تلاوت کی ذمہ داری

0 0

تلاوت کی ذمہ داری، تہذیب نفس اور قرآن کے بیان کردہ احکام کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھنا ہے۔ یہ ذمہ داری سورہٴ بقرہ کی آیت ۴۵ میں بیان کی گئی ہے ارشاد ھوتا ہے: تم کس طرح لوگوں کو نیکو کاری کا حکم دیتے ھو اور خود کو بھول جاتے ھو جب کہ تم کتاب خدا (قرآن) کی تلاوت کرتے ھو۔ پھر اس میں غور وفکر سے کام کیوں نہیں لیتے؟

تلاوت کی ذمہ داری، تہذیب نفس اور قرآن کے بیان کردہ احکام کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھنا ہے۔ یہ ذمہ داری سورہٴ بقرہ کی آیت ۴۵ میں بیان کی گئی ہے ارشاد ھوتا ہے: تم کس طرح لوگوں کو نیکو کاری کا حکم دیتے ھو اور خود کو بھول جاتے ھو جب کہ تم کتاب خدا (قرآن) کی تلاوت کرتے ھو۔ پھر اس میں غور وفکر سے کام کیوں نہیں لیتے؟

 

اس آیت کریمہ میں مذکورکتاب خدا، وحی آسمانی ہے چاہے وہ قرآن کی شکل میں ھویا گزشتہ انبیاء کرام پر نازل شدہ کتابوں کی شکل میں ھو کیونکہ قرآن نے گزشتہ انبیاء پر نازل شدہ کتابوں کی تصدیق کی ہے

 

اس آیت سے یہ ظاہر ھوتا ہے کہ تلاوت کا مقصد تہذیب نفس اور اس کے احکام کوپیش نظر رکھنا ہے، ورنہ جو ذکر، نفس کا تزکیہ نہ کرے اللہ کا ذکرہی نہیں ہے لہٰذاکتاب خدا کی تلاوت، تزکیہٴ نفس کے لئے ہے یعنی اگر کوئی اپنے نفس کا تزکیہ شروع نہ کرے اور کتاب خدا کی تلاوت میں مشغول ھو وہ اس آیت میں شامل مانا جائےگا جب کہ اپنے نفس کوبھول کر کی جانے والی تلاوت درست اور سازگار نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں معصومین کی رواتییں بھی ھم تک پہنچیہیں جن میں سے بعض کو ھم یہاں نمونہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں:

مزید  شہادتِ وہب

 

”عن ابی عبد اللہ(علیہ السلام) قال: قال رسول اللہ(ص): ان اھل القرآن فی اعلٰی درجة من الآدمیین ماخلاالنبیین والمرسلین فلاتستضعفوا الھل القرآن حقوقھم فان لھم من اللہ العزیزالجبّارلمکاناً علیاً“” امام صادق فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: اہل قرآن، انبیاء ومرسلین کے علاوہ انسانوں کے اعلیٰ ترین درجہ میں ہیں پس اہل قرآن کے حقوق کو کم شمار نہ کرو کیونکہ خدائے عزیزو جبار کی جانب سے انہیں بڑا عالی اور بلند مقام حاصل ہے“ اور اگر مسئلہ ” واعتصموا بحبل اللہ“ کے تجزیہ سے یہ بات واضح ھوجائے کہ اس ”حبل“الٰہی کا ایک سرا خدا سے متعلق ہے، اس کادرمیانی حصہ خداکے نیکو کارسفیروں یعنی فرشتوںکے ھاتھ میں ہے اور دوسرا اور آخری حصہ انسانوں کے ھاتھ میں ہے، اس کے بعد انسانوں سے کہا گیا ہے ”واعتصمو ابحبل اللهجمیعاً“ تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے تلاوت کے تمام آداب کی رعایت کرتے ھوئے قرآن کی تلاوت کی، اسے سمجھا اور اس پر عمل کیا تو وہ اس حدتک بلندی وکمال حاصل کرتا ہے کہ: ”سفرٴة کرام بررة“خدا کے نیکو کار سفیروں یعنی فرشتوں کی صف میں شامل اور ان سے مرتبط ھوجائے۔ چنانچہ امام صادق سے نقل ایک دوسری حدیث میں یہی بات کہی گئی ہے:

عن ابی عبد اللہ(ع) الحافظ للقرآن، العامل بہ مع السفرةالکرا مالبررة

 

قرآن کا وہ حافظ جو اس پر عمل بھی کرتا ہے،آخرت میں اللہ کے باعظمت ونیکو کار فرشتوںکے ھمراہ ھوگا۔ کیونکہ حبل اللہ ان کے ھاتھوں میں ہے۔ اگر انسان بھی اس رسی کو تھام لے اور بلند مدارج طے کرتا جائے تو فرشتوں کی صف میں پہنچ جائے گا

مزید  حضرت عباس کا عِلم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.