بیت المقدس قبلۂ ا وّل اسلام

0 0

180x480 Banner

۔بیت المقدس کی جغرافیائی موقعیت

بیت المقدس مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے شمال میں واقع ہے ۔یہ شہر’’یہود‘‘کے پہاڑوں پر واقع ہے جو پانی کو مشرق میں اردن کی کھاڑی اور مغرب میں دریائے مدیترانہ کے درمیان تقسیم کرنے والا ہے ۔ یہ شہر دو پتھریلی پہاڑیوں پر واقع ہے جو دریا کی سطح سے ۰۵۷/ میٹر کی بلندی پر ہے اور شمال میںبیت ایل اور جنوب میں حبرون یا الخلیل کے پہاڑوں کے درمیان فلات قدس اور الخلیل میں واقع ہے ۔شہر کے مغرب میں یہود ا پہاڑوں کی وادی اور مشرق میں بیابان یہود دکھائی دیتا ہے جو بحر ا لمیت تک چلا گیا ہے۔

بیت المقدس کی جغرافیائی وضعیت یہودا پہاڑوں کی ساخت سے مربوط ہے جو یکسان پتھر ہے اور اس میں کوئی کھائی نہیںہے،لہٰذااس وضعیت نے بیت المقدس کو ایک قلعہ میں تبدیل کر دیا ہے جو اپنے وسیع اطراف پر ناظر ہے۔

بیت المقدس کی آب و ہوا مدیترانئی ہے۔ ہلکی سردیوں میں کافی بارش ہوتی ہے اور موسم معتدل رہتا ہے اور موسم گرما میں بہت گرم اور مکمل خشک ہوتاہے ۔سال کے اکثر دنوں میں اس شہر میںمکمل دھوپ رہتی ہے ،سالانہ بارش کی میزان تقریباً پانچ سو میلی میٹر ہے اس شہر کے مغربی حصوں میں بارش کی میزان مشرقی حصوں سے زیادہ ہے ۔

﴿بیت المقدس ص/۳۔۶﴾

۲۔بیت المقدس کی فضیلت قرآن کے آئینہ میں 

قرآن کریم بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ کی اہمیت و فضیلت کے بارے میں ارشاد فرماتاہے :

سُبْْحَانَ الَّذِی ٲَسْْرَی بِعَبْْدِہِ لَیْْلًا مِنْْ الْْمَسْْجِدِ الْْحَرَامِ الَی الْْمَسْْجِدِ الْْٲَقْْصَی الَّذِی بَارَکْْنَا حَوْْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْْ آیَاتِنَا َّہ ہُوَ السَّمِیعُ الْْبَصِیرُ ﴿اسرائ آیت ۱﴾

یہ آیۂ کریمہ رسول اسلام کے واقعۂ معراج کو بیان کر رہی ہے ۔اس آیت کی روشنی میں آنحضرت (ص)کے سفر معراج کا آغاز، مسجد الحرام اور اس مقدس سفر کی زمینی سیر کی انتہائ مسجد الاقصیٰ ہے جو تاریخی شہر بیت المقدس میںواقع ہے ۔

مسجد الاقصیٰ وہی مقدس مکان ہے جو یہودیوں کا قبلہ تھا اور مسلمانوں نے بھی تیرہ سال مکہ میں اور ہجرت کے بعد سترہ مہینے اسی کی سمت رخ کر کے نماز ادا کی ہے ۔اسی لئے مسجد الاقصیٰ کو مسلمانوں کا پہلا قبلہ شمار کیا جا تا ہے ۔

پروردگار عالم اس آیہ کریمہ میں ارشاد فرماتا ہے :

’’ ہم نے اس سر زمین کے اطراف کو با برکت قرار دیا۔‘‘

اس برکت سے مراد کیا ہے ؟

مفسرین نے دو احتمال بیان کئے ہیں :

