تشیع وتجھیز شھدائے کربلاء

بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمین والصلوةوالسلام علی اشرف الانبیاءوالمرسلین سیدنا وسندنا ومولانا ومولی الثقلین جدالحسن والحسین ابی القاسم المحمد المصطفی واله الطیبین الطاهرین المعصومین المظلومین المنتجیبین والسلام علی عبادالله الصالحین و لعنة الله علی اعدآئهم اجمعین من الاولین والآخرین. “لَقَدْ عَجِبْتَ مِنْ صَبَرِك مَلآَئِکَةُالسَمٰوٰتِ” تحقیق آپکےصبر کےمظاھرہ سے ملائکہ آسمان بھی

بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله رب العالمین والصلوةوالسلام علی اشرف الانبیاءوالمرسلین سیدنا وسندنا ومولانا ومولی الثقلین جدالحسن والحسین ابی القاسم المحمد المصطفی واله الطیبین الطاهرین المعصومین المظلومین المنتجیبین والسلام علی عبادالله الصالحین و لعنة الله علی اعدآئهم اجمعین من الاولین والآخرین.
“لَقَدْ عَجِبْتَ مِنْ صَبَرِك مَلآَئِکَةُالسَمٰوٰتِ”
تحقیق آپکےصبر کےمظاھرہ سے ملائکہ آسمان بھی محو حیرت ھیں” (حضرت قائم (عج)
؛؛؛
حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کا فرمان ھے کہ :
“لِکُلِ شَیءٍ ثَوَابّ اِلاَ الدَمْعَةُ”یعنی ھر شے کے ثواب کی حد ھے سوائے آنسو کے”
یعنی یہ کہ ھر شے کا ثواب لکھا جاتا ھے سوائے آنسو کے کہ انکا ثواب لکھنے سے باھر ھے.
حدیث میں ھے جو شخص مومن کو غسل دے خدا اس کے بدن سے تمام گناہ اس طرح دھو دیگا جس طرح وہ شکمِ مادر سے پیدا ھوا تھا بشرطیکہ قربت کی نیت ھو.
نیز یہ بھی وارد ھے کہ جو شخص ایک مردِ مومن مسلمان کو کفن دے تو گویا وہ قیامت تک کے لیے اسکو لباس پہناتا رھا
اور
جو شخص ایک مومن کی قبر کھودے خدا اسکو جنت میں گھر دیگا
اور
جو شخص ایک مومن کے جنازہ کی مشایعت کرے تو جب مومن قبر میں سوتا ھے اسے ندا پہنچتی ھے کہ خدا کی طرف سے پہلا عطیہ یہ ھے کہ تیرے تشیع کرنے والوں کو میں نے بخش دیا
اور
جو شخص مومن کے جنازے کو اٹھائے اور ترتیب وار چاروں پایوں کے نیچے کندھا دے اس کے تمام گناہ بخشے جاتے ھیں اور ایک پائے کے نیچے کندھا دینے سے اس کے پچیس 25سال کے گناھانِ کبیرہ بخشے جاتے ھیں
اور
جو شخص مومن کی قبر پر پشتِ دست سے خاک گرائے تو اس خاک کے ھر ذرہ کے مقابلہ میں اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھی جاتی ھے
اور
جو شخص ایک یتیم کو تسلی دے خدا اس پر درود و سلام بھیجتا ھے.
یہ تو ایک عام مومن کے لیے ھے اور اگر مومن کامل ھو
پھر مسافر بہی ھو پھر مظلوم بہی ھو پھر شہید بھی ھو بلکہ سیدالشہداء (علیہ السلام) ھو
تو کیا اس کے لیے یہی مناسب ھے کہ تین روز تک اسکی لاش بے دفن صحرا میں پڑی رھے؟؟؟؟؟
میدانِ کربلا میں آج تیسرا روز ھے کہ متعدد لاشیں موجود ھیں.ان میں سے ایک حسین ابن علی ، کسی طرف علی اکبر ، علی اصغر اور کسی طرف عباس ، قاسم و عون و محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین.
قاعدہ یہ ھے کہ میت کے لیے آواز دی جاتی ھے لیکن ھائے ان شہیدوں کا کوئی نہ تھا جو ان کے لیے آواز کرتا.البتہ علی (ع) کی شہزادی (س) نے جب لاشوں سے جُدا ھونا چاھا تو مہلت نہ ملی کہ کچھ کہتیں ھاں اتنا ھی کہا کہ “اَمَافِیْکُمْ مُسْلِمّ” کیا تم میں مسلمان کوئی نہیں؟
