عقل استدلال نظر نہیں  آتا۔

مزید  کسے را میسر نہ شد ایں سعادت

قرآن کریم نے آغاز میں  یہ جو فرمایا یہ ہدایت صرف متقیوں  کے لئے ہے۔ گویا ہدایت کو فقط مذہبی لوگوں  تک محدود نہیں  کیا۔اگر متقیوں  سے مراد مذہبی تعریف لی جائے تو ان کیلئے ہدایت کا کیا مطلب وہ تو پہلے ہی ہدایت یافتہ ہیں ۔پس اس کے معنی یہ ہیں  کہ یہاں  عام تقویٰ کی تعریف مراد لی گئی ہے۔یعنی وہ لوگ جو سچائی کی پیروی کرنا جانتے ہوں  جن کا مزاج ایسا ہو کہ وہ جھوٹ کی پیروی نہ کریں ۔

انصاف پسندسائنسدانوں  کا نظریہ بھی تقویٰ انصاف پر مبنی ہے۔وہ ظن کی پیروی کرنے کی بجائے تقویٰ کے نور سے ہر چیز کو دیکھتے ہیں ۔ کیونکہ انصاف پسند سائنس دانوں  کا نظریہ تقوی ٰ انصاف پر مبنی ہے کہ ”نظام عالم کی محکم ابلغ ترکیب و ترتیب بتا رہی ہے کہ خداتعالیٰ کی ہستی موجود ہے۔اس کے علاوہ تخلیق انسانی کو ہستی باری تعالیٰ کے ساتھ بھی ایک براہ راست تعلق ہے۔اور خالق کی عظمت کا تصور باندھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تخلیق پر غور کریں ۔ ہم خالق کی تخلیق پر غور کئے بغیر اسے پہنچان نہ سکیں  گے۔

جبکہ یوپ کے احیائے نو کے دور میں  یورپ کے ایسے سائنسدانوں  کی مثالیں  بتارہی ہیں ۔چرچ نے ان کے نظریات کے خلاف بہت شور ڈالا تو ان کو کہا کہ تم ایسے منفرد نظریات سے باز آجاؤ۔ آخر جو اپنے نظریات کی صداقت پر قائم رہے۔ کسی سچائی کی خاطر آگ میں  زندہ جل جانا کوئی معمولی بات تو نہیں  لیکن وہ جلائے گئے اور جل گئے۔ایسے بھی سائنسدا ن ہوئے جن کو e Guillotinکے اوپر چڑھا دیا گیا۔ مگر موجودہ صدی کا المیہ بھی یہ ہے کہ ہمارے مذہبی بنیاد پرست جہادی سماج سائنسی ترقی کو محض اپنی قدامت پسندانہ روایات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں  ،اور عوام کو جدید علوم سے لاتعلق رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جبکہ قرآن جدید علوم کی سائنسی تحقیق کی تائید کرتا ہے۔لیکن مغربی سیاستدانوں  کا بے بنیاد الزام ہے کہ اسلام عقل اور سائنس کے خلاف ہے۔ ایسا الزام اسلام دشمنی کیوجہ سے ہے۔کیونکہ مغربی دنیا کے سیاستدان اسلام کو تعصب اور انا کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں ۔جب کہ بائیبل نے جو تخلیق کائنات کا تصور پیش کیا ہے اسے انسانی عقل قبول نہیں  کرتی۔لیکن قرآن کریم نے تخلیق کائنات کے متعلق جو کچھ بیان کیا وہ عقل اور جدید سائنس کے عین مطابق ہے۔اور آجکل جدید سائنس کے جو انکشافات ہو رہے ہیں  وہ چودہ سو سال پہلے قرآن کریم میں  موجود ہیں  قرآن کریم نے کئی ایسی صداقتیں  بیان فرمائی ہیں  جن کا تصور بھی انسانی دماغ میں  پہلے موجود نہ تھا۔اگر خداموجود نہیں  ہے تو رسول کریم ? کو آج چودہ سوسال قبل کس نے بتا دیا تھا۔( بہت سی قرآنی پیشگوئیوں  میں  چند پیش کی جا ر ہی ہیں  ) کہ ایک زمانہ آئے گا جب شہر نما جہاز ایجاد کئے جائیں  مگر قرآن مجید نازل کرنے والے خدا نے پیشگوئی کردی تھی ” اور اسی کے قبضہ میں  ہیں  وہ جہاز جو پہاڑوں  کی طرح اونچے کھڑے نظر آتے ہیں ۔” ( سور? الرحمن آیت 25 ) ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے زمانے میں  دیو پیکر پہاڑ نما جہاز موجود نہ تھے مگر اللہ کے رسول ? کو کس نے بتایا جب انجنوں  سے چلنے والے جہاز ایجاد ہو جائیں  گے۔؟   جن میں  بیک وقت کئی کئی ہزار افراد سفر کرسکیں  اور سینکڑوں  ٹن وزنی سامان اْٹھا کر یہ جہاز سمندروں  پر حکمرانی کریں  گے۔ اور پھر بہت سے امور ایسے تھے جن کی اس دور کے انسانی ذہن کی رسائی ممکن ہی نہ تھی۔ مگر قرآن کریم نے آپ? کے زبان مبارک سے ان پیشگوئیوں  کو بیان فرمایا ”جب زمین میں  اپنے بھونچال سے جنبش دی جائیگی اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔( الزلزال آیت 2.3 )

