تمام انبیائے کرام نمازی تھے

0 0

نمازکی اہمیت اس چیزسے بھی معلوم ہوتی ہے کہ تمام ادیان الٰہی میں نمازکاوجودتھا،

تمام انبیاء کی شریعت میں رائج وموجود تھی اوردنیامیں جت نے بھی نبی ورسول آئے سب الله کی عبادت کرتے تھے ، اہل نمازتھے اوراپنی امت کے لوگوں کونمازوعبادت کی دعوت بھی دیتے تھے لیکن ہرنبی کی شریعت میں نمازوعبادت کاطریقہ طریقہ یکساں نہیں تھا،جس طرح ہرنبی کے زمانے کاکلمہ یکساں نہیں تھااسی طرح نمازکاطریقہ بھی مختلف تھا ،تمام انبیاء کی شریعت میں نمازکے رائج ہونے کی سب سے یہ ہے کہ خداندعالم نے قرآن وحدیث میں اکثرانبیاء کے ساتھ نمازکاذکرکیاگیاہے اوربیان کیاگیاہے کہ تمام نبی نمازی تھے اورنمازکی دعوت بھی دیتے تھے

حسین ابن ابی العلاء سے مروی ہے ،امام صادق فرماتے ہیں :جب خداوندعالم نے آدم(علیھ السلام) کوجنت سے نکال کردنیامیں بھیجاتوآپ کے پورے جسم پرسر سے پیروں کے تلووں تک سیاہ رنگ کے داغ پڑگئے(جسے عربی میں شامہ کہتے ہیں) جس کی وجہ سے آپ کے جسم سے بدبوآنے لگی ، حضرت آدم (علیھ السلام)اپنے جسم سے آنے والی بدبوسے پریشان ہوگئے اوربہت زیادہ غمگین رہنے لگے اوررونے وگڑگڑانے لگے ،ایک دن جبرئیل امین حضرت آدم (علیھ السلام) کے پاس آئے اورپوچھا: 

اے آدم! تمھارے رونے کاسبب کیاہے ؟حضرت آدم (علیھ السلام)نے جواب دیا:ان کالے داغ اوران کے اندرپیداہونے والی بدبونے مجھے غمگین کردیاہے ،جبرئیل نے کہا:اے آدم! اٹھواورنمازپڑھو کیونکہ یہ پہلی نماز(یعنی نمازظہر)کاوقت ہے ،حضرت آدم(علیھ السلام) نے اٹھ کرنماز(ظہرپڑھی توفوراًآپ کے جسم سے سروگردن کارنگ بالکل صاف ہوگیااورجب دوسری نماز(یعنی عصر)کاوقت پہنچاتوجبرئیل نے کہا:اے آدم(علیھ السلام)!اٹھواورنمازپڑھوکیونکہ اب یہ دوسری نمازکاوقت ہے،جیسے ہی حضرت آدم(علیھ السلام) نے نمازعصرپڑھی توناف تک بدن کارنگ صاف ہوگیا 

اس کے بعدجب تیسری نماز(یعنی مغرب )کاوقت پہنچاتوجبرئیل نے پھرکہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھواورنماز(مغرب)پڑھوکیونکہ اب یہ تیسری نمازکاوقت ہے، جیسے حضرت آدم(علیھ السلام) نے نماز(مغرب) پڑھی تودونوں گھٹنوں تک بدن کارنگ صاف ہوگیا،جب چوتھی نماز (یعنی عشا) کاوقت پہنچاتوکہا:اے آدم(علیھ السلام)!اٹھواورنماز(عشا)پڑھوکیونکہ اب یہ چوتھی نمازکاوقت ہے ،حضرت آدم(علیھ السلام) نے نماز (عشا) پڑھی تو پیروں تک بدن کا رنگ بالکل صاف ہوگیا جب پانچوی نماز(یعنی صبح )کاوقت پہنچاتوکہا:اے آدم(علیھ السلام)! اٹھو اور نماز (صبح) پڑھو کیونکہ اب یہ پانچوی نمازکاوقت ہے ،جیسے ہی حضرت آدم(علیھ السلام) نماز (صبح) سے فارغ ہوئے تومکمل طورسے پورے کارنگ صاف ستھراہوگیااورآپ نے خداکی حمدوثنا کی،جبرئیل نے کہا: اے آدم!تمہاری اولادکی مثال ان پنجگانہ نمازوں میں ایسی ہی ہے جس طرح تم نے نمازپنجگانہ کے ذریعہ اس شامہ سے نجات پائی ہے پس تمہاری اولادمیں جوشخص شب وروزمیں یہ پانچ نمازیں پڑھے گاوہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجائے گاجیسے تم اس شامہ ) سے پاک وصاف ہوئے ہو ۔( ١ 

