تحریک حسینی کے تناظر میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر

0 0

 

 

تحریک حسینی کے تناظر میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر

مصنف:

روشن علی

 

پیغمبر(ص)واھل بیت(ع)> امام حسین(علیہ السلام)

مجلہ>سہ ماہی نورمعرفت

 

خلاصہ :

 

امرلفظی معنی:حکم دینا۔(المنجد مادہ امر) امر نہی کا نقیض ہے۔(لسان العرب، مادہ امر، ج ٤، ص ٢٦)

اصطلاحی معنی:کسی بلند شخصیت کا اپنے سے کسی کمتر شخص سے کسی شی کی طلب کرنے کو امر کہتے ہیں۔

 

معروف لفظِ معروف عَرَفَ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: پہچاننا ، جاننا۔(المنجد مادہ عرف)اور معروف ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کی اچھائی عقل و شرع سے ثابت ہو۔

لہٰذا ہر وہ کام جو عقل و شرع کے مطابق ہو اسے معروف کہتے ہیں ۔ چنانچہ کسی شخص سے اگر کسی ایسے فعل کی انجام دہی کے لیے کہیں جو عقل و شرع کے مطابق ہو تو اس فعل کے طلب کرنے کو امر بالمعروف کہتے ہیں

 

نہی:

لفظی معنی :۔روکنا منع کرنا۔ (المنجد مادہ نہی)

اصطلاحی معنی :۔کسی بلند شخصیت کی طرف سے اپنے سے کمتر شخص کو کسی فعل سے روکنے ، منع کرنے اور باز رکھنے کو نہی کہتے ہیں۔یعنی کسی فعل کے طلب ترک کو نہی کہتے ہیں۔

 

منکر

لفظ منکر نکر سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی امر سے ناواقف ہونا ، کسی کو نہ جاننا(المنجد مادہ نکر)منکر وہ قول یا فعل جو اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو ۔ (المنجد مادہ نکر)یعنی ہر وہ چیز جس کی برائی ، قباحت یا مذمت عقل و شرع سے ثابت ہو اسے منکر کہتے ہیں۔

 

 

 

متن:

 

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا لفظی و اصطلاحی مفہوم

امر بالمعروف دو کلموں پر مشتمل ہے : ایک \’\’امر\’\’ اور دوسرے \’\’معروف\’\’ ۔

 

امر:

امرلفظی معنی:حکم دینا۔(المنجد مادہ امر) امر نہی کا نقیض ہے۔(لسان العرب، مادہ امر، ج ٤، ص ٢٦)

اصطلاحی معنی:کسی بلند شخصیت کا اپنے سے کسی کمتر شخص سے کسی شی کی طلب کرنے کو امر کہتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے :

وَ اْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلَاةِ۔ ١ یعنی اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔

کبھی کسی فعل اور شی کو بھی امر کہتے ہیںجیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے :

وَ اِلَیْہِ یَرْجِعُ الْاَمْرُ۔٢ اور اسی کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے۔

 

معروف:

معروف لفظِ معروف عَرَفَ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: پہچاننا ، جاننا۔(المنجد مادہ عرف)اور معروف ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کی اچھائی عقل و شرع سے ثابت ہو۔

لہٰذا ہر وہ کام جو عقل و شرع کے مطابق ہو اسے معروف کہتے ہیں ۔ چنانچہ کسی شخص سے اگر کسی ایسے فعل کی انجام دہی کے لیے کہیں جو عقل و شرع کے مطابق ہو تو اس فعل کے طلب کرنے کو امر بالمعروف کہتے ہیں۔٣

خلاصہ یہ کہ ہر وہ شے اور ہر وہ فعل کہ جو محبوب و مطلوب ِعقل و شرع ہو اور خدا کی مرضی کے مطابق ہو اسے معروف کہتے ہیں اور ہر وہ چیز کہ جو عقل و شرع کے لحاظ سے ناپسندیدہ اور مذموم ہو اور خدا کی مرضی کے خلاف ہواسے منکر کہتے ہیں۔ اس سے زیادہ واضح الفاظ میں اسے یوں کہا جا سکتا

ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کی عقل کو تقویت دے اس کی روح کی تربیت میں مدد گار ہو اور قرب الٰہی تک پہنچنے کا وسیلہ ہو اسے معروف کہتے ہیں ۔ اور اس فعل کی انجام دہی کا کسی سے مطالبہ کرنے کو امر بالمعروف کہتے ہیں۔

اسی طرح نہی عن المنکر بھی دو کلموں نہی اور المنکر سے مرکب ہے۔

 

نہی:

لفظی معنی :۔روکنا منع کرنا۔ (المنجد مادہ نہی)

اصطلاحی معنی :۔کسی بلند شخصیت کی طرف سے اپنے سے کمتر شخص کو کسی فعل سے روکنے ، منع کرنے اور باز رکھنے کو نہی کہتے ہیں۔یعنی کسی فعل کے طلب ترک کو نہی کہتے ہیں۔

 

منکر

لفظ منکر نکر سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی امر سے ناواقف ہونا ، کسی کو نہ جاننا(المنجد مادہ نکر)منکر وہ قول یا فعل جو اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو ۔ (المنجد مادہ نکر)یعنی ہر وہ چیز جس کی برائی ، قباحت یا مذمت عقل و شرع سے ثابت ہو اسے منکر کہتے ہیں۔

اور ہر وہ فعل جو انسان کی غریزہ حیوانی اور شہوت کو ابھارے ، جو شیاطین جن و انس کی پیروی میں ہو اور انسان کو سقوط و زوال کی طرف لے جائے اسے منکر کہتے ہیںاور ایسے افعال کے مرتکب لوگوں کو ایسے افعال سے روکنے اور باز رکھنے کے عمل کو \’\’ نہی عن المنکر\’\’ کہتے ہیں۔

 

معروفات و منکرات

شریعت ِمقدس اسلام میں معروف و منکر کی فہرست بہت طویل ہے ۔ مثلا ۔ اعتقادی۔ اقتصادی۔ اجتماعی۔سیاسی وغیرہ وغیرہ

 

١۔(الف) معروفات اعتقادی

اصولِ عقائد اثباتِ وجودِ خدا، توحید، نبوت ، امامت ، قیامت، حشر و نشر، حساب و کتاب، سوال و جواب، وغیرہ میں بحث و گفتگو ، نشر و تبلیغ کرنا معروفات اعتقادی ہیں۔

 

(ب)منکرات اعتقادی

شرک و کفر کے نظریات پھیلانا، وجود خدا کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنا ، انبیائے الٰہی پر تہمت و افتراء باندھنا ، ائمہ اطہار سے دشمنی برتنا، حشر و نشر سے انکار کرنا یا شکوک پھیلانا منکرات اعتقادی ہے۔

 

٢۔(الف)معروفات اقتصادی

زکوٰة ، خمس ، صدقات، نذورات، کسب معاش ، انفاق فی سبیل اﷲ ، محرومین و فقراء کی دیکھ بھال کرنا معروفات اقتصادی ہیں۔

 

(ب)منکرات اقتصادی

زخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی بیشی، سود خوری، ملاوٹ کرنا، مسلمانوں کے اقتصاد پر کافروں کو مسلط کرنا، بخل کرنا، لادین اقتصادی نظام کو فروغ دینا منکرات سیاسی ہیں۔

 

٣۔(الف)معروفات اجتماعی

ایک دوسرے کا احترام کرنا، قیام امن و امان میں حصہ لینا ، اتحاد و اتفاق کی دعوت دینا ، ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرنا ، اخوت و برادری کی فضا قائم کرنایہ معروفات اجتماعی ہیں۔

 

(ب)منکرات اجتماعی

معاشرہ میں اختلاف کو ہوا دینا ، امن و امان کو خطرے میں ڈالنا ، قتل و غارت گری کرنا، فواحش و برائیوں کو رواج دینا منکرات اجتماعی ہیں۔

 

٤۔(الف)معروفات سیاسی

خدا و رسول کے منتخب نمائندوں کی اطاعت کرنا، اجتماعی، سیاسی ، اور اقتصادی مناصب پر اہل ایمان یعنی خدا و رسول اور معاد پر ایمان رکھنے والوں ، علم و آگہی رکھنے والوں یعنی شریعت سے آگاہ اور قدرت و صلاحیت کے حامل افراد کو یہ مناصب سونپنا، شریعت کی پاسداری ، ملت اسلامیہ کے مصائب

