تفسیر “فصل الخطاب” سے اقتباسات (حصہ چھارم)

0 3

معجزات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم

جبکہ یہ امر ثابت ہوگیاکہ قرآن میں معجزات کو “آیات و بینات” کےنام سے تعبیر کئاجاتاہے تو اب قرآن میں تلاش کریں تو حسب ذیل ستائس (27) مقامات پر واضح اور صاف الفاظ میں ثبوت ملتاہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کع بہی معجزات عطاہوئےہیں.

نمبر(1)

“ولقد انزلناالیك ايات بينات. وما يكفربهآالا الفاسقون.” یقینا ہم نے اتارے ہیں آپ پرروشن معجزات اورنہں انکار کرسکتےانکا مگر فاسق لوگ” (البقرہ#99)

نمبر(2)

“وقال الذين لا يعلمون لولا يكلمنا الله اوتاتينا اية. كذلك قال الذين من قبلهم مثل قولهم.تشابهت قلوبهم. قد بينا الايات لقوم يوقنون” جولوگ علم نہیں رکہتےوہ کہتے ہیں کیوں ہم سے خدا بات نہیں کرتا یا کوئی خاص معجزہ ہمارےپاس کیوں نہیں آتا. ایسا ہی کہاتہا انہوں نےجو ان سے پہلےتہےانہیں کا سا قول ان سبکے دل ایک سے ہیں یقینا ہمنے معجزات ظاہر کردئے ان لوگوں کیلئے جو یقین لائے.” (البقرہ#118)

نمبر(3)

“فان زللتم من بعد ماجآءتکم البینات فاعلموآ ان الله عزیزحکیم” اگرتمنےلغزش کی بعد اسکے کہ معجزےتمہاری طرف آچکےتو جان لو کہ اللہ زبردست ہےہرکام ٹہیک کرنےوالاہے.” (البقرہ#209)

نمبر(4)

“کیف یهدی الله قوماکفروابعد ایمانهم وشهدوآ ان الله الرسول حق و جآءهم البینت.” کیونکر خدا راہ راست پرلائےگاان لوگوں کو جنہوں نےایمان لانےکےبعد پہر کفرکیا حالانکہ انہوں نےگواہی دی کہ رسول سچاہےاور انکےپاس معجزےآئے.” (ال عمران#86)

نمبر(5)

“وماتاتهم من ایة من ايات ربهم الا كانوا عنهامعرضين” ان لوگوں کے سامنےجو بہی معجزہ انکے پروردگار کی طرف سےآتا ہے یہ اس سے روگردانی ہی کرتےہیں.” (الانعام#4)

نمبر(6)

“قدنعلم انه لیحزنك الذي يقولون فانهم لايكذبونك ولكن الظلمين بايات الله يجحدون.” ہمیں معلوم ہےکہ آپکو ان لوگوں کی باتوں سے رنج ہوتا ہے تو یہ آپ ہی کو نہیں جہٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کےمعجزوں کا جان بوجہہ کرانکار کرتےہیں.” (الانعام#33)

نمبر(7)

“والذین کذبوا بایتنا صم وبکم فی الظلمات.” جنہوں نےجہٹلایا ہمارے معجزوں کو یہ بہرےہیں اور گونگےہیں،تاریکی میں مبتلا ہیں” (الانعام#39)

نمبر(8)

“واذا جآءك الذين يؤمنون بايتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة.” جب آئیں آپکےپاس وہ لوگ جو ہمارے معجزوں پرایمان لاتے ہیں تو کہیئےکہ سلامتی تمہارے واسطےہے.تمہارے پروردگار نےاپنےاوپرفرض کرلیا ہےرحمت سے کام لینا”
(الانعام#54)

نمبر(9)