——–

. ١(من لایحضرہ الفقیہ /ج ١/ص ٢١۴ (

نمازاورحضرت ادریس

عن الصادق علیہ السلام قال:اذادخلت الکوفة فات مسجدالسہلة فضل فیہ واسئل الله حاجتک لدینک ودنیاک فانّ مسجدالسہلة بیت ادریس النبی علیہ السلام الذی کان یخیط فیہ ویصلی فیہ ومن دعاالله فیہ بمااحبّ قضی لہ حوائجہ ورفعہ یوم القیامة مکاناعلیاالی درجة ادریس ) علیہ السلام واجیرمن الدنیاومکائد اعدائہ.( ١ 

امام صادق فرماتے ہیں:جب آپ شہرکوفہ میں داخل ہوں اورمسجدسہلہ کادیدارکریں تومسجدمیں ضرورجائیں اوراس میں مقامات مقدسہ پرنمازپڑھیں اورالله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی دینی اوردنیاوی مشکلات کوحل کرنے کی دعاکریں،کیونکہ مسجدسہلہ حضرت ادریس کاگھرہے جس میں خیاطی کرتے تھے اورنمازبھی پڑھتے تھے جوشخص اس مسجدمیں الله تعالیٰ کی بارگاہ میں ہراس چیزکے بارے میں جسے وہ دوست رکھتاہے دعاکرے تواس کی وہ حاجت پوری ہوگی اورروزقیامت حضرت ادریس کے برابرمیں ایک بلندمقام سے برخوردارہوگااوراس مسجدمیں عبادت کرنے اورنیازمندی کااظہارکرنے کی وجہ سے دنیاوی مشکلیں اوردشمنوں ) کے شرسے خداکی امان میں رہے گا۔( ١ 

نمازاورحضرت نوح

عن ابی جعفرعلیہ السلام قال:کان شریعة نوح علیہ السلام ا نٔ یعبدالله بالتوحید والاخلاص وخلع الاندادوہی الفطرة التی فطرالناس علیہاواخذمیثاقہ علی نوح علیہ السلام والنبیین ا نٔ یعبدوالله تبارک وتعالی ولایشرکوا بہ شیئاوامرہ بالصلاة والامروالنہی والحرام ) والحلال.( ٢ 

مزید  جمع بین الصلاتین

——–

. ٢) کافی /ج ٨/ص ٢٨٢ ) . ١(بحارالانوار/ج ١١ /ص ٢٨٠ (

امام محمدباقر فرماتے ہیں:حضرت نوح کااصول یہ تھاکہ آپ خدائے یکتاکی عبادت کرتے تھے اس کی بارگاہ میں اخلاص کااظہارکرتے تھے ،اسے بے مثل مانتے تھے اورآپ کی یہ وہی فطرت تھی کہ جس فطرت پرخداوندعالم نے لوگوں کوقراردیاہے . پروردگارعالم نے حضرت نوح اورتمام انبیائے کرام سے عہدلیاہے کہ وہ الله تبارک وتعالیٰ کی عبادت کریں اورکسی بھی چیزکواس کاشریک قرارنہ دیں سے دوری کریں اورخداوندعالم نے حضرت نوح(علیھ السلام) کونمازپڑھنے ،امربالمعروف ونہی عن المنکرکرنے اورحلال وحرام کی رعایت کرنے کاحکم دیاہے۔ 

