تعارف قرآن

0 0

 

الف،الکتاب :۔ 

ب،معجزہ:۔ 

ج،متقین کی ہدایت 

کتاب

قرآن مجید کے ناموں میں سے پہلا نام کتاب ہے کتاب بمعنی مکتوب ہے قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد رب العزت ہے 

کتب انزلنہ مبرک لیدبروا۔ 

یہ کتاب جسے ہم نے آپ پر نازل کیا ہے ایک بابرکت کتاب ہے تا کہ لوگ اس میں غور وفکر کریں قرآن مجید کے ہر ہر جز کو قرآن،اور کتاب کہا جاتا ہے۔ 

اسی طرح جو الفاظ لکھنے کے قابل ہوں اگرچہ انہیں ابھی تک نہ لکھا گیا ہو اسے بھی کتاب کہا جا سکتا ہے اسی وجہ سے کوئی شخص یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ یہاں پہلی ہی آیت میں لفظ کتاب کیوں استعمال ہوا ہے۔ 

مندرجہ بالا جواب کے علاوہ اس کا ایک جواب یہ بھی ہو سکتا ہے چونکہ لوح محفوظ پر مکمل قرآن مجید موجود ہے اس لیئے یہاں اس کو کتاب کہا گیا ہے۔(۱) 

ذالک کس کی طرف اشارہ ہے؟

بعض مفسرین کے نزدیک یہ (ذلک)اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خداوندعالم نے سابقہ کتب تورات و انجیل میں بنی نوع انسان سے وعدہ فرمایا تھا(۲) کہ میں ایسی کتاب نازل کروں گا جس سے حق کے متلاشی ہدایت حاصل کریں گے جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا۔ 

فلما جاء ھم ما عرفو اکفروابہ۔ 

جب ان کے پاس وہ کتاب آئی جسے وہ پہلے سے جانتے تھے تو وہ اس کے منکر ہو گئے۔(۳) 

حالانکہ یہ لوگ تورات و انجیل کی پیش گوئی کے مطابق اس کتاب کی نشانیوں سے بھی آگاہ تھے اور قرآن مجید نازل ہونے کا بھی انتظار کیا کرتے تھے جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے۔ 

فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدی فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ 

اگر ہماری طرف سے ہدایت آجائے تو جو اس کی اتباع کرے گا اس کے لیئے کوئی خوف اور حزن نہ ہو گا۔(4) 

یہ کتاب وہی ہدایت ہے جس کے متعلق خداوندعالم بنی آدم سے عہد وپیمان کر چکا ہے۔ 

معجزہ

قرآن مجید کے معجزہ ہونے کے متعلق ہم تفصیلی گفتگو اس سورہ کی ۲۳ آیت کے ضمن میں کرینگے البتہ یہاں اتنا بتانا ضروری ہے کہ اس مقام پر اللہ تعالی پوری کائنات کو چیلنج کرتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے۔ 

قرآن مجید میں ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے جس کی حقانیت میں شک کیا جا سکے اور اس کے اعجاز اور وحی ہونے میں کسی قسم کی تردید نہیں ہے قرآن برملا کہ رہا ہے کہ اگر کسی کو کوئی شک و شبہ ہے تو اس جیسا کوئی ایک سورہ لے آئے جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے۔ 

وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتو بسورة من مثلہ 

اگر اس میں آپ کو شک ہے،جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کی مثل ایک سورہ ہی لے آؤ۔(5) 

متقین کی ہدایت

کتاب اپنا تعارف اس انداز سے کرا رہی ہے کہ وہ متقین کے لیئے ہدایت ہے یہ جداگا نہ ہدایت ہے یعنی متقین کے لیئے دو ہدایتیں ہیں ایک وہ ہدایت جس کی وجہ سے وہ متقی بنے۔ 

دوسری وہ ہدایت ہے جو اللہ تعالی نے تقوی اختیار کرنے کے بعد انہیں عنایت فرمائی ہے یعنی پہلی ہدایت انسانی عقل اور فطرت ہے اور یہ فطرت سب لوگوں کے وجود میں ہے ہمیں اپنی اس فطرت کی سلامتی کی کوشش کرنی چاہیے جب ہم میں یہ تقوی آجائے گا تق پھر قرآن مجیدہمیں ہدایت کرئے گا۔ 

بالفاظ دیگر جن لوگوں کے پاس ایمان نہیں ہے ان کے دوگروہ ہیں ایک گروہ حق کا متلاشی ہے جہاں اسے حق وہدایت نطر آئے گا،اسے قبول کر لیں گے اور دوسرا گروہ ہوس پرستوں کا ہے کہ ہدایت و حق کے مخالف ہیں یہ گروہ ہدایت سے بہر ور نہیں ہو سکتا لہذ اقرآنی ہدایت صرف پہلے گروہ کے لیئے ہے۔ 

الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ 

متقین وہ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں،پابندی اور پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ 

