بہشت ِ ولايت

0 0

ولايت ِ فردي

ولايت کے بارے ميں گفتگو کرتے ہوئے ‘ دو نکتے قابلِ ذکرہيں۔

١: ولايت رکھنے والے فرد اور ولايت کے حامل معاشرے سے اجمالي شناسائي۔

ّّ ٢:جس معاشرے ميں ولايت پائي جاتي ہے‘اس کاکرداراور اسکے مظاہر۔

ياتِ قرني ميں غور وفکر‘ ولايت کے حوالے سے اہلِ بيت ٴکي جدوجہد اوراس سے حاصل ہونے والے نتائج کي مدد سے جو کچھ پتا چلا ہے وہ يہ ہے کہ ولايت کے کئي مظاہرہيں۔ ايک يہ کہ مسلمان معاشرہ اپنے وجود کے باہر موجود عناصر سے منسلک اور غير مسلموں سے وابستہ نہ ہو۔ ہم واضح کرچکے ہيں کہ منسلک اور وابستہ نہ ہونا ايک بات ہے اور سرے سے کوئي رابطہ نہ رکھنا ايک عليحدہ بات ۔ہم ہر گز يہ نہيں کہہ رہے کہ عالمِ اسلام کو سياسي اور اقتصادي لحاظ سے اپنے پ کو دنياسے الگ تھلک کر لينا چاہئے ‘اور کسي بھي غير مسلم قوم ‘ ملک اورطاقت سے رابطہ نہيں رکھنا چاہئے۔ بلکہ بات يہ ہے کہ اُسے اُن سے وابستہ ‘پيوستہ اور اُن کا تابع نہيں ہوناچاہئے ‘اُسے دوسري طاقتوں ميں مُدغم نہيں ہوجانا چاہئے۔بلکہ اُسے چاہئے کہ اپني خود مختاري کي حفاظت کرے اور اپنے قدموں پر کھڑاہو ۔

ولايت کا دوسرامظہر‘ مسلمان عناصر کے درميان گہرا داخلي اتحاد اور ربط و تعلق ہے۔ يعني اسلامي معاشرے کا متحد اور يک جہت ہونا ہے۔ جيسے کہ احاديث ِنبوي ۰اور احاديث ِمعصومين ٴميں ہے کہ :

’’مَثَل الْمُوْمِنِينَ في تَوٰادِّھِمْ وَتَرَا حُمِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِاِذا اشْتَکَي بَعْضُھُمْ تَدٰاعي سٰائِرُھُمْ بِالسَّہَرِوَالْحِميٰ۔‘‘

(نہج الفصاحہ ۔حديث نمبر٢٧١٢۔ص٥٦١)

حديث ميںانہي الفاظ کے نزديک نزديک کَمَثَلِ الْبُنْيٰانبھي ئے ہيں ۔(مومنين کي مثال ) ايک ايسے جسدِ واحد اور عمارتِ واحد کي سي ہے ‘ جسے ايک دوسرے سے پيوست اور باہم متصل ہونا چاہئے ‘اورجسے دوسروں کي طرف سے پيش نے والي مزاحمتوںاور ان کي عداوتوں کے مقابل متحد ہونا چاہئے ۔ يہ نکتہ قرنِ مجيد کي يت:اَذِلَّۃٍ عَلَي الْمُْمِنِيْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَي الْکٰفِرِيْنَ۔ (١)سے حاصل ہوتا ہے ۔

قرنِ کريم کي ايک دوسري يت نے اسي بات کومزيد وضاحت کے ساتھ بيان کيا ہے :

’’مُحَمَّد رَّسُوْلُ اِ وَ الَّذِيْنَ مَعَہ اَشِدَّآئُ عَلَي الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَيْنَہُمْ۔‘‘(٢)

جب يہ بيروني مخالفين کے سامنے ہوتے ہيں ‘ تو تم انہيں مضبوط ‘ مستحکم اورباہر کي کوئي تاثير اور اثر قبول نہ کرنے والا پاؤگے۔ ليکن يہ خودپس ميںانتہائي مہربان ہيں‘کيونکہ ان کے درميان دھڑے بندي نہيں ہے ‘اوراس عظيم جسد و پيکرِ اسلامي کے اعضا ايک دوسرے پر تاثير ڈالتے ہيں‘ وہ سب ايک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہيں‘ سب ايک دوسرے کو خير اور بھلائي کي طرف بلاتے ہيں‘

سب ايک دوسرے کو حق کي زيادہ سے زيادہ پيروي کي وصيت کرتے ہيں ‘سب ايک دوسرے کو راہِ حق ميں زيادہ سے زيادہ ثابت قدمي کي نصيحت کرتے ہيں ‘ ايک دوسرے کا خيال رکھتے ہيں۔

جس طرح ہم نے پہلے مثال پيش کي ‘ اُن دس کوہ پيما افراد کي مثال بيان کي جو کوہ پيمائي ميں مصروف ہيں ‘ جو پر پيچ پہاڑوں پر کمنديں ڈالتے ہوئے چل رہے ہيں ‘ اور اگر ان ميں سے کسي ايک کے پيروں کے نيچے سے کوئي ايک ڈھيلا ياايک پتھر نکل جائے ‘ تو يہ اسے سر کے بل درّے کي گہرائي ميں پھينک دينے کے لئے کافي ہے ۔اس صورت ميں ان سب افراد کي سلامتي کا صرف ايک راستہ ہے ‘ اور وہ يہ کہ وہ سب ايک دوسرے کي کمر کو انتہائي مضبوطي کے ساتھ رسي سے باندھ ليں ‘ايک دوسرے کا ہاتھ تھام ليں‘ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ايک دوسرے کو وازيں ديتے رہيں ‘ کہ مثلاً فلاں تم راستے سے تو نہيں بھٹکے ہو ‘ پيچھے تو نہيں رہ گئے ہو ‘ بھوکے تو نہيں ہو ؟

