بہترین موت

0 0

جاہلیت کی یادگار قرار دیتے ہیں۔ سرمایہدارنہ نظام کی دین قرار دیتے ہیں۔ عہد حاضر میں دین کی کوئی ضرورت نہیں ہے دین ترقی سے روکتا ہے۔ دین مٹ جائے تو انسان ایک ہو جائیں وغیرہ قسم کے نعرہ دے کر دین کو دنیا کے اس پار پھینک دینا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف وہ دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے ہیں۔ جن کی عقل سکڑ گئی ہے۔ جو جہالت کو علم ، ضد کو وضعداری سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کے ساتھ وہ فنکار ہیں جو اپنی عیاری کے ذریعہ دین کے نام پر دنیا کمانا چاہتے ہیں۔ ان دونوں گرہوں کی لڑائی کے میدان دین اور دنیا میں دونوں کا خیال ہے کہ دنیا اور دین جمع نہیں ہو سکتے ۔ ایک دنیا کے لئے دین کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ دوسرے دین کے کام کے لئے دنیا چھوڑنا چاہتے ہیں۔ نیک دل گوتم بدحواسی غلط فہمی کا شکار ہوئے۔

راہبوں نے ۔ پادریوں نے ۔ نننوں نے ۔ فقیروں نے ۔ پیروں نے ۔ شاہ صاحبان نے۔ صوفیوں نے۔ سادھوؤں نے بھی اسی راستے کو اپنایا مگر پیر کا دنیا چھوڑ دینا۔ مگر مرید کا دنیا کما کر پیر کو نذرانہ پیش کرنا۔ سادھو کی سیوا کے ذریعہ پاپ والے کاپن والا ہو جانا۔ گرجوں کے تہ خانوں میں کنوارے پادریوں اور کنواری نننوں کی ناجائز اولاد کی چھوٹی چھوٹی قبریں۔ شاہ صاحبان اور عالموں اور ملاؤں کی عیاشیاں سادھوؤں کا سونا دونا کرنے کا فریبی کا روبار وغیرہ اس نظریہ کا کھو کھلاپن اور مکروہ کردار واضح کر رہے ہیں۔

مزید  محرم امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کی جنگ اور قربانی

مسلمانوں میں حکومت میں حصہ نہ پانے والے ہوں اقدار کے متوالوں نے امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانہ میں صونی ازم کی بنیاد رکھنی تاکہ حکومت زمین پر قبضہ کر لے اور یہ زمین کی پیداوار پر قبضہ کریں۔ حکومت ٹیکس لء یہ نذرانہ لیں۔ حکومت بیعت لے یہ حلقہ ارادت میں شامل کریں حاکم محل میں رہیں یہ خانقا ہوں میں رہیں اور اس کو شاہی محل سے بھی بہتر بنیاد دونوں جگہ گدی چلی۔ جھگڑے ہوئے ۔ قتل ہوئے ۔ قبضے ہوئے ۔ انھوں نے تلوار کو ذریعہ بنایا۔ انھوں نے تسبیح کو تلوار بنایا۔ انھوں نے کھل کر ریشمی زندگی بسر کی۔ انھوں نے ٹاٹ پہن کر ریشمی زندگی حاصل کی۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے اس فرقہ کی گمراہی واضح کی۔ اس کے خلاف علمی جہاد کیا اور عملی مقابلہ اس طرح کیا کہ ضعیفی اور بڑھاپے میں دو غلاموں کے سہارے جلتی دوپہر میں اپنے باغ اور کھیتی کی دیکھ بھال کے لئے جایا کرتے تھے۔ ایک دن صوفیوں کے سردار نے ملاقات کی۔ تاکہ اعتراض کر کے اپنے حامیوں میں اہمیت حاصل کریں اور ان کی تعداد میں اضافہ کر لے۔ بڑے طمطراق سے مع اپنی جماعت کے امام کی خدمت میں آئے اور کہا کہ اگر اس وقت موت آ جائے تو کیسی بڑی موت ہوگی اور آپ کا ایسا فرزند رسول اس طرح دنیا حاصل کرے۔ بہت معیو بات ہے۔ حضرت نے غلاموں کا سہارا چھوڑ دیا۔ تن کر کھڑے ہوئے اور فرمایا میں اپنے ویال کی روزی حاصل کرنے جا رہا ہوں اگر اس وقت موت آ جائے تو بہترین موت ہوگی کہونکہ میں بہترین عبادت میں مصروف ہوں۔

مزید  حجاب قرآن کی روشنی میں

دین اور دنیا میں کوئی لڑائی ممکن نہیں ہے ایک کو خدا نے پیدا کیا ہے دوسرے کو خدا نے بھیجا ہے۔

دین نام ہے دنیا کو صحیح بنانا۔ دنیا کی جنت کا نمونہ بنانا۔ دنیا کے دوزخ کو اطاعت خدا کے ذریعہ بجھنا۔ یہی پیغام تھا جسے ہمارے پانچویں امام نے خاص طور پر پیش کیا۔ کیونکہ صوفی فرقہ نے اسی عہد میں جنم لیا تھا۔

۵۷ کی یکم رجب کو امام محمد باقر علیہ السلام پیدا ہوئے۔ جب آپ کے دادا امام حسین زندہ تھے۔ آپ کربلا میں ۳ سال کے تھے جب قیدی بنے۔

اور ۱۱۴ میں ذی الحجہ میں امام صادق کو دین سونپ کر خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ آپ زہر سے شہید کئے گئے اور جنت البقیع میں مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.