اب ان مقدس لاشوں کی تجہیز معنوی کے لیے عالیہ بی بی سلام اللہ علیہا کی نیابت میں ھم ندا بلند کرتے ھیں.حضرت ابوذر کی صاحبزادی کے کلمات سے جبکہ حضرت ابوذر صحرائے ربذہ میں کوچ کرگئے تہے.واقعہ یہ ھے کہ ابوذر عالمِ جلاوطنی میں تنہا اپنی بیٹی کے ھمراہ گھاس کی تلاش میں جنگل میں گئے تاکہ خود کھائیں آپ بیمار بھی تھے پس حالتِ موت طاری ھوگئی.بیٹی نے باپ کے سرھانے ریگ صحرا کو اکٹھا کرکے سرھانہ بنایا اور عرض کی بابا جان اس جنگل میں تیری لاش سے میں کیا کرونگی؟ آپ نے فرمایا اے دختر مجھے پیغمبر (ص) نے میری موت کی خبر دی تھی.بس ایک جماعت عراق سے آئیگی اور میری تجہیز کا سامان وھی کریں گے.راستہ پر بیٹھ جانا اور انکو اطلاع دینا.ابوذر قبلہ رُخ ھوگئے اور اس عالمِ فانی سے کُوچ کرگئے.بیٹی نے باپ کی لاش پر عبا کو پھیلا دیا اور باپ کی وصیت کے مطابق راستہ پر بیٹھ گئی.کچھ دیر کے بعد قافلہ آتا دیکھا ان میں ابن مسعود ، مالک اشتر اور دیگر صحابہ بھی تھے.ابوذر کی بیٹی نے آواز دی اے اللہ کے بندوں ! صحابی رسول حضرت ابوذر کا اس جنگل میں بعالمِ غربت انتقال ھوگیا ھے.میرا کوئی نہیں ھے جو باپ کی تجہیز و تکفین میں میری امداد کرے ابھی دو گھنٹے ھوئے ھیں کہ وہ فوت ھوچکے ھیں.اھلِ قافلہ نے جونہی یہ خبر وحشت اثر سنی سواریوں سے اتر پڑے اور حضرت ابوذر کی لاش پر پہنچے اور ابوذر کے کفن میں ایک دوسرے سے نزاع کرنے لگے ھر ایک یہی چاھتا تھا کہ اس مقدس صحابی رسول کو کفن میں دوں.
آج میں آواز دیتا ھوں اے مسلمانوں ! کربلا میں حسین ابن علی علیھما السلام کی لاش بے دفن و بے کفن ھے علی اکبر کی لاش ھے عباس کی لاش ھے علی اصغر کی لاش ھے قاسم ، عون و محمد و اصحاب حسین (صلوات اللہ علیھم) کی لاشیں ھیں.
یہ سب عالمِ مسافرت میں بےجرم وگناہ شہید کردیئے گئے ھیں.عمرسعد ملعون نے اپنے مقتولین کا جنازہ بھی پڑھا اور انہیں دفن بھی کیا لیکن حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں دفن کرنے والا کوئی نہیں.آج میں جسکی طرف سے ندا کررھا ھوں وہ ایک اور مصیبت میں گرفتار ھے.
یہ نہ خیال کرنا کہ ان لاشوں کی تجہیز کسی نے نہیں کی بلکہ جو تجہیز انکی ھوئی وہ آج تک کسی کی نہ ھوسکی.آج تقریبًا 1376 سال ھوچکے ھیں.لوگ اب تک انکی تجہیز میں برابر مشغول ھیں.انکی تجہیز میں خدا ، رسول اور ملائکہ کرام سب شامل ھیں.انکے اھلبیت (ع) نے اپنے مخصوص حالات میں تجہیز کی اور تمام مخلوق نے انکی تجہیز میں حصہ لیا.
*- خدا کی تجہیز سے مراد : ایک نورِ ساطع انکے ھمراہ تھا.چنانچہ ایک اسدی روایت کرتا ھے کہ میں نے جسموں میں ایک جسم دیکھا جو مثلِ آفتاب کے روشن تھا.زید بن ارقم کہتے ھیں کہ میں بالاخانہ پر بیٹھا تھا میں نے کمرہ کی کھڑکی سے دیکھا کہ اندر ایک نور داخل ھوا.دریافت کرنے سے معلوم ھوا کہ یہ حسین ابن علی (ع) کا سرِمطہر تھا اور اسکا نور تھا اور ان پر اللہ کا درود و سلام ھے.چنانچہ ھر ایک کہتا ھے
“صلی الله علیك یا ابا عبداللہ”
بلکہ کہا جاتا ھے کہ
“صلی الله علی الباکین علی الحسین”
یعنی حسین(ع) پربلکہ حسین(ع(پر رونے والوں پر بھی اللہ کی طرف سے درود و سلام ھے.
ان ارواحِ مقدسہ کی روحیں خداوندِ کریم نے اپنے یدِ قدرت سے قبض کیں.

