بغض اہلبيت (ع) كے اثرات (تیسرا حصّہ)

0 0

كفار سے الحاق

 رسول اكرم (ص) ہوشيار ہو كہ جو بغض آل محمد (ص) پر مرجائے گا وہ كافر مرے گا، جو بغض آل محمد(ص) پر مرے گا وہ بوئے جنت نہ سونگھ سكے گا۔

 ( كشاف 3 ص 403 ، مائتہ منقبہ 90 / 37 روايت ابن عمر، بشارة المصطفى ص 197 ، فرائد السمطين 2 ص 256 / 254 روايت جرير بن عبداللہ ، جامع الاخبار 474 / 1335 ، احقاق الحق 9 ص 487)۔

رسول اكرم (ص) جس شخص ميں تين چيزيں ہوں گى وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ ميں اس سے ہوں، بغض على (ع) بن ابى طالب (ع) عداوت اہلبيت (ع) اور ايمان كو صرف كلمہ تصور كرنا۔

( تاريخ دمشق حالات امام على (ع) 2 ص 218 / 712 ، الفردوس 2 ص 85 / 2459 ، مقتل خوارزمى 2 ص 97 ، مناقب كوفى 2 ص 473 / 969 روايت جابر)۔

يہو و نصارى سے الحاق

 جابر بن عبداللہ رسول اكرم (ص) سے نقل كرتے ہيں كہ آپ نے فرمايا، لوگو جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا اللہ اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا۔

ميں نے عرض كى حضور چاہے نماز روزہ كيوں نہ كرتا ہو؟ فرمايا چاہے نماز روزہ كا پابند ہوا اور اپنے كو مسلمان تصور كرتا ہو۔

(المعجم الاوسط 4 ص 212 / 4002 ، امالى صدوق 273 / 2 روايت سديف ملكي، روضة الواعظين ص 297)۔

 امام باقر (ع) جابر بن عبداللہ انصارى نقل كرتے ہيں كہ رسول اكرم (ص) منبر پر تشريف لے گئے جبكہ تمام انصار و مہاجرين نماز كے لئے جمع ہوچكے تھے اور فرمايا : ايہا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا ، پروردگار اس كو يہودى محشور كرے گا۔

مزید  جناب سیدہ فاطمہ زھرا ۔س۔ کی خانہ داری

ميں نے عرض كى حضور چاہے توحيد و رسالت كا كلمہ پڑھتاہو؟ فرمايا بيشك يہ كلمہ صرف اس قدر كارآمد ہے كہ خون محفوظ ہو جائے اور ذلت كے ساتھ جزيہ نہ دينا پڑے۔

اس كے بعد فرمايا ، ايہا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے دشمنى ركھے گا پروردگار اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا اور يہ دجال كى آمد تك زندہ رہ گيا تو اس پر ايمان ضرور لے آئے گا اور اگر نہ رہ گيا تو قبر سے اٹھايا جائے گا كہ دجال پر ايمان لے آئے اور اپنى حقيقت كو بے نقاب كردے۔

پروردگار نے ميرى تمام امت كو روز اول ميرے سامنے پيش كرديا ہے اور سب كے نام بھى بتا ديے ہيں جس طرح آدم كو اسماء كى تعليم دى تھي۔ ميرے سامنے سے تمام پرچمدار گذرے تو ميں نے على (ع) اور ان كے شيعوں كے حق ميں استغفار كيا۔

اس روايت كے راوى سنان بن سدير كا بيان ہے كہ مجھ سے ميرى والد نے كہا كہ اس حديث كو لكھ لو، ميں نے لكھ ليا اور دوسرے دن مدينہ كا سفر كيا ، وہاں امام صادق (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوكر عرض كى كہ ميرى جان قربان، مكہ كے سديف نامى ايك شخص نے آپ كے والد كى ايك حديث بيان كى ہے فرمايا تمھيں ياد ہے؟ ميں نے عرض كى ميں نے لكھ ليا ہے۔

فرمايا ذرا دكھلاؤ، ميں نے پيش كرديا، جب آخرى نقرہ كو ديكھا تو فرمايا سدير يہ روايت كب بيان كى گئي ہے؟

ميں نے عر ض كى كہ آج ساتواں دن ہے۔

مزید  حضرت فاطمہ الزہرا ء پندرہویں قسط

فرمايا ميرا خيال تھا كہ يہ حديث ميرے والد بزرگوار سے كسى انسان تك نہ پہنچے گى .

(امالى طوسى ص 649 / 1347 ، امالى مفيد 126 / 4 روايت حنان بن سدير از سديف مكي، محاسن 1 ص 173 / 266 ، ثواب الاعمال 243 /1 ، دعائم الاسلام 1 ص 75)۔

 امام باقر (ع) ايك شخص رسول اكرم (ص) كى خدمت ميں آيا اور كہنے لگا يا رسول اللہ كيا ہر لا الہ الا اللہ كہنے والا مومن ہوتا ہے؟

فرمايا ہمارى عداوت اسے يہود و نصارى سے ملحق كرديتى ہے، تم لوگ اس وقت تك داخل جنت نہيں ہوسكتے ہو جب تك مجھ سے محبت نہ كرو، وہ شخص جھوٹا ہے جس كا خيال يہ ہے كہ مجھ سے محبت كرتا ہے اور وہ على (ع) كا دشمن ہو۔

( امالى صدوق 221 / 17 روايت جابر بن يزيد الجعفى ، بشارة المصطفى ص 120)۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.