عموما تمام مکاتب اور مذاہب کا تین گروہوں کے ساتھ واسطہ ہوتا ہے ایک گروہ اس مکتب کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے۔ایک گروہ پوری طرح اس کا مخالف ہوتا ہے،اور ایک گروہ منافق ہوا کرتا ہے قرآن مجید بھی اس سورہ مبارکہ کے آغاز ہی سے ان تینوں گروہوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ 

(۱) متقین،یہ گروہ اسلام کا پیروکار اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے لوگوں پر مشتمل ہے۔ 

(۲)کافر،یہ لوگ اسلام کے مخالف اور مدمقابل ہیں اور ظاہر بظاہر اسلام کے دشمن ہیں۔ 

(۳) منافق،یہ دورخ اور دوچہرے رکھنے والے لوگ ہیں یہ مسلمانوں کے سامنے مسلمان بن بیٹھتے ہیں اور کافروں کے سامنے اسلام کے جانی دشمن نظر آتے ہیں۔ 

پہلا گروہ ۔ متقین

اسلام کے سامنے سرتسلیم کرنے والے اور تقوی چاہنے والے لوگوں کی قرآن مجید نے ان آیات میں چھ صفات بیان کی ہیں جبکہ اس آیة مبارکہ میں مندرجہ ذیل تین صفات کا تذکرہ ہے۔ 

(۱)غیب پر ایمان 

(۲)نماز قائم کرنا 

(۳) انفاق فی سبیل اللہ 

غیب پر ایمان

ایمان

قلبی اعتقادکا نام ایمان ہے اس میں زبان سے اقرار،اور عمل سے اظہار ضروری ہے یعنی ایسا اعتقاد جس میں شک و تردید کی گنجائش نہ ہو۔ایمان کے کئی مراتب ہیں کھبی تو فقط ایک چیز پر اعتقاد ہوتا ہے مثلا اللہ کے وجود پر اعتقاد رکھتے ہوئے ایمان لانا کبھی اس اعتقاد کا درجہ ایک حد تک بڑھ جاتا ہے جیسے اللہ کے وجود کے علاوہ آسمانی کتب اور ملائکہ پر اعتقاد رکھنا اور ان سب پر ایمان لانا اور کبھی یہ آخری درجہ تک پہنچ جاتا ہے جیسے اللہ،انبیاء علیہم السلام،ملائکہ کے علاوہ اصول دین اور فروع دین پر تہ دل سے ایمان لانا ایمان کا یہی درجہ ہی حقیقی ایمان ہے۔(6) 

جیسا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں۔ 

الایمان ھو تصدیق با لقلب،والاقرار بالسان،العمل بالارکان (7) 

دل سے تصدیق زبان سے اقرار اور فروع دین پر عمل کا نام ایمان ہے۔ 

ایمان بالغیب

غیب اور شہود ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں کیونکہ عالم محسوسات کا نام شہود ہے اور محسوسات سے ماورا دنیا ہماری حس سے پوشیدہ ہے یعنی ہر غیر محسوس چیز جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے اسے غیب کہتے ہیں،لیکن ہر غیب پر ایمان لان ایمان کا جز نہیں ہے بلکہ اس سے ایسے امور مراد ہیں جو غائب بھی ہیں اور جزو ایمان بھی ہیں مثلا خداوند متعال کی با برکت ذات پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ 

عالم الغیب والشھادہ(8) 

(خداہی)غیب اور شہود کو جاننے والا ہے 

قرآن مجید خدا کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے 

ولا یدرکہ الابصار و ھو یدرکہ الابصار۔ 

ہماری آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں جبکہ وہ ہمیں دیکھتا ہے (9)۔ 

اس مقام پر صرف ذات پروردگار پر ایمان لانا مراد نہیں ہے کہ غائب کا ایک وسیع معنی ہے یعنی قرآن مجید،قیامت،وحی،فرشتے،اور عالم حس سے ما ورا ہر وہ چیز جس پر ایمان لانا ضروری ہے سب اس مفہوم غیب میں شامل ہیں تفسیر اھل بیت علیہم السلام میں اس غیب سے حضرت امام زمانہ عج 

اللہ تعالی الشریف کی غیبت مراد ہے۔(10) 

جیسا کہ حضرت امام جعفر علیہ السلام ” غیب “ پر ایمان کی لانے کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں 

من آمن بقیام القائم ( علیہ السلام ) انہ حق۔ 

جو شخص بھی قیام قائم (عجل اللہ الشریف) پر ایمان لائے اور انہیں حق سمجھے وہی غیب پر ایمان رکھنے والا ہے۔

حضرت امام زمانہ عجل اللہ الشریف کے قیام کے متعلق حضرت نبی اکرم (ص) ارشاد فرماتے ہیں۔ 

لو لم بیق من الدنیا الا یوم واحد لطول اللہ ذالک الیوم حتی تخرج رجل من اھل بیتی بواطئی اسمہ اسمی وکنیتہ و کنیتی یملا ء الاارض عدل و مستطا کما قلت جورا وظلما 