وہ ايک دوسرے سے مکمل طور پر باخبر رہيں ‘ديکھتے رہيںکہ کہيںان کے درميان کوئي فرد فکري ‘ مادّي اور حق و حقيقت کي شناخت کے اعتبار سے دوسروں سے کمزور تو نہيں ہے ۔اگر اُن کي صفوں ميںکوئي ايسا فرد موجود ہو‘ توسب اس کي ہدايت ورہنمائي کي کوشش کريں‘سب اُسے راہِ راست پر لانے کي سعي کريں ۔مختصر يہ کہ ايک ايسا گھرانہ تشکيل ديں جس کے افراد ايک دوسرے سے سو فيصدي مخلص ہوں ۔

يہ اسلامي معاشرے ميں پائي جانے والي ولايت کے مختلف مظاہر ميں سے ايک مظہر تھا۔

مسلمان معاشرے کے لئے ولي کا ضروري ہونا

ولايت کے مظاہر ميں سے ايک اورمظہر‘ جوان سب سے زيادہ اہم ہے اور پہلے اور دوسرے معني کي ولايت کي بقا کا ضامن بھي ہے ‘وہ يہ ہے کہ خودمعاشرے کے اپنے اندر ايک مقتدر مرکزي قيادت موجود ہو۔ کيونکہ اسلامي معاشرے کو ايک جسد ِ واحد کي مانند ہونا چاہئے ‘ جس کے مختلف اعضا اندر سے بھي ايک دوسرے سے جڑے ہوئے اور پيوستہ ہوں اور باہر بھي بيروني عناصر کے مقابل ايک بند مٹھي اور ايک جسد ِ واحدکي مانند عمل کريں۔ يہ وحدت اور يکسوئي انہيں منظم کرنے والي ايک مرکزي قوت کے بغير ممکن نہيں ۔

لہٰذا اگر اسلامي معاشرے کے مختلف گوشوں ميں‘ہر گوشے پرعليحدہ عليحدہ خود مختار قوتوں کي حکومت ہو ‘ تو اس جسم کے اعضاايک دوسرے سے جدا ہوجائيں گے‘ اور ايک راستے پر گامزن نہيں ہوسکيں گے ۔يہ بالکل ايسا ہوجائيگا جيسے انسان کے اعصاب سے کام لينے والے نظام کودومختلف مراکز سے کنٹرول کيا جائے‘ ايک کا تعلق دائيں طرف سے ہو اوردوسرے کا تعلق بائيں طرف سے۔ اس صورت ميں ايک عمل انجام دينے کے لئے داياں اور باياں حصہ ايک دوسرے سے ہم ہنگ ہو کر کام نہيں کريں گے۔ مثلاً ايک وزن اٹھانے کے لئے داياں ہاتھ تو تيار ہوگا ‘ليکن باياں ہاتھ کسي صورت يہ بوجھ اٹھانے پر تيار نہ ہوگااور مٹھي بھينچ لے گا ۔لہٰذا اگر انسان کا اعصابي نظام کنٹرول کے دو مختلف مراکز سے حکم حاصل کرے گا‘ تو بدن کي حالت ميں خلل واقع ہوجائے گا اور عمل کي انجام دہي‘ يا دشمن سے بچاؤ کے موقع پر مضحکہ خيز صورت اختيار کرلے گا‘اور دشمن کے شر سے محفوظ رہنے کے قابل نہيں رہے گا ۔

اسلامي معاشرہ بھي اگربر وقت اپنے دشمن سے بچنا چاہے ‘ تو اس کے اندر کنٹرول کا مرکز محفوظ ہونا چاہئے ‘اور اگر ايک اسلامي معاشرہ اپنے دشمن سے جنگ کرنا چاہتا ہے ‘ تو لازم ہے کہ اس معاشرے کے تمام گروہ يکجا ہوکر دشمن کے مقابل ئيںاور اس کا سا منا کريں‘اور پس ميںہم ہنگ ہوکر اس پر ايک کاري ضرب لگائيں ۔ايسا نہ ہو کہ معاشرے کاہر گروہ اپني مرضي سے عمل کرنے لگے۔ کيونکہ اس صورت ميں انگور کے باغ ميں جانے والے ان تين افراد کاسا قصہ پيش جائے گا جسے ملا نے نقل کيا ہے‘ اور دشمن ايک سازش کے ذريعے ان سب کا کام تمام کردے گا۔ اسي طرح جيسے تاريخ اورتاريخِ اسلام ميں بارہا ايسا ہوا ہے ۔

پس اگر اسلامي معاشرہ بر وقت اپنے مفاد ات کا حصول چاہتا ہے اور اپنے پ کو ضرر اور نقصان سے محفوظ رکھنے کا متمني ہے‘ تواندروني طور پر اس کے اعضا کو ايک دوسرے کے لئے ملائم اور باہم متحد ہونا چاہئے ‘اور دشمن کے مقابل ايک بند مٹھي اور ايک دست ِ واحد بن جانا چاہئے ۔

مختصر يہ کہ اگر وہ ولايت کے ان دومظاہر اور دو پہلوؤں کے ساتھ رہنا چاہتے ہيں ‘تولازم ہے کہ اُن کے اندر کنٹرول کا ايک مقتدر مرکز موجود ہو ‘تاکہ معاشرے کے تمام فعال اورسرگرم عناصر اپنا فکري‘عملي‘دشمن کوب اور دوست نواز لائحہ عمل اسي مرکز سے حاصل کريں۔ يہ مرکز اسلامي معاشرے ميں موجود تمام گروہوں کو منظم کرے ‘ اور ہر ايک کو اُس کے لائق کام سپرد کرے ‘ان کے درميان ٹکراؤ اور تصادم کا راستہ روکے اورتمام قوتوں کي ايک سمت ميں رہنمائي کرے ۔

ايسا مرکز اور ايسي ہستي ‘ خدا کي جانب سے ہوني چاہئے ‘اُسے عالم ‘گاہ اورمعصوم ہونا چاہئے ‘ اُسے اسلام کے تمام تعميري عناصر کا عکاس ہونا چاہئے ‘اُسے قرن کا مظہر ہونا چاہئے۔ ايسي ہستي کوہماري اسلامي تعليمات ميں ولي کہاجاتا ہے ۔

