تہذيب نفس

0 1

اس مرحلے ميں ہميں تين كام انجام دينے ہونگے_

1_ باطل عقائد اور غلط افكار اور خرافات سے نفس كو پاك كرنا_

2_ برے اخلاق اور رذائل سے نفس كو پاك كرنا_

3_ گناہوں اور معاصى كا ترك كرنا_

خرافات اور عقائد باطل عين جہالت اور نادانى ہوتے ہيں اور انسان كى رو ح كو تاريك كر ديتے ہيں اور صراط مستقيم اور قرب الہى اور تكامل سے منحرف كر ديتے ہيں باطل عقائد ركھنے والے تكامل كے راستے كو نہيں بچانتے اسى واسطے گمراہى اور ضلالت كى وادى ميں قدم ركھتے ہيں اور يقينا مقصد تك نہيں پہنچتے جو روح تاريك ہو كس طرح وہ انوار الہى كى تابش كا مركز قرار پا سكتى ہے؟ اسى طرح برے اخلاق اور ان كے ملكات حيوانى عادات كو تقويت پہچانتے ہيں اور انسانى روح كو آہستہ آہستہ خاموش اور تنہا ہو جانے كى طرف لے جاتے ہيں ايسا انسان انسانى غرض خلقت جو قرب الہى اور كمال تك پہنچنا ہوتا ہے كبھى نہيں پہنچے گا اسى طرح گناہوں اور معصيت كو بجالانا انسان كى روح كو تاريك اور آلودہ كر ديتا ہے كہ جس كى وجہ سے وہ تكامل اور قرب الہى سے دور ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان آخرى غرض اور غايت تك نہيں پہنچنے پاتا_ اسي واسطے نفس كا پاك و پاكيزہ كرنا ہمارے لئے انتہائي اہم اور ضرورى كام شمار ہوتا ہے لہذا ضرورى ہے كہ پہلے برے اخلاق اور گناہوں كو پہچانيں اور پھر عمل كے مرحلے ميں قدم ركھيں اور اپنى روح كو پاك و پاكيزہ بنائيں_ اتفاق سے ہميں پہلے مرحلے ميں كوئي مشكل پيش نہيں آتى اس واسطے كہ ارواح كے اطباء اور خدا كے بھيجے ہوئے انسان شناسى يعنى پيغمبروں اور ائمہ اطہار عليہم السلام نے برے اخلاق كو بطور كامل ہمارے لئے بيان كر ديا ہے اور ان كا علاج كرنا بھى بتلا ديا ہے_ معصيت اور نافرمانيوں كو ہمارے لئے شمار كر كے انكا علاج بھى بيان كر ديا ہے ہم تمام برے اخلاق كو جانتے اور پہچانتے ہيں اور ان كى برائيوں سے آگاہ ہيں _ ہم جانتے ہيں كہ نفاق ،تكبر ،حسد ،كينہ پروري، غضب چغلخورى خيانت ،خودپسندى ،برا چاہنا، شكايت كرنا، تہمت لگانا، برا بھلا كہنا، بد زبان ہونا، تندخوئي_ ظلم بے اعتمادى خوف، بخل، حرص، عيب جوئي، جھوٹ بولنا، حب دنيا اور مقام اور رياست كى محبت رياكاري، دھوكا دينا، حيلہ باز ہونا، براگمان، قسى القلب ہونا، ضعف نفس اور اس طرح كى دوسرى صفات برى اور زشت ہيں_ اس كے علاوہ ہم فطرت كى رو سے ان كى برائيوں كو سمجھ پاتے ہيں_ سينكڑوں روايات اور آيات ان كى برائيوں اور قبيح ہونے كى گوہى دے رہى ہيں ہمارى احاديث اس كے متعلق اتنى زيادہ ہيں كہ ان ميں كسى كمى كا احساس نہيں ہوتا_ اسى طرح تمام محرمات اور گناہوں كى وضاحت قرآن مجيد اور انكى تشريح اور ان كا عذاب اور سزا احاديث ميں موجود ہے_ غالبا ہم تمام كو جانتے ہيں لہذا برے اخلاق اور صغيرہ اور كبيرہ گناہوں كى پہچان ميں ہميں كوئي مشكل نہيں آتى اس كے باوجود ہم غالبا شيطن اور نفس امارہ كے قيدى ہيں اور توفيق حاصل نہيںكرتے كہ اپنى نفس گناہوں اور برے اخلاق سے پاك كريں اور يہى اساسى مشكل ہے كہ جس كا علاج ہميں سوچنا چاہئے_ ميرى نگاہ ميں اس كا مہم ترين سبب دو چيزيں ہيں_ پہلى كہ ہم اپنى اخلاقى بيماريوں كو نہيں پہچانتے اور اپنے بيمار ہونے كا اقرار نہيں كرتے اور دوسرے اخلاقى بيمارى كو معمولى قرار ديتے ہيں اور اس كے برے اور دردناك انجام سے غافل ہيں اسى لئے تو اس كے علاج كرنے ميںكو شش نہيں كرتے يہى وہ دو مہم سبب ہيں كہ جنہوں نے ہميں اپنى اصلاح اور تہذيب نفس سے غافل كر ركھا ہے ہمارے لئے ضرورى ہے كہ اس ميں بحث كريں اور اس كا علاج بتلائيں_

بيمارى سے غفلت

ہم غالبا اخلاقى بيماريوں كو پہچانتے ہيں اور ان كے برے ہونے كو بھى جانتے ہيں ليكن يہ صرف دوسروں ميں نہ اپنے وجود ميں_ اگر ہم كسى دوسرے ميں برے اخلاق اور برے رفتار كو ديكھيں تو اس كى برائي كو اچھى طرح جان ليتے ہيں ہو سكتا ہے كہ وہى برى صفت بلكہ اس سے بدتر ہم ميں موجود ہو تو اس كى طرف ہم بالكل متوجہ نہيں ہوتے مثلا دوسرے كے حقوق كو ضائع كرنا برا سمجھتے ہيں اور اس كے بجا لانے والے سے نفرت كرتے ہيں ہو سكتا ہے كہ ہم خود دوسروں كے حقوق ضائع كر رہے ہوں ليكن اسے بالكل نہيں سمجھتے بلكہ اپنے كام كو تو دوسرے كے حقوق كو ضائع كرنا ہى نہيں جانتے بلكہ ہو سكتا ہے كہ اپنے ايسے كام كو ايك اپنى نگاہ ميں بہت عمدہ اور اخلاقى قدر والا گر دانتا ہو اسى طريقے سے اپنے نفس كو مطمئن كر ديتے ہيں يہى حال دوسرے برى صفات كا بھى ہو سكتا ہے يہى تو وجہ ہوتى ہے كہ ہم اپنى كبھى اصلاح كرنے كى فكر ميں نہيں جاتے كيونكہ اگر بيمار اپنے آپ كو بيمار نہ سمجھے تو وہ علاج كرنے كى فكر ميں نہيں جاتا اور چونكہ ہم اپنے آپ كو بيمار نہيں سمجھتے لہذا اس كے علاج كرنے كے درپے بھى نہيں ہوتے ہمارى سب سے بڑے مصيبت اور مشكل يہى ہے_ لہذا اگر ہم اپنى سعادت كى فكر ميں جائيں تو اس مشكل كا حل ہميں تلاش كرنا ہوگا اور جس ذريعے سے بھى ممكن ہو ہميں اپنى نفسانى بيماريوں كے پہچاننے ميں كوشش كرنى چاہئے_

