تحریف قرآن اور شیعہ سنِّی نقطہ ٔ نظر

0 0

 

مسئلہ تحریف چھیڑنے کا مقصدان بعض اخباریین کا جواب دینا ہے،جنھوں نے بعض ایسی حدیثوں کو بیان کیا ہے جن کے ظاہر سے تحریف کا پتہ چلتا ہے اور ان کا جواب دینا بھی مقصود ہے جنھوں نے تحریف کی نسبت شیعوں کی طرف دی ہے کیوں کہ کچھ افراد ایسے بھی ہیں جنھوں نے ان حدیثوں کے اسناد و متون پر غور کئے بغیر تحریف قرآن کو اختیار کیا ہے اسی وجہ سے اہل سنّت کی کتابوں میں شیعوں کی کتابوں سے کہیں زیادہ قرآن کمی ،رفع تلاوت اور حذف بسم اللہ وغیرہ کے موضوع پر مواد موجود ہیں۔ 

سند و دلالت کے اعتبار سے ان روایتوں کا جواب ہم بعد میں دیں گے جنھیں شیعہ سنی راویوں نے نقل کیا ہے،البتہ عدم تحریف کے سلسلہ میں ،قرآن و سنت کی روشنی میں ہمارے گذشتہ استدلال کے پیش نظر ،ہم ان روایتوں کو ہرگز قبول نہیں کرسکتے۔ 

اہل سنّت اور روایات تحریف 

اہل سنّت کی صحاح اور دوسری کتابوں میں بعض ایسی روایتیں ملتی ہیں جو تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں ہم ان روایتوں کو ان مخرفوں کے لئے نقل کررہے ہیں جو تحریف کو شیعوں سے منسوب کرتے ہیں تاکہ وہ دیکھ لیں کہ ایسی روایتیں خود ان کی کتابوں مین بھی موجود ہیں،جن سے تحریف قرآن کا پتہ چلتا ہے۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ منافقین نے جیسے شیعہ روایتوں میں آمیزش کردی ہے ویسے ہی سنّی روایتوں میں بھی ملاوٹ سے کام لیا ہے بلکہ شیعوں سے زیادہ سنی کتابوں میں ایسی روایتے پائی جاتی ہیں۔استاد شیخ محمد محمد لمدنی (الازہر یونیورسٹی کی شریعت فیکلٹی کے ڈین)فرماتے ہیں:

اب رہی یہ بات کہ معاذاللہ شیعہ قرآن میں کمی کے قائل ہیں ،تو ان روایتوں کی بنا پر ہے جو شیعوں کی کتابوں میں موجود ہیں جیسا کہ ہماری کتابوں میں بھی موجود ہیں لیکں شیعہ سنی دونوں محققین نے ان روایتوں کو داوران کے بطلان کو واضح کیا ہے شیعہ امامیہ اور زیدیہ میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو،جیسا کہ اہل سنت میں بھی کوئی ایسا نہیں ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو،جیسا کہ اہل سنّت میں بھی کوئی ایسا نہیں جس کا عقیدہ قرآن میں تحریف کا ہو۔۔۔ایک مصری مصنف نے ۱۹۴۸ءمیں ‘‘الفرقان’’ نام کی کتاب لکھی ہے جسمیں اس طرح کی بہت سی سقیم روایتوں کو اہل سنّت کی کتابوں سے نقل کیا ہے ۔۔۔۔جسے حکومت مصر نے ضبط بھی کیا۔۔۔۔تو کیا اس بنا پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اہل سنّت قرآن کے تقدس کے منکر ہیں؟یا ان روایتوں کی بناپر جسے فلان نے نقل کیا ہے یا فلاں کتاب جسے فلاں نے لکھا ہے اہل سنّت نقص قرآن کے فائل ہوگئے ؟یہی بات شیعوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے اس لئے جیسے ہماری (اہل سنّت )کی بعض کتابوں میں ایسی روایتیں موجود ہیں یوں ہی شیعوں کی بھی بعض کتابوں میں ایسی روایتیں موجود ہیں۔’’ (۱) 

اصحاب کے مصحفوں میں اختلاف 

۱۔حدثنا عبداللہ حدثنا عبداللہ بن سعید حدثنا یحی بن ابراھیم بن سویدا لنخفی حدثنا ا با ن بن عمران قال:قلت العبدالرحمٰن بن اسود انک تقرأ:صراط من انعمت علیھم غیر الغضوب علیھم وغیرا الضالین۔(۲) 

…….. ابان ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمٰن ابن اسود سے کہا کہ آپ‘‘صراط من انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم و غیر الضالین’’پڑھتے ہیں عبداللہ نے بیان کیا کہ اسود اور علقمہ نے عمر کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے یوں ہی پڑھا__ اسی طرح علقمہ اور اسود کا بیان ہے کہ عمر‘‘صراط من انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم و غیرالضالین’’پڑھتے تھے۔(۳) 

1.مختلف راویوں سے پانچ مزید روایتیں ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عمر اسی طرح سے تلاوت کرتے تھے۔(۴) 

۲۔سات طریقوں سے عمر سے نقل ہو اہے کہ وہ‘‘الم اللہ لاالٰہ الاھو الحی القیام’’پڑھتے تھے۔(۵) 

۳۔ابن زبیر ‘‘فی جنات یتساء لون یا فلاں ما سلک فی سقر’’ پڑھتے تھے ۔ عمر و کہتے ہیں کہ مجھکو لقیط نے خبر دی کہ انہوں نے ابن زبیر سے سنا ۔ابن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عمر کو اسی طرح پڑھتے سنا ہے۔(۶) 

۴۔…..سعید ابن جبیر سے ‘‘فما استمتعتم بہ منھن الیٰ اجل مسمی’’ مردی ہے انھوں نے کہا کہ یہ ابیٔ ابن کعب کی قرائت ہے۔(۷) 

۵۔……حماد نے کہا کہ میں نے ابیٔ کے قرآن میں‘‘للذین یقسمون’’ پڑھا ہے۔(۸) 

۶۔….. اسی طرح حماد سے روایت ہے،انھوں نے کہا میں نے ابیٔ کے قرآن میں فلا جناح علیھم الاّ یطوف بھا ’’دیکھا ہے۔(۹) 

ربیع نے کہا ہے کہ قرائت ابیٔ ابن کعب میں آیت یوں تھی : 

‘‘فصیام ثلاثہ متتا بعات فی کفارۃ الیمین’’۔(۱۰) 

۸۔یسیر ابن عمر د سے مروی ہے کہ عبداللہ ابن مسعود نے ‘‘ ان اللہ لا یظلم مثقال نملۃ پڑھا ہے۔(۱۱) 

۹۔ …. نزال سے مروی ہے کہ ابن مسعود ‘‘وار کعی واسجدی جی الساجدین ’’پڑھتے تھے ۔(۱۲) 

۱۰۔عطا کہتے ہیں کہ ابن مسعود کی قرائت میں آیت ‘‘فی مواسم الحج ’’تھی ۔(۱۳) 

۱۱۔ حکم کا بیان ہے کہ ابن مسعود کی قرائت میں ‘‘بل یداہ بسطان’’ تھا۔(۱۴) 

۱۲۔سفیان کہتے ہیں کہ ‘‘و تزدّو او خیر الزاد ادالتقوی’’ابن مسعود کی قرائت ہے۔(۱۵) 

۱۳۔ہارون کا بیان ہے کہ ابن مسعود کی قرائت میں ‘‘من بقلھا و قثا ئھا وثو مھا و عد سھا وبصلھا’’تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ابن عباس بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔(۱۶) 

۱۴۔میمون ابن مہران نے سورہ والعصر کو ‘‘والعصران الانسان لفی خسر و انہ فیہ الیٰ آخرالدھر الذین آمنو ا وعملو ا لصالحات و تواصو با لصبر’’پڑھا اور فرمایا کہ یہ ابن مسعود کی قرائت ہے۔(۱۷) 

۱۵۔سفیان کا کہنا ہے کہ اصحاب ابن مسعود ‘‘اولئک لھم نصیب ما اکتسبوا’’پڑھتے تھے۔(۱۸) 

۱۶۔اسی طرح ایک دوسری جگہ ہے‘‘ولکل جعلنا قبلۃ یرضونھا’’(۱۹) 

۱۷۔ایک مقام پر ‘‘واقیموں الحج والعمرۃ للبیت’’ہے۔(۲۰) 

۱۸۔ایک جگہ ‘‘وحیث ماکنتم فَوَ لوّْ او جوھکم قبلہ ’’ہے۔ 

۱۹۔ ‘‘ولا تخافت بصوتک ولا تطال بہ’’بھی ہے۔ 

۲۰۔‘‘کذالک اخذربک اذا خذ القری’’بغیر واؤ کے ہے۔(۲۱) 

۲۱۔اسی طرح یہ آیت اس انداز میں ملتی ہے‘‘وزلزلو فزلز لو ا یقول حقیقۃ لرسول والذین اٰمنوا۔(۲۲) 

اس کے بعد صفحہ ۵۷ سے ۷۳ تک مضف ‘‘المصا حف ’’ نے ابن مسعود کی قرائت کو دوسروں کے اختلاف کے ساتھ ترتیب وار ذکر کیا ہے جیسا کہ ابو داؤد نقل کرتے ہیں۔۔جتنی جگہیں ہم نے اپر بیان کی ہیں ان کے علاوہ ایک سو تیس مقامات سے بھی زیادہ کی نشاندہی مضف‘‘الصاحف’’ نے کی ہے اس کے بعد ابن عباس کے مصحف کے ان اختلافات کو پیش کیا ہے جو دوسروں سے مختلف ہیں ان میں سے ہم ذیل کی سطروں میں کچھ نمونے پیش کررہے ہیں۔ 

۱۔ابن عباس نے پڑھا ‘‘فلا جناح علیہ ان لا یطوّف بھما’’ اس کو سات طریقوں سے ذکر کیا ہے۔(۲۳) 

۲۔مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے کہ ابن عباس نے ‘‘لیس علیکم جناح ان تبتغوافضلاً من ربکم فی مواسم لحج’’پڑھا۔(۲۴) 

۳۔ابن عباس ‘‘انّما ذالکم الشیطان یخوّ فکم اولیاءہ ’’پڑھتے تھے ۔ 

۴۔ابن عباس ہی سے‘‘ اولٰئک نصیب مما اکتسبوا’’بھی ہے ۔ابو یعلم کہتے ہیں کہ اس طرح اعمش نے پڑھا ہے۔(۲۵) ۵۔ابن عباس ‘‘واقیمو الحج والعمرۃ للبیت’’ پڑھتے تھے ۔ 

