تشیع کی وسعت میں انقلاب کربلاکا اثر

0 0

(٢)ابن جوزی نقل کرتا ہے جس وقت منصور مکہ کے ارادے سے مدینہ میں وارد ہو ا ،ربیع حاجب سے کہا  ،جعفر بن محمد کو حاضر کرو خُدا مجھ کو مار ڈالے اگر میں ان کو قتل نہ کروں، ربیع نے حضرت کے حاضر کرنے میں سُستی برتی ،منصور کے فشا

 

امام حسین کی شہادت کے بعد شیعہ اپنی پناہ گاہ کھو دینے کے بعد کا فی خوف زدہ تھے اور دشمن کے مقابلہ میں مسلحانہ تحریک اوراقدام سے نا امید ہو گئے تھے دل خراش واقعۂ

 (١) مسعودی علی بن حسین ، مروج الذھب ، موسسہ ا لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،ج٣ ص ٩

(٢)ابن شہر آشوب،مناقب آل ابی طالب،موسسةانتشارات علامہ،ج٣ ص٤٠٠

 عاشورہ کے بعد مختصر مدت کے لئے انقلاب شیعیت کو کافی نقصان پہونچا،اس حادثہ کی خبر پھیلنے سے اس زمانے کی اسلامی سر زمین خصوصاً عراق و حجاز میں شیعوں پر  رعب و وحشت کی کیفیت طاری ہوگئی تھی کیونکہ یہ مسلّم ہو گیا کہ یزید فرزند رسوۖل کو قتل کرکے نیز ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کرکے اپنی حکومت کی بنیادمستحکم کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی حکومت کوپائیدار کرنے میں کسی بھی طرح کے ظلم سے گریز نہیں کرنا چاہتا ہے اس وحشت کے آثار مدینہ اور کوفہ میں بھی نمایاں تھے ،واقعہ حرّہ کے ظاہر ہوتے ہی لوگوں کی بے رحمانہ سرکوبی میں یزید کی فوج کی جانب سے شدت آگئی تھی عراق و حجازکے شیعہ نشین علاقے خاص کر کوفہ اور مدینہ میں سانس لینابھی دشوارہو گیااور شیعوں کی یکجہتی و انسجام کا شیرازہ یکسر منتشر ہوگیا تھا امام صادق اس ابتر اورناگفتہ بہ وضعیت کے بارے میں فرماتے ہیں: امام حسین  کی شہادت کے بعد لوگ خاندان پیغمبرۖ کے اطراف سے پرا گندہ ہو گئے ان تین افراد کے علاوہ ابو خالد کابلی، یحییٰ ابن ام الطویل ، جبیر ابن مطعم۔(١)

مورخ مسعودی بھی ا س بارے میں کہتا ہے : \’\’علی بن حسین مخفی اور تقیہ کی حالت میںبہت دشوار زمانے میں امامت کے عہدے دار ہوئے ،،(٢)یہ وضعیت حکومت یزید کے خاتمہ تک جاری رہی ،یزید کے مرنے کے بعد شیعوں کا قیام شروع ہوا اور اموی

(١)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ،معروف بہ رجال کشی،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ١٤٠٤ہجری، ج ١،ص ٢٣٨        

(٢) اثبات الوصیة، مکتبة الحیدریة ، نجف ، طبع چہارم ، ٣١٧٣ھ ص ١٦٧

 حکومت کے مضبوط ہونے تک یعنی عبد الملک کی خلافت تک یہ سلسلہ جاری رہا، یہ مدت تشیع کے فروغ کے لئے ایک اچھی فرصت ثابت ہوئی، قیام کربلا کی جو اہم ترین خاصیت تھی وہ یہ کہ لوگوں کے ذہنوں سے بنی امیہ کی حکومت کی مشروعیت یکسرختم ہوگئی تھی اور حکومت کی بدنامی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ خلافت بالکل سے اپنی حیثیت کھوچکی تھی اور لوگ اسے پاکیزہ عنوان نہیں دیتے تھے یزید کی قبر سے خطاب کر کے جو شعر کہا گیا اس سے بخوبی اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے :

ایھا القبر بحوارینا

  قدضمنت شر الناس اجمعینا(١)

اے وہ قبرکہ جو حوارین کے شہر میں ہے لوگوں میںسے سب سے بد ترین آدمی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔

اس زمانہ میںسوائے شامیوں کے شیعہ و سنی سب کے سب، حکومت بنی امیہ کے مخالف تھے، شیعہ اور سنی کی جانب سے بغاوتیں بہت زیادہ جنم لے رہی تھیں۔(٢)

یعقوبی لکھتا ہے:\’\’ عبد الملک بن مروان نے اپنے حاکم حجاج بن یوسف کو لکھا تک تو مجھے آ ل ابی طالب کا خون بہانے میںملوث نہ کر کیونکہ میںنے سفیانیوں( ابوسفیان کے

(١) مسعودی علی بن حسین ، مروج الذھب ، موسسہ ا لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت،١٤١١ھ ج٣ ص ٥٦

 (٢)مسعودی علی بن حسین ، مروج الذہب ، موسسہ لاعلمی ،للمطبوعات، بیروت، ١٤١١ ھ، ج٣ ، ص٨١۔٩٩

  بیٹے)کا نتیجہ ان کے قتل کرنے میں دیکھا کہ کن مشکلات سے دوچار ہوئے تھے\’\'(١)

آخرکار خون اما م حسین علیہ السلام نے بنی امیہ کے قصر کو خاک میں ملا دیا ۔

مقدسی کہتا ہے :\’\’ جب خدا وند عالم نے خاندان پیغمبر ۖپر بنی امیہ کا ظلم و ستم دیکھا تو ایک لشکر کو کہ جو خراسان کے مختلف علاقوں سے اکٹھا ہواتھا شب کی تاریکی میں ان کے سروں پر مسلط کردیا۔(٢)

دوسری طرف سے امام حسین علیہ السلام اور شھداء کربلا کی مظلومیت کی وجہ سے خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت لوگوںکے دلوں میں بیٹھ گئی اور ان کے مقام کو اولاد پیغمبرۖ اوراسلام کے تنہا سرپرست ہونے کے عنوان سے مستحکم کردیا ،بنی امیہ کے دور میں جگہ جگہ لوگ یالثارات الحسین کے نعرہ کے ساتھ جمع ہوتے، یہاں تک کہ سیستان میں ابن اشعث کاقیام ،(٣)حسن مثنیٰ فرزند اما م حسن علیہ السلام

                                           

(١) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ص٣٠٤

(٢) مقدسی، احسن التقاسیم ، ترجمہ منذوی ، شرکت مولفان و مترجمان ایرانی، ج ٢ ص ٤٢٦۔٤٢٧

(٣) عبد الرحمن بن محمد بن اشعث حجاج کی جانب سے سیستان میں حاکم تھا ، سیستان کا علاقہ مسلمانوں اور ہندئوں کے درمیان سر حدواقع ہوتا تھا یہاں مسلمانوں اور ہندوستان کے حاکموں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں ، حجاج کو عبد الرحمن سے جو دشمنی تھی اس کی بنا پر اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ اسے اس طرح ختم کر دے ، عبد الرحمن جب اس سازش سے آگاہ ہوا تواس نے  ٨٢ھ  میں حجاج کے خلاف بغاوت کردی ، چونکہ عوام حجاج سے نفرت کرتی تھی لہذابصرہ و کوفہ کے کافی لوگ عبد الرحمن کے ساتھ ہوگئے، کوفہ کے بہت سے قاریان قرآن ا ور شیعہحضرات قیام کرنے والوں کے ساتھ ہوگئے، اس طرح عبد الرحمن سیستانسے عراق کی جانب روانہ ہوا ، اس کا پہلا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو )

  کے نام سیتشکیل پایا (١)اسی بنیاد پر امام مہدی  کی احادیث انتقام آل محمد ۖکے عنوان سے پھیلی(٢)اور لوگ بنی امیہ سے انتقام لینے والے کا بے صبری اور شدت سے انتظار کرنے لگے( ٣)کبھی مہدی کے نام کو قیام اور تحریک کے قائدین پر منطبق کرتے تھے۔ (٤)

دوسری طرف ائمہ اطہار اور پیغمبر ۖ کے خاندان والے شہدائے کربلاکی یادوںکو زندہ رکھے ہوئے تھے ،امام سجاد  جب بھی پانی پیناچاہتے تھے اور پانی پر نظر پڑتی تھی تو

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ کا ) پروگرام یہ تھا کہ حجاج کو بر طرف کردے پھر خود عبد الملک کو خلافت سے ہٹادے ، عبد الملک نے شام سے بہت بڑا لشکر حجاج کی مدد کے لئے روانہ کیا ،کوفہ سے سات فرسخ کے فاصلہ پر \’\’دیر الجماجم \’\’نامی جگہ پر شام کے لشکر نے عبد الرحمن کو شکست دے دی ،وہ ہندوستان بھاگا اور وہاں کے ایک بادشاہ سے پناہ طلب کی لیکن حجاج کے عامل نے اسے قتل کر دیا ، مسعودی ، مروج الذھب ، ج ٣ ص ١٤٨، معجم البلدان ، یاقوت حموی ، ج ٤ ص ٣٣٨

(١)ابن عنبہ ،عمدةالطالب فی انساب آل ابی طالب، انتشارات رضی،قم ، ص ١٠٠

(٢)ابوالفرج اصفہانی مقاتل الطالبین ،منشوارات شریف رضی ، قم ١٤١٦ھ،ص٢١٦

(٣)یعقوبی نقل کرتا ہے : عمر بن عبد العزیز نے اپنی خلافت کے دور میںعامر بن وائلہ کو کہ جس کا نام وظیفہ لینے والوںکی فہرست سے کاٹ دیا گیا تھا ، اس کے اعتراض کے جواب میں کہا: سنا ہے تم نے اپنی شمشیر کو تیز کیا ہے ،نیزہ کو تیز کیا ہے تیر اور کمان کو آمادہ رکھا ہے اور ایک امام قائم کے کہ وہ قیام کریں لہذا انتظار کرو جس وقت بھی وہ خروج کریں گے اس وقت تمہیں وظیفہ دیا جائے گا،( تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ ھ، ج ٢ ص ٣٠٧ )

 (٤)ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، ج ٢، ص٢١٠

 آنکھوںمیں آنسو بھر آتے تھے، جب لوگوں نے اس کا سبب معلوم کیا تو آپ نے فرمایا : کیسے گریہ نہ کروں اس لئے کہ انہوںنے پانی جنگلی جانوروں اور پرندوںکے لئے آزاد رکھاتھا اور میرے بابا کے لئے بند کردیا تھا؛ایک روز امام  کے خادم نے دریافت کیا، کیا آپ کا غم تمام نہیں ہوگا؟امام نے فرمایا: \’\’افسوس تجھ پر یعقوب کے بارہ بیٹوں میں سے ایک آنکھوںسے اوجھل ہوگیا تھا اس کے فراق میں اتنا گریہ کیا کہ نابینا ہوگئے اور شدت غم سے کمر جھک گئی حالانکہ ان کا فرزند زندہ تھا لیکن میںنے اپنے باپ بھائی ،چچا نیز اپنے خاندان کے سترہ افراد کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے ان کے لاشے زمین پر پڑے ہوئے تھے لہذا کس طرح ممکن ہے کہ میرا غم تمام ہوجائے ؟!\’\’۔ (١)

امام صادق امام حسین  کی مدح میں اشعارکہنے والے شاعروں کی تشویق کرتے تھے اور فرماتے:\’\’ جو بھی امام حسین  کی شان میں شعر کہے اور گریہ کرے اور لوگوں کو رلائے اس پر جنت واجب ہے اور اس کے گناہ معاف کر دئے جائیںگے۔ (٢)

امام حسین تشیع کی بنیاداور علامت ٹھہرے اسی بنا پربہت سے زمانوں میںجیسے متوکل کے دور میں آپ کی زیارت کو ممنوع قرار دیا گیا۔ (٣)

(١)علامہ مجلسی ،بحار الانوار ، المکتبة الاسلامیہ ،تہران،طبع دوم ،١٣٩٤ھ ق،ج٤٦ص١٠٨

(٢)شیخ طوسی ، اختیارمعرفة الرجال ، معروف بہ رجال کشی ،ج٢ ص ٥٧٤

(٣)طبری، ابی جعفر محمد بن جریر ،تاریخ طبری ، دارالکتب العلمیہ بیروت،طبع دوم،١٤٠٨ھ ج٥،ص٣١٢

(ب) عصر امام سجّاد علیہ السّلام

امام سجّاد  کے دور کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا مرحلہ: شہادت امام حسین  اوربنی امیہ کی حکومت کے متزلزل ہونے کے بعدسے اورسفیانیوں(ابو سفیان کے بیٹوں اور پوتوں ) کے خاتمہ اور مروانیوں کے برسراقتدار آنے نیز بنی امیہ کے آپس میںجھگڑنے اور مختلف طرح کی شورشوں اور بغاوتوں میں گرفتار ہونے تک یہاں تک کہ مروانیوں کی حکومت برقرار ہوگئی۔

دوسرا مرحلہ: حجاج کی حکمرانی اورمکہ میں عبداللہ بن زبیر کی شکست،(١)سے لے کر امام محمد باقر کا ابتدائی زمانہ اور عباسیوں کے قیام تک۔

( ١ ) مکہ میں عبد اللہ بن زبیر کی حاکمیت ،اس زمانے سے کہ جب اس نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور لوگوںکو اپنی طرف آنے کی دعوت دی ، یہاں تک کہ  ٧٢ھ میں حجاج کے سپاہیوں نے اسے قتل کردیا ، یہ کل بارہ سال کا عرصہ ہے ابن عبدر بہ نے اس بارہ سال کے طولانی دور کو \’\’العقد الفرید \’\’میں ابن زبیر کے فتنہ کے عنوان سے ذکر کیا ہے، معاویہ کے مرنے کے بعد مدینہ کے حاکم نے ابن زبیر سے یزید کی بیعت طلب کی، یزید کی بیعت سے بچنے کے لئے جس وقت امام حسین  مکہ تشریف لے گئے تو ابن زبیر بھی مکہ آگیا لیکن وہاں لوگوں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی، اسی بنا پرمکہ میں امام حسین کا رہنا اسے ناگوار لگ رہا تھا لہذا اس نے امام حسین  سے کہا : اگر آپ کی طرح لوگ مجھے بلاتے تو میں عراق چلا جاتا ، امام حسین  کی شہادت کے بعد یزید کے خلاف پرچم بغاوت بلند کر دیا یزید نے  ٦٢  ھ میں مسلم بن عقبہ کو ایک لشکر کے ساتھ مدینہ کی شورش کو دبانے اور ابن زبیر کی سر کوبی کے لئے پہلے مدینہ اور پھر مکہ روانہ کیا لیکن واقعۂ حرّہ کے بعد مکہ جاتے ہوئے راستہ ہی میں وہ مر گیا اس کا جا نشین حصین بن نمیر شام کے لشکر کے ہمراہ مکہ گیا  (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

امام حسین  کی شہادت کے بعدایک طرف سے تو بنی امیہ عراق و حجاز کے علاقہ میں برپا ہونے والے انقلابات میں گرفتار تھے تو دوسری طرف سے ان کے اندر اندرونی اختلاف تھا جس کی بنا پرحکومت یزید زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکی یزید تین سال کی حکومت کے بعد ٦٤ ھ میں مر گیا،(١)اس کے بعداس کا بیٹا معا ویہ صغیر بر سر اقتدار آیا ا س نے چا لیس روز سے زیادہ حکومت نہیں کی تھی کہ خلافت سے الگ ہو گیا اور بلا فاصلہ دنیاسے رخصت ہو گیا،(٢) اس کے مر تے ہی خاندان بنی امیہ کے درمیان اختلاف

