توحيد و شرک کي حدود

0 3

توحيد و شرک (خواہ نظري ھو يا عملي) اس کي دقيق حدود کيا ھيں؟ توحيد کيا ھے؟ اور شرک کيا ھے؟ عمل توحيدي، کونسا عمل ھے؟ اور کونسا عمل، عمل شرک ھے؟

ا?يا خدا کے علاوہ کسي موجود پر عقيدہ رکھنا شرک ھے؟ (شرک ذاتي) اور توحيد ذاتي کا لازمہ يہ ھے کہ ھم خدا کے علاوہ کسي بھي موجودات پر (اگر چہ اسي کي مخلوق کے عنوان سے ھي ھو) کوئي عقيدہ نہ رکھيں؟ (وحدت وجود کي ايک قسم)

روشن ھے کہ مخلوق خدا فعل خدا ھے، خدا کا فعل خود خدا کي ايک شان ھے اور اس کے مقابلہ ميں کوئي اس کا ثاني نھيں ھے، خدا کي مخلوقات اس کے فيض کي تجلي ھيں، وجود مخلوق پر اس جہت سے اعتقاد رکھنا کہ وہ مخلوق ھے، توحيد پر اعتقاد کا دوسرا حصہ ھے نہ کہ توحيد کي ضد، لہ?ذا توحيد و شرک کا معيار کسي دوسري چيز کا وجود رکھنا يا نہ رکھنا، نھيں ھے?

ا?يا تا?ثير و تا?ثر اور سببيّت و مسببيت ميں مخلوقات کے کردار پر اعتقاد رکھنا شرک ھے؟ (يعني خالقيت و فاعليت ميں شرک) ا?يا توحيد افعالي کا لازمہ يہ ھے کہ ھم کائنات کے سببي اور مسببي نظام کا انکار کريں؟ اور ھر اثر کو مستقيماً اور بلاواسطہ خدا سے صادر ھونا تصور کريں؟! اور اسباب کے لئے کسي اثر کے قائل نہ ھوں؟

مثلاً يہ عقيدہ رکھيں کہ ا?گ، جلانے ميں، پاني، سيراب کرنے ميں، بارش، گھاس اُگانے ميں اور دوائي، مريض کو شفا بخشنے ميں کوئي کردار نھيں رکھتي ھے؟ يعني بس خدا ھے جو بطور مستقيم جلاتا ھے، سيراب کرتا ھے، مستقيماً اُگاتا ھے اور مستقيماً شفا ديتاھے؟! کيا ان عوامل کا ھونا اور نا ھونا برابر ھے؟!

يھاں پرجو چيز قابل دقت ھے وہ يہ کہ خدا کي عادت ھے کہ وہ اپنے کاموں کو ان امور (اسباب) کي موجودگي ميں انجام ديتا ھے مثلاً اگر ايک انسان کي عادت يہ ھو کہ:

وہ اپنے سر پر ٹوپي رکھ کر خط لکھتا ھو، خط کے لکھنے ميں سر پر ٹوپي کا ھونا نہ ھونا کوئي اثر نھيں رکھتا ھے ليکن خط لکھنے والا کبھي يہ نھيں چاہتا کہ وہ ٹوپي کے بغير خط لکھے?

خدا کے امور بھي اسي نظريہ کے مطابق ھيں يعني ان امور کا نہ ھونا جن کو عوامل و اسباب کھا جاتا ھے، اسي قبيل سے ھيں، (يعني خدا نے اپني عادت بنالي ھے کہ وہ اپنے امور کچھ افراد کے ذريعہ سے انجام ديتا ھے)?

اور اگر اس کے علاوہ ھم قائل ھو جائيں تو گويا فاعليت ميں ھم ايک ھي کے شريک نھيں بلکہ بہت سے شرکاء کے قائل ھوگئے ھيں (جبريوں اور اشاعرہ کا نظريہ) يہ نظريہ بھي صحيح نھيں ھے?