نفس كى بيماريوں كے تشخيص كے راستے

بہتر ہوگا كہ نفس كى مختلف بيماريوں كى پہچان ميں ان وسائل سے كہ جن سے ممكن ہے استفادہ كيا جائے يہاں چند ايك كى طرف اشارہ كيا جاتا ہے_

1_ تقويت عقل: ملكوتى انسان كا اعلى مرتبہ اور اس كے وجود كا كاملترين امتياز جو انسان كے لئے تمام مخلوقات سے امتياز دينے كا منشا اور مبدا ہے اسے قرآن اور احاديث ميں مختلف ناموں سے ياد كيا گيا ہے روح نفس قلب عقل يہ تمام نام ايك حقيقت كو ظاہر كرتے ہيں ليكن اس حقيقت كو مختلف جہات كيوجہ سے مختلف نام ديئے گئے ہيں_

اس لحاظ سے كہ وہ حقيقت موجب فكر اور سوچ اور سمجھنا اور تعقل ہے اسے عقل كا نام ديا گيا ہے احاديث كى كتابوں ميں عقل كو ايك ممتاز مقام ديا گيا ہے يہاں تك كہ اس كے لئے ايك عليحدہ فصل احاديث كے كتابوں ميں مخصوص كى گئي ہے_ احاديث ميں عقل كو موجودات سے شريف ترين موجود اور احكام اور ثواب اور عقاب كا منشاء بتلايا گيا ہے جيسے امام محمد باقر عليہ السلام فرماتے ہيں كہ ” جب اللہ تعالى نے عقل كو پيدا كيا تو اسے بولنے پر قدرت دى اور پھر اسے كہا كہ اے عقل آگے آ؟ عقل نے اطاعت كى اور آگے آئي_ پھر اللہ تعالى نے فرمايا كہ لوٹ جا_ عقل نے پھر اطاعت كى اور لوٹ گئي اس وقت خداوند عالم نے فرمايا كہ” مجھے اپنى عزت و جلال كى قسم كہ ميں نے تجھ سے بہتر اور محبوب ترين مخلوق خلق نہيں كى تجھے كامل نہيں كرونگا مگر اس ميں كہ جسے ميں دوست ركھتا ہونگا_ جان لو كہ ميرے اوامر اور نواہى تيرى طرف متوجہ ہونگے اور تجھى ہى سے ثواب اور عقاب دونگا_

انسان عقل كے ذريعے فكر كرتا ہے اور حقائق كو معلوم كرتا ہے اچھائي اور برائي فائدہ مند اور ضرر رساں ذمہ داريوں كى تشخيص كرتا ہے اگر انسان كے پاس عقل نہہوتى تواس كے اور حيوانات كے درميان كوئي فرق نہ ہوتا اسى لئے خداوند عالم نے قرآن كريم ميں تعقل اور تفكر اور تامل اور تفقہ پر اعتماد كيا ہے اور انسان سے چاہتا ہے كہ اپنى عقل كو اپنے آپ ميں كام ميں لائے_

قرآن مجيد ميں آيا ہے كہ خداوند ايسى نشانياں تمہارے لئے بيان كرتا ہے_ شايد تم تعقل كرو اور تفكر كرو_”  نيز خدا فرماتا ہے ” وہ زمين ميں كيوں سير نہيں كرتے تا كہ ان كے لئے دل ہو كہ فكر و غور كريں_ 

نيز خدا فرماتا ہے كہ ” سب سے بدتر حركت كرنے والے وہ لوگ ہيں جو بہرے گونگے اور سوچ نہيں كرتے_

خداوند عالم ان لوگوں كو جوعقل كان اور زبان ركھتے ہيں ليكن حقائق كى پہچان ميں ان سے كام نہيں ليتے انہيں حيوانات كے زمرے ميں شمار كرتا ہے بلكہ حيوانات سے بھى بدتر قرار ديتا ہے كيونكہ وہ عقل سے كام نہيں ليتے_

خدا فرماتا ہے ” خدا پليدى كو ان پر قرار ديتا ہے جو تعقل نہيں كرتے_

انسان ميں جتنى اچھائي ہے وہ عقل سے ہے، عقل سے خدا كو پہچانتا ہے اور اس كى عبادت كرتا ہے اور قيامت كو قبول كرتا ہے اور اس كے لئے مہيا ہوتا ہے_ پيغمبروں كو قبول كرتا ہے اور ان كى اطاعت كرتا ہے_ اچھے اخلاق كو پہچانتا ہے اور اپنے آپ كو ان ميں ڈھالتا ہے برائيوں كو پہچانتا ہے اور ان سے پرہيز كرتا ہے_ اسى درجہ سے قرآن اور احاديث ميں عقل كى عظمت اور جلالت بيان كى گئي ہے_

امام صادق عليہ السلام ايك سوال كرنے والے كے جواب ميں فرماتے ہيں كہ ” عقل وہ چيز ہے كہ جس وجہ سے خدا كى عبادت كى جاتى ہے اور اس كے ذريعے سے بہشت حاصل كى جاتى ہے_

نيز امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں كہ ” جو شخص عاقل ہوگا دين ركھتا ہوگا اور جو شخص دين ركھتا ہوگا وہ بہشت ميں داخل ہوگا_

امام موسى كاظم عليہ السلام نے ہشام سے فرمايا كہ ” خدا كى لوگوں پر حجت اوردليليں دو ہيں ايك ظاہرى اور دورسرى باطني_ ظاہرى حجت انبياء اور ائمہ عليہم السلام ہيں اور باطنى عقل ہے_

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرماتا ہے _ ” عقل كے لحاظ سے كامل تر لوگ وہ ہيں جن كے اخلاق تمام سے بہتر ہوں_

امام صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” مومن كا راہنما عقل ہے_

امام رضا عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” ہر انسان كا دوست عقل ہے اور اس كا دشمن جہالت_

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے ” انسان كا خودپسند ہونا اس كے عقل كے ضعيف ہونے كى دليل ہے_

امام موسى بن جعفر عليہ السلام نے ہشام سے فرمايا كہ ” جو شخص بغير مال كے بے نيازى اور روح كو حسد سے آرام اور اطمينان ميں ركھے اور دين ميں سالم رہے اسے تضرع اور زارى سے خدا سے دعا مانگى چاہئے كہ خدا اس كى عقل كو كامل كردے _ جو شخص عاقل ہوگا وہ قدر كفايت پر قناعت كرے گا اور جو شخص كفايت كى مقدر ارپر قناعت كرے گا وہ غنى اور بے نياز ہوگا اور جس نے مقدار كفايت پر قناعت نہ كى وہ ہرگز بے نياز نہ ہوگا_

امام موسى كاظم عليہ السلام فرماتے ہيں ” عقلمند انسان دنيا كے زائد امور كو ترك كرتے ہيں چہ جائيكہ گناہوں كو جب كہ ترك دينيا افضال ہے تو گناہوں كا ترك كرنا تو واجب ہے_ 