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ کا ) اور  ٦٤ ھ میں منجنیق کے ذریعہ کعبہ پر آگ برسائی انہ کعبہ کا پردہ جل گیا اسی جنگ کے دوران یزید کے مرنے کی خبر ملی، شام کی فوج سست پڑ گئی ،حصین نے ابن زبیر سے کہا : بیعت کر لو اور شام چلو وہاں مجھے تخت حکومت پر بٹھادو لیکن ابن زبیر نے قبول نہیںکیا،یزید کے مرنے کے بعد اردن کے علاوہ تمام اسلامی سر زمین نے ابن زبیر کی خلیفہ کے عنوان سے بیعت کر لی اور اس کی حکومت کو تسلیم کر لیا لیکن بنی امیہ نے مروان کو جابیہ میںاپنا خلیفہ منتخب کرلیا اس نے شام میں اپنے مخالفین کو تخت سے اتار دیا، اس کے بعد اس کا بیٹا عبد الملک خلیفہ بنا عبد الملک نے مصعب بن زبیر کو شکست دینے کے بعد اس کے بھائی عبد اللہ ابن زبیر کو شکست دینے کے لئے حجاج ابن یوسف کو عراق سے مکہ روانہ کیا حجاج نے مکہ کا محاصرہ کر لیا ، کوہ ابو قبیس پر منجنیق رکھ کر گولہ باری کر کے کعبہ اور مکہ کو ویران کر دیا اس جنگ میں عبد اللہ بن زبیر کے ساتھیوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا لیکن عبد اللہ نے مقاومت کی اور آخر کار قتل ہو گیا، اس طرح ١٢ سال بعد عبد اللہ ابن زبیر کا کام تمام ہو گیا ( ابن عبد ربہ اندلسی ، احمد بن محمد ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ١٤٠٩ھ ج ٤ ص ٢٦٦، مسعودی ، علی ابن الحسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ج ٣ ص ٧٨۔٧٩

 (١) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ج ٢،ص٢٥٢

(٢) ابن واضح تاریخ یعقوبی، منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٤ھ ،ج ٢،ص٢٥٦

 شروع ہو گیا ، مسعودی نے اس کے مرنے کے بعد پیش آنے والے واقعات کہ جس سے بنی امیہ کی ریاست طلبی کی عکاسی ہوتی ہے یوں بیان کیا ہے: معاویہ دوّم ٢٢ سال کی عمر میں دنیا سے چلا گیااوردمشق میں دفن ہوا ولید بن عتبہ بن ابی سفیان خلافت کی لالچ میں آ گے بڑھا تا کہ معاویہ دوم کے جنازہ پر نماز پڑھے نماز تمام ہونے سے پہلے ہی اسے ایسی ضرب لگی کہ وہیں پر ڈھیر ہوگیا اس وقت عثمان بن عتبہ بن ابی سفیان نے نماز پڑھائی لیکن لوگ اس کی خلافت پربھی راضی نہیں ہوئے اور وہ ابن زبیر کے پاس مکہ جانے پر مجبور ہوگیا ۔(١)

امام حسین  کی شہادت کو ابھی تین سال بھی نہ گزرے تھے کہ سفیانیوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، اسلامی سر زمین کے لوگ یہاںتک کہ بنی امیہ کے کچھ بزرگ افراد جیسے ضحاک بن قیس ا و رنعمان بن بشیر،ابن زبیر کی طرف مائل ہو گئے تھے، اسی وقت ابن زبیر نے مدینہ سے اموی ساکنین منجملہ مروان کونکال باہرکیا وہ سب وہاں سے نکل کرر اہی شام ہو گئے چونکہ دمشق میں کوئی خلیفہ نہیں تھا ،امویوں نے جابیہ میں مروان بن حکم کوخلیفہ بنا د یااور خالد بن یزید اور اس کے بعد عمرو بن سعید اشدق کو اس کا ولی عہد قرار دیا ، کچھ مدّت کے بعد مروان نے خالد بن یزید کو بر طرف کر دیا اور اس کے بیٹے عبدالملک کو اپنا ولی عہد بنایا اسی وجہ سے خالد کی ماں جو مروان کی بیوی تھی اس نے اس کو زہر دیا اور مروان مر گیا ، عبدالملک نے بھی عمرو بن سعید کو اپنے راستے سے ہٹاکر اس کے فرزند کو اپنا ولی عہد بنایا۔

دوسری طرف سے امویوں کو بہت سی شورشوں اور بغاوتوں کا سامنا تھا یہ قیام دو

 (١)مسعودی ،مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ ج٣ ص ٨٥۔٨٦

 حصّوں میں تقسیم ہوتا ہے،ایک وہ قیام جو شیعہ ما ہیت نہیں رکھتا تھا جیسے حرّہ کا قیام اور ابن زبیر کا قیام، ابن زبیرکے قیام کی حقیقت معلوم ہے اس قیام کا قائد ابن زبیر تھا جو خاندان رسولۖکا سخت ترین دشمن تھا ،جنگ جمل میں شکست کے بعدہی اس کا دل (اہل بیت کے ) بغض و کینہ سے بھر گیا تھا لیکن اس کا بھائی مصعب شیعیت کی طرف مائل تھا اس نے امام حسین  کی بیٹی سکینہ  سے شادی کی تھی، اسی بنا پر عراق میں اس کو ایک حیثیت حاصل تھی، امویوں کے مقابلہ میں شیعہ اس کے ساتھ تھے، جناب مختار کے بعد ابراہیم بن مالک اشتر ان کے ساتھ ہوگئے تھے اور انہیں کے ساتھ شہید ہوئے ۔

دوسر ے وہ قیام جو ماہیت کے اعتبار سے شیعہ فکر رکھتے تھے ۔

قیام حرّہ کو بھی شیعی حمایت حاصل نہیں تھی ،(١)اس قیام میں امام سجاد

 (١)حرّہ کا واقعہ  ٦٢ھ میں پیش آیا ، مسعودی اس کی وجہ لوگوں کا یزید کے فسق و فجور سے نا خوش ہونا اور امام حسین  کی شہادت جانتا ہے ، مدینہ جو اولاد رسول ۖ اور اصحاب رسول ۖ کا مرکز تھا یہاں کے لوگ یزید سے ناراض تھے مدینہ کا حاکم عثمان بن محمد بن ابی سفیان جو ایک نا تجربہ کار نوجوان تھا ، مدینہ کے لوگوں کی نمائندگی میں کچھ لوگوں کو شام روانہ کیا تاکہ یزید کو قریب سے دیکھیں اور اس کی نوازشات سے فائدہ اٹھائیں اور جب مدینہ آئیں لوگوں کو یزید کی اطاعت پر تشویق کریں ، اس عثمانی تجویز میں مدینہ کے بزرگان کہ جن میں عبد اللہ بن حنظلہ جو غسیل الملائکہ کہے جاتے ہیں وہ بھی شامل تھے ، یزید جو اسلامی تربیت سے بالکل بے بہرہ تھا ان لوگوں کے سامنے بھی اس نے اپنے فسق و فجور کو جاری رکھا، لیکن مدینہ سے آنے والوں کی خوب آئو بھگت کی سب کو گراں بہا تحفے دئے تاکہ یہ لوگ واپس جا کر اس کی تعریفیں کریں لیکن اس کا سب کچھ کرنا بیکار ہو گیا یہ لوگ جب مدینہ پلٹے تو مجمع میں یہ اعلان کیا کہ ہم اس کے پاس سے واپس آرہے ہیں جو بے دین ہے شراب پیتا ہے ، ناچ گانا سنتا (بقیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو)

  کی کسی قسم کی مداخلت نہ تھی جس وقت مسلم بن عقبہ لوگوں سے بیعت لے رہا تھااور یہ کہہ رہا تھا غلام کی سے جنگ کروں گا اس نے مجھے تحفے دئے اکرام کیا میں نے اس کے ہدیہ و تحفہ کو قبول نہیں کیا جگہ یزید کی بیعت کریںاس وقت وہ امام سجاد  کا احترام کر رہا تھا اور حضرت پر کسی قسم کا دبائو نہیں ڈالا۔(١)

(بقیہ گذشتہ صفحہ کا)ہے ، کتے سے کھیلتا ہے ،ان طوائفوں کے ساتھ ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرتا ہے، ان سے ہمنشینی کرتاہے کی آواز یں سنتا ہے ، عیش و عشرت میں زندگی گذارتا ہے ، ہم لوگ آپ کو گواہ قرار دیتے ہیں کہ ہم نے اسے خلافت سے معزول کر دیا ہے ، عبد اللہ ابن حنظلہ نے کہا اگر کسی نے بھی میری مدد نہیں کی تو میں صرف اپنے بچوں کے ساتھ یزیدمگر صرف  اس لئے لے لیا کہ خود اس کے خلاف استعمال کروں اس کے بعد لوگوں نے عبد اللہ ابن حنظلہ کی بیعت کی مدینہ کے حاکم اور تمام بنی امیہ کو مدینہ سے باہر بھگا دیا ۔

 جب یزید کو یہ خبر ملی تو اس نے بنی امیہ کے ایک نمک خوار و تجربہ کار شخص مسلم بن عقبہ کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ مدینہ روانہ کیا اور کہا: ان لوگوں کو تین دن کی مہلت دینا اگر تسلیم ہو جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے جنگ کرکے کامیابی کے بعد تین دن تک جتنی لوٹ مار کرنی ہو کر لینا اور سپاہیوں کو کھلی اجازت دے دینا ۔

 اہل مدینہ اور لشکر شام میں شدید جنگ ہوئی آخر کار اہل مدینہ کو شکست ہوئی بڑے بڑے رہبر مارے گئے مسلم نے تین دن بالکل قتل عام کا حکم صادر کر دیا ،لشکر شام نے وہ کام کیا جسے بیان کرنے سے قلم کو بھی شرم آتی ہے اس ظلم و بربریت کی بنا پر مسلم کو مسرف کہا گیا ،قتل و غارت کے بعد اس نے یزید کے لئے لوگوں سے زبر دستی بیعت لی ۔

  ابن عبد ربہ اندلسی ، العقد الفرید ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ج ٤ ص ٣٦٢، ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٢٥٠۔ ٨٢ ، ابن اثیر ، الکامل دار صادر ، بیروت ، ج ٤ ص ١٠٢۔١٠٣۔ ٢٥٥۔٢٥٦

 (١) ابی حنیفہ ، دینوری ، احمد بن دائود ، الاخبار الطوال ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ص ٢٦٦

شیعی قیام

شیعی قیام درج ذیل ہیں : قیام توّابین اور قیام مختار، ان دو قیام کا مقام ومرکز عراق میں شہر کوفہ تھا اور جو فوج تشکیل پائی تھی وہ شیعیان امیرالمو منین  کی تھی سپاہ مختار میںشیعہ غیر عرب بھی کافی موجود تھے ۔

توابین کے قیام کی ماہیت میں کوئی ابہام نہیں ہے یہ قیام صحیح ہدف پر استوار تھا جس کا مقصد صرف خون خواہی امام حسین اور حضرت کی مدد نہ کرنے کے گناہ کو پاک کرنے  اور ان کے قاتلوں سے مقابلہ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا، . توابین کوفہ سے نکلنے کے بعد کربلا کی طرف امام حسین  کی قبر کی زیارت کے لئے گئے اور قیام سے پہلے اس طرح کہا:

 پروردگارا!ہم فرزند رسول ۖ کی مدد نہ کر سکے ہمارے گنا ہوں کو معاف فرما، ہماری توبہ کو قبول فرما ، امام حسین  کی روح اور ان کے سچّے ساتھیوں پر رحمت نازل کر، ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم اسی عقیدہ پر ہیں جس عقیدہ پر امام حسین  قتل ہوئے، پروردگارا!اگر ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا اور ہم پر لطف وکرم نہیں کیا تو ہم بد بخت ہو جائیں گے۔(١)

 مختار نے مسلم بن عقیل کے کوفہ میں داخل ہونے کے بعد ان کی مدد کی جس کی وجہ سے عبید اللہ بن زیادکے ذریعہ دستگیر ہوئے اور زندان میں ڈال د یئے گئے اور واقعہ عاشورہ کے بعداپنے بہنوئی عبداللہ بن عمر کے توسط سے آزاد ہوئے وہ ٦٤ھ میں کوفہ آئے اور اپنے قیام کو قیام توابین کے بعد شروع کیا اور یا لثارات الحسین  کے نعرہ کے 

 (١)ابن اثیر ،الکامل فی التاریخ ، ج ٤ ص ١٥٨۔١٨٦

ذریعہ تمام شیعوں کو جمع کیا وہ اس منصوبے اور حوصلہ کے ساتھ میدان عمل میں وارد ہوئے کہ امام حسین  کے قاتلوں کوان کے عمل کی سزادیں اور اس طرح سے ایک روز میں (٢٨٠) ظالموں کو قتل کیا اور فرار کرنے والوں کے گھروں کو ویران کیا، من جُملہ محمّد بن اشعث کے گھر کو خراب کیا اور اس کی باقیات (ملبہ و اسباب) سے علی  کے وفادار ساتھی حجر بن عدی کا گھر بنوایا جس کو معاویہ نے خراب کر دیا تھا۔ (١)

جناب مختار کے بارے میں اختلاف نظرہے بعض ان کو حقیقی شیعہ اور بعض انہیں جھوٹا جانتے ہیں، ابن داؤد نے رجال میں مختار کے بارے میں اس طرح کہا ہے:

 مختار ابو عبیدثقفی کا بیٹا ہے بعض علماء شیعہ نے ان کو کیسانیہ سے نسبت دی ہے اور اس بارے میں امام سجّاد  کا مختار کا ہدیہ رد کرنے کوبطور دلیل پیش کیا گیا ہے لیکن یہ اس کی رد پر دلیل نہیں ہو سکتی ،کیونکہ امام محمّد باقر نے ان کے بارے میں فرما یا : مختا

ر کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا ہے اور اس نے نہیں چاہا کہ ہمارا خون پامال ہو ،ہماری لڑکیوں کی شادی کرائی اور سختی کے موقع پر ہمارے درمیان مال تقسیم کیا ۔

 جس وقت مختار کا بیٹا ابو الحکم امام باقر   کے پاس آیا امام  نے اس کا کافی احترام کیا ابو الحکم نے اپنے باپ کے بارے میں معلوم کیا اور کہا :لوگ میرے باپ کے بارے میں کچھ باتیں کہتے ہیں لیکن آپ کی جو  بات ہو گی وہ صحیح  میرے لئے معیار ہوگی اس وقت امام  نے مختار کی تعریف کی اور فرمایا :

 \’\’  سُبحان اللہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میری ماں کا مہر اس مال میں سے تھا جو

 (١)مقتل الحسین ، منشورات المفید ، قم ، ج ٢ ص ٢٠٢

مختار نے میرے والد کو بھیجا تھا اور چند بار کہا: خدا تمہارے باپ پر رحمت نازل کرے اس نے ہمارے حق کو ضائع نہیں ہونے دیا ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارا خون پامال نہیں ہونے دیا \’\’۔

امام صادق نے بھی فرمایا : \’\’جب تک مختار نے امام حسین  کے قاتلوں کے سرقلم کر کے ہم تک نہیں بھیجااس وقت تک ہمارے خاندان کی عورتوں نے بالوں میں کنگھا نہیں کیا اور بالوں کو مہندی نہیں لگائی \’\’ ۔

روایت میں ہے جس وقت مختار نے عبید اللہ ابن زیاد ملعون کا سر امام سجّاد  کے پاس بھیجا امام  سجدہ میں گر پڑے اور مختار کے لئے دعائے خیر کی، جو روایتیں مختار کی سرزنش میں ہیں وہ مخالفین کی بنائی ہوئی روایتیں ہیں۔(١)