جيسا کہ مخلوق کے وجود پر اعتقاد، خدا کے مقابل شرک ذاتي، قطبي وجود اور دوسرے خدا پر اعتقاد کے ساتھ مساوي نھيں ھے بلکہ خدائے وحدہ لاشريک کے وجود پر اعتقاد کا مکمِّل اور متِمّم ھے، نظام کائنات ميں مخلوقات کے کردار پر اور تا?ثير و سببّيت پر اعتقاد رکھنا بھي (جيسا کہ موجودات ذات ميں استقلال نھيں رکھتے ھيں ايسے ھي تا?ثير ميں بھي استقلال نھيں رکھتے ھيں: وہ موجود ھيں تو اس کے وجود سے، مو?ثر ھيں تو اس کي تا?ثير سے) خالقيت ميں شرک کا باعث نھيں ھے بلکہ خدا کي خالقيت کے اعتقاد کامکمل اور متمم ھے?

ھاں اگر مخلوقات کے لئے، تا?ثير کے لحاظ سے استقلال و تفويض کے قائل ھو جائيں اور اس طرح اعتقاد رکھيں کہ جھان کي طرف خدا کي نسبت ايسے ھے کہ جيسے ايک انجينئر کي نسبت، صنعت کي طرف ھوتي ھے (مثلاً گاڑي) اپني پيدائش ميں ايک انجينئر (بنانے والے) کي محتاج ھے ليکن جب بن کر تيار ھو جائے تو وہ اپنا کام اپنے سسٹم کے مطابق جاري رکھتي ھے?

انجينئر فقط گاڑي کے بنانے ميں کردار ادا کرتا ھے نہ کہ تيار ھونے کے بعد اس کي کار کردگي ميں، اگر بنانے والا مستري مر جائے تب بھي گاڑي اپنا کام جاري رکھے گي?

اگر ايسا عقيدہ ھو تو عوامل جھان:

پاني، بارش، بجلي، حرارت، خاک، گھاس، حيوان اور انسان وغيرہ کي نسبت خدا کے ساتھ ايسي نسبت ھے کہ (جيسي گاڑي اور اس کے بنانے والے کے درميان نسبت ھوتي ھے) جو واقعاً شرک ھے، ( جيسا کہ معتزلہ اس کے قائل ھيں)

مخلوق اپني حدوث و بقاء ميں خدائے خالق کي محتاج ھے، بقاء اور تا?ثير گذار ميں بھي اسي مقدار ميںمحتاج ھے کہ جتنا حدوث ميں ھے، جھان کا عين فيض، عين تعلق، عين ارتباط، عين وابستگي، صرف اسي کي ذات سے ھے لہ?ذا اس لحاظ سے اشياء کي تا?ثير و سببيّت، خدا کي عين تا?ثير و سببيّت ھے،

مزید  تیسرے امام : حضرت حسین بن علی علیہ السلام

جھان کي قوتِ خلاقيت جو انسان وغير انسان ھر ايک ميں موجودھے، عين خلاقيتِ خداوندعالم اور اس کي فاعليّت کي بسط(وسعت) ھے بلکہ يہ اعتقاد کہ اس دنياميں اشياء کا کردار ادا کرنا شرک کا باعث ھے خود ايک طرح کا شرک ھے?

کيونکہ يہ اعتقاد اس نظريہ کي وجہ سے پيدا ھوتا ھے کہ بے خبري ميں موجودات کي ذات کے لئے ذاتِ حق کے مقابل ھم استقلال کے قائل ھوگئے ھيں اور اس بناء پر اگر موجودات کو ئي تا?ثيري نقش رکھتے ھوں تو تا?ثيرات کي نسبت دوسرے قطبوں سے دے دي گئي ھے، پس شرک و توحيد کے درميان حدود يہ نھيں ھيں کہ غير خدا کے لئے سببيّت اور تا?ثيرات ميں کسي نقش کے قائل ھوں يا قائل نہ ھوں?

کیا توحید و شرک کی حدود، قدرت اور مافوق الطبیعی چیزوں کی تاٴثیر پر اعتقاد کا نام ھے؟ یعنی ایک موجود، خواہ وہ انسان ھو مثلا ً نبی یا امام یا فرشتہ، کے لئے طبیعی طور پر مافوق قوانین کی قدرت پر اعتقاد رکھنا شرک ھے، لیکن متعارف اور معمولی حدود میں تاٴثیر و قدرت پر اعتقاد رکھنا شرک نھیں ھے اور ایسے ھی دنیا سے چلے گئے انسان کی تاٴثیر و قدرت پر اعتقاد بھی شرک ھے؟ کیونکہ مرا ھوا انسان جمادات کا حکم رکھتا ھے اور قوانین طبیعی کے اعتبار سے شعوربھی نھیںرکھتا، اور نہ ھی قدرت و ارادہ ، لہٰذامردہ کا درک کرنا، مردہ کو سلام کرنا، مردہ کی تعظیم و تکریم کرنا، مردہ کو پکارنا، مردہ سے کوئی چیز طلب کرنا اور مردہ پر فدا ھو جانا وغیرہ جیسے اعتقاد رکھنا شرک ھے، کیونکہ غیر خدا کے لئے ایک ماوراء طبیعی قدرت پر اعتقاد رکھنے کا لازمہ یھی ھے۔