نمازاورحضرت ابراہیم

حضرت ابرہیم اولوالعزم پیغمبر وں میں سے تھے ا ورآپ کوبت شکن ،حلیم ،صالح ، مخلص اورموحدجیسے بہترین القاب سے یادکیاجاتاہے ،آپ نے اپنی عمر کے دوسوبرس کفروشرک سے مقابلہ اور لوگوں کو تو حیدباری تعالیٰ وا طاعت خداوندی کی دعوت کرنے کی راہ میں گزارے ہیں. مکتب حضرت ابراہیم میں آپ کی پیر وی کرنے والوں کے درمیان نماز وعبادت کو ایک عمدہ واجبات میں شمارکیاجاتاتھا،جب خدا نے آپ کو حکم دیا کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے شیرخوار فرزند اسمعیل (علیھ السلام)کو ساتھ لے کر سرزمین مکہ کی طرف ہجرت کرجائیں ،آپ نے حکم خدا پر عمل کیااورشام سے مکہ میں خانہ کعبہ تک پہنچے تو آپ نے وہاں اس آپ وگیاہ سرزمین پرایک نہایت مختصرطعام اورپانی کے ساتھ زمین پراتارا. بیوی اوربچے سے خداحافظی کرکے واپسی کارادہ کیاتوجناب ہاجرہ نے ابراہیم (علیھ السلام) کادامن پکڑکرعرض کیا:ہمیں اس بے آب وگیاہ زمین پرجگہ کیوں چھوڑے جارہے ہو؟جواب دیاکہ:یہ حکم خداہے ،جیسے ہی ہاجرہ نے حکم خداکی بات سنی توخداحافظ کہااورعرض کیا:جب حکم رب ہے تواس جگہ آب وگیاہ زمین پرہماری حفاظت بھی وہی کرے گا،جب ابراہیم (علیھ السلام)چلنے لگے توبارگاہ خداوندی میں عرض کیا: 

) >رَبَّنّااِنَّنِیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّ یَّتِیْ بِوَادٍغَیْرِذِیْ زَرْعٍ عِنْدَبَیْتِکَ المُحَرَّمِ رَبَّناَلِیُقِیْمُواالَصَّلوٰةَ>( ١ 

اے ہما رے پروردگا ر!میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آ ب وگیاہ وادی میں چھوڑدیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں یعنی تاکہ وہ یہاں سے لوگوں کو دعوت نماز کی آواز بلند کی کریں اور نماز یں قائم کریں اور قیام نماز کو دینی ذمہ داری سمجھیں اور تو میری اس ذریت کو نہ ت نہا نماز پڑھنے والے بلکہ مقیم نماز بھی قرار دے (اور جب نماز قائم ہوئے گی تو لوگ شرک وطغنانی سے پاک ہوجائیں گے )۔ حضرت ابراہیم بارگاہ خداوندی میں بہت زیادہ دعاکرتے تھے اورآپ کی دعائیں قبول ہوتی تھی ،آپ کی دعاؤں میں سے ایک دعایہ بھی ہے کہ آپ بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں : 

) >رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ رَبَّنَاوَتَقَبَّلْ دُعَاءِ > ( ٢ 

پروردگارا!مجھے اورمیری ذریّت کونماز قائم کرنے والوں میں قراردے اور اے پروردگارتومیری __________دعاء کوقبول کرلے۔ 

تاریخ میں یہ بھی ملتاہے کہ: جب اسماعیل (علیھ السلام)کچھ بڑے ہوئے تو حضرت ابراہم (علیھ السلام) آٹھ ذی الحجہ کو اپنے فرزند کو لے کر“لبّیک لاشریک لَکَ لبّیک ”ٔکہتے ہوئے منیٰ کے میدان میں پہنچے اور اپنی پیروی کرنے والوں کے ساتھ نماز ظہرین ومغربین باجماعت انجام دی اوراس وقت سے لیکر آج تک واد ی مٔنی اور صحرائے عرفات میں بڑے وقاروعظمت کے ساتھ نماز جماعت برگزار ہوتی ہے اور خدا کی وحدانیت کے نعرے بلند ہوتے ہیں ۔ 

——–

. ١)سورہ أبراہیم/آیت ۴٠ ) . ١(سورہ أبراہیم /آیت ٣٧ (

عن جابربن عبدالله الانصاری قال:سمعت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم ) یقول:مااتخذالله ابراہیم خلیلا،الالاطعامہ الطعام ،وصلاتہ باللیل والناس ینام.( ١