۶۔ابن عباس ‘‘و شاورھم فی بعض الامر’’ پڑھتے تھے ۔ 

۷۔ابن عباس‘‘وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی محدوث’’ پڑھتے تھے ۔ 

۸۔ابن عباس‘‘یا حسرۃ العباد’’ پڑھتے تھے ۔ 

۹۔ابن عباس ‘‘کانک خفی بھا’’ پڑھتے تھے ۔ 

۱۰۔ابن عباس ‘‘وان عزموا السّرح’’ پڑھتے تھے ۔(۲۶) 

اسی طرح مضف نے اور بھی نومقامات ذکر کئے ہیں۔ 

مصحف ابن زبیر 

۱۔ابن زبیر ‘‘لاجناح علیکم ان تبتغوں افضلا من ربکم فی مواسم الحج’’(۲۷)۔پڑھتے تھے۔ 

۲۔عمرو سے روایت ہے کہ ابن زبیر کہتے تھے کہ:بچے سورہ ۲۱ آیت ۲۹۵ میں ‘‘حرم’’پڑھتے تھے جبکہ لفظ ‘‘حرم’’ہے___سورہ ۲ آیت ۱۰۵ میں ‘‘دارست’’پرھتے تھے جبکہ‘‘درست’’ہو___ سورہ۸۸ آیت ۴ اور سورہ ۱۰۱ آیت ۱۱ میں ‘‘حمئۃ’’ پڑھتے تھے جبکہ ‘‘حامیۃ’’ہے۔(۲۸) 

۳۔ابن زبیر‘‘فی جنات یتساءلون یا فلان ماسلک جی سقر’’پڑھتے تھے۔(۲۹) 

۴۔ابن زبیر‘‘فیصبح الفساق علیٰ ما اسروا فی انفسھم نادمین’’پڑھتے تھے۔(۳۰) 

۵۔وہ پڑھتے تھے‘‘ولتکن منکم امۃ یرعون الی الخیر….. ویستعینون بااللہ علی ٰ مااصابھم ’’(۳۱) 

مصحف عبداللہ ا بن عمر وبن عاص 

……ابو بکر ابن عیاش بیان کرتے ہیں کہ‘‘ہمارے یہاں شعیب ابن محمد ابن عمر و ابن عاص آئے ۔گفتگوں کے دوران انہوں نے فرمایا کہ اے ابو بکر میں مصحف عبداللہ بن عمر و ابن عاص تم کو دکھا ؤں __ پھر انہوں نے جو حروف دکھا ئے وہ ہمارے مصحف کے حروف سے مختلف تھے__ ابو بکر ابن عیاش بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کھر درے کپڑے کا ایک کالا جھنڈا نکالا جس میں دو تکمہ اور کاج بنا ہوا تھا اور کہا کہ یہ پیغمبر کا جھنڈا ہے جو عمرو کے پاس تھا ۔ 

اور ابوبکر کہتے ہیں کہ اس حدیث میں محمد ابن انعلاء سے انہوں نے ابو بکر سے اضافہ کیا ہے ۔انہوں نےکہا کہ یہ ان کے جد کا مصحف ہے جس کو انہوں نے لکھا تھا اور وہ نہ عبداللہ کی قرأت میں ہے اور نہ ہمارے اصحاب کی قرأت میں ہے ،ابو بکر ابن عیاش نے فرمایا کہ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک قوم نے قرآن کو پڑھا وہ لوگ تو دنیا سے رخصت ہوگئے مگر ہم نے ان کی قرأت نہیں سنی۔(۳۲) 

مصحف عائشہ 

۱۔عروہ کا بیان ہے کہ مصحف عائشہ میں ‘‘حافظون اعلی الصلوات والصلوٰۃ الوسطیٰ و صلاۃ العصر’’تھا۔(۳۳) 

۲۔……. مجھ کو خبردی ہے حمید نے انہوں نے کہاکہ مجھ کو حمید نے بتایا ۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے عائشہ نے اپنے متاع کے بارے میں وصیت کی عائشہ کے مصحف میں ‘‘ان اللہ و ملائکۃ یصلون علیٰ النبی والذین یصلون فی الصفوف الاول’’موجود تھا۔حمید ہ کہتی ہیں کہ عثمان کے قرآن میں تبدیلی کرنے سے پہلے تک یہ آیت موجود تھی۔(۳۴) 

مصحف حفصہ 

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حفصہ نے ایک شخص کو قرآن لکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ جب (سورہ ۲ آیت ۲۳۸ )پر پہنچا تو ‘‘حافظو اعلی الصلوات والصلاۃ الو سطیٰ و صلاۃ الوسطیٰ و صلاۃ العصر ’’لکھ لینا(۳۵)۔(یہ حدیث مختلف طرق سے مروی ہے۔) 

مصحف ام سّلمہ 

عبداللہ بن رافع غلام ام سلمہ کہتے ہیں کہ ام سلمہ نے مجھکو قرآن لکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ جب اس آیت پر پہونچنا تو مجھ کو 

بتانا…… پھر انہوں نے فرمایا کہ ‘‘حافظو اعلی الصلوات والصلاۃ الوسطیٰ وصلاۃ العصر’’لکھو۔(۳۶) 

تابعین کے مصحفوں میں اختلاف 

۱۔میں نے عبیدا ابن عمر سے سنا وہ کہتے تھے کہ سب سے پہلے جو قرآن کی آیت نازل ہوئی وہ ‘‘سبح اسم ربک الذی خلقک’’تھی (۳۷)۔ 

۲۔عطا نے ‘‘یحوفکم اولیاءہ’’پڑھا۔(۳۸) 

۳۔عکرمہ‘‘وعلی الذین یطوفونہ ’’پڑھتے تھے ۔ 

۴۔مجاہد‘‘فلا جناح ان یطوّف بھما’’ پڑھتے تھے ۔ 

۵۔سعید ابن جبیر‘‘احل لکم الطیبات وطعام الذین االکتاب من قلبکم ’’ پڑھتے تھے ۔(۳۹) 

۶۔سعید ابن جبیر‘‘فاذاھی تلقم مایا فکون’’ پڑھتے تھے ۔(۴۰) 

۷۔علقمہ اور اسود‘‘صراط من انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔’’ پڑھتے تھے ۔(۴۱) 

۸۔محمد ابن ابو موسی سے‘‘ولٰکن الذین کفرو ایفترون علی اللہ الکذب و اکثرھم لا یفقھون’’(۴۲) مروی ہے۔ 

۹۔حطان ابن عبداللہ ‘‘وما محمد الارسول قدخلت من قبلہ رسول’’پر قسم کھاتے تھے۔(۴۳) 

۱۰۔صالح ابن کیسان نے‘‘وجائھم البینات’’پڑھا اور کہا‘‘یکاد’’اور‘‘ تکلیف السمٰوات’’ہے۔(۴۴) 

۱۱۔اعمش نے‘‘اللہ لا الٰہ الا ھو الحی القیّام ’’پڑھا۔(۴۵) 

۱۲۔اعمش‘‘انعام وحرث حرج’’ تھے اور قرآن میں ‘‘حجر’’ ہے(۴۶) 

صحاح وغیرہ میں روایات تحریف 

صحاح و غیرہ میں بہت سی روایتیں ایسی ملتی ہیں جو تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں ۔اگر ان روایتوں کو صحیح مان لیا جائے تو تحریف قرآن کا نظریہ اختیار کرنا پڑے گا۔ہم اس مقام پر ان میں سے چند روایتیں پیش کررہے ہیں:

۱۔‘‘……ابراھیم ابن علقمہ کہتے ہیں کہ جب میں عبداللہ کے اصحاب کے پاس شام پہونچا اور ابو درد ا ءکو خبر ہوئی تو وہ ہمارے پاس آئے اور کہا کیا تم میں کوئی قرآن پڑھنے ولا ہے؟ہم نے کہا ‘‘ہاں’’ تو ابودرداء نے کہا‘‘وہ کون ہے’’تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کردیا،ابو درداء نے کہا ‘‘پھر پڑھو’’۔میں نے پڑھا‘‘والیل اذا یغشی والنھار اذا تجلی والذکر ولا نثیٰ۔’’ابو درداء نے کہا کیا تم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک سے اسے سنا ہے ؟’’میں نے کہا‘‘جی ہاں’’تو ابو درداء نے کہا‘‘میں نے بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن اقدس سے اس کو سنا ہے لیکن یہ لوگ میری بات کا انکار کرتے ہیں۔’’(۴۷) 

۲۔…….. انس ابن مالک نے بیان کیا کہ رعلا،ذکوان ،عصیہ اور نبی کیان نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (اپنے دشمنوں سے نجات پانےکے لئے)مددطلب کی، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (۷۰)سترہ انصار کو مدد کے لئے بھیجا جن کو ہم قراء کہتے تھے،جو دن کو لکڑیا ں جمع کرتے تھے اور رات کو نمازیں پڑھتے تھے جب وہ برٔ معونہ پر تھے تو ان کے ساتھ ان لوگوں نے بے وفائی کی اور ان کو قتل کر دیا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جب یہ بات پہونچی تو آپ نے ایک مہینہ تک صبح کی نماز میں قنوت میں رعلا،ذکوان ،عصیہ اور نبی کیان پر بددعا کی۔انس فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کے درمیان قرآن پڑھا تھا 

‘‘بلغو اعنا قو منا انّا قد لقیناربنا فرضی عناارضانا’’لیکن اب یہ آیت نہیں ہے۔(۴۸) 

۳۔عمر کا بیان ہے کہ اگر مجھ کو لوگوں کے یہ کہنے کا خوف نہ ہوتا کہ عمر نے کتاب خدا میں اضافہ کردیا ہے تو میں آیۂ رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھ دیتا۔(۴۹) 

اس کا مطلب یہ کہ عمر قرآن میں کمی اور تحریف کے قائل تھے اس لئے کہ آیہ رجم موجودہ قرآن میں نہیں ہے اور عمر نے منسوخ التلاوت ہونے کی بات بھی نہیں کہی ہے اس لئے کہ وہ اس آیت کو لکھدینا چاہتے تھے مگر لوگوں کے خوف کی بنا پر نہ لکھ سکے۔اسی بناپر سیوطی نے صاحب البرھان زرکشی سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ: 

‘‘اس کے مظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ آیہ رجم کی کتابت جائز تھی لیکن لوگوں کی ہاتوں کا خوف مانع ہو گیا،جائز چیزوں کے لئے کبھی کبھی الگ سے مانع بھی آجاتا ہے۔جب لکھنا درست تھا تو اس کا مطلب یہ نکلا کہ وہ آیت ثابت ہے اس لئے کہ مکتوب کی یہی شان ہوتی ہے۔(۵۰) 

