بيوي کے فرائض

0 0

ليکن يہ بات بھي قابلِ توجہ ہے کہ چالاکي، شاطرانہ چالوں، اپنا حکم چلانے اور زبردستي اپني بات منوانے سے يہ مقام حاصل نہيں کيا جا سکتا ہے! بيوي اپنے نرم و ملائم لہجے اور خندہ پيشاني سے شوہر کا استقبال کرنے، مسکراتے ہونٹوں، خوشحال چہرے اور شوہر کے مزاج کو تھوڑا بہت تحمل و برداشت کرنے سے اپنے شوہر کا دل جيت لے گي- البتہ لازمي نہيں کہ وہ اپنے شوہر کو بہت زيادہ تحمل کرے (کيونکہ مرد کو بھي يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ ہر بات ميں زور و زبردستي کرے) کيونکہ خداوند عالم نے يہ تھوڑا بہت تحمل و برداشت اور لچک عورت کي طبيعت ميں رکھي ہے-  بيوي کو چاہيے کہ وہ اپنے شوہر سے اس طرح کا سلوک رکھے-

بعض خواتين اپنے شوہروں سے سخت لہجے اور گرم مزاجي سے پيش آتي ہيں- مثلاً، ’’آپ کو يہ چيز ميرے لئے ہر صورت ميں خريدني ہے!‘‘، ’’ميرے لئے سونے کي اتني چوڑياں بنوائيں کيونکہ ميري دوست کے شوہر نے اسے اتنے ہزار کي چوڑياں بنوا کر دي ہيں‘‘، ’’اگر آپ مجھے سونے کي چوڑياں نہيں بنوائيں گے تو ميرا سر اُس کے سامنے نيچے ہو جائے گا‘‘- بعض خواتين اس قسم کي باتوں سے اپنے شوہروں کو ذہني اذيت ديتي اور اُنہيں پريشاني ميں مبتلا کرتي ہيں- يہ سب طور طريقے صحيح نہيں ہيں-

مزید  مختصر حدیث فلسطین امام خمینی(رہ) کی نگاہ میں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.