بیداری اسلامی اور مغرب کاسیاہ کارنامہ

0 4

امریکہ اورمغربی ممالک اور ان سے متحد جماعتیں (ناٹو) بیہودہ تلاش کرتی ہیں کہ انہیں مشرق وسطی میں قدم رکھنے کی جگہ مل جائے ۔

چنانچہ حرکت بیداری اسلامی اور اس کے نشانات اس موضوع کی صاف حکایت کرتے ہیں کہ اس خطے کے لوگ کبھی بھی ان کے ایسے پروگراموں کو وجود میں نہیں آنے دیں گے اسلئے کہ اب وہ امریکہ اوریورپ کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے اور جہان اسلام میں تمام مشکلات کو وجود میں لانے کا سبب انہیں کو جانتے ہیں ۔

واشنگٹن اور اس کے یورپی متحد گذشتہ دسیوں سال سے یہ واضح طور پر ثابت کرچکے ہیں : وہ کبھی بھی عربوں اور مسلمانوں کے اچھے دوست نہیں ہوسکتے اور ان کا یہ کردار ان کے افغابستان ، عراق ،لبنان ، فلسطین ، سیریا، پاکستان ، لیبیا اور یمن کے عوام کے ساتھ دشمنی اور بے رحمانہ بُرے رویہ اورسلوک سے باخوبی روشن ہوچکا ہے چنانچہ اگراس مسئلہ کا تاریخی لحاظ سے بھی جائزہ لیا جائے تو بالکل واضح اور ثابت ہے کہ امریکہ اور اس کے جیسے دوسرے ممالک ہمیشہ اپنے دشمن کو نابود کرنے اورصفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں لہذادور حاضر میں امریکہ اور یورپی حکومتوں کے بُرے کردار ، بدترین سلوک اوراس خطّے کے مقابل میں انکے سیاسی ، اقتصادی ،تہذیب اور تمدن کے غلط رویہ سے اس چیزکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

غیرتمند امت ِمسلمہ بھی ان کے ان حیلوں کے مقابل میں جو ہرروز ہزارو کلومیٹردور سے مشرق وسطی ممالک کو اپنے تصرف میں لانے کے لئے جدید شرائط کی تلاش، نامناسب قیل وقال اور لڑائی جھگڑے کے نہ تنہا اپنے آپ کوکم سمجھا بلکہ ان کے اس ڈیموکراسی ،آزادی اور حقوق بشر کے اصول اورنظام کو بھی ان کامسخرِہ پن سمجھنے لگے ۔

اس لئے کہ ان کے لئے اب یہ بخوبی واضح اور روشن ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نعرہ صرف اور صرف اسلامی قدرتوں پر تسلط پیدا کرنے اور ان کی تہذیب کو بگاڑ نے کے لئے ہے جو کبھی بھی امت مسلمہ کے نفع میں نہیں ہوسکتا ۔

لہذا اس بناپر آزاد ملتوں نے ان بین المللی ڈکیتوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بہت سے اقدام کئے ہیں اور عراق ، افغانستان اور دوسرے وہ ملک جن پر انھوں نے تجاوز کرکے بر باد کیاہے تجاوز گروں پر مختلف طریقہ سے سنگین ضربہ وارد کئے ہیں ۔

جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ افغانستان اور عراق میں وہاں کے باشندوں کی جانب سے حملوں نے امریکہ اور اس کے حامی مغربی ممالک کے لئے عرصہ زندگی کوتنگ کردیاہے ۔

اگر چہ ہم لیبیامیں استعمار کی اس نئی چال کا مشاہدہ کررہے ہیں : امریکہ اور مغربی ممالک انقلابیوں کی مدد کے بہانے عمر مختار کی سرزمین پر اپنی نئی چال پیش کرکے اپنے نفوذ کے لئے راستہ ہموار کرہے ہیں ۔

لیکن یہ مسلم ہے کہ آئندہ نزدیک وہ زیادہ عرصہ تک اس ملک میں حاضر نہیں رہ سکتے اس لئے کہ یہ حقیقت واضح اور آشکار ہے کہ اب مؤمن ملّت کے عزم، اردہ ، انکی تلاش ، کوشش اور ان کی فکرپہلے کی نسبت دوبرابرہوچکی اور وہ مکمل طور سے یہ سمجھ چکے کہ اس دور کے سب سے بڑے شیطان امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں کے مریض ذہنوں میں سوائے ان ملکوں کی بربادی اور غارت گری کے کچھ موجود نہیں ہے ۔