پس مذکورہ بالا دو پہلوؤںسے اسلامي معاشرے کي ولايت تقاضاکرتي ہے کہ اسلامي معاشرے ميں ايک ولي کاوجود ضروري ہے ۔

مزید  خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ(ع) کے اوصاف

يہ بھي ولايت کے پہلوؤں ميں سے ايک پہلو ہے۔

کون فرد ولايت رکھتاہے ؟

اس کے بعديہ سوال پيش تا ہے کہ ميں اور پ ولايت رکھتے ہيں يا نہيں ؟ ممکن ہے ميں اور پ ولايت رکھتے ہوں‘ ليکن کيا مجموعي طور پر ہمارا معاشرہ ولايت رکھتا ہے يا نہيں ؟

ممکن ہے کوئي يہ سوال کرے کہ کيا يہ دونوں (فرد اور معاشرہ) ايک ہي نہيںہيں؟ کيا يہ ايک دوسرے سے مختلف ہيں ؟ ہم جواب ميں کہيںگے کہ : جي ہاں ‘ اگر ايک عضو از خود سالم ہو‘ تو اس ايک عضوکے سالم ہونے کے اولاً تويہ معني نہيںہوں گے کہ پورا بدن سالم ہے اور ثانياً يہ کہ اگر ايک سالم عضوايک غير سالم بدن ميں ہو‘ تووہ ايک سالم عضو کي تمام خوبيوں کامالک نہيں ہوسکتا ۔

پہلے ہم ديکھتے ہيں کہ ولايت رکھنے والاايک انسان کس قسم کا دمي ہوتا ہے۔ تاکہ اسکے ذريعے يہ جان سکيں کہ کيا ميں اور پ ولايت کے حامل ہيں‘ يا نہيں ؟ اگر يہ بات ثابت اور واضح ہوجائے کہ ميں اور پ ولايت کے حامل ہيں ‘ تو اسکے بعد ہميں يہ ديکھنا چاہئے کہ معاشرے کو کيسا ہونا چاہئے تاکہ وہ ولايت کا حامل ہوسکے ؟

اس ميں کوئي مانع نہيںکہ ايک بے ولايت معاشرے ميںولايت رکھنے والا ايک انسان پايا جائے۔(البتہ ہماري مراد مفروضے کے اعتبار سے ہے‘جس کي بنا پر ہم کہتے ہيں کہ اس ميں کوئي مانع اور مضائقہ نہيں ہے‘ وگرنہ حقيقت ميں بہت زيادہ مضائقہ ہے )

اب ذرا اس مسئلے کي جانب تے ہيں کہ کياايک انسان کے خود ولايت کا حامل ہوجانے سے اسکي ذمے داري ختم ہو جاتي ہے ؟

کيا بس اتنا کافي ہے کہ وہ خود ولايت کا حامل ہوجائے ‘چاہے اس کا معاشرہ ولايت سے محروم اورعاري ہي کيوں نہ ہو۔

کيا ايسي زندگي ايک مطلوب اور پسنديدہ زندگي ہوسکتي ہے ؟

اگر کوئي شخص خود ولايت کا حامل ہو‘ ليکن ايک ايسے معاشرے ميں زندگي بسر کرتا ہوجو بے ولايت ہے‘ اور وہ معاشرے کي اس بے ولايتي کے حوالے سے کسي ذمے داري کا احساس نہ کرے ‘ تو کيا اس کااس ذمے داري کا احساس نہ کرنا ‘خود اسکي ولايت کو بھي نقصان نہيں پہنچاتا اوراُسے بھي خراب نہيں کرديتا ؟

يہ وہ چيزيں ہيںجن کے بارے ميں پ مسلمان مرد وزن ‘بالخصوص مسلمان جوانوں کوسوچنا چاہئے ۔ممکن ہے ميرے پاس اتني فرصت اور موقع نہ ہو‘ اور اگر ميں ان ميں سے ايک ايک نکتے کو اس طرح بيان کرنا چاہوں کہ وہ واضح ہو جائے‘ اور تمام لوگوں کي سمجھ ميں جائے‘تو ان ميں سے ہر ايک نکتے پر گھنٹوں گفتگو کي ضرورت ہوگي۔ افسوس کہ ميرے پاس اتنا وقت نہيں ہے۔يہي وجہ ہے جو ميں ان نکات کو اختصار کے ساتھ عرض کررہاہوں اور ان کے بارے ميں غور و فکر اوران کي موشگافيوں کو پ پر چھوڑ رہاہوں ۔

اب ہم اس نکتے کا جائزہ ليتے ہيں کہ اولاً ولايت کا حامل انسان ‘ کس قسم کا انسان ہوتا ہے ؟ ثانياً يہ کہ ہماري اور معاشرے کي اوراکھٹے زندگي بسر کرنے والے انسانوں کي اجتماعي ہيئت کيسي ہوني چاہئے کہ ہم ولايت کے حامل ہوسکيں‘اوروہ کيا صورت ہے جس ميں ہم ولايت کے حامل نہيں ہوںگے ؟ کس صورت ميںايک معاشرہ اسلام کا مطلوب ولائي معاشرہ بنتا ہے‘ اور کس صورت ميں اور کن حالات ميں ‘ اسلام کي بتائي ہوئي ولايت سے محروم رہتا ہے ۔

تيسرا مسئلہ يہ ہے کہ کيا ولايت رکھنے والے ايک شخص کے ذاتي طورپر ولايت رکھنے سے اسکي ذمے داري ختم ہوجاتي ہے؟ اور اب اس پر ولايت کا حامل معاشرہ بنانے کي ذمے داري عائدنہيں ہوتي ؟

چوتھامسئلہ يہ ہے کہ اگر انسان خودتوولايت کاحامل ہو‘ ليکن ولايت سے محروم ايک معاشرے ميں زندگي بسر کرتا ہو‘ اوراسے اپنے معاشرے کو ولايت کا حامل بنانے کي ذمے داري کا احساس نہ ہو ‘تو کيا اس ميںذمے داري کے اس احساس کانہ پاياجانا ‘ خود اسکي ولايت کو نقصان نہيں پہنچائے گا ؟ کيا اسکي ولايت کو اسي بات نے ضعيف اور مخدوش نہيں کر ديا ہے کہ اس ميں دوسروں کو ولايت کا حامل بنانے کي سوچ نہيں پائي جاتي؟