اگر اس دنیا کا فقط ایک دن ہی باقی رہ جائے تو اللہ تعالی اس دن کو اس قدر طویل کر دے گا یہاں تک کہ میری اھل کا ایک فرد آئے گا اس کا نام میرا نام ہو گا اور اس کی کنیت میری کنیت ہو گی ( یعنی اللہ اسے میرا نام اور کنیت عطا کرے گا )اور وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی 

مزید  انتظار احادیث كی روشنی میں

دنیا کو عدل و انصاف سے پر کر دے گا۔(11) 

اس دور میں امام زمانہ عجل اللہ الشریف کی غیبت پر ایمان رکھنا ضروری ہے کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق امام زمانہ ( عج) زندہ وسلامت ہیں اور ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ بہرحال ” غیب“ کے کئی مصادیق ہیں اسے چند مصادیق میں منحصر کر دینا درست نہیں ہے بلکہ ایمان بالغیب کا وسیع مفہوم ہے اللہ،قیامت، جنت، جہنم،انبیاء،ملائکہ،اور امام زمانہ (عج) اس کے مختلف مصادیق ہیں۔ 

افضل اہل ایمان

حضرت رسول اکرم(ص) ایک دن اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے،آپ نے فرمایا مجھے بتاؤ غیب پر ایمان رکھنے والوں میں افضل کون ہے؟ 

انہوں نے کہاوہ ملائکہ ہیں۔ 

حضرت نے فرمایا یہ میری مراد نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا وہ انبیاء جنہیں کتب اور رسالت ملی ہے،فرمایا نہیں۔ 

کہنے لگے اس سے شہداء مراد ہیں،فرمایا یہ بھی نہیں ہیں بلکہ میری مرادحضرت نے ارشاد فرمایا۔ 

اقوام فی اصلاب الرجال،یاتون من بعدی، 

یومنون بی و لم یرونی ویصدقونی ولم یرونی یجدون الورق المعلق فیعلمون بما فیہ فھوالاء افضل اہل الایمان ایمانا۔ 

یہ ابھی لوگوں کے صلب میں ہیں، میرے بعد دنیا میں آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے،میری تصدیق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہو گا، میری احادیث ان تک پہنچیں گی اور وہ اس کے مطابق عمل کریں گے،یہی لوگ افضل اہل ایمان ہیں۔(12) 

اس کے بعد آپ نے یومنون با لغیب کی تلاوت فرمائی یعنی یہ غیب پر ایمان رکھنے والے ہیں اور پھر فرمایا یہ لوگ میرے بھائی ہیں،اصحاب نے سوال کیا۔یا رسول اللہ ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔(13) 

آپ نے ارشاد فرمایا 

انتم اصحابی و ہم اخوانی 

آپ میرے اصحاب ہو اور وہ میرے بھائی ہیں۔ 

(۲) نماز قائم کرنا

متقین ایمان پر غائب رکھتے ہیں اور غائب پر ایمان رکھنا عمل سے جدا نہیں ہے یہی وجہ 

ہے کہ عمل بالارکان میں ایمان کے بعد سب سے افضل عمل کو اس مقام پر بیان کیا جا رہا ہے یہ متقین کی دوسری خصوصیت ہے کہ یہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو مکمل اہتمام،کمال وضو،اورسنت نبوی کے عین مطابق بجا لانا واجب اور ضروری ہے کیونکہ یہاں صرف نماز پڑھنا مراد نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی میں نماز کوزندہ کرنا اور نماز کی ترغیب دلانا مراد ہے۔ 

نماز کے حقوق

نماز کے دو حقوق ہیں 

(۱)ظاہری حقوق 

(۲) باطنی حقوق۔ 

ظاہری حقوق سے مراد یہ ہے کہ نماز کو اس کے شرائط اور آداب سے بجا لانا چاہیے،نماز کے متعلق تمام ضروری مسائل کا علم ہونا چاہیے۔

باطنی حقوق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کے حضور حقیقی خشوع و خضوع اور اس کا محتاج ہونے کا احساس کرتے ہوئے نماز ادا کی جائے اسلامی معاشرہ میں نماز کو زندہ کیا جائے،لوگوں کی توجہ نماز کی طرف مبذول کرائی جائے۔ 

یہی نماز تقوی چاہنے والوں کے لیئے خدا اور عالم غیب کیساتھ دائمی رابطہ اور اتصال کی موجب ہے اس مقام پر قرآن مجید متقی اور پرہیز گاروں کی صفت بیان کرتے ہوئے انہیں والمتقین الصلوة یعنی نماز قائم کرنے والوں میں شمار کرتا ہے۔(۱) 

جو متقی نہیں ہیں،نماز کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور نماز کی صحیح منوں میں حفاظت نہیں کرتے،قرآن مجید ان کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے۔ 

فویل للمصلین الذین ھم عن صلوتھم ساھون 

ایسے نمازیوں کے لیئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں (14) 