“واذاجآءتهم ایةقالوا لن نؤمن حتى نؤتي مثل مآاوتي رسل الله. الله اعلم حيث يجعل رسالته.” جب انکےپاس کوئی معجزہ آتا ہےتو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جبتک کہ ویسی ہی باتیں نہ آئیں جو اور پیغمبروں کو ملی تہیں. اللہ بہتر جانتاہےکہ وہ اپناپیغام کس طرح بہیجے” (الانعام#124)

نمبر(10)

“فقد جآءکم بینة من ربکم وهدی ورحمة.فمن اظلم ممن كذب بايت الله و صدف عنها.” یقیناآیا تمہارےپاس معجزہ تمہارےپروردگار کی جانب سےاور ہدائت و رحمت، تو پہر کون زیادہ ظالم ہوگا اس سےکہ جو اللہ کی طرف کے معجزات کی تکذیب کرے اور ان سےروگردانی کرے.” (الانعام#157)

نمبر11)

“واذا بدلنآ ایةمكان اية والله اعلم بما ينزل قالوا انما انت مفتر. بل اكثرهم لايعلمون.” معجزہ بہیج دیتےہیں اور اللہ زیادہ واقف ہے اس چیز کے متعلق جسے وہ اتارتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم تو اپنے دل سے گہڑتے ہوبلکہ اکثر ان میں سے علم نہیں رکہتے” (النحل#101)

مزید  عقیدہٴ ظہور کا اخلاق پر اثر

نمبر(12)

“ان الذین کایؤمنون بايات الله لايهديهم الله ولهم عذاب اليم.” وہ جو ایمان نہیں رکہتےاللہ کےمعجزات پراللہ انہیں جبرا راہ راست تک نہیں پہنچائے گا اور انکےلئے دردناک سزامقرر ہے” (النحل#104)

نمبر(13)

“ونحشرهم یوم القیامةعلى وجوههم عميا و بكما و صما. ذلك جزآؤهم بتمهم كفروا باياتنا.” اور ہم روزقیامت اندہا، گونگا اور بہرا محشور کریں گے یہ انکا بدلا ہےاسکاکہ انہوں نے ہمارے معجزات سے انکار کیا” (بنی اسرائیل#97/98)

نمبر(14)

“ومن اظلم ممن ذکربایات ربه فاعرض عنها.” اوراس سے بڑہکر کون ظالم ہوگا جسکو اسکے پروردگارکی طرف کےمعجزات کے ذریعہ سے یاددہانی کرائی گئی مگر اس نے روگردانی کی” (کہف#57)

نمبر(15)

“افرءیت الذی کفر بایاتنا.” کیادیکہا آپ نے اس شخص کوجس نے انکارکیا ہمارے معجزات کا” (المریم#77)

نمبر(16)

“وکذلك انزلناه ايات بينات وان الله يهدي من يريد.” اوراسی طرح اتارا ہم نے اسے روشن معجزوں کی حیثیت سے اور اللہ منزل تک پہنچاتا ہے جسے چاہتا ہے” (الحج#16)

نمبر(17)

“والذین هم بایات ربهم یؤمنون.” اوروہ جواپنے پروردگار کےمعجزات پرایمان لاتےہیں” (المؤمنون#58)

نمبر(18)

“وانزلنافیهاایات بینات.” اور ہمنے اسمیں معجزےاتارےہیں جوروشن ہیں” (النور#1)
نمبر(19)

“ولقدانزلناالیکم ایات مبینات ومثلامن الذین خلوامن قبلکم.” یقینا ہم نے تمہاری طرف اتارے ہیں واضح معجزات اور ویسی ہی باتیں جو پہلے والوں کو ملی تہیں” (النور#34)

نمبر(20)

“لقد انزلناایات مبینات والله یهدی من یشآء الی صراط مستقیم.” ہم نےاتارےہیں روشن معجزات اور اللہ جسکو چاہتا ہے راہ راست تک پہنچنے کی توفیق خاص عطاکرتاہے” (النور#46)

نمبر(21)

