بدعت گناہِ کبیرہ ہے

0 2

 

بدعت گناہِ کبیرہ ہے جس کا حرام ہونا مذہب کی ضرورت ہے اور جو اس لیے کبیرہ ہے کہ مسلسل روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور چونکہ اصل بات مانی ہوئی اور ظاہر ہے اس لیے صرف چند روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے:

پیغمبر خدا نے فرمایا ہے کہ “ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے”۔

(وسائل الشیعہ کتاب امر بالمعروف باب ۴۰)

امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں “جو بدعت کرنے والے کے نزدیک گیا اور جس نے اس کا احترام کیا اس نے بلاشبہ دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کی۔” (وسائل الشیعہ)

حضرت امام صادق (علیہ السلام) بدعت کو گناہِ کبیرہ شمار کرتے ہیں کیونکہ رسول خدا نے فرمایا: “جو بدعت کرنے والے سے خوش ہو کر اور ہنس کر ملا اس نے بلاشبہ اپنا دین بگاڑا۔” (سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۳)

حضرت پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: “میرے بعد جب تم کسی شکی اور بدعتی کو دیکھو تو اس سے دُور رہو۔ اسے بہت زیادہ بُرا بھلا کہو، اسے گالیاں سناؤ، طعنہ دو، اسے تھکا دو، عاجز کر دو تاکہ تمہیں جواب نہ دے پائے، لوگ اس سے اسلام میں بگاڑ کے سوا اور کوئی امید نہ رکھیں، اس سے چوکنا رہیں، اس کی بدعتیں نہ سیکھیں تاکہ خدا تمہارے لیے اس کام کے عوض نیکیاں لکھے اور آخرت میں تمہارے درجے بلند کرے۔” (وسائل الشیعہ باب ۳۹)

علّامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: “شکیوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے دین میں شک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی اس غلطی کی بدولت شک میں ڈالتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ شکیوں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا دین فاسد گمان اور وہم پر قائم ہے جیسے اہل خلاف کے علماء اور ممکن ہے کہ ان سے مراد بدکار، کھلم کھلا گناہ کرنے والے اور دین کے بارے میں منہ پھٹ لوگ ہوں کیونکہ یہی بات اس کا سبب ہے کہ لوگ ان کے دیندار ہونے میں شک کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کی کمزوری کی علامت ہے۔

بدعت کیا ہے؟

علّامہ مجلسی فرماتے ہیں: “امت میں جو باتیں حضرت رسولِ خدا کے بعد شروع کی گئی ہوں وہ بدعت (ایجاد) ہیں۔ اس کے بارے میں کوئی خاص یا عام نص موجود نہیں ہے۔ اور نہ خصوصیت یا عمومیت کے ساتھ اس سے منع کیا گیا ہے جو کچھ عام طور پر ہوتا ہے وہ بدعت نہیں ہے جیسے مدرسہ بنانا وغیرہ کیونکہ مومن کو سکونت اور مدد دینا عام باتوں میں شامل ہے اور جیسے علمی کتابیں تصنیف اور تالیف کرنا جو شرعی علوم کی مدد ہے یا جیسے وہ لباس جو پیغمبر خدا کے زمانے میں رائج نہیں تھے یا نئی غذائیں جو عام لوگوں میں پسندیدہ اور مرغوب ہیں اور ان سے منع نہیں کیا گیا ہے۔

مزید  برائيوں کي گندگي سے اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے ديں

ہاں جو عام لباس یا غذا کے طور پر ہوا اگر اسے خصوصیت دیں اور کہیں کہ اس خاص طریقے سے خدا نے اس کا حکم دیا ہے تو یہ بدعت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ نماز جو سب سے اچھا عمل ہے اور جس کا ادا کرنا ہر حال میں مستحب ہے اگر چند رکعتوں کو کسی خاص وجہ سے مخصوص کر دیا جائے یا کسی مخصوص وقت سے وابستہ کر دیا جائے تو بدعت ہو گی۔ (جیسے خلیفہ ثانی حضرت عمر نے حکم دے دیا تھا کہ رمضان میں ہر رات کو بیس رکعت نماز با جماعت پڑھا کرو۔) اور جیسے کوئی کہے کہ فلاں وقت خصوصیت سے ستر بار لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کہنا مستحب یا واجب ہے جبکہ اس کے لیے کوئی معتبر دلیل نہ ہو تو یہ بدعت ہے۔ بہرحال دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسی بات نکالنا یا بڑھانا جس کی اصل یا خصوصیات کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو بدعت ہے۔ (۱)