عراق میں امریکہ کے اس ملک سے وعدوں اور مغرب کی غارتگر فوج کے باقی رہنے پر عراق کی حکومت اور وہاں کے عوام کی مخالفت اور غارتگروں سے نفرت کرنا بیداری اسلامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے نوری مالکی سے ملاقات کے دوران مجبور ہوکرصاف لفظوں میں صریحةً یہ اعلان کیا کہ ۲۰۱۱ء کے آخر تک امریکی فوج عراق کو چھوڑ دے گی اسی طرح افغانستان میںوائٹ ہاؤس کے دورخی پہلوکے باعث اس ملک کی امنیت اور فساد کے موضوع پر جب تک اس ملک اور خطے سے ان کی فو ج واپس نہیں جاتی وہ اپنے جانی اور مالی نقصانات کا مشاہدہ کرتے رہیں گے ۔

چنانچہ یہ موضوع اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اب ملت مسلمہ لڑائی، جھگڑے، فساد اور لوٹ مار سے تنگ آچکی ہے اوروہ اسلامی ملک کوزبردستی اپنے تصرف لانے والی فوج کے بغیر کسی قیدوشرط کے خارج ہونےکی خواہشمند ہے ۔

اسی طرح عراق کے بہادر اور شجاع افراد نے صراحةً صاف و شفاف الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ وہ امریکہ کی اشغالگرفوج کے ۲۰۱۱ء کے بعدموجود رہنے کو برداشت نہیں کرسکتے اس لئے کہ وہ ابھی تک دشمنوں کے ان تمام منصوبوں کامقابلہ کرنے کے لئے کھڑے رہے ہیں جو انھوں نے اس شیعہ ملک کو برباد کرنے کے لئے بنائے تھے اوروہ اس ملک کی دفاع کی خاطرہر طرح سے اپنی آغوش کے ٹکڑوں کی قربانی پیش کرتے رہے ۔

اس لئے کہ اس ملک کے لوگ ابھی تک صدام کے اس آگ بھرے خون کو نہیں بھول سکے جواس کے ذریعہ پینتیس (۳۵) سال تک عراق پر حکمرانی کے باعث لاکھوں کی آوارگی اور ہزاروں کی قربانی کا سبب قرارپائے تھے ۔

حتی یہ بھی واضح رہے کہ اس کے باوجود وہ منصوبے جو اس وقت انجام پارہے ہیں عراق کی عوام یہ بھی اجازت نہیں دیگی کہ امریکی فوج کے نکلنے کے بعد ان کا ملک ایک نا امن منطقہ میں تبدیل ہو جائے ۔

بیداری اسلامی اور یورپ کی دھوکے بازی

مزید  خواتين پرمغرب کا ظلم و ستم اور اسلام کي خدمات ( دوسرا حصّہ)

سیاسی موضوعات کے پس منظر دوسرے تمام موضوعات کے بارے میں ہم اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے چندحقائق بیان کرنے کی احتیاج رکھتے ہیں لیکن یہ مسلم ہے کہ وہ جھگڑا جو طرفین کے در میان ہے اب چند طریقون سے سامنے آرہا ہے چنانچہ ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ ایک طرف تو ان ممالک کے درمیان رہبری کے بارے میں جھگڑا ہے کہ کون رہبر بنے لہذا اس ہدف کے حصول کے لئے ہرایک اپنے لئے ہرآلہ کا استعمال کررہا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے وہاں کی عوام پر اپنا تسلط قائم رکھے ۔