 مُختار کی کیسانیہ سے نسبت کے بارے میں یا فرقۂ کیسانیہ کی ایجادمیں، مختار کے کردار کے بارے میں آیةاللہ خوئی مختار کے دفاع اور کیسانیہ سے ان کی نسبت کی رد میں لکھتے ہیں:

بعض علماء اہل سنّت مختار کو مذہب کیسانیہ سے نسبت دیتے ہیں اور یہ بات قطعاً باطل ہے کیونکہ محمد حنفیہ خود مدعی امامت نہیں تھے کہ مختار لوگوں کو ان کی امامت کی دعوت دیتے مختار مُحمّد حنفیہ سے پہلے قتل ہو گئے اور محمّد حنفیہ زندہ تھے، اور مذہب کیسا نیہ محمّد حنفیہ کی موت کے بعد وجود میں آیا ہے لیکن یہ کہ مختار کو کیسانیہ کہتے تھے اس وجہ سے نہیں کہ ان کا  مذہب کیسانی ہے اور بالفرض اس لقب کو مان لیا جائے تو یہ وہ روایت ہے کہ امیرالمومنین  نے ان سے دو مرتبہ فرمایا:( یاکیس یا کیس) اسی کو صیغئہ تثنیہ میں کیسان کہنے لگے ۔ (٢)

(١)رجال ابن دائود ، منشورات الرضی ، قم ص ٢٧٧

(٢)آیة اللہ سید ابو القاسم خوئی   ،معجم رجال الحدیث، بیروت، ج ١٨، ص ١٠٢۔١٠٣

مروانیوں کی حکومت ( سخت دور)

جیسا کہ بیان کر چکے امام سجّاد  کے دور کا دوسرامرحلہ مروانی حکومت دور تھا بنی مروان نے عبداللہ بن زبیر کے قتل کے بعد ٧٣ ھ( ١) میں اپنی حکومت کومستحکم کر لیا تھا ، اس نے اور اس دور میں ظالم و جابرحجّاج بن یوسف کے وجود سے فائد ہ اُٹھایاوہ دشمن کو ختم کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی یہاں تک کہ کعبہ کو بھی مورد حملہ قرار دیا اس پر آگ کے گولے برسائے اور اس کو ویران کردیا اور بنی امیہ کے مخالفین کوچاہے وہ شیعہ ہو ںیا سُنّی جہاں کہیں بھی پایا فوراان کو قتل کردیا٨٠ ھ میںابن اشعث نے قیام کیا مگر اس قیام سے بھی حجاج کو کوئی نقصان نہیں پہونچا (٢) ٩٥ ھ تک حجاز اور عراق میں اس کی ظالم

(١)ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ،منشورات الشریف الرضی ، قم، ١٤١٤ھ ج ٢ ص ٢٦٧

(٢)٨٠ھ میں با وجود اس کے کہ حجاج ، عبد الرحمن بن اشعث سے خوش نہیں تھا مگر سیستان اور زابلستان کا حاکم بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ رتبیل کو کہ جس نے سیستان پر حملہ کیا تھا اسے باہر بھگا دے ، عبد الرحمن جب وہاںپہونچا تو حملہ آوروں کو ٹھکانے لگادیا شہر میں امن و امان قائم کیا اس کے بعد بھی چونکہ حجاج نے مطالبہ تھاکہ دشمن کا تعاقب کرے جسے عبد الرحمن اور اس کے فوجیوں نے حجاج کی چال سمجھا لہٰذا وہ دشمن سے لڑنے کے بجائے حجاج پر ہی حملہ کرنے کے لئے عراق روانہ ہو گیا خوزستان کے علاقہ میں حجاج اور عبد الرحمن میں جنگ ہوئی، پہلے تو حجاج کے سپاہیوں کو شکست ہوئی عبد الرحمن نے اپنے کو عراق پہنچا دیا اور کوفہ پر قابض ہو گیا بصرہ کے بہت سے لوگوں نے بھی اس کی مدد کی، حجاج نے عبد الملک سے مدد طلب کی، شام سے لشکر اس کی مدد کے لئے روانہ ہوا لشکر کے پہنچنے پر حجاج نے دوبارہ حملہ کیا یہ شدید جنگ( دیر الجماجم )کے نام سے مشہور ہے، بصرہ اور کوفہ کے لوگ یہاں تک کہ قاریان و حافظان قرآن جو حجاج کے دشمن تھے عبد الرحمن کی نصرت کی، عبد الرحمن کے پاس اتنی بڑی فوج تھی کہ خود (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )

 حکومت قائم رہی۔(١)

امام سجّاد  نے ایسے حالات میں زندگی گذاری اور دعائوں کے ذریعہ اسلامی معارف کو شیعوں تک منتقل کیا، ایسے وقت میںشیعہ یا تو فرار تھے یا زندان میں زندگی بسر کر رہے تھے یا حجاج کے ہا تھوں قتل ہورہے تھے یا تقیہ کرتے تھے اس بنا پر لو گو ں میں امام سجّاد سے نزدیک ہو نے کی جرأت نہیں تھی اورحضرت کے مددگار بہت کم تھے ، مرحوم علّا مہ مجلسی نقل کرتے ہیں: حجّاج بن یو سف نے سعید بن جبیر کو اس وجہ سے قتل کیا کہ اس کا ارتباط امام سجّاد  سے تھا ۔(٢)

البتہ اس زمانے میں شیعوں نے سختیوں کی وجہ سے مختلف اسلامی سر زمینوں کی

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ کا)عبد الملک کو خوف ہونے لگا اس نے لوگوں سے کہا : اگر لوگحجاج کو معزول کرنا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں لیکن عراق والوں نے اس کی سازش قبول نہ کی اور عبد الملک کو ہی معزول کر دیا، بڑی شدید جنگ ہوئی عبد الملک نے عبد الرحمن کے کچھ فوجیوں کو فریب دیا اورشب خون مار ا، ابن اشعث کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوئے اور رتبیل کے پاس پناہ حاصل کی، بعد میں رتبیل نے حجاج کے فریب اور لالچ میں آکر اسے قتل کر دیا اور سر کو حجاج کے پاس بھیجا ( مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت ، ١٤١٤ھ ق ، ج ٣ ص ١٤٨۔١٤٩، و شہیدی ، دکتر سید جعفر ، تاریخ اسلام تا پایان امویان ، مرکز نشر دانشگاہ تہران ، طبع ششم ، ١٣٦٥ھ ش، ص ١٨٥۔١٨٦

(١) مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، ص ١٨٧

(٢)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ، معروف بہ رجال کشی، موسسہ آل البیت ، لاحیاء التراث، قم ١٤٠٤ھ ج١ ص ٣٣٥

 طرف ہجرت کی جو تشیع کے پھیلنے کا سبب بنی، اسی زمانے میں کوفہ کے چند شیعہ قم کی طرف آئے اور یہا ں سکونت اختیار کر لی اور وہ تشیع کی ترویح کا سبب بنے۔(١)

امام محمد باقرکی امامت کا ابتدائی دور بھی حکومت امویان سے متصل تھا اس دور میں ہشّام بن عبد الملک حکومت کرتا تھاجو صاحب قدرت اور مغرور بادشاہ تھا، اس نے ا مام محمدباقر کو امام صادق کے ساتھ شام بلوایا اور ان کو اذیت وآزار دینے میں کسی قسم کی کو تاہی نہیں کی۔(٢)

اسی کے زمانے میں زید بن علی بن الحسین  نے قیام کیا اور شہید ہو گئے اگرچہ عمر بن عبد العزیز کے دور میں سختیوں میںبہت کمی آگئی تھی لیکن اس کی مدت خلافت بہت کم تھی وہ  دو سال اور کچھ مدت کے بعدسرّی طور پر(اس کو موت ایک معمہ رہی )  اس دنیا سے چلا گیا ، بنی امیہ اس قدر فشار اور سختیوں کے باوجود نور حق کو خاموش نہ کر سکے اور علی  ابن ابی طالب  کے فضائل ومناقب کومحو نہ کر سکے چونکہ یہ خدا کی مرضی تھی، ابن ابی الحدید کہتا ہے : \’\’اگر خدانے علی  میں سر(راز) قرار نہ دیا ہوتاتوایک حدیث بھی ان کی فضیلت و منقبت میں موجودنہ ہوتی\’\’اس لئے کہ حضرت  کے فضائل نقل کرنے والوں پر مروانیوں کی طرف سے بہت سختی تھی۔(٣)

(١)یاقوت حموی ، شہاب الدین ابی عبد اللہ ، معجم البلدان ، دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت طبع اول  ١٤١٧ھ ، ج ٧ ص ٨٨

(٢)طبری، محمد بن جریر بن رستم ، دلائل الامامہ منشورات المطبعة الحیدریہ، نجف ، ١٣٨٣ھ ص ١٠٥

(٣)محمد عبدہ ، شرح نہج البلا غہ، دار احیاء الکتب العربیہ، قاہرہ، ج ٤ ص ٧٣

عباسیوں کی دعوت کا آغاز اورشیعیت کا فروغ

سن  ١١١ھ سے عباسیو ں کی دعوت شروع ہو گئی(١)یہ دعوت ایک طرف تو اسلامی سر زمینوں میںتشیع کے پھیلنے کا سبب بنی تو دوسری طرف سے بنی امیہ کے مظالم سے نجات ملی جس کے نتیجہ میں شیعہ راحت کی سانس لینے لگے ،ائمہ معصومین علیہم السّلام نے اس زمانے میں شیعہ فقہ وکلام کی بنیاد ڈالی تشیّع کے لئے ایک دور کا آغاز ہوا ، کلّی طور پرامویوں کے زمانے میںفرزندان علی  اور فر زندان عبّاس کے درمیان دو گا نگی کا وجود نہیں تھا کوئی اختلاف ان کے درمیان نہیں تھا جیسا کہ سیّد محسن امین اس سلسلے میں کہتے ہیں: \’\’ابنائِ علی  اور بنی عباس، بنی امیہ کے زمانے میں ایک راستے پر تھے، لوگ اس بات کے معتقد تھے کہ بنی عباس، بنی امیہ سے زیادہ خلافت کے سزا وار ہیں اور ان کی مدد کرتے تھے کہ نبی عباس لوگ شیعیان آل محمد کے نام سے یاد کئے جاتے تھے اس زمانے میں فر زندان علی  و فرزندان عبّاس کے درمیان نظریات و مذہب کا اختلاف نہیں تھا لیکن جس وقت بنی عباس حکومت پر قابض ہوئے شیطان نے ان کے اور فرزندان علی  کے درمیان اختلاف پیدا کر دیا، انہوںنے فرزندان علی  پر کا فی ظلم وستم کیا،(٢)  اسی سبب سے داعیان فرزندان عبّاس لوگوں کو آل محمّد کی خشنو دی کی طرف دعوت دیتے تھے اور خاندان پیغمبرۖ کی مظلومیت بیان کرتے تھے ۔

ابو الفرج اصفہانی کہتا ہے: ولید بن یزید کے قتل اور بنی مروان کے درمیان

 (١) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، ج ٢ ص ٣١٩

(٢)سید محسن امین ، اعیان الشیعہ ،دار التعارف للمطبوعات ، بیروت ، ج ١ص ١٩

اختلاف کے بعد بنی ہاشم کے مبلّغین مختلف جگہوں پرتشریف لے گئے اورانہوں نیجس چیز کا سب سے پہلے اظہار کیا وہ علی  ابن ابی طالب  اور ان کے فرزندوں کی فضیلت تھی،وہ لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ بنی امیہ نے اولاد علی  کو کس طرح قتل کیا اور ان کو کس طرح دربدر کیا ہے،(١)جس کے نتیجہ میں اس دور میںشیعیت قابل ملاحظہ حد تک پھیلی یہا ں تک امام مہدی  سے مربوط احادیث مختلف مقامات پر لوگوں کے درمیان کافی تیزی سے منتشر ہوئی داعیان عبّاسی کی زیادہ تر فعالیت وسر گرمی کا مرکز خراسان تھا اس بنا پر وہاں شیعو ں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ۔

 یعقوبی نقل کرتا ہے : ١٢١ھ میںزید کی شہادت کے بعدشیعہ خراسان میں جوش وحرکت میں آگئے اور اپنی شیعیت کو ظاہرکرنے لگے بنی ہاشم کے بہت سے مبلّغین ان کے پاس جاتے تھے اور خاندان پیغمبر ۖ پر بنی امیہ کی طرف سے ہونے والے مظالم کو بیان کرتے تھے، خراسان کاکوئی شہر بھی ایسا نہیں تھا کہ جہاں ان مطالب کو بیان نہ کیا گیا ہواس بارے میں اچھے اچھے خواب دیکھے گئے ،جنگی واقعات کو درس کے طور پر بیان کیا جانے لگا ۔(٢)

مسعودی نے بھی اس طرح کے مطلب کو نقل کیا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خراسان میں کس طرح شیعیت پھیلی وہ لکھتا ہے کہ١٢٥ھمیں یحییٰ بن زید جو زنجان میں قتل ہوئے تو لوگوں نے اس سال پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کا نا م یحییٰ رکھا۔  )

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی ، ١٤١٦ھ ص ٢٠٧

(٢) ابن واضح ،  ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی ، ج ٢ ص٣٢٦

(٣) مروج الذھب منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ،  ١٤١٧ھ ج٣ ص ٢٣٦

اگر چہ خراسان میں عبّاسیوں کا زیادہ نفوذتھا چنانچہ ابو الفرج، عبداللہ بن محمد بن علی ابی طالب کے حالات زندگی میں کہتا ہے: خراسان کے شیعو ں نے گمان کیا کہ عبداللہ اپنے باپ محمّد حنفیہ کے وارث ہیںکہ جو امام تھے اور محمد بن علی بن عبداللہ بن عبّاس کو اپنا جانشین قرار دیا اورمحمدکے جانشین ابراہیم ہوئے اور وراثت کے ذریعہ امامت عباسیوں تک پہونچ گئی۔ (١)

یہی وجہ ہے کہ عباسیوں کی فوج میں اکثر خراسانی تھے اس بارے میں مقدسی کا کہنا ہے : جب خدا وند عالم نے بنی امیہ کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھا تو خراسان میں تشکیل پانے والے لشکر کو رات کی تاریکی میں ان پر مسلط کردیا حضرت مہدی  کے ظہور کے وقت بھی آپ کے لشکر میں خراسانیوں کے زیادہ ہونے کا احتمال ہے ۔(٢)

بہر حال اہل بیت پیغمبر ۖ کالوگوں کے درمیان ایک خاص مقام تھا چنانچہ عباسیوں کی کامیابی کے بعد شریک بن شیخ مہری نامی شخص نے بخارا میںخانوادہ پیغمبر پر عباسیوں کے ستم کے خلاف قیام کیا اور کہا :ہم نے ان کی بیعت اس لئے نہیں کی ہے کہ بغیر دلیل کے ستم کریں اورلوگوں کا خون بہائیں اور خلاف حق کام انجام دیںچنانچہ یہ ابومسلم کے ذریعہ قتل کردیا گیا ۔(٣)

(١)ابو الفرج اصفہانی ،مقا تل الطالبین ، منشورات ؛شریف الرضی ، قم ١٤١٦ ص ١٣٣

(٢)مقدسی ، احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ، ترجمہ دکتر علی نقی منزوی ، شرکت مولفان و مترجمان ایران ، ج٢ ص ٤٢٦۔٤٢٧

(٣) تاریخ یعقوبی، منشورات الرضی ، قم ١٤١٤ھ ج ٢ ص ٣٤٥

(ج) تشیع عصرامام باقر اور امام صادق علیہما السّلام میں

امام محمد باقر   ـ کی امامت کا دوسرا دور اور امام صادق علیہما السّلام کی امامت کا پہلا دور عباسیوںکی تبلیغ اور علویو ں کے قیام سے متصل ہے علویوں میں جیسے زید بن علی ، یحییٰ بن زید ، عبداللہ بن معاویہ کہ جوجعفر طیّار کے پوتے ہیں۔ (١)

