بزرگترين گناه

0 3

قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لَا سُوءَ أَسْوَأُ مِنَ الْكَذِبِ (۱)

کوئی برائی جھوٹ سے زیادہ بری نہیں ہے۔

جھوٹے زبان کا مالک ہونا:

یعنی جھوٹ بولنے والا اپنی زبان کی مدد سے جھوٹ بولتا ہے زبان جھوٹ کا سر چشمہ ہے اگر کوئی جھوٹ بولے تو زبان کی مدد سے بولا جاتا ہے اور اگر زیادہ جھوٹ بولے تو اس کی زبان درندے سے بھی بد تر ہے ہر گناہ انسان کے جسم سے سر زد ہوتاہے ہر گناہ کو انسان کے جسم کے ساتھ نسبت دی جاسکتی ہے اگر کوئی خیانت کریں یا چوری کریں تو اس کو انسان کے ہاتھ کے ساتھ نسبت دی جاسکتاہے اور اگر جھوٹ بولے تو زبان سے مختص ہے ۔

جھوٹ کیا ہے ۔؟ جھوٹ وہ ہے جو حق کے خلاف بات کریں.اگر آپ کوئی غلط کلام کریں اور کسی کو پتہ چلا اور وہ آپ سے پوچھیں کہ آپ نے یہ غلط کام کیوں کیا ؟ تو آپ کہيں گے ہے کہ میں نے ایسا کام نہیں کیا یہاں پر آپ جھوٹوں میں شامل ہوگا کیونکہ آپ نے وہ کام انجام دیا پھر بھی آپ نے کہامیں نے نہیں کیا اسی طرح اگر کوئی دو نفر کیس لڑیں اور جج اُن دونوں سے کہیں کہ گواہی لیکر آئیں تو اس وقت اگر اس کے پاس کوئی گواہ نہیں تو وہ کسی اور سے کہتے ہے کہ میں تجھے اتنا پیسہ یا اتنا زمین دونگا آپ کل میرے ساتھ چلے اور اس کے خلاف گواہی دینا تو اس وقت وہ اسی سے راضی ہو کر جھوٹی گواہی دینے کیلئے چلتے ہیں ۔وہاں پہنچ کر اس سے سوال کرتے ہیں ۔تو وہ حق کے خلاف جھوٹی گواہی دینا شروع کر دیتا ہے۔اس وقت اُس کو جھوٹ کہا جاتا ہے کیونکہ خود کو کچھ بھی پتہ نہیں ہے بلکہ دوسرے نے اس کو پیسہ دے کربولنے پر مجبور کر کے لایا تھا اُس نے جھوٹ بولنا شروع کیا اسی طرح معمولی بات کو بڑھاچڑھا کے بولنا ایک بڑی بات کو معمولی بات بناکر پیش کرنا یہ سب جھوٹ ہے۔

جھوٹ بولنے والا انسان نہیں ہے بلکہ حیوان سے بدتر ہے کیونکہ انسان با فضیلت ہونے کے باوجود دوسروں کی باتوں کو جوخودنے سنی ہے لیکن نہیں دیکھتے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے ۔ اگر صحیح نہیں ہے تو اس کوجھوٹ کہتے ہے۔ اور جھوٹی باتوں کا کوئی فائدنہیں ہے کیونکہ ہمیں بولتے وقت توتو پتہ نہیں چلتاہے کہ یہ بات جو اُس نے کی ہے درست ہے یا نہیں پس جھوٹ کا سنّا کان کی تھکاوٹ کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں دیتا اُن لوگوں کی آواز حیوان کی آواز سے بدتر ہے کیونکہ حیوان کی آواز میں خیانت نہیں ہے۔ لیکن جھوٹ بولنے والے کی آواز میں خیایت ہے جبکہ جھوٹ بولنے والا اپنے آپ کو حیوان سے بھی بہتر سمجھتے ہے۔جھوٹ بولنے والا بے ایمان ہوتے ہیں۔

مزید  نتن یاہو استعفیٰ دو!