۱۔ممکن ہے جملہ’’بارکنا حولہ‘‘ اس سر زمین کی ظاہری برکتوں کی طرف اشارہ ہو؛ اس لئے کہ یہ سر زمین ایک سر سبز و شاداب ،درختوں سے سرشار اور جاری پانی اور آبادیوں والے علاقہ میں واقع ہے ۔

مزید  عید نوروز کی تاریخ

۲۔ ممکن ہے یہ جملہ اس سر زمین کی معنوی برکت کی طرف اشارہ ہو؛ اس لئے کہ یہ سر زمین عظیم الشان انبیائے الہی کا وطن اور نور توحید اور خدا پرستی کا مکان رہا ہے۔ ﴿تفسیر نمونہ ج/۲ ص/۰۱﴾ 

لہٰذا قرآن کریم نے اس سر زمین کا ایک شرف بیان کیا ہے ۔ بیت المقدس کی ظاہری اور معنوی برکات اس بات کے پیش نظر کہ وہ انبیائے الہی کا محل زندگی اور پیغمبر اکرم کی معراج گاہ ہے اور اس کے اطراف کی ظاہری برکت واضح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ 

۳۔ بیت المقدس روایات کے آئینہ میں 

بیت المقدس قدیم زمانہ سے انبیائے الہی کا شہر رہا ہے اور اسے ’’شہر انبیائ ‘‘کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔مسلمانوں کا قبلہ اول کچھ خاص فضائل کا حامل ہے ،جس نے اسے دوسرے شہروں سے ممتاز بنادیا ہے ۔اسی لئے معصومین ٪ نے اس کی طرف خاص توجہ دی ہے ۔ معصومین ٪ نے اس شہر کی کچھ خصوصیات بیان فرمائی ہیں،جن کی طرف ہم اشارہ کر رہے ہیں :

الف دعاکی قبولیت: 

حضرت علی – نے مسجد الاقصیٰ کے سفر پر جانے والے اپنے ایک صحابی سے فرمایا:

’’مشکلات میں گھراکوئی بھی شخص وہاں ﴿بیت المقدس میں﴾دعا نہیں کرتا مگر یہ کہ خدا وند عالم اس کی دعا کو مستجاب اور اس کی مشکلات کو دور کردیتا ہے‘‘۔ ﴿وسائل ج/۲ ص/۹۲۵﴾

ب بیت المقدس ایک بہشتی محل:

حضرت علی – نے ارشاد فرمایا:

اربعۃ من قصور الجنۃ فی الدنیا؛ المسجدالحرام و مسجد الرسول (ص)و مسجد بیت المقدس و مسجد الکوفۃ۔﴿وسائل ج/۲،ص/ ۹۲۵﴾ 

’’دنیا میں چار مقامات جنت کے محل ہیں :

مسجد الحرام،مسجد نبوی، مسجد الاقصیٰ اورمسجد کوفہ‘‘۔

ج مسجد بیت المقدس چار منتخب مسجدوں میںسے ایک :

امام محمد باقر -نے ابو حمزہ ثمالی سے فرمایا:

چار مسجدیں یہ ہیں :’’مسجد الحرام،مسجد نبوی، مسجد بیت المقدس﴿مسجد الاقصیٰ﴾اور مسجد کوفہ۔اے ابو حمزہ ثمالی! ان مسجدوں میں ایک واجب نماز کا ثواب ایک حج کا ثواب ہے اورا یک مستحبی نماز کا ثواب ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے‘‘ ۔﴿من لا یحضر الفقیہ ج/۱،ص/۸۴۱﴾

د بیت المقدس میں نماز کا ثواب:

بیت المقدس ، مقدس مقامات اور با فضیلت شہروں میں سے ایک ہے اس لئے کہ وہ بندگان خدا اور عظیم الشان انبیائے الہی کا وطن رہا ہے ۔اسی لئے اسلام میں اس شہر کو ایک خاص مقام و منزلت حاصل ہے اوروہ دوسرے مقامات کے درمیان ایک ستارہ کے مانند چمکتا ہے ۔اسی لئے اس شہر میںعبادت کا ثواب دوسری جگہوں پر عبادت کے ثواب سے کئی گنا زیادہ ہے جیسا کہ حضرت علی – سے مروی ہے کہ آپ(ع) نے ارشاد فرمایا :