شہید کے نقطہٴ نظر سے بدعت کی قسمیں

شہید اوّل فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم کے بعد جو باتیں نکلی ہیں ان کی پانچ قسمیں ہیں۔ واجب، حرام، مستحب، مکروہ، مباح اور بدعت جو نئی باتیں ہیں اور حرام ہیں۔ ان باتوں کی تشریح یہ ہے:

(۱) واجب: جیسے قرآن اور احادیث کا جمع کرنا جس وقت (لوگوں کے حافظے سے) ان کے تلف ہو جانے کا ڈر ہو کیونکہ آنے والوں کے لیے دین کی تبلیغ اجماع اور قرآنی آیات کے مطابق واجب ہے اور یہ فریضہ امام کی غیبت میں قرآن اور سنت کی حفاظت کے بغیر انجام نہیں پا سکتا اور جب امام موجود اور حاضر ہوں گے تو وہ خود ان کے حافظ اور محافظ ہوں گے اور پھر کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔

(۲) حرام وہ بدعت ہے جس پر حرام ہونے کی دلیل لگتی ہے جیسے معصوم امام پر غیر معصوم امام کو مقدم کرنا، ان کے مخصوص مناصب ہتھیا لینا، ظالم حکمرانوں کا مسلمانوں کا مال مارنا، مستحق لوگوں کو ان کے حق کا نہ دینا، اہل حق سے لڑنا اور انہیں جلا وطن کرنا، محض بدگمانی پر قتل کرنا، فاسق کی بیعت کرنے پر مسلمانوں کو مجبور کرنا اور اس پر

مزید  آیا واقعۂ غدیر ولایت کے اعلان کے لئے تھا؟

(۱) دیکھئے مرآت العقول جلد ۲ ص ۳۶۶ اور بحار الانوار جلد ۴ ص ۳۰۰

قائم رہنا، اس کی مخالفت کو حرام قرار دینا، مسح کے بجائے دھونا، جسم کی کھال کے علاوہ اور چیزوں پر بھی مسح کرنا، نشہ آور مشروبات کا بہت زیادہ پینا، نافلہ نمازیں جماعت سے پڑھنا، جمعہ کو دوسری اذان دینا، متعہ الحج اور متعہ النساء کو حرام کرنا، امام (علیہ السلام) کے خلاف جھگڑا کرنا، دُور کے رشتے داروں کو وراثت کا مال دینا اور قریبی رشتے داروں کو نہ دینا، حقداروں کا خمس روک لینا اور بے وقت روزہ افطار کرنا اور ایسی ہی اور بھی مشہور بدعتیں ہیں جن پر شیعہ اور سُنی دونوں کا اجماع ہے اور اسی قسم میں کسٹم کا محصول وصول کرنا، غیر صالح شخص کو عہدہ اور منصب بخشش میں دینا یا وراثت میں دینا یا کسی اور طریقے سے دینا شامل ہیں۔

(۳) مستحب ہر ایسا عمل ہے جس کے مستحب ہونے کی دلیل موجود ہو جیسے مدرسے اور گھر بنانا لیکن اس میں وہ انتظامات شامل نہیں ہیں جو بادشاہ اپنے دہلانے والے جلوس کے لیے کرتے ہیں جب تک کہ یہ اسلام کے دشمنوں کو دہلانے کے لیے نہ ہوں۔

(۴) مکروہ وہ چیز ہے جس پر کراہت کی دلیل لگتی ہے جیسے تسبیح زہرا میں زیادتی اور کمی کرنا اور اسی طرح دوسرے فرائض اور کاموں میں بھی گھٹانا بڑھانا، کھانے پہننے میں اتنی افراط جو فضول کرچی تک نہ پہنچے اور جب نقصاندہ ہو جائے تو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے حرام ہو جائے گی۔