مزید  شيعي تاريخ ميں تحول وتغير

رسول خدا (صلی الله علیھ و آلھ)فرماتے ہیں : خدا وند متعال نے حضرت ابراہیم کو دوکام انجا م دینے کی وجہ سے اپنا خلیل منتخب کیا ہے ١۔فقیروں ومسکینوں کو کھانادینا ، ٢۔ رات میں نمازشب پڑھناکہ جب سب لوگ سوتے رہتے ہیں ۔ 

نمازاورحضرت اسماعیل

خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:

) >وَاذْکرْفِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْل اِنّہ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلًانَّبِیًا>( ٢

اپنی کتاب میں اسماعیل کاتذکرہ کروکیونکہ وہ وعدے کے سچے اورہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے ۔

) >وَکَانَ یَاْ مُرُ اَھْلَہُ بِاالصَّلٰوةِ وَکَانَ عِنْدَ رَبّہِ مَرْ ضیّاً.>( ٣ حضرت اسمٰعیل ہمشہ اپنے گھروالو ں کو نماز وزکات کا حکم دیتے تھے اور اپنے پر وردگارکے نزدیک پسند ید ہ تھے۔ 

نمازاوراسحاق ویعقوب وانبیائے ذریت ابراہیم

حضرت اسحاق ،یقوب، لوط اورانبیائے ذریت ابراہیم کے بارے میں قرآن کریم میں ارشادخداوندی ہے:

>وَوَہَبْنَالَہ اِسْحٰقَ وَیْقُوْبَ نَافِلَةً وَکُلاجَعَلْنَاصٰلِحِیْنَ وَجَعَلْناہُمْ آئمَّةً یَّہْدُوْنَ 

——–

. ٢)سورہ مریم/آیت ۵٣ ) . ١(علل الشرایع /ج ١/ص ٣۵ (

. ٣ (سورئہ مریم آیت ۵ ۵ (

) بِاَمْرِنَاوَا ؤحَیْنَا الیھم فِعْلَ الخیراتِ وَاِقَامَ الصلٰوةِ وَاِیتاءَ الزکوٰةِ وکانوالَنَا عٰبدِیْنَ >( ١ 

اورپھر ابراہیم کواسحاق اوران کے بعدیعقوب عطاکئے اورسب کوصالح اورنیک کردارقراردیا،اورہم نے ان سب کو پیشواقراردیا جوہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کی طرف کا ر خیر کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکات دینے __________کی وحی کی اور یہ سب کے سب ہمارے عبادت گذار بندے تھے ۔ 

نمازاورحضرت شعیب

جب حضرت شعیب اپنی قوم کو غیرخدا کی عبادت،مالی فساداور کم فروشی سے منع کیا تو انھوں نے آپ سے کہا: 

>یَاشُعیْبُ اَصَلٰوتُُکَ تَاْمُرُکَ ا نَْٔ نَتْرُ کَ مَا یَعْبُدُآ بَآؤُ نَا ا ؤْ ا نْٔ نَّفْعلَ فیِ ا مَْٔوَا لِنَا مَا نَشَؤ اِنَّکَ ) لَاَ نْتَ الحَلِیْمُ الرَّشَیْدُ.>( ٢ اے شعیب ! کیاتمھاری نمازتمھیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے معبودوں کو چھوڑدیں یااپنے اموال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ، تم تو بڑے بردبار اور سمجھ دار معلوم ہوتے ہو ۔

نمازاورحضرت موسی

اولوالعزم پیغمبرحضرت موسیٰ جب کوہ طوروسیناپرپہنچے توآپ نے یہ آوازسنی:

یَامُوسیٰ اِنِّیْ اَنَارَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ اِنَّکَ بِالْوَادِالْمُقَدَّسِ طَوًی وَاَنَااَخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لَمَایُوحیٰ ) اِنَّنِیْ اَنَااللهُ فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِکْرِیْ>( ١ 