و آلام میں خود کو برابر ک شریک کرنا معروفات سیاسی ہیں۔

 

(ب)منکرات سیاسی

جاہل و نادان ، فاسق و فاجر ، قسی القلب، بے رحم انسانوں کو حکومت، اداروں کے اعلیٰ مناصب و عہدوں پر نصب کرنا ، امت کی رضا کو نظر انداز کرنا ، حزب اختلاف یعنی حکومت کے غلط اقدام اور بے جا ظلم و جور پر اظہار رائے کرنے والوں اور ان کے غلط اقدام کی نشاندہی کرنے والوں پر جبر و تشدد کرنا ،

زندانوں میں محبوس کرنا ، فقر و فاقہ میں رکھنا اور حکومت اور امور حکومت کو اپنے مخصوص ایسے پسندیدہ ٹولے کے سپرد کرنا جو لوگوں کے مقدرات سے کھیلتا ہو نیز قوانین کی خلاف ورزی کرنا وغیرہ یہ سارے اعمال منکرات سیاسی ہیں۔٤

 

امام حسین ـ کے قیام کا آغاز

اُس دور میں تمام قسم کے معروفات متروک تھے اور تمام قسم کے منکرات پر عمل کیا جارہا تھا ۔ کسی بھی انسان میں منکرات کو روکنے کی جرأت و ہمت پیدا نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کسی نیکی کی طرف کوئی دعوت دینے والا تھا۔ لہٰذا اس وقت اس عظیم فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو انجام

دینے کے لیے صرف ایک ہی شخصیت موجود تھی جو نواسہ رسول ۖ اور فرزند علی و بتول تھے، آپ کے علاوہ خانوادہ نبوت کا کوئی اور فرد ایسا نہیں تھا جو اس فریضہ کو انجام دیتا۔ یہ ہی بات امام حسین علیہ السلام نے مدینہ کے گورنر ولید کی دربار میں کہی تھی کہ : ۔

\’\’ ایہا الامیر ان اہل البیت النبوة و معدن الرسالة و مختلف الملائکة و مہبط الرحمة بنا فتح اﷲ و بنا یختم ۔ یزید شارب الخمر و قاتل النفس المحترمة معلن بالفسق و مثلی لا یبایع مثل یزیدو لٰکن نصبح و تصبحون و ننظر و تنظرون اینا احق بالخلافة و البیعة۔\’\’٥

اے امیر! ہم خاندان نبوة اور معدن رسالت ہیں۔ہمارے گھروں میں فرشتوں کی آمد و رفت ہوا کرتی ہے۔اور ہمارے خاندان پر اﷲ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے اسلام کو ہمارے گھرانے سے شروع کیا اور آخر تک ہمیشہ ہمارا گھرانہ اسلام کے ہمراہ رہے گا۔ لیکن یزید شراب خور ہے ، بے گناہ افراد کا قاتل ہے ،

اس نے اﷲ تعالی کے احکام کو پا مال کیا اور بر سر عام فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہے۔ مجھ جیسا شخص کبھی بھی اس جیسے شخص کی بیعت نہیں کرے گا ۔اب ہم اور تم دونوںآنے والے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کون خلافت اور بیعت کا زیادہ مستحق ہے۔

امام عالی مقام علیہ السلام نے اس گفتگو میں اپنا یہ موقف کھلے الفاظ میںبیان کردیا کہ وہ یزید کی بیعت اور اس کی حکومت کو غیر قانونی سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف اعلان جہاد کردیا اور اس عظیم فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے آغاز کا اعلان کردیا۔ یہاں امام علیہ السلام نے اپنے خاندان کی

ممتاز صفات اور معاشرے میں اپنے مقام کی وضاحت کی جو امت اسلامیہ کی امامت و رہبری کے لیے ان کے استحقاق کی بہترین دلیل ہے۔ اور اس کے بعد یزید کی خامیوں (شراب خور، قاتل نفس محترمہ اور علی الاعلان فسق و فجور کرنے والا)کو بھی بیان کیا ، جو امت ِ اسلامیہ کی رہبری اور قیادت کے سلسلے میں اسکے دعوے کے

جھوٹے ہونے اور اس منصب کے لیے اس کی نالائقی کی دلیل ہے۔

اسی دؤر کا حاکم شراب خور (ایسا سنگین مجرم کہ جس کے لیے شریعت نے حد کا حکم دیا ہے)، قاتل نفس محترمہ (ایسا مجرم جو قرآن کی رو سے ناقابل معافی ہے)اور علی الاعلان فاسق و فاجر ہے ۔یہ حاکم عوام الناس کی اصلاح کے بجائے فساد کی طرف دھکیل رہا تھا، خود بھی گمراہ تھا اور عوام کو بھی

گمراہ کر رہا تھا۔ اسی دؤر میں تمام تر معروفات متروک ہو چکے تھے اور تمام قسم کے منکرات پر عمل کیا جا رہا تھا۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس سنگین مجرم کو جرم سے روکے یا حکومت سے ہٹالے ۔ اسی دؤر میں اگر نوسہ رسول ۖ بھی خاموش رہتے تو دین کا خدا حافظ ہوتا ، کلمہ توحید کے بجائے کلمہ شرک پڑھا جاتا۔

یہی بات امام عالی مقام علیہ السلام نے مروان بن حکم کے جواب میں ارشاد فرمائی کہ:

انا ﷲ و انا الیہ راجعون و علی الاسلام ِالسلام ُ اذ قد بلیت الامة براع مثل یزید۔٦

انا ﷲ و انا الیہ راجعون اسلام پر فاتحہ پڑھ لینا چاہیے اگر امت کی رہبری یزید جیسے شخص کے ہاتھوں میں ہو۔

خلاصہ کلام یہ کہ اگر چہ ظاہری طور پر امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد اور ان کی شہادت کے پس پشت متعدد عوامل کار فرما تھے لیکن اس عظیم جہاد کا اہم ترین مقصد اس طاقت کو مٹانا تھا جو کہ صرف یہ چاہتی تھی کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور خامیوں کے با وجود خلافت اسلامیہ کے منصب پر قابض

ہو اور ظلم و فساد کی ترویج کرے اور امت اسلامی کو تباہی و بربادی سے دوچار کردے بلکہ درپردہ اس کی خواہش یہ بھی تھی کہ خلافت نہ ہونے کی صورت میں خلافت اسلامی کے نقاب میں چھپ کر اسلام اور قرآن کے خلاف خاندان ِ ابو سفیان کے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے جو رسول ۖ گرامی کے زمانے میں جنگ و

جدال کے ذریعے کامیاب نہیں ہو پائے تھے، یعنی یزید کا مقصد تمام تر منکرات کو عام کرنا اور معروفات کو ختم کرنا تھا۔ درحقیقت اسی یزید ی قوت و مقصدکو نیست و نابود کرنا وہ ذمہ داری ہے جسے امام علیہ السلام نے اپنے بعض کلمات میں \’\’ امر بالمعروف و نہی عن المنکر\’\’ سے تعبیر کیا ہے۔

 

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت و فضیلت

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جہاد کی اقسام میں سے ہیں، جس کے متعلق رسول ۖ نے فرمایا ہے کہ \’\’الجہاد علی اربع شعب: الامر بالمعروف و النہی عن المنکر والصدق فی المواطن الصبر و شنئٰآن فاسق۔\’\’ ٧

جہادکی چار شاخیں ہیں: امر بالمعروف، نہی عن المنکر، صبر کے موقع پر صداقت اور فاسق کے ساتھ دشمنی کرنا۔

یہ ہی چاروں چیزیں قیام امام حسین علیہ السلام میں موجود تھیں۔ آپ نے اپنے کلام میں مخلتف مقامات پر اپنے جہاد کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بتایااور انہیں اس راہ میں جتنی تکلیفیں اور مصیبتیں آئیں انہیں رضائے الٰہی کی خاطر صبر کرتے ہوئے برداشت کیں اور یزید جیسے فاسق و فاجر انسان

کے ساتھ دشمنی رکھی اور انہیں اپنے لہو سے شکست دی۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اصول تمام الہی ادیان میں موجود ہے اور اسے تمام انبیاء و رسل ، ائمہ و مؤمنین کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔یہ مسئلہ صرف شرعی اور فقہی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ انبیاء و رسل کی رسالت و نبوت کا معیار ااور ان کی بعثت کی ایک علت بھی تھا۔ کیونکہ یہ مادی کائنات حق و