انفاق فی سبیل اللہ

قرآن مجید متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے انہیں تلقین کر رہاہے کہ اپنے رزق میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں یہ بندوں کا خدا کے رابطہ کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی رابطہ کا موجب ہے متقین ایثار کے جذبہ کی وجہ سے خود پسندی اور خود پرستی سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے اس سے انہیں قلبی اور روحانی سکون میسر ہوگا اور ان کا دل قرآنی ہدایت کے نور سے منور ہو جائے گا۔(15) 

خداوند عالم نے اس سے پہلی صفت میں نماز قائم کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ نماز تمام دینی اعمال میں افضل ترین عمل ہے جب کہ یہاں انفاق کی طرف اشارہ فرمارہاہے کیونکہ عبادت مالیہ میں افضل ترین عبادت زکوة واجبی ہے۔(۳) 

البتہ یہاں خدا وند عالم تمام نعمتوں میں سے انفاق کرنے کا حکم دے رہاہے اور فرمارہاہے کہ جو کچھ ہم نے رزق ادا کیا ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں یعنی اس کے مفہوم میں وسعت پائی جاتی ہے،یہ صرف واجبی زکوة مراد نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہر وہ چیز جو نعمت خدا وندی ہے اس 

میں انفاق کرنا ضروری ہے یعنی علم،عقل، فن،ہنر وغیرہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا متقی کہلانے کا حق دار ہے جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب مما رزقنہم کی تفسیر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے اس سے یہی وسیع مفہوم اور معنی مراد لیا کہ ہر وہ چیز جو آپ کو ملی ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کتنے والا متقی ہے معصوم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں۔ 

ان معناہ و مما علمنا ہم یبثون۔(۱) 

اس کا معنی یہ ہے کہ جن علوم کی ہم نے انہیں تعلیم دی ہے یہ اس علم کو لوگوں میں پھیلاتے رہیں۔ 

یعنی اس علم کی لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں لہذا اس آیت مجیدہ سے فقط واجبی زکوة مراد نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم اور معنی میں وسعت پائی جاتی ہے اور اس سے مرا د اللہ کی طرف سے ملنے والا ہر رزق ہے ہمیں اس رزق سے اللہ کی راہ میں انفاق کرنا ہوگا خواہ وہ واجب ہو یا مستحب ہو۔(۲) 

——– 

1جوامع الجامع ج۱ ص۶۵2 ۰تفسیر کبیر ج ۱ص۳۱،مجمع البیان ج۱ ص۰۰۰۱۲۲

وَالَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْآخِرَةِ ہُمْ یُوقِنُونَ (۴) 

(یہی لوگ )آپ اور آپ سے پہلے (انبیاء)پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت کایقین رکھتے ہیں۔ 

خدا وند متعال اس آیت میں بھی متقین کی تین صفات اور بیان فر ما رہا ہے 

(۱)قرآن پر ایمان 

(۲)سابقہ انبیاء کی کتب پر ایمان 

(۳)آخرت کایقین 

قرآن پر ایمان

قرآن مجید متقین کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرما رہاہے یہ لوگ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور دل اور زبان سے اس کی تصدیق کرتے ہیں اس کے فرمودات اور ارشادات پر عمل پیرا ہو کر قلبی سکون حاصل کرتے ہیں یعنی قرآن مجید پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان قرآنی علوم کو سیکھے،اس پر عمل کرے اور اس عظیم کتاب سے سبق حاصل کرے۔ 

(الف)قرآن مجید تمام آسمانی کتب کا وارث ہے

یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس پر تفصیلا ایمان رکھنا ہو گا جب کہ اس سے پہلی کتابوں پر اجمالی ایمان رکھنا ہی کافی ہے یعنی قرآن مجید کی اتباع اورچ پیروی واجب ہے۔جب ہم لوگ قرآن مجید اور اس شریعت پر عمل کریں گے تو گویا ہم نے تمام الہی کتب اور تمام سابقہ شریعتوں کی پیروی کی ہے کیونکہ قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں کا وارث ہے اس پر عمل تمام کتب پر عمل ہے شاید اسی وجہ سے اللہ تعالی نے پہلے قرآن مجید پر عمل و ایمان کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد دوسری کتابوں پر ایمان رکھنے کا کہا۔ 

(ب)آخری کتاب

جس طرح حضرت محمد مصطفی (ص )خاتم الانبیاء قرآن مجید بھی خاتم الکتب ہے اور یہ آیت بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کر رہی ہے یعنی خدا کہہ رہاہے کہ ہم نے جو کچھ آپ اور آپسے پہلے انبیاء پر نازل کیا ہے اس پر ایمان لانے والا ہی پرہیزگار اور متقی ہے۔ یہ نہیں کہا کہ آپ کے بعد جو نبی اور شریعت ہوگی اس پر بھی ایمان لائیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور قرآن کے بعد اور کوئی کتاب نہیں ہے یعنی آپخاتم الانبیاء ہیں اور قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے۔ 

