بیسویں صدی کی اسلامی تحریکیں

0 0

مسئلہ (۱ ) ہر مسلما ن کے لیے اصول د ین کو ازروئے بصیرت جا ننا ضروری ہے اصول دین میں تقلید نہیں کی جا سکتی یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص اصول دین میں کسی صا حب علم کی با ت صرف اس وجہ سے ما نے کہ وہ کہہ رہا ہے لیکن اگر کوئی شخص اسلام کے صحیح عقائد پر یقین رکھتا ہواو ر اس کا اظہار کرتا ہوا گرچہ یہ اظہار ازروئے بصیرت نہ ہو تب بھی وہ مسلما ن اور مو من ہے اور اس پر    ایما ن اور اسلام کے تمام احکام جاری ہوں گے۔

جہاں تک دینی احکا م کا تعلق ہے ، ”مسلمہ اور قطعی امو ر “کو چھوڑ کر با قی احکام میں ضروری ہے کہ انسا ن یا تو خود مجتہد ہو یعنی احکا م کو دلیل کے ذ ریعے حا صل کر سکے یا کسی مجتہد کی تقلید کرے یا ازراہ احتیا ط اپنا فریضہ یو ں ادا کرے کہ اسے یقین ہو جا ئے کہ اس نے اپنی شرعی ذمہ داری پو ری کر دی ہے مثلا ً اگر چند مجتہد کسی عمل کو حرام قرار دیں اور چند دوسرے کہیں کہ حرام نہیں ہے تو اس عمل سے با ز رہے اور اگر بعض مجتہد کسی عمل کو واجب اور بعض مستحب گردانیں تو اس عمل کو بجا لا ئے لہٰذا جو اشخا ص نہ تو مجتہد ہوں اور نہ ہی احتیا ط پر عمل پیرا ہو سکیں ان کہ لیے وا جب ہے کہ مجتہد کی تقلید کریں۔

(۲) دینی احکاما ت میں تقلید کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجتہد کہ فتو ے پر عمل کیا جا ئے اور ضروری ہے کہ جس مجتہد کی تقلید کی جا ئے وہ مرد ۔ بالغ ۔ عا قل ۔شیعہ اثنا عشر ی حلا ل زادہ ۔ زندہ اور عادل ہو عا دل وہ شخص ہے جو ان تما م کا موں کو بجا لائے جو اس پر وا جب ہیں اور ان تمام کاموں کو ترک کرے جو اس پر حرام ہیں ،عا د ل ہو نے کی نشا نی یہ ہے کہ وہ بظا ہر ایک اچھا شخص ہو اور اس کے اہل محلہ ، ہمسا یو ں یا ہمنشینو ں سے اس کہ با رے میں دریا فت کیا جا ئے تو وہ اس اچھائی کی تصدیق کریں ۔اگر یہ با ت اجما لاً معلو م ہو کہ درپیش مسائل میں مجتہدین کے فتو ے ایک دو سرے سے مختلف ہیں تو ضروری ہے کہ اس مجتہد کی تقلید کی جا ئے جو ”اعلم“ہو یعنی اپنے زما نے کے دیگرمجتہدین کی نسبت احکام الہٰی کو سمجھنے کی بہتر صلا حیت ر کھتا ہو۔

مزید  یوم ولادت با سعادت حضرت امام محمد باقر(ع) تمام مسلمین جہان کو مبارک ہو

 (۳)مجتہد اور اعلم کی پہچا ن تین طریقو ں سے ہو سکتی ہے :۔

(۱ )کسی انسان کو خود یقین آ جا ئے مثلا ً وہ ایسا شخص ہو جو خودصا حب علم ہو اور مجتہد اور اعلم کی پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

(۲ )دو ایسے عا لم اور عادل اشخاص جو مجتہد اور عالم کو پہچانے کا ملکہ رکھتے ہوں کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطیکہ دو اور عالم اور عا دل ان کی تردید نہ کریں بلکہ کسی کا مجتہد یا اعلم ہونا خبرہ و اطلا ع شخص کہ قول سے بھی ثابت ہو جا تا ہے۔