۴۔ابن مسعود سے منقول ہے کہ انہوں نے معوذتین کو اپنے مصحف سے حذف کردیا اور فرمایا کہ یہ کتاب اللہ کا جزد نہیں ہے۔(۵۱) 

۵۔بخاری نے اپنی تاریخ میں حذیفہ سے روایت کی ہے ۔حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سورۂ احزاب کی تلاوت کی مگر اس میں سے (۷۰)سترہ آیتیں بھول گیا اور اب ان کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔(۵۲) 

ابو عبید نے کتاب فضائل میں اور ابن انباری و ابن مردو یہ نے بھی عائشہ سے ایسی ہی باتیں نقل کی ہیں ۔آپ فرماتی ہیں: 

سورۂ حزاب عہد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دو سو آیتوں پر مشتمل تھا لیکن جب عثمان نے مصحف کو لکھا تو ان کو اتنی ہی آیتیں ملیں جتنی آ ج موجود ہیں۔(۵۳) 

مزید  افسانہ آیات شیطانی یا افسانہ ”غرانیق“ کیا ھے؟

‘‘زربن جیش کہتے ہیں کہ ابیٔ بن کعب نے مجھ سے کہا کہ تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیتیں پڑھتے ہو تو میں نے کہا۷۳ یا ۷۴ آیتیں ۔تو ابیٔ نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔سورۂ احزاب تو سورہ بقرہ کے برابر یا اس سے بڑا تھا،اس میں آیہ رجم بھی تھی ۔زربن جیش کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آیۂ رجم کیا ہے تو آپ نے فرمایا:‘‘اذاز نیا الشیخ والشیخۃ فارجموھا البتۃ نکالاً من اللہ واللہ عزیز حکیم’’یہ آیۂ رجم ہے۔(۵۴) 

۶۔عمروبن دینار کا بیان ہے کہ میں نے بجالہ تمیمی سے سنا،انہوں نے کہا کہ عمر بن خطاب نے مسجد میں ایک لڑکے کی آغوش میں ایک مصحف دیکھا جس پر‘‘النبی اولیٰ بالمومنین من انفسھم وھو ا بو ھم’’لکھا ہو ا تھا۔عمر نے کہا اس کو مٹادو۔اس نے جواب دیا میں نہیں مٹاؤں گا۔یہ ابی ابن کعب کے مصحف میں موجود ہے۔وہ پھر ابیٔ کے پاس گئے ابیٔ نے کہا کہ میں رات دن قرآن میں صرف کرتا ہوں اور تمہیں بازاروں سے فرصت نہیں۔(۵۵) 

۷۔ابو واقد اللیثی کہتے ہیں کہ جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو ہم ان کے پاس جاتے تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی کی تعلیم فرماتے تھے۔ایک دن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔انا انزلنا المال لاقامۃ الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ ولو ان لابن آدم واد یا لاحب ان یکون الیہ الثانی ولو کان الیہ الثانی لا حب ان یکون الیھما الثالث ولا یملاء جوف ابن آدم الا التراب ویتوب اللہ علیٰ من تاب۔(۵۶) 

۸۔ابو حرب بن ابوالا سود اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ:ابو موسیٰ شعری نے اہل بصرہ کے قاریوں کو بلایا تو ان کے پاس تین سو قاری آئے۔ابو موسیٰ نے کہاکہ آپ حضرات اہل بصرہکے برگزیدہ افرااد اور قادری ہیں آپ لوگ قرآن کی تلاوت فرمائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ زمانہ گزر جانے کے بعد آپ لوگوں کے دل بھی آپ سے پہلے والوں کی طرح سخت ہو جائیں ۔ہم لوگ عہد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک سورہ پڑھا کرتے تھے جو طول و شدت میں سورۂ برأت کی طرح تھا لیکن ہم اس کو بھول گئے البتہ‘‘لوکان لابن آدم واریان من مال لا تبغیٰ واد یا ثالثا ولا یملاجوف ابن آدم الا التراب’’یاد رہ گیا ہے۔ 

ہم لوگ اور مسودہ بھی پڑھا کرتے تھے جو مسبحات (وہ سورہ جن کے شروع میں سبح یا یسبح آیا ہے جیسے جمعہ ،سورہ حشہ،کی طرح کا تھا میں اس کو بھی فراموش کر گیا صرف یہ آیت یاد رہ گئی ہے‘‘یا ایھا الذین اٰمنولم تقولون مالاتفعلون فتکتب شھادۃ فی اعناقکم فتسألون یوم القیامۃ(۵۷) 

۹۔…… حذیفہ نے کہا کہ اب تم سورہ برأت کا چوتھا ئی بھی نہیں پڑھتے ۔(۵۸) 

۱۰۔ابن عباس فرماتے ہیں جب آیہ وانذرعشیرتک الا قربین‘‘ورھطک منھم الخلصین’’نازل ہوئی۔(۵۹) 

۱۱۔…… عمر ابن خطاب نے ابئ سے کہا کہ کیا ہم کتاب خدا میں ان انتفاءکم من آبائکم کفربکم’’نہیں پڑھتے تھے تو ابی نے کہا کہ ہاں (پڑھتے تو تھے)پھر عمر نے پوچھا کہ الولد للفراش و للعاھر الحجر کا فقرہ کیا کتاب خدا میں نہیں تھا۔(۶۰) 

۱۲۔ثوری کہتے ہیں کہ ہم تک یہ خبر پہونچی ہے کہ مسیلمہ کے دن وہ اصحاب نبی قتل کردئے گئے جو قاری قرآن تھے اسکی بنا پر قرآن کے حروف ضائع ہوگئے۔(۶۱) 

۱۳۔حسن کہتے ہیں کہ عمر نے چاہا تھا کہ قرآن میں یہ لکھ دیا جائے :ان رسول اللہ ضرب فی الخمرثمانین۔(۶۲) 

۱۴۔طبرانی نے سندموئف کے ساتھ عمر ابن خطاب سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ__ عمر نے فرمایا کہ ‘‘قرآن میں دس لاکھ ستائیس حروف تھے’’درآں حالیکہ اب جو قرآن ہے وہ اس کے ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہے(۶۳) 

اْمید ہے کہ اہلسنت کی کتابوں میں اس طرح کی روایتوں کی موجودگی کے بعد تحریف قرآن کے عقیدہ کو شیعوں کی طرف منسوب کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ 

۱۵۔عمر نے کہا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورا قرآن حاصل کر لیا ہے۔کیا معلوم کہ پورا قرآن کیا ہے اس لئے قرآن کا بہت ساحصہ ضائع ہو گیا ہے۔ہاں یہ کہسکتے ہو کہ میں نے اس کا ظاہر حاصل کر لیاہے(۶۴) 

۱۶۔عائشہ کہتی ہیں کہ قرآن میں یہ بھی تھا‘‘عشر ضعات معلومات یحرّمنّ’’(۶۵) 

۱۷۔مالک نے کہا کہ جب سورۂ برائت کے ابتدائی حصّے ساقط ہوئے تو انہیں کے ساتھ آیہ بسم اللہ الرّحمٰن الرحیمبھی ساقط ہوگئی۔اس لئے کہ یہ تو ثابت ہے کہ سورۂ برائت سورہ بقرہ کے برابر تھا(۶۶) 

۱۸۔…… ابن مسعود نے کہا کہ ہم عہد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آیہ بلغ کو یوں پڑھا کرتے تھے۔یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولیٰ المومنین وان لم تفعل فما بلّغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس(۶۷) 

۱۹۔…… عائشہ کہتی ہیں کہ آیہ ‘‘رجم’’اور آیہ ‘‘رضاع کبیر’’نازل ہوئی تھی۔میرے تکیہ کے نیچے ایک کاغذ میں لکھی ہوئی رکھی تھی ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب ہم لوگ اس مصیبت میں مبتلاہوئے تو ایک بکری آئی اور اس کو چباگئی(۶۸)۔ 

۲۰۔ابو سفیان کلاعی نے بیان کیا کہ مسلمہ ابن مخلد انانصاری نے ایک دن ان لوگوں سے کہاکہ ‘‘مجھے قرآن کی ان دوآیتوں کے بارے میں بتاؤ جو قرآن میں درج نہیں ہیں لیکن لوگ نہ بتاسکے۔وہاں ابو الکنود سعد بن مالک بھی موجود تھے ۔تو ابن مسلمہ نے کہا وہ آیتیں یہ ہیں :ان الذین آمنوں اوھاجرو اوجاھدو افی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم ،الا ابشر وانتم المفلحون والذین آووھم و نصروھم وجادلوا عنھم القوم الذین غضب اللہ علیھم اولٰئک لا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزاءً بما کانو یعلموں(۶۹) 

۲۱۔مسور ابن مخرمہ کا بیان ہے کہ عمر نے عبدالرحمٰن بن عوف سے کہا کہ جو آیتیں نازل کی گئی تھیں کیا ان میں تم اس آیہ‘‘ان جاھدو اکما جاھدتم اول مرّۃ ’’کو داخل سمجھتے ہو کیوں کہ اب ہم اس آیت کو (قرآن میں)نہیں پاتے عبدالرحمٰن نے کہا کہ جو چیزیں قرآن سے ساقط کردی گئیں ان کے ساتھ یہ آیت بھی ساقط کردی گئی(۷۰) 

۲۲۔ابی ابن کعب سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے مصحف میں سورہ ‘‘حفد’’ اور سورہ ‘‘خلع’’بھی درج کیا تھا۔(اس کی آیتیں یہ ہیں)الّٰلھم انا نستعینک و نستغفر ک ونثتی علیک ولا نکفر و نخلع و نترک من یفجرک اللّٰھم ایاک نعبدو لک نصلی و نسجد والیک نسعی و نحفد نرجو رحمتک و نخشی عذابک ان عذابک بالکافرین ملحق(۷۱) 

تحریف کے سلسلہ میں روایات اہلسنّت کا جواب 

الف۔تمام مسلمانوں کے نزدیک قرآن کا تواتر ثابت ہے اور کسی ایک کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ کل قرآن یا بعض قرآن احادسے ثابت ہے’’اس بنا پر ہن ان تمام روایتوں کو ٹھکرادیں گے جن کی روسے کل قرآن یا بعض قرآن کا ثبوت عدم تو اتر سے ملتا ہے اسی طرح ہم ان روایتوں پر بھی اعتناء نہیں کریں گے جو بعض آیتوں کی تلاوت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔ایسی کل روایتیں ۔‘‘احاد’’ہیں اور قرآن کا اثبات نہیں کر سکتیں اور نہ اس تواتر قرآن کے مقابلہ میں ٹہرسکتی ہیں ،جو تمام مسلمانوں کے نزدیک ثابت ہے۔لہٰذا ایسی روایتوں کو باطل قرار دینا ضروری ہے چاہے ان کی سند کا صحیح ہونا بھی فرض کر لیا جائے ،اس لئے کہ ایسی روایتیں قرآن کے مخالف ہیں (جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں)اور تمام مسلمانوں کا تواتر قرآن پر اعتقاد بھی ہے۔ 