سمرہ پیغمبرکے زمانے میں علماء میں شامل تھاپیغمبر اکرم کے (ز مرہ ) نام کے ایک صحابی لکھتا ہے ۔ میں نے معاویہ سے چها ر ہزار درہم لے کر امام علی7 کی مذمت اور ابن ملجم کی مدح میں پیغمبر اکرمسے منسوب جعلي حدیث ميں کچھ اسطرح لکھا تھا کہ قرآن کي یہ آیت حضرت علی7کي شان میں نازل ہوا۔

“وَمِن اَلنّاسِ مَنْ یُعْجِبُکَ قَوْلَہُ فِی الْحیوٰۃِ الْدّنْیاَ وَیُشْہِدُ اللّہ َ عَلٰی مَافِی قَلْبِہِ وَہُوأَلَدُّ الْخِصَامِ” (۳)

انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی باتیں زند گانی دنیا میں بھلی لکتی ہیں اور اپنے دل کی باتوں پر خدا کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں..اور کہا کہ یہ آیت ابن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔

وَمِن اَلنّاسِ مَن یَشْرِیٰ نَفْسَہُ اِبْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّہ (۲)

اور لوگوں میں وہ بھی ہے جو اپنے نفس کو مرضی پر ور دگار کیلئے بیچ ڈالتے ہیں۔

بے حیائی کی حد ہے کہ اس کی آخر نہیں ہے اصل میں یہ آخری آیت امیر المؤمنین ؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ انسانی کردار کی تصویر کا ایک دوسرا رخ ہے جہاں رضاے الہی کیلئے زندگی تک قربان کردی جاتی ہے اس آیات کریمہ میں دونوں طرف کے افراد رسول اکرمﷺکے سامنے پیش کئے گئے ہیں اور دونوں کو (مِنْ النَاس) سے تعبیر کیا گیا ہے گویا دونوں کردار بزم رسولمیں موجود تھے اور ایک کردار اگر توہین انسانیت تھا تو دوسرا سرمایہ افتخار انسانیت ہے روایات میں دوسری آیت کا مصداق مولائے کائنات حضرت علی7کو قرار دیا گیا ہے جب انہوں نے شب ہجرت بستر رسول  پر سو کر اپنی جان خطرے میں ڈال کر رسول اللہ کی زندگی کو تحفظ دیا تھا اور بقول صاحب احیاءالعلوم رب العالمین نے ملا ئکہ پر مباہات کی تھی میرے بندوں میں ایسے افراد بھی ہے جو اس طرح کی قربانی دینے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ دے سکیں گے انہوں نے خود اقرار کیا کہ ہم اس طرح کی قربانی نہیں دے سکتے۔اور اِ نّی اَعْلَمُ مَالا تَعْلَمُون کا مصداق پھر نظروں کے سامنے آگیا؛جھوٹ بڑے گناہوں میں سے ہے ۔جھوٹ کو بڑے گناہوں میں شامل کرتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں :

مزید  اسلام کي مخالفت اور ترويج

أَلااُخْبِرْکُمْ با کَبِیر اَلْکَبائرِ:الشِرْکُ باِاللہ ِو حقوقِ الوَالدَیْنِ وَقوْلِ اَلزّورِ: (۴)

کیا میں تمہیں گناہاں کبیرہ کی خبر دوں ؟ 

١ – خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کر نا

٢ – ماں باپ کی نا فرمانی کرنا

٣ – جھوٹ بولنا ؛

خداکے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا:

یعنی خد ا کے علاوہ کسی اور کی پوجا کرنا خدائے وحد ہ لا شیریک کو چھوڑ کر کسی اور کی پرستش کرنا۔

نا فرمانی والدین :

ماں باپ کےحقوق کی رعایت نہ کرنا اِن کا احترام نہ کرنا اِن کی کہی ہوئی باتوں پر عمل نہ کرنا اُن کی مخالفت کرنا اُن کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جانا اجازت کے بغیرکوئی کام انجام دینا و غیرہ یہ سب نا فرمانی میں آتے ہیں ۔ 

جھوٹ بولنا ؛

جھوٹی خبر پھیلانے والوں کے بارے میں قرآن ارشاد فرماتا ہے . ۔

يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا(۵) 