عباسیوں میں رہبری کا دعوی کرنے والے ابو مسلم خراسانی کا خراسان میں قیام جو لوگوں کو بنی امیہ کے خلاف ابھاررہے تھے۔(٢)

دوسری طرف بنی امیہ آپس میںاپنے طرفداروںکے درمیان مشکلات واختلافات کاشکار تھے اس لئے کہ بنی امیہ کے طرفداروں میں مصریوں اور یمنیوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف تھا، یہ مشکلات اور گرفتاریا ں سبب واقع ہوئیں کہ بنی امیہ شیعوں سے غافل ہو گئے جس پر شیعیوں نے سکون کا سانس لیا اور شدید تقیہ کی حالت سے باہر آئے تاکہ اپنے رہبروں سے رابطہ برقرار کر یں اور دوبارہ منظم ہوں،یہ وہ دور تھا کہ جس میں لوگ امام باقر کی طرف متوجہ ہوئے اور ان نعمتوں سے بہرہ مند ہوئے کہ جس سے برسوں سے محروم تھے، حضرت  نے مکتب اہل بیت  کو زندہ رکھنے کے لئے قیام کیا اور لوگوں کی ہدایت کے لئے مسجد نبی ۖ میں درسی نششتیں اورجلسے تشکیل دیئے جو کہ لوگوں کے رجوع کرنے کا محل قرار پایا ان کی علمی اور فقہی مشکلات کواس طرح حل کرتے تھے کہ جو ان کے لئے حجت ہو ،قیس بن ربیع نقل کرتے ہیں کہ میں

(١) مقاتل الطالبین، منشورات الشریف الرضی ، قم ،ج٢ ص ٣٣٢

(٢)تاریخ یعقوبی، منشورات الشریف الرضی ، قم ،ج٢ ص ٣٣٣

نے ابواسحاق سے نعلین پرمسح کرنے کے متعلق سوال کیا اس نے کہا :میں بھی تمام لوگوں کی طرح نعلین پر مسح کرتا تھا یہاں تک کہ بنی ہاشم کے ایک شخص سے ملاقات کی کہ میں نے ہر گز اس کے مثل نہیں دیکھا تھا اوراس سے نعلین پر مسح کرنے کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے مجھے اس کام سے منع کیا اور فرمایا امیر المو منین  نعلین پر مسح نہیںکرتے تھے اس کے بعد میں نے بھی ایسا نہیں کیا ، قیس بن ربیع کہتے ہیں : یہ بات سننے کے بعد میں نے بھی نعلین پر مسح کرنا ترک کردیا۔

خوارج میں سے ایک شخص امام مُحمّد باقر کی خدمت میں آیا اور حضر ت کو مخاطب کر کے کہا: اے ابا جعفر  !کس کی عبادت کرتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا: خُدا کی عبادت کرتا ہوں،اس شخص نے کہا :کیا اس کو دیکھا ہے؟ فرمایا: ہاں لیکن دیکھنے والے اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے بلکہ بہ چشم قلب حقیقت ایمان سے اس کو دیکھا جا سکتا ہے، قیاس سے اس کی معرفت نہیں ہو سکتی حواس کے ذریعہ اس کو درک نہیں کیاجا سکتا،وہ لوگوں کی شبیہ نہیں ہے،وہ خارجی شخص امام  کی بارگا ہ سے یہ کہتا ہوا نکلا کہ خُدا خوب جانتا ہے کہ رسالت کو کہاں قرار دے ۔

عمر و بن عبید ،طاؤس یمانی ،حسن بصری ، ابن عمرکے غلام نافع ،علمی وفقہی مشکلات کے حل کے لئے امام  کی خدمت میں حاضر ہو تے تھے۔(١)

امام محمد باقر علیہ السلام جس وقت مکہ میں آتے تھے تو لو گ حلال و حرام کو جاننے کے لئے امام  کے پاس آتے تھے اور حضرت  کے پاس بیٹھنے کی فرصت کو غنیمت شمار کرتے تھے اور اپنے علم ودانش میں اضافہ کرتے تھے۔ سر زمین مکہ پر آپ کے حلقہ درس

(١)حیدر ، اسد،امام صادق و مذاہب اربع، دار الکتاب العربی ، طبع سوم ، ج١ ص ٤٥٢۔٤٥٣

میں طالب علموں کے علاوہ اس زمانہ کے دانشمند بھی شریک ہوا کرتے تھے۔ (١)

جس وقت ہشام بن عبد الملک حج کے لئے مکہ آیااور حضرت  کے حلقۂ درس کو دیکھا تو اس پر یہ بات گراں گذری اس نے ایک شخص کو امام  کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ امام سے یہ سوال کرے کہ لوگ محشر میں کیا کھائیں گے؟ امام نے جواب میں فرمایا: محشر میں درخت اور نہریں ہوںگی جس سے لوگ میوہ کھائیںگے اور نہر سے پانی پئیں گے یہاںتک کہ حساب و کتاب سے فارغ ہوجائیں،ہشام نے دوبارہ اس شخص کو بھیجا کہ وہ امام سے سوال کرے کہ کیامحشر میں لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ملے گی ؟ امام نے فرمایا:جہنم میں بھی لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ہوگی اور اللہ سے پانی اور تمام نعمتوں کی درخواست کریں گے۔

زُرارہ کا بیان ہے امام باقرکے ہمراہ کعبہ کے ایک طرف بیٹھا ہوا تھا امام روبقبلہ تھے اور فرمایا: کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کعب الاحبارکا کہنا ہے کہ کعبہ بیت المقدس کو ہر روز صبح کو سجدہ کرتا ہے، حضر ت نے فرمایا: تم کیا یہ کہتے ہو اس شخص نے کہا :کعب سچ کہتا ہے، ا مام  ناراض ہو گئے اور فرمایا: تم اور کعب دونوں جھو ٹ بو لتے ہو ۔(٢)

حضرت  کے محضراقدس میں بزرگ علمائ،فقہا اور محدّثین نے تربیت پائی ہے جیسے زُرارہ بن اعین کہ جن کے بارے میں امام صادق نے فرمایاہے: اگر زُرارہ نہ

(١)علامہ مجلسی ، محمد باقر ،بحار الانوار،مکتبة الاسلامیہ، ج ٢٦، ص ٣٥٥

(٢)حیدر ، اسد ، امام صادق و مذاھب اربعہ ، دار الکتاب العربی ، طبع سوم ، ج ١ ص ٤٥٢۔ ٤٥٣

 ہوتے تو میر ے والد کی احادیث کے ختم ہو جانے کا احتمال تھا۔ (١)

محمدبن مسلم نے امام محمد باقرسے تیس ہزار حدیثیں سنی تھیں (٢) ابو بصیر جن کے بارے میں امام صادق  ـنے فرمایا:اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آثار نبوت پرانے ہو جاتے یا قطع ہو جاتے(٣) اور دوسرے بزرگ جیسے یزید بن معاویہ عجلی ،جابر بن یزید ، حمران بن اعین ، ہشّام بن سالم حضر ت کے مکتب کے تربیت یافتہ تھے ، شیعہ علماء کے علاوہ بہت سے علمائے اہل سنّت بھی امام  کے شاگرد تھے اور حضرت سے روایتیں نقل کی ہیں، سبط ابن جوزی کہتا ہے :جعفر  اپنے باپ کے حوالے سے حدیث پیغمبر ۖ  نقل کرتے تھے، اسی طرح تا بعین کی کچھ تعداد نے جیسے عطا بن ابی رباح، سفیان ثوری ، مالک بن انس (مالکی فرقہ کے رہنما) شعبہ اور ابو ایوب سجستانی نے حضرت  کی طرف سے حدیثیں نقل کی ہیں(٤)خلاصہ یہ کہ حضرت کے مکتب سے علم فقہ وحدیث کے ہزاروںعلماء و ماہرین نے کسب فیض کیا اور ان کی حدیثیں تمام جگہ پھیلیں بزر گ محدّث جابر جعفی نے ستّر ہزارحدیثیں حضرت  سے نقل کی ہیں (٥) حضرت  نے ١١٤ھ  میں ساتویں ذی الحجہ کوشہادت پائی ۔ (٦)

(١)شیخ طوسی اختیارمعرفة الرجال،ج ١ ص ٣٤٥

(٢)شیخ طوسی ، اختیا ر معرفة الرجال ،ج ١ ص ٣٨٦

(٣)شیخ طوسی ، اختیا ر معرفة الرجال ،ج ١ ص٣٩٨

(٤) ابن جوزی ، تذکرة الخواص ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ١٣٧٦ھ ش، ١٤١٨ھ ص ٣١١

(٥) تاریخ الشیعہ ، ص ٢٢              

(٦)کلینی، اصول کافی ،دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، ١٣٦٣ھ ش، ج١ ص ٧٢

جعفریہ یونیورسٹی

امام صادق  کوایک مناسب سیاسی موقع فراہم  ہوا تھا کہ جس میں انہوںنے اپنے والد کی علمی تحریک کو آگے بڑھایا اور ایک عظیم یونیورسٹی کی داغ بیل ڈالی کہ جس کی آوازپورے آفاق میں گونج گئی ۔

شیخ مفید لکھتے ہیں : حضرت  سے اتنی مقدار میں علوم نقل ہوئے کہ زبان زدخلائق تھے امام کی آواز تمام جگہ پھیل گئی تھی، خاندان پیغمبر ۖ میں سے کسی فرد سے اتنی مقدار میں علوم نقل نہیں ہوئے ہیں ۔(١)

امیر علی حضرت  کے بارے میں لکھتے ہیں : علمی مباحث اور فلسفی مناظروں نے تمام مراکز اسلامی میں عمومیت پیدا کرلی تھی اور اس سلسلے میںجو رہنمائی اور ہدایت دی جاتی تھی وہ فقط اس یونیورسٹی کی مرہون منت تھی جو مدینہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کے زیر نظر تھی ،آپ امیر المومنین  کی اولاد میں سے تھے نیز ایک عظیم وبزرگ دانشور تھے کہ جن کی نظر دقیق اور فکر عمیق تھی اس دور میں تمام علوم کے متبحرتھے، در حقیقت اسلام میں دانشکدئہ شعبۂ معقولات کے بانی تھے۔ (٢)

 اس بنا پر علم و دانش کے چاہنے والے اور معارف محمدیۖ کے تشنہ لب افراد جوق در جوقمختلف اسلامی سر زمینوں سے امام  کی طرف آتے اور تمام علوم و حکمت کے

(١)شیخ مفید ، الارشاد ، ترجمہ ، محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی الاسلامیہ ،تہران ١٣٧٦ھ ش ، ص ٥٢٥        

(٢) امیر علی ، تاریخ عرب و اسلام،ترجمہ فخر داعی گیلانی ،انتشارات گنجینہ ، تہران ، ١٣٦٦ ھ ،ش، ص ٢١٣

 چشمہ سے بہرہ مند ہوتے تھے ، سید الاہل کہتے ہیں :

کوفہ، بصرہ، واسط اور حجاز کے ہر قبیلہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوںکو جعفر  بن محمد کی خدمت میں بھیجا عرب کے اکثر بزرگان اور فارسی دوست بالخصوص اہل قم حضر ت کے علم کدے سے شرفیاب ہوئے ہیں۔(١)

 مرحوم محقق، معتبر میں لکھتے ہیں:امام صادق کے زمانے میں اس قدر علوم منتشر ہوئے کہ عقلیں حیران ہیں، رجا ل کی ایک جماعت میں چار ہزار افراد نے حضرت  سے روایتیں نقل کی ہیں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ کافی لوگوںنے مختلف علوم میں مہارت پیدا کی ، یہا ں تک کہ حضر ت کے جوابات اورلوگوںکے سوالات سے چارسو کتابیںمعرض وجود میں آگئیںکہ جن کو اصولاربعہ ماة کا نام دیا گیا ۔ (٢)

شہید اوّل بھی کتاب ذکریٰ میں فرماتے ہیں: امام صادق علیہ السلام کے جوابات لکھنے والے عراق و حجاز اور خُراسان کے چار ہزار افراد تھے۔ (٣)

 حضرت کے مکتب کے برجستہ ترین دانشمند جو مختلف علوم منقول و معقول کے ماہر تھے جیسے ہشّام بن حکم ، محمد بن مسلم، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم ، مومن طاق مفضل بن عمر ،جابر بن حیا ن و غیرہ ۔

ان کی تصنیف جو اصول اربع مائةکے نام سے مشہور ہے جو کافی، من لا یحضر ہ الفقیہ،تہذیب،استبصار کی اساس و بنیاد ہے ۔

(١)حیدر ، اسد،الامام الصادق والمذاہب الاربعة، طبع سوم ، ١٤٠٣ ھ، ق

(٢)المعتبر ،طبع سنگی، ص ٤۔٥

(٣)ذکری،طبع سنگی ، ص ٦

امام صادق کے شاگر د صرف شیعہ ہی نہیں تھے بلکہ اہل سنّت کے بزرگ دانشوروں نے بھی حضرت کی شاگردی اختیارکی تھی، ابن حجر ہیثمی اہل سنّت کے مصنف اس بارے میں لکھتے ہیں: فقہ وحدیث کے بزرگ ترین پیشوا جیسے یحییٰ بن سعد ، ابن جریح مالک ، سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ، ابو حنیفہ، شعبی وایوب سجستانی وغیرہ نے حضرت سے حدیثیں نقل کی ہیں ۔(١)

 ابو حنیفہ حنفی فرقہ کے پیشوا کہتے ہیں : ایک مدت تک جعفر بن محمد کے پاس رفت و آمدکی، میں ان کوہمیشہ تین حالتوں میں سے کسی حالت میں ضرور دیکھتا تھا یا نماز میں مشغول ہو تے تھے یا روزہ دار ہواکرتے تھے یا تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہتے تھے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے بغیر وضو کے حدیث نقل کی ہو ،(٢)علم وعبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد  سے بر تر نہ آنکھوں نے دیکھا اور نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی کے بارے میں دل میںایسا تصور پیدا ہوا ۔(٣)

آپ کے درس میں صرف وہی لوگ شریک نہیں ہوئے کہ جنہوں نے بعد میں   مذاہب فقہی کی بنیا د رکھی بلکہ دور ودراز کے رہنے والے فلاسفرا ور فلسفہ کے طالب علم آپ کے درس میں حاضرہوتے تھے، انہوں نے اپنے امام  سے علوم حاصل کرنے کے بعداپنے وطن ایسی درسگاہیں تشکیل دیں کہ جس میں مسلمان ان کے گرد جمع ہوتے تھے

(١)الصواعق المحرقة ، مکتبة القاہرہ ، ١٣٨٥ھ ،ص ٢٠١

(٢)ابن حجر عسقلانی ، تہذیب ، دار الفکر ، بیروت ، طبع اول ، ١٤٠٤ھ ،ق ،ج ١ ص ٨٨

(٣)حیدر ، اسد ،الامام الصادق   و المذاھب الاربعہ،دار الکتب العربیہ ، بیروت، ج١ ص ٥٣

 اور یہ لوگ معارف اہل بیت سے لوگوں کو سیراب کرتے تھے اور تشیع کو فروغ دیتے تھے، جس وقت ابان بن تغلب مسجد بنیۖ میں تشریف لاتے تو لوگ اس ستون کو کہ جس سے پیغمبرۖ تکیہ لگا تے تھے ان کے لئے  خالی کردیتے تھے اور وہ لوگوں کے لئے حدیث نقل کرتے تھے، امام صادق  نے ان سے فرمایا: آپ مسجد نبوی میں بیٹھ کے فتویٰ دیجیے میں دوست رکھتا ہو ں کہ میرے شیعوں کے درمیان آپ جیسے شخص دیکھنے میں آئیں ۔