ب۔اب رہ گئی اختلاف قرأت کی بات جو بعض آیتوں میں اصحاب سے نقل ہوئی ہے تو ہم اس سلسلہ میں آئندہ بحث کریں گے لیکن یہاں مختصر اً یہ عرض ہے کہ یہ قرأتیں ان قرائتوں میں سے ہیں جو عہد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان اصحاب کے درمیان سنی گئی ہیں جو الگ الگ قبیلوں کے تھے اور انہوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مکمل طور پر سنا بھی نہیں تھا جس طرح بعض اصحاب آیتوں یا ان کی صحیح قرأت کو بھول گئے تھے(ٍ۷۲)اور انہوں نے اس کو اسی طرح سمجھا جس طرح دیکھا تھا۔جیسا کہ بہت سی گزشتہ روایتوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے بلکہ یہ سب مختلف شہروں میں چلے گئے اور انہوں نے قرآن کو ایک دوسرے سےمختلف انداز میں پڑھا اسی بنا پر جب حذیفہ نے آذربأ میں قرأت کا یہ منظر دیکھا تو اہل شام اور اہل عراق کے اختلاف کے خوف سے عثمان کے پاس آئے اور ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا اس کے بعد عثمان نے لوگوں کو ایک قرأت پر جمع کرنے کی کوشش کی تاکہ قرآن تحریف اور کمی سے محفوظ رہ جائے اور اس سلسلہ میں امام علی علیہ سلام نے بھی ان کی تائید کی اس بنیاد پر ہم کہ سکتے ہیں کہ جو قرائتیں قراء اور مفسرین وغیرہ نے نقل کی ہیں ان میں سب صحیح نہیں ہیں بلکہ ہماری نظر میں وہ قرائتیں صحیح ہیں جو واقعاً تو اتر سے ثابت ہیں اسی کے ساتھ ساتھ یہ قول بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان قرائتوں میں فقط ایک ہی قرائت صحیح ہے لیکن چونکہ متعدد متواتر قرائتوں 

میں اس ایک قرأت کی تعیین ممکن نہیں ہے۔اس لئے ہم اس قرأت کو صحیح سمجھتےہیں جو قطعی طور پر تواتر سے ثابت ہو،چاہے وہ ایک دو ہو یا زیادہ ۔ 

ج۔اب رہا ابن مسعود کا معوذتین کے جز و قرآن ہونے سے انکار ،تو اس سلسلہ میں اول تو ہم ابن کی یہ بات قبول ہی نہیں کرتے اس لئے کہ قرآن اور ان دونوں سوروں کا وجود تمام مسلمانوں کے نزدیک تواترسے ثابت ہے ۔یا پھراسی کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے ابن مسعود کی طرف منسوب انکار کی تفی کی ہے جیسا کہ فخر الدین رازی کی تفسیر سے ظاہر ہوتا ہے اور ‘‘نووی’’بھی فرماتے ہیں کہ:تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سورہ ٔ فاتحہ اور معوذتین قرآن کا جزو ہیں اورجو بات ابن مسعود کے بارے میں نقل کی جاتی ہے وہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ ابن حزم نے بھی ابن مسعود کی طرف اس نسبت سے انکار کیا ہے۔اور یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ عاصم نے ابن مسعود سے قرأت لی ہے درآل حالیکہ عاصم کے مصحف میں معوذتین اور سورۂ فاتحہ موجود ہے۔ 

اس سلسلہ میں صاحب‘‘المناھل’’رقم طراز ہیں کہ :ابن معومد کے انکار سے ہم کو کوئی نقصان نہیں پہونچتا اس لئے کہ ان دونوں سوروں کے جزو قرآن ہونے پر تواتر موجود ہے(۷۳) 

لیکن قسطلانی نے جب یہ دیکھا کہ ابن مسعود کی طرف منسوب اس قول کی تکذیب سے ان روایوں کی تکذیب ہوتی ہے،جنھوں نے اس بات کو نقل کیا ہے تو انہوں نے اس کی ایک دوسری توجیہ پیش کی آپ فرماتے ہیں کہ:ان ابن مسعود لم ینکرقرا نیتھا بل انکرا ثباتھما فی مصحفہ(۷۴)ابن مسعود نے ان دونوں سوروں کے قرآن ہونے سے انکار نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے مصحف میں درج کرنے سے انکار کیا ہے۔ 

لیکن ہم قسطلانی سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کو اس قسم کی توجیہ کی ضرورت ہی کیوں پڑی جب ابن مسعود کو اس کے قرآن ہونے سے انکار نہیں ہے تو پھر انہون نے اپنے مصحف میں اس کو جگہ کیوں نہیں دی؟!!!! 

لیکن باقلانی نے ابن مسعود کی طرف اس بات کی نسبت دینے والے راویوں کی تکذیب کی ہے۔آپ فرماتے ہیں:جو شخص اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ابن مسعود نے ان کے جزو قرآن ہونے سے انکار کیا ہے وہ جاہل ہے اور تحصیل (قرآن)سے بہت دور ہے اس لئے کہ ان دونوں سوروں کے نقل کا ذریعہ بھی وہی ہے جو قرآن کے نقل کا ذریعہ ہے(۷۵) 

اس سلسلہ میں قرطبی فرماتے ہیں:۔ 

‘‘یزید ابن ہارون نے کہا کہ‘‘معوذتین’’منزلت کے اعتبار سے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے برابر ہیں اور جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ قرآن کا جزو نہیں ہے وہ کافر ہے۔اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ پھر عبداللہ ابن مسعود کے قول کے بارے میں کیا خیال ہے؟تو انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ ابن مسعود گئے مگر انہوں نے پورا قرآن حفظ نہیں کیا۔اس بات میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے’’(۷۶)۔ 

لیکن یہ تو جیہ بہت ہی کمزور توجیہ ہے اس لئے کہ ابن مسعود وہ تھے جن سے قرأت قرآن کے سلسلہ میں رجوع کرنے کے لئےپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تھا لہٰذا قرطبی کی یہ توجیہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔قرطبی جلدا صفحہ ۵۷ 

د۔ابئ سے منسوب ہے کہ ان کے محصف میں ‘‘سورہ خلع’’اور سورۃ لحفد’’کا اضافہ تھا۔ 

اس سلسلہ میں قاضی فرماتے ہیں: 

‘‘عبداللہ یا ابی ابن کعب یا زید یا عثمان یا علی علیہ سلام اور اولاد علی علیہ سلام کی طرف یہ منسوب کرنا کہ انہوں نے قرآن کی آیت کو حذف کردیا،یا اس سے انکار کردیا ،یا قرآن میں کوئی تبدیلی کردی ،یا جو قرأت رائج تھی اس کے خلاف قرآن کی تلاوت کی درست نہیں ہے ……. اب رہی قنوت کی بات جو ابی ابن کعب سے مروی ہے جس کو انہوں نے اپنے مصحف میں درج کیا تھا تو اس کا قرآن ہونا کہیں سے ثابت نہیں ہے بلکہ وہ ایک طرح کی دعا تھی اور ان سے دعا ہی کے درج ہونے کی روایت کی گئی ہے ان کے مصحف میں وہ چیزیں درج تھیں جو قرآن نہیں ہیں جیسے دعا اور تاویل۔(۷۷)’’ 

ھ۔آیہ رجم کے سلسلہ میں عمر کی طرف منسوب بات بھی قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ آیہ رجم فقط عمر سے مخصوص ہے جس کو مسلمانوں میں سے کسی نے بھی قبول نہیں کیا ہے اور آیہ رجم کو بحثیت آیت تسلیم کرنا ممکن بھی نہیں ہے۔اسکے علاوہ آپ پر بھی ملاخطہ فرفائیں کہ آیہ رجم میں لفظ‘‘البتۃ’’ بھی ہے جو کلام بلیغ میں نہیں استعمال ہوتا۔ 

باقلانی فرماتے ہیں: 

‘‘ابی ابن کعب سے قنوت والی روایت اور ان کا اپنے مصحف میں درج کرنا ،تو اس کے قرآن ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک قسم کی دعاتھی !!اگر جزو قرآن ہوتا تو قرآن ہی کی طرح ہم تک نقل ہوکر آتا اور اس کی صحت کا ہم کو علم حاصل ہوتا(۷۸)۔’’ 

بہر حال یہ چند روایتیں جو علماء اہلسنت کی کتابوں سے نقل کی گئی ہیں اور تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں یا تو صحابہ کے خلط ملط کردینے کی بناپر ہیں یا ان کے سہوکی بناپر ہیں یا پھر ان سے اجتہاد کی اغلطی ہوئی ہے:اب رہی یہ بات کہ راویوں نے نقل روایت میں کہیں کچھ ملانہ دیاہو تو یہ ان کے اوپر افترا ہے۔بہر حال تمام مسلمانوں کے نزدیک قرآن کے تواتر سے ثابت ہونے کے بعد ایسی روایتوں کو ترک کردینا ضروری ہے چاہے یہ روایتیں بخاری ،مسلم اور دوسری صحاح و سنن کی کتابوں میں ہی کیوں نہ پائی جاتی ہوں۔ 

مزید  پیغمبر کی شرافت و بلند ھمتی اور اخلاق حسنہ

قصہ بسم اللہ کی تحریف کا۔ 

بعض افراد نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے جزو قرآن نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اگرچہ اس 

مقام پر علماء نے تحریف کی صراحت نہیں کی ہے لیکن اس سے بھی تحریف کا پتہ چلتا ہے۔ 

علامہ زمخشری فرماتے ہیں کہ‘‘قراء وفقہاء مدینہ و بصرہ کا کہنا ہے کہ بسم اللہ نہ تو فاتحہ الکتاب کی آیت ہے اور نہ کسی دوسرے سوروکی(۷۹)نیز یہ روایت بھی بیان کی گئی ہے کہ پہلے بسم اللہ ناز ہوئی پھر کچھ دنوں کے بعد اس سے‘‘الرحمٰن’’کو ملحق کیا گیا اور پھر اس کے بعد پوری آیت نازل ہوئی(۸۰)۔اس کا مطلب یہ نکلا کہ بسم اللہ اس سورۂ فاتحہ کا جزونہیں ہے جس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابتدائے بعثت سے پڑھتے تھے۔ 