مزید  ماه رمضان اور غفلت

’’بیت المقدس میں ایک نماز ،ہزار نماز کے برابر ہے‘‘۔ ﴿من لا یحضر الفقیہ ج/۱،ص/۸۴۱﴾

۴۔بیت المقدس تاریخ کے آئینہ میں 

تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ شہر عرب نسل کنعانیوں کے ہاتھوں آباد ہوا اور یہی لوگ بیت المقدس کے پرانے باشندے مانے جاتے ہیں ۔ تاریخ میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادت سے تین یا چار ہزار سال پہلے عربوں کے آموری اور کنعانی نامی دو قبیلوں نے شام کا سفر کیا۔کنعانیوں نے فلسطین اور آموریوں نے شام میںسکونت اختیار کی ۔ایک جرمنی دانشمند ، مورتکات کنعانیوں کی صفت کو اس طرح تحریر کر تا ہے :

’’شام کے ساحلی علاقہ کے وسط میں آثار قدیمہ کی کشف شدہ چیزوں میں سے معلوم ہوتاہے کہ سامی نسل کے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادت سے کم از کم تین ہزار سال پہلے وہاں آباد تھے جن کا نام کنعانیان تھا ‘‘۔﴿بیت المقدس شہر پیامبران ص/۷۱﴾

کنعانیوں کا سب سے مشہور قلعہ ’’یبوس‘‘تھا۔انھوں نے موجودہ بیت المقدس کے علاقہ میں سکونت اختیار کی اور شہر یبوس﴿قدس﴾کی بنیاد رکھی۔ اس شہر کی بنیاد یبوسیوں کے بادشاہ ’’ملک صادق‘‘ کے ہاتھوں رکھی گئی۔ اس نے اس سر زمین کے ایک گوشہ میں ’’یبوس‘‘نامی شہر کی بنیاد رکھی ۔چونکہ وہاں کا بادشاہ صلح اور آبادانی کا دوستدار تھا لہٰذا ایک عرصہ کے بعد وہاں کے باشندوں نے ’’یبوس‘‘کے نام کو بدل کر اس کا نا م ’’اورسالم‘‘ ﴿شہر سالم۔صلح﴾ رکھادیا۔﴿تاریخ بیت المقدس و مسئلہ فلسطین ص/۷۔۸﴾

تاریخ میں آیا ہے کہ شہر اور سالم ﴿بیت المقدس﴾ مختلف ادوار میں انبیائے الہی جیسے حضرت دائود – اور آپ کے فرزند حضرت سلیمان – کی حکومت کا مرکز اور دارالحکومت رہا ہے ۔ حضرت دائود – نے حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادت سے ہزار سال پہلے ہزاروں سپاہیوں کی مدد سے اس شہر کو فتح کیا اوراسے اپنا دارالحکومت قرار دیا اور اس کا نام ’’شہر دائود‘‘رکھ دیا گیا ۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان – کو بادشاہت ملی اور انہوں نے اپنے ہیکل﴿معبد،محل عبادت﴾کو کوہ ’’موربا‘‘ کے اوپر بنایا۔ اس تاریخ سے لیکر کئی قرن تک اور سالم حضرت دائود – کی نسل میں رہا ، ہیکل سلیمان ۴۲۴.ئ سال تک باقی رہا یہاں تک کہ مصر کے بادشاہ’’ شیتق ‘‘نے اپنی حکومت کے دوران اسے تباہ و برباد کر دیا ۔