“وقل الحمدلله سیریکم ایاته فتعرفونها.” اور کہئے! الحمدللہ! عنقریب ہم تمہیں معجزات دکہائیں گے جنہیں تم پہنچانتےہوگے” (النمل#93)

نمبر22)

“واذا راوا ایة يستسخرون.و قالوا ان هذآالا سحرمبين.” جب کوئی معجزہ دیکہتے ہیں تومذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہےمگرکہلاہوا جادو” (الصافات#14/15)

نمبر(23)

“ویریکم ایاته فأى ايات الله تنكرون.” اوردکہلارہا ہے تمکو وہ اپنے معجزات تو اللہ کےکن کن معجزات کا تم انکار کروگے” (المؤمن#81)

 
نمبر(24)

“واذا علم من ایاتناشیئا(ن) اتخذهاهزوا.” جب ہمارے معجزات میں انکو کسی کا علم ہوتا ہے تو یہ اسکامذاق اڑاتے ہیں” (الجاثیہ#9)

نمبر(25)

“واذا تتلی علیهم ایاتنا بینات قال الذین کفروا للحق لما جآءهم هذا سحر مبین.” اور جب انکےسامنے پیش کئے جاتے ہیں ہمارے روشن معجزات تو جو لوگ انکار کرتے ہیں وہ حق کو دیکہہ کر کہتے ہیں کہ یہ تو کہلا ہوا جادو ہے” (الاحقاف#7)

نمبر(26)

“و اذا قال عیسی بن مریم یا بنی اسرآئیل انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدی من التورات ومبشرابرسول یاتی من بعد اسمه احمد. فلما جآءہم بالبینات قالوا هذا سحرمبین.” اورجب کہاعیسی بن مریم نےکہ اےبنی اسرائیل! میں اللہ کارسول ہوں تمہاری جانب تصدیق کرنےوالااس توریت کی جو میرے پہلے تہی اور بشارت دینے والا ایک رسول کی جو میرے بعد آئیگا اسکا نام احمد ہوگا. اب جب وہ آیا انکی طرف معجزات کے ساتہہ تو انہوں نے کہا کہ یہ کہلا ہوا جادو ہے” (الصف#6)
نمبر(27)

مزید  جشن مولود کعبہ؛ رہبر معظم: اخلاص و معنویت کو امانتداری کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا چاہیے

“وماتفرق الذین اوتواالکتاب الا من بعد ماجآءتهم البینة.” اور نہیں اختلاف کیاان لوگوں نےکہ جنہیں کتاب عطاہوئی مگر بعداسکےکہ انکی طرف معجزہ آگیا” (البینة#4)