مزید  ديني غيرت کو فراموش مت کريں

(۲)سابقہ انبیاء کی کتب پر ایمان

تقوی چاہنے والوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے نبی(ص)کے عظیم اور بے مثال معجزہ (قرآن )پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ تمام انبیاء اور ان کی کتب پر بھی ایمان رکھتے ہیں خدا وند عالم نے کائنات کو انسان کے لئے خلق کیا ہے اور اس کی تربیت کے لئے وحی نازل فرمائی کیونکہ انبیاء اور آئمہ اطہار کے بغیر حقیقی راہ کی تلاش اس کے بس کا روگ نہیں ہے۔ 

اسی وجہ سے خدا وندعلم نے متقین کے لئے واجب قرار دیا ہے کہ وہ تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی کتب پر ایمان رکھیں یعنی ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ساتھ ان کی (۱۰۴)کتابوں پر ایمان رکھنا واجب ہے۔(۱) 

وحدت ادیان الہی

تمام انبیاء کا ایک ہی ہدف تھا وہ احکام خدا وندی کے بجا لانے یعنی واجبات کی ادائیگی کا کہنے کے ساتھ ساتھ محرمات سے ہمیں روکتے رہے ہیں ان کے ہدف کا ایک ہونا ہی ادیان الہی کی وحدت کی علامت ہے یہ ادیان فرقہ بندی،تضاد اور نفاق کے موجب نہیں ہیں بلکہ انسان ی فکر اور روح کو تعصب سے دور رکھتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ گذشتہ انبیاء کے دستورات ہر ایمان رکھنا قرآن پر ایمان رکھنے سے دور نہیں کرتا بلکہ سب پر ایمان رکھنے کے مترادف ہے نیز امت محمدیہ (ص) کی ہی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنی شریعت اور کتاب پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ گذشتہ انبیاء اور ان کی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے 

(۱)جیسا کہ حضرت ابوذر آسمانی کتب کی تعداد کے حوالہ سے حضرت رسول اکرم (ص) سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آسمانی کتب (۱۰۴)ہیں۔

ان کی تفصیل اس طرح ہے کہ حضرت شیث علیہ السلام پر (۵۰) صحیفے حضرت ادریس علیہ السلام پر (۳۰) صحفے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر (۱۰) صحیفے تورات سے پہلے حضرت موسی علیہ السلام پر (۱۰) صحیفے،تورات،زبور،انجیل،اور قرآن مجید۔ 

ہیں۔ 

باقی ادیان اس طرح نہ تھے بلکہ صرف اپنے اپنے نبی اور کتاب پر ایمان رکھتے تھے مثلا یہودی صرف حضرت موسی اور توریت پر ایمان رکھتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسی اور انجیل ہی کو مانتے ہیں اور سابقہ اور آنے والی تمام شریعتوں کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن قرآن سے ہدایت حاصل کرنے والی امت کے لئے حضرت محمد مصطفی (ص) کے ساتھ ساتھ تمام ادیان الہی کی حقانیت پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ 

آخرت کا یقین

متقین کی چھ صفات میں سے چھٹی صفت یہ ہے کہ انہیں آخرت کا یقین ہوتا ہے پہلی پانچ صفات پر ایمان رکھنے والا متقی پرہیز گار کہلوانے کا حق دار تھا لیکن اب کہا جا رہاہے کہ آخرت کا یقین ہو نا ضروری ہے۔دل سے تصدیق،زبان سے اقرار اور اصول دین اور فروع دین پر صحیح عمل کرنے کا نام ایمان ہے جب کہ یقین کا درجہ ایمان سے زیادہ ہے کیونکہ یقین ایسا اعتقاد ہے جو واقعہ کے مطابق ہو،اس میں شک وشبہ کی گنجائش بھی نہ ہو اور یہ زائل بھی نہ ہوتا ہو۔ 

مرحلہ یقین میں دو اعتقاد ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ شئی اس طرح ہے مثلا قیامت یقینا ہے اور یقین میں دوسرا یہ عقید ہ بھی پایا جا تا ہے کہ جس طرح یہ چیز ہے اس کے علاوہ اس کا امکان نہیں ہے یعنی اس میں کسی قسم کا شک بھی نہیں ہے اور اس کے علاوہ بھی اس کی کوئی صورت نہیں ہے۔ مثلا آخرت میں ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ہر صورت میں قیامت واقع ہوگی اس کے نہ ہونے کا امکان نہیں ہے مرحلہ یقین تک پہنچنے کے لئے عبادت خدا وندی کرنا ہو گی جیسا کہ خدا وند متعال ارشاد فرماتا ہے۔ 

واعبد ربک حتی یا تیک الیقین۔ 

اپنے پروردگار کی اتنی عبادت کرو کہ مرحلہ یقین تک پہنچ جاؤ(۱) 