ایسے ھی مرموز اور ناشناختہ چیزوں کے لئے ایک حالت کی تاٴثیر رکھنے پر اعتقاد کا مسئلہ مخصوصاً بیماری سے شفا پانے میں یا ایک مخصوص جگہ دعا کے قبول ھونے پر اعتقادرکھنا شرک ھے، کیونکہ ایک ماوراء الطبیعی قدرت پر اعتقاد رکھناھے، خواہ وہ کوئی بھی طبیعی چیز ھو۔

اس وجہ سے اشیاء کے لئے مطلقا تاٴثیرات پر اعتقاد رکھنا شرک نھیں ھے (جیسا کہ اشاعرہ قائل ھوئے ھیں) بلکہ اشیاء کے لئے مافوق الطبیعی تاٴثیرات پر اعتقاد رکھنا شرک ھے، لہٰذاھستی دو حصّوں میں تقسیم ھوتی ھے: طبیعت اور ماوراء طبیعت، ماوراء الطبیعت جو خدا سے مخصوص ھے اور طبیعت اس کی مخلوق سے مختص ھے یا خدا اور مخلوق دونوں کے لئے ھے۔

کچھ اس طرح کے کام ھیں جو غیر طبیعی پھلو رکھتے ھیں جیسے زندہ کرنا ، مارنا، روزی دینا وغیرہ، مذکورہ باقی امور عمومی اور عادی ھیں ، عمومی کام خدا سے مخصوص ھیں اور باقی امور اس کی مخلوقات کے دائرہ اختیار میں ھے ، یہ باتیں توحید نظری کے اعتبار سے ھیں ۔

لیکن توحید عملی کے لحاظ سے غیرخدا کی طرف ھر طرح کی معنوی توجہ یعنی ایسی توجہ کہ جو توجہ کرنے والے کے چھرے اور زبان کے ذریعہ، جس کی طرف توجہ کی جائے اس کے ظاھری کان اور چھرہ کی طرف نہ ھوبلکہ توجہ کرنے والا چاہتا ھے کہ ایک طرح کا قلبی او رمعنوی رابطہ اپنے او ر مدمقابل کے درمیان برقرار کرے ، او راس کو پکارے اور اپنی طرف متوجہ کرکے اس تک(پھونچنے کے لئے) وسیلہ تلاش کرے او راس سے مراد مانگے یہ تمام کام شرک اور غیر خدا کی پرستش ھے کیونکہ عبادت بھی اسی طرح سے ھوتی ھے ۔

اور غیر خدا کی عبادت بحکم عقل وشرع جائز نھیں ھے، جس کا لازمہ دائرہ اسلام سے خارج ھونا ھے، اس کے علاوہ اس طرح کے فعل انجام دینا قطع نظر اس بات سے کہ غیر خدا کی عملی عبادت ھے اور یہ ایسے افعال ھیں کہ جو مشرکین بتوں کے لئے انجام دیتے تھے اور اس بات کا لازمہ یہ ھے کہ پیغمبر یا امام کے لئے غیر طبیعی طاقت کا عقیدہ رکھا جائے ، (جیسا کہ ھمارے زمانے کے وھابیوں اور وھابیت کے ٹھیکیداروں کا عقیدہ ھے)

یہ نظریہ ھمارے زمانہ میں اس حد تک پھیل گیا ھے کہ ایک طبقہ کے درمیان خاص طور پر روشن فکری کی نشانی سمجھا جاتا ھے لیکن معیار توحید کے لحاظ سے یہ نظریہ توحید ذاتی کے بارے میں نظریہ اشاعرہ کی حد تک شرک آلود ھے ، اور توحید خالقیت اور فاعلیت کے لحاظ سے بہت ھی شرک آمیز نظریات میں سے ھے۔