باقلانی نے متعدد صفحات میں یہ بحث کی ہے کہ بسم اللہ سورۂ فاتحہ کی آیت نہیں ہے ۔اور نہ کسی دوسرے سورہ کی ابتدائی آیت ہے یہ بس سورۂ نمل کا جزو ہے(۸۱)۔حذف بسم اللہ کے قول سے تحریف قرآن کا پتہ چلتا ہے۔جو لوگ بسم اللہ کو جزو قرآن نہیں سمجھتے ۔امام رازدی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ 

‘‘اگر بسم اللہ جزو قرآن نہیں ہے تو پھر قرآن تبدیلی سے محفوظ نہیں رہا،اگر قرآن زیادتی سے محفوظ ہے اور اس کے بعد بھی یہ گمان کرنا جائز ہے کہ صحابہ نے (بسم اللہ کو)بڑھا دیا ہے تو یہ گمان کرنا بھی درست ہوگا کہ انہوں نے کچھ کمی بھی کی ہوگی اور اس بات کو تسلیم کرلینے کے بعد قرآن کی حجّت باقی نہیں رہ جائے گی(۸۲)۔ 

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ شیعہ ،تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں،ان کا جواب دیتے ہوئے سیدابن طاؤس فرماتے ہیں: 

ہم نے تمہاری تفسیر میں یہ دعویٰ دیکھا ہے کہ بسم اللہ جزو قرآن نہیں ہے۔اس کو عثمان نے قرآن میں درج کردیا ہے یہی تمہارے سلف کا خیال ہے،وہ لوگ بھی بسم اللہ کو آیہ قرآن نہیں سمجھتے جبکہ قرآن کی یہ ۱۱۳ آیتیں ہیں جن کو آب حضرت زائد تصور کرتے ہیں__اے ابو علی کیا تمہارا یہ اعتراف اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ تم نے قرآن میں اسی چیز کا اضافہ کردیا جو قرآن نہیں ہے(۸۳) 

حروف مقطعات سوروں کے نام ہیں۔ 

جیساکہ متعدد علماء اہل سنّت نے لکھا ہے کہ حروف مقطّعات سوروں کے نام ہیں۔یہ بات بھی تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہے۔سید ابن طاؤس اہلسنت کے جوا ب میں فرماتے ہیں:۔‘‘ہم نے تمہاری تفسیر میں دیکھا ہے ،تم ان حروف مقظّعات کو جو سوروں کے ابتدا میں ہیں،سوروں کے نام بتاتے ہو اور اس قرآن کو دیکھا جس کے بارے میں تم لوگوں کا کہنا ہے کہ عثمان نے لوگوں کو اس پر مجتمع کیا ہے۔اس قرآن میں بہت سے سورے ایسے ہیں جن کے شروع میں حروف مقطعات ہیں لیکن ان کا حروف مقطعات پر نام نہیں رکھا گیا ہے(۸۴)…… 

عبد الرحمٰن ابن اسلم سے منقول ہے کہ حروف مقطعات سوروں کے نام ہیں(۸۵) ۔ایک طرف تو علماء کی یہ تصریح کہ سوروں کے نام صحابہ کی طرف سے رکھے گئے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حروف مقطعات سوروں کے نام ہیں(اگر یہ نام صحابہ نے رکھے ہیں) تو صحابہ کی طرف سے رکھے گئے ناموں کا حروف کا مقطعات کی شکل میں قرآن میں موجود ہونا تحریف پر بہت واضح دلالت ہے۔ 

تلاوت کا منسوخ ہونا 

جو روایتیں بعض سوروں (برأت ،احزاب وغیرہ )میں کمی پر دلالت کرتی ہیں جن کو ہم نے 

گزشتہ صفحات میں نقل کیا ہے۔ان روایات کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ یہ نقص نہیں ہے بلکہ اس کی تلاوت اللہ کی طرف سے منسوخ ہوگئی ہے اس کو ‘‘نسخ تلاوت’’ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 

لیکن ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے اس لئے کہ ‘‘نسخ تلاوت’’کی بات تو بعد میں اہلسنت کی ان روایتوں کو درست کرنے کے لئے بنائی گئی ہے جو بعض سوروں یا آیتون کے حذف یا گم ہونے یا بکری کے چباجانے پر دلالت کرتی ہیں۔‘‘نسخ تلاوت’’کی بات تو ان روایتوں کی توجیہ کے لئے گھڑی گئی ہے جو بعض لوگوں نے بغیر سوچے سمجھے بیان کی ہے۔اس لئے بہت سے علماء اہلسنت نسخ کی اس قسم (نسخ تلاوت)کا انکار کرتے ہیں۔ 

امام سرخسی فرماتے ہیں:مسلمانوں کے نزدیک اس قسم کانسخ(نسخ تلاوت)جائز نہیں ہے لیکن بعض ملحدین جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں مگر بباطن اسلام کو نقصان پہونچانے کی کوشش کرتے ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے اور اس کی دلیل میں ابوبکر سے مروی روایت (جس میں موجود ہے کہ دور رسالت میں ہم لوگ‘‘لا ترغبو اعن آبائکم فانہ کفربکم’’پڑھاکرتے تھے!یا انس کی روایت (جس میں‘‘بلغو اعنا قو مناانا تمینا ربنا فرض عنا وارضانا’’موجود ہے)یا عمر کی روایت سے جو کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن میں (زمانہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں)آیہ رجم پڑھی تھی اور ابی کے قول سے استدلال کیا ہے جنہوں نے فرمایا کہ سورو احزاب سورہ بقرہ کے برابر یا اس سے بھی بڑا تھا۔اس کے بعد سرخسی نے مزیدفرمایا کہ۔ 

شافعی اس قول کی مدافعت تو نہیں کرتے لیکن انہوں نے اسی ملتی جلتی ‘‘دودھ پلانے ولی روایت سے استدلال کیا ہے۔شافعی نے عائشہ کی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے جسمیں ملتا ہے کہ قرآن میں ‘‘دس مرتبہ’’دودھ پلانے کا حکم تھا اور پھر یہ بانچ مرتبہ’’دودھ پلانے والے حکم کے ذریعہ منسوخ ہو گیا اور یہ آیت ان آیتوں میں سے ہے جو بعد وفات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھی جاتی تھی اس کے بعد سرخسی فرماتے ہیں:‘‘__ اس قول کے باطل ہونے کی دلیل قرآن کی آیت ‘‘انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون’’ہے اس لئے کہ اس حفاظت سے مراد خدا کے پاس حفاظت نہیں ہے بلکہ ہمارے پاس حفاظت مراد ہے اس لئے کہ خدا غفلت و نسیان سے بری ہے(۸۶)۔ 

اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ اس شریعت مقدسہ کو منسوخ کرنے کے لئے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔اگر ہم یہ تسلیم کولیں کہ بعض آیتوں کو منسوخ کرنے کے لئے ایسا ہوا ہے تو پھر تمام آیتوں کے لئے بھی ایسا ممکن ہے۔اس طرح تو پھر کوئی فریضہ جو لوگوں کے درمیان ثابت ہوچکا ہے باقی نہیں رہ جائے گا۔اگر اسکو مان لیا جائے تو پھر اس سے زیادہ قبیح بات کیا ہوگی۔ 

ڈاکٹر صبحی صالح فرماتے ہیں: 

نسخ کی تین قسمیں لوگوں نے قراردی ہیں:۱۔حکم منسوخ ہونا تلاوت کا باقی رہنا۔۲۔تلاوت کا منسوخ ہونا حکم کا باقی رہنا۔۳۔تلاوت اور حکم دونوں کا منسوخ ہونا……….. لیکن دوسری اور تیسری قسم بنانے میں بڑی جرأت سے کام لیا گیا ہے جس میں ان کے خیال سے آیہ معینہ کی تلاوت منسوخ کردی گئ کہیں حکم کے ساتھ اور کہیں حکم تو باقی ہے،اگر آیت منسوخ ہوگئی ہے بہر حال ناظرین محترم اگر اس قسم پر غور فرمائیں تو بڑی آسانی سے اس قسم کی خطا کا پردہ فاش ہوجائے گا۔اس مسئلہ کو تین قسموں تقسیم کرنا اس وقت درست ہوتا جب ہر قسم کے لئے بہت زیادہ شواھد یا کم سے کم کافی شواھد موجود ہوتے۔دراں حالیکہ شائقین ‘‘نسخ’’کے لئے ان تینوں قسمون میں سے ہر قسم کے لئے ایک دو سے زیادہ شواھد نہیں ہیں اور وہ تمام اخبار بھی اخبار احاد ہیں اور اخبار احاد کے ذریعہ نہ تو نزول قرآن پر یقین کرنا جائز ہے اور نہ نسخ قرآن پر۔اس مستحکم رائے کو ابن ظفر نے کتاب‘‘الینبوع(۸۷)’’میں اختیار کیا ہے۔انہوں نے کسی بھی آیت کے منسوخ التلاوۃ ہونے سے انکار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ خبر واحد سے قرآن ثابت نہیں ہو سکتا۔(۸۸)’’ 

پھر اس کے بعد شیخ صبحی نے منسوخ التلاوۃ آیتوں کی مثالیں پیش کی ہیں جیسے آیہ رجم یادس مرتبہ دودھ پلانے والی آیت وغیر……. 