يہ وہ مسائل ہيں جن پر ہميں بحث اور گفتگو کرني چاہئے ۔

اب ہم ان ميں سے کچھ مسائل بيان کريں گے۔

اس بحث کے مکمل ہونے کے بعد پ خود ولايت کے بار ے ميں قرن کے پيش کردہ اور حديث کے بتائے ہوئے عالي اور عقل پسند معني کا موازنہ اُن معني سے کيجئے گا جو سست اورعمل سے جي چرانے والے رام طلب افرادنے تصور کرلئے ہيں۔ تاکہ پ ديکھ سکيں کہ ان دونوں معني کے درميان کس قدر فرق پايا جاتا ہے ۔

بعض لوگ سمجھتے ہيں کہ کسي شخص کے ولايت کا حامل ہونے کي علامت يہ ہے کہ وہ جب کبھي اہلِ بيت ٴميں سے کسي کا نام سنے تو عليہ السلام کہے۔ سمجھتے ہيں کہ ولايت کا حامل ہونا يہ ہے کہ انسان کے دل ميں محبت ِ ِاہلِ بيت ٴپائي جاتي ہو۔ البتہ بے شک اہلِ بيت ٴکي محبت رکھنا واجب اور فرض ہے اور اُن کے اسمائے گرامي کو عزت و تکريم کے ساتھ زبان پر جاري کرنا ‘اُن کے نام پر مجالس کا انعقاد‘ اُن کي خوشي‘غمي سے سبق لينا‘اُن کے مصائب بيان کرنا ‘اُن کے مصائب اور مسرتوںپر اُن کاذکر کرنا اوراُن کي مظلوميت پر نسو بہانا لازم ہے۔ ليکن يہ سب چيزيں ولايت نہيں ہيں۔ ولايت اِن سے بالاتر ہے۔ ايسا شخص جو سيد الشہدا ٴکي مجلسِ عزا ميں بيٹھ کر نسو بہاتا ہے ‘ وہ ايک اچھا کام کرتا ہے ‘ ليکن اسے ولايت کا حامل ہونے کے لئے صرف اس اشک فشاني کوکافي نہيں سمجھنا چاہئے ۔

وہ لوگ جن کے ذہن پر بعض ايجنٹ عناصر اور مفاد پرستوں کي مفاد پرستانہ يا جاہلانہ تعليمات و تلقينات اثر انداز ہوئي ہيں ‘ انہيں ذرا توجہ سے سننا چاہئے ‘تاکہ بعد ميں يہ نہ کہا جائے کہ کوئي سيد الشہداٴ پر رونے کا مخالف ہے۔

ہم کہتے ہيں کہ بسا اوقات سيد الشہداٴ پر اشک فشاني ايک قوم کي نجات کا باعث بن سکتي ہے ‘ جيسے کہ توابين قبرِ حسين ٴ کے سرہانے گئے اور وہاں بيٹھ کراُنہوں نے دو يا تين روز صرف اور صرف گريہ کيا ‘اور ان کي اس گريہ و زاري کانتيجہ يہ برمد ہوا کہ انہوں نے ايک دوسرے کا ساتھ ديتے ہوئے مرجانے کا عہد کيا اور کہا کہ ہم وعدہ کرتے ہيں کہ ميدانِ جنگ ميں جانے کے بعد زندہ لوٹ کر نہيں ئيں گے ۔يہ ہے امام حسين ٴپر گريہ ‘ کوئي اس گريئے کا مخالف نہيں ہے ۔

کوئي انسان حسين ابن علي ٴاور علي ابن ابي طالب ٴکي عظمت بيان کئے جانے کا مخالف نہيں۔ جو کوئي انہيں جانتا ہے ‘ وہ اس بات کي تصديق کرتا ہے کہ ان کا نام عظمت کے ساتھ ليا جاناچاہئے۔ وہ گھرانہ جس کي ميراث شہادت ہواور جس کا عزيز ترين اثاثہ راہِ خدا ميں فدا کاري اور جانثاري ہو‘اور جس کا پوراوجود خدا کے لئے وقف ہو‘انسان کو اس گھرانے کاذکر عظمت ہي کے ساتھ کرناچاہئے ۔اس بات کا شيعہ اور غيرشيعہ ہونے سے کوئي تعلق نہيں ۔ميں پ کو يقين دلاتا ہوں کہ پ يورپ ‘ امريکا‘ يا کسي بھي کفرستان ميں چلے جائيے ‘اوروہاں اُن کے سامنے علي ابن ابي طالب ٴجيسي شخصيت کے حالات ِزندگي بيان کيجئے ۔ پ ديکھيں گے کہ وہ ان کے کردار پر فخر کرتے ہوئے ‘ايک ايسے انسان پر افتخار کرتے ہوئے جس کي زندگي ميں يہ تمام کے تمام افتخارات موجودہيں ‘ وہ ان کے لئے تالياں بجائيں گے ‘ اُن کي تعظيم اور احترام کريں گے ‘اور ان کے نام کو پ کي طرف سے ايک عزيز يادگار کي صورت اپنے ذہن ميں محفوظ رکھيں گے ۔

يہ چيزصرف شيعوں سے مخصوص نہيں ہے‘جس کي بناپر پ سمجھتے ہيں کہ ولايت يعني بس يہي محبت ِ اہلِ بيت ٴ۔البتہ يہ اُس ولايت کاايک گوشہ اور شعبہ ہے جو انسان کوجنت ميں لے جاتي ہے‘ يہ ولايت کاايک انتہائي اہم حصہ شمار ہوتي ہے ۔