اس سے قبل ھم نے اشاعرہ کے نظریہ کی ردّ میں کھا تھا کہ اشاعرہ اشیاء میں سببیت اور نفی ٴ تاثیر کے قائل ھیں اس خیال سے کہ اشیاء کی تاثیر اور سببیت کا اعتقاد رکھنے کا ملازمہ خدا کے مقابلہ میں منشاء اور قطب کا اعتقاد رکھنا ھے، اور ھم نے پھلے بھی عرض کیا ھے کہ اشیاء قطب (محور) کی شکل میں اس وقت خدا کے مقابلہ میں آتے ھیں کہ جب وہ ذاتاً مستقل ھوں، لہٰذا معلوم یہ ھوا کہ اشاعرہ ندانستہ طورپر اشیاء کے لئے ایک طرح سے استقلال ذاتی کا قائل ھوگئے ھیں، جس کا ملازمہ شرک ذاتی ھے، البتہ اس سے غافل تھے اور وہ یہ چاہتے تھے کہ اشیاء سے نفی اثر کے ذریعہ توحید خالقیت کو ثابت کریں، ان کے اس کام نے خالقیت میں شرک کی نفی کرنے کے ساتھ ساتھ شرک ذاتی کی تائید کی ھے ۔

مزید  كتاب:اسرار غدیر

بالکل اسی طرح کا اعتراض وھابیت پر بھی ھوتا ھے یہ لوگ بھی نادانستہ طور سے اشیاء میں استقلال ذاتی کے قائل ھوگئے ھیں، اور اسی طرح مافوق طبیعت چیزوں کا نقش معمولی عوامل واسباب میں رکھنے کو مرکزیت و محوریت اور ایک قدرت کا ملازمہ خدا کے مقابلہ میں اعتقاد جانا ھے اس بات سے غافل ھوگئے کہ تمام موجودات اپنی تمام ترحقیقت کے ساتھ اللہ کے ارادے سے وابستہ ھیں اور ان کی اپنی کوئی حیثیت نھیں ھے اس مافوق ِ طبیعت کی تاثیر اس کی طبیعی تاثیر کی طرح ھے ، لہٰذا اگر کوئی چیز اپنی طرف منسوب ھے تو اس کا مطلب یہ ھے کہ اللہ کی طرف منسوب ھے اورکسی چیز کی حقیقت نھیں مگر یہ کہ اللہ نے اس کو فیض پھونچانے کا ایک ذریعہ بنایا ھے ۔

کیا جناب جبرئیل (ع)کا وحی وعلم پھونچانے اور میکائیل (ع)کا رزق پھونچانے، یا اسرافیل (ع) کا مردوں کو زندہ کرنے میں ، یا ملک الموت کا روح کو قبض کرنے میں واسطہ ھونا شرک ھے ؟!

خالقیت میں توحید کے نظریات میں سے یہ نظریہ سب سے بدترین شرک کی قسموں میں سے ھے کیونکہ اس نظریہ میں خالق و مخلوق کے درمیان کام تقسیم ھونے کے قائل ھوئے ھیں :

غیر طبیعی کاموں کو خدا سے مخصوص کرنا اور طبیعی کاموں کو انسانوں سے مخصوص کرنا یا خدا اور مخلوق کے درمیان اشتراک کا قائل ھونا، مخلوق کے لئے کچھ کاموں کا مخصوص کرنا ، فاعلیت میں عین شرک ھے نیز اشتراکیت کا قائل ھونا بھی فاعلیت میں ایک دوسرا شرک ھے ۔

رائج تصور کے برعکس ، وھابیت کا نظریہ صرف امامت کی مخالفت میں نھیں ھے بلکہ قبل اس سے کہ امامت کے مخالف ھو توحید او رانسانیت کے خلاف ھے ، توحید کے مخالف اس وجہ سے ھے کیونکہ خالق اور مخلوق کے درمیان تقسیم امور کے قائل ھیں اور اس کی وجہ سے ایک طرح کا ”شرک ذاتی خفی “کے قائل ھیں جس کی وضاحت ھم پھلے کر چکے ھیں ، اور انسانیت کے مخالف اس وجہ سے ھے کہ اس انسان کو کہ جو اشرف المخلوقات ھے اور قرآنی روسے خلیفة اللہ ھے اور مسجود ملائکہ ھے ، اس انسان کی قابلیت اور استعداد کو نھیں سمجھاگیا او راس کو ایک جانور کی حد تک گرادیا،اس کے علاوہ مردہ اور زندہ میں اس طرح کے فرق کے قائل ھوئے کہ مردے عالم (آخرت) میں بھی زندہ نھیں ھیں اور یہ کہ انسان کی تمام شخصیت اس کا بدن ھے جو ایک جماد کی شکل میں ھے ، لہٰذا یہ ایک مادی اورضد الٰھی نظریہ ھے ۔