آپ نے فرمايا كہ ” عقلمند انسان جھوٹ نہيں بولتا گر چہ اس كى روح اس كى طرف مائل ہى كيوں نہ ہو_

مزید  وحی کی حقیقت اور اہمیت (علم و آگاہی اور اس کی تعلیم)

آپ نے فرمايا كہ ” جو شخص مروت نہيںركھتا اور جو شخص عقل نہيں ركھتا وہ دين نہيں ركھتا وہ مروت نہيں ركھتا سب سے قيمتى انسان وہ ہے جو دنيا كو اپنے نفس كي

قيمت قرار نہ دے اور جان لو كہ تمہارے جسم كى قيمت سوائے بہشت كے اور كوئي نہيں ہے لہذا اسے بہشت كے عوض كسى اور چيز كے مقابلے فروخت نہ كرو_

ان تمام احاديث سے عقل كے پردازش اور قيمتى ہونے كو سمجھا جا سكتا ہے اور اس سے معارف اور علوم اور ايمان كا لانا عبادت خدا اور اس كى شناخت مكارم اخلاق سے استفادہ كرنا اور رذائل اور گناہوں سے اجتناب كرنا حاصل كيا جا سكتا ہے ليكن اس نقطہ كى طرف متوجہہ ہونا چاہئے اور اس سے استفادہ كيا جانا چاہئے_ عقل انسان كے بدن ميں ايك عادل قاضى ہے اور حاكم ہے ليكن يہ اس صورت ميں اچھا فيصلہ ديتا ہے جب اس كے لئے امن كا ماحول ميسر ہو اور اس كے فيصلے كو مورد قبول قرار ديا جائے يہ اس دانا اور قدرت مند اور مدبر اور خير انديش حاكم كے قائم ہے ليكن بشرطيكہ اس كے فيصلے اور حكومت كى تائيد كى جائے يہ ايك دانا مشورہ دينے والے اور مورد اعتماد اور خير انديش كے قائم ہے ليكن بشرطيكہ اس سے مشورہ طلب كيا جائے اور اس كے فرمان كو درست سنا جائے_

اگر بدن پر عقل كى حكومت ہو اور خواہشات اور غرائز نفسانى پر اس كا تسلط ہو تو وہ بدن كى مملكت پر بہترين طريقہ سے حكومت كرے گا_ غرائز اور قومى ميں تعادل برقرار كرے گا_ اور تمام كو تكامل اور سير و صعود الى اللہ پر برقرار ركھے گا ليكن اس سادگى سے حيوانى خواہشات اور تمايلات عقل كى حكومت كو قبول كرليں گے اور اس كے حكم كے سامنے سر تسليم خم كرديں گے نہ بلكہ يہ اتنى فتنہ انگيزى اور خرابكارى كريں گے_ تا كہ وہ عقل كو ميدان سے باہر نكال ديں اس كا علاج يہ ہے كہ عقل كو قوى كيا جاے كيونكہ عقل جتنا طاقت ور اور نافذ ہوگا وہ داخلى دشمنوں كو بہتر پہچانے گا اور ان پر تسلط حاصل كرنے اور انہيں دبانے پر زيادہ قادر ہوگا_ يہ ہمارى ذمہ دارى ہے كہ ہم عقل كو مضبوط بنانے كى كوشش اور جہاد كريں_

2_ عمل سے پہلے فكر كرنا: عقل كے قوى كرنے ميں ہميں كوشش كرنى چاہئے كہكسى كام كے انجام دينے سے پہلے سوچنا چاہئے اور اس كام كے نتائج اور آثار اور دنياوى اخروى اثرات كو خوب ديكھناچاہئے اور يہ عہد كرليں كہ كسى كام كو بھى اس كى عاقبت انديشى سے پہلے انجام نہ ديں تا كہ آہستہ آہستہ سوچنے اور تفكر كے ذريعے اپنى روح كو آگاہ كيا كريں_

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں كہ ” تفكر انسان كو اچھے كاموں اور ان پر عمل كرنے كى دعوت ديتا ہے_

نيز حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں كہ ” كام كرنے سے پہلے انجام كو سوچنا تجھے پشيمانى سے محفوظ كردے گا_

ايك شخص رسول خدا كى خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض كى ” يا رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم مجھے كسى كام كى فرمائشے كريں”_ آپ(ص) نے فرماياكہ ” كيا تم ميرے كہنے پر عمل گروگے؟” اس نے كہا” ہاں يا رسول اللہ (ص) ”_ اس سے يہ سوال اور آپ كا يہ جواب تين دفعہ رد و بدل ہوا_ اس وقت رسول خدا نے فرمايا كہ ” ميرى فرمائشے يہ ہے كہ جب تم كسى كام كو انجام دينا چاہو تو اس كے انجام كے بارے ميں پہلے خوب غور و فكر كرلو اگر اچھا ہوا تو اسے بجالائو اور اگر شك اور اشتباہ ہو تو اسے بجانہ لائو_

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ” جلد بازى لوگوں كو ہلاكت ميں ڈال ديتى ہے اگر لوگ اپنے كاموں ميں تدبر كرتے تو كبھى ہلاك نہ ہوتے_

پيغمبر اسلام نے فرمايا ہے كہ ” انجام كو سوچنا اور جلد بازى نہ كرنا خدا كى طرف سے ہوتا ہے اور جلد بازى كرنا شيطن كى طرف سے _

معصوم كى حديث ميں يوں آيا ہے كہ ” غور و فكر شيشہ كى طرح ہے جو تمہيں اچھائي اور برائي ظاہر كردے گا_

حيوانات اپنے كاموں ميں غرائز اور حيوانى خواہشات كى پيروى كرتے ہيں اور غور اور فكر نہيں ركھتے ليكن انسان چونكہ اس كے پاس عقل ہے لہذا اسے پہلے كاموں ميں غور و فكر كرنا چاہئے اور اسے عاقبت انديش ہونا چاہئے گرچہ انسان بھى وہى حيوانى غرائزاور خواہشات ركھتا ہے اسى وجہ سے جب كسى حيوانى خواہش كا طالب ہوتا ہے تو فورا اس كے بجالانے ميں دوڑتا ہے اور اس كى حيوانى خواہش اور غريزہ اسے غور و فكر كى مہلت نہيں ديتا كہ كہيں عقل اس ميدان ميں نہ آجائے اور اس كى حيوانى خواہش كے لئے سد راہ نہ بن جائے لہذا اگر ہم سے ہو سكے كہ ہم اپنے آپ كو يوں عادت ديں كہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اس ميں خوب غور اور فكر كريں كے راستے كو كھول ديں اور اسے اس ميدان ميں كام كرنے ديں اور جب عقل اس ميدان ميں وارد ہوگا تو وہ اس اقدام كے واقعى مصالح اور مفاسد كو درك كرے گا اور حيوانى خواہش اور تمايلات ميں اعتدال پيدا كرے گا اور ہميں تكامل انسانى كے صراط مستقيم كى راہنمائي كرے گا اور جب عقل طاقت ور ہوگا اور جسم كى مملكت ميں حاكم ہوجائے گا تو پھر وہ انسانيت كے داخلى دشمنوں اور نفسانى بيماريوں سے ہميں آگاہ كردے گا اور اس كے علاج اور روكنے كى طرف متوجہ ہو جائيگا اسى لئے قرآن اور احاديث ميں غور و فكر اور تعقل و تدبر كى بہت زيادہ تاكيد اور سفارش كى گئي ہے_