مزید  محمد (ص) بيسويں صدي ميں

کچھ لوگ ہيں جو واقعاً جہالت کي بنياد پر‘جو انشائ ا جہالت ہي کي بنياد پر ہے مفادپرستي کي بنياد پر نہيںامام حسين ٴپر گريہ کرنے جيسے مسائل اور ولايت و تشيع کے باب ميں بعض سطحي مسائل کا ذکر کرکے ولايت کو صرف انہي مسائل ميں منحصر کرتے ہيں‘اور تعجب ہے کہ ولايت کوسمجھنے والے‘ ولايت کوجاننے والے اور ولايت رکھنے والے لوگوںکوانہي باتوں سے ہدف ِ تنقيد بناتے ہيں ۔

انسان کي سرشت ميں ولايت پائي جانے کے معني يہ ہيں کہ وہ ولي کے ساتھ فکري اور عملي طور پرزيادہ سے زيادہ وابستہ ہے ‘اور اسکي اس وابستگي ميں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ولي کو تلاش کيجئے ‘ خدا کے ولي کو پہچانئے‘ اسلامي معاشرے کے حقيقي ولي کاتعين کيجئے۔ اسکے بعد ذاتي طور پر فکري لحاظ سے ‘ عملي لحاظ سے‘جذبات واحساسات کے لحاظ سے‘ راہ ورسم اورروش کے اعتبار سے اپنے پ کو اس سے متصل اور مرتبط کيجئے‘ اسکي اتباع کيجئے‘ اس انداز سے کہ پ کي کوشش اسکي کوشش ‘ پ کا جہاد اس کا جہاد ‘پ کي دوستي اسکي دوستي ‘پ کي دشمني اسکي دشمني اور پ کي صف اس کي صف ہو ۔اس طرح کا انسان ولايت کا حامل انسان ہوتا ہے۔

ايسا شخص جو ولي کو پہچانتا ہو ‘ولي کي فکر کو پہچانتا ہواوراس کا ہم فکر ہو‘ ولي کے عمل کو پہچانتا ہو اور اُس کا عمل ولي کے عمل سے ہم جہت ہو‘وہ ولي کي اتباع کرتا ہو‘ اپنے پ کو فکري اور عملي طور پر ولي سے منسلک قرار ديتا ہو‘ ايسا شخص حاملِ ولايت ہے ۔

جبکہ صورتحال يہ ہے کہ ہم نے ولايت کو صرف دل ميں علي ٴکي محبت رکھنے اور امير المومنين ٴ کے لئے اشکوں کے چند قطرے بہالينے ميںمنحصر کر ديا ہے۔ ليکن ہمارا عمل‘علي ٴکے عمل کے برخلاف اور ہماري فکرعلي ٴکي فکرکے مخالف ہے ۔ہم نے ولايت کو اپنے لئے ايک افسانہ ‘ ايک فرسودہ قصہ اور ايک ديومالائي چيزبنا ليا ہے‘اور اپنے دل کو مطمئن کئے ہوئے ہيں کہ ہم حضرت علي ٴکي ولايت رکھنے والوں ميں سے ہيں‘اور اس بات پر خوش ہيں کہ وہ تمام امتيازات جو علي ابن ابي طالب ٴکي ولايت رکھنے والوں کے لئے مخصوص ہيں‘ اُن سب کے ہم بھي قطعي اور يقيني طور پرحقدار ہيں ۔

خدا جانتا ہے کہ يہ علي ابن ابي طالب ٴ کے ساتھ انتہائي زيادتي اور اُن پربہت بڑي جفاہے ‘ اسلام پر بہت بڑا ظلم ہے ۔کيونکہ ولايت اسلام سے تعلق رکھتي ہے ۔

امام جعفر صادق عليہ السلام کي نظر ميں ولايت کے لئے عمل ضروري ہے ۔

پ ٴ فرماتے ہيں:

’’وہ شخص جو اہلِ عمل ہے‘ وہ ہمارا ولي (دوست)ہے ‘ اور وہ شخص جو اہلِ عمل نہيں‘وہ ہمارا دشمن ہے۔ ‘‘

امام جعفر صادقٴ ولايت کے يہ معني بيان کرتے ہيں‘کيونکہ پ ٴکي نظر ميں ولايت اس جاہل يا اس مفاد پرست شخص کي نظر ميں ولايت سے مختلف ہے جو امام ٴ کا نام لے کر دنياوي مفاد حاصل کرتا ہے ۔ہميں گہرائي کے ساتھ ولايت کے معني سمجھنے چاہئيں ۔بصورتِ ديگرہم پوري عمر جنت کي اميد ميں گزارنے کے باوجود موت کے بعد اس کي بو بھي نہ پاسکيں گے ۔ انسان کاحاملِ ولايت ہونا‘ ولي کے ساتھ اُسکي مطلق پيوستگي اور وابستگي کا نام ہے ۔

ولايت رکھنے والا معاشرہ

ولايت رکھنے والا معاشرہ کيسا ہوتا ہے ؟

ولايت رکھنے والا معاشرہ وہ ہوتا ہے کہ اس معاشرے ميں اولاً تو ولي متعين ہو ‘اور ثانياً وہ ولي اس معاشرے کي تمام قوتوں ‘ تمام سرگرميوں اور تمام فعاليتوں کا سرچشمہ اور مرکز ِہدايت ہو‘ ايک ايسانقطہ ہو ‘ جس پرسماج کے چھوٹے بڑے دھارے کر ملتے ہوں‘ ايک ايسا مرکز ہو جس سے تمام احکام وفرامين جاري ہوتے ہوں ‘ جوتمام قوانين کا اجراونفاذ کرتا ہو‘ سب کي نگاہيںاسي کي طرف لگي رہتي ہوں ‘سب اسي کي پيروي کرتے ہوں‘ زندگي کا انجن وہي اسٹارٹ کرتا ہو‘ کاروانِ حيات کا قافلہ سالار وہي ہو ۔ ايسا معاشرہ ‘ ولايت رکھنے والا معاشرہ کہلائے گا۔