بہر حال حقیقی تقوی آخرت ہر یقین کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا،آخرت پر یقین سے مراد یہ ہے کہ ہمیں آخرت،حساب وکتاب،سوال،جنت،جہنم۔منکر،نکیر وغیرہ میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو نا چاہیے اور ہر وقت آخرت یاد رہنی چاہیے آخرت پر قلبی یقین نہ رکھنے والوں کے متعلق حضرت رسول اکرم (ص) تعجب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔ 

و عجبنا ممن یعرف ا لنشاء ة الاولی ثم ینکر النشاء ہ الاخرة،و عجبنا ممن ینکر البعث والنشور وھو فی کل یوم و لیلہ عوت و یحیا و عجبنا ممن یومن بالجنہ وما فیھا من النعیم ثم یسعی لداالغرور 

مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو اپنی خلقت کا تو قائل ہے لیکن قیامت والے دن دوبارہ اٹھنے کا منکر ہر اور مجھے اس پر تعجب ہے جو ہر روز مرنے اور جینے کے باوجود (سونے اور جاگنے )اور مرنے اور جینے کا منکر ہے اور جسے ایسے شخص پر تعجب ہے کہ جنت پر ایمان رکھنے والا شخص کس طرح مغرور دنیا کی چا ہت رکھتا ہے(۲) 

——- 

(۱)حجرآیت۹۹(۲)تفسیر کبیر ج ۲ ص۳۳،منہج الصادقین ج۱ ص۱۴۳

أُوْلَئِکَ عَلَی ہُدًی مِنْ رَبِّہِمْ وَأُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ (۵) 

یہی وہ لوگ ہیں جو پروردگار کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ 

ہدایت اور کامیابی

خدا وند متعال متقین کی صفات بیان کرنے کے بعد ان کے مقام اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمارہاہے کہ جو لوگ اپنی ساری زندگی،عقیدہ،عدل،خدا نبوت اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں خدا اور مخلوق کے ساتھ ان کا گہرا تعلق قائم ہے و ہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ 

اس کائنات کی افرینش کا ہدف عبادت خدا وندی ہے اور عبادت کا ہدف تقوی ہے اور تقوی کی انتہا کامیابی پر ہے اسی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی ان صفات کے حامل متقین کی عظمت بیان کرتے ہوئے فر ما رہاہے کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہونگے اور کامیابی ان کا مقدر ہو گی۔ 

یہ ہدایت اور کامیابی بھی پروردگار عالم کی طرف سے ہے اللہ تعالی نے انہیں تقوی اختیار کرنے کے بعد ایک خصوصی عنایت فرمائی ہے اس سے پہلے اللہ تعالی نے اسے عقل اور فطرت عطا فرمائی تھی وہ بھی ایک ہدایت تھی اوراب متقی اور پرہیزگار بن گیا اور تمام اوصاف کا حامل ہو گیا تو اللہ تعالی نے اسے انعام میں خصوصی ہدایت اور کامیابی عطا فرمائی ہے کیونکہ یہاں (ھدی)نکرہ ہے یہ بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کر رہاہے کہ یہ لوگ خدا تعالی کی طرف سے بہت عظیم ہدایت پر فائز ہیں(۱) 

خدا وند متعال نے انہیں ھم المفلحون کہہ کر یاد فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان صفات کے حامل ہی کامیاب ہیں ان کے علاوہ کسی کے لئے کامیابی نہیں ہے (۲) 

ایمان اور عمل میں استمرار

قرآن مجید نے متقین کی صفات کا تذکرہ فعل مضارع کے ساتھ کیا ہے (۳)فعل مضارع ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے یعنی صرف ایک مرتبہ اس خصوصیت کا مالک ہونا کافی نہیں ہے بلکہ استمرار پر دلالت کرتا ہے یعنی آخر دم تک ان تمام پر عمل کرتے رہنا واجب ہے حقیقی متقی وہی ہیں جو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور زندگی کے نشیب وفراز سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ایمان اور عمل میں تسلسل اور دوام رکھتے ہیں اسی وجہ سے یہ لوگ اللہ کی عظیم ہدایت اور کامیابی کے حقدار ٹھیریں گے۔ 

—— 

(۱)روح المعانی ج ۱ ص ۱۲۴(۲)تفسیر نمونہ ج۱ ص۹۳ 

(۳)یومنون بالغیب،یقیمون الصلوة،ینفقون،یومنون بما انزل با لاخرةھم یوقنون 

إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَیْہِمْ أَأَنذَرْتَہُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْہُمْ لاَیُؤْمِنُونَ 

بے شک جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کے لیئے مساوی ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 