(۵) مباح وہ چیز ہے جس پر اباحت کی دلیلیں لگتی ہیں جیسے آٹا چھانا جس کے لیے کہا گیا ہے کہ رسول خدا کے بعد جو نئی چیز درآمد ہوئی وہ آٹا چھاننے کی چھلنی تھی چونکہ مباح باتوں سے خوشی اور آرام ملتا ہے اس لیے مباح کا وسیلہ اور ذریعہ بھی مباح ہوتا ہے۔ (کتاب قواعد ص ۲۵۶)

علّامہ مجلسی کا قول

مقدمہ بیان کرنے کے بعد علّامہ مجلسی فرماتے ہیں: “بدعت کا مطلب یہ ہے کہ جس بات کو خدا نے حرام کر دیا ہو اسے حلال کر دیں یا اسے مکروہ قرار دے دیں جسے خدا نے مکروہ نہ کیا ہو اس بات کو واجب کر دیں جسے خدا نے واجب نہ فرمایا ہو یا اس کام کو مستحب کر دیں جسے خدا نے مستحب قرار نہ دیا ہو چاہے کسی خصوصیت کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً خدا نے فرمایا کہ نماز ہر وقت مستحب ہے۔ اگر کوئی اس لحاظ سے نماز پڑھتا ہے کہ چونکہ ہر وقت سنت ہے اور یہ بھی انہیں وقتوں میں سے ہے اس لیے میں اس وقت نماز پڑوھوں گا تو ثواب ملے گا اور اگر سورج ڈوبتے وقت دو رکعت نماز اس لیے پڑھے کہ خدا نے خصوصیت کے ساتھ اس وقت مجھ سے اس نماز کا مطالبہ کیا ہے تو یہ بدعت ہو جاتی ہے اور حرام ہے جس طرح حضرت عمر نے خصوصیت سے چاشت کے وقت کے لیے چھ رکعتیں مقرر کر دی تھیں کہ اس وقت سنت کے طور پر پڑھنا چاہئیں۔ اس وجہ سے بدعت حرام ہو گئی اور ہمارے اماموں ٪ نے اس سے منع کر دیا۔

مزید  آداب غدیر روایات کے تناظر میں

اسی طرح اگر کوئی شخص نافلہ نماز کی تین رکعتیں ایک اسلام سے پڑھتا ہے توچونکہ سنتی نماز کی یہ شکل پیغمبر اکرم سے ہم تک نہیں پہنچی ہے اس لیے بدعت اور حرام ہے یا اگر کوئی ہر رکعت میں دو رکوع بجا لائے تو حرام ہے۔

اسی طرح کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ کو ہر وقت پڑھتے رہنا سنت اور بہترین عبادت ہے۔ اگر کوئی یہ مقرر کرے کہ نماز صبح کے بعد مثلاً اس کا ڈیڑھ ہزار بار پڑھنا سنت ہے اور اس گنتی کو خصوصیت سے اس وقت کے لیے شرع کی طرف سے مقرر کیا ہوا جانے یا خود مقرر کر لے اور اس خصوصیت کو عبادت جانے تو یہ دین میں بدعت اور بدترین گناہ ہو گا۔ (عین الحیاة ص ۲۳۳)

بدعت یعنی خدا کا حکم تبدیل کر د ینا

اس لحاظ سے بدعت کے معنی خدا کے دین کو بدلنا اور اپنا ناقص رائے اور عقل سے اس میں کچھ بڑھانا یا اس سے کچھ گھٹانا ہے چاہے اصول میں ہو چاہے فروع میں۔ (اصول کافی فضل العلم باب ۲۰)

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں: “محمد کا حلال قیامت تک ہمیشہ حلال رہے گا اور ان کا حرام روزِ قیامت تک برابر حرام رہے گا۔ ان کے سوا کوئی اور پیغمبر نہیں ہے اور ان کے علاوہ (قیامت تک) اور کوئی نہیں آئے گا اور حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو بدعت کرتا ہے وہ اس کی بدولت سنت کو ختم کر دیتا ہے۔” (اصول کافی کتاب فضل العلم باب ۲۰)

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں: “جو شخص لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے حالانکہ ان کے درمیان اس سے زیادہ عقلمند شخص موجود ہوتا ہے وہ شخص بدعتی اور بہکانے والا ہے۔”

(سفینة البحار جلد ۲ ص۲۲۰)۔

 

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.