رسولِ مقبول صلي اللہ عليہ ولہ وسلم کي رحلت کے بعد پچيس برس تک معاشرے کي باگ ڈورامير المومنين حضرت علي عليہ السلام کے ہاتھ ميں نہيں تھي۔ پيغمبر۰ کے بعد پچيس سال تک اسلامي معاشرہ ولايت کے بغير رہا تھا۔اس معاشرے ميں کچھ مسلمان ولايت کے حامل تھے ‘ ابوذر۱ ذاتي طور پر ولايت کے حامل تھے ‘مقداد۱ ذاتي طور پر ولايت رکھتے تھے ‘ کچھ اور لوگ ذاتاً ولايت کے مالک تھے ‘ ليکن اسلامي معاشرہ ولايت کا حامل نہ تھا ۔يہاں تک کہ اسلامي معاشرے پر حضرت علي ٴ کي حکومت قائم ہوئي اور اسلامي معاشرہ ولايت کا حامل ہوگيا۔

جب معاشرے ميں امرونہي کا مرکزامام ٴہو‘جب تمام امور کي باگ ڈورامام ٴ ہي کے ہاتھ ميں ہو‘جب عملاً معاشرے کانظم ونسق امام ٴ کے اختيار ميں ہو ‘جب امام ٴ ہي جنگ کا حکم دے ‘جب امام ٴہي حملے کا فرمان جاري کرے‘جب امام ٴہي صلحنامہ تحرير کرے ‘توايسي صورت ميں معاشرہ ولايت کا حامل ہوتاہے۔بصورتِ ديگر معاشرہ ولايت کا حامل نہيںہوتا ۔

اگر پ ايسے معاشرے ميںزندگي بسر کرتے ہوں‘ تو خدا کا شکر ادا کيجئے ۔اگريہ نعمت پ کو ميسّرہو‘ تو خدا کا شکربجا لايئے ۔کيونکہ ولايت کي نعمت سے بڑھ کر کوئي اور نعمت نہيں۔ اور اگرپ کو ايسا معاشرہ ميسّر نہيں‘ تو اسکے قيام کے لئے کوشش کيجئے اور اپني ذات ميںاور انساني معاشرے ميں ولايت قائم کيجئے۔

ہميں کوشش کرني چاہئے کہ علي ٴکي طرح زندگي بسر کريں ‘ کوشش کرني چاہئے کہ علي ٴکے نقشِ قدم پر چليں‘کوشش کرني چاہئے کہ اپنے اور علي ٴکے درميان‘ جو خدا کے ولي ہيں تعلق قائم کريں۔

ان باتوں کے لئے کوشش کي ضرورت ہے ‘جدوجہد کي ضرورت ہے‘ان کے لئے خونِ دل پينا پڑتا ہے۔اُسي طرح جيسے امير المومنين حضرت علي عليہ السلام کي شہادت کے بعد ائمہ ہديٰ عليہم السلام نے ولايت کے لئے جدوجہد کي‘اسکے لئے صعوبتيں اٹھائيں ۔

ائمہ ٴ نے ولايت کو زندہ کرنے اوراسلامي معاشرے کے احيا کے لئے بھرپور جد وجہد کي ‘ تاکہ وہ پودہ جوانسان کے نام سے اس زمين اور اس باغ ميں کاشت ہوا ہے‘ ولايت کے جاں بخش اورحيات فريںخوشگوار پاني سے اُس کي نشوونما کريں ۔ائمہ ٴ نے اس مقصد کے لئے کوشش کي۔ معاشرے ميں ولايت کے قيام کے لئے ہماري کوشش يہ ہوني چاہئے کہ ہم اس بات کا جائزہ ليں کہ اسلام کے ولي کو قوت بخشنے کے لئے ہميں کيا کام کرنے چاہئيں ۔

جيسا کہ پہلے کہا گيا ‘کبھي علي ابن ابي طالب ٴ‘ حسن ابن علي ٴ‘ حسين ابن علي ٴ‘ علي ابن حسين ٴ سے لے کر امامِ خر تک تمام ائمہٴ اپنے ناموں اور خصوصيات کے ساتھ معين ہوتے ہيںاورکبھي ايسا ہوتا ہے کہ ولي کا تعين نام کے ساتھ نہيں ہوتا ‘بلکہ ايک ولي کے توسط سے يا بعض صفات بيان کرکے اُس کا تعين کيا جاتا ہے ۔ جيسا کہ فرمايا گيا ہے :

’’اَمَّا مَنْ کٰانَ مِنَ الْفُقَھٰائِ‘صٰائِناً لِنَفْسِہِ حٰافِظاً لِدِيِنِہِ مُخٰالِفاً عَليٰ ھَوٰائُ مُطِيعاًلِاَمْرِمَولَاٰہُ فَلِلْعَوَامِ اَنْ يُقَلِّدُوہُ۔‘‘(۳)

ان خصوصيات کو بيان کر کے ولي کاتعين کياگيا ہے‘ اور يہ تعين بھي خدا کي طرف سے ہے۔ ہاں‘ اُس ولي کو نام لے کر معين کيا گيا ہے اور اِس ولي کي خصوصيات بيان کي گئي ہيں۔پ نے خود حساب کيا‘اندازہ لگايا‘نمونہ تلاش کيا‘حضرت يت ا العظميٰ قائے بروجردي نظر ئے۔

جب انسان اپنا مقصد يہ بنائے کہ وہ معاشرے ميںاسلامي قوانين اور الٰہي فرامين کااس انداز سے اِحيا کرے گا‘اُنہيں اس طرح زندہ کرے گا جس طرح ولايت تقاضا کرتي ہے‘تو پھر وہ اس مقصد کے لئے جدوجہد کرتاہے‘اور اسکے لئے راستے اور طريقے تلاش کرتا ہے۔ في الحال ہماري گفتگوراستوں اور طريقوںکے بارے ميں نہيں ہے ۔

ايسا معاشرہ جو ولايت کا حامل ہوجائے‘وہ ايک ايسے مُردے کي مانند ہے جس ميں جان پڑگئي ہو۔ پ ايک بے جان مُردے کا تصور کيجئے۔اس کا دماغ ہے ليکن کام نہيں کرتا‘نکھيں ہيں ليکن وہ ديکھتي نہيں ‘ دَہان ہے ليکن غذا نگل نہيں سکتا ‘ معدہ ‘کليجہ اور نظامِ ہضم ہے ليکن غذا کوہضم نہيں کرتا ‘ رگ ہے جس ميں خون ہے ليکن خون رواں نہيں ہے‘ ہاتھ ہيں ليکن ايک چھوٹي سي چيونٹي کو بھي اپنے پ سے دور نہيں کرسکتا۔