——–

. ٢) سورہ ۂود/آیت ٨٧ ) . ١(سورہ أنبیاء ایت ٧٣ (

٣(سورہ طٰٔہٰ /آیت ١٢ ۔ ١۴ (

اے موسیٰ!میں تمھاراپروردگارہوں لہٰذاتم اپنی جوتیوں کواتاردوکیونکہ تم طویٰ نام کی مقدس اورپاکیزہ وادی میں ہو،اورہم نے تم کومنتخب کرلیاہے لہٰذاجووحی جاری کی جارہی ہے اسے غورسے سنو، میں الله ہوں میرے علاوہ کوئی خدانہیں ہے پس تم میری عبادت کرواوریادکے لئے نمازقائم کرو۔ 

حضرت امام صادق فرماتے ہیں : خدا ئے عزوجل نے حضرت موسیٰپر وحی نازل کی : اے موسیٰ ! کیا تم جانتے ہو ، میں نے اپنی پوری مخلوق میں سے صرف تم ہی کو اپنے سے ہمکلام ہونے کے لئے کیوں منتخب کیا ہے ؟ عرض کیا : پرو درگار ا ! تو نے مجھ ہی کو کیوں منتخب کیا ہے ؟ خدا نے کہا : اے موسیٰ ! میں نے اپنے تمام بندوں پر نظر ڈالی لیکن تمھارے علاوہ کسی بھی بندے کو تم سے زیادہ متواضع نہ پایا ، کیونکہ اے موسیٰ ! جب تم نماز ) پڑھتے ہو تو اپنے چہرے کو خاک پر رکھتے ہو ۔( ١ 

نمازاورحضرت لقمان

قرآن کریم میں ایاہے کہ حضرت لقمان اپنے فرزندسے وصیت کرتے ہیں:

) >یابُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْبِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِوَاصْبِرْعَلٰی مَااَصابَکَ>( ٢

بیٹا!نمازقائم کرو،نیکیوں کاحکم دو،برائیوں سے منع کرواوراس راہ میں تم پرجومصیبت بھی پڑے اس پرصبرکرو۔ 

نمازاورحضرت عیسیٰ

خداوندعالم قرآن کریم ارشادفرماتاہے کہ:جب حضرت مریم بچے کواٹھائے ہوئے قوم کے پاس آئیں تولوگوں نے کہا:مریم!یہ تم نے بہت براکام کیاہے ،ہارون کی بہن!نہ تمھاراباپ براآدمی تھااورنہ تمھاری ماں بدکردارتھی ،پس حضرت مریم اپنے بچہ طرف اشارہ کیاکہ اس سے معلوم کرلیں، 

مزید  حضرت امام مھدي عيلہ السلام کي ولادت کے متعلق بعض سني حضرات کے خيالات

——–

. ٢)سورہ لٔقمان/آیت ١٧ ) . ١(اصول کافی/ج ٣/ص ١٨٧ (

میں نے کوئی گناہ نہیں کیاہے قوم نے کہا:ہم اس سے کیسے بات کریں جوبچہ ابھی گہوارہ میں ہے ،بچے نے گہوارہ سے کلام کیا:

>اِنِّیْ عَبْدُ اللهِ اٰتٰنِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیاوَجَعَلَنِیْ مُبٰرَکًااَیْنَ مَاکُنْتُ وَاَوْ صٰنِی بِالصّلٰوة وَالزّ کٰوة ) ماَدُمتُ حیّاً>( ١

میں الله کابندہ ہوں،اس نے مجھے کتاب دی ہے اورمجھے نبی بنایاہے ،اورجہاں بھی رہوں بابرکت قراردیاہے اور جب تک میں زندہ ہوں ، مجھے نماز وزکات کی وصیت کی ہے۔ 

نمازاورحضرت سلیمان

حضرت سلیمان غالباًراتوں کونمازمیں گذارتے تھے اورخوف خدامیں اپ کی آنکھوں سے انسوں جاری رہتے تھے اور کثرت نمازوعبادت کی وجہ سے لوگوں کے درمیان کثیرا الصلاة کے نام سے مشہورتھے . 

علامہ مجلسی “بحارالانوار”ارشاد القلوب سے ایک روایت نقل کرتے ہیں: حضرت سلیمان کہ جن کے پاس حکومت وبادشاہت اورہرطرح کے وسائل موجود تھے لیکن آپ بالوں کانہایت ہی سادہ لباس پہنا کرتے تھے ، رات میں کھڑے ہوکر اپنی گردن کودونوں ہاتھوں کی انگلیوں آپس میںڈال کرباندھ لیاکرتے تھے اور پوری رات یادخدا میں کھڑے ہوکر رویا کرتے تھے . 