(۳)یہ کہ انسان کسی عقلا ئی طریقے سے کسی شخص کے مجتہد یا اعلم ہونے کا اطمینان حاصل کر لے مثلا ً کچھ اہل علم (اہل خبرہ ) جو مجتہد یا اعلم کو پہچا نے کی صلا حیت رکھتے ہیں اور ان کی با ت سے اطمینا ن بھی آ جا تا ہے کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں ۔

(۴ )کسی مجتہدکا فتو ی حا صل کر نے کے چا ر طر یقے ہیں:۔

(۱) خودمجتہد سے سننا (۲ ) مجتہد کا فتوی بیان کرنے والے دو عادل اشخا ص سے سننا (۳ ) کسی ایسے شخص سے سننا جس کی با ت پر اطمینا ن ہو (۴ ) مجتہد کی کتاب (مثلا ً توضیح المسا ئل ) میں پڑھنا بشرطیکہ اس کتا ب کی صحت کے بارے میں اطمینان ہو۔

(۵) جب تک انسان کو یہ یقین نہ ہو جا ئے کہ مجتہد کا فتو یٰ بدل چکا ہے وہ کتاب میں لکھے ہوئے فتوے پر عمل کر سکتا ہے اور اگر فتوے کہ بدل جا نے کا احتما ل ہو تو چھان بین کرنا ضروری نہیں ۔

(۶) اگر مجتہد اعلم کو ئی فتو ے دے تو اس کا مقلد اس مسئلے میں کسی دوسرے مجتہد کے فتوے پر عمل نہیں کر سکتا تا ہم اگر وہ (یعنی مجتہد اعلم ) فتوی نہ دے بلکہ یہ کہے کہ احتیا ط اس میں ہے کہ یوں عمل کیا جا ئے مثلا ً احتیا ط اس میں ہے کہ نما ز کی پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد ایک پوری سورت پڑھے تو ضروری ہے کہ مقلد یا تو اس احتیا ط پر جسے احتیاط واجب کہتے ہیں عمل کرے یا کسی دو سرے مجتہدکے کہ فتوے پر اعلم فالا اعلم کا خیا ل رکھتے ہو ئے عمل کرے پس اگر وہ (یعنی دو سر ا مجتہد) فقط سورہ الحمدکو کا فی سمجھتا ہو تو دو سر ی سو رت ترک کی جا سکتی ہے جب مجتہد اعلم کسی مسلے کہ بارے میں کہے کہ محل تأمل یا محل اشکا ل ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے ۔

مزید  جو شاخ نازک پر آشيانہ بنے گا ناپائدار ہو گا

(۷)اگر مجتہد اعلم کسی مسئلے کے با رے میں فتو ے دینے کہ بعد یا اس سے پہلے احتیاط کا تذکرہ کرے مثلا ً یہ کہے کہ نجس برتن پانی میں ایک مرتبہ دھونے سے پا ک ہو جا تا ہے اگرچہ احتیاط اس میں ہے کہ تین مرتبہ دھوئے تو مقلدایسی احتیاط کو ترک کر سکتا ہے اس قسم کی احتیا ط کو احتیاط مستحب کہتے ہیں ۔

(۸ ) اگر وہ مجتہد جس کی ایک شخص تقلید کرتا ہے فوت ہو جا ئے تو جو حکم اس کی زندگی میں تھا وہی حکم اس کی و فا ت کے بعد بھی ہے لہٰذا اگر مرحوم مجتہد زندہ مجتہد کے مقا بلے میں اعلم ہو تو وہ شخص جسے درپیش مسا ئل میں دونو ں مجتہدین کے مابین اختلاف کا اگرچہ اجمالی طورپر علم ہوا سے مرحوم مجتہد کی تقلید پر با قی رہنا ضروری ہے اور اگر زندہ مجتہد اعلم ہو تو پھر زندہ مجتہد کہ طرف رجو ع کرنا ضروری ہے اور اگر کسی ایک کے اعلم ہونے کا یقین نہ ہوسکے یا دو نو ں مساوی ہو ں تو اسے اختیا ر ہے کہ ان دونوں میں کسی کے فتا ویٰ کے مطابق عمل کر لے البتہ اگر علم اجما لی حا صل ہو جا ئے یا کسی شرعی تکلیف پر حجت اجمالی قائم ہوجا ئے تو مثلا ً قصر اور تمام کے درمیان اختلافی مقامات، تو احتیا ط واجب کی بناپر ضروری ہے کہ دونوں کے فتا ویٰ کا خیا ل رکھے اس مسئلے میں تقلید سے مراد معین مجتہد کے فتو ے کی پیروی کرنے کو صرف اپنے لیے لازم قرار دینا نہ کہ اس کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔

 (۹ ) مکلف کے لیے وہ تمام مسا ئل سیکھنا لا زم ہے جن کے با رے میں احتما ل ہے کہ نہ سیکھنے کی و جہ سے خدا کی معصیت میں مبتلا ہو سکتا ہے یعنی کسی واجب کو ترک کرنے یا کسی حرا م کو انجام د ینے کا مرتکب ہو سکتا ہے ۔

مزید  امام کاظم علیہ السلام کے تلخ ترین مصائب

( ۱۰ ) اگر کسی شخص کو کوئی ایسا مسئلہ پیش آ ئے جس کا حکم اسے معلو م نہ ہو تو لا زم ہے کہ احتیاط کرے یاان شرائط کے مطابق تقلید کرے جن کا ذ کر او پر آ چکا ہے لیکن اگر اس مسئلے میں اسے اعلم کے فتو ے تک اسے رسا ئی حاصل نہ ہو سکے تو اعلم فا لا علم کا خیال رکھتے ہوئے فالاعلم کی تقلید کر سکتا ہے ۔

(۱۱) اگر کو ئی شخص مجتہد کا فتو یٰ کس دو سرے شخص کو بتا ئے اور پھر مجتہد اپنا فتویٰ بدل دے تو اس کے لیے دو سرے شخص کو فتوے کی تبدیلی کو فتوے کی تبدیلی کی اطلاع دینا ضروری نہیں لیکن اگر فتو یٰ بتا نے کے بعد یہ معلوم ہو کہ فتویٰ بتا نے میں غلطی ہو گئی ہے اوراس اطلا ع کی وجہ سے وہ شخص اپنے شرعی و ظیفے کے خلا ف عمل کرے گا تو احتیا ط لا زم کی بنا پرجہا ں تک ہو سکے اس غلطی کا ازالہ کرے ۔

(۱۲)اگر کو ئی مکلف ایک مدت تک کسی کی تقلید کیے بغیر اعما ل بجا لاتا رہے تو اگر اس کے اعمال حکم وا قعی کے مطا بق ہوں یا اس مجتہد کے فتا و ی کے مطا بق ہو ں جس کی تقلید کر نا ابھی اس کی ذمہ داری ہے تو وہ اعمال صحیح تصور کئے جا ئیں گے اس کے علا و ہ بھی اگر وہ جاہل قاصر ہو اور اعمال کا نقص ارکان وغیرہ کے اعتبار سے نہ ہو تو بھی اس کے اعما ل صحیح تصور کئے جائیں گے یہی حکم ا س صو رت میں بھی ہے جب جا ہل مقصر ہو اور عمل میں کو ئی ایسا نقص ہو جو لا علمی کی صورت میں معاف ہو ، تو جیسے بلند آ واز سے قرأ ت کی جگہ آ ہستہ آ ہستہ آ وا ز سے قرأ ت یا بالعکس ، تو بھی اس کے اعمال صحیح ما نے جائیں گے یہی حکم اس صو رت میں بھی ہے جب اسے یہ معلوم نہ ہو کہ پچھلے اعمال کیفیت کے اعتبا ر سے صحیح تھے یا نہیں تو بھی اس کے اعمال منہا ج میں ذ کر شدہ بعض مو ارد کے علاوہ صحیح تصور کیے جا ئیں گے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.