 ابان پہلے شخص ہیں جنہوں نے علوم قرآن کے بارے میں کتاب تالیف کی ہے اور علم حدیث میں بھی انہیں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ آپ مسجد نبوی ۖ میں تشریف فرما ہوتے اور لوگ آآکر آپ سے طرح طرح کے سوالات کرتے تھے اور مختلف جہت سے ان کے جوابات دیتے تھے مزید احادیث اہل بیت  کوبھی ان کے درمیان بیان کرتے تھے ،(١)

 ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے بارے میںلکھتے ہیں: ابان کے مثل افراد جو   تشیع سے متہم ہیں اگر ان کی حدیث رد ہو جائے تو کافی آثار نبویۖ ختم ہو جائیں گے ۔(٢)

 ابو خالد کابلی کا بیان ہے: ابو جعفر مومن طاق کو مسجد نبی ۖ میں بیٹھے ہوئے دیکھا مدینہ کے لوگوں نے ان کے اطراف میں ہجوم کر رکھا تھا، لوگ ان سے سوال کر رہے تھے، اور وہ جواب دے رہے تھے۔(٣)

(١)حیدر ، اسد، الامام الصادق   و المذاھب الاربعہ، ج١ ص ٥٥         

(٢)ذہبی ، شمس الدین محمد بن احمد ،میزان الاعتدال ، دار المعرفة، بیروت ،ج١ ص ٤

(٣)شیخ طوسی ،اختیار معرفة الرجال ، ج ٢ ص ٥٨١ 

شیعیت اس دور میں اس قدر پھیلی کہ بعض لوگوں نے اپنی اجتماعی حیثیت کے چکر میں اپنی طرف سے حدیث جعل کرنا شروع کردیا اور احادیثِ ائمہ طاہرین  کی  بیجاتاویل کرنے لگے نیزاپنے نفع میں روایات ائمہ  کی تفسیر کر نے لگے ،جیسا کہ امام صادق نے اپنے صحابی فیض ابن مختار سے اختلاف احادیث کے بارے میں فرمایا :وہ ہم سے حدیث اور اظہار محبت میں رضائے خُدا طلب نہیں کرتے بلکہ دنیا کے طالب ہیں اور ہر ایک اپنی ریاست کے چکر میں لگا ہوا ہے۔(١)

شیعہ عبّاسیو ں کے دور میں

شیعیت ١٣٢  ھ یعنی عباسیوں کے آغازسے غیبت صُغریٰ کے آخریعنی ٣٢١  ھ تک امویوں کے دور کی بہ نسبت زیادہ پھیلی، شیعہ دور و دراز کے علاقہ میں منتشر اوربکھرے ہوئے تھے جیسا کہ ہارون کے پاس امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شکایت کی جاتی تھی کہ دنیا کے مشرق ومغرب سے آپ کے پاس خُمس آتا ہے، (٢)جس وقت امام رضا  نیشا پورآئے  دو حافظان حدیث جن میں ابو زرعہ رازی اور محمد بن مسلم طوسی اور بے شما رطالبان علم حضرت کے ارد گرد جمع ہو گئے اور امام  سے خواہش ظاہرکی کہ اپنے چہرئہ انور کی زیارت کرائیں اس کے بعد مختلف طبقات کے لوگ جو ننگے پائوں کھڑے ہوئے تھے ان کی آنکھیں حضرت  کے جمال سے روشن ہوگئیں، حضرت  نے حدیث سلسلة الذہب ارشاد فرمائی بیس ہزار کاتب اور صاحبان قلم نے اس حدیث کو لکھا۔(٣)

 (١)شیخ طوسی ، اختیار معرفة الرجال ، ج ٢ ص٣٤٧

(٢) شیخ مفید ،الارشاد،ترجمہ محمد باقر ساعدی ، خراسانی ، کتاب فروشی اسلامیہ ، ١٣٧٦ھ، ص ٥٨١

(٣)شیخ صدوق ، عیون اخبار الرضا  ،طبع قم ، ١٣٧٧ ھ ق، ج٢ ص ١٣٥

اسی طرح امام رضا  نے ولی عہدی قبول کر نے کے بعد مامون سے کہ جو حضرت   سے بہت کچھ توقع رکھتاتھا،اس کے جواب میں  فرمایا: اس ولی عہد ی نے میری نعمتو ں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے جب میں مدینہ میں تھا تو میرالکھاہوا شرق وغرب میں اجر ا دہوتا تھا۔(١)

اسی طرح ابن داؤد جو فقہا ئے اہل سنّت میں سے تھا اور شیعوں کا سرسخت مخالف اور دشمن تھا اس کا اعتراف کر نا بھی اہمیت کا حامل ہے اس سے پہلے کہ معتصم عباسی  چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں امام جواد  کی رائے کو فقہا ئے اہل سنت کے مقابلہ میںقبول کرے ،ابن داؤد تنہائی میں اس کومشورہ دیتا ہے کہ کیوں اس شخص کی بات کو کہ آدھی امت جس کی امامت کی قائل ہے درباریوں، وزیروں ،کاتبوں اور تمام علما ئے مجلس کے سامنے ترجیح دیتے ہیں ،(٢)یہا ں تک کہ شیعیت حکومت بنی عباس کے فرمانروائوں اور حکومت کے لوگوں کے درمیان بھی پھیل گئی تھی جیسا کہ یحییٰ بن ہر ثمہ نقل کرتا ہے۔

 عباسی خلیفہ متوکل نے مجھے امام ہادی  کو بلانے کے لئے مدینہ بھیجا جس وقت میں حضرت کو لے کر اسحاق بن ابراہیم طاہری کے پاس بغداد پہنچا جو اس وقت بغداد کا حاکم تھاتو اس نے مجھ سے کہا: اے یحییٰ! یہ شخص رسول ۖ خُدا کا فرزند ہے ،تم متوکل کو بھی پہچانتے ہو اگر تم نے متوکل کو ان کے قتل کے لئے برانگیختہ کیا تو گویا تم نے رسولۖ خُدا سے دشمنی کی، میں نے کہا: میں نے اس سے نیکی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ،اسکے بعد میں 

( ١) علامہ مجلسی ،بحار الانوار،مکتبة الاسلامیہ ،تہران ، ١٣٥٨ھ ق ،ج٤٩،ص ١٥٥

 (٢) علّامہ مجلسی ،بحارر الانوار، ج٠ ٥، ص٦

سامرہ کی طرف روانہ ہو ا جس وقت میں وہاں پہونچا سب سے پہلے وصیف ترکی کے پاس گیا اس نے بھی مجھ سے کہا،(١) اگر اس شخص کے سر کا ایک با ل بھی کم ہو گیا تو تم میرے مقابلہ میں ہو۔(٢)

سیّد محسن امین نے اپنی کتاب کی پہلی جلد میں عباسی حکومت کے چند افراد کو شیعوں میں شمار کیا ہے منجملہ ان میں سے  ابو سلمہ خلال ہیں(٣) کہ جو خلافت عباسی کے پہلے وزیر تھے اور وزیر آل محمد  کے لقب سے مشہور تھے ، ابو بجیر اسدی بصری منصور کے زمانے میں بزرگ فرمانروائوں میںمحسوب ہوتے تھے، محمد بن اشعث ہارون رشیدکے وزیر تھے اور امام کاظم کی گرفتاری کے وقت اسی شخص سے منسوب داستان ہے جو اس کے شیعہ ہونے پر دلالت کرتی ہے، علی بن یقطین ہارون کے وزیروں میں سے تھے،اسی طرح یعقوب بن داؤد مہدی عباسی کے وزیر اور طاہر بن حسین خزاعی مامون کے دور میں خراسان کے حاکم اور بغداد کے فاتح تھے ،اسی وجہ سے حسن بن سہل نے ان کو ابی السرایا کی جنگ میں نہیں بھیجا۔ (٤)

اسی طرح بنی عباس کے دور میںمن جملہشیعہ قاضیوں کی فہرست یوں ہے:

(١)ترک کے سردار وں میںسے        

(٢) مسعودی، مروج الذھب ، منشورات موسسئہ الا علمی للمطبوعات، بیروت ، طبع اول ، ج ٤، ص ١٨٣

(٣) البتہ کچھ صاحبان نظر اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر ابو سلمہ کے شیعہ ہونے کی دلیل وہ خط ہے کہ جو امام صادق کی خدمت لکھا گیا تھاتویہ دلیل نہیں ہے کیو نکہ اس اقدام کو ایک سیاسی اقدام تصور کیاگیا ہے ، رجوع کیا جائے پیشوائی ،مہدی ، سیرئہ پیشوایان ،موسسئہ امام صادق ، طبع چہارم ، ١٣٧٨، ص٣٧٨

(٤)اعیان الشیعہ،دارالتعارف للمطبوعات ، بیروت ،ج ١ ص ١٩١

شریک بن عبداللہ نخعی کوفہ کے قاضی اورواقدی مشہور مورّخ جو مامون کے دور میں قاضی تھے ،(١)یہاں تک کہ تشیع ان مناطق میں کہ جہاںپر عباسیوں کارسوخ و نفوذ تھااس قدر پھیل گئی تھی کہ ان کو بڑا خطرہ لا حق ہونے لگاتھا جیسا کہ امام کاظم  کی تشییع جنازہ کے موقع پر سلیمان بن منصورکہ جوہارون کا، چچا تھااس نے شیعوں کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جوکافی تعداد میں جمع تھے آپ کے جنازہ میں پا برہنہ شرکت کی۔ (٢)

اسی طرح جس وقت امام جواد  شہید ہوئے وہ چاہتے تھے کہ ان کو مخفی طور پر دفن کردیں لیکن شیعہ باخبر ہو گئے اور بارہ ہزار افراد مسلح ہوکرہاتھوں میں تلوار لئے گھروں سے باہر آگئے اور عزت و احترام کے ساتھ حضرت کے جنازہ کی تشییع کی(٣) امام ہادی  کی شہادت کے موقع پر بھی شیعوں کی کثرت کی بنا پر اور بہت کافی گریہ و بکا کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ حضرت کو ان کے گھر میں دفن کردیں۔(٤)

 امام رضاعلیہ السلام کے دور کے بعدعباسی خُلفا نے فیصلہ کیا کہ ائمہ طاہرین  کے ساتھ اچھی رفتار سے پیش آئیں تاکہ شیعوں کے غصّہ کا سبب نہ بنیں، اسی بنا پرمام رضا کو ہارون کے دور میں نسبتاً آزادی حاصل تھی اور آپ نے شیعوں کے لئے علمی ا و رتبلیغی

(١) اعیان الشیعہ، دار التعارف ، للمطبوعات ،بیروت ،ص١٩٢۔١٩٣ ،( البتہ واقدی کامحققین کے درمیان تشیع کے بارے میںاختلاف ہے )       

(٢) امین، سید محسن،اعیان شیعہ ،دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت ،ج ١ ،ص ٢٩

(٣) حیدر، اسد، الامام الصادق والمذاہب ا لا ربعہ ، دار الکتاب عربی، بیروت ،طبع سوم، ج١ ، ص٢٢٦

(٤)ابن واضح، تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ،ج٢ ،ص٤٨٤

فعالیت وسر گرمیاںبھی انجام دیںنیز اپنی امامت کا کھل کر اعلان کیا اور تقیہ سے باہر آئے مزید دوسرے تمام فرق و مذاھب کے اصحاب سے بحث وگفتگو کی، اور ان میں سے بعض کوجواب سے مطمئن کیا جیسا کہ اشعری قمی نقل کرتا ہے: امام کاظم اور امام رضا  کے زمانے میں اہل سنّت فرقہ سے مرحبۂ اور زیدیوں کے چند افراد شیعہ ہو گئے اور ان دو اماموں  کی امامت کے قائل ہوگئے۔(١)

بعض خُلفائے عباسی کی کوشش یہ تھی کہ ائمہ طاہرین  کو اپنی نظارت میں رکھیں تاکہ ان پر کنٹرول کر سکیں، ان حضرات کو مدینہ سے لاتے وقت اس بات کی کوشش کی کہ ان کو شیعہ نشین علاقہ سے نہ گذارا جائے ،اسی وجہ سے امام رضا کو مامون کے دستور کے مطابق\’\’ بصرہ\’\’ ،\’\’اہواز\’\’ اور\’\’ فارس\’\’ کے راستے سے مرو لے گئے نہ کہ کوفہ،جبل   ا ور قم کے راستے سے کیونکہ یہ شیعوں کے علاقے تھے۔(٢)

 یعقوبی کے نقل کے مطابق جس وقت امام ہادی علیہ السلام کو متوکل عباسی کے دستور کے مطابق سامرّہ لے جایا گیا توجس وقت آپ بغداد کے نزدیک پہنچے تب اس بات سے باخبر ہوئے کہ کافی تعداد میں لوگ امام کے دیدار کے منتظر ہیں یہ لوگ وہیںٹھہر گئے اور رات کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور وہاں سے سامرہ گئے ،(٣)

عباسیوں کے دور میں شیعہ حضرات ،دور د ر از اور مختلف مناطق میں پراگندہ

(١)المقا لات و الفرق، مرکز انتشارات علمی و فرہنگی ، تہران ، ص٩٤

(٢)پیشوائی ، مھدی ،سیرئہ پیشوایان ، موسسئہ امام صادق ، طبع ھشتم، ١٣٧٨ھ ش ، ص ٤٧٨

(٣)ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ، ج ٢، ص ٥٠٣   

تھے ائمہ طاہرین  نے وکالت کے نظام کی داغ بیل ڈالی اور مختلف مناطق اور شہروں میں اپنے نائب اور وکیل معین کئے تاکہ ان کے اور شیعوں کے درمیان رابطہ قائم ہوسکے، یہ مطلب امام صادق کے زمانے سے شروع ہوا اس وقت خلفا کا کنٹرول ائمہ طاہرین پر جتنا شدید ہو تا گیا اتنی ہی شیعو ں کی دسترسی اماموں تک مشکل ہوتی گئی اور اسی اعتبار سے وکالت اور وکیلوں کے نظام کی اہمیت میں اضافہ ہوتاگیا ، کتاب تاریخ عصر غیبت میں آیا ہے کہ مخفی کمیٹیو ں کے پھیلنے اورتقویت پانے کا سب سے اہم ترین سبب وکلا ہیں،یہ نظام امام صادق کے زمانے سے شروع ہوا اور عسکریین کے دور میںاس میں بہت زیادہ ترقی اور وسعت ہوئی۔ (١)

استاد پیشوائی اس بارے میں لکھتے ہیں : شیعہ ائمہ جن بحرانی شرائط سے عباسیوں کے زمانے میں رو برو تھے وہ سبب بناکہ ان کی پیروی کرنے والوں کے درمیان رابطہ برقرار کرنے کے لئے نئے وسائل کی جستجوکی جائے اور ان کی بروئے کار لایا جائے اور یہ وسائل وکالت کے ارتباط اور نمائندوںسے رابطہ نیز وکیلوںکا تعین کرنا مختلف مناطق میں امام کے توسط سے تھا، وکلا اورنمائندوں کے معین کرنے کا مقصد مختلف مناطق سے خمس و زکوٰة،ہدایا اورنذورات کی رقم کا جمع کرنا تھا اور وکلاکے توسط سے لوگوں کی طرف سے ہونے والی فقہی مشکل اور عقیدتی سوالات کا امام  کو جواب دینا تھا چنانچہ اس طرح کی کمیٹیاں امام  کے مقاصدکوآگے بڑھانے میں کافی مؤثر رہیں ۔(٢)