دوسری طرف اسلام خواهان کے ذریعہ پوری دنیا کے لئے ایک رہبر کا اعتقاد رکهنا جس کے وسیلہ سے تمام انسانوں کے درمیان رابطہ برقرار کرکے مودت اور محبت برقرارهوسکے اور یہ شاید اس لئے ہو کہ اس روشنی کے ذریعہ مستکبرین کا ضعیف ملکوں سے رابطہ برقرار نہ رہے تاکہ امریکہ اور مغرب والوں کی مشرق وسطی اور جھان اسلام میںحقارت بھری شکست کھانے کے باوجود اس موقعیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس زمانے کے ڈیکٹاٹوروں سے مختلف طریقہ سے رہائی حاصل کرنا چاہتے ہوں اور ان پر اسی طرح اپنا دبدبہ برقرار رکھیں ۔

اگر چہ دوسری طرف امریکہ اور صہیونسٹ اپنے مغربی دوستوں کے ہمراہ مسلم ممالک میں سے کسی ایک ملک کو اپنے زیر تصرف لانے کا منصوبہ بنارہے ہیں اور اپنے پہلے سے تعیین شدہ اہداف جواپنے غلاموں ، نوکروں اورمیڈیا کے ذریعہ خصوصًا ایران اور شام جیسے ملکوں پر پابندیاں عائد کرکے ایک منصوبہ کے تحت شدید فشار اورمشکلات میں مبتلاکرکے ان کوکسی بھی صورت سے اپنے لئے بروکار لانا چاہتے ہیںچنانچہ یہ قضیہ ابھی تک جاری اور ساری ہے کہ اس سے جامعہ بشری ابھی تک نجات نہیں پاسکا اور یہ خیروشر کا جھگڑاعرصہ دراز سے ابھی تک طول پکڑے ہوئے ہے ۔

اگر چہ بڑے شیطان سے مقابلہ کرنے اور اس کے خبیثانہ منصوبہ کو فاش کرنے کے لئے سوائے مقاومت کے کوئی دوسرا چارہ نہیں لیکن اس کا مناسب حل یہ ہے کہ جن ملکوں کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیںوہ آپس میں اپنے تجربات ایک دوسرے کی طرف منتقل کرکے دشمن کے حیلہ سے نمٹنے کے لئے مناسب راہ حل تلاش کریں ۔

چنانچہ اس بارے میں ان ممالک کے دینی رہبر اورلیڈر جو ابھی تازہ انقلاب لیکر آئے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے کردار کوبنحو احسن پیش کرکے دشمن کے ان تمام منصوبوں کوجو مذہبی اختلاف کا رُخ دیکر وجود میں لائے جارہے ہیں پامال کرکے منطقہ کی امنیت کو برقرار رکھیں ۔

لہذاہمیں اس موضوع پر ایمان رکھنا چاہیئے کہ بیداری اسلامی اور عوامی انقلاب اپنے آغازِ شباب کی منزلوں کو طے کرتا ہوا اپنی جوانی تک پہونچ چکا ہے اور اب یہ انقلاب بعض کوتاہ بین افکار کے برخلاف سرمایہ داروں کے مصالح میں تمام نہیں ہوسکتا ۔

بین المللی قزّاق اور ڈاکوکہ جن کا سب سے بڑاسر غنہ ،لیڈر امریکا ہے کا یہ تصور غلط ہے کہ فوجی مداخلت اور لیبیا اور اس سے پہلے افغانستان ، عراق ، یمن اور پاکستان میں جنگ کرکے فرصت پاکر ایران اورسیریا کو تحت فشار لانے کے لئے مناسب موقع تلاش کرکے ان کو ڈرایا اور دھمکایا جائے لیکن یہ صاف طور سے واضح اور آشکار ہے کہ امریکہ اور یورپ والوں کا بیہودہ خیال اور غلط تصور اس بات کی علامت ظاہر کرتا ہے کہ ابھی تک وہ اپنے اس خام ارادہ میں ناکام رہے ہیں اور ابھی تک ہرموڈ پر ان کو اپنی ناکامی اور شکست کامنہ دیکھنا پڑا ہے ۔

چنانچہ ہم اپنے اس مدعا کو ثابت کرنے کے لئے اس موضوع کی طرف اشارہ کرنا کافی سمجھے ہیں کہ اس کے باوجود کہ امریکا اور اسکے حلیف ناٹو نے لیبیا میں فوجی مداخلت کرکے اگرچہ یہ واضح ،روشن کیا کہ ہم تھے جنھوں نے انقلابیوں کی مدد کرکے ان کو کامیاب بنایا لیکن ان کے مفابلہ میں لیبیا کی حکومت نے صراحتہً یہ اعلان کردیاکہ ہماری حکومت تعلیمات اسلامی کی بنیاد پر قائم ہوگی اور اس دور میں ہرادوار سے زیادہ ہویت اسلامی پر تاکید کی جائے گی ۔