اور اسی طرح مجھول او رناشناختہ چیزوں اور معلوم اور شناختہ شدہ چیزوں کے درمیان اس طرح جدائی کی ھے اور پھلے کو دوسرے کے برعکس غیر طبیعی جاننا بھی ایک طرح کا شرک ھے ۔

ھم یھاںپر حضرت رسول اکرم(ص) کے ارشاد کی طرف متوجہ ھوتے ھیں کہ آپ نے فرمایا: افکار وعقائد میں شرک اس طرح مخفی طریقہ سے داخل ھوتا ھے کہ جس طرح ایک کالی چیونٹی اندھیری رات میں سخت پتھر پر آھستہ آھستہ چلے۔

حقیقت تو یہ ھے کہ توحید اور شرک کی حد خدا اورانسان کے درمیان ”من اللّٰہ “ ”الی اللہ“ ھے ۔

”توحیدنظری“ میں شرک اور توحید کی سرحد” من اللہ“(اِنّا لِلّٰہ) ھے یعنی خدا کی جانب سے ھے(إنَّا لِلّٰہِ)ھر حقیقت اور ھر موجود جب تک کہ ذات و صفات و افعال کو اس کی خصلت و ھویت کے ساتھ ”اس (اللہ) سے“ پہچانیں تواس کو صحیح اور حقیقت کے مطابق اور نگاہ توحید کے مساوی پہچاننا ھے، چاھے وہ چیز ایک اثر یا چند اثر رکھتی ھو یا نہ رکھتی ھو یا یہ کہ وہ اثر جنبہٴ ماوراء طبیعت رکھتی ھو یا نہ رکھتی ھو، چونکہ خدا صرف ماوراء طبیعت ، آسمان و ملکوت و جبروت کا خدا نھیں ھے بلکہ سارے جھان کا خدا ھے، وہ طبیعت سے اتنا ھی قریب ھو نے کے ساتھ قیومیت بھی رکھتا ھے جتنا ماوراء طبیعت سے نزدیک ھے ، اور ایک موجود کے لئے جہت ماوراء طبیعت رکھنے سے اس کو خدائی کا پھلو نھیں ملتا ھے۔

مزید  مقاصدِ شریعت

یہ بات ھم پھلے بھی عرض کرچکے ھیں کہ جھان بینی اسلامی نقطہٴ نظر سے دنیا کی ماھیت ”اس (اللہ) سے“ھے، جیسا کہ قرآن کریم نے متعدد معجزات کو، مثلاً مردہ کو زندہ کرنے یا مادر زاد اندھے کو شفا دینے کی نسبت بعض، پیغمبروں کی طرف دی ھے، لیکن اس نسبت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے کلمہٴ ”بِاِذنِہِ“ کو اضافہ کیا ھے یہ کلمہ اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ ماھیت ”اس (اللہ) سے“ ھے، لیکن یھاں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ انبیاء مستقلاً اس کام کو انجام دیتے ھیں۔

لہٰذا اس کا مطلب یہ ھوا کہ توحید نظری و شرک نظری کی حدیں ”اس (اللہ) سے“ ھے اور کسی موجود کے وجود پر اعتقاد رکھنا کہ اس کی موجودیت ”اس سے“ یعنی خدا سے نھیں ھے شرک ھے،یا یہ اعتقاد رکھنا کہ کسی موجود میں تاثیرو موٴثریت ”اس (اللہ) سے“ نھیں ھے یہ بھی شرک ھے چاھے اثر، اثر مافوق طبیعت ھو مثلاً آسمان و زمین کی خلقت یا ایک ھلکا سا اثر مثلاً پتوں کا ھلنا۔