(١) پور طبا طبائی ،سید مجید ، تاریخ عصر غیبت ، مرکز جہانی علوم اسلامی ، ص ٨٤

(٢)پیشوائی ، مہدی،تاریخ عصر غیبت ،ص ٥٧٣

وہ مناطق اور علاقے کہ جہاں امام  کے وکیل ا و ر نائب ہوا کرتے تھے وہ مندرجہ ذیل ہیں، کوفہ ، بصر ہ ، بغداد قم،و ا سط، اہواز ،ہمدان ،سیستان ، بست ،ری ، حجاز ، یمن ، مصر   ا و رمدائن ۔ (١)

شیعہ مذہب چوتھی صدی ہجری میں ،شرق وغرب اور اسلامی دنیا کے تمام مناطق میں اتنی  اوج اور بلندی پیدا کر چکا تھا کہ اس کے بعد اور اس سے پہلے ایسی وسعت دیکھنے میں نہیں آئی… مقدسی نے شیعہ نشین شہروں کی فہرست اس دور کے اسلامی سر زمین میں جو پیش کی ہے وہ اس مطلب کی طرف نشاندہی کرتی ہے ، ہم اس کی کتاب سے وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس میں اس نے ایک جگہ کہا ہے: یمن ، کرانہ ، مکہ اور صحار میں اکثر قاضی معتزلی اور شیعہ تھے۔(٢)

جزیرة العرب میں بھی کافی شیعیت پھیلی ہوئی تھی،(٣) اہل بصرہ کے ارد گردرہنے والوں کے بارے میں ملتا ہے کہ اکثر اہل بصرہ قدری ،شیعہ ، معتزلی یاپھر حنبلی تھے (٤)کوفہ کے لوگ بھی اس صدی میں کناسہ کے علاوہ سب شیعہ تھے ، (٥)

 (١)رجال نجاشی،دفتر نشر فرہنگ اسلامی ،وابستہ جامع مدر سین ،قم ،١٤٠٤ھ ص ٣٤٤، ٧٩٧، ٨٠٠، ٨٢٥،٨٤٧

(٢) مقدسی ، ابو عبداللہ محمد بن احمد ، احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم،ترجمہ منذوی، شرکت مؤلفان ، ومترجمان، ایران، ١٣٦١ ،ج ١ ،ص ١٣٦

(٣)احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ،ص ١٤٤

(٤)گزشتہ حوالہ ،ص١٧٥               

(٥)گزشتہ حوالہ ،ص ١٧٤

موصل کے علاقوں میں بھی کچھ شیعہ موجود تھے ،(١)اہل نابلس ، قدس اور عُمان میں بھی شیعوں کی اکثریت تھی ،(٢)قصبہ فسطاط او ر صند فا کے لوگ بھی شیعہ ہی تھے(٣) سندہ کے شہر ملتان میں بھی شیعہ تھے کہ جو اذان واقامت میں ہرفقرے کو دو بار پڑھتے ہیں۔(٤)

اہواز میں شیعہ اور سنی کے درمیان حالات کشیدہ رہے اورجنگ تک نوبت پہونچ گئی۔(٥)

مقریزی نے بھی حکومت آل بویہ اور مصری فاطمیوںکی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے رافضی مذہب مغرب کے شہروں میںشام ، دیار بکر ، کوفہ ، بصرہ ، بغداد ، پورے عراق، خراسان کے شہر، ماوراء النہراور  اسی طرح حجاز، یمن، بحرین، میں پھیل گیا ، ان کے اور اہل سنت کے درمیان اس قدر جنگیں ہوئیںکہ جن کو شمارنہیں کیا جا سکتا ، (٦) اس صدی میں بغداد میں بھی اکثر شیعہ ہی تھے جب کہ بغدادبنی عباس کی خلافت کا مرکز تھا اور جتنا ہو سکتا تھا روز عاشو را کھل کر آزادانہ طور پر عزاداری کرتے تھے ،جیسا کہ ابن کثیر کا بیان ہے شیعوں کی کثرت اورحکومت آل بویہ کی حمایت کی بنا پر اہل سنت ان کو اس

 (١)گزشتہ حوالہ ، ص ٢٠٠            

 (٢) گزشتہ حوالہ ، ص ٢٢٠

(٣) گزشتہ حوالہ ، ص٢٨٦     

(٤) گزشتہ حوالہ،ج٢ ،ص ٧٠٧

(٥) احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم ،ج٢ ،ص ٦٢٣

(٦)مقریزی ،تقی الدین ابن العباس احمد بن علی ، المواعظ و الاعتبار بذکر الخطط و الآثار \’\’المعروف با لخطط المقریزیہ \’\’دار الکتب العلمیہ ، بیروت ،طبع اوّل ، ١٤١٨،ج ٤ ،ص ١٩١

عزاداری سے نہیں روک سکے،(١) اس زمانے میں شیعوںکے لئے اتنا زیادہ راستہ ہموار ہو گیا تھا کہ اکثر اسلامی سرزمینیں شیعہ حاکموں کے زیر تسلط تھیں، ایران کے شمال میں، گیلان اور مازندران میں طبرستان کے علوی حکومت کرتے تھے ،مصر میں فاطمی ، یمن میں زیدی ، شمال عراق او ر سوریہ میں حمدانی اور ایران وعراق میں آل بویہ حکومت کرتے تھے ، البتہ بعض عباسی خلفا جیسے مھدی ، امین ، مامون، معتصم واثق اور منتصر ان کے زمانے میں شیعہ نسبتاً عملی طورسے آزاد تھے، ان خلفا کے زمانے میں پہلے کی بہ نسبت سخت گیری کم ہو گئی تھی ، یعقوبی کے نقل کے مطابق مھدی عباسی نے طالبیان او ر شیعوں کو کہ جو زندان میں تھے آزاد کر دیا تھا ۔(٢)

امین کی پنج سالہ دور حکومت میں بھی عیش ومستی اور اپنے بھائی مامون سے جنگ میں مشغول ہونے کی وجہ سے شیعوں پر سختی کم تھی مامون ، معتصم، واثق ، اور معتضدعباسی بھی شیعیت کی طرف مائل تھے ،لیکن متوکل خاندان پیغمبر ۖ اور شیعوں کا سخت ترین دشمن تھا اگر چہ اس کے دور میں شیعہ کنٹرول کے قابل نہیں تھے اس کے باو جود بھی و ہ زیارت قبر امام حسین علیہ السلا م سے روکتا تھا ۔( ٣)

ابن اثیرکا کہناہے: متوکل اپنے سے پہلے خلفا، جیسے مامون ، معتصم ، واثق جو علی ا و ر خاندان علی  سے محبت کا اظہار کرتے تھے ان سے دشمنی رکھتا تھا اور جن کا شمار دشمنان علی  میں

(١)البدایہ والنھایہ، بیروت ، ١٩٦٦، ج ١١، ص٢٤٣

(٢) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ، منشورات شریف الرضی ، قم ، ج ٢ ، ص ٤٠٤

(٣)طبری ،محمد بن جریر ،تاریخ طبری، دارالکتب العلمیة ،بیروت،ج٥ ص٣١٢

ہوتاتھا مثلاً شامی شاعر علی بن جہم ، عمر بن فرج ، ابو سمط اور مروان بن ابی حفصہ کی اولادیں کہ جو بنی امیہ کا دم بھرتی تھیں اسی طرح عبداللہ بن محمد بن داؤد ھاشمی کہ جو ناصبی اور دشمن علی تھا اس کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا(١) اس دور میں ناصبی اور بے دین شاعروں میں متوکل سے نزدیکی کی وجہ سے یہ جرأت پیدا ہوگئی تھی کہ خاندان پیغمبرۖ کے خلاف اشعار کہنے لگے، لیکن متوکل کے جانشین منتصر نے اس روش کے خلاف کام کیا اور شیعوں کو عملی آزادی دی اور قبر امام حسین  کی تعمیر کرائی اور زیارت کی ممانعت کو بر طرف کر دیا ۔(٢)

اس دور کے شاعر بحتری نے اس طرح کہا ہے:

انّ علیاًلاولی بکم

وازکی یداًعند کم من عمر (٣)

عمر کی بہ نسبت حضرت علی علیہ السلام زیادہ مقرب و مقدس ہیں ۔

عبّاسی خلفاء کی شیعہ رہبروں پرکڑی نظر

عباسی حکومت نے  ٣٢٩ھ تک کلی طور پر ایرانی وزرا ء اور افسروں نیزترک فوجیوں کی برتری کے دو دور گذارے ہیں، اگر چہ ترکوں کے دور میں خلافت کی باگ ڈور ضعیف رہی

 (١)الکامل فی التاریخ،دار صادر ، بیروت ، ١٤٠٢ھ ، ج ٧ ، ص٥٦

(٢) مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ،  ١٤١١ھ ، ج ٤ ، ص١٤٧

(٣)مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١١ھ،  ج ٤ ، ص١٤٧        

 اورزیادہ تر عباسی خلفاکے افسر اور نمائندے ترک تھے ،اور کلی طور پر حکومت کی سیاست شیعوں کے خلاف تھی عباسیوں کے دور میں تشیّع کے زیادہ پھیلنے کی بنا پر عباسی خُلفا کی سیاست یہ تھی کہ شیعہ قائدین پر سخت نظر رکھی جائے ،اگر چہ شیعوں کے سلسلہ میں خلفاکا رویہ ایک دوسرے سے مختلف تھا بعض ان میں سے جیسے منصور ،ہادی ،رشید ، متوکل ، مستبدحددرجہ سخت گیر اور خون بہانے والے تھے ان میں سے بعض دوسر ے جیسے مہدی عباسی ، مامون واثق اپنے پہلے خلفا کی طرح بہت زیادہ سخت گیر نہیں تھے اور ا ن کے زمانہ میں شیعہ کسی حد تک آرام کی سانس لے رہے تھے،جس وقت منصور عباسی نے محمد نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم کی طرف سے خطرہ کا احساس کیا تو اس نے ان کے باپ ، بھائیوں اور چچاؤں کو گرفتار کیا اور زندان میں ڈال دیا ۔(١)

منصور نے بارہا امام صادق  ـ کو دربار میں بلوایا اور حضرت کے قتل کا ارادہ کیا لیکن خُدا کاارادہ کچھ اور ہی تھا ،(٢)

 (١)مسعودی ، علی بن حسین ، مروج الذھب ،منشورات الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ج ٣ ،ص ٣٢٤

(٢)ابن جوزی نقل کرتا ہے جس وقت منصور مکہ کے ارادے سے مدینہ میں وارد ہو ا ،ربیع حاجب سے کہا  ،جعفر بن محمد کو حاضر کرو خُدا مجھ کو مار ڈالے اگر میں ان کو قتل نہ کروں، ربیع نے حضرت کے حاضر کرنے میں سُستی برتی ،منصور کے فشار کی وجہ سے ربیع نے حضرت کو حاضر کیا ،جس وقت امام  حاضر ہوئے اس وقت آپ نے آہستہ آہستہ اپنے لبوں کو حرکت دی،جب منصور کے نزدیک پہنچے اور آپ نے سلام کیا تو منصور نے کہا: اَے خُدا کے دشمن !نابود ہوجا، ہماری مملکت میں خلل واقع کرتا ہے خُدا مجھ کو مارڈالے اگر میں تم کو قتل نہ کروں ،امام صادق نے فرمایا :(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

 خلفائے عباسی کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ شیعہ رہنمائوں کو جو ان کے

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ کا )سُلیمان پیغمبرکوسلطنت ملی انہوں نے خدا کا شکرادا کیا ،ایوب نے مصیبت دیکھی اور صبر کیا ،یوسف مظلوم واقع ہوئے ظالموں کو بخش دیا ،تم ان کے جانشین ہوبہتر ہے کہ ان سے عبرت حاصل کرو ،منصور نے اپنے سر کو نیچے جھکالیا دوسری بار اپنے سر کو اُٹھا کر یہ کہا: آپ  ہمارے قرابت داروںاور رشتہ داروں میں سے ہیں اس کے بعد اس نے حضرت کو عزّت دی، معانقہ کیا اور آپ کو اپنے نزدیک بٹھاکر آپ سے بات کرنے میں مشغول ہوگیا ،پھر ربیع سے کہا : جتنی جلدی ہوسکے انعام واکرام اورجعفر بن محمد کے لباس کو لے آئواوران کو رخصت کرو،جس وقت حضرت باہر نکلے ربیع آپ  کے پیچھے پیچھے آیااور آپ سے کہا :میں تین دن سے آپ کی طرف سے دفاع اورمدار اکر رہاتھاآپ جب آئے تومیں نے دیکھا کہ آپ کے لب حرکت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے منصور آپ کے خلاف کچھ بھی نہ کرسکا چونکہ میں سُلطان کا کارندہ ہوں اِس دُعا کا محتاج ہوں چاہتاہوں کہ آپ مجھ کو یہ دُعا تعلیم فرمائیں حضرت نے فرمایا : یہ کہہ :

((اَللّھمّ احرِ سنی بِعینِکٔ الّتِی لَا تنام وَ اَکنِفنِی بکنَفِکٔ  الّذِی لَا یرامُ اَو یَضامُ وَ اغْفِر لِی بِقْدرَتِکَٔ عَلیَّ وَ لا اَھْلِکٔ وَ اَنْتَ رَجَائیِ اللّھُمَ اِنَّکَٔ اَکْبَرُ وَ اَجَلُّ مِمَّنْ اخَافُ وَ اَحذَرُ اَللّھُمَ بِکَٔ اَدفَعُ فِی نَحْرِ ہِ و َ اَ سْتعِیذ ُ بِکَٔ مِنْ شَرِ ہ))

مزید  عقد حضرت فاطمہ زہرا (س) اور آج کے زمانہ کی شادی

بارالٰہا! تیری آنکھوں کی قسم! کہ جوسوتی نہیںمیری حفاظت کر اورتجھے اس قدرت کا واسطہ ! کہ جو ہدف ِ بلا قرارنہیں پاتی مجھے اس چیز سے محفوظ رکھ اور میں ہلاک نہ کیاجائوں کیونکہ توہی میری اُمید کا سر چشمہ ہے ، بارالٰہا! وہ فراوان نعمتیںکہ جوتونے مجھے دی ہیں میں ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکااور تونے مجھ کو ان نعمتوں سے محروم نہیں کیابہت سی وہ بلائیںکہ جس میں تو نے مجھے مبتلا کیا اور میں نے کم صبری کا مظاہرہ کیا اس سے تومجھے نجات دے ،بار الٰہا! تیری قدرت کے دفاع اور پشت پناہی سے ہی اس کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہوں اور اس کے شر سے تجھ سے پناہ چاہتاہوں ۔

(تذکرة الخواص ، منشورات المطبعة الحیدریہ ومکتبتھا ، النجف الاشرف ،١٣٨٣ ھ ،ص ٣٤٤ )

  رقیب ہوا کرتے تھے ان کو راستے سے ہٹادیا جائے یہاں تک کہ منصور نے ابن مہاجر نام کے ایک شخص کو کچھ رقم دیکر مدینہ بھیجا تاکہ وہ عبداللہ ابن حسن اور امام صادق علیہ السّلام اور بعض دوسرے علویوںکے پاس جائے اور ان سے کہے کہ میں خراسان کے شیعوں کی طرف سے آیا ہوں اور اس رقم کو ان کے حوالہ کر کے ان سے دستخط لے لے، امام صادق نے اس کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ تم کو منصور نے بھیجا ہے اور اس سے تاکید کی کہ منصور سے جاکرکہنا :علویوں کو ابھی کچھ عرصہ سے مروانی حکومت سے نجات اور راحت ملی ہے اورانہیں ابھی اس کی ضرورت ہے، ان کے ساتھ حیلہ اور فریب نہ کر۔(١)