3_ نفس كے بارے ميں بدبيني: اگر انسان اپنے اندر كو ديكھے اور اپنى نفسانى صفات كو انصاف كى نگاہ سے تو لے تو پھر وہ اپنى نفسانى بيماريوں اور عيوب سے آگاہ ہوجائے گا كيونكہ انسان سب سے زيادہ سے زيادہ آگاہ ہے (يعنى اپنے اندر نيكى اور بدى كے وجود كو سب سے زيادہ سمجھتا ہے ليكن عذر لانے كے پردے اپنى بصيرت كى آنكھ پر ڈالنا رہتا ہے_

ليكن ہم ميں سب سے مشكل اور مصيبت يہ ہے كہ ہم فيصلے اور حكم دينے ميں غير جانبدار نہيں رہتے بلكہ اكثر اوقات ہم اپنے بارے ميں خوش بين اور خودپسند ہوتے ہيں ہم اپنے آپ كو اور اپنے افعال اور صفات اور گفتار كو اچھا اور بلا عيب سمجھتے ہيں_ انسانى نفس امارہ ہمارے حيوانى كاموں كو ہمارے سامنے ايسا خوشنما بناتا ہے كہ ہم اپنے برے كاموں كو بھى اچھا سمجھنے لگ جاتے ہيں_ قرآن ارشاد فرماتا ہے كہ وہ شخص كہ جس كے كام اس كے سامنے خوشنما بنائے گئے ہيں اور انہيں نيك سمجھتا ہے ( آيا تونے نہيں ديكھا؟)

” پس خدا جسے چاہتا ہے گمراہ كر ديتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ہدايت ديتا ہے_

اسى لئے ہم اپنے عيبوں كو نہيں ديكھ پاتے تا كہ ان كى اصلاح كى كوشش كريں_ اس مشكل كا حل يہ ہے كہ ہم ہميشہ اپنے نفس پر بد گمان اور بدبين رہيں اور يہ احتمال ديں بلكہ يقين كريں ہم بہت سى برائيوں اور بيماريوں ميں گرفتار ہيں ايسى حالت ميں ہم اپنے نفس كے بارے ميں سوچيں_

امير ا لمومنين عليہ السلام نے متقيوں كے صفات ميں فرمايا ہے كہ ” انكا نفس ان كے نزديك مورد تہمت اور بدگمانى ميں قرار پايا ہے اور وہ اپنے كاموں ميں خوف كھاتے ہيں جب بھى ان ميں سے كوئي كسى كى تعريف كا مورد قرار پاتا ہے تو وہ اپنى تعريف كئے جانے ميں ڈرتے ہيں اور كہتے ہيں كہ ہم اپنے نفس سے زيادہ واقف ہيں اور خدا ہم سے بہت زيادہ آگاہ ہے_

بزرگ موانع ميں سے ايك مانع جو اجازت نہيں ديتا كہ انسان اپنى نفسانى بيماريوں سے آگاہ ہو اور اس كى اصلاح كرے يہى اپنے آپ كو اچھا سمجھتا اور اپنے بارے ميں حسن ظن ركھتا ہوتا ہے اگر يہ مانع دور كرديا جائے اور بطور انصاف اور يہ احتمال ديتے ہوئے كہ ہم ميں عيب موجود ہيں اپنے آپ كو پايا جائے تو اس وقت ہم اپنى بيماريوں كو بھى پہچان ليں گے اور ان كى اصلاح بھى كريں گے_

4_ روحانى طبيب كى طرف رجوع: انسان كا اپنے عيبوں كو پہچاننے كے لئے ايك ايسا اخلاق كے عالم كى طرف كہ جس نے اپنے نفس كى تہذيب كر ركھى ہو اور اچھے اخلاق سے متصف ہوچكا ہو رجوع كرنا چاہئے اپنے اندرونى صفات اور احوال كو بطور كامل اس كے سامنے بيان كرنا چاہئے اور اس عالم سے خواہش كرے كہ وہ اس كے نفسانى عيوب اور برے صفات سے اسے آگاہ كرے_

ايك روحانى طبيب جو اسلامي، اخلاقى اور نفسيات كو جانتا ہو اور خودعامل اور مكارماخلاق كا پابند ہو وہ تہذيب نفس اور سير و سلوك كے راستے بتلانے كے لئے بہت ہى اہميت ركھتا ہے اور موثر ہوا كرتا ہے اگر انسان اس قسم كا آدمى پيدا كرلے تو اسے خداوند عالم كا اس بزرگ نعمت پر شكريہ ادا كرنا چاہئے ليكن صد افسوس كہ اس قسم كے ادمى بہت كمياب ہيں_ قابل توجہ يہ بات ہے كہ روح كى بيماريوں كى تشخيص كرنا بہت مشكل ہے لہذا بيمار پر فرض ہے كہ اپنى اندرونى صفات اور افعال كو بغير چھپائے روحانى طبيب كے سامنے وضاحت سے بيان كردے تا كہ وہ اس كى بيمارى كى تشخيص كر سكے اور اگر بيمار نے اس بارے ميں روحانى طبيب كى مدد نہ كى اور واقعات كے اظہار ميں پس و پيش كيا تو وہ اس مطلوبہ نتيجہ تك نہيں پہنچ سكے گا_

5_ دانا دوست كى طرف رجوع كرنا: اچھا اور دانا اور خير خواہ ادوست اللہ تعالى كى ايك بہت بڑى نعمت ہوتا ہے جو تہذيب نفس اور برى صفات كے پہچان كے راستے ميں انسان كى مدد كر سكتا ہے_ بشرطيكہ وہ دانا ہو اور برى اور اچھى صفات كو پہچانتا ہو اس كے علاوہ وہ خير خواہ اور مورد اعتماد بھى ہو اس واسطے كہ اگر وہ اچھى اور برى صفات كو نہ پہچانتا ہو تو وہ اس كے متعلق اس كى مدد نہيں كر سكے گا اور اگر وہ مورد اعتماد اور خير خواہ نہ ہوا تو ممكن ہے كہ وہ دوستى كى حفاظت اور ناراضگى كے مول نہ لينے كيوجہ سے اپنے دوست كے عيب كو چھپا لے بلكہ ممكن ہے كہ وہ خوشامد كرتے ہوئے اس كے عيب كو اس كے سامنے اچھا بيان كرے اور اس عيب پر اس كى تعريف اور تمجيد شروع كردے اگر كوئي اس قسم كا دوست پيدا كرے اور اس سے خواہش كرے كہ جو نقص اور عيب اس ميں ديكھے اسے اس كا تذكرہ كردے تو اسے اس كى ياد دھانى اور تذكر پر اس كى عزت اور قدردانى كرنى چاہئے_