ان تمام آیات سے ظاہرہےکہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہی اسی طرح “آیات” اور “بینات” کے ساتہہ مبعوث ہویےتہےجسطرح سابق کےانبیاء. اسکے علاوہ آیات 22، 25 ، 27 میں باربار اس تذکرہ سےکہ وہ لوگ سحر کہتے تہےصاف معلوم ہوتاہےکی انکوغیرمعمولی اور تمام انسانی طاقتوںسےبالاترمظاہرات نظرآرہےتہے جس کا انکے پاس سوا الزام جادوگری کے اور کچہہ نہ تہا.
اب اسے تعصب کی بناء پردہاندلی کے سوا کیا کہاجائے کہ عیسائی مبلغین اس پر زوردیتےہیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےمعجزہ دکہانےکادعوی نہیں کیا اور نہ انہیں خداوند عالم کی جانب سے معجزات عطا کئے گئے. پادری فندر نے اپنی کتاب “میزان الحق” میں اس پر کافی خامہ فرسائی کی ہے.
بات یہ ہےکہ سنت الہیہ یہ رہی ہےکہ تمام انبیاء (ع) کے معجزے یکساں نہ تہےبلکہ ہرنبی کو حکمت و مصلحت کے اعتبار سےخاص معجزات عطاکئےگئے.ہمارے رسول (ص)کو بہی اللہ کی طرف سے خاص معجزے دئیےگئے.
مشرک لوگ عناداورتعصب سےان تمام معجزوں سے سرتابی کرتے ہوئےکبہی مضحکہ کےانداز میں اور کبہی بہانے کے طور پرنئے نئے معجزوں کی فرمائش کرتےتہے.حقیقت طلبی کےجذبہ سےنہیں بلکہ صرف اپنےانکار کی سخن پروری کیلئے اور کبہی یہ تقاضا کرتےتہےکہ بالکل وہی معجزے جو سابق انبیاء کو مل چکے ہیں ان کو دئیے جائیں انکے جواب میں کبہی یہ کہاگیاہےکہ یہ معجزات پہلے انبیاء کوعطاہوئے پہربہی تو لوگوں نےتکذیب کی. پہر اب انہی معجزات کو دکہانے کا کوئی حاصل نہیں.
“ومامنعناان نرسل بالایت الا ان کذب بها الاولون.” اورہمیں معجزات کے بہیجنے سے بجز اسکے اور کوئی وجہ مانع نہیں ہوئی کہ پہلوں نےانہیں جہٹلایا” (بنی اسرآئیل#59)
اور کبہی خالق کی طرف سے یہ کہاگیا کہ اگریہ معجزے دیکہیں گے تب بہی ایمان نہیں لائیں گے”وما یشعرکم انهآ اذا جآءت لا یؤمنون.” اورتمہیں کیا معلوم یہ یقینی بات ہےکہ جب معجزہ آئیگاتوتب بہی یہ ایمان نہیں لائیں گے” (الانعام#109)
اور کبہی یہ کہاگیاکہ معجزےتمہارے سامنےموجود ہیں اگر تم ایمان لانا چاہتےہوتو وہ کافی ہیں “قدبیناالایت لقوم یوقنون” جو لوگ یقین رکہتے ہیں انکو تو اپنی نشانیاں صاف طور پر دکہاچکے” (البقرہ#118)
حقیقت یہ ہےکہ اگرہرفردکی فرمائش پرہی معجزہ ہونے لگے تو معجزہ بازیچہ اطفال بن جائےاسکی غیرمعمولی عظمت واہمیت ہی باقی نہ رہے.
یقینا آیات اور معجزات کاپیش کرناصرف لوگوں کی طلب پرہی نہیں ہوتابلکہ جود نبی و رسول کی مرضی پربہی نہیں ہوتا.وہ صرف خداوند عالم کی حکمت ومصلحت کی بناء ہر ہوتاہےاور اسی لئے ارشاد ہواہے
“وماکان لرسول ان یاتی بایة الا باذن الله.” کسی رسول کو اختیار نہیں کہ وہ کسی آیت کو ظاہر کرے مگر خدا کے حکم سے” (الرعد#38) اور اسی کوخاص انداز میں رسول (ص) کو مخاطب کرکے ارشاد کیا جس سے درحقیقت عام لوگوں کی تنبیہہ مقصود ہے
“وان کان کبر علیک اعراضهم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض او سلما فی السمآء فتاتیهم بایة.” اگر آپ پر انکی روگردانی بہت سخت گراں گزرتی ہے تو اگر آپ میں قدرت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ لےجانے یا آسمان پر سیڑہی لگانےکی تو ایساکیجئے اور کوئی آیت پیش کر دیجئے (ایسی جسےیہ لوگ ضرورمان ہی لیں)” الانعام#35)