ہم شیخ صبحی سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس صورت میں ان روایتوں کے بارے میں آپ کیا کہتے 

ہیں جو صحاح اہلسنت اور ان کی کتابوں میں درج ہیں اگر یہ روایت احاد ہیں جیساکہ آپ نے ذکر فرمایا ہے اور یہی درست بھی ہے تو ان روایتوں کو باطل ٹھہرانا ضروری ہے جن کو بخاری اور مسلم وغیرہ نے پیش کیا ہے__ مثلاً آیہ رجم اگر باطل ہے تو اس سلسلہ میں مقصّر کون ہے؟ 

اسی طرح جو روایتیں ابو موسیٰ اشعری،ابن عمر اور ابی ابن کعبوغیرہ سے مروی ہیں وہ سب صحیح ہیں یا جھوٹی ہیں تو کیا صحاح وغیرہ سے نقل ہونے والی ایسی روایتوں کے ذریعہ تحریف کا قول نہیں ثابت ہوتا………… اسی بناپر آیت اللہ خوئی فرماتے ہیں: 

‘‘نسخ تلاوت کا قول بعینہ تحریف اور سقاط کا قول ہے۔اس لئے کہ تلاوت یا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے منسوخ ہوئی ہو گی یا ان کے بعد جو زعماء حکومت ہوئے ان کی طرف سے۔اگر نسخ تلاوت کے قائلین اسکو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سمجھتے ہیں تو یہ محتاج دلیل ہے،علماء خبر واحد کے ذریعہ قرآن کے منسوخ ہونے کو جائز نہیں سمجھتے یہ بات اجماعی ہے۔اس کی تصریح ایک جماعت نے اصولی اور غیر اصولی کتابوں میں کی ہے بلکہ شافعی اور ان کے اکثر اصحاب نیز اکثر اہل ظاہر تو سنّت متواترہ کے ذریعہ بھی کتاب کے منسوخ ہونے کو درست نہیں سمجھتے یہی احمد بن حنبل کا بھی خیا ل ہے(۸۹)۔ان سے مروی دو روایتوں میں سے ایک روایت میں ۔بلکہ کچھ لوگ جو کہتے ہیں کہ سنت متواتر ہ کے ذریعہ کتاب کا منسوخ ہونا ممکن ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا واقع نہیں ہو ا ہے(۹۰)۔لہٰذا ایسی روایتوں کے ذریعہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسخ تلاوت کی نسبت کیسے صحیح ہوسکتی ہے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسخ کی نسبت ان تمام روایتوں کے مخالف ہے جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قرآن میں کاٹ چھانٹ بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوئی ہے(جیسا کہ ہم نے سابق میں بیان بھی کیا ہے) اگر نسخ تلاوت کا قول اختیار کرنے والوں کا خیال یہ ہے کہ تلاوتیں بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسند قیادت پر آنے والے زعماء کے ذریعہ منسوخ ہوئی ہیں تو یہ بعینہ تحریف کا قول ہے اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریف کا قول اکثرعلماء اہل سنت کا قول ہے اس لئے کہ وہ جواز نسخ تلاوت کے قائل ہیں چا ہے حکم منسوخ ہوا ہو یا نہ منسوخ ہوا ہو(۹۱) …….. ہاں معتزلہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ نسخ تلاوت جائز نہیں ہے(۹۲)۔’’اس کے علاوہ جزیری نے اپنی کتاب ‘‘الفقہ علی المذاہب الا ربعہ ’’جلد ۳ صفحہ ۲۵۷ پر اور استاد السایس نے اپنی کتاب‘‘فتح المنان علی حسن العریض صفحہ ۲۱۲ و صفحہ ۲۱۷ پر بھی نسخ تلاوت کی نفی کی ہے۔(التمہید فی علوم القرآن جلد ۲ صفحہ ۲۸۱ ) 

جمع قرآن اور تحریف 

ہمیشہ مسلمانوں کی یہ سیرت رہی ہے کہ انہوں نے قرآن کی کسی ایک آیت کے بارے میں شک نہیں کیا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ پورا قرآن کسی کمی اور زیادتی کے بغیر منزّل من اللہ ہے۔اس کے باوجود اہل سنت نے صحاح وغیرہ میں جمع قرآن کے سلسلہ میں ایسی روایتیں لکھی ہیں جن سے آیات قرآنیہ کا عدم تو اتر سمجھ میں آتا ہے بلکہ آیتیں روایات احادسے ثابت ہوتی ہیں۔تو لیجئے ہم یہاں اس قسم کی روایتیں پیش کررہے ہیں اس کے بعد ان روایتوں سے بحث کی جائے گی: 

زید ابن ثابت کا بیان ہے کہ ابو بکر نے مجھ کو بلایا جبکہ یمامہ والوں سے لڑائی ہورہی تھی اور اس وقت عمر بن خطاب بھی ان کے پاس آئے اور کہا کہ‘‘جنگ یمامہ میں قرآن کریم کے کتنے ہی قاری شہید ہوگئے ہیں اور مجھے خدشہ ہے کہ قاریوں کے مختلف مقامات پر شہید ہو جانے کے باعث قرآن مجید کا اکثر حصہ جاتا رہیگا لہٰذا میری رائے یہ ہے آپ قرآن کریم کے جمع کرنے کا حکم فرمائیں ،میں نے عمر سے کہا کہ میں وہ کام کس طرح کروں جو رسواللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟!!عمر نے کہا خدا قسم پھر بھی یہ اچھا ہے ۔پس عمر برابر اس بارے میں مجھ سے دریافت کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں میرا سینہ کھولدیا اور میں بھی ان سے متفق ہو گیا۔زید کا بیان ہے کہ ابوبکر نے فرمایا‘‘تم نوجوان اور صاحب عقل و دانش ہو اور تمہاری قرآن فہمی پر کسی کو کلام بھی نہیں ،تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے وحی بھی لکھا کرتے تھے ۔پس سعی بلیغ کے ساتھ قرآن جمع کردو۔پس خدا کی قسم اگر مجھے پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیا جاتا تو اس سے بھاری نہ سمجھتا جو مجھے حکم دیا گیا کہ قرآن کریم کو جمع کروں__ میں نے عرض کیا کہ ‘‘آپ دونوں وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا ہے؟!!! انہوں نے فرمایا :خدا گی قسم پھر بھی یہ بہتر ہے’’اس سلسلہ میں برابر ابوبکر سے بحث کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اسی طرح کھولدیا جس طرح عمر اور ابوبکر کا کھول دیا تھا میں نے قرآن کریم کو کھجور کے پتوں ،پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کیا یہاں تک کہ سورو توبہ کی یہ آخری آیت،ابو حزیمہ انصاری کے پاس ملی اور کسی سے دستیاب نہ ہوئی (ولقد جاءکم رسول’’….)پس یہ جمع کیا ہوا انسحہ ابو بکر کے پاس رہاجب ان کا انتقال ہو گیا تو عمر کے پاس اور پھر حفصہ نبت عمر کی تحویل میں رہا(۹۳)۔ 

ابن ابی داؤدبیان کرتے ہیں کہ عمر نے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا تو کہا گیا کہ وہ فلاں کے پاس تھی جو یمایہ میں قتل کردئے گئے ۔تو عمر نے انااللہ کہا اور قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیا وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے قرآن کو مصحف میں جمع کیا(۹۴)۔ 

ابن بریدہ کا بیان ہے کہ سب سے پہلے قرآن کو جمع کرنیوالے سالم غلام خد یفہ تھے۔انہوں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک قرآن نہیں جمع کرلیں گے دوش پر ردا نہیں ڈالیں گے پھر جب قرآن جمع ہوگیا تو آپس میں مشورہ کیا کہ اس کا نام رکھا جائے۔بعض لوگوں نے کہا کہ اس کا نام‘‘اسفر’’رکھا جائے تو سالم نے کہا نہیں یہ یہود کا رکھا ہوا نام ہے جس کی وجہ سے سب نے اس نام کو نامناسب سمجھا۔سالم نے کہا کہ میں نے ایسی چیز جشہ میں دیکھی ہے جس کو ‘‘مصحف’’کہتے ہیں۔اس نام پر سب کا اتفاق ہو گیا اور سب لوگوں نے مل کر اس کا نام ‘‘المصحف رکھا(۹۵)۔ 

مزید  امام کی شناخت کا فلسفہ(پھلا حصہ)

زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے مصحف کو لکھا تو اس میں ایک آیت نہیں تھی جسے ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے سنتے تھے وہ آیت ‘‘من الموضین رجالُٗ صدقوا…… ’’ خریمہ کے پاس ملی۔عمر کتاب خدا کی کسی آیت کو اس وقت تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک اس پر دو گوا ہیاں نہ گزر جائیں۔انصاری میں سے ایک شخص دو آیتیں لے آیا تو عمر نے فرمایا کہا کہ اس پر میں تمہارے علاوہ اور کوئی گواہ طلب نہیں کرو نگا۔(۹۶) 

یحیٰ ابن عبدالرحمٰن حاطب کہتے ہیں کہ عمر نے قرآن جمع کرنے کا ارادہ کیا تو لوگوں میں اعلان کردیا کہ‘‘جس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن کا کوئی حصہ سنا ہو وہ ہمارے پاس لے آئے’’اس زمانہ میں لوگوں نے کاغذ،پتھر کے ٹکڑوں اور کھجورکی پتیوں پر قرآن جمع کر رکھا تھا۔عمر دو گواہوں کی گواہی کے بغیر قرآن کا کوئی حصہ نہیں قبول فرماتے تھے۔پس خزیمہ نے آکر کہا کہ آپ نے قرآن کی دو آیتیں چھوڑ دیں ان کو درج نہیں کیا تو عمر نے کہا کہ وہ دو آیتیں کون کون سی ہیں خزیمہ نے کہا کہ میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقد جاءکم رسول……… حاصل کیا ہے(۹۷)۔ 

انس ابن مالک کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو قرآن لکھ رہے تھے جب کبھی کسی آیت میں اختلاف ہوتا تھا تو ہم اس شخص کو یاد کرتے تھے جس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا تھا اور جب ایسا شخص حاضر نہیں ہوتا تھا یا کسی دیہات میں ہوتا تھا تو لوگ قبل وبعد کی آیت لکھ لیتے تھے اور اس آیت کی جگہ چھوڑ دیتے تھے یہاں تک کہ وہ شخص آجائے یا اس کے پاس کسی کو نھیجا جائے(۹۸) 

ابی ابن کعب نے بیان کیا کہ لوگوں نے قرآن کو ابو بکر کے زمانے میں جمع کیا۔لوگ لکھتے جاتے تھے اور ابئ املا کراتے جاتے تھے جب لوگ سورۂ برائت کی آیت‘‘ثم الضرفوا صرف اللہ………. ’’پر پہونچے تو انہوں نے سمجھا کہ یہ قرآن کی آخری آیت ہے تو ابئ نے کہا :نہیں 

اس کے بعد ہم نے دو آیتیں اور پرھی ہیں‘‘لقد جاء کم رسول(۹۹)……….. ’’ 

ابو داؤد ابن زبیر سے مروی ہے کہ ابو بکر نے عمر اور زید سے کہا کہ ‘‘آپ لوگ مسجد کے دروازہ پر بیٹھ جائیں اور جو کتاب خدا کی کسی آیت پر دو گواہی پیش کرے اسے لکھ لیں(۱۰۰)۔ 

ابن سیرین کا کہنا ہے کہ ابو بکر و عمر دونوں کا انتقال ہو گیا مگر قرآن جمع نہیں ہوا(۱۰۱)۔ 

ابن سعد سے روایت ہے کہ سب سے پہلے عمر نے قرآن جمع کیا(۱۰۲)۔ 

اس طرح کی بہت سی روایتیں صحاح اور غیر صحاح میں موجود ہیں جن کے قبول کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے عدم تواتر کو مان لیا جائے یا قرآن کا اخبار احادسے ثابت ہو نا تسلیم کر لیا جائے جیسے خریمہ کا قول ،یا دو گواہوں کے ذریعہ قرآن حاصل ہونے والا قول یا ابی ابن کعب کی روایت ،یا ایک ایسے آدمی کا قول جو بادیہ نشین تھا جس کے پاس آدمی بھیجا جاتا تھا تب وہ پڑھ کر سناتا تھا۔یا وہ روایت جس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کی خلاں آیت ایک شخص کے پاس تھی جو جنگ یمامہ میں قتل کردیا گیا__ اگر صحاح کی روایتوں کو اسی طرح قبول کر لیا جائے تو اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ 