اپنے نفس كى اصلاح كے لئے ايسے دوست سے استفادہ كرنا چاہئے اس كے تذكرات سے استفادہ اور اس كى عزت اور قدردانى پر اسے يہ باور كرائے كہ اس كے عيب بيان كرنے پر نہ صرف اسے برا معلوم نہيں ہوتا بلكہ اس سے وہ خوشحال بھى ہو جاتا ہے_ اس دوست پر كہ جسے خيرخواہ قرار ديا گيا ہے ضرورى ہے كہ وہ بھى اپنےاخلاص اور صداقت كو عملى طور پر ثابت كرے_ بطور انصاف اور بغير محبت اور بغض كے دوست كے صفات كو پر كھے اور دقت كرے اور اس بارے جو اس كا نظريہ ہوا سے وہ خيرخواہى اور دوستانہ زبان ميں اسے بتلائے اور جہاں تك ہو سكے يہ اسے تنہائي اور مخفى طور سے بتلائے اور اس كے عيب كو لوگوں كے سامنے اظہار كرنے سے پرہيز كرے اس كى غرض واقع كا بتلانا ہو اور مبالغہ آميزى سے پرہيز كرے كيونكہ وہ اپنے مومن بھائي كے لئے بطور آئينہ ہوتا ہے جو خوبيوں اور اچھائيوں كو بغير كم اور زيادہ كے ظاہر كرتا ہے_ البتہ ايسے مہربان اور اصلاح طلب دوست جو انسان كے عيوب كو اصلاح كے لئے بيان كرديں بہت ہى كمياب ہوتے ہيں_ ليكن اگر كسى كو ايسا دوست مل جائے تو وہ ايك بہت بڑى سعادت پر فائز ہوتا جائيگا اسے اس كى قدر پہچاننى چاہئے اور اس كى ياد دھانيوں پر خوشحال ہونا چاہئے اس كے شكريہ كا اظہار كرے اور اسے متوجہ ہونا چاہئے كہ جو دوست اصلاح كى غرض سے انسان كے عيب كى ياد دھانى كرا رہا ہے اور ياد دھانى سے رنجيدہ خاطر ہو اور اس كے دفاع يا انتقام لينے پر اتر آئے_ اگر كسى نے تجھے بتلايا كہ كئي ايك بچھو تيرے لباس پر موجود ہيں كيا اس كے اس بتلانے سے تو رنجيدہ خاطرہ ہوگا اور اس سے انتقام لينے پر اتر آئے گا اس كے اس كہنے سے خوشحال ہوگا اور اس كى قدردانى كرے گا؟

مزید  اسلام عدالت و آزادی کا دین ہے

برے صفات بھى بچھو كى طرح ہوا كرتے ہيں بلكہ اس سے بدتر ہوتے ہيں اور انسان كے جسم پر ڈيگ مارتے ہيں اور ہميشہ اس كے اندر چھپے رہتے ہيں جو ايسے بچھو سے بچانے ميں ہمارى مدد كرے اس نے ہمارى بہت بڑى خدمت انجام دى ہے_

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا كہ ” ميرا بہترين بھائي وہ ہے جو ميرے عيب كو ميرے لئے بيان كرے_

6_ دوسروں كے عيب سے نصيحت لينا: انسان غالبا اپنے عيب سے غافل ہوتا ہے

ليكن دوسروں كے عيب كو ديكھتا ہے اور اس كى برائي كو خوب سمجھتا ہے اور مثال مشہور ہے كہ دوسروں كى آنكھ ميں تنكا ديكھتا ہے اور اسے پہاڑ سمجھتا ہے ليكن پہاڑ كو اپنى آنكھ ميں نہيں ديكھتا لہذا ايك راستہ اپنے نفسانى عيوب كى پہچان كا دوسروں كے عيوب كو ديكھتا ہے_ جب كسى عيب كو دوسروں ميں ديكھے تو اس پر اعتراض كرنے سے پہلے اسے اپنے ميں ڈھونڈے اور اپنے آپ ميں اسے مورد تفتيش قرار دے اور اپنے آپ ميں رجوع كرے اگر وہى عيب اس ميں موجود ہو تو اس كى اصلاح كرنے كى سعى اور كوشش كرے_ لہذا ہو سكتا ہے كہ دوسروں كے عيب سے نصيحت حاصل كرے اور اپنے نفس كو اس سے پاك كرلے رسول خدا(ص) نے فرمايا كہ” وہ سعادتمند انسان ہے جو دوسروں سے نصيحت حاصل كرے_(135)

_ اعتراض كئے جانے سے نصيحت حاصل كرے: دوست اكثر عيب كے ذكر كرنے سے اجتناب كرتے ہيں اس كے بر عكس دشمن اكثر عيب پر اعتراض اور تنقيد كرتے ہيں گرچہ وہ اعتراض كرنے ميں مخلص نہيں ہوتے بلكہ حسد بغض انتقام لينے كى غرض انہيں تنقيد كرنے پر ابھارتى ہے بہر حال انسان اپنے دشمنوں كے اعتراض اور تنقيد اور عيب جوئي سے استفادہ كر سكتا ہے انسان اپنے دشمنوں كے اعتراض سے دو طريق ميں سے كسى ايك سے روبرو ہو سكتا ہے پہلے يا تو وہ اپنے آپ كو ان اعتراضات سے دفاع كرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے كيونكہ وہ عيب جوئي دشمن سے ظاہر ہوتى ہے اور وہ اس كے بيان كرنے ميں اچھائي كى نيت نہيں ركھتا لہذا جس طرح سے بھى ہو وہ اپنے لئے دفاع كى حالت پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اس كى اس طرح كى آواز كو خاموش كرنے كے در پے ہوتا ہے اس طرح كا انسان نہ فقط اپنے عيب كى اصلاح نہيں كرتا بلكہ اس سے بڑھ كر دوسرى غلطى اور خطا اور اشتباہ ميں اپنے آپ كو گرفتار كر ليتا ہے دوسرے وہ دشمنوں كے اعتراضات كو اچھى طرح سے سنتا ہے اور پھر حقيقت شناسى كى نيت سے اپنے آپ ميں رجوع كرتا ہے اور بطور انصاف اس اعتراض كى تحقيق كرتاہے اگر اس نے ديكھا كہ دشمن كا اعتراض درست ہے اور اس كا نفس معيوب ہے تو فورا اس كى اصلاح كرنے كى كوشش كرتا ہے بلكہ اگر مصلحت كا تقاضا ہو كہ ايسے دشمن سے كہ جس نے اس كا عيب بيان كيا ہے اور وہ اس كے نفس كے پاك كرنے كا وسيلہ بنا ہے شكريہ ادا كرے ايسا دشمن اس لحاظ كرنے والے دوست سے كہ جو اس كے عيب كو چھپاتا ہے اور اس كى اس عيب پر تعريف كرتے ہوئے چاپلوسى كر كے اسے جہالت اور نادانى ميں ركھے رہتا ہے بہت زيادہ بہتر اور مفيد ہوگا اور اگر اس نے سوچ و بچار كے بعد ديكھا كہ دشمن كا بيان كردہ عيب اس ميں موجود نہيں ہے تو پھر خدا كا شكريہ ادا كرے اور اپنے نفس كى حفاظت كرے كہ كہيں اس برے عيب ميں بعد ميں مبتلا نہ ہوجائے اس صورت ميں انسان ايسے دشمن سے فائدہ اٹھايا ہے ليكن اس كا اس طرح كرنا اس سے مانع نہيں ہوگا كہ وہ عقلدئي اور شرعى طريقے سے دشمن كى سازش اور خيانت كے نقشے كو ناكام بنادے_