مزید  نفس كے ساتھ جہاد

یہاں  یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ زمین پر ایک زلزلہ آ ئے گا۔نتیجتََہ زمین اپنے اندر کی بھاری دھاتیں  نکال باہر کرے گی۔اگر پیشگوئی کے مطابق زمین اپنے مخفی خزانے یعنی دریافت شدہ دھاتوں  کو اْگل نہ دیتی تو ہمارے زمانہ کی زبرد ست          سائنسی ترقیات ممکن ہی نہ تھیں ۔ان معدنی ذخائر کا شمار کیا جائے اور انہیں  ایک طرف الگ رکھ دیا جائے تو    یوں  لگتا ہے کہ ان کے بغیر سائنسی ترقی کا پہیہ اْلٹا چل پڑے گا۔کوئلہ ‘ پٹرو لیم ‘ یورینیم اور پلاٹونیم وغیرہ کی دریافت کے بغیر جدید دور کی کسی بھی اہم ایجاد کا تصور بھی نہیں  کیا جا سکتا۔اور ایک اور پیشگوئی فرمایا ” اور جب پہاڑ چلائے جائیں  گے اور جب دس ماہ کی حاملہ اْونٹنیا ں  بے کار چھوڑ دی جائیں  گی اور جب صحیفے روئے زمین پر پھیلا دئے جائیں  گے۔” ( سور? التکویر آیات 4.5.10 )

فرمایا پہاڑ چلائے جائیں  گے ‘ پہاڑ چلانے سے مراد ان کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں  کہ دنیا کے ہر ملک میں  پہاڑوں  کو بارود سے اْ ڑا کر سڑکیں  ‘ پل ‘ اورنہریں  نکال دی گئیں ۔اور بعض مقامات پر انہیں  ہموار کرکے بستیاں  بسادی گئیں ۔اور پھر فرمایا دس ماہ کی اْونٹنیاں  بے کار چھوڑ دی جائیں  گی۔عرب میں  دس ما ہ کی اْونٹنی زیادہ قیمتی ہوتی تھی کیونکہ اس کے بچہ دینے کا وقت قریب ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب اْونٹوں  کی               قدروقیمت نہیں  رہے گی کیونکہ جزیرہ نما ئے عرب سفر اْونٹوں  کے ذریعہ نہیں  ہوگا بلکہ بسیں  ‘کاریں  اور ہوائی جہاز ایجاد ہو جائیں  گے اس لئے دس ماہ کی حاملہ اْونٹنیاں  آوارہ پھریں  گی یعنی کوئی ان کی طرف توجہ نہ کرے گا اور آخری پیشگوئی تو نہایت عظیم الشان ہے کہ جب صحیفے پھیلا دئے جائیں  گے یعنی اس کثرت اخبارات ‘ رسائل اور کتابیں  شائع ہونگی کہ دنیا کا کوئی گوشہ ان سے خالی نہیں  رہے گا۔س سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی خدا علیم و خبیر ہستی موجود ہے جسے قیامت تک رونما ہونے والے تمام واقعات کا علم ہے اور جس نے ان واقعات میں  سے بہت سے واقعات کو اپنے رسول ? پر ظاہر فرما دئے۔

مزید  نیکی اور بدی کی تعریف

پس جوں  جوں  سائنس ترقی کر رہی ہے قرآن کریم کی صداقتیں  کھل کر سامنے آرہی ہیں  اور سائنس خواہ کتنی ہی عروج پکڑ جاوے مگر قرآن کریم کی تعلیم اور اصول اسلام کو ہرگز ہرگز نہیں  جھٹلا سکے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.