مزید  ماه رجب اور ہم

اباطل ، خیر و شر، نیکی و بدی، اچھائی و برائی ، نور و ظلمت، اور فضائل و رذائل کے دائمی ٹکراؤ کی جگہ ہے۔ اور یہ امور کبھی آپس میں اس طرح گڈمڈ ہو جاتے ہیں کہ ان کی پہچان اور ان پر عمل سخت مشکل ہو جاتا ہے ۔ الٰہی ادیان میں لوگوں کو حق و باطل ، خیر و شر، خوب و بد، نور ظلمت اور فضیلت و رذیلت کی

پہچان کرواتے ہوئے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ہر معروف کو انجام دیں اور ہر منکر سے رک جائیں ، یوں وہ اس ہدایت کے ذریعے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کیے جاتے ہیں ۔اسی لیے قرآن کریم نے مسلم امة کو بہترین امت کہا ہے کہ

\’\’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلَُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًالَّھُمْ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَ کْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔\’\’٨

تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر تھا، ان میں ایمان لانے والے بھی ہیںلیکن اکثر تو فاسق ہیں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو تمام امتوں سے بہترین اور افضل قرار دیاہے۔اس امت محمدی ۖ میں سے کربلا والوں سے بڑھ کر کون افضل ہو سکتا ہے ؟ جنہوں نے دین خدا کی سربلندی کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوئے اپنی

جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے مشعلِ راہ بن گئے۔ اور وہی بانیان ِ انقلاب ہیں ، انہی لوگوں نے اسلام کا صحیح تعارف کروایا اور خداوند کریم سے اپنے کئے ہوئے وعدہ کو سچ ثابت کیا۔قرآن نے ان کا قصیدہ یوں بیان کرتا ہے

:مِنَ الْمُؤًمِنِیْنَ رِجَالُ صَدَقُوْا مَاعَاھَدُوااللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہ وَ مِنْھُمْ مَنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔٩

مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض ( موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔

رسول اکرم ۖ نے اس اہم شرعی فریضے کی اہمیت اور خاص مقام و مرتبہ کو بیان فرمایا ہے کہ:۔

\’\’من امر بالمعروف و نہی عن المنکر فہو خلیفة اﷲ فی الارض و خلیفة روسولہ۔\’\’ ١٠

جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتا ہے وہ زمین پر اﷲ تعالی کا نائب اور اس کے رسول جا نشین ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں بیان ہے کہ:۔

\’\’من امر بالمعرواف و نہی عن المنکر فہو خلیفة اﷲ فی الارض و خلیفة کتابہ و رسولہ۔\’\’١١

جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتا ہے وہ زمین پر اﷲ تعالی کا نائب اور اس کی کتاب اور اس کے رسول جا نشین ہے۔

ان دونوں احادیث میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے شخص کے لیے اﷲ کے حبیب اور ہمارے پیارے رسول صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے اﷲ کا ، اس کی کتاب اور اس کے رسول کا خلیفہ قرار دیا ہے۔

لہٰذا امام حسین ـ چونکہ اس منصب کے اہل ہونے کی وجہ سے اپنے منصوص فریضہ کو انجام دینے کے لیے قیام فرمایا ۔

امام حسین علیہ السلام ایک روایت نقل کرتے ہیں جن کے ایک چند جملے یہ ہیں:۔

\’\’فبدأ اﷲ بالامر بالمعروف و النہی عن المنکر فریضة منہ لعلمہ بانہا اذا ادیت و اقیمت استقامت الفرائض کلہاہیّنہا و صعبہا و ذالک ان الامر بالمعروف و النہی عن المنکردعاء الاسلام مع رد المظالم و مخالفة الظالم و قسمة الفیء والغنائم و اخذ صدقات من مواضعہا و وضعہا فی حقہا۔\’\’ ١٢

پس اﷲ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنااس دؤر میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جس پر شریعت قائم ہے متروک تھا ۔ جو بھی اس فریضے پر عمل کے لیے قیام کرتا تھا، لقمہ اجل بنتا یا تاریک زندانوں میں دھکیل دیا جاتا۔ یہاں تک کہ یہ فریضہ بالکل متروک

ہو گیا تھا۔ چنانچہ امام حسین ـ نے معاویہ کی موت سے ایک سال قبل منیٰ میں اصحاب ، تابعین، علمائ، و مقتدر شخصیات کو دعوت دیکر ان سب کو اس اہم فریضے کو ترک کرنے پر مورد عتاب وملامت قرار دیا اور ان کو عذاب الٰہی کی خبر دی۔اس خطبے ١٣ کا تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔

(اے اکابرین اسلام ) اے لوگو! عبرت و نصیحت حاصل کرو قرآن کے اس موعظہ سے جو خدا اپنے اولیاء کو قرآن مجید میں کرتا ہے اگر تم اپنے آپ کو اولیائے خدا، دیندار اور مخاطب قرآن سمجھتے ہو تو تمہیں(عالم اسلام کے اس اہم مسئلہ سے) لاتعلق نہیں رہنا چاہیے اور اس سلسلے میں احساس ذمہ داری کرنا چاہیے ،

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ قرآن میں خداوند عالم نے کئی دفعہ عیسائی اور یہودی علماء پر تنقید اور ان کی مذمت کی ہے کہ دیندار افراد اور افراد معاشرہ اور حکومت میں نا انصافی اور فساد دیکھ کر بھی خاموش ہیں۔ کیوں اعتراض نہیں کرتے ہو؟ اور آواز بلند نہیں کرتے ؟ پھر دوسری آیت کی تلاوت فرماتے ہیں جس میں بنی اسرائیل

کے ان افراد کی مذمت کی گئی ہے جو کافر ہو گئے تھے۔وہ کافر ہونے والے لوگ کون تھے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرنہی (ترک)کیا تھا۔

قرآن ان کے بارے میں کفر کی تعبیر بیان کرتا ہے

\’\’لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ\’\’ کہ کس قدر برا کام انجام دیتے ہیں ۔

خدا واند عالم مسیحی ، یہودی اور سابقہ ادیان کے ماننے والے علماء کی کیوں مذمت کرتا ہے ؟ اس لیے کہ:

\’\’کانوا یرون من الظلمة الذین بین اظہر ہم المنکر و الفساد۔\’\’

ظالمین ان کے سامنے طلم کر رہے تھے اور یہ دیکھتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے اور ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے تھے۔

\’\’لا ینہونہم عن ذالک۔\’\’

لاتعلق ہو کر ایک طرف ہو جاتے تھے اور انہیں روکتے نہیں تھے

خدا عالم ایسے لوگوں کو کافر معاشرہ میں روا ہے اس پر خاموش ہو اور ہر برے فعل کی توجیہہ کرتے ہواور اسے اسلامی اور شرعی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہو، تاکہ گرفت میں نہ آ سکو ؟ کیا ہوا کیوں خاموش ہو؟ بولتے کیوں نہیں؟ہاں میں جانتاہوںکہ کیوں خاموش ہو اور کیوں نہیں عن المنکر نہیں کرتے اور کیوں ان

ظالموں سے تم نے ساز باز کر لی ہے ۔\’\’ رغبة فی ما کانوا ینالون منہم و رہبة مما۔\’\’ تم میں سے بعض وہ ہیں جو ان سے ذاتی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کچھ ان سے خوفزدہ ہیں کہیں ان کے مفادات پر ضرب نہ پڑے ۔ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو لالچی اور دلدادہ ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کیوں اپنے آپ کو مشکل میں ڈالیں

اور نہی عن المنکر اور اعتراض و تنقید کے ذریعے خطرات مول لیں فی الحال تو ہمیں ذاتی طور پر ان(بنی امیہ کی حکومت) سے کو ئی نقصان نہیں ہے۔

تم لوگوں نے لالچ اور خوف کی وجہ سے سکوت اختیار کیا ہے اور اعتراض نہیں کرتے ، کیا قرآن نہیں پڑھتے کہ

\’\’لَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِیْ۔\’\’ لوگوں(حاکموں اور ظالموں) سے نہ ڈرو بلکہ مجھ (اﷲ) سے ڈرو،

کیا تم نے آیت کی تلاوت کبھی کی ہے؟ اور کیا کبھی سورة توبہ کی اکہترویں آیت کی تلاوت نہیں کی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ

\’\’الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ\’\’

مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ایک دوسرے کی نسبت ولایت اجتماعی رکھتے ہیں اور حق رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے مسائل میں دخل دیں۔

