تعلیمات نہج البلاغہ

0 0

حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب علیہما السلام کے خطبات ،مکتوبات اور مختصر فرمودات کے بعض نمونوں پر مشتمل مقدس کتاب نہج البلاغہ کی تعلیمات ومعارف سے جس قدر روحانیت ومعنویت کی نورانیت انسان حاصل کرسکے، اس کی زندگی کے ہر زاویے پر انتہائی مثبت آثار مرتب ہوتے ہیں ، کیونکہ یہ کلمات ایسی معصوم ہستی کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہیں جس سے فقط اور فقط حکمت خداوندی کے خزانے ظاہر ہوتے ہیں، ایسے خزانے جو انسانوں کی زندگیوں کو سعادت کی منزل پر لے جاتے ہیں ،بس شرط یہ ہے کہ انسان اس نورانی خزانے کا صحیح اور بجا استعمال کرنے میں کوتاہی نہ کرے ،قرآن کریم کتاب ھدایت ہے اور امام مبین ہادی و پیشوا ، ان دونوں کی تعلیمات میں کبھی بھی منافات اور تضاد وٹکراؤ نہیں ہے اور دونوں الہی معارف کا پرچار کرتے ہیں ۔ 

کلام کی نورانیت:

قول معصوم ایک خاص نورانیت رکھتا ہے کیونکہ حقیقت میں ایسا کلام نور کا کلام ہوتا ہے لہذا خود بھی نور ہوتا ہے ۔ زیارت جامعہ میں حضرت علی النقی الہادی علیہ السلام مؤمنین کو یوں تعلیم دیتے ہیں کہ معصوم ہستی کے سامنے اس طرح سے کہوں ،،۔۔۔وکلامکم نور۔۔۔،، یعنی اے خداوند متعال کی برحق حجت اور برگزیدہ ہستی آپ کا کلام نور ہے ۔ آئیں دیکھیں اس نور سے کیا مراد ہے ۔ سادہ لفظوں میں کلام امام علیہ السلام کی نورانیت کا یہ مطلب ہے کہ ہادی کا کلام ہر قبول کرنے والے شخص کو ہدایت کرکے منزل مقصود پر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اگر انسان امام علیہ السلام کی نورانی گفتار پر غور وفکر کرے ، اسے اچھی طرح سے سمجھے ، اہل علم سے سوال کرے اور پھر اپنی زندگی میں عملی طور پر س گفتار کو ڈھال سکے تو اس نورانی کلام کی برکات و فیوضات سے اس کی زندگی نورانی ہو جاتی ہے ،کلام امام کی نورانیت دلوں کی نورانیت وہدایت کا باعث بنتی ہے ۔ اس کی ایک برکت یہی  ہے کہ جہالت و نادانی ختم یا کم ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے ضلالت وگمراہی سے بھی چھٹکارا ونجات پالینا ہے ،

مزید  یزیدی آمریت – جدید علمانیت بمقابلہ حسینی حقِ حاکمیت (4)

غلط انجام و نتیجے پر وہ شخص پہنچتا ہے جو غلط راستہ اختیار کرتا ہے دوسرے لفظوں، جو گمراہ ہوتا ہے لیکن جو شخص معصوم رہنما  کے پیچھے چلے وہ کیسے گمراہ ہوگا؟

نورانی کلمات:

نہج البلاغہ کی مقدس ومنور تعلیمات سے مزید آشنائی کے لئے ایک مقدس مختصر مگر جامع کلام کے ترجمہ وتشریح پر غوروفکر کر کے اس کی ہدایت ونورانیت کی شعاعوں سے اپنے دلوں کو نورانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کامیاب زندگی کے لئے دو مرحلے ہوتے ہیں ایک مفید علم کا حصول اور دوسرا اس کے مطابق عمل، جیسا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال لاہوری کہتے ہیں :

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی ،جہنم بھی                         یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے ،نہ ناری ہے 