* تجہیزِ نبوی (ص)
 یہ ھے کہ حضور(ص) چالیسویں تک اس لاش کی تشیع کرتے رھے اور حسین (ع) کی قبر مبارک کو خود اپنے ھاتھوں سے کھودا.چنانچہ اسی روز جب بنی اسد آئے اور حضرت سجاد علیہ السلام بھی بہ اعجازِ امامت وھاں پہنچے تو جونہی بنی اسد نے کلنگ زمین پر مارا تو کھودی ھوئی قبر موجود پائی.جب ام سلمہ(رض) کو عالمِ خواب میں زیارت سے مشرف فرمایا تو دریافتِ حال پر جواب دیا ! میں حسین علیہ السلام کی قبر کھودتا رھا ھوں اور فرمایا
“ماذلت التقط دمائهم”
اور ان کا پاک خون اپنے ھاتھوں پرروکتارھاھوں”

*- تجہیزِ ملائکہ :
 وقتِ شہادت آپ کے جسدِ اطہر کو پانچویں آسمان پر لے گئے جہاں علی (ع) کی صورت وجود ھے اور پھر واپس لائے اسکی وجہ معلوم نہیں اور معنوی طور پر چشمہ تسنیم سے پانی لائے اور ان پاک جسموں کو غسل دیا اور کفن پہنایا.

* تجہیزِ سیدالشہداء (ع) :
 آپ خود اپنی تجہیز فرما رھے تھے اور اپنی قبر کی خود نشاندھی فرماتے تھے.چنانچہ ام سلمہ (رض) سے فرمایا
“من ذایکون ساکن حفرتی”اور آخری وقت میں اپنی ھمشیر سے فرمایا
“ائتینی بثوبٍ عتیقٍ لایرغبُ فیه احدّ”
مجھے پرنا لباس لادیجیئے جسے کوئی پسند نہ کرتا ھو”
جب وہ لایا گیا تو آپ نے اسکو بھی جگہ جگہ سے پارہ پارہ کیا اور پھر اپنے جسد کو خون سے غسل دیا اور فرمایا :
“هکَذَا حَتٰی القَی الله وَ اَنَا مُخضِبّ بِدَمِیْ”
میں اپنے خون سے اپنے آپکو خضاب کرکے بارگاه خداوندی میں پیش ھونگا”
ھاں ھاں !بےشک آپ کا خون خلد کا ساکن ھے.لوگوں نے آپ کے جسدِ اطہر کو خاک و خون میں غلطاں چھوڑ دیا آپ کے خون کا رنگ سرخ تھا اور خوشبو کستوری کی تھی.

*تجہیزِ اھلبیت (ع) :
 یہ تھی کہ لاشوں پر پہنچ کر خود کو لاشوں پر گرادیا اور اپنے بہتے ھوئے آنسوؤں سے غسل دیا اور کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک تشیع کی.

*تجہیزِ تمام مخلوق :
شہادت کے بعد صحرا کے تمام جانور آئے وحوش و طیور آئے بلکہ ھوا نے آکر سامانِ تجہیز کیا.حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا تھا “میرے ماں باپ قربان ھوں حسین علیہ السلام پر جو کوفہ کے قریب شہید ھونگے.گویا میں دیکھتا ھوں کہ وحوشِ صحرا نے اپنی گردنیں اسکی قبر پر لمبی کی ھیں اور رو رھے ھیں اور ساری رات صبح تک ماتم کرتے رھے ھیں” جب یہ وقت آجائے تو ظلم نہ کرنا.

* تجہیزِ بنی اسد :
ھاں اس دن بنی اسد بھی آئے.وہ زمینِ کربلا سے کچھ فاصلے پر اپنی کھیتیوں میں تھے.بعض لوگ کہتے ھیں کہ انکی عورتوں نے غیرت دلائی اور کہا کہ اگر تمہیں ابن زیاد(ملعون) کا ڈر ھے تو ھم جاکر ان پاک بدنوں کو دفن کرتی ھیں.پس وہ لوگ ابن زیاد ملعون کے خوف سے اس طرح آئے کہ کچھ لوگوں کو حفاظت کے لیے اِدھر اُدھر کھڑا کردیا.اسی اثنا میں دیکھا کہ ایک سوار نمودار ھوا جو کوفہ کی طرف سے آتا دکھائی دیا پس وہ گھوڑے سے اترے اور حالتِ رکوع کی طرح کمر جھکا کر حسین علیہ السلام کی لاش پر گئے اور لاش سے لپٹ گئے لاش کو بوسے دیتے تھے خوشبو سونگھتے تھے اور اس قدر روئے کہ تحت الحنک آنسوؤں سے تر ھوگیا.بنی اسد سے دریافت کیا کہ تم لوگ کیوں آئے ھو.انہوں نے جواب دیا کہ لاشوں کے دفن کے لیے آئے ھیں پس حکم دیا کہ انکی قبریں کھودو اور یہ بتاتے گئے کہ اسکو پہلے اور اسکو بعد میں بالترتیب قبروں میں اتارو.پھر وہ آپ کی مدد کے لیے لاش حسین (ع) پر آگئے لیکن آپ نے دھیمی آواز میں انکو کہا تم سب ھٹ جاؤ اس لاش کو میں خود تنہا دفن کرونگا وہ کہتے ھیں ھم نے عرض کی آپ تنہا کس طرح دفن کریں گے حالانکہ ھم سب کوشش کرچکے لیکن اس کے بدن مطہر کے ایک عضو کو بھی ھم حرکت نہیں دے سکتے تو آپ سخت روئے اور فرمایا کہ اس معاملہ میں میری امداد کرنے والے موجود ھیں.پس اپنے دونوں ھاتھ لاش مطہر کی کمر کے نیچے رکھے اور زبان پر یہ کلمات جاری فرمائے :
“بسم الله و بالله وعلٰی ملة رسول الله هذا ماوعدالله ورسوله وصدق الله ورسوله ماشاءالله ولاحول ولا قوة الا بالله العلی العظیم”
پس تنہا لاش مطہر کو قبرمیں اتارا اور کسی کو ھاتھ تک نہ لگانے دیا پھر اپنےرخسار کو گلوئے بریدہ پر رکھا اوربہت دیر تک روئے اور یہ الفاظ کہے :
“طوبٰی لارضٍ تضمنت جسدك الشریف اما الدنیا فبعدك المظلة و اما الآخرة فبنورك مشرقه اما الحزن فسرمد والليل فمسهد حتٰی یختار الله لی دارك التی انت مقیم فیهافعلیك منی السلام یابن رسول الله ورحمة الله وبرکاته”
یعنی پاک ھےوہ زمین جس نےتیرے پاک جسم کواپنی گودمیں لیا ھمارے لیے تیرے بعد دنیا تاریک ھوگئی اور
آخرت تیرے نور سے روشن ھوگئی میرا غم دائمی ھوگا اور رات بیداری میں گزرےگی یہاں تک کہ خدا میرے
لیے وہ گھر اختیار کرے جس میں آپ مقیم ھیں. پس اے فرزندِ رسول میرا سلام قبول ھو”
اس کے بعد قبر کو بند کردیا پھر اپنے دستِ مبارک کو قبر پر رکھا اور انگشتِ مبارک سے قبر کے اوپر یہ الفاظ لکھے :
“هذا قبر حسین بن علی بن ابی طالب الذی قتلوه عطشانًا غریبًا”
یہ حسین بن علی بن ابی طالب (ع(کی قبر ھے جن کو لوگوں نے عالم مسافرت میں پیاسا کرکے شہید کیا”
اسکے بعد حضرت عباس علیہ السلام کی قبر کی طرف متوجہ ھوئے اور لاش سے خطاب کیا :
“علی الدنیا بعدك العفا یاقمر بنی هاشم”
اے قمر بنی ھاشم تیرے بعد دنیا پر خاک ھے”
لاشوں کے دفن سے فارغ ھوکر بنی اسد سے فرمایا اگر کوئی زائر آیا تو انکو قبروں کی نشاندھی کرنا.انہوں نے عرض کی تجھے قسم اس جسم مطہر کی جسکو آپ نے تنہا دفن کیا آپ کون ھیں؟ تو فرمایا میں تمہارا چوتھا امام علی بن حسین (ع) ھوں انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ آپ ھمارے چوتھے امام ھیں تو فرمایا ھاں اور آنکھوں سے غائب ھوگئے لیکن تجہیز نہ کرسکے کیونکہ جو اشرف اعضاء ھے وہ چالیس روز تک نوکِ سناں پر رھا.
ولاحول ولا قوة الابالله العلی العظیم
((انالله وانا الیه راجعون الا لعنة الله علی القوم الظالمین وسیعلم الذین ظلموا ای منقلبٍ ینقلبون)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.