اسدحیدر کہتے ہیں: منصورنے اما م صا دق کو ختم کرنے کے لئے مختلف وسیلوں کا سہارا لیا اور شیعوں کی طرف سے ان کو خط لکھوایا اور ان کی طرف سے آپ کی خدمت میں کچھ مال بھیجا لیکن ان میںسے کسی ایک میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔(٢)

جس وقت منصور کوامام صادق علیہ السّلام کی  شہادت کی خبر ملی تو اس نے مدینہ کے حاکم محمد بن سلیمان کوخط لکھا کہ اگر جعفر  بن محمد  نے کسی معین شخص کو اپنا وصی قرار دیا ہے تو اس کو پکڑ لیا جائے اور اس کی گر دن اُڑادی جائے، تو مدینہ کے حاکم نے اس کے جواب میں لکھا : جعفر  بن محمد  نے ان پانچ افراد کو اپنا وصی قرار دیا ہے ، ابو جعفر منصور ،محمد بن سلیمان عبداللہ ، موسیٰ اور حمیدہ ،اس وقت منصور نے کہا:تب ان کو قتل نہیں کیا جاسکتا ،(٣)

(١) ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب  ،موسسئہ انتشارات علامہ، قم ، (بی تاج ٤ ص ٢٢٠

 (٢)الامام الصادق و المذاھب الاربعہ،دار الکتاب العربی ، بیروت ، طبع سوم ، ١٤٠٣ھ ج١، ص ٤٦

(٣) طبرسی ، ابو علی فضل بن حسین ، اعلام الوریٰ موسسة احیا ء التراث ، قم ،  ١٤١٧ ج ٢ ،ص ١٣

مہدی عباسی اپنے باپ کی طرح شیعو ں اور علویوں کے لئے سخت گیر نہیں تھا ۔

یعقو بی نقل کرتا ہے: مہدی جب خلیفہ ہوا تواس نے دستور دیا جتنے بھی علوی زندان میں ہیں ان کو آزاد کردیا جائے ،(١)اس وجہ سے اس کے زمانے میں کوئی بھی علوی قیام وجود میں نہیں آیا ، ابوالفرج اصفہانی نے فقط دو کا ذکر کیا ہے کہ جو اس کے زمانے میں مارے گئے ایک علی عبّاس حسنی کہ جن کو زہر کے ذریعہ قتل کیا گیا دوسرے عیسیٰ بن زیدکہ جن کی نا معلوم طریقہ سے موت واقع ہوئی وہ منصور کے زمانے سے پوشیدہ طور پر زندگی بسر کررہے تھے۔(٢)

ہادی عباسی کے زمانے میں علویوں اور شیعوں کے بڑے قائدین پر شدید فشار تھا جیسا کہ یعقوبی نے لکھا ہے:ہادی نے شیعوں اور طالبیوں پر بہت سختی کر رکھی تھی اور ان کو بہت زیادہ ڈرا رکھا تھا اور وہ وظائف او رحقوق کہ جو مہدی نے اپنے زمانے میں ان کے لئے مقرر کئے تھے ان کو قطع کر دیا اور شہروں کے حاکم ا و ر فرمانروائوں کو یہ لکھ بھیجا کہ طالبیوں کا تعاقب کریں اور ان کو گرفتار کر لیں ، (٣)  اس غلط رویے کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے حسین بن علی کہ جو سادات حسنی سے تعلق رکھتے تھے( شہید فخ ) نے قیام کیااور اس جنگ میں حسین کے علاوہ بہت سے علوی قتل ہوئے۔ (٤)

(١) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، منشورات شریف الرضی ، قم ،  ١٤١٤  ھ ، ج ٢ ،ص ٣٩٤

(٢) ابو الفرج ،اصفہانی ، مقاتل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ، قم ،  ١٤١٦  ھ ،ص ٣٤٢ ۔ ٣٦١

 (٣) ابن واضح، تاریخ یعقوبی ،ص٤٠٤

(٤)ابو الفرج ،اصفہانی ،مقاتل الطالبین ، منشورات شریف الرضی ، قم ،  ١٤١٦ ھ ،ص٣٦٦

یہ جنگ امام کاظم علیہ السلام پرشدید فشارکا باعث بنی ،ہادی عباسی نے حضرت  کوڈرایا اور اس طرح سے کہا :خُدا کی قسم حسین (شہید فخ ) نے موسیٰ بن جعفر  کے دستور کی بنا پر میر ے مقابل قیام کیا ہے اوروہ اس نے ان کے تابع اور پیروہیں کیوں کہ اس خاندان کا امام او ر پیشوا موسیٰ بن جعفر  کے سوا کوئی اورنہیں ہے، خُدا مجھے موت دیدے اگر میں ان کو زندہ چھوڑدوں،(١) لیکن وہ اپنی موت کا وقت قریب آنے سے اپنے ارادہ کو نافذ نہ کر سکا ۔

دوسر ی صدی ہجری میں منصور کے بعد ہارون رشید علویوں اور شیعہ قائدین کے لئے سخت تر ین خلیفہ تھا ،ہارون علویوں کے ساتھ بے رحمانہ رفتار رکھتا تھا اس نے یحییٰ بن عبداللہ محمد نفس زکیہ کے بھائی کو امان دینے کے بعد بے رحمانہ طریقہ سے زندان میں ڈالا اور قتل کر وا د یا ۔(٢)

اسی طرح ایک داستان عیون اخبار الرضا میں ذکر ہوئی ہے جو ہارون رشید کی بے رحمی کی حکایت کرتی ہے، حمید بن قحطبہ طائی طوسی نقل کرتا ہے : ہارون نے ایک شب مجھ کو بلوایا اور حکم دیا کہ اس تلوار کو پکڑو اور اس خادم کے دستور پر عمل کرو خادم مجھے ایک گھر کے پاس لایا جس کا دروازہ بند تھا ، اس نے دروازہ کو کھولا اس گھر میں تین کمرے اور ایک کنواں تھا اس نے پہلے کمرہ کو کھولا او ر اس میں سے بیس سیّدوں کو باہرنکا لا جن کے بال بلند اور گھنگھریلے تھے ،ان کے درمیان بوڑھے اور جوان دکھائی دے رہے

   (١) علّامہ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار،ج٤٨، ص١٥١          

(٢) ابو الفرج اصفہانی ، مقا تل الطالبین ،منشورات الشریف الرضی ، قم ،  ١٤١٦   ھ ، ص ٣٨١ ۔ ٤٠٤

تھے ان سب کو  زنجیر وں میں جکڑا گیا تھا ہارون کے نوکر نے مجھ سے کہا: امیر المومنین کا دستور ہے کہ ان سب کو قتل کردو یہ سب اولاد علی  ا و راولاد فاطمہ ۖ سے ہیں ، میں ایک کے بعد دوسرے کو قتل کرتا گیا اور نو کر ان کے بدن کو سروں کے بل کنویں میں ڈالتا رہا ،اس کے بعد اس نے دوسر ے کمرہ کو کھولا اس کمرہ میں بھی بیس افراد اولاد علی  او راولاد فاطمہ  میں سے تھے میں نے ان کو بھی پہلے افراد کی طرح ٹھکانے لگادیا،اس کے بعد تیسرے کمرہ کو کھولا اس میں دوسرے بیس افراد اہل سادات تھے میں نے ان کو بھی پہلے والے چالیس افراد کے ساتھ ملحق کردیا ، صرف ایک بوڑھا شخص باقی رہ گیا تھا وہ میری طرف متوجہ ہوا اور اس نے مجھ سے کہا: اے منحوس آدمی! خُدا تجھے نابود کرے روز قیامت ہمارے جد رسول ۖ خُدا کے سامنے کیا عذر پیش کرے گا اس وقت میرے ہاتھ کانپنے لگے تو نوکر نے غضبناک آنکھوں سے مجھے دیکھا اور دھمکی دی تو میں نے بوڑھے آدمی کوبھی قتل کردیا اور نوکر نے اس کا بدن بھی کنویں میں ڈال دیا ۔(١)

آخر کا ر ہارون رشید نے امام کاظم علیہ السلام کو باوجود اس کے کہ وہ ان کے مقام و مرتبہ کاقائل تھا گرفتار کیا اور زندان مین ڈال دیا اور آ خر میں ز ہر دے کر آپ کو شہید کردیا۔ (٢)

امام کاظم علیہ السّلام کی شہادت کے بعد ہارون رشید نے اپنے سرداروں میں سے

(١) صدوق ، عیون اخبار الرضا ، دار العلم ، قم ، طبع ١٣٧٧  ھ ق ، ص ١٠٩

(٢)طبرسی ، ابو علی فضل بن حسین، اعلام الوریٰ ، موسسئہ آل البیت  لا حیاء التراث ، قم ، ١٤١٧ ، ھ ج٢، ص ٣٤         

 ایک جلودی نامی شخص کو مدینہ بھیجا تاکہ آل ابی طالب  کے گھروں پر حملہ کرے، اورعورتوں کے لباس لوٹ لے ہر عورت کے لئے صرف ایک لباس چھوڑدے امام رضادروازے پر کھڑے ہوگئے اور آپ نے عورتوں کو حکم دیا کہ تم اپنے اپنے لباس ان کے حوالے کر دو۔ (١)

مامون ،عباسی خلفا میں سب سے زیادہ سیاست مدارتھا کہ جس نے شیعہ اماموںاور رہبروں پر پابندی کے لئے ایک نئی روش اختیار تاکہ ائمہ اطہار کو زیر نظر رکھ سکے، مامون کے مہم ترین انگیزوں میں سے ایک انگیزہ امام رضا کی ولی عہدی اسی مقصد کے لئے تھی  جیسا کہ مامون نے اِس سیاست کو دوسری بار امام جواد  کے لئے بھی انجام دیا اور اپنی بیٹی کی شادی آپ کے ساتھ کردی تاکہ مدینہ میں آپ کی فعالیت وسر گرمی پر نظر رکھ سکے مامون کے بعد والے خُلفانے بھی اس روش کو اختیار کیا اور ہمیشہ ائمہ معصومین علیہم السلام حکومت کے جبر سے مرکز خلافت میں زندگی بسر کرتے رہے یہاں تک کہ دسویں اور گیارہویںامام  سامرہ میں زندگی گذارنے کی وجہ سے جو ایک فوجی شہر تھا عسکریین کے نام سے مشہور ہو گئے۔

عباسیوں کے زمانے میں شیعوں کی کثرت کے ا سباب

شیعیت عباسیوں کے دور میں روز بروز بڑھتی گئی اس مسئلہ کے کچھ عوامل واسباب ہیں کہ ان میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں:

(١) امین، سید محسن ،ص٢٩

 (١)ہاشمی اور علوی بنی امیہ کے زمانے میں:

بنی امیہ کے دور میں ہاشمی چاہے علوی ہوں یا عباسی متحد تھے اور ہشام کے زمانے سے عباسیوں کی تبلیغ شروع ہوگئی تھی وہ زید اور ان کے فرزند یحییٰ کے قیام کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے تھے انہوں نے تشیع کی بنیاد پر اپنے کام کا آغاز کر دیا تھا جیساکہ ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے :

 جس وقت اموی خلیفہ ولید بن یزید قتل ہوااور مروانیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا تو بنی ہاشم کے مبلغین مختلف علاقے میں ہجرت کر گئے اور سب سے پہلے جس چیز کا اظہار کیا وہ حضرت علی کی افضلیت اور ان کے فرزندوں کی مظلومیت تھی ۔

منصور عباسی جو حدیث غدیر کے راویوں میں سے ایک تھا(١)جس وقت عباسی سپاہیوںنے علویوں کے مقابلہ میں ان کی سیاست کو دیکھا تواس کو قبول نہیں کیا اوران کا عباسیوں کے ساتھ اختلاف پیدا ہوگیا، ابو سلمہ خلال جو عراق میں عباسیوںکی جانب لوگوں کو دعوت دینے والا تھا۔(٢)

 

مزید  منافقين سے مقابلہ كرنے كي راہ و روش

علویوں کی طرف میلان کی وجہ سے عباسیوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا(٣)اگر چہ یہ شخص عقیدہ کے اعتبار سے شیعہ نہیں تھا مگر خاندان پیغمبر ۖ سے جواس کو لگائو تھا اس سے

(١) ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین، منشوارات شریف رضی، قم  ١٤١٦ھ ص ٢٠٧

(٢) خطیب بغدادی،تاریخ بغداد،دارالکتب العلمیہ بیروت طبع اول ١٤١٧ھ ج١٢،ص ٣٤٠

(٣) ابراہیم کی موت کے بعد ابو سلمہ( خلال کہ جو عراقیوںکو عباسیوں کی جانب سے دعوت دینے والا تھااور بعد میں سفاح کا وزیر بھی بنا) عباسیوں سے منصرف ہو گیا اور سادات(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )

 انکار نہیں کیا جا سکتا، خاص کرقبیلۂ حمدان سے اور کوفہ کا رہنے والا تھا۔(١)

 (بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ کا) علوی میں سے جعفر بن محمد الصادق  ، عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی  اور عمرالاشرف بن زیدالعابدین کے پاس خط لکھا اور اپنے نامہ بر سے کہا: سب سے پہلے جعفر بن محمد  کے پاس جانا اگر وہ قبول کرلیں تو بقیہ دونوں خطوط کے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر وہ قبول نہ کریں تو عبد اللہ محض کے پاس جانا اور اگر وہ بھی قبول نہ کریں تب عمرالاشرف کے پاس جانا ، نامہ بر سب سے پہلے مام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا ، نامہ دیا امام نے فرمایا : ابو سلمہ دوسروں کا محب اور چاہنے والاہے مجھے اس سے کیا کام ، نامہ بر نے کہا: خط تو پڑھ لیجیے امام نے خادم سے چراغ منگوایا اور خط کو جلا دیا ، نامہ بر نے کہا: جواب نہیں دیجیے گا؟ امام نے فرمایا : جواب یہی ہے جو تم نے دیکھا ہے ، ابو سلمہ کا نمایندہ عبد اللہ بن حسن کے پاس گیا اور خط دیا عبد اللہ نے جیسے ہی خط پڑھا خط کو بوسہ دیا فوراً امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یہ ہمارے چاہنے والے شیعہ ابو سلمہ کا خط ہے ، خراسان میںمجھے خلافت کی دعوت دی ہے امام نے فرمایا :خراسان کے لوگ کب سے تمہارے چاہنے والے ہو گئے ہیں کیا ابو مسلم کو تم نے ان کی جانب روانہ کیا ہے ؟کیا تم ان میں سے کسی کو پہچانتے ہو؟ تم نہ انہیں جانتے ہو اور نہ وہ تمہیں جانتے ہیں تو پھر وہ کیسے تمہارے چاہنے والے ہیں ؟ !عبد اللہ نے کہا :آپ کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ آپ ان ساری باتوں سے واقف ہیں ، امام نے فرمایا :خدا جانتا ہے میں ہر مسلمان کی بھلائی چاہتا ہوں تمہاری بھلائی کیوں نہ چاہوں ، اے عبد اللہ! ان باطل آرزوئوں کو چھوڑ دو اور اس بات کو جان لو! کہ یہ حکومت بنی عباس کی ہے ایسا ہی خط میرے پاس بھی آچکا ہے، عبد اللہ وہاں سے ناراض ہو کر واپس آگئے عمر بن زیدالعابدین نے بھی ابو سلمہ کے خط کو رد کر دیا اور کہا: میں خط بھیجنے والے کو نہیں جانتا کہ جواب دوں

 ابن طقطقا ، الفخری ، صادر بیروت ١٣٦٨ھ ص ١٥٤، اور مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذہب ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ج ٤ ، ص ٢٨٠

(١) امین سید محسن ، اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبو عات ، بیروت ، ج١  ،ص ١٩٠