اسکامطلب یہ ہےکہ اللہ کی پیش کی ہوئی آیتیں انکےایمان لانے کےلئےبیکارثابت ہوئیں تواب رسول(ص) کےامکان میں نہیں ہے کہ ایسی آیت پیش کریں جس سےوہ ضرورہی ایمان لے آئیں اور رسول (ص) کی زبانی ان لوگوں کے مختلف مطالبات کے جواب میں یہ کہلوایاگیاہےکہ
“سبحان اللہ ہل کنت الابشرارسولا” پاک ہے خدا ذات کیا میں کچہہ اور ہوں سوا ایک انسان کے جو رسالت کے عہدے پرمقرر ہوا ہے” یعنی میں اللہ کےارادےکاپابندہوں اور اسکے خلاف کوئی قدرت نہین رکہتا. دوسری جگہ ارشادہواہے “واذالم تاتهم بایة قالوا لولا اجتبیتها. قل انمااتبع مایوحی الی من ربی. هذا بصآئرمن ربکم وهدی ورحمةلقوم یؤمنون.” اورجب آپ انکےپاس کوئی(خاص) معجزہ نہیں لاتےتو کہتے ہیں کہ تم نےاسےکیوں نہیں بنالیا (اےرسول)آپ کہہ دیجئے کہ میں تو بس اسی وحی کا پابند ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتی ہے یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (حقیقت)کی دلیلیں اور ایماندار لوگوں کے واسطے ہدائت اور رحمت” (الاعراف#203)
جب آپ کوئی خاص آیت پیش نہیں کرتےتو وہ کہتےکہ آپ نے اس آیت کوپیش کرنےکےلئےکیوں منتخب نہ کیا؟
(اس سےمعلوم ہوتاہے کہ انکےسامنےدوسری آیتیں پیش ہوچکی تہیں) کہیئےکہ میں تو وحئ ربانی کا پابند ہوں.یہ تمہارےپروردگار
کی بصیرت افروز نشانیاں اور مومنین کی ہدایت ورحمت کے ذریعے موجود ہیں.
اسکا نتیجہ یہ ہےکہ اسکی ضرورت ہرگزنہیں ہےکہ جس آیت کا مطالبہ جس وقت ہووہ ضرور ہی انکی خواہش کے مطابق پیش کردی جائےلیکن یہ اس وقت ہےکہ جب خداوند عالم کی طرف سے درحقیقت ایسے معجزات پیش ہوچکے ہوں جواس نبی کی حقانیت ثابت کرنے کےلئے کافی ہوں. لہذا کسی شخص کے دعوئ نبوت کے بعد مطلق معجزہ کا حق بجانب ہوگا.
لیکن معجزہ کےسامنےآنے کےبعد کسی معجزہ خاصہ کا مطالبہ ضروری نہیں کہ پورا ہو.لہذا ایک طرف مذکورہ بالا آیات سے عیسائی حضرات کی مطلب برآری کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مثل انبیاء سابق معجزات ملےہی نہیں تہے ورنہ آپ معجزہ کی خواہش کواسطرح کیوں مستردکرتے ہرگز صحیح نہیں ہے جبکہ انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کا معجزہ کے مطالبہ پر نہ صرف انکارکرنا بلکہ معجزہ کی خواہش کرنےوالوں کوسخت سست کہنااور اپنےپاس سے نکال دینا اوریہ تصریح کرنا کہ اس زمانہ والوں کو کوئی نشانی نہ دکہلائی جائےگی:موجود ہے.
دوسری طرف بہائی اور قادیانی جماعتوں کایہ استدلال بہی غلط ہےکہ نبی و رسول کےلئے معجزہ کی ضرورت ہی نہیں اور نہ کسی کو نبی سے معجزہ کےمطالبےکاحق ہے.
یہ آیات قرآنی سےثابت نہیں ہوتااورعقلابہی درست نہیں ہے.معجزہ یعنی کوئی حقیقت کی خاص نشانی اگرنہیں ہےتو اس نبی پر ایمان لانے کی کوئی وجہ نہیں ہےاور سچے جہوٹے میں امتیاز کا کوئی معیار نہیں ہوگا.

مزید  ابوسفيان وابوجہل چھپ كر قرآن سنتے ہيں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.