یہ پیغام مغرب اور یہودیوں کے لئے روشن علامت ہے کہ اب اسلامی ملک کی ثروت کوتاراج کرنے کے لئے ان کی تمام محنت برباد ہوگئی اورایک ڈیکٹاٹور اور جبارکی حکومت نابودکرکے ان کا خیال خام پورا نہ ہوسکا ۔

چنانچہ اب بغیر کسی تاکید اور مبالغہ کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور صہیونسٹوں کی چال اپنے انجام آخر کو پہونچ چکی ہے اور جب بھی جھان اسلام کے تمام مسائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے تویہ اندازہ ہوتا ہے کہ اصلی جیت اور کامیابی جھان اسلام کی ہے اور اس فداکاری کا نتیجہ فرزندان اسلام کے ذریعہ لیبیا، فلسطین، لبنان، افغانستان، یمن ، بحرین، جورڈن ، عربستان اور ہروہ جگہ کہ جہاں تجاوزگر اور ان کے زرخرید غلام اعتراض کرہے ہیں نظر آرہا ہے کہ وائٹ ہاوس ، یورپ ، اسرائیل اور وہ انجمنین جو مسکتبروں کی اطاعت اور خدمت کررہی ہیں کی کوششیں بے کار اور بیہودہ ہیں ۔

اسی ضمن میں ہم یہ بھی مشاہدہ کررہے ہیں اور اس پر ہمیں تعجب بھی نہیں کہ مغرب والے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کی دکھتی ہوئی رگ کو پکڑکر ان کو میڈیا کے ذریعہ اچھالکر مسلمانوں کے احساسات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان کی شخصیات کی تصویروں ، کارٹونوں، بیانات اور تحریروں کے ذریعہ تمسخر کے طور پر کوئی بھی خاکہ پیش کرکے مورد تعرض قراردے دیتے ہیں ۔

مزید  علی مجسم حق

درحالی کہ ہم دوسری طرف یہ مشاہدہ کررہے ہیں کہ نظام امپریالیسٹی ربااور سود خوروں کادائرہ اور حلقہ روز بروز تنگ ترہوکر ان کے لئے مشکلات کا سبب بن رہا ہے آج امریکہ اور یورپ ان تحریکوں میں جو نظام سرمایہ داری کے مقابل میں قیام پذیر ہوئی ہیں گرفتار ہیں اس کے علاوہ امریکہ کی متحدہ ایالتوں کا جھان اسلام کے داخلی مسائل میں فساد برپا کرکے ان کو آپس میں ایکدوسرے سے ٹکراکر ان کی جنایتوں کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طرف تو تہدید اور دوسری طرف اپنے دشمنوں پر غیر مجازاسلحہ کا استعمال کرکے عربی انقلاب کی حمایت کے بہانہ وائٹ ہاوس کی طرف سے سوائے دھوکا دھڑی کے اور کچھ نہیں اگر چہ ممکن ہے کہ یہ سیاست بعض مواقع پر کار ساز ہو اور ان کاموں سے امریکہ جس نتیجہ کا منتظر ہے وہ اس کے ہاتھ آجائے ۔

اسی طرح مخالف ممالک کے رہبروں کو ٹرور کرنا یا ان کوٹرور کی دھمکی دینا من جملہ استکبار جھان کا ایساآلہ کار ہے کہ جسکونمونہ کے طور پر عمرحسن البشیر سوڈان کے صدرپر لگائے گئے الزمات کو بیان کیا جاسکتا ہے کہ ان پر کس طرح سے پامالی حقوق بشر کے آلہ کا استعمال کرکے عدالت بین المللی جو سازمان ملل سے وابستہ ہے کے ذریعہ ان کے خلاف وارنٹ جاری کرائے گئے لہذاگذشتہ زمانے سے زیادہ اس دور میں امریکہ کے ذلیل ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس نے اس طریقہ کار کواستعمال کرکے اپنی حیثیت کو اس جھان کے مظلوم افراد کے سامنے ہاتھ سے کھودیا ہے چنانچہ اگر ہم امریکہ کے بارے میں اس سے دسوں سال قبل بھی غوراور بررسی کریں اور مطالعہ کریںتو یہ صاف واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ ہمیشہ ہر دور میں ٹرورسٹ ملکوں کا حامی اور مددگار رہا اور خود بھی ایک ٹرورسٹ ملکوں میں سے ہے ۔