مزید  امام علی النقی علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

ايسا کيوں ہے ؟

ايسا اس لئے ہے کہ اُس ميں جان نہيں ہے ۔ليکن جب اس ميں جان ڈال دي جاتي ہے ‘

تواس کا دماغ کام کرنے لگتا ہے ‘ اعصاب کام کرنے لگتے ہيں ‘ اسکے ہاتھ چيزوں کو گرفت ميں لينے لگتے ہيں‘ اس کادَہان کا م کرنے لگتاہے ‘ معدہ ہضم کرنے لگتا ہے ‘ نظامِ ہضم جذب کرنے لگتا ہے ‘ خون گردش کرنے لگتا ہے اور رواں ہوکر پورے بدن کوطاقت فراہم کرنے لگتا ہے ‘ بدن کو گرم کرتا ہے ‘ اسے کوشش اور جدوجہد پر لگاتا ہے ‘ اور انسان چلتا ہے ‘ دشمن کو مارتا ہے ‘ دوستوں کو جذب کرتا ہے ‘ اپنے پ کو زيادہ سے زيادہ کامل کرتا ہے ۔

ايک معاشرے ميں ولايت کي اہميت سمجھنے کے لئے پ اس مثال کواپني نگاہوں کے سامنے رکھئے۔ مُردہ جسم ہٹا کراُس کي جگہ انساني معاشرہ لے يئے ‘جان اور روح کي جگہ ولايت کو رکھ ديجئے ۔ ايک ايسا معاشرہ جس ميں ولايت نہ ہو‘ اُس ميں صلاحيتيں ہيں ليکن ناکارہ ہوجاتي ہيں ‘ برباد چلي جاتي ہيں ‘ نابود ہوجاتي ہيں ‘ ضائع چلي جاتي ہيں‘ يا اس سے بھي بدتر يہ کہ انسان کو نقصان پہنچانے ميںاستعمال ہوتي ہيں۔ دماغ ہوتا ہے اور سوچتا ہے ‘ ليکن فساد پھيلانے کي بابت ‘ انسان کشي کي بابت ‘ دنيا کو جلا ڈالنے کي بابت ‘انسانوں کو برباد کر دينے کے بارے ميں ‘ استحصال‘ استبداد اور استکبار کي جڑيں مضبوط کرنے کے بارے ميں ۔اُس کي نکھيں ہوتي ہيں ليکن جو چيزيں اسے ديکھني چاہئيں اُنہيں نہيں ديکھتا اور جنہيں نہيں ديکھنا چاہئے اُنہيں ديکھتا ہے۔اُس کے کان ہوتے ہيں ليکن حق کي بات نہيں سنتا۔اُس کے اعصاب حق کي بات کو دماغ تک پہنچاتے ہيں ليکن دماغ اعضاو جوارح کو حق کے مطابق حکم نہيں ديتا ‘اعضا و جوارح حق کے مطابق عمل انجام نہيں ديتے ‘دنيا کے حالات انسان کو حق کے مطابق عمل کرنے کي اجازت نہيں ديتے ۔

بے ولايت معاشرے ميں چراغوں کي لَو بلند نہيں ہوتي اور اُن کي روشني نہيں بڑھتي ۔ اگر اُن ميںتيل کا کوئي قطرہ ہوتا بھي ہے تو وہ ختم ہوکر يکسر خشک ہوجاتا ہے۔ وہ چراغ جنہيں پيغمبر ۰نے تيل فراہم کيا تھا ‘ وہ بجھنے لگتے ہيں اور پ نے ديکھا کہ وہ کيسے خشک ہوئے۔

پ نے ديکھا کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ ولہ وسلم کي وفات کے بعد کچھ دنوں تک ان چراغوں کي لَو بلند تھي‘يہ روشني پھيلا رہے تھے ‘ماحول کو منور کر رہے تھے ‘ کيونکہ انہيں پيغمبر۰ نے تيل ديا تھا ۔ليکن کيونکہ ان چراغوں اور مشعلوں کے سر پر ولايت کا سايہ نہيں تھا ‘لہٰذاان کا تيل تہ ميں بيٹھ گيا‘ خشک ہوگيا ‘ اِن سے دھواںاٹھنے لگا ‘اِن کي روشني مدہم ہوگئي‘ يہاں تک کہ معاويہ کا دور گيا جنہوں نے اسلامي معاشرے کي باگ ڈوريزيد کے سپرد کردي ‘ اور پھر پ نے ديکھا کہ کيا ہوا ۔

وہي باتيں جوحضرت فاطمہ زہراعليہاالسلام نے انصار اور مہاجر خواتين سے کہي تھيں ‘ ليکن انہوں نے سني اَن سني کردي تھيں۔اُن ابتدائي ايام ميں فاطمۃ الزہرا ٴ نے جو پيش گوئياں کي تھيں‘ليکن اُس دور کے غافل لوگوں نے نہ انہيں سنا نہ سمجھا ‘وہ تمام کي تمام پيش گوئياں پوري ہوئيں۔وہ’’سيف ِصارم ‘‘ وہ خونريز شمشير‘ وہ تلوار جو حقيقتوں اور فضيلتوں کو قتل کررہي تھي‘ وہ ہاتھ جو انسان اور انسانيت کا گلاگھونٹ رہے تھے ‘ ان سب کے متعلق فاطمہ زہراٴ نے بتاديا تھا ‘بلکہ اُن سے بھي پہلے پيغمبر ۰نے گاہ کر ديا تھا ۔يہ لوگ ديکھ رہے تھے ‘ سمجھ رہے تھے ‘ بتا رہے تھے‘ليکن اسلامي معاشرہ نہيں سمجھا۔اِس کے کان بند اور بہرے ہوگئے تھے۔