اس طرح کہ ایک دوسرے کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔خدا وند کریم نے یہ حق دیا ہے کہ تم ایک دوسرے کے سلسلے میں لا تعلق نہ رہو بلکہ تمہیں ایک دوسرے کے حق کے بارے میں حساس ہونا چاہیے۔امر بالمعرو و نہی عن المنکر جس کا مطلب ہمیشہ نظارت، تعمیری تنقید اور صحیح اعتراض

کرنا ہے۔ اسی طرح نیکی اور عدل و انصاف کی ترغیب دینا ، ظلم و ستم اور ناانصافی کے خلاف قیام کرنا ، اگر صرف اس فریضہ پر عمل ہو تو باقی تمام فرائض بھی نافذ و جاری ہو سکیں گے۔ فقط اسی حکم پر عمل پیرا ہو جاؤ ، خوف زدہ نہ ہو اور دنیا کے پیچھے نہ جاؤتو دیگر تمام مسائل بھی درست ہو جائیں گے۔ افسوس تم اسی

ایک فریضہ سے پہلوتہی کرتے ہو اور اس پر عمل کرنے کے لیے راضی نہیں ہو لیکن یاد رکھو!کہ میں اس پر عمل کرنے والا ہوں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دین و اسلام کی طرف دعوت دیتا ہے لیکن یہ دعوت محض زبانی نہیں ہے کہ اے لوگو! مسلمان ہو جاؤ ، اسلام سب سے اچھا دین ہے یا اسلام کے خلاف اٹھنے والے بعض شبہات کے جواب دے ددو اور فرض ادا ہو گیا۔نہیں ! بلکہ اسلام کیطرف دعوت دینا \’\’ردّ مظالم\’\’ کے ساتھ

ہے۔ اور رد مظالم کا مطلب یہ ہے کہ تمام نا انصافیوں کا عملا خاتمہ کیا جائے، یہ نہیں کہ صرف کہہ دینے پر اکتفا کرلیا جائے کہ \’\’ عدالت \’\’ اچھی چیز اور \’\’ ظلم \’\’ بری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں اور سب انسانوں کے نزدیک یقینی اور عقلی ہے اور اسے سمجھنے کے لیے شریعت کی بھی احتیاج نہیں ہے۔ اس

طرح کے نعرے اور بیانات کہ ظلم برا ہے اور عدل و انصاف اچھی چیز ہے کس درد کی دوا ہیں؟یہ زبانی جمع خرچ کسی کام کی نہیں بلکہ تمہاری ایک شرعی ذمہ داری ہے جسے رد مظالم کہتے ہیں یعنی ظلم و ستم کے مقابلے میں عملی قیام کرنا ، کو ختم کرنے کی کوشش کرنا اور عدل و انصاف کا ماحول فراہم کرنا یہ تمہارا وظیفہ

اور فرض ہے۔

ظلم بغیر ظالم کے نہیں ہوسکتا لہٰذا\’\’ مخالفة الظالم\’\’ ظالم کی مخالفت کرنا ضروری ہے، اس سے الجھنا اور جنگ کرنا بھی ضروری ہے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنا کہ ظلم و ستم بند کر دو ورنہ جنگ کے لیے آمادہ ہو جاؤ یعنی ضروری ہے کہ ہم اعتراض بھی کریں اور ظالم کے گریبان پر ہاتھ بھی

ڈالیں۔ اور \’\’قسمة الفی و الغنائم\’\’ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ بیت المال اور اجتماعی اموال و ثروت کی تقسیم بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا انتہائی اہم جزو اور موقع ہے۔ اموال عمومی کی عادلانہ تقسیم بھی حکم خدا ہے ۔ اس طرح \’\’ اخذ الصدقات\’\’ یعنی ثروت مند لوگوں سے مالیات و ٹیکس لینا اور اسے غرباء و مساکین

میں تقسیم کرنا یہ شرعی وظیفہ ہے۔

تم لوگ کہ جو اچھے اور نیک لوگ سمجھے جاتے ہو اور علماء دین کہلائے جاتے ہے۔ لوگوں میں تمہاری ہیبت خدا کی وجہ سے ہے۔ تم سے بزرگان اور ضعیف و ناتواں دونوں حساب لیں گے۔ سب دین کی وجہ سے تمہارا احترام کرتے ہیںاور تم خود کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہو حالانکہ تم ان پر کسی قسم کی

فضیلت نہیں رکھتے اور تم نے ان کے لیے کوئی بھی خدمت انجام دی۔ لوگ مفت میں تمہارا احترام کرتے ہیںاور تمہاری سفارش کو قبول کرتے ہیں۔ تم دین کی وجہ سے اپنی بات میں اثر رکھتے ہو اور لوگ تمہاری بات سنتے ہیں۔تم راستے میں بادشاہوں کی طرح چلتے ہو ، ذرا بتاؤ کہ کس طرح اس اعتبار و احترام کی منزل تک

پہنچے ہو۔یہ احترام صرف اس لیے ہے کہ لوگ تم سے توقع رکھتے ہیںکہ تم خدا کی خاطر اور اس کی راہ میں قیام کرو لیکن تم اکثر موقعوں پر وظیفہ الٰہی انجام دینے اور حقوق الٰہی اداکرنے میں کوتاہی کرتے ہو اور آسمانی اور الٰہی رہبروں کے حق کو حقیر سمجھتے ہو۔

مزید فرماتے ہیں:

\’\’فاما حق الضعفاء فضیعتم\’\’

یعنی تم لوگوں نے محروم اور مستضعف افراد کے حق کا ضایع کر دیا اور ان کے حق کے سلسلے میں کوتاہی کی اور خاموش رہ کر ان کے حق کو ضایع کردیا۔

اما حقکم بزعمکم فطلبتم\’\’ لیکن ہر وہ چیز جسے تم اپنا ذاتی حق سمجھتے تھے اس کو تم نے ضرور طلب کیا ۔

جہاں بھی محرومین اور فقراء کا حق تھا اس میں لیت و لعل سے کام لیا اور کہتے تھے کہ انشاء اﷲ خدا آخرت میں ان کے اس حق کو لوٹا دے گا لیکن جہاںبھی تمہارا ذاتی مفاد تھا اس کا مطالبہ شدّت سے کیا اور صرف اس سلسلہ میں تم نے قیام کیا آخر کیوں؟تم نے نہ خدا کی راہ میں کوئی مال خرچ کیا اور نہ ہی

اقدار اور عدالت کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا ، نہ اس بات پر تیار ہوئے کہ اسلام اور عدالت خواہی کے لیے اپنی قوم و قبیلہ اور دوستوں کی مخالفت مول لو اور ان سے اس سلسلہ میںالجھو ۔ ان تمام کوتاہیوں کے باوجود خدا سے جنت کے طلبگار ہو؟ اس آرام طلبی، دنیا پرستی اور سکوت کے باوجود اس بات کی توقع رکھتے ہو کہ

مزید  ماہ صفر اسلامی سن ہجری کا دوسرا مہینہ/ بدشگونی کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں

جنت میں پیغمبر اکرم ۖ کے جوار میں رہو گے؟

\’\’لقد خشیت\’\’ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ خدا آج کل میں ہی تم سے انتقام نہ لے لے جبکہ تم جنت اور جوار ِ انبیاء کے منتظر ہو۔ جان لو! کہ خدا تم سے انتقام لے کر رہے گا۔ تمہارا مقام خدا کے کرم کی وجہ سے ہے، تمہاری اپنی کوئی خوبی نہیں ہے۔تم الٰہی انسانوں، مجاہدوں اور عدالت خواہوں کا احترام و اکرام

نہیں کرتے اور وظیفہ شناس لوگوں کی قدر نہیں کرتے اب جبکہ خدا کی وجہ لوگوں کے درمیان محترم ہو تو کیوں آرام سے بیٹھے ہوئے ہو؟ کیوں آواز بلند نہیں کرتے ہو؟ جبکہ

\’\’لبعض ذمم آباء کم تفزعون و ذمة رسول اﷲ محقورة \’\’

خدا کا عہد توڑا جا رہا ہے حالانکہ تمہارے باپ کا میثاق اور عہد و پیمان ٹوٹ جائے اور اس کی بے حرمتی ہو جائے تو تم چین سے نہیں بیٹھتے اور فوراً آواز بلندکرتے ہو جبکہ اس کے برعکس جب خدا اور پیغمبر صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم کا عہد و پیمان پامال ہو تا ہے تو تم کوئی آواز بلند نہیں کرتے اور سکوت اختیار کر لیتے ہو اور