لہذا اس دور کی نئی نسل پر یہ سنگین ذمہ داری ہے کہ اس تحریک بیداری اسلامی کی مسؤلیت کی اہمیت کو ان تمام نئنسلوں کے درمیان پھیکا نہ پڑنے دیں تاکہ یہ نئی نسل ہر دورکے مستبد اور ڈیکٹاٹور وں کی رہبری سے بخوبی آشناء رہے تاکہ اس تحریک بیداری اسلامی کی حفاظت کرکے اوراس ہاتھ میں آئے موقع کی اہمیت کو نہ کھوکر آئندہ اپنا ریکارڈ قائم رکھیں اوراب آئندہ کسی بھی دور میں اس تحریک کو سست نہ ہونے دیں ۔

پیشروی کے موانع

لیکن یہ ایسا قضیہ نہیں کہ جس کو سادہ سمجھ لیا جائے بلکہ گذشتہ اور دور حاضر کے تجربات واضح طور سے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گذشتہ اور دور حاضر کے تجربات کے ذریعہ استکباری طاقتیں ہر روز قوی سے قوی تر ہورہی ہیں اور مغرب والے گذشتہ تجربوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرن حاضر میں پیشرفتہ سیاسی وسائل سے استفادہ کررہے ہیں جو اس دور میں سخت مشکلات اور الجھاؤ سے ربرو ہے بطورمثال اگر مصر کے پچیس (۲۵) جنوری کے انقلاب پر نظر کی جائے تو امریکا اور غرب نے اپنانیا پیترابدلکر اچانک اپنے کو انقلاب مصر کے حامی اوروہاں کی پبلک کے طرفدار وں میں قرار دے دیا اوراپنے کو حقوق بشرکے دفاع کرنے والوں میں ہونے کا دعوی دار کہنے لگے درحالی کہ کل تلک یہی سرنگون شدہ ڈیکٹاٹور حاکم کے سب سے بڑے حامی ، طرف داراور اس کو اپنا مورد اعتمادکہتے تھے اور وہ ظالم حاکم ان کا نزدیک ترین حامی قراردیا جاتا تھا ۔

اسی طرح ٹونس کے چودہ (۱۴) جنوری کے انقلاب کے وقت فرانس کے صدر سارکوزی کی حکومت آخری وقت تک وہاں کے ڈیکٹاٹور حاکم کی حمایت کرتی رہی اور اس کی حکومت کے گرتے ہی اپنے منافع کے حصول کی خاطر انقلاب لانے والے گروہ کے رہبروں اور لیڈروںسے روابط برقرارکرکے ایک نئی اسکیم کے تحت اپنے تسلط قائم رکھنے کے لئے تعلقات قائم کرنے لگی ۔

بہر حال امریکہ اور مغرب کی دوبارہ سے مسلمانوں پر مسلط ہونے کےلئے رینگنے والے کیڑے کی طرح چال کو سمجھ نے کے لئے انقلاب لانے والے ممالک کے رہبروں کو ہوشیاری سے قدم رکھنے کی ضرورت ہے لہذا اسلامی ملکوں میں انقلاب لانے والوں میں صف اول میں رہنے والے جوانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ دشمن کے اس حیلہ سے واقف رہکر ان کے آزادی حقوق بشر کے نعرہ سے دھوکا نہ کھاجائیں ۔