توحید عملی میں شرک و توحید کی حد ”اس (اللہ) سے“ ھے ”إنَّا للہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ“ ھر موجود کی طرف توجہ، ظاھری و معنوی توجہ سے بڑھ کر، جب کبھی بھی اصل توجہ ایک راہ کی طرف ھو ،وہ راہ جو حق کی طرف ھو اس مقصد کی طرف، تو وہ توجہ اللہ کی طرف ھے،ھر حرکت و مسیر میں راستے کی طرف توجہ کرنا اس حیثیت کا راستہ ھے اور علائم و چراغ راستہ نہ کھونے یا مقصد سے دور نہ ہٹنے کے لئے ھوتے ھےں، کی طرف توجہ کرنا اس لحاظ سے کہ یہ سب علامت اور نشانیاں ھیں مقصد کی طرف راستہ چلنے کے لئے ، اسی طرح انبیاء اور اولیاء خدا بھی راستہ کی طرح ھیں:

”اَنتُمُ السَّبِیلُ الاَعظَمُ وَ الصِّرَاطُ الاَقوَمُ“ آپ ھی سبیل اعظم اور صراط اقوم ھیں، وہ لوگ اللہ کی طرف سیر کرنے کی علامت اور نشانیاں ھیں: ”و اعلاماً لعبادہ و مناراً فی بلادہ و ادلائاً علی صراطہ“حق کی طرف ھدایت کرنے والے اور راستہ دکھانے والے ھیں،”اَلدُّعَاةُ اِلَی اللّٰہِ وَ الاَدِلَّاءُ عَلَی مَرضَاةِ اللّٰہِ“

لہٰذا بات یہ نھیں ھے کہ توسل و زیارت یا اولیا ء خدا سے امداد طلب کرنا اور مافوق طبیعت کام انجام دینے کا انتظار کرنا شرک ھے، بلکہ بات کچھ اور ھی ھے۔

اول : ھم کو یہ جاننا ضروری ھے کہ انبیاء اور اولیاء خدا نے قرب الھی میں اتنی بلندی حاصل کی کہ اللہ تعالی کی طرف سے ایسے مقامات عطا کئے گئے ھیں یا نھیں؟

آیات قرآن کریم سے معلوم ھوتا ھے کہ اللہ تعالی نے اپنے بعض بندوں کو ایسا مقام و مرتبہ عطا کیا ھے ۔

دوم :۔وہ لوگ جو توسل کرتے ھیں یا اولیاء خدا کی زیارت کو جاتے ھیں ان سے حاجت طلب کرتے ھیں، توحیدی نظریہ کے مطابق ان کو توحید کے صحیح معنی معلوم ھیں یا نھیں ؟

کیا واقعاً اس نظریہ کے تحت زیارت کرنے والے لوگ خشنودی خدا کے لئے زیارت کرتے ھیں یا اللہ کو بھول کر خود جس کی زیارت کو جاتے ھیں اسی کو مقصد قرار دیتے ھیں؟

بغیر کسی شک کے اکثر لوگ اسی نیت سے زیارت کرتے ھیں اور ممکن ھے کچھ لوگ اقلیت میں ایسے بھی ھوں جو ایسا قصد نہ رکھتے ھوں اور توحید کو صحیح درک کرنے سے قاصر ھوں، اگر چہ خواہشات ھی کی حد میں کیوں نہ ھوں ضروری ھے کہ ھم انھیں توحید کے معنی سمجھائیں نہ یہ کہ زیارت کو شرک قرار دیں۔

سوم :۔ وہ افعال و اقوال جو تسبیح و تکبیر و تحمید اور علی الاطلاق ذات کامل یعنی خدا، اور علی الاطلاق بے نیازی پر دلالت کرتے ھیں غیر خدا کے لئے ان کااستعمال شرک ھے ، سبوح ٌیعنی وہ مطلقاً طور پر منزہ ھے ، اور اس کی ذات ھر نقص سے پاک و پاکیز ہ ھے، بزرگ تنھا اس کی ذات ھے تمام تعریفوں کا منبع و مرکز تنھا خدائے بزرگ و برتر ھے، تمام ”حول و قوة“ اسی کی ذات اور صفات سے قائم ھے!اوراگر اسی طرح کی توصیف و تعریف کوئی شخص غیر خدا کے لئے کرنا چاھے زبان کے ذریعے ھو یا عمل کے ذریعے ، شرک ھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.