قحطانی قبائل کے درمیان قبیلۂ حمدان تشیع میں سب سے آگے تھا چنانچہ سید محسن امین نے اس کو وزراء شیعہ میں شمار کیا ہے،(١)حتیٰ شروع میںخود عباسیوں نے بھی ذریت پیغمبرۖ کی محبت سے انکار نہیں کیا ہے جیسا کہ لکھا ہے :جس وقت بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد کا سر ابوالعباس سفاح کے سامنے لایا گیا تو وہ طولانی سجدہ بجالایا اور اس نے سر کو اٹھا کر کہا: حمد اس خدا کی جس نے مجھے تیرے اوپر کامیابی عطا کی، اب مجھے اس بات کاغم نہیں ہے کہ میں مر جائوں کیونکہ میں نے حسین اوران کے بھائی اور دوستوں کے مقابلہ میں بنی امیہ کے دو سوافراد کو قتل کردیا، اپنے چچا کے بیٹے زید بن علی کے بدلے میں ہشام کی ہڈیوں کو   جلا دیااور اپنے بھائی ابراہیم کے بدلے میں مروان کو قتل کردیا۔(٢)

 جب عباسیوں کی حکومت مضبوط و مستحکم ہوگئی توان کے نیز خاندان پیغمبرۖ اور شیعوں کے درمیان فاصلہ ہوگیا،منصور عباسی کے زمانے سے عباسیوں نے پیغمبرۖ کی ذریت کے ساتھ بنی امیہ کی روش اختیا ر کی، بلکہ خاندان پیغمبرۖ سے دشمنی میں بنی امیہ سے بھی آگے بڑھ گئے۔

(٢)بنی امیہ کا خاتمہ اور عباسیوں کا آغاز

اموی دور حکومت کے ختم ہونے اور عباسیوں کی حکومت آنے کے بعداور ان کے

(١)امین سید محسن ، اعیان الشیعہ،دار التعارف للمطبو عات ، بیروت ، ج١  ،ص ١٩٠

(٢)مسعودی علی بن حسین ،مروج الذھب، ص ٣٨٣۔٢٨٤

 درمیان جنگ و جدال کی وجہ سے امام باقر و امام صادق کو فرصت مل گئی انہوں نے  تشیع کے مبانی کوپہچنوانے میںغیر معمولی فعالیت وسر گرمی انجام دیں ،خاص طور پر امام صادق نے مختلف شعبوں اور مختلف علوم میں بہت سے شاگردوں کی تر بیت کی ممتاز دانشور جیسے ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ،ابان بن تغلب،ہشام بن سالم مومن طاق ، مفضل بن عمر، جابر بن حیان وغیرہ نے حضرت کے محضر میں تر بیت پائی تھی ،شیخ مفیدکے قول کے مطابق ان کے موثقین (معتمدین )کی تعداد چار ہزار تھی،(١)مختلف اسلامی سر زمین کے لوگ امام کے پاس آتے تھے اور امام سے فیض حاصل کرتے تھے اور اپنے شبہات کو برطرف کرتے تھے ،حضرت کے شاگرد مختلف مناطق اور شہروںمیں پھیلے ہوئے تھے، فطری بات ہے کہ یہ لوگ مختلف مناطق میں تشیع کے پھیلانے کا سبب بنے ۔

 (٣)علویوں کی ہجرت

عباسیوں کے دور میںتشیع کے پھیلنے کے سلسلہ میں ،سادات اور علویوں کا مختلف مقامات پر ہجرت کرجانا بھی ایک اہم سبب بنا ،ان میں اکثر تشیع نظریات کے حامل تھے اگر چہ ان میں سے کچھ زیدی مسلک کی طرف چلے گئے تھے یہاں تک کہ بعض منابع کے نقل کے مطابق  سادات کے درمیان ناصبی بھی موجود تھے۔(٢)

یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سادات میں اکثر شیعہ تھے اورشیعہ مخالف

(١)شیخ مفید ،الارشاد ،ترجمہ محمد ساعدی خراسانی، کتاب فروشی اسلامیہ ،١٣٦٧ھ ش ،ص ٥٢٥

(٢)ابن عنبہ، عمدة الطالب، مطبعةالحیدریہ نجف١٩٦١ص٧١،٢٢٠۔٢٥٣

 حکومت کے ذریعہ ان پرجو مصیبتیںپڑیںان کی وجہ بھی واضح ہے،اکثراسلامی سرزمینوںمیںسادات تھے، ماوراء النہر اور ہندوستان سے لے کر افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے اگر چہ یہ ہجرت حجاج کے زمانے سے شروع ہوگئی تھی عباسیوں کے زما نے میں علویوں کی طرف سے جو قیام ہواان میںسے زیادہ تر میںشکست ہوئی اور بہت نقصان ہوا ، شمال ایران، گیلان ،مازندران نیز خراسان کے پہاڑی اور دور افتادہ علاقہ علویوں کے لئے امن کی جگہ شمار ہوتے تھے ،سب سے پہلی بار ہارون رشید کے زمانے میں یحییٰ بن عبد اللہ حسنی مازندران کی طرف گئے کہ جو اس زمانے میں طبرستان کے نام سے مشہور تھا ،جب انہوںنے قدرت حاصل کرلی اور ان کے کام میں کافی ترقی پیدا ہوگئی توہارون نے اپنے وزیر فضل بن یحییٰ کے ذریعہ امان نامہ لکھ کر صلح کے لئے وادار کیا۔(١)

اس کے بعدوہاں کافی تعداد میں علوی آباد ہوگئے اور روز بروز شیعیت کو فروغ ملتا گیا اور وہاںکے لوگوں نے پہلی بار علویوں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اورتیسری صدی ہجری کے دوسرے حصہ میں علویوں کی حکومت طبرستان میں حسن بن زید علوی کے ذریعہ تشکیل پائی اس زمانے میں سادات کے لئے یہ جگہ مناسب سمجھی جاتی تھی، جیسا کہ ابن اسفند یار کا بیان ہے کہ اس موقع پر درخت کے پتوں کے مانند علوی سادات اور بنی ہاشم حجازنیز اطراف عراق وشام سے ان کی خدمت میں جمع ہوگئے سبھی کو عزت و شرف سے

(١)ابوالفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم ، پہلی اور دوسری طبع،١٤١٦، ١٣٧٤، ص٣٨٩،٣٩٥

بہت بہت نوازااور ایساہوگیا تھاکہ جب وہ کہیں جاناچاہتا تھا تین سو شمشیر بکف علوی اس کے ارد گرد صف بستہ ہوتے تھے۔(١)

جس وقت امام رضا مامون کے ذریعہ ولایت عہدی کے منصب پر پہنچے، حضرت کے بھائی اور ان کے قریبی افرادایران کی طرف روانہ ہوئے جیسا کہ مرعشی نے لکھا ہے: سادات نے ولایت کی آواز اور اس عہد نامہ پر کہ جو مامون کی طرف سے آنحضرت کی امامت کا پروانہ تھا اس طرف رخ کیاآنحضرت کے اکیس دوسرے بھائی تھے یہ تمام بھائی اور چچا زاد بھائی حسنی اور حسینی سادات میں سے تھے جہوںنے ری اور عراق میں حکومت کی ، جب سادات نے یہ سنا کہ مامون نے حضرت امام رضا سے غداری کی ہے تو انہو ںنے کوہستان دیلمستان اور طبرستان میں جاکر پناہ لی اور بعض لوگ وہیں شہید ہوگئے ، ان کی قبریں اور مزار مشہور ہیں،جیسیاہل اصفہان مازندران کہ جنہوںنے شروع میں اسلام قبول کیا تھا وہ سب کے سب شیعہ تھے اور اولاد رسول ۖ سے حُسن عقیدت رکھتے تھے اور سادات کے لئے وہاں قیام کرنا آسان تھا۔(٢)

شہید فخ کے قیا م کی شکست کے بعد ہادی عباسی کے دور خلافت میں حسین بن علی حسنی، ادریس بن عبد اللہ محمد نفس زکیہ کا بھائی افریقہ گئے تو  وہاں پرلوگ ان کے اطراف ہیں جمع ہوگئے اورانہوں نے حکومت ادریسیان کی مغرب میں بنیاد ڈالی، چند روز نہیں گذرے تھے کہ خلافت کے کارندوں کے ذریعہ انہیں زہر دے دیا ہوگیا، لیکن

(١)تاریخ طبرستان و رویان ، ص  ٢٩٠

(٢)مرعشی ،تاریخ طبرستان و رویان و مازندران ،نشتر گسترہ ،تھران ١٣٦٣،٢٧٧ و٢٧٨

ان کے بیٹوں  نے وہاں پرتقریباً ایک صدی حکومت کی،(١)اس طرح سادات نے اس طرف کا رخ کیا اسی وجہ سے متوکل عباسی نے ایک نامہ مصر کے حاکم کو لکھا کہ سادات علوی میں مردوں کوتیس دینار اور عورتوں کو پندرہ دینارکے بدلے نکال باہر کرے لہذایہ لوگ عراق منتقل ہوگئے اور وہاں سے مدینہ بھیج دئے گئے۔(٢)

منتصر نے بھی مصر کے حاکم کو لکھا کہ کوئی بھی علوی صاحب ملکیت نہ ہونے پائے اور گھوڑے پر سوار نہ ہونیز پائے تخت سے کسی دوسرے علاقہ میں کوچ نہ کرنے پائے اور ایک غلام سے زیادہ رکھنے کا انہیں حق حاصل نہ ہو۔ (٣)

 علویوں نے تیزی سے لوگوں کے درمیان خاص مقام پیدا کر لیا اس حد تک کہ حکومت سے مقابلہ کر سکیں جیسا کہ مسعودی نقل کرتا ہے:

٢٧٠ھ کے آس پاس طالبیوں میں سے ایک شخص بنام احمد بن عبد اللہ نے مصر کے منطقہ صعید میں قیام کیا لیکن آخر میں احمد بن طولان کے ہاتھوں شکست کھائی اور قتل ہوگیا۔(٤)

(١) ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین،منشورات شریف الرضی ،قم پہلی اور دوسری طبع ١٤١٦، ١٣٧٤، ص٤٠٦،٤٠٩

(٢)ادام تمدن اسلامی در قرن چہارم ہجری،ترجمہ علی رضا ذکاوتی،قرا گزلو،موسسہ انتشارات امیر کبیر،تہران ١٣٦٤ھ،صفحہ٨٣،الولاة والقضاة کندی کے نقل کے مطابق،ص ١٩٨

(٣)الولاة والقضاةکندی،ص ٢٠٣،٢٠٤

(٤)مسعود ی ،علی بن حسین مروج الذہب موسسة الاعلمی للمطبوعات ،بیرو ت ،طبع اول ١٤١١ہجری ج٤، ص ٣٢٦

یہی وجہ ہے کہ عباسی دور خلافت  میںان کے اہم ترین رقیب اور دشمن علوی شمار ہوتے تھے ٢٨٤ھ میں معتضد خلیفئہ عباسی نے ارادہ کیا کہ یہ دستورصادر کرے کہ منبر پر معاویہ کو نفرین(لعنت )کی جائے اور اس بارے میں اس نے حکم لکھا لیکن اس کے وزیر نے ہنگامہ ہونے سے ڈرایا،معتضد نے کہا: میں ان کے درمیان شمشیر سے کام لوں گاوزیر نے جواب دیا: اس وقت ان طالبیان کے ساتھ کیا کرے گا جو ہر طرف سے نکل رہے ہیں اور  خاندان پیغمبرۖ سے دوستی کی بنا پرلوگ ان کے حامی  ہیں ،یہ تیرا فرمان ان کے لئے لائق ستائش اور قابل قبول ہوگا اور جیسے ہی لوگ سنیں گے ان کے طرفداراور حامی ہو جائیںگے۔(١)

علوی جس منطقہ میں بھی رہتے تھے مورد احترام تھے اسی وجہ سے لوگ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی قبروں پر مزار اور روضے تعمیر کرتے تھے اور ان کی زندگی میں ان کے اطراف جمع ہوتے تھے جس وقت محمد بن قاسم علوی معتصم کے دور میں خراسان تشریف لے گئے مختصر سی  مدت میں چالیس ہزار افراد اس کے اطراف جمع ہوگئے اور ان کوایک مضبوط قلعہ میں جگہ دی۔(٢)

چونکہ ایک طرف علوی پاک دامن اور پرہیز گار افراد تھے جب کہ اموی اور عباسی حاکموں کا فسق و فجور لوگوں پر روشن تھا دوسری طرف ان کی مظلومیت نے لوگوں کے

(١)طبری ،ابی جعفر، محمد بن جریر،تاریخ طبری دارلکتب علمیہ بیروت طبع دوم،١٤٠٨ہجری ج، ص٦٢٠۔٦٢٥

 (٢)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذھب، ص٦٠  

دلوں میں جگہ بنالی تھی جیساکہ مسعودی نے نقل کیا ہے :جس سال یحییٰ بن زید شہید ہوئے اس سال خراسان میں جو بھی بچہ پیدا ہوا اس کا نام یحییٰ یا زید رکھاگیا۔(١)

سادات کی ہجرت کے اسباب

سادات کے مختلف اسلامی علاقے میں ہجرت کرنے اور پھیلنے کے تین اسباب بیان کئے جاسکتے ہیں :

 جنگوںمیں علویوں کی شکست ،حکومتی دبائو،ہجرت کے لئے مناسب موقع کا فراہم ہونا۔

(١)علویوں کے قیام کی شکست

 جنگوں میں شکست کھانے کی وجہ سے  ان کے لئے عراق اور حجاز میں زندگی بسر کرنا مشکل ہوگیا تھا جو اس وقت مرکز خلافت بغداد کے کنٹرول میں تھا لہٰذا وہ مجبور ہوئے کہ دور دراز  کے علافوں میں ہجرت کرجائیں اور اپنی جان بچائیں جیسا کہ محمد نفس زکیہ کے بھائیوں کے منتشر کے بارے میںمسعودی کا کہنا ہے: محمد نفس زکیہ کے بھائی اور بیٹے مختلف شہروں میں منتشرگئے اور لوگوں کو ان کی رہبری کی طرف دعوت دی ان کا بیٹا علی بن محمد مصر گیا اور وہاں قتل کردیاگیا ان کا دوسرا بیٹا عبداللہ خراسان گیا اور وہاں سے سندھ کی طرف کوچ کیا اور سندھ میں اسے قتل کردیاگیا،ان کا تیسرا بیٹا حسن یمن پہونچا

(١)مسعودی،علی بن حسین ،مروج الذھب، ج٣،ص٢٣٦

زندان میں ڈال دیا گیا اوروہیں دنیا سے چل بسا ، ان کے ایک بھائی موسیٰ جزیرہ گئے او ر ایک بھائی یحییٰ ری اور وہاں سے طبرستان تشریف لے گئے نیز ایک دوسرے بھائی ادریس مغرب کی طرف روانہ ہوئے تولوگ ان کے اطراف جمع ہونا شروع ہو گئے۔(١)

(٢)حکومتی دبائو 

 حجاز و عراق کے علاقہ جو مر کز حکومت سے نزدیک تھے جس کی وجہ سے یہاں کے علوی افراد ہمیشہ حکومت کے فشار میں تھے مسعودی کے بقول محمد بن قاسم کا کوفہ سے خراسان کی جانب کوچ کرنامعتصم عباسی کے دبائو کی وجہ سے تھا ۔ (٢)

(٣)مناسب موقع کا فراہم ہونا

  علویوں کی ہجرت کے اسباب میں سے ایک سبب قم اور طبرستان کے علاقے میں ان کے لئے اجتماعی لحاظ سے بہترین موقعیت کا پایا جانا ہے۔

(١)مسعودی،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ج٣،ص٣٢٦

(٢)مسعودی،علی بن حسین ، مروج الذھب ،ج٤،ص٦٠

 

مزید  حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور عبادت و بندگی

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.