 روح كى بيماريوں كى علامتيں: بيمارى كى پہچان كا ايك بہترين طريقہ اس كى علامتوں سے ہوا كرتا ہے_ جسم كى بيمارى دو ميں سے ايك طريقے سے پہچانى جاتى ہے يا تو درد كے محسوس كرنے سے اور يا كسى عضو كے اس كام كے انجام دينے سے كمزور پڑ جانے سے جو اس كے ذمہ قرار پايا ہے كيونكہ بدن كے نظام كے برقرار رہنے ميں اس كے ہر عضو كا مخصوص عمل ہوا كرتا ہے اگر كوئي عضو اس كام كے انجام دينے ميں كمزور ہو جائے تو معلوم ہوجائيگا كہ وہ عضو مريض ہوگيا ہے مثلا آنكھ اگر سالم ہو تو وہ خاص شرائط كے ساتھ ديكھتى ہے پس اگر شرائط كے ہوتے ہوئے يا تو بالكل نہ ديكھے يا اچھى طرح نہ ديكھے تو معلوم ہو جائے گا كہ وہ بيمار ہے اسى طرح بدن كے بقيہ تمام اعضاء اور جوارح مثل كان ، زبان، ہاتھ، پائوں، دل ، جگر، گردے و غيرہ ان ميں سے ہر ايك كا ايك مخصوص كام ہوا كرتا ہے كہ جسے وہ سلامتى كى حالت ميں انجام ديتے ہيں اگر انہوں نے وہ مخصوص كام انجام نہ ديئے تو معلوم ہوجائيگا كہ وہ بيمار ہيں انسان كى روح اور نفس بھى اسى طرح ہے كہ اس كے لئے فطرت اور خلقت كے لحاظ سے مخصوص كام قرار ديئے گئے ہيں جنہيں اس كو بجالانے ہوتے ہيں_ روح عالم ملكوت سے آئي ہے علم اور رحمت قوت احسان انصاف پسندى محبت معرفت نورانيت اور دوسرے كمالات اور مكارم اخلاق سے اسے سنخيت حاصل ہے اور ان سے مربوط ہے يہ فطرت كے لحاظ سے علت كو معلوم كرتى ہے اور خدا طلب ہے ايمان اور خدا كى طرف توجہ اور اس ذات سے محبت اور علاقمندى اس كى عبادت اور اس سے دعا اور راز و نياز روح كى سلامتى اور صحت كى علامتيں ہيں_ اسى طرح علم و دانش اور اللہ كے بندوں كى رضا الہى كے لئے خدمت_ قربانى اور ايثار، عدالت خواہى اور دوسرے مكارم اخلاق روح كى صحت اور سلامتى كى علامتيں شمار ہوتى ہيں اگر انسان اس قسم كى صفات اپنے ميں موجود پائے تو معلوم ہوجائيگا كہ اس كى روح سالم اور صحيح ہے اور اگر اسے حاصل ہو كہ وہ خدا كى طرف توجہہ نہيں ركھتا اور عبادت اور دعا اور مناجات سے لذت حاصل نہيں كرتا اور اس سے بھاگتا ہے خدا كو دوست نہيں ركھتا اور صرف مقام اور مرتبہ جاہ و جلال دولت اور ثروت اور اولاد اور بيوى شہوترانى اور لذات حيوانى كو اللہ كى رضا پر ترجيح ديتا ہے اور زندگى سے صرف منافع شخصى كا ہدف ركھتا ہے اور فداكارى اور قربانى اور ايثار اور احسان اور خدمت خلق سے لذت حاصل نہيں كرتا اور دوسروں كے درد اور مصيبت سے دردناك نہيں ہوتا_ ايسے شخص كو جان لينا چاہئے كہ اس كى روح واقعا بيمار ہے اگر وہ اپنى سعادت كو چاہتا ہے تو اسے بہت جلدى اپنى روح كى اصلاح اور علاج كرنا چاہئے_

علاج كرنے كا عزم

جب ہم نے نفس اور روح كى بيماريوں كو پہچان ليا اور يقين كرليا كہ ہم بيمار ہيں تو ہميں فورا علاج شروع كرنا چاہئے اور سب سے اہم اس مرحلہ ميں انسان كا ارادہ اور عزم ہے اگر واقعا ہم چاہئيں اور حتمى ارادہ كرليں كہ ہم اپنے آپ كو برائيوں اور برے اخلاق سے اپنى روح كو پاك كريں گے تو يسا كر سكتے ہيں ليكن اگر اس كو معمولى شمار كريں اور ارادہ اور عزم نہ كريں تو پھر روح كى سلامتى اور اس كام صحيح ہوجانا غير ممكن ہوگا يہ وہ وقت ہے كہ شيطن اور نفس امارہ اپنا كام كرنا شروع كر ديتا ہے اور مختلف بہانوں كو سامنے لاتا ہو تا كہ ہميں روح كى اصلاح كرنے سے روكے ركھے ليكن ہميں بہت زيادہ ہوشيار ہونا چاہئے تا كہ اس كے حيلے اور بہانوں كا فريب نہ كھائيں_ ممكن ہے كہ ہمارى برى عادت كو يوں بتلايا جائے كہ تم نے لوگوں كے ساتھ زندگى بسر كرنى ہے دوسرے بھى ايسى صفت ركھتے ہيں_ فلان فلان فلان كو ديكھو اسى صفت بلكہ اس سے بدتر صفت ركھتا ہے كيا تم تنہا زندگى گذار سكتے ہو؟ اگر تو چاہتا ہے كہ رسوائے زمانہ نہ ہو تو زمانے كى طرح چال چلو_ ليكن انسان كو اس فريب اور دھوكے كے سامنے ڈٹ جانا ہوگا_ اگر دوسرے اس مرض ميں مبتلا ہيں تو ان كا مجھ سے كيا ربط ہے كسى دوسروں كا اس بيمارى ميں گرفتار ہوجانا ميرے اس كے ارتكاب كا جواز نہيں بنتا_ اسے يوں كہنا ہوگا كہ يہ عيب اور بيمارى تو مجھ ميں موجود ہے اگر ميں اس بيمارى كے ساتھ مرگيا تو ہميشہ بدبختى اور شقاوت ميں جا پڑوں گا_ لہذا مجھے اس كا علاج كرنا چاہئے اور اپنے نفس كو اس سے پاك كرنا ہوگا_