حضرت سلیمان خرمے کی چھال سے ٹوکریاں بنایاکرتے تھے جس کی وجہ سے آپ نے خداسے حکومت وبادشاہت کی درخواست کی تاکہ کافروطاغوت بادشاہوں سرنگوں کر ) سکوں۔( ٢ 

——–

. ٢)بحارالانوار/ج ١۴ /ص ٨٣ ) . ١ (سورہ مٔریم آیت ٢٧ ۔ ٣١ (

نمازاورحضرت یونس

خداوندعالم قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے: 

) >لَولَااَنّہ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطَنِہِ اِلٰی یَومِ یُبْعَثُونْ>( ١ 

اگرحضرت یونس تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہو تے تو قیامت تک شکم ماہی میں ہی پڑے رہتے ۔ 

تفسیر مجمع البیان میں قتادہ سے نقل کیاگیاہے کہ تسبیح یونس سے نمازمراد ہے کیونکہ وہ نماز گزاروں میں سے تھے اور نماز ہی کی وجہ سے ان کو خدانے انھیں اس رنج ) ومصیبت سے نجات دی ہے۔( ٢ 

نمازاورحضرت زکریا

>ہُنَالِکَ دَعَازَکَرِیارَبَّہ قَالَ ہَبَْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَاءِ فَنَاْدَتْہُ الْمَلٰئِکَةُ ) وَھُوَقٰائِمٌ یُصَلِّیْ فِیْ الْمَحْرَاْبِ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْییٰ>( ٣ 

جس وقت حضرت ذکریانے جناب مریم کے پاس محراب عبادت میں عنایت الٰہی کامشاہدہ کیااورجنت کے کھانے کودیکھاتوآپ نے اپنے پروردگارسے دعاکی کہ :مجھے ایک پاکیزہ اولادعطافرماکہ توہرایک کی دعاکاسننے والاہے تو ملائکہ نے انھیں اس وقت آوازدی کہ جب وہ محراب عبادت میں کھڑے ہوئے نمازمیں مشغول تھے کہ خدا تمھیں یحییٰ کی بشارت دے رہاہے ۔ 

——–

. ٢)تفسیرمجمع البیان/ج ٨/ص ٣٣٣ ) . ١(سورہ صٔافات/آیت ١۴٣ ۔ ١۴۴ ( . ٣ (سورہ آٔل عمران آیت/ ٣٨ ۔ ٣٩ (

نمازاورحضرت یوسف

حضرت یوسف کی سوانح حیات میں ملتاہے کہ آپ کو عزیز مصرنے ایک تہمت لگاکرزندان میں ڈالدیااس وقت عزیزمصرکاایک غلام اپنے آقاکو غضبناک کرنے کی وجہ سے زندان میں زندگی گزاررہاتھا، وہ غلام حضرت یوسف کے بارے میں کہتا ہے کہ: آپ ہمیشہ رات میں نماز پڑھتے اوراپنے رب کی بارگاہ میں رازونیازکرتے تھے، دن میں روزہ رکھتے تھے ، بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، مریضوں کے لئے دوائیاں بھی مہیاکرتے تھے ، مظلوم وستم دیدہ لوگوں کوخوشیاں عطاکرتے اور تسلی دیا کرتے تھے. 

بعض اوقات دوسرے قیدیوں کو خداپرستی کی دعوت دیاکرتے تھے،نہایت خوشی سے زندان کے ایک گوشہ میں اپنے معبودکی راہ میں قدم آٹھاتے تھے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے تھے : 

) >رَبِّ اسِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْ عُونَنِیْ اِلَیْہِ.>( ١ 

پرودگارا! یہ قید مجھے اُس کام سے زیادہ مجبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ دعوت دے ) رہے ہیں۔( ٢ ——–

. ٢)ہزارویک نکتہ دربارہ نٔماز/ش ۵۶١ /ص ١٧٧ ) . ١(سورہ یٔوسف/آیت ٣٣ (

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.