بیت المقدس جو کنعانیوں کے ہاتھوں بنیاد پڑا، انبیائے الٰہی حضرت دائود -اور حضرت سلیمان -کا مرکز حکومت رہنے کے بعد اس نے ایک خاص اہمیت حاصل کر لی اور ایک تاریخی شہرت کا حامل ہوگیا ۔ شاید اسی وجہ سے اسلامی روایات میں اس شہر کی تأسیس کی نسبت حضرت سلیمان -کی طر ف دی گئی ہے ۔ البتہ تاریخی نقطۂ نگاہ سے اس شہر کی قدمت حضرت سلیمان – کے دوران حکومت سے پہلے ہے ۔تاریخ کے بیان کے مطابق بیت المقدس کی تاسیس کے پانچ ہزار سال کے عرصہ میں یہ شہر ۵۱ سو سال ’’یبوسیوں‘‘ یعنی ’’کنعانیوں ‘‘کے ہاتھ میں تھا جو جزیرۃ العرب سے آئے تھے اور اس کے اصل بانی تھے ۔ اس کے بعد چار صدیوں تک اسرائیل کے ہاتھوں میںرہا ۔ چند صدیاں ایرانیوں کے ہاتھ میں ،دو صدی یونانیوں اور اشکانیوں کے ہاتھ میں اور چار صدیوںتک رومیوں کے اختیار میںرہا ۔ ان ساری تغییر و تبدیلی کے باجود اس شہر کے اصلی باشندے یعنی کنعانیان اور یبوسیان اسی طرح وہاں مقیم رہے ۔

مزید  کیا قرآن کی آیات ۶۶۶۶ نہیں ہیں/ کیا ہاتھ پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟

منابع تاریخی یہودیوں کے سر زمین فلسطین میں وارد ہونے کو میلاد مسیح (ع)سے ایک ہزار سال پہلے کی طرف نسبت دیتے ہیں ۔ عبرانیوں ﴿یہودیوں ﴾نے نہر اردن سے عبور کر کے زبر دستی اس علاقے کو کنعانیوں سے چھین لیا اور.قبل از مسیح وہاںان کی حکومت کی بنیاد پڑی یہ حکومت حضرت دائود – اور حضرت سلیمان – کے زمانہ میں اسّی ﴿۰۸﴾سال کی مدت میں ایک خاص ثقافت و تمدن اور سیاسی نظام سے بر خورد ارتھی۔حضرت سلیمان – کے بعد مملکت یہود دوحصوں میں تقسیم ہو گئی، شمال میں مملکت اسرائیل اور جنوب میں مملکت یہود!

﴿بیت المقدس شہر پیامبران ص/۷۱﴾

اسی طرح فارس اور بابل کے درمیان جنگ میں بیت المقدس ایرانیوں کے ہاتھوں میں آگیا ۔ ساتویں صدی عیسوی میں ساسانی بادشاہ’’ خسرو پرویز‘‘ نے بیت المقدس پر قبضہ کیا۔

بیت المقدس کی تاریخ سے جو باتیں سامنے آتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے :

۲۔یہودی، یبوس کے ہاتھوں بیت المقدس کی تأسیس کے تین ہزار سال بعد فلسطین میں وارد ہوئے اور وہ قدس کے اصلی باشندے نہیں ہیں ۔

۳۔ عبرانی دو ہجرت کے دوران سر زمین کنعان میں وارد ہوئے :پہلی ہجرت :میلادمسیح (ع) سے پہلے چودھویں صدی کے شروع میں اور دوسری ہجرت: میلاد مسیح (ع)سے پہلے تیرہویں صدی میں مصر سے ۔ عبرانیان ایک ماہر قبیلہ تھا ، انہوں نے کنعانیوں سے فن معماری،کھیتی اور لکھنا پڑھنا سیکھا ۔ اس کے بعد وہ اپنی پرانی زبان ساسانی کو بھول گئے اور کنعانیان کے درمیان رائج لہجہ کو سیکھ لیا۔﴿بیت المقدس شہر پیامبران ص/۸ تا ۰۲﴾

۱۔ کنعانیان عرب تھے جنہوں نے جزیرۃالعرب سے ہجرت کی اور اس علاقہ میں مقیم ہو گئے

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...