ممكن ہے كبھى اور حيلے كے ذريعے سے كہ جس سے وقت گذرتا جائے اور تاخير ہوجائے شيطن ميدان ميں آجائے اور ہمارے ارادہ كو منصرف كردے اور يوں خيال ميں لائے كہ يہ تو ٹھيك ہے كہ يہ عيب تو تجھ ميں موجود ہے اور اس كى اصلاح بھى كرنى چاہئے ليكن اتنى جلدى كيا ہے اور كيا دير ہوگئي ہے؟ رہنے دو ميں فلان كام انجام دے لوں_ اس وقت فارغ البال ہو كر نفس كے پاك كرنے ميں مشغول ہو جائونگا_ ابھى تو ميں جوان ہوں اور عيش كرنے كا زمانہ ہے جب بوڑھا پے ميں جائونگا تو پھر توبہ كر لونگا اور نفس كے پاك كرنے ميں مشغول ہوجائونگا_ انسان كو متوجہ رہنا چاہئےكہ يہ بھى شيطن كا ايك فريب اور حيلہ ہے_ كيا معلوم كہ اس وقت تك انسان زندہ رہے گا؟ شايد اس سے پہلے مرجائے اور انہيں نفسانى بيماريوں ميں فوت ہوجائے اس وقت ہمارا انجام كيا ہوگا؟ اور بالغرض اس وقت تك ز ندہ بھى رہ جائے تو كيا اس وقت شيطن اپنى حيلہ گرى اور فريب دينے كو چھوڑ دے گا_ اور ہميں آزاد چھوڑ دے گا تا كہ اپنے نفس كو پاك كر سكيں اس وقت شيطن كوئي اور فريب دے كر نفس كے پاك كرنے سے ہميں روك دے گا لہذا كتنا ہى اچھا ہے كہ ابھى سے نفس كے پاك كرنے ميں شروع ہوا جائے اور نفس امارہ پر قابو پايا جائے_ ممكن ہے كہ نفس امارہ ہميں كہے كہ تم نے فلاں صفت كى عادت كر ركھى ہے اور عادت كا چھوڑنا تيرے لئے ممكن نہيں ہو گا تو خواہشات نفس كا قيدى ہے كس طرح تو اپنے آپ كو اس قيد سے رہائي دلا سكتا ہے؟ تيرى روح گناہ اور معصيت كى وجہ سے تاريك ہوچكى ہے ابھى اسے گلو خلاصى ممكن نہيں ہے معلوم ہونا چاہيے كہ يہ بھى شيطن كى ايك فريب كارى اور دھوكا دہى ہے تجھے اپنے نفس كو كہہ دينا چاہئے كہ عادت كا چھوڑنا غير ممكن نہيں ہوتا بلكہ يہ ممكن ہے گرچہ يہ مشكل تو ہے ليكن اصلاح كرنے كے عمل ميں شروع ہو جانا چاہئے اور اپنے نفس كو پاك كرنے ميں كوشش كرنے چاہئے اگر گناہ اور برى عادت كا چھوڑنا ممكن نہ ہوتاتو يہ سارے حكم جو پيغمبر عليہ السلام اور ائمہ اطہار كے اس بارے ميں آئے ہيں تو ان سے صادر نہ ہوتے اور توبہ كے دروازے كسى وقت بند نہ ہوتے توبہ كا دروازہ ہميشہ كے لئے كھلا ہوا ہے لہذا حتمى ارادہ كر لينا چاہئے اور روح كے پاك كرنے ميں مشغول ہو جانا چاہئے_ ہو سكتا ہے كہ شيطان نفسانى بيماريوں اور برى صفات كو معمولى اور كم بتلائے اور كہے كہ تم واجبات كے بجالانے كے تو پابند ہو اور فلان فلان مستحب كام بھى بجالاتے ہو خدا تمہيں بخش دے گا اور تيرى جگہ بہشت ہے اور يہ كئي ايك برى صفات جو تم ميں موجود ہيں يہ اتنى اہم نہيں ہيں تيرے مستحبات كے بجالانے كى وجہ سے ان كا تدارك ہو جائيگا اور وہ بخش دى جائيں گى اس صورت ميں بھى ملتفت رہنا چاہئے كہ اس قسم كے خيالات اور اميديں دلانا بھى شيطن كا ايك مكر اور فريب ہوتا ہےاور ہميں اپنے نفس ا مارہ سے كہنا چاہئے كہ نيك اعمال تو صرف متقيوں سے قبول ہوتے ہيں اور تقوى كا حاصل كرنا نفس كو پاك كئے بغير حاصل نہيں ہوتا اگر ہمارا نفس برائيوں سے پاك نہ ہوا تو نفس ميں اچھائيوں كى نشو و نما نہيں ہو سكے گى اور اگر نفس سے شيطن باہر نہ گيا تو فرشتہ رحمت اس ميں داخل نہيں ہو سكے گا اگر گناہ اور برے اخلاق سے نفس آلودہ ہوا تو آخرت كے جہان ميں اس كے لئے نور نہ ہوگا_

مزید  "حی علٰی خیر العمل" كے جزء اذان ھونے كی دلیل

ہميں ہميشہ ان بيماريوں كے انجام كى طرف جو پہلے بيان كى جاچكى ہيں متوجہ رہنا چاہئے اس كے ساتھ احاديث اور اخلاق كى كتابوں كے مطالعہ سے ان نفسانى بيماريوں اور ان كى اخروى سزا اور عقاب كو مورد توجہ قرار دينا چاہئے اس ذريعے سے ہميں نفس امارہ كے حيلے اور بہانے اور نفس امارہ كے توہمات كا مقابلہ كرنا چاہئے اور نفس كى اصلاح اور اسے پاك كرنے ميں حتمى اور جزمى ارادہ كر لينا چاہئے اگر ہم نے ارادے كا مرحلہ طے كر ليا تو پھر عمل كرنے كا مرحلہ قريب تر ہوجائيگا_

نفس پس غلبہ كرنا

تمام اعمال اور افعال اور برائياں اور اچھائيوں كو بجالانے والى در حقيقت روح ہوا كرتى ہے اگر روح سالم اور صحيح ہو تو انسان كى دنيا اور آخرت آباد ہوگى اور اگر روح فاسد ہوئي تو پھر وہ برائيوں كے بجالانے كا موجب ہوگى اور دنيا اور آخرت كى ہلاكت اسے لاحق ہوجائيگى اگر انسان نے انسانيت كے راستے پر قدم ركھا تو اللہ كے مقرب فرشتوں سے بھى بالاتر ہوجائيگا اور اگر اسے نے انسانى شرافت كو نظر انداز كيا اور حيوانيت كے راستے پر گامزن ہوا تو حيوانات سے بھى بدتر ہوجائيگا بلكہ وہ شيطنت كے مقام تك پہنچ جائيگا ان دونوں راستوں كے طے كرنے كے اسباب اور عوامل انسان كى فطرت ميں ركھ ديئے گئے ہيں_

وہ عقل بھى ركھتا ہے اور فطرت كے ما تحت انسانى فضائل اور كمالات كا چاہنے والا بھى ہوتا ہے اور يہ حيوان بھى ہے اور حيوانى غرائز اور خواہشات بھى ركھتا ہے اور يوں بھى نہيں كہا جا سكتا كہ حيوانى خواہشات اور غرائز بالكل اور نقصان وہ ہوتى ہيں اور انسان كو پستى كى طرف دكھيل ديتى ہيں نہ بلكہ ان كا ہونا بھى انسان كى زندگى كے لئے ضرورى ہے_ اگر ان سے صحيح اور تھيك استفادہ كيا جائے تو انہيں انسانى تكامل اور اللہ كى طرف سير و سلوك كے لئے كام ميں لايا جا سكتا ہے ليكن اصل مشكل يہ ہے كہ حيوانى خواہشات اور تمنيك ايك معين حد تك نہيں تھہر تيں اور دوسروں كا لحاظ نہيں كرتيں اور نہ ہى انسانى خصوصيات كى طرف متوجہ ہوتى ہيں اور نہ ہى دوسرے غرائز كا لحاظ كرتى ہيں بلكہ ان كى غرض اور غايت صرف اپنے آپ كو آخر تك پہچانا ہوتا ہے_

