بچوں کو دوست رکھئے اور انھیں زیادہ وقت دیجئے

0 0

بچوں کی پرورش اور تربیت بغیر وقت صرف کرنے کے ممکن نہیں ہے تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ جو بچے اپنے ماں باپ اور خاندان کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں وہ کم افسردہ ہوتے ہیں اور ان کے ہاں بد رفتاری کم نظرآتی ہے یہ بچے ذہین ہوتے ہیں اور مدرسے کی مشقوں اور تمرینات کو اچھی طرح انجام دیتے ہیں بچوں کی حفاظت اور نگرانی ان کی تربیت سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے بچوں کی بہترنگرانی کے لئےہم بعض جگہ محدودیت ایجاد کرنے پر مجبور ہیں اکثر والدین یہ خیال کرتے ہیں کہ لفظ نہ کہنے سے والدین اور بچے کے قریبی روابط میں خلل پیدا ہوجاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ محدودیت ایجاد کرنے سے بچے کی صحیح سمت میں تربیت کرنے میں کافی مدد ملتی ہے جو درحقیقت بچے کے مستقبل کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہی محدودیتیں بچے کوبہت سے خطرات سے محفوظ رکھتی ہیں

محدودیتوں کی اہمیت :

بچوں کے ساتھ صادق رہیں ۔ جب کسی خطرناک جگہ جانے کے لئےآپ سے کہے تو آپ ان سے کہیں : کیا مجھ پر تمہیں اعتماد نہیں ہے؟ صاف کہیں : میں بھی جب تمہاری عمراور تمہارے سن وسال میں تھا تو اس وقت مجھے اپنے اوپراعتماد نہیں تھا اور میں اس قسم کی خطرنا ک جگہوں پرقدم رکھنے کی جرئت نہیں رکھتاتھا اور باپ کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ تمہیں بھی خطرناک جگہوں سے دور رکھنے کی کوشش کروں ۔
یہ جواب بچے کو ناراحت کرےگا لیکن اس جواب میں ایک اہم پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ آپ اس کی کافی حد تک حفاظت و نگرانی کررہے ہیں اور اس کو راہ راست پر چلنے کے لئے مدد فراہم کررہے ہیں بچوں کو انکے حال پر رہا کرنا آپ کے لئے آسان تر ہوگا لیکن آپ بچوں کی حفاظت و نگرانی کے لئے اس سختی کوبرداشت کررہے ہیں۔
بچے ان مسائل سے آگاہی کے باوجود آپ کا امتحان لیتے ہیں:
یہ تصور کہ محدودیت پیدا کرنے سے بچے ہمیں دوست نہیں رکھتےلہذامحدودیت ایجاد کرنے کے سلسلے میں انسان کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں ان شکوک و شبہات کی علت ہمارے ماضی میں ہے ہم سب اپنے باطن میں اچھی رفتار یا بری رفتار کے والدین لئے ہوئے ہیں باطنی والدین ہمارے احساسات پر اثر مرتب کرتے ہیں ان کی بڑی قدرت اور طاقت ہے اگر بچپن میں ایسی ماں ملی جو صبح سویرے اٹھ کر گرم ناشتہ تیار کرتی تھی تو اسوقت آپ بھی ویسا ہی عمل کرنے میں رغبت دکھائیں گے باطنی والدین اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ ہم بچوں کی نسبت مہربان رہیں سختی نہ کریں یا بر عکس سخت روش اختیارکریں وہ ہمیں منطقی محدودیت کی نسبت غافل اور نابینا بنا دیتے ہیں اگر آپ کے ماں باپ آپ سے بچپن میں محبت اور مہربانی سے پیش نہیں آئے تو ممکن ہےآپ کا عمل اس کے برعکس ہواورآپ اپنے بچوں پر حد سے زیادہ مہربان ہوں یہ بہت اہم بات ہے کہ ہم جان لیں کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ باطنی والدین کے عنوان سے گفتگو کررہے ہیں یا ایسے باپ کے عنوان سے جسے ہم نے خود انتخاب کیا ہے کس وقت ہم اپنے بچپن کی محرومیت کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کس وقت اپنی شخصیت کے طور پران سے گفتگو کرتے ہیں
باطنی والدین میں تبدیلی ایجاد کی جاسکتی ہے اور اس کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے فقط ان کو پہچاننے اور انھیں کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے

مزید  سورۂ رعد کي آيت نمبر 14 کي تفسير

باطنی والدین کی شناخت:

بہترین والد بننے کے لئےکچھ وقت باطنی والدین کی شناخت پر صرف کرنا چاہیے ماضی کے بہترین واقعات کو یاد کرناچاہیےاور اگر اکثر وقت بد رفتار والدین یاد آتے ہیں تو کوئی مشکل نہیں ہے اس کو یوں سمجھنا چاہیے کہ زندگی کے ایک دور میں وہ تھے تاکہ تم اس وقت اچھے والدین بن سکواب جبکہ محدودیت کی افادیت سمجھ میں آگئی ہے تو گھر میں ایسے قوانین بنائےجائیں جن پر ہمیشہ عمل درآمد ہوتا رہے اور عمل نہ کرنے کی صورت میں تنبیہ کو مد نظر رکھنا چاہیے اورتنبیہ جھاڑو لگانا اور برتن دھونا بھی ہوسکتی ہے

ہر مرحلے میں ایک روش کو تبدیل کیجئے:

بچوں کی رفتار کو بدلنے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں :
1 : بچے کے ساتھ گفتگو کا انداز۔
2 : رفتار بدلنے کے اہداف کا مشخص ہونا۔
بچوں کی رفتار بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ اس طرح گفتگو کی جائے کہ انھیں شرمندگی کا احساس نہ ہو اگر بچہ یہ احساس کرے کہ آپ کو اس کے تعاون کی ضرورت ہے تو بچہ آپ کے دستور اور حکم کے بجائے آپ کے ساتھ بھر پور تعاون کرنے کے لئے تیار ہوجائے گا مجھے تم سے پانچ منٹ تک کچھ ضروری گفتگو کرنی ہے کیا تمہارے پاس وقت ہے ؟ میں کافی عرصے سے گھر میں شور و غل کے بارے میں فکر کررہا ہوں اور اس سلسلے میں تمہارے تعاون کی ضرورت ہے گھر کی کچھ ذمہ داریاں تم اپنے دوش پر لے لو ،گندے کپڑوں کو اکٹھا کرکے ایک جگہ رکھو ، اپنی الماری کی کتابوں کو مرتب رکھو، میں جانتا ہوں تم یہ کام کرسکتے ہو اگر بچے کو ڈراؤ گے کہ اگر تو نے گندے لباس کو ایک جگہ جمع نہ کیا تو میں تجھے ایک ہفتے تک جیب خرچہ نہیں دوں گا تو اس کا غلط اورالٹا اثر پڑے گا اور بچوں کے ساتھ اس لب لہجے میں گفتگو نہیں کرنی چاہیے کیونکہ دھمکی آمیز گفتگو کا اثر وقتی ہوتا ہے نیزگھر کے قوانین پر عمل کرنے کے لئے بچے کو کافی فرصت دینی چاہیے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو خزب اور اچھی طرح نبھا سکے

مزید  اہل تشيع کے اصول عقائد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.