لہذا امریکہ کے اس دھوکہ کو سمجھنے کے لئے گذشتہ صدی اور خصوصاً وہ سال جو دور حاضر کے حالات پرمنتہی ہیں، کا مطالعہ سب سے زیادہ فائدہ مندثابت ہوگا کہ امریکہ اور یورپ نے یہ ثابت کردیا کہ وہ صرف حقوق بشرکی آزادی کے قوانین کو پائمال ہی کرنے کے قائل نہیں بلکہ اپنے منافع کی خاطر اگرہزاروں لوگوں کی جان بھی چلی جائے تو ان پر فرق نہیں پڑتا ہے چنانچہ اس ذیل میں ثبوت کے طورپر ۱۹۴۵ ء میں ہیروشیماء پر امریکہ کے ایٹمی حملہ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔

لہذا اگر اس تفصیل کو مدّنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یورپ کس طرح سے ایک طرف اپنے کومظلوم انسانوں کو ڈیکٹاٹور حاکموں سے نجات دلانے اورآزادی حقوق بشر کا مدعی کہلاتا جبکہ دوسری طرف کتنی مرتبہ ان کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے کتنے افراد اور اشخاص کو اپنی من مانی کے تحت قربان کرچکاہے ۔

لہذا ان کا یہ سیاہ کارنامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس جہان پر رہبری کا دعوی کرنے کے لئے استکبار کے یہ اقدامات عام پبلک کے لئے قابل قبول نہیں بلکہ وہ کسی بھی وقت صرف اپنے مقصد کے حصول اور منافع کی خاطرزورگوئی اورفوجی قوت کواستعمال کرکے آگے قدم بڑھا سکتا ہے جیسا کہ فی الحال مشرق وسطی کے حالات ایسے ہی نظر آتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب کے اس دعوے کے برخلاف کہ جواس نے اس خطے کی امنیت ،صلح کو برقراررکھنے کے لئے کیا ہے ۔

مزید  اے مولائے یثرب! آپ کا لطف نظر نہ ہو تو پھر ایک مومن کے لئے آسائشوں سے بھری زندگی بھی کسی عذاب سے کم نہیں

لہذا اسلامی ملکوں کے جوانوں کو یہ جاننا چاہیئے کہ جب جب بھی وائٹ ہاؤس کے لیڈر ، وزارت خارجہ ، وزارت دفاع ،س آی اے اور امریکی کانگریس جھان اسلام کے کسی بھی انقلاب کی حمایت کرتے ہیں تو اس سے ان کا کچھ اورمقصد ہوتا ہے کہ جس سے حقیقت میں وہاں کی لیڈری اور بربادی کاخاکہ پیش کرکے وہاں کے منابع اور ثروت پراپنا تسلط پیدا کرنا ہوتا ہے تا کہ اس وسیلہ سے وہاں کے تیل کے ذخائر سے ہماری کمپنیاںبہرمند ہوتی رہیں اور ان کو اسلحہ فروخت کرکے ہمارانظام سرمایہ داری برقرار رہے ۔

لہذا ان چیزوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ یہ تصمیم کرچکے ہیں کہ چاہے اب مصر یا ٹونس میں ان کا مہرہ اسی طرح باقی رہے یا نہ رہے اگرچہ یہ سرگردان موضوع لائق اہمیت نظر آتا ہے کہ یہ امریکہ کی جہان اسلام اور مشرق وسطی پر حکومت کرنے کے لئے دور گذشتہ کی طرح جھوٹ پر بناء رکھتے ہوئے انقلاب لانے والوں پر ضربہ وارد کرنے اورمقاومت کرنے والے افرادکے درمیان فتنہ پیدا کرکے اختلاف پھیلانے کی نئی چال ہے ۔

لہذا اس بات کی طرف توجہ رکھتے ہوئے انقلاب لانے والی اسلامی تحریکوں کو ضد انقلابی گروہوں کواپنی زیر نظر رکھنا چاہیئے چاہے وہ ہمیشہ ملک کے اندر ہوں یاملک سے باہر اس لئے کہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہینگے کہ امریکہ اور یورپ کی مدد سے حالات کو پہلے کی طرح اپنی جگہ پر لے آئیں اگرچہ ایالات متحدہ امریکہ ،یورپ اور اسرائیل بیداری اسلامی کی تحریک کے آغاز سے لے کرابھی تک بخوبی واقف ہیں کہ جھان اسلام اب آسانی سے ان کے قبضہ میں نہیں آسکتا اور ہرلحظہ ممکن ہے کہ وہ ان کے ھیمنہ اورسلطہ کودرہم وبرہم کردیں ۔