حيوانى غريزہ كى غرض صرف اسى غريزہ كو بطور كامل حاصل كرنا ہوتا ہے اور اس كے علاوہ اس كى كوئي غرض نہيں ہوتى تمام حيوانى خواہشات اور غرائز جيسے كھانے پينے كى چيزوں سے لذت حاصل كرنا مقام اور منصب كى محبت حكومت اور شہرت مال اور دولت سے وابستگى زندگى كے تجملات اسى طرح غصہ انتقام لينا اور تمام وہ صفات جو ان سے پھوٹتى ہيں يہ تمام كى تمام كسى ايك معين حد تك نہيں تھہرتيں بلكہ ان ميں سے ہر ايك كو آخر تك حاصل كرنا مقصود ہوجاتا ہے_

اسى وجہ سے انسان كا نفس اور روح مختلف خواہشات اور غرائز كے لئے ميدان جنگ اور شكست و ريخت كا ميدان بنا رہتا ہے اور كبھى آرام اور سكون ميں نہيں رہتا جو بھى اس جنگ ميں كامياب ہو جاتا ہے وہى روح اور نفس كو پورى طرح اپنا اسير اور قيدى بنا ليتا ہے ليكن ان كے درميان عقل بہت قدرت اور بہت زيادہ اہميت ركھتى ہے_ عقل شرعيت كى راہنمائي ميں حيوان خواہشات اور تمينات پر كنتڑل كر سكتى ہے اور انہيں اعتدال كى حالت ميں قرار دے سكتى ہے اور افراط اور تفريط سے مانع بن سكتى ہے عقل اپنى حكومت كو كام ميں لا سكتى ہے_ خواہشات كے درميان اعتدال برقرار كرسكتى ہے_ عقل اس وسيلے سے نفس اور روح كى مملكت كو گڑ بڑ اور نا آرامى اور زيادہ طلبى سے نجات دلا سكتى ہے اور انسانيت كے سيدھے راستے اور سير اور سلوك كى راہ نمائي كر سكتى ہے_

ليكن عقل كا اسپر حاكم اور مسلط ہوجانا كوئي آسان كام نہيں ہے كيونكہ وہ باقى طاقت ور قوتوں اور خواہشات كے روبرو ہوتى ہے اور دھوكے باز دشمن كہ جس كا نام نفس امارہ ہے اور اس كے بہت زيادہ مددگار اور ساتھى ہيں جو اس كى حمايت كرتے ہيں_ اسے اس كا سامنا كرنا پڑتا ہے_

خداوند عالم قرآن ميں فرماتا ہے كہ” نفس ہميشہ برے كاموں كا حكم ديتا ہے مگر خدا رحم كردےں_

رسول خدا(ص) نے فرمايا ہے كہ ” تيرا سب سے بڑا دشمن تيرا نفس ہے جو تيرے دو پہلو ميں موجود دہے_

اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” عقل اور شہوت ايك دوسرے كى ضد ہيں علم عقل كى مدد كرتا ہے اور ہوى اور ہوس شہوت كى تائيد كرتے ہيں_ انسانى نفس دو قوتوں كى لڑائي كا ميدان ہوتا ہے ان ميں سے جو دوسرى قوت پر غلبہ حاصل كر لے انسانى نفس كو اپنى گرفت ميں لے ليتا ہے_

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” برائي اور شر ہر ايك نفس ميں موجود ہيں اگر نفس كے مالك نے اس پر غلبہ حاصل كر ليا تو وہ مخفى ہوجاتا ہے اور اگر اس پر غلبہ نہ كيا تو وہ ظاہر ہوجاتا ہے_ 

لہذا عقل بہت اچھا حاكم ہے ليكن مدد كئے جانے كا محتاج ہے اگر اس جنگ ميں عقل كى مدد كريں اور نفسانى خواہشات اور شہوات اور ہوى و ہوس پر شورش كريں اور جسم كى مملكت كے انتظام كا كاكم عقل كے سپرد كرديں تو ايك بہت بڑى فتح اور كامرانى كو حاصل كر ليں گے_

يہى دو چيز ہے كہ جو دين كے پيشوائوں اور رہبروں اور شريعت اور طريقت پرچلنے والوں نے ہم سے طلب كى ہوئي ہے اور اس كے متعلق بہت زيادہ تاكيد كر ركھى ہے_

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” ہوشيار رہنا كہ كہيں شہوات تمہارے دلوں پر غالب نہ آجائيں كيونكہ پہلے وہ تمہيں اپنى ملكيت ميں ليں گى اور آخر ميں تجھے ہلاك كرديں گي_

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا كہ ” جس نے اپنى خواہشات كو اپنى ملكيت ميں قرار نہ ديا تو وہ اپنى عقل كا مالك بھى نہيں رہے گا_

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا كہ ” جو شخص خوف اور رغبت اور شہوت اور غضب كے وقت اپنے نفس پر مسلط ہوا تو خدا اس كے بدن كو جہنم كى آگ پر حرام قرار دے دے گا_(

حضرت على عليہ السلام نے فرماياہے كہ” تم اپنے نفس پر مسلط ہوجائو اور اسے گناہوں سے روكو تا كہ تم اسے اللہ كى اطاعت كى طرف آسان كردو_

روح انسانى كو پاكيز بنانے كے لئے نفس اور اس كى خواہشات اور ھوى اور ہوس پر كنتڑل كرنا ايك ضرورى اور زندگى ساز كام ہے_ انسان كا نفس اور روح مثل ايك سركش گھوڑے كى طرح ہے اگر وہ رياضت كے ذريعے مطيع اور آرام ميں ہوا اور اس كى لگام اپنے ہاتھ ميں ركھى اور اس كى پشت پر سوار ہوا تو پھر اس سے فائدہ حاصل كر سكے گا اور اگر وہ مطيع اور فرمانبردار نہ ہوا اور جس طرف چاہے وہ جانے لگا تو وہ تجھے اپنى پشت سے تہہ غار ميں گرا دے گا ليكن سركش نفس كو مطيع اور فرمانبردار بنانا كوئي آسان كام نہيں ہے وہ ابتداء ہى ميں تجھ سے مقابلہ كرے گا_ ليكن اگر تو مقاومت كرے اور مضبوط بنے تو وہ تيرا مطيع اور فرمانبردار ہوجائے گا_

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” اگر تيرا نفس تيرے سامنے سختى سے پيش ائے اور مطيع اور فرمانبردار نہ ہو تو بھى اس پر سختى كر تا كہ وہ تيرا مطيع اور فرمانبردار ہوجائے تو اس كے ساتھ حيلے اور بہانے سے پيش آتا كہ وہ تيرى اطاعت ميں آجائے _

نيز حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” انسان خواہشات اور شہوات مار دينے والى بيمارياں ہيں اور انكا بہترين علاج اور دوا، صبر اور استقامت اور اس كے مقابلے ميں ڈٹ جانا ہے_

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.