دوسرا گروہ سرکش کفار۔

مزید  حضرت ذَالكفل عليہ السلام

قرآن کی ان ۲۹ آیات میں تین گروہوں کا تذکرہ ہو رہا ہے۔پہلا گروہ تقوی چاہنے والے متقین کا ہے،یہ لوگ پوری طرح حق کو پہچاننے، قبول کرنے اور اور اس پر عمل کرنے کے لیئے آمادہ تھا اب دوسرے گروہ کو بیان کیا جا رہا ہے جو کفر چاہنے والے ہیں اور اپنی گمراہی میں اس قدر مصر ہیں کہ انکے لیئے حق جتنا واضح ہو جائے یہ اسے قبول کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں بلکہ دین اسلام کے دشمن ہیں۔ 

شناخت کافر

کسی چیز کا چھپانا اور انکار کرنا کفر ہے اور اس مقدس شریعت میں وہ شخص کافر ہے جو اللہ ک تبارک وتعالیٰ کی وحدانیت،صفات،کتب الہی،انبیاء،اور ہر وہ چیز جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ان تمام کو نہ مانے (۱) 

یعنی حضرت محمد مصطفی (ص) جو کچھ لائے ہیں ان سب پر ایمان لانا واجب ہے کوئی ان سب کا انکار کرے یا بعض کو مانے اور بعض کو نہ مانے تو بھی کافر کہلاتا ہے(۱)یعنی اصول دین،فروع دین،قرآن اور آئمہ اطہار علیہم السلام کو تسلیم نہ کرنے والا اور ضروریات دین میں سے کسی بھی چیز کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ 

منکر حق

حق کے منکر وہ لوگ ہیں جو حق کو پہچاننے کے باوجود اس کا انکار کر دیتے ہیں ان کی تعداد انتہائی کم ہے جیسا کہ حضرت رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں بعض مشرکین مکہ اور کچھ یہودی ایسے تھے جو حضرت پہچاننے کے باوجود اپنے کفر پر ڈٹے رہے حالانکہ حضرت کی بعثت سے پہلے یہ حضرت کے اوصاف بیان کیا کرتے تھے جیسا کہ قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے۔ 

فلما جاء ھم ما عرفوا کفروا بہ۔ 

(جنہیں وہ پہلے سے جانتے تھے )جب وہ تشریف لائے تو انہوں نے کفر اختیار کیا۔ 

ان یہودیوں کی طرح مشرکین مکہ بھی آپ کے اوصاف سے آگاہ تھے،انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ آپ سید الانبیاء ہیں اس کے باوجود یہ حسد اور عناد کی وجہ سے کفر پہ باقی رہے۔ 

جیسا کہ مکہ میں نازل ہونے والی سورة یس میں اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے۔ 

——— 

(۱) المنار ج ۱ ص ۱۴۰ 

۰۰۰ تفسیر کبیر ج ۲ ص ۳۸۔۰۰۰ ۰۰۰ عنکبوت آیت ۲۵۔ 

وسوا ء علیھم ء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یو منون۔(۱) 

ان کے لیئے مساوی ہے کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 

لہذا مشرکین قریش ہوں یا یہودی جنہوں نے بھی دین اسلام قبول کرنے میں جاہلانہ تعصب اور عناد کا اظہار کیا ہے اور دین اسلام کی دشمنی میں ہر قسم کی سعی و کوشش کی ہے اور اسلام کو قبول نہیں کیا ہے ان کے لیئے ہدایت کا دروازہ بند ہے، حتی کہ اس قرآن مجید سے جوتقوی چاہنے والوں کے لیئے منبع ہدایت ہے یہ لوگ اس سے بھی متاثر نہیں ہو سکتے۔ 

لہذا انہیں کچھ کہیں یا نہ کہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں بشارت دیں یا نہ دیں،انہیں وعظ و نصیحت کریں یا نہ کریں،یہ لوگ حق کی پیروی اور اس کے سامنے سر تسلیم خم 

کرنے کے لیئے آمادہ ہی نہیں ہیں جیسا کہ قرآن مجید ان کی خواہش بیان کرتے ہوئے 

ارشاد فرماتا ہے۔ 

قالو ا سواء علینا او عظت ام لم تکن من الواعظین۔(۲) 

ہمیں وعظ و نصیحت کریں یا نہ کریں ہم پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ 

ایمان فعل اختیاری ہے

قرآن مجید کی ہدایت کا دروازہ فقط جاہلانہ تعصب اور عناد رکھنے والے کفار کے لیئے بند ہے لیکن جو لوگ (کفار) عناد اور تعصب نہیں رکھتے ان کے لیئے ہدایت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس سے مراد کفروں کے تمام طبقات ہوتے تو پھر انہیں قرآنی ہدایت ہی نصیب نہ 

———- 

۰۰۰سورہ یس آیت ۱۰۔۰۰۰ ۰۰۰ سورہ شعراء آیت ۱۳۶۔۰۰۰

ہو سکتی حضرت کے مبعوث ہونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا جبکہ آپ تو رحمت العالمین بن کر آئے ہیں، آپ نے ہر طبقہ کو اسلام کی دعوت دی ہے آپ کے انذار اور بشارت کی وجہ سے انہوں نے اسلام قبول کیا ہے اور جن لوگوں نے اپنے نطریات اور عقائد کو چھوڑ کر ایمان کو اختیارکیا ہے انہیں ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ 