زرکشی اس نکتہ کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے ان کی توجیہ بھی بیان کی ہے۔مگر ان تو حیہات کا قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔وہ خزیمہ سے زید کے دو آیتیں لینے کے بارے میں فرماتے ہیں: 

___ اس سے قرآن کا اثبات خر واحد سے نہیں ہو تا اس لئے کہ زید اور دوسرے صحابہ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی تعلیم کی بنا پر ان آیتوں کا علم حاصل کیا تھا اور یہ جانا تھا کہ سورہ احزاب میں وہ آیتین کس جگہ ہیں اور پھر اس کو بھول گئے پھر جب سن لیا تو یاد آگئیں۔زید کا لوگوں سے پوچھ گچھ کرناعلم حاصل کرنا نہ تھا بلکہ ان سے ایک طرح کی تقویت حاصل کررہے تھت(۱۰۳)۔ 

لیکن اس طرح کی توجیہ پر کوئی دلیل نہیں ہے۔اگر ایسی توجیہ قبول کرلیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فقط زیداور خزیمہ کے علم سے تواتر ثابت ہو جائے گا؟ اور کیا تمام صحابہ اس آیت کو فراموش کرگئے تھے؟!!ایسی صورت میں ماننا پڑے گا کہ بعض آیات کو شاید تمام صحابہ بھول گئے تھے یہاں تک کہ خزیمہ بھی !!!اور کوئی ایسا بھی نہ تھا جو یاد دہانی کراتا اور ان کو مدد پہونچاتا!!!مذکورہ بالاتو جیہ سے زیادہ گھٹیا تو جیہ تو وہ تو جیہ ہے جو زرکشی نے زید کا قول‘‘وجدت آخرسورۃ براءۃ مع خزیمۃ بن ثابت ولم اجدھا مع غیرہ’’(سورہ ٰ برائت کا آخری حصّہ صرف خزیمہ کے پاس ملا اور کسی کے پاس نہیں ملا)نقل کرنے کے بعد کی ہے۔زرکشی فرماتے ہیں:زید کی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو زید کے طبقہ میں تھے اور جنہوں نے قرآن نہیں جمع کیا تھا(۱۰۴)’’لیکن اس توجیہ کی کوئی سند نہیں ہے۔ 

خزیمہ کے قصّہ کی تصحیح کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ:صحابہ نے ان آیات کو صرف خزیمہ ہی کے پاس ‘‘لکھا ہوا’’پایا تھا برخلاف دوسری آیتوں کے(۱۰۵) ۔لیکن یہ بات قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ‘‘لکھے ہوئے ہونے’’کی قیدکسی روایت میں نہیں ملتی اور بغیر دلیل کے اس کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔لہٰذا ہم حسب ذین و جوہات کی بنا پر جمع قرآن کے سلسلہ میں ان تمام روایات کو ردکرتے ہیں: 

الف۔اس قسم کی روایتوں میں بہت زیادہ تنافض پایا جاتا ہے جن کا جمع کرنا ممکن نہیں۔روایتوں سے یہ نہیں پتہ چلتا کہ قرآن جمع کرنے والے ابوبکر تھے یا عمر؟حدیفہ تھے یا ان کے علاوہ کوئی اور تھا جیسا کہ ابن سیریں وغیرہ نے کہا ہے۔ 

ب۔جمع قرآن کا سبب جنگ یمامہ میں قراء کاقتل ہوجانا بتایا جاتا ہے لیکن اس قول کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ سارے حفاظ اور کاتبان وحی مدنیہ ہی میں موجود تھی جیسےعلی ابن ابی طالب،ابئ ابن کعب ،جن کے بارے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا‘‘اقرؤھم ابی بن کعب(۱۰۶)۔’’ 

اسی طرح عبداللہ ابن مسعود جن کے بارے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔‘‘اقرؤو ابقراءۃ ابن ام عبد(۱۰۷)’’مدینہ میں اس طرح کے افراد کی موجودگی کے باوجود قرآن کے ضائع ہو اجانے کے سلسلہ میں ابو بکر و عمر کا خوف قابل تصور نہیں ہے۔ 

ج۔ہم پہلے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ قرآن عہد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جمع ہو چکا تھا اور خلقاء کے زمانہ میں جمع قرآن کا قصہ کذب محض ہے یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدح ہے کہ آپ نے قرآن جمع کرنے کا اہتمام نہیں فرمایا تھا۔دراں حا لیکہ مسلمانوں کی آئندہ نسل کے لئے جمع و حقط قرآن سے زیادہ کوئی بھی مسئلہ اہم نہیں تھا جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں قرآن جمع ہونا ثابت ہے تو اس قسم کی روایتوں کا قبول کرنا ممکن نہیں۔ 

د۔تمام مسلمانوں کے نزدیک پورے قرآن کا کمی اور زیادتی سے پاک اور تواتر سے ثابت ہونا جب مسلمّ ہے تو اس قسم کی روایتوں کو ٹھکر ا دینا واجب ہے جن کے ذریعہ قرآن احادسے ثابت ہوتا ہے۔ 

(تحریف قرآن کے سلسلہ میں شیعہ روایات آئندہ شمارے میں۔انشااللہ) 

__________ 

(۱)رسالۃ الاسلام صفحہ ۳۸۲ و۲۸۳ جلد ٍٍٍ۱۱ شمارہ ۴ ۔ 

(۲):المصاحف صفحہ ۵۰ 

(۳)المصاحف صفحہ ۵۱ (۴)المصاحف صفحہ ۵۱ (۵)المصاحف صفحہ ۵۱ و۵۲ (۶)المصاحف صفحہ ۵۲(۷)المصاحف صفحہ ۵۳ اس سلسلہ میں مصادر بہت زیادہ ہیں ملاحظہ ہو الزواج الموقت سید جعفر مرتضیٰ (۸)المصاحف (۹)المصاحف (۱۰)المصاحف ص صفحہ ۵۳۔۵۴ (۱۱)المصاحف صفحہ ۵۳ و۵۴ (۱۲)المصاحف صفحہ ۵۴ (۱۳)المصاحف صفحہ ۵۵۵۴ (۱۴)المصاحف (۱۵)المصاحف (۱۶)المصاحف صفحہ ۵۴ و۵۵ (۱۷)المصاحف (۱۸)المصاحف (۱۹)المصاحف (۲۰)المصاحف المصاحف (۲۱)المصاحف صفحہ ۵۴ (۲۲)المصاحف صفحہ ۵۷ (۲۳)المصاحف صفحہ ۷۳ (۲۴)المصاحف صفحہ ۷۴ (۲۵)المصاحف صفحہ ۷۴ و۷۵ (۲۶)یہ سب المصاحب صفحہ ۷۵ پر موجود ہے۔ (۲۷)المصاحف صفحہ ۸۲ (۲۸)المصاحف صفحہ ۸۲ (۲۹)المصاحف صفحہ ۸۲ (۳۰)المصاحف صفحہ ۸۲ (۳۱)المصاحف صفحہ ۸۳ (۳۲)المصاحف صفحہ ۸۳ (۳۳)المصاحف صفحہ ۸۳ (۳۴)المصاحف ۸۵۔الاتقاق جلد ۲صفہ۲۵ درمنشور،جلد ۳۲۰ (۳۵)المصاحف صفحہ ۸۵۔۸۷ (۳۶)المصاحف صفحہ ۸۸،۸۷ (۳۷)المصاحف صفحہ ۸۸ (۳۸)المصاحف صفحہ ۸۸ (۳۹)المصاحف صفحہ ۸۹ (۴۰)المصاحف ۹۰ (۴۱)المصاحف ۹۰ 

(۴۲)المصاحف صفحہ ۹۰ (۴۳)المصاحف صفحہ ۹۱ (۴۴)المصاحف صفحہ ۹۱ (۴۵)المصاحف صفحہ ۹۱ 

(۴۶)المصاحف صفحہ ۹۲ (۴۷)بخاری:حاشیہ سندی جلد ۳ صفحہ ۱۳۹ اس کے علاوہ جلد ۲ صفحہ ۲۱۱ ،جلدہ صفحہ ۳۵ جامع الاصول جلد ۳ صفحہ ۴۹،مسنداحمد ابن جلد ۲ صفحہ ۴۴۹، صفحہ ۴۵۱ ۔درمنشور جلد ۲ صفحہ ۳۵۷ 

(۴۸) (بخاری)حاشیہ سندی جلد ۳ صفحہ ۱۹،اتقاف جلد صفحہ ۲۶ پر صحیحین سے مروی ہے مسند عوانہ جلد ۲ صفحہ ۳۱۱ و صفحہ ۳۱۲،الثقات (ابن حیاں )جلد ا صفحہ ۲۳۹ طبقات کبری جلد ۲ صفحہ ۵۴ 