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبرلے آئے تو اسکی تحقیق کرو۔

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ولیدبن عقبہ کو نبی مصطلق سے زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا وہ لوگ رسول اکرمﷺ کے نمایندے کی انتظار میں تھے اِن لوگوں کو خبر ملا کہ رسول اللہ نے وہاں سے روانہ کیا ہے تو استقبال کیلئے باہرنکل آئے ولید نے واپس آکر یہ خبر پھیلا دی کہ لوگ جنگ کیلئے تیار ہیں اور رسول اکرمﷺ نے جوابی کاروائی کے طور پر تیاری شروع کردی اچانک یہ آیت نازل ہو گئی کہ خبر دار پہلے تحقیق کرو اُس کے بعد اقدام کرو ۔پیغمبر ؐیہ سب کچھ جاتنے تھے ۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پیغمبر ؐ یہ جانتے تھے تو خدا وند عالم کو آیت نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟

مزید  شفاعت طلب کرنا یعنی خدائی امورمیں دخالت

جواب:اس کا مطلب یہ نہیں کہ خداوندعالم نے یہ آیت پیغمبراکرمؐ کو معلوم کرانے کیلئے نازل کی ہو بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف ولید کے فاسق ہونے کا اعلان تھا ورنہ پیغمبر ؐ نعوذ بااللہ بے خبر تو نہیں تھے کہ بلا سبب لڑنے مرنے کیلئے تیار ہوجائے۔

پس یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی سے کوئی بات سنے تو چاہے جس قسم کی بھی ہو پہلے اس کی تحقیق کریں کہ یہ بات کس نے کہی ہے؟ اس نے کس سے سنا ؟ بولنے والا قابل اعتماد ہے یا نہیں ہے ؟ اِن سب کو دیکھنا چاہئے .کیونکہ اسی جھوٹ کی وجہ سے ایک دوسرے کے درمیان اختلاف و افتراق پیدا ہوتے ہیں یہ دشمنوں کی طرف سے پرگرام کے تحت ہوتا جارہاہے اور ایسی جھوٹی خبریں مختلف ذرایع سے لوگوں تک اس طرح پہنچتی ہے کہ اس کو سنتے ہی ایک دوسرے کے درمیان محبت والفت کے رشتے پارہ پارہ ہوجاتے ہیں ۔ اُن موقوں پر ہم سب کا فریضہ امر بمعروف و نہی ازمنکر کے ذریعے ان کو روکنا ہے ۔

عزیزان گرامی اگر گناہوں کو ترک کرنا چاہتےہیں تو آپ سب سے پہلے جھوٹ کو ترک کریں تمام گناہوں کا منبع جھوٹ ہے اسی جھوٹ کے ذریعے تمام گناہیں سر زد ہوتی ہے۔

پیغمبر اکرمﷺکے زمانے میں ایک گناہکار آدمی تھاوہ شراب بھی پیتا تھا چوری بھی کرتاتھا، زنابھی کرتا تھا۔

ایک دن وہ پیغمبر اکرمﷺکے پاس آکر کہا ..اے اللہ کے رسولﷺ میں ایک گناہگار بندہ ہوں میں تمام کام کرتا ہوں ان عادات کو چھوڑنے کیلئے مجھے کوئی طریقہ بتایئے تو اس وقت رسول خداﷺ نے فرمایا تم جھوٹ مت بولو تمہارے تمام گناہ ترک ہو جائیں گے۔

تو اس وقت وہ وہاں سے چلا گیا دوسرے دن جب گناہ کرنے کا وقت ہوا تو وہ سوچنے لگا کہ اب میں کیا کروں کل پیغمبر پوچھے تو کیا کہوں اس سے بہتر ہے کہ گناہ کو ہی ترک کرلوں اس طرح وہ اپنی ساری عادتوں کو ترک کرنے میں کامیاب ہوا۔

خدا ہم سب کو جھوٹ جیسی لعنتي گناہوں سے پر ہیز کرنے کی سعادت نصیب فرما .آمین ثم آمین۔

مأخذ

(۱) بحار، ج۷۲، ص۲۵۹۔ 

(۲) بقرہ/ ٢٠٧ ۔

(۳) بقرہ / ٢٠٤۔

(۴) محجۃ البیضاء، ج۵، ص۲۴۲۔

(۵) حجرات / ٦

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.