قال امیر المؤمنین علی علیہ السلام : خالطوا الناس مخالطۃ ان متم معھا بکوا علیکم و ان عشتم حنوا الیکم

ترجمہ: لوگوں سے ایسے حسن سلوک کے ساتھ مل جل کر رہو کہ اگر تم فوت ہوجاؤ تو لوگ تم پر روئیں اور اگر زندہ رہو تو تمہاری طرف رغبت کریں۔

تشریح : 

کلام کے بادشاہ حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام نے عمدہ زندگی بسر کرنے کا سنہرا اصول اس کلام میں اپنے چاہنے والوں کو تعلیم فرمایا ہے اور وہ ہے ،، حسن سلوک،، اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ مولا علی علیہ السلام اپنے ماننے والے کو ایک معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ ایسا ہر دلعزیز معیار ہے کہ اگر اس کے مطابق زندگی گزاری جائے تو جس طرح انسان دنیوی زندگی میں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار رہے گا اسی طرح اخروی وابدی زندگی میں بھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھے گا بلکہ لوگوں کی نیک دعائیں اس کے شامل حال ہوتی رہیں گی ، اگر اپنے ساتھ ، اردگرد رہنے والے افراد سے ہم اپنا برتاؤ اور اخلاق اچھا رکھیں گے تو اس ماحول کے سارے افراد ہماری زندگی میں ہماری طرف مائل رہیں گے ، رغبت کریں گے ، احترام کریں گے اور اگر ہم اپنی عارضی زندگی کی انتہا تک پہنچ کرہمیشہ کی زندگی میں داخل ہو گئے تو یہ سب لوگ ہمیں یاد کر کر کے اشکبار ہوں گے ، وہ شخص انتہائی بدبخت ہوتا ہے کہ جس کی زندگی میں لوگ اس سے تنگ اور متنفر ہوں اور اس کے مرنے کے بعد  اس کے مظالم اور اس کا برا اخلاق یاد کریں ۔

مزید  امام حسین علیہ السلام اہل سنت کی نظر میں

یہاں سے ایک اہم ترین نکتہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ آخر معصوم امام علیہ السلام کے فرمائے ہوئے معیار کے مطابق کیسے زندگی گزاری جائے کہ یہ دونوں ثمرات و نتایج حاصل ہو سکیں ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان ذیشان ہمیں حقوق العباد کی طرف رہنمائی کر رہا ہے کہ جس معاشرے میں ہم زندگی گزار رہے ہیں ، یہاں ہر فرد کا ہم پر حق ہے پہلے اس حق کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہیں جس کے لئے حضرت امام زین العابدین علی ابن الحسینؑ علیھما السلام کی کتاب مستطاب ،،رسالہ حقوق،، سے بڑھ کر کونسی کتاب بتلائی جا سکتی ہے ، ہر انسان ہماری نسبت کوئی حثیت  رکھتا ہے ، کوئی انسان ہمارا بھائی ہے ، کوئی والد ہے ، کوئی والدہ ہے ، کوئی بہن ہے ، کوئی زوجہ ہے ، کوئی بیٹا ، کوئی بیٹی ، کوئی استاد ۔۔۔۔ سب کے ہماری گردن پر حقوق ہیں ، اگر وہ حقوق ہم اچھی طرح ادا کریں گے تو یہی معیار حاصل ہوسکتا ہے اور یہ اصل مومن کے لئے ناقابل فراموش ہے کہ اس کے تمام کام خداوند متعال کی خوشنودی کے لئے ہونے چاہئیں ، پس اگر ہم اپنے آقا ومولا کے معیاری شیعہ بننے کا شرف حاصل کر سکیں ، تو یہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہوگا، بقول شاعر: 

ایسے جیو کہ سب کریں ملنے کی آرزو                   جب چل بسو تو روئیں سب یادوں کے ساتھ ساتھ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.