مگر افسوس کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قدرتمند افراد ابھی بھی زمان گذشتہ سے عبرت حاصل نہیں کرسکے ہیں اور اس دور کے نئے ابزار اور اسلحوں کا استعمال کرکے آج بھی اس جہان پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔

چنانچہ امریکہ اور اس کے متحدناٹو نے مشرق وسطی میں جنگ چھڑوانے کے لئے اپنے کو تیار کرلیا ہے اور ترکیہ میں اپنا میزائیل سیر کے نام سے نصب کرکے زورگوئی ، مسلمانوں پراپنا تسلط قائم رکھنے ،ان کو آپس میں ایک دوسرے سے لڑانے اور مقاومت کے جذبہ کو شکست دینے کے علاوہ کوئی دوسرامقصد نہیں رکھتے در حالیکہ زندہ دل رکھنے والے افراد حتی وہ لوگ بھی جو آج اسکتبار کے کیمپوں میں زندگی گذار رہے ہیں ان کی اس ظالمانہ رفتار کے خلاف اعتراض کررہے ہیں بلکہ ان ملکوں کی خانقاہوں کے خلاف بھی اعتراض کرنے کے لئے اپنے آمادہ ہونے کا اعلان کردیا ہے کہ جس کی ایک مثال نمونہ کے طور پر وال اسٹریٹ کے اشغال کرنے کو کہاجاسکتا ہے کہ اس تحریک نے کتنی تیزی سے قارئہ امریکہ اور یورپ کے ممالک کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے ۔

اور مغرب جو ابھی تک اس فکر میں تھا کہ اپنے سیاسی جغرافیاء سے نکل کر دوسرے مقامات پر بحران پیدا کرکے اپنی داخلی مشکلات سے نجات پاجائے گا اب یہ مشاہدہ کررہاہے کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے اس وحشتناک سیاسی اور اجتماعی بحران میں گرفتار ہوگئے ہیں اسی بحران مالی میں اگر محیط کرنسی پر نظر کی جائے تو مہینوں سے منطقہ یورو نے وہاں کے ممالک کو فکرات میں مبتلا کررکھا ہے اسی طرح یورپ کی متحدہ جماعتیں خاص کر فرانس اورانگلینڈابھی تک بینکوں کے پروفٹ کو کتنی مرتبہ کم کرچکے لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپارہے ہیں کہ جس کے سبب یہ اتحاد اپنے زوال کو پہونچتا دکھائی دے رہا ہے ۔

اسی طرح یونان ،اسپین ،اٹلی اور پرتقال کے لوگوں کے مظاہرے کے سبب ابھی تک وہاں کے پانچ وزراء کا اپنے منصب سے استیفاء دینا وہاں کے اتحاد کے منہدم ہونے کا سبب بن رہا ہے کہ وہاں کی حکومتیں اپنے اس معاہدہ یورو کو ختم کرکے دوبارہ اپنی پہلی کرنسی کو رائج کرنے کی فکر میں نظرآتے ہیں کہ جو ہر دور سے زیادہ اس وقت اس اتحاد کو خطرہ میں ڈالنے کا باعث بن رہا ہے ۔

اسی طرح امریکہ کا اس بحران اور مشکلات میں قدم بڑھانے اور ایالات متحدہ کے وزیر خزانہ کو یورپ میں بھیجنے نہ صرف اس مشکل کو دور کرنے بلکہ وہاں کی پبلک کے آیندہ سیاسی ، اقتصادی لینڈسکیپ (انگ) کو ختم کرنے کا سبب بنتا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں یہ کہا جارہا ہے کہ جو اپنے کو حقوق بشر کا مدافع اور بشریت کو نجات دینے اور آزادی کی حمایت کرنے والے تصور کرتے تھے اب وہ اس مقام پر پہونچ چکے ہیں کہ اب اپنی پبلک کو ذرہ برابر بھی اعتراض کرنے کا حق نہیں دیتے اور ذرہ بھر اعتراض پر ان کو سخت سے سخت سزاؤں سے ہمکنار کردیتے ہیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.