بہانے تراشتے ہو۔

مزید فرماتے ہیں:

\’\’ الاعمی و البکم و الزمن فی المدائن مہملة\’\’

گونگے ، بہرے ، اپاہج ، اندھے، فقیر اور بے چارے لوگو اسلامی سرزمین اور شہروں میں لاوارثوں کی طرح پھر رہے ہیں اور کوئی ان کا پرساں حال نہیں ہے۔ \’\’ولایرحمون\’\’ کوئی ان پر رحم نہیں کرتاتم اپنے دینی اور الٰہی وظیفہ پر عمل کرتے اور جب کوئی اپنے اس الٰہی وظیفہ پر عمل کرنا چاہے جیسا کہ میں(حسین ابن علی ) تو تم اس کی

مدد نہیں کرتے۔ عہد خدا کو پامال کیا گیا لیکن تم نے آواز بلند نہیں کی ، عہد خدا یہ ہے کہ ناچار ، اپاہج اور محروم لوگ اسلامی شہروں میں بھوکے نہ رہیںاور ایسا نہ ہو کہ لوگ ان کی مدد نہ کریں، یہ ہے خدا کا میثاق جس میں تم نے خیانت کی ہے۔ \’\’بالادہان و المصانعة عند الظلمةتعلمون\’\’

تم لوگوں نے ہمیشہ حکومت کی چاپلوسی اور اس سے ساز باز میںلگے رہتے ہوتاکہ تمہیں چین اور آسائش میسر آئے لیکن عوام الناس کے سکون و آسائش کی تمہارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ۔ تم اپنے مفادات کو اہم سمجھتے ہو لیکن غرباء اور فقراء کے بارے میں عہد ِ خدا و رسول ۖ کو اہمیت نہیں دیتے ہو۔

یہ تما محرمات الٰہی میں سے تھے جن کو تمہیں ترک کرنا چاہیے تھا لیکن تم نے ترک نہ کیا تمہیں ان ظالموںکو نہی عن المنکر کرنا چاہیے تھا جو نہی کیا ۔

\’\’انتم اعظم الناس مصیبة لما غلبتم علیہ منازل العلماء لو کنتم تشعرون\’\’

یاد رکھو تمہارا عذاب بھی بہت بڑا ہوگاچونکہ تم عالم دین بھی ہواور پیغمبر اکرم صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی بھی ہواور لوگوں کی نظریں تم پر لگی ہوئی ہیں اور لوگ تمہیں نمائندہ اسلام بھی سمجھتے ہیں ۔

\’\’مجاری الامور و الاحکام بایدی العلماء باﷲ\’\’

یعنی حکومت کے اجرا کی ذمہ داری اور مدیریت اور رہبری معاشرے میں علماء الٰہی کے پاس ہونی چاہیے جو کہ حلال و حرام خدا کے امانت دار ہیں لیکن یہ مقام تم سے چھینا جا چکا ہے اور آج حکومت علماء کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔

\’\’انتم المسلوبون تلک المنزلة\’\’

جانتے ہو کیوں تم سے حکومت و اقتدار چھین لیا گیا؟اس لیے کہ تم پرچم حق تلے متحد نہ ہوئے ، متفرق ہو گئے ، خدا کی سنت کے گارے میں تم نے اختلاف کیا جبکہ تمام باتیں اتم روشن تھیں۔

\’\’ما سلبتم الا بتفرقکم عن الحق بعد البینة الواضحة لو صبرتم علی الاذی و تحمّلتم

المؤنة فی ذات اﷲ\’\’

اگر تم خدا کی راہ میں اذیت ، رنج، توہین اور شکنجہ برداشت کرنے کے لیے تیار ہوتے تو حکومت آج تمہارے ہاتھ میں ہوتی لیکن تم اس بات پر تیار نہیں ہو کہ اسلام کی راہ میں رنج اٹھاؤ۔ \’\’و لکنکم مکنتم\’\’ تم لووگوں نے غیر عادل افراد اور ظالموں کو امور الٰہی اور حکومت سونپ دی ۔ اب وہ لوگ شبہات اور اپنی شہوات کے

مطابق حکومت کر رہے ہیںاور حکومت کو دین سے جدا کر دیا ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اسلامی معاشرہ پر مسلط کیا ؟ ۔

\’\’ سلطہم علی ذالک فرارکم من الموت\’\’۔ تمہارا موت سے فرار کرنا ان کے معاشرہ پر تسلط کا سبب بنا۔

تم لوگ موت سے ڈرتے ہو ، شہادت سے بھاگتے ہواور یہی موت سے فرار ہونا ان کے معاشرہ پر مسلط ہونے کا سبب ہے ۔ تم دنیا کی زندگی سے دل لگا بیٹھے ہوحالانکہ یہ زندگی تمہارے ساتھ بے وفائی کرے گی لیکن پھر بھی اس کو چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن یاد رکھو جو شخص بھی راہ خدا شہید نہ ہو بالآخر

موت اسے پالے گی۔کیا تم گمان کرتے ہو کہ اگر شہید نہ ہوئے تو ابد تک زندہ رہو گے؟یاد رکھو کچھ عرصے بعد ذلت کی موت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ تم دنیا کو چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن دنیا تمہیں چھوڑنا چاہتی ہے۔پس اے گروہ علماء الٰہی !وقت گزرنے سے پہلے اپنی جانوں کو خطرے میںڈالو اپنی جانوں کو دین اور اقدار کی راہ

میں خرچ کرو اور قربانی دو۔

\’\’اسلمتم الضعفاء فی ایدیہم\’\’۔تم نے ان ضعفاء ،فقراء اور محرومین کو جکڑ کر ظالم حکومت کے حوالے کردیا۔

\’\’فمن بین مستعبد مقہور\’\’۔ لوگوں کا ایک گروہ ان کا غلام بن چکا ہے اور ان کے پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔

\’\’و بین مستضعف علی معیشة مغلوب\’\’۔ان میں سے بعض غریب اور فقیر ہیں دو وقت کی روٹی بھی انہیں میسر نہیں ہے۔

\’\’ یتقلبون فی الملک بآرائہم\’\’ ۔

وہ لوگ جس طرح چاہتے ہیں اپنی ہوا و ہوس کے تحت حکومت کرتے ہیں اور محروم طبقہ اس ملک میں بیچارگی اور مظلومیت کی زندگی گزار رہا ہے اور بالکل تنہا ہے ان کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔

\’\’فی کل بلد منہم علی منبرہ خطیب یصقع\’\’۔

ہر شہر میں انہوں نے اپنے خطیب معین کئے ہوئے ہیں جو رائے عامہ کو ان کے لیے ہموار کرتے رہتے ہیں اور ان کا کام عوام سے جھوٹ بولنا اور فریب دینا ہے۔

\’\’فایدیہم فیہا مبسوطة و الناس لہم خول\’\’۔

ان کا ہاتھ کھلا ہوا ہے لیکن عوام کے ہاتھ انہوں نے باندھ دیئے ہیں تاکہ اپنا دفاع نہ کر سکیں۔

\’\’لایدفعون ید لامس\’\’۔

لوگ اپنی طرف بڑھنے والے ظالم ہاتھ کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ان میں دفاع کی قدرت نہیں ہے یہ تمام مناظر تم دیکھتے ہو لیکن تمہیں کوئی ملال نہیں ہوتا کہ کیوں فقراء اور محروم لوگ ملک میں بے یارو مددگار اور خالی پیٹ زندگی گزار رہے ہیں۔

\’\’جبار عنید علی الضعفة شدید\’\’۔

یہ ظالم ستمگر صاحبان اقتدار ہیں جو کمزوروں اور محروموں پر اسلامی تعلیمات کے خلاف حکومت کرتے ہیں۔ افسوس کہ بے چون و چرا ان کی اطاعت کی جاتی ہے حالانکہ یہ لوگ نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ ہی آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔

\’\’مطاع لا یعرف المبدی و المعید فیاعجبا\’\’۔

واقعا عجیب ہے اور کیوں میں تعجب نہ کروں؟ مجھے تم پر تعجب ہے کہ ظالموں کے پاؤں تلے زمین صاف اور استوار ہے حتیٰ کہ معمولی نشیب و فراز اور رکاوٹ نہیں کہ ان کا پاؤں اس سے ٹکرائے اور وہ گریں جبکہ اسلامی معاشرہ ان کے پاؤں تلے روندا جا رہا ہے اور کوئی اس کا دفاع کرنے والا نہیں ہے۔ دھوکہ باز