ج فاطمہ زہراٴکي صدا کانوں ميںگونج رہي ہے۔ اے حساس اور ہوشيارسماعتو سنو!جس معاشرے ميںولايت ہو‘ وہ معاشرہ ايک ايسا معاشرہ بن جاتا ہے جو تمام انساني صلاحيتوں کو پروان چڑھاتا ہے‘وہ تمام چيزيں جنہيں خدا نے انسان کے کمال اور بلندي کے لئے ديا ہے ‘يہ معاشرہ اُن کي نشوونما کرتا ہے‘انسانيت کے پودے کو تناور درخت ميں تبديل کرتا ہے‘انسانوں کو کمال تک پہنچاتا ہے‘انسانيت کي تقويت کا باعث بنتا ہے۔اس معاشرے ميں ولي ‘ يعني حاکم ‘ يعني وہ ہستي جس کے ہاتھ ميں تمام امور کي باگ ڈور ہوتي ہے ‘پورے معاشرے کو خدا کي راہ پر ڈالتا ہے‘ اوراسے ذکر ِ خدا کا حامل بناتاہے ۔مال و دولت کے لحاظ سے‘ دولت کي منصفانہ تقسيم کرتا ہے ‘ کوشش کرتا ہے کہ نيکيوں کو عام کرے‘ کوشش کرتا ہے کہ برائيوں کي جڑ اکھاڑ دے ‘اُن کا خاتمہ کر دے:

’’اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۔‘‘ (۴)

وہ لوگ جنہيں اگر ہم زمين ميں اقتدار عطا کريں ‘ تو وہ نماز قائم کرتے ہيں۔ نماز خدا کے ذکر اور اسکي جانب معاشرے کي توجہ کي علامت ہے ۔

اَقَامُوا الصَّلٰوۃ:نماز قائم کرتے ہيں ‘ خدا کي طرف قدم بڑھاتے ہيں ‘ احکامِ الٰہي کے مطابق اپنے لئے راہ ِ عمل کا تعين کرتے ہيں۔

وَ ٰاتَوُاالزَّکٰوۃ:دولت کي عادلانہ تقسيم کرتے ہيں‘ زکات ادا کرتے ہيں۔ قرنِ مجيدکي رو سے زکات کا دامن انتہائي وسيع ہے۔ قرنِ مجيدميںزکات کي اصطلاح تمام مالي انفاقات اور صدقات پر محيط ہے ۔وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ‘کلي اور مسلمہ طور پر اسکے معني يہ ہيں کہ دولت کے لحاظ سے سماج ميںتوازن پيدا ہو۔ زکات کے بارے ميں ايسي روايات بھي ہيں‘ جو کہتي ہيں کہ زکات دولت ميں توازن کا موجب ہے ۔

وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَہَوْا عَنِ الْمُنْکَر: نيکيوں کو عام کرنا‘ اچھائيوں کو فروغ دينااورمنکرات کا قلع قمع کرناان حکمرانوں کے اوصاف ميںسے ہے ۔

عام طور پر ہم سمجھتے ہيں کہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے معني فقط يہ ہيں کہ ميں پ کو تلقين کروں کہ جنابِ عالي! پ فلاں برا کام نہ کيجئے ‘ فلاں اچھا کام کيجئے ۔ جبکہ تلقين کرنا اور زباني کہنا امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے مظاہر ميں سے ايک مظہر ہے۔

لوگوں نے امير المومنين حضرت علي عليہ السلام سے کہا : پ معاويہ کے خلاف جنگ کيوں کر رہے ہيں ؟ امام ٴنے فرمايا:’’ اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر واجب ہے ۔‘‘اچھي طرح سنئے اور نتيجہ نکالئے۔ جنگ ِصفين ميں امام ٴسے کہاجارہا ہے کہ پ کو معاويہ سے کيا واسطہ ‘ پ کوفہ جائيے وہ شام کا رُخ کرتاہے ۔امام ٴ فرماتے ہيں: خدا نے امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کو واجب کياہے ۔

امام حسين ٴمدينہ سے نکلتے ہوئے فرماتے ہيں :اُريدُاَنْ اَمُرَبِالْمَعْرُوفِ وَاَنْھيٰ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنکرکرنا چاہتا ہوں ۔

ديکھئے امر بالمعروف اور نہي عن المنکرکا دائرہ کس قدر وسيع ہے ۔جبکہ ہماري نظر ميں يہ کس قدر چھوٹا اور تنگ ہو چکا ہے ۔

بہر حال جب کسي معاشرے ميں ولايت ہو‘ تووہاں نماز قائم ہوتي ہے‘زکات ادا کي جاتي ہے ‘امربالمعروف اور نہي عن المنکر ہوتا ہے۔مختصر يہ کہ بے جان جسم ميں جان پڑ جاتي ہے ۔

حواشی

١۔مومنين کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحب ِ عزت ۔(سورہ مائدہ ٥۔يت ٥٤)

٢۔محمد ‘اللہ کے رسول ہيں ‘ اورجو لوگ اِن کے ساتھ ہيںوہ کفار کے لئے انتہائي سخت اورپس ميں انتہائي مہربان ہيں ۔(سورہ فتح ٤٨۔يت ٢٩)

۳۔’’فقہا ميں سے جو فقيہ اپنے نفس پر مسلط ہو‘ خدا کے دين کامحافظ ہو‘نفساني خواہشات کي مخالفت کرتاہواوراحکامِ الٰہي کا مطيع و فرمانبردارہو ‘توعوام کو چاہئے کہ اسکي تقليد کريں ۔‘‘ (وسائل الشيعہ۔ج١٨۔ ص٩٥)

۴۔ وہ لوگ جنہيں اگرہم زمين ميں اقتدار ديںتووہ نمازقائم کرتے ہيں ‘زکات ادا کرتے ہيں ‘ نيکيوں کا حکم ديتے ہيں‘ بُرائيوں سے روکتے ہيں اور يہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختيارميں ہے ۔ (سورہ حج ٢٢۔يت ٤١)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.