(۴۹)بخاری:باب الشہادۃ عندالحاکم فی ولایتہ القضاء۔الا تقان جلد۲ صفحہ ۲۵ صفہ۲۶ پر بہت سے طرق ہے یہ روایت موجود ہے۔اسی طرح درمنشور جلد ۵ صفحہ ۱۷۹ پر مالک بخری مسلم اور ابن ضریں سے اور صفحہ ۱۸۰ پر نسائی،احمد،ابن عوف وغیرہ سے مروی ہے۔(نیل الا و طار)کتاب الحدود آیہ رجم،تفسیر ابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۲۶۱،البر ہان فی علوم القرآن جلد ۲ صفحہ ۲۵،مسند احمد ابن حنبل جلد ا صفحہ ۲۳، صفحہ ۲۹، صفحہ ۴۰، صفحہ ۴۳ ، صفحہ ۴۸، صفحہ ۵۰، صفحہ ۵۵، جلد ۵ صفحہ ۱۳۲ ، صفحہ ۱۸۳ ۔مضف ابن ابی شیبہ جلد ۴ صفحہ ۵۲۴ جلد۱۰ صفحہ ۷۶ ۔مناھل العرفان جلد ۲صفہ۱۱۱،اخبار اصفہان جلد۱صفہ۲۹۲ ،طبقات کبریٰ جلد۳ صفہ۲۲۴ ۔(الفرقان)خطیب صفہ ۳۶ ،حیات صحابہ جلد۲ صفہ۱۲ جلد۳ صفہ۴۴۹ (مصنف عبدالرزاق)جلد صفہ۳۱۵،جلد۵ صفہ۴۴۱ ،حیاۃصحابہ جلدا صفہ۱۲۱،کشف الاستار جلد ۲ صفہ ۲۹۴۔(۵۰) الاتقان جلد ۲ صفہ ۶۲ (۵۱)مجمع الزوائد جلد۷ صفہ۱۴۹ و صفہ۱۵۰ احمد سے مروی ہے،انہوں نے کہا کہ اس کے رجال صحیح ہیں۔اسی طرح سے کبیر الا وسط میں طبرانی سے بھی مروی ہے۔ارشاد الساری جلد ۷صفہ۴۴۲ ۔مضنف ابن ابی شیبہ جلد ۱۰صفہ۵۳۸،اتقان جلد ۱ صفہ۶۵،درمنشور جلد۶صفہ۴۱۲ مشکل الآثار جلد ۱ صفہ۲۳،روح المعانی جلد۱ صفہ۲۴ ،فتح الباری جلد۸صفہ۵۷۱ ،المعتصرمن المختصر جلد ۲ صفہ۲۵۱،الاتقان جلداصفہ۲۵۱ (۵۲)درمنشور جلد ۵ صفحہ ۱۸۰ (۵۳)اتقان جلد۲ صفحہ ۲۵،درمنشور جلد۵ صفحہ ۱۸۰ (۵۴) اتقان جلد۲ صفحہ ۲۵،اخبار اصفہان جلد۲ صفحہ ۳۲۸۔(المصنف)عبدالرزاق جلد۷ صفحہ ۳۲،مناھل الرفان جلد۲ صفحہ ۱۱۱،اس حدیث کو درمنشور نے عبدالرزاق،طیاسی،سعید ابن منصور اور عبداللہ بن احمد سے لیا ہے….. درمنشور جلد۵ صفحہ ۱۷۹،منتخب کنزالعماں حاشیہ سند احمد جلد۲ صفحہ ۱۰ (۵۵)(المصنف)عبدالرزاق جلد ۱۰ صفحہ ۱۸۱ سیوطی نے ان سے اور شعید ابن منصور،اسحٰق ابن راھویہ اور ابن منذر سے اور بیہقی نے بجالہ سے نقل کیا ہے۔اور اسی طرح فریا بی اور ابن مردویہ سے نقل کیا ہے۔بیہقی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے آیت کو اسی طرح پڑھا اس طرح فریا بی اور ابن ابی شیبہ ،ابن جریر،ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے ۔وھواب لھم نقل کیا ہے۔اسی طرح عکرمہ سے بھی نقل کیاہے ملاحظہ ہو درمنشور جلد۵ صفحہ ۱۳۸ (۵۶) (مجمع الزوائد)جلد۷ صفحہ ۱۴۰ احمدنے کہا کہ اس کے رجال صحیح ہے (۵۷)صحیح مسلم جلد۳ صفحہ ۱۰۰۔اتقان جلد۲ صفحہ ۲۵۔البرہان جلد۲ صفحہ ۲۷ (۵۸)بیہقی نے مجمع الزوائد جلد۷ صفحہ ۲۸و۲۹پر طبرانی سے روایت کی اور کہا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں….. مصنف ابن ابی شیبہ جلد۱ صفحہ ۵۰۹ ،درمنشور جلد۲ صفحہ ۲۵۸ (۵۹)روح المعانی جلد ۱ صفحہ ۲۴،صحیح بخاری جلد۶ صفحہ ۲۲۱ (۶۰)المصنف ابن ابی شیبہ جلد۱۴ صفحہ ۵۶۴۔درمنشور جلد۱صفہ۱۶،مصنف عبدالرزاق جلد۹صفحہ ۵۰۔۵۲۔انہوں نے حاشیہ پر احمد سے پوری حدیث نقل کی ہے۔ (۶۱)درمنشور جلد ۵صفحہ ۱۷۹۔المصنف عبد الرزاق جلد۷ صفحہ ۲۳۰ (۶۲)المنصف عبد الرزاق جلد۷ صفحہ ۳۷۹،صفحہ ۳۸۰ (۶۳)اتقان جلد۱ صفہ۵۔کنزالعمال جلد۱صفہ۵۱۷،صفہ۵۴۱،الشیعہ والسنۃ صفحہ ۸۰ (۶۴)الاتقان جلد۲ صفحہ ۴۰و۴۱ (۶۵)صحیح مسلم جلد۴ صفحہ ۱۶۷وصفہ۱۶۸،المصنف عبدالرزاق جلد۷ صفحہ ۴۶۹،۴۷،۴۵۷۔الاتقان جلد۲ صفحہ ۲۲ بدایۃالمجتھد جلد۲ صفحہ ۳۶،درمنشور جلد۲ صفحہ ۱۳۵ابن شبیہ اور عبدالرزاق سے مناھل العرفان جلد۲ صفحہ ۱۱۰ (۶۶)الاتقان جلد۱ صفحہ ۶۵ (۶۷)درمنشور جلد۲ صفحہ ۲۹۸،التمہیدفی علوم القرآن جلد۱ صفحہ ۲۶۱ (۶۸)تاویل مختلف الحدیث صفحہ۳۱۰۔مسند احمد جلد۲ صفحہ ۲۲۹(۶۹)اتقان جلد۲ صفحہ ۲۶ (۷۰)اتقان صفحہ ۲۳ ۔البیان فی تفسیر القرآن صفحہ ۲۲۳ (۷۱)مجمع الزوائد جلد۷ صفحہ ۱۵۷،الاتقان جلد۲ صفحہ ۲۶،المستدرک علی لصحصین۔روح المانی جلد۱ صفحہ ۲۵ البرھان جلد۲ صفحہ ۳۷،الاتقان جلد۱ صفحہ ۶۵ (۷۲)مجمع الزوائد جلد۷ صفحہ ۱۵۷۔اتفاق جلد۲ صفحہ ۲۶،المستدرک علی الصحیحین ،روح المعانی جلد۱ صفحہ ۲۵ البرہان جلد۲ صفحہ ۳۷،اتفاق جلد۱ صفحہ ۶۵۔ ۶۵۔(۷۳)مناھل العرفان جلد۱ صفحہ ۲۶۸، صفحہ ۲۶۹۔البرھان فی علوم القرآن جلد۲ صفحہ ۱۲۸ (۷۴)ارشاد الساری جلد۷ صفحہ ۴۴۲۔(۷۵)الانتصار نقل القرآن صفحہ ۹۰ (۷۶)تفسیر قرطبی جلد ۱ صفحہ ۵۲ (۷۷)البرھان فی علوم القرآن جلد ۲ صفحہ ۱۲۸ (۷۸) نکت الانتصار نقل القرآن صفحہ ۸۰ ۔مناھل العرفان جلد ۱ صفحہ ۲۶۴ (۷۹)الکشاف جلدا صفحہ ۔بسم اللہ کے جزو سورہ ہونے کی نفی کے سلسلہ میں ملاحظہ ہو المرونۃ الکبری جلد ا صفحہ ۶۴ فقہ السنتہ جلد ۱ صفحہ ۱۳۶۔احکام القرآن ابن عربی جلد۱ صفحہ ۲،روح المعانی جلد۱ صفحہ ۲۷ 

(۸۰)التنبیہ والا شراف صفحہ ۲۲۵۔السیرۃ الحبلیہ جلد۳ صفحہ ۲۳،کنزلالعمال جلد۵ صفحہ ۲۴۴ طبقات کبری جلد۱ صفحہ ۲۶۳، صفحہ ۲۶۴،روح المعانی جلد۱ صفحہ ۳۷۔العقدالفرید جلد۳ صفحہ ۴ (۸۱)الانتصار صفحہ ۷۱سے صفحہ ۷۴تک(۸۲)تفسیر کبیر جلد۱۹ صفحہ ۱۶۰(۸۳)سعد السعود صفحہ ۱۴۵ (۸۴)سعد السعود صفحہ ۱۴۵ (۸۵) تفسیر ابن کثیرجلد ۱ صفحہ۱۲۲۔(۸۶)اصول سرخسی جلد ۲ صفحہ ۷۸۔۸۰ منقول از التمھید جلد۲ صفحہ۲۸۱(۸۷)ابن ظفر۔عبداللہ ابن ظفر متوفی۵۶۸ہیں ان کی کتاب‘‘الینبوع’’کے مختلف قلمی نسخے قاہر کی لائبریری میں موجود ہیں جس کا نمبر تفسیر۳۱۰ہے۔ (۸۸)مباحث فی علوم القرآن صفحہ ۲۲۵، صفحہ ۲۶۶ (۸۹)الموافقات۔ابو اسحاق شافعی جلد ۳ صفحہ ۱۰۶ (۹۰)الاحکام فی اصول الاحکام امدی،اجلد۳ صفحہ ۲۱۷ (۹۱)الاحکام فی اصول الاحکام امدی جلد ۳ صفحہ ۲۰۱و۲۰۳ (۹۲)البیان فی تفسیر القرآن صفحہ ۲۲۴ ، صفحہ ۲۲۵(۹۳)بخاری کتاب التفسیر،باب جمع القرآن۔الاتفاق جلد ۱ صفحہ ۵۷۔تاریخ الخلفاءصفہ۷۷،تفسیر طبری جلد۱ صفحہ ۲۰ (۹۴)اتقان جلد۱ صفحہ ۵۸ (۹۵)الاتقان جلد۱ صفحہ ۵۸ (۹۶)تہذیب تاریخ دمشق۔جلد۵ صفحہ ۱۳۶۔البخاری کتاب التفسیر۔البرھان جلد۱ صفحہ ۲۳۴ (۹۷)تہذیب تاریخ دمشق جلد۴ صفحہ ۱۳۶ (۹۸)تفسیر طبری جلد۱ صفحہ ۲۱۔ (۹۹)مجمع الزوائد جلد ۷ صفحہ ۳۵ (۱۰۰)ارشاد اساری جلد ۷ صفحہ ۴۴۷ (۱۰۱)مصنف ابن ابی شیبہ جلد۳ صفحہ ۹۰ طبقات کبریٰ جلد۳ صفحہ ۲۱۱ (۱۰۲)طبقات کبری جلد۳ صفحہ ۲۸۱ (۱۰۳)البرھان جلد ۱صفحہ۳۳۶(۱۰۴)البرھان جلد ۱ صفحہ ۲۳۶ (۱۰۵)مناھل العرفان جلد۱ صفحہ ۲۶۶ (۱۰۶)مستدرک الصیحیین جلد۳ صفحہ ۵۳،طبقات کبریٰ جلد۲ صفحہ ۳۵۰،اخبار اصفہان جلد۲ صفحہ ۱۳ (۱۰۷)المصنف لابن ابی سبۃ جلد۱۰، صفحہ ۵۲۰ ، صفحہ ۵۲۱

 

تبصرے
Loading...