جنہوں نے عناد اور سو اختیار کی وجہ سے اپنے باطل نطریات کو نہیں چھوڑا اور اسلام سے دشمنی اور بغض کو باقی رکھا انہیں یہ ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ایک اختیاری فعل ہے۔ 

خَتَمَ اللهُ عَلَی قُلُوبِہِمْ وَعَلَی سَمْعِہِمْ وَعَلَی أَبْصَارِہِمْ غِشَاوَةٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ (۷) 

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ 

کفار کی ضلالت :

الف: دلوں اور کانوں پر مہر۔ 

ب: تشخیص کی قدرت نہیں رکھتے۔ 

ج :مستحق عذاب 

خدا وند عالم اس آیت میں کفار کی دو اہم نشانیاں بیان فرمارہا ہے جس میں واضح طور پربتایا گیا ہے کہ یہ لوگ تعصب اور عناد میں اس طرح ڈوبے ہوئے ہیں کہ خدا نے ان کے دکوں اور کانوں پر مہر لھا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے کیونکہ قلب کا فائدہ حق کو درک کرنا ہے۔سماعت کا ثمرہ آیات قرآنی سننا ہے اور بصارت کا نتیجہ معجزات خداوندی کو دیکھنا ہے۔یہ تینوں خصوصیا ت ان کفار میں موجود نہیں ہیں۔لہذا اس سے معلوم ہوا کہ یہ کھبی بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اپنی ضلالت پر مصر رہیں گے۔ 

الف :دلوں اور کانوں پر مہر۔

خداوند عالم کا ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دینا اس بات کا کنایہ ہے کہ ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خداوند عالم نے مہر لگا دی ہے جیسا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں۔ 

الختم ھو الطبع علی قلوب الکفار عقوبةعلی کفرھم۔ 

ختم سے مراد کافروں کے دلوں پر ان کے کفر کی سزا کے طور پر مہر لگا دینا ہے۔ 

اللہ کی طرف سے مہر لگ جانے کا فعل انسان کے کفر اختیاری کے بعد ہوتا ہے،کفر سے پہلے نہیں ہوتا اور یہ کفر اختیاری کا نتیجہ ہے یعنی ہر انسان کو فطرت سلیم عطا ہو تی ہے اور اس میں دلائل حق پر غور وفکر کی استعداد بھی شامل ہے لیکن جب انسان اپنے ارادے اور عقل کا غلط استعمال کرتا ہے تو پھر آسمانی ہدایتوں اور خداوندی نشانیوں سے مسلسل منہ موڑ لیتا ہے اور شیطانی قانون پر چلنے کی ٹھان لیتا ہے۔ 

اس وقت وہ غضب کا مستحق ٹھرتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ رحمت سے خارج ہو جاتا ہے اس وقت نصرت الہی اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور واضح دلائل حقاور روشن سے روشن آیات الہی بھی انہیں نظر نہیں آتیں یہ سب کچھ کافروں کا اپنے ارادے اور اختیار سے دوری اور دانستہ کج روی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ 

بہرحال یہ مسلم ہے جب تک انسان اس مرحلے تک نہ پہنچے وہ کتنا ہی گمراہ کیوں نہ ہو،قابل ہدایت ہوتا ہے لیکن جب وہ اپنے بد اعمال کی وجہ سے پہچان کی قوت کھو بیٹھتا ہے تو اس کے لیئے کوئی راہ نجات نہیں ہے۔ 

____________________

1مجمع البیان ج ۱ ص ۱۸۸ 

2مجمع البیان ج ۱ ص

3۱۱۸۰۰۰ سورہ بقرہ آیت ۸۹ 

4سورہ بقرہ آیت 38

5 سورہ بقرہ آیت ۲۳۔ 

6میزان ج ۱ س ۸۷ (کچھ تبدیلی کے ساتھ )

7منہج الصادیقین ج ۱ ص ۱۳۶۔

8تفسیر کبیر ج۲ ص28

9منہج الصادیقین ج۱ ص ۱۳۷ و نور الثقلین ج ۱ ص ۳۱، 

10میزان ج ۱ ص ۴۶ ۰۰۰

(11)تفسیر کبیر ج ۲، ص ۲۸، منہج الصادیقین،ج ۱، ص ۱۳۷، اسی مطلب پر روایت بحار الانوار ج ۵۲ ص ۱۲۴ 

اسی مطلب پر بحار النوار ج۵۲ ص۱۲۴

12در منثور ج ۱ ص ۲۶ ۰۰۰۰۰۰ منہج الصادیقین ج ۱،ص ۱۳۸ 

13اسی مطلب کے مشابہ حدیث بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۱۲۳ 

14 سورہ ماعون آیت ۴،۵ ۰۰۰ناطق ج ۱ص ۰۴۵

15۰منہج ج ۱ ص۰۰۱۳۸

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.