اور خائن افراد حکومت کر رہے ہیں۔ \’\’و عامل علی المؤمنین بہم غیر رحیم\’\’۔

حکومتی کارندے محبت و لطافت ، مہربانی اور انسانیت کی بو سے بھی بے بہرہ ہیں اس کے باوجود تم خاموش ہو۔

اس کے بعد امام علیہ السلام بارگاہ خدا میں فریاد کرتے ہیں :

\’\’اللہم انک تعلم انہ لم یکن ما کان منا تنافسا فی سلطان\’\’۔

خدایا ! تو جانتا ہے کہ ہمارا یہی قیام حکومت و اقتدار کی لالچ اور دنیا طلبی کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف تیرے دین کی سربلندی اور نفاذ شریعت کے لیے ہے ۔

انہوں نے خدا کی راہ میں موجود ہدایت کے چراغوں کو بجھا دیا ہے جو دین کے راستے کا پتہ بتاتے تھے اور میں چاہتا ہوں کہ چراغوں کو دوبارہ روشن کروں۔ میرا قیام اس وجہ سے ہے کہ لوگ سرگرداں ہو چکے ہیں ،میں ان کو ہدایت کے راستے سے آشنا کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا کہ ان خواب آلود چہروں پر اپنے

خون کے چھینٹے ماروں تاکہ یہ بیدار ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ دوبارہ حقیقت کو پالیں چاہے اس راہ میں میرا خون بہہ جائے۔ خدایا میں نے تیرے دین کی نشانیوں کو دوبارہ قائم کرنے اور تیری زمین میں واضح اصلاح کرنے کے لیے قیام کیا ہے۔اگر ان تمام باتوں کو سننے کے باوجود تم اور تمہارے ساتھی ہماری مدد نہ کروگے تو جان

لو کہ یہ ظالم پہلے سے زیادہ تم پر مسلط ہو جائیں گے اور اس قدر ظلم و ستم میں آگے اور اس قدر ظلم و ستم میں آگے بڑھیں گے کہ نور پیغمبر صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیں گے ۔ بہر حال اگر تم ہم سے ملحق نہ ہوئے اور ہمارا ساتھ نہ دیا تو ہمارے لیے ہمارا خدا کافی ہے اسی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی

طرف رجوع کرتے ہیں۔

و حسبنا اﷲ و علیہ توکلنا و الیہ انبنا و الیہ المصیر۔

میں نے تم پر اتمام حجت کردیا ہے۔ تم میری مدد کرو یا نہ کرو میں راہ خدا میں جہاد کروں گا اور دین کی سربلندی کی خاطر اپنے خاندان اور محبین کی جان کا نذرانہ پیش کروں گا اور اپنے خون سے دین کی آبیاری کروں گا۔

قرآن کریم میں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل نہ کرنے کو گزشتہ اقوام کے زوال و انحطاط اور انبیاء کرام علیہم السلام کے لائے ہوئے قوانین کی نابودی کا بنیادی سبب قرار دیتاہے ااور کہتا ہے کہ:

فَلَوْلَا کَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْھَوْنَ عَنِ الْفَسَا دِ فِی الْاَرْضِ اِ لَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْھُمْ وَ ا تَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِ وَ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۔ ١٤

پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے صاحبان ِ عقل پیدا ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی ظالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وہ گنہگار تھے۔

 

امام حسین علیہ السلام کاوصیت نامہ اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام

امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی کو جو وصیت لکھ کر دی اس کے ابتدائی حصہ میں آپ نے خدا وند متعال کی وحدانیت کی گواہی کے ساتھ رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم کی رسالت کی گواہی دی ، اس کے بعد جنت و جہنم کے حق ہونے کا اور آخرت کا ذکر کیا۔(یعنی آپ نے توحید ،رسالت اور

آخرت کے بارے میں اپنا عقیدہ بیان کیا) اس کے بعدارشاد فرمایا:۔

\’\’و انی لم اخرج اشرا و لا بطرا و لا مفسدا و لاظالما و انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی (ص) ارید ان امر بالمعروف و انہی عن المنکر و اسیر بسیرة جدی و ابی علی ابن ابی طالب فمن قبلنی بقبول الحق فاﷲ اولیٰ بالحق و من ردّ علی ہٰذا اصبر حتی یقضی اﷲ بینی و بین القوم و ہو خیر الحاکمین۔\’\’١٥

میرا یہ قیام کرنا نہ خود پسندی اور تفریح ہے، نہ طغیانی اور تکبر و غرور کے لیے ہے، نہ فساد برپا کرنے کے لیے اور نہ ہی ظلم کے لیے ہے۔میں اس لیے قیام کر رہا ہوں کے نانا کی امت کی اصلاح کروں۔میں امر بالمعروف اور نہی عن لمنکر کرنا چاہتا ہوں۔اور میں اپنے نانا اور اپنے باپ کی سیرت پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔

اب اگر کوئی میری دعوت کو حق سمجھ کر قبول کرے تو اس نے اﷲ کا راستہ اختیار کیا ہے اور اگر میری دعوت کو مسترد کر دے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ اﷲ میرے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کرے ، اور اﷲ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

امام عالی مقام کے اس وصیت نامہ میں تین چیزیں قابل ذکر ہیں۔

الف ۔ اس وصیت نامہ میں امام علیہ السلام نے اپنے مقصدِ قیام میں چار صفات رذائلہ کی نفی کرتے ہیں ۔

ان کی مختصرا لفظی وضاحت درج ذیل پیش کی جا رہی ہے۔

١۔ اَشرا :

مغرور ہونا ، اکڑ ہونا،خود پسندی، تکبر ، طغیانی۔

٢۔بطرا:

زیادہ نعمت میں پڑ کر اتراجانا، بہک جانا۔ اگر حق کی معنی میں استعمال ہو تو تکبر کے سبب سے حق کے قبول کرنے سے انکار کرنا۔ اگر بمعنی الشی ہو تو پسندیدہ شے کو نا پسند کرنا۔ اگر بعمنی النعمة ہو تو جہل و تکبر سے نعمت کو حقیر جاننا اور اس کا کر بجا نہ لانا۔

٣۔مفسدا :

فساد برپا کرنے والا ،یہ لفظ فساد سے نکلا ہوا ہے جس کے معنی ہیں: خراب ہونا، بگڑ جانایعنی تباہی و فسادیہ لفظ صلح کی ضد ہے ۔اس کے معنی بنیں گے کسی چیز کا اپنے توازن سے نکل جانایعنی کوئی چیز اپنے تناسب اور توزن سے نکل جائے گی تو فساد کا موجب بن جاء ے گی۔

مزید  شیطانی تہذیب کا جبر اوراصلاحِ معاشرہ

٤۔ظالما :

ظلم کرنے والا ، یہ لفظ ظلم سے نکلا ہوا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کا غلط استعمال ، کسی چیز کو غیر محل رکھنا ، شرارت ،ظلم اور حق کی کمی ، نقص، تعدی، تجاوز ، کسی غیر کی چیز پر قبضہ کرنایاکسی دوسرے کے ملک یا حد پر قبضہ کرنا۔

 

ب۔ تین چیزوں کو داخل مقصد کیا

 

١۔ طلب اصلاح امت جدی

لفظ اصلاح \’\’ صلاح\’\’ سے لیا گیا ہے ۔ جس کے معنی ہیں درست و ٹھیک ہونا، خرابی کا دور ہونا، کسی چیز کا اچھا ہونا اور شائستہ ہونا، کسی انسان کا نیک ہونااورکام میں درست ہونا۔ یہ لفظ فساد کی ضد ہے۔ یعنی جہاں فساد ہو گا وہاں صلاح نہیں ہوگی اور جہاں صلاح ہوگی وہاں فساد نہیں ہو

سکتا۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اگر امت فاسد ہو جائے تو اس سے صلاح کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس امت کی اصلاح نہ کی جائے۔ یہی مقصد امام عالی مقام علیہ السلام کا تھا کہ اب یہ امت فاسد ہو چکی ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس امت کی اصلاح کی جائے تاکہ اس سے بھلائی

اور خیر کی امید رکھی جائے اور یہ امت دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائے۔چنانکہ اس وقت امت ہر پہلو سے فاسد ہو چکی تھی اور امام اس کو صلاح و درستگی کی طرف لانا چاہتے ہیں۔

 

٢۔امر بالمعروف و نہی عن المنکر :اس جملے کی مختصر وضاحت اوپر پیش کی گئی ہے۔

 

٣۔سیرت جد امجد اور والد بزرگوار

اس جملے کی وضاحت کے لیے ہم ایک آیت کریمہ اور ایک ارشاد علوی پر اکتفا کرتے ہیں:

آلرٰ کِتٰبُ اَنْزَ لْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ۔ ١٦

ا لر ،یہ(عظیم) کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائیں، ان کے پروردگار کے حکم سے (اس سیدھے) راستے کی طرف جو زبردست اور تعریفوں والے اللہ کا ہے ۔

یہی مقصد امام عالی مقام علیہ السلام کا تھا کہ یہ امت اب اندھیروں میں گھِری ہوئی ہے ، گمراہ ہو چکی ہے، فاسد ہو چکی ہے لہٰذا اس کو نور کی طرف لایا جائے اسی طرح جس طرح رسول اﷲ صلّی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس امت کو گمراہی سے نکالا تھا تاکہ عدل و انصاف اور امن و امان کا قیام ہو۔

اسی طرح امام علی علیہ السلام ارشاد فرناتے ہیں:۔

\’\’والَّذِی بعثہ بالحق لتبلبلُنَّ بلبلة ولتغربلنّ غربلة ولتساطنّ سوط القدرحتّٰی یعود اسفلکم اعلاکم و اعلاکم اسفلکم ولیسبقنّ السّابقون کانوا قصروا ولیقصرنّ سبّاقون کانوا سبقوا۔ ١٧

اس ذات کی قسم !جس نے رسول صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تم بری طرح تہ و بالا کیے جاؤگے اور اس طرح چھانٹے جاؤگے جس طرح چھلنی سے کسی چیز کو چھانا جاتا ہے اور اس طرح خلط ملط کیے جاؤگے جس طرح چمچے سے ہنڈیا۔ یہاں تک کہ تمہارے ادنیٰ اعلیٰ اور اعلیٰ ادنیٰ

ہو جائیں گے ، جو پیچھے تھے وہ آگے بڑھ جائیں گے اور جو ہمیشہ آگے رہتے تھے وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

امام حسین علیہ السلام بھی اپنے والد بزرگوار کی طرح اس امت کی اصلاح کرتے ہوئے حق و عدل کو قائم اور امن و امان کا قیام کرنا چاہتے ہیں۔

ج۔ اس کے تیسرے حصہ میں اس مقصد میں تعاون کرنے والے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور تعاون نہ کرنے والے کے متعلق اﷲ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں۔

امام علیہ السلام کے اس جملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر لوگوں نے حق کا ساتھ دیا تو دین خدا سر بلند ہوگا اور معاشرہ میں امن و امان اور عدل و انصاف قائم ہوں گے ۔ اگر لوگوں نے ساتھ نہ دیا تو خدا ان سے مواخذہ ضرور کرے گا اور انہیں مصیبت میں مبتلا کرے ۔ اور بعد میں وہی لوگ مصیبتوں میں گرفتار

ہوئے تھے اور ظالموں حاکموں کا سامنا کرنا پڑا۔ کاش کہ حق کا ساتھ دیتے تو معاشرہ میں عزت و وقار اور سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے افسوس کہ ایسا نہیں کیا۔

 

مقام بیضہ پر امام کا خطبہ

مقام بیضہ پر حر ابن یزید الریاحی کے لشکر کے سامنے امام علیہ السلام نے ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا اس کا ایک حصہ ہم یہاںپر پیش کرتے ہیں:۔

\’\’ایہا الناس ان رسول اﷲ (س) قال من رأی سلطانا جائرا مستحلا لحرام اﷲ ناکثا عہدہ مخالفا لسنة رسول اﷲ یعمل فی عباد اﷲ بالاثم و العدوان فلم یغیر علیہ بفعل ولا قول کان حقا علی اﷲ ان یدخلہ مدخلہ الا و ان ہٰؤلاء قد لزموا طاعة الشیطان و ترکوا طاعة الرحمٰن و اظہروا الفساد و عطلوا الحدود و استأثروا بالفیء و

احلوا حرام اﷲ و حرموا حلالہ۔\’\’ ١٨

اے لوگو! پیغبر اکرم ۖ نے فرمایا ہے کہ جو بھی ایسے ظالم و جابر سلطان کو دیکھے جو خدا کی حرام کردہ کو حلال کرتا ہو، اﷲ سے کئے ہوئے عہد و پیمان کو توڑتا ہو ، سنت رسول ۖ کی مخالف کرتا ہو، اﷲ کے بندوں پر ظلم کرتا ہو اور حد سے تجاوز ہوتا ہو اور کوئی اسے اپنے ہاتھ اور زبان سے نہ روکے تو خدا پر

واجب ہے کہ اس( فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے والے) کواسی ظالم کے ساتھ محشور کرے۔بالتحقیق ان لوگوں(بنی امیہ) نے شیطان کی اطاعت کو اختیار کی ہے اور رحمان (اﷲ تعالیٰ)کی اطاعت کو ترک کیا ہے۔ انہوں نے زمیں میں فساد پھیلایا ہے۔ اﷲ کی نافذ کردہ حدود(احکام شریعت) کو معطل کر دیا

ہے، ملکی خراج پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے، حرام خدا کو حلال کیا ہے اور حلال خدا کو حرام قرار دیا ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے اس خطبہ میں اسلام کے طاقتور اور ظالم دشمن بنی امیہ کے جرائم ااور خرابیوں کا نہایت جرأت کے ساتھ واضح کیا ۔ ان کے اعمال اور کردار کا اپنی دینی حیثیت اور قائدانہ ذمہ داریوں سے موازنہ کیا اور رسول اﷲ کے قول کا سہارا لیتے ہوئے ایک بار پھر اپنی جدوجہد کے علل و اسباب بیان

فرمائے اور اموی حکومت کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا جو ایک فریضہ اور ذمہ داری کے بطور آپ پر واجب تھی ۔ امام علیہ السلام نے بتایا کہ اموی حکومت نے اسلام کو اپنی خواہشات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ وہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر ۖ میں تحریف اور تبدیلی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ یہی مقصد امام علیہ السلام مدینہ

سے نکلتے وقت اپنے وصیت نامہ میں ارشاد فرمائی جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا۔اور یہاں پر اس خطبہ میں فرمایا کہ

من رأی سلطانا جائرا ۔۔۔۔۔ کان حقا علی اﷲ ان یدخلہ مدخلہ۔

میں خدا کے دین کی خاطر ظالم و جابر حاکم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتاہوں چاہے اس میں ظاہری کامیابی حاصل ہو(جس کا نتیجہ ایک صالح حکومت کا قیام ہوگا) یا اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اپنے لہو کے ذریعے سوئی ہوئی انسانیت اور مردہ ضمیر کو زندہ کروں۔(شہادت کے ذریعے دین کی بقا

ہوگی)

 

میدان کربلا میں امام علیہ السلام کا پہلا خطبہ

اسی طرح میدان کربلا میں پہنچنے کے بعد اپنے اصحاب سے اشاد فرماتے ہیں:۔

\’\’اما بعد فقد نزل بنا من الامر ما قد ترون و ان الدنیا قد تغیرت و تنکرت و ادبرت معروفہا و لم یبق وستمرت حذاء و لم یبق منہا الا صبابة کصبابة الاناء و خسیس عیش کالمرعی الوبیل الا ترون الی الحق لا یعمل بہ و الی الباطل لا یتناہی عنہ لیرغب المؤمن فی لقاء اﷲ محقا فانی لا اری الموت الا سعادة و الحیاة مع الظالمین

الا برما۔\’\’ ١٩

معاملات نے جو ہمارے ساتھ جو صورت اختیار کر لی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ یقینا دنیا نے رنگ بدل لیا ہے اور بہت بری شکل اختیار کر گئی ہے۔اس کی بھلائیوں نے منھ پھیر لیا ہے اور نیکیاں ختم ہو گئی ہیں۔ اوراب اس میں اتنی ہی اچھائیاں باقی رہ گئی ہیں جتنا کسی برتن کی تہہ میں رہ جانے والا پانی ۔ اب

زندگی ایسی ہی ذلت آمیز اور پست ہو گئی ہے جیسا کوئی سنگلاخ اور چٹیل میدان ۔ آپ دیکھ رہے ہیں حق پر عمل نہیں ہو رہااور کوئی باطل سے روکنے والا نہیں ہے۔ ان حالات میں مرد مؤمن کو چاہیے کہ وہ خدا سے ملنے کی آرزو کرے۔ میں (جانبازی اور شجاعت کی) موت کو ایک سعادت سمجھتا ہوں اور ظالموں کے ساتھ

زندگی گزارنا میرے نزدیک ذلت اور حقارت ہے۔

یہ امام علیہ السلام کا سرزمین کربلا پر پہلا خطبہ ہے جس میں آپ نے اپنی جدوجہد کا وہی مقصد بیان فرماتے ہیں جو اس سے پہلے خطبوں میں ارشاد فرمایا جن میں مجموعی طور پر حکومت یزید کی مخالفت، احکام اسلامی میں لائی جانے والی تبدیلیاں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ یہ تما علل و

اسباب تھے امام علیہ السلام کے قیام کے۔ اب جبکہ حالات بدل چکے ہیں،برائیاں ظاپر ہو چکی ہیں، اعلی اقدار اور فضائل پامال کئے جا چکے ہیں، ذلت اور پستی لوگوں کی زندگیوں پر چھا گئی ہے، نہ حق پر عمل ہو رہا ہے اور نہ باطل سے روکا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں مؤمن اور دیندار شخص کا تبدیلی کی جدجہد کے دوران

شہادت اور خدا سے ملاقات کی آرزوکرنا بلکل بجا ہے۔

 

اعترافِ حقیقت

زیارت امام حسین علیہ السلام میں ہم پڑھتے ہیں کہ :

اشہد انک قد اقمت الصلاة و اٰتیت الزکوٰة و امرت بالمعروف و نہیت عن المنکر ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰة ادا کی اور نیکی کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا۔یہاں یقینا شہادت سے مراداسکا جانا پہچانا مفہوم یعنی گواہی دینا اور کسی مادی اور حقوقی موضوع کا ثابت کرنانہیں بلکہ ایک مقدس ہدف اور معنوی محرک کی بنیاد پر ایک معنوی حقیقت کا بیان اور ایک واقعیت کا

اعتراف ہے۔

اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ میں یہ بات سمجھتا ہوں اور اس حقیقت کو جانتا ہوں اور محسوس کرتا ہوںٍٍٍٍٍٍٍٍٍکہ حسین ابن علی آپ کی تحریک اور قیام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے تھی نہ کہ اہل کوفہ کے بلاوے یا دوسرے اسباب کی بنا پر۔اور اگر اس سلسلہ میں کوئی اور سبب تھا بھی اور کوئی

کوشش ہوئی بھی تھی تو یہ سب ایک عظیم مقصد اور ہدف تک پہنچنے کے لیے مقدمات کی حیثیت رکھتے تھے کہ : جاہدت فی اﷲ حق جہادہ۔ اﷲ کی راہ میں جہاد کا حق تھا۔

 

 

المراجع و المصادر

(١)القرآن

(٢)الامام علی :نہج البلاغہ( الشیخ مفتی محمد عبدہ،) طباعت دارلمعرفت بیروت لبنان

(٣)ابو جعفر محمد ابن جریر الطبری (متوفی ٣١٠ھ) تاریخ الامم و الملوک الطبری،ناشر : موسسة الاعلمی ۔ بیروت لبنان

(٤)(ابو محمد الحسن ابن علی الحسین ابن شعبہ الحرانی (المتوفی ٤ھ) تحف العقول عن آل رسولۖ ،الطبعة الثانیة ١٤٠٤ھ،

قم ایرن

(٥)(احمد ابن علی ابن حجر العسقلانی(المتوفی٨٥٢ )، لسان المیزان ،الطبعة الثانیة ١٣٩٠ھ بیروت لبنان ۔

(٦)السید محسن الامین (متوفی ١٣٧١)، لواعج الاشجان ،ص ٢٥، الناشر المکتبة بصیرتی )

(٧)(الشیخ باقر شریف القرشی متوفی معاصر۔ حیاة الامام الحسین ابن علی ، طبعة اولیٰ ١٣٩٥، طبع نجف الاشرف)

(٨)(الشیخ الجلیل ابن نما الحلی (متوفی ٦٤٥ھ)،مثیر الاحزان ، مطبنعة الحیدریة نجف سنة ١٣٦٩ھ

(٩)(الشیخ عبد اﷲ البحرانی(متوفی ١١٣٠ھ)، العوالم ۔ الامام الحسین ۔ طبع اولیٰ ١٤٠٧، مطبعہ :امیرقم ایران۔

(١٠)(الشیخ محمد بن الحسین الحر العاملی (متوفی ١٤٠٤)وسائل الشیعہ، طبعة الثانیة ١٤١٤ھ قم ایران۔

(١١)علامہ محمد باقر مجلسی (متوفی ١١١١ھ) بحار الانوار، طبعة الثانیة ١٤٠٣ھ بیروت لبنان۔

(١٢)(علی ابن موسی طاؤوس الحسینی (متوفی ٦٦٤ھ) طبع اولیٰ ١٤١٧ھ قم ایران)

(١٣) (میرزا حسین نوری الطبرسی (المتوفی ١٣٢٠ھ)مستدرک الوسائل، الطبعة الثانیة ١٤٠٨ھ ، قم ایران

 

 

 

حوالہ جات

١۔ (سورة طہ : آیة ١٣٢)

٢۔ (سورة ہود: آیة ١٢٣)

٣۔(سید علی شرف الدین موسوی علی آبادی ، تفسیر سیاسی قیام امام حسین ،ص ١٣٨)

٤۔(ایضا،ص١٣٩ ۔ ١٤١)

٥۔( السید محسن الامین (متوفی ١٣٧١)، لواعج الاشجان ،ص ٢٥، الناشر المکتبة بصیرتی )(الشیخ عبد اﷲ البحرانی

(متوفی ١١٣٠ھ)، العوالم ۔ الامام الحسین ۔ طبع اولیٰ ١٤٠٧، مطبعہ :امیرقم ایران۔ ص ١٧٤)

(علی ابن موسی طاؤوس الحسینی (متوفی ٦٦٤ھ) طبع اولیٰ ١٤١٧ھ قم ایران)

٦۔(الشیخ باقر شریف القرشی متوفی معاصر۔ حیاة الامام الحسین ابن علی ، طبعة اولیٰ ١٣٩٥، طبع نجف الاشرف)

٧۔(ابو محمد الحسن ابن علی الحسین ابن شعبہ الحرانی (المتوفی ٤ھ) تحف العقول عن آل رسولۖ ،الطبعة الثانیة ١٤٠٤ھ،

قم ایرن، ص ١٦٥)٨۔(القرآن الکریم ، سورة آل عمران آیة ١١٠)

٩۔(القرآن الکریم ، سورةالاحزاب آیة٢٣)

١٠۔ (میرزا حسین نوری الطبرسی (المتوفی ١٣٢٠ھ)مستدرک الوسائل، الطبعة الثانیة ١٤٠٨ھ ، قم ایران ،ج١٢، ص ١٧٩)١١۔(احمد ابن علی ابن حجر العسقلانی(المتوفی٨٥٢ )، لسان المیزان ،الطبعة الثانیة ١٣٩٠ھ بیروت لبنان ،ج ٤، ص ٤٨١)١٢۔ (وسائل الشیعہ ج ١٦ ص ١٣٠، بحار الانوار ج٩٧ ص ٧٩، تحفول العقول ص ٢٣٧

)

١٣۔(وسائل الشیعہ ج ١٦ ص ١٣٠، بحار الانوار ج٩٧ ص ٧٩، تحفول العقول ص ٢٣٧ )

١٤۔ (ہود ١١٦)

١٥۔ (بحار الانوار ج ٤٤ ص ٣٢٩۔٣٣٠)

١٦۔ (سورة ابراہیم ۔آیة ١)

١٧۔(نہج البلاغہ خطبہ ١٦، ج ١، ص ٤٧(مفتی محمد عبدہ، طباعت دارلمعرفت بیروت لبنان )

١٨۔(تاریخ طبری، ج٧، ص ٣٠٤، بحار الانوار ج ٤٤ ص ٣٨٢)

١٩۔ تاریخ الطبری ، ج٤، ص٣٠٥

  منبع